اکبر الٰہ آبادی اور ڈاکٹر محمد اقبال نے جو تہذیبی جنگ گذشتہ صدیوں میں لڑی، اس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس لئے جدید ذہن اور نئی نسلوں کے لئے اِن کے اَفکار آج بھی تازہ اور بصیرت افروز ہیں۔
کلامِ اکبر کا مطالعہ کیا جائے تو گذشتہ اور موجودہ صدی کی کشمکش کے بہت سے گوشے سامنے آتے ہیں۔ ا س زمانے کا شاید ہی کوئی واقعہ یا مسئلہ ایسا ہوگا جو لسان العصر اکبر کی نظر سے ا وجھل رہا ہو۔ ان کے نکتہ رَس ذہن نے ظریفانہ انداز میں یا سنجیدہ پیرائے میں ہر اس بات کا نوٹس لیا جو قومی زندگی اور تہذیب و معاشرت پراثر انداز ہونے والی تھی۔ ان میں بعض وقتی اور ہنگامی باتیں بھی ہیں اور ایسی باتیں بھی جو ملک اور قوم کی تقدیر اور تاریخ بنا رہی تھیں۔ نکتہ چینوں کو اکبر کے ہاں پائپ کے پانی اور ٹائپ کے حروف سے لے کر پیرس سوپ، ڈاسن کے بوٹ، سولا ہیٹ، جیکٹ و پتلون، مس (Miss) کے لونڈر اور بیگم کے عطر حنا تک بے شمار چھوٹی چھوٹی چیزوں کا اتا پتا مل جائے گا او روہ اپنی تخلیقی تنقید کے شوقِ فضول کی تسکین کے لئے اکبر پرجو اتہامات چاہیں، باندھ سکتے ہیں لیکن بنظر انصاف دیکھا جائے تو کلامِ اکبر کا یہ حصہ جو آج سطحی اور فروعی باتوں کا آئینہ دار نظر آتاہے، دلچسپ ہونے کے باوجود یہ مقدار میں بہت تھوڑا ہے۔
اکبر کی ظرافت کو بھی یار لوگوں نے بہت اُچھالا، اور اس میں شک نہیں کہ اکبر کا ظریفانہ اسلوب ان سے مختص ہے۔ لیکن ایک تو یہ ظرافت ان کے آنسوؤں کی پردہ دار ہے، دوسرے یہ ظریفانہ کلام بھی ان کے مجموعہ کلام میں مقدار کے اعتبار سے کوئی بہت زیادہ نہیں۔ اکبر کا سنجیدہ، عارفانہ کلام جس میں حکمت و دانش کے بے شمار موتی بکھرے ہوئے ہیں، کیفیت و کمیت کے اعتبار سے بہت زیادہ ہے لیکن اس پر ہمارے دانشمندوں نے بہت کم توجہ فرمائی ہے۔ نصف صدی کا عرصہ ہوا، اکبر کی سنجیدہ شاعری پر ایک مضمون 'علی گڑھ میگزین' اکبر نمبر میں، میری نظر سے گزرا تھا۔ ورنہ عام نقادوں نے اس حقیقت کا احساس ہی نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ اکبر کو سمجھنے میں بہت کوتاہی ہوئی ہے۔
کلامِ اکبر کے کئی اہم اورمستقل پہلو ہیں جن پر غور کیا جائے تو ان پر طویل مضامین لکھے جاسکتے ہیں، اور گذشتہ دور کی داستانِ ہوا و ہوس کی رنگینیاں اور جذبہ عشق و مستی کی کرشمہ سازیاں بیان کی جاسکتی ہیں۔ لیکن ہم اس وقت تین اہم رجحانات پر، جو جدید ذہن کو متاثر کرنے والے ہیں، نہایت اختصار سے گفتگو کریں گے، یہ رجحانات سیاسی، تعلیمی اور تہذیبی مسائل کے بارے میں ہیں۔
سیاسی حالات اور ان کے نتیجے میں پیداہونے والے عوامل بدلتے رہتے ہیں لیکن تاریخ کا مطالعہ کرنے والے کو یہ ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں نظر آئیں گی۔ اسی لئے اقبال نے تاریخ کو قومی حافظے سے تشبیہ دی ہے1۔اگر اس حافظے سے ماضی کے واقعات کا ریکارڈ محو کردیا جائے تو حال بے معنی ہوجائے گا اور مستقبل کے بارے میں کوئی صورت سوچی بھی نہ جاسکے گی۔ مثلاً یہ دیکھئے کہ ہم نے آزادی کس طرح حاصل کی اور ظہورِ پاکستان کے اسباب و علل کیا تھے؟ ان باتوں سے موجودہ اور آئندہ نسلوں کو بے خبر کردیا جائے تو دشمن کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر وہ اسے بے معنی سمجھنے لگیں گی۔ لیکن اگر انہیں ان احوال وکوائف سے باخبر رکھا جائے جن کے نتیجے میں پاکستان بنا اور انگریزی استعمار اورہندو سامراج کے دوہرے عذاب سے ہمیں نجات ملی، تو قلب و ذہن میں کوئی تشکیک پیدا نہ ہوسکے گی۔
۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی سے لے کر ۱۴/ اگست ۱۹۴۷ء کے یومِ آزادی تک ہماری پچھلی اور موجودہ نسلوں کو بے شمار مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ ان میں تین مراحل بڑے واضح ہیں۔ پہلا مرحلہ ۱۸۵۷ء کے بعد نصف صدی تک پھیلا ہواہے جس میں شکست خوردگی اور احساسِ کمتری کا رجحان غالب رہا، پھر بیسویں صدی کے آغاز سے سیاسی بے چینی اور بے اطمینانی کا لاوا پکنے لگا اورمحکومی کا احساس شدت سے قلب و ذہن کو متاثر کرنے لگا۔ یہ رجحان پہلی جنگ ِعظیم تک نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہوچکا تھا اور پھر تیسرا رجحان تحریک ِخلافت اور ترکِ موالات کی گرمئہنگامہ کی صورت میں نمودار ہوا جس نے برطانوی استعمار کی بنیادوں کو ہلا دیا اور اسے مجبور کردیا کہ وہ اصلاحات کی رفتار کو تیز کرے اور جلد از جلد اپنا بوریا بستر گول کرے۔ دوسری جنگ ِعالمگیر نے اس رجحان کو اس کے منطقی انجام سے مزید قریب تر کردیا۔نتیجةً برصغیر کو آزادی ملی اور بھارت اور پاکستان دو آزاد ملک معرضِ وجود میں آئے۔
لسان العصر اکبر کو اس تاریخی عمل میں جس دور سے سابقہ پڑا، وہ ۱۸۵۷ء کے بعد کی شکست خوردگی کے احساس سے لے کر تحریک ِخلافت اور ترکِ موالات کا زمانہ ہے۔ جنگ ِآزادی کا ہنگامہ برپا ہوا تو اکبر گیارہ بارہ سال کے تھے۔ تحریک ِخلافت عروج پر تھی جب انہوں نے رِحلت فرمائی۔ پہلے دو مرحلوں کے نشانات کلام اکبر میں بڑے واضح ہیں اور آخر مرحلے کے بارے میں حکیمانہ اشارات ملتے ہیں۔بیسویں صدی کے شروع میں تو اکبر کے ہم نوا، رازداں او ربھی پیدا ہوچکے تھے۔ اقبال، ظفرعلی خان، محمدعلی، شوکت علی، ابوالکلام آزاد، حسرت موہانی، جن کی للکار وپیکار نے لوگوں کے حوصلوں میں جولانی پیدا کردی تھی، لیکن انیسویں صدی کے شکست خوردہ ماحول میں اکبر کو یہ جنگ تنہا لڑنی پڑی۔

ہے اکبر بے کس ایک طرف اور ساری خدائی ایک طرف!

اکبر نے برطانوی استعمار کے خلاف محکوم اور لاچار قوم کی یہ جنگ شعری فنون کے ایسے حربوں سے لڑی جو ان کی ذاتی آرڈیننس فیکٹری میں ڈھالے گئے تھے۔ سرد موسم کی برف بار ہواؤں میں شاہد معنی نے ظرافت کا لحاف اوڑھ کر وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو اس زمانے میں کسی حریت پسندکے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔

پالیسی ان کی رہے قائم ہماری دل لگی!

صاحب کی استعماری پالیسی اور اس کے بارے میں اکبر کی یہ دل لگی ہماری تاریخی جدوجہد کا بڑا صبر آزما مرحلہ تھا جس کی اہمیت کا اعتراف ابھی تک نہیں کیا جاسکا۔ ایک سامنے کی مثال لیجئے جو اب خود تاریخ بنتی جارہی ہے۔ ۱۹۵۸ء کا مارشل لاء لگا تو سب لوگ منقارِ زیر پر تھے۔ ملک میں سیاسی گھٹن کی فضا تھی۔ اہل دل دم بخود تھے۔ ا س عالم میں ایک منحنی سے انسان محمد رستم کیانی نے ایک اندازِ خاص میں صدائے حق بلند کی۔ اقتدار کی جبینوں پرشکن پڑے، تیوری چڑھی لیکن کہنے والا اپنے اسلوب میں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتا چلا گیا۔ اس مثال کو سامنے رکھ کر اکبر کے سیاسی افکار کاجائزہ لیں تو یہ منظر نگاہوں کے سامنے آئے گا کہ جب برصغیر میں سیاسی عمل مفقود تھا، ملک میں صرف ایک طاقت نظر آتی تھی اور وہ برطانوی شہنشاہیت تھی۔ خاص و عام سب اس کی تعریف میں رطب اللسان تھے، اکبر بھی اس ہجوم میں شامل ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے، لیکن ساتھ ہی مقطعے میں آکر یہ سخن گسترانہ بات کہہ جاتے ہیں۔

جب اتنی نعمتیں موجود ہیں یہاں اکبر
تو حرج کیا ہے جو ساتھ اس کے ڈیم فول بھی ہے!

محکوموں کی بے حسی پر عبرت کا یہ تازیانہ برسانا اور حاکموں کی فرعونیت پر طنز کا یہ تیر چلانا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اکبر کا یہ شعر تو اکثر زبانوں پر آجاتا ہے:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

صنعت ِتلمیح کے پردے میں استعماری نظامِ تعلیم پر اس سے بہتر تنقید اور کیا ہوسکتی ہے۔ 'جلوہ دربار دہلی' میں برٹش امپیریلزم کے اَوج و اِقبال کا نقشہ کس نے نہیں دیکھا؟ ایک لاغر و منحنی سا شاعر 'آنکھیں میری، باقی ان کا' کی اوٹ سے کرزن مہراج کے رخِ انور پر پڑے ہوئے استعماری پردے کو اس جسارت سے نوچ ڈالتا ہے۔ پھر مس (Miss) 'برقِ کلیسا' کوکون بھول سکتا ہے جس کے جوبن اور اُبھار پر اکثر لیڈرانِ قوم فریفتہ ہوچکے تھے۔ اس کے ناز و انداز اور بے رخی و کج ادائی کا عالم یہ تھا: *

غیر ممکن ہے مجھے اُنس مسلمانوں سے
بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے

اورجب عاشق وارفتہ کی بے ضمیری و خود فروشی یہاں تک پہنچ جاتی ہے:

میرے اسلام کو ایک قصہ ماضی سمجھو

تو محبوبہ ہرجائی کی خود سپردگی کا معاملہ یہ ہوتا ہے :

ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو!

صرف یہ دو نظمیں ہی اکبر کی سیاسی بصیرت، جرأت و ہمت اور ان کے قومی کردار کی مکمل نشاندہی کے لئے کافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبر نے اپنی نظموں اور غزلوں میں جابجا بڑے بلیغ انداز میں اس دور کے سیاسی اَحوال کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ظرافت، شوخی اور تغزل کے دلفریب پردوں میں جھانک کر دیکھا جائے تو ہمیں اکبر کی ذات میں ایک جری سیاسی مفکر چھپا ہوا نظر آئے گا۔ زیادہ تفصیلات میں جانے کا موقع نہیں۔ امتثالِ حقیقت کے طور پر غزل کے دو شعروں ہی کو لیجئے اور غور فرمائیے کہ کس حسن تغزل کے ساتھ اکبر اپنے عہد کے سیاسی اَحوال کو ان شعروں میں سموگئے ہیں۔ ایک شعر ہے :

بارِ احسان جسے کہتے ہیں وہ ہے کوہِ جفا
کاش نادم ہوں یہ احسان جتانے والے

"White Man's Burden" کی تاریخی اصطلاح کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس شعر کو دوبارہ پڑھئے، استعماری عمل اور اکبر کے فکری ردّعمل کا مفہوم پوری طرح واضح ہوجائے گا۔دوسرا شعر عرض ہے:

گائیں سبزہ پا گئیں کر کے کلیل
اونٹ کانٹوں پر لپکتے ہی رہے

اکبر کی شعری علامات میں گائے ہندو قوم اور اس کی تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور اونٹ مسلم قوم کی۔ اب اس شعر کو ۱۸۵۷ء کے بعد کے حالات کے آئینے میں دیکھئے جب ہندو قوم برطانوی حکومت سے تعاون کرکے سرسبز ہو رہی تھی اور مسلمان نشانہٴ عتاب و انتقام بنے ہوئے تھے اور تقسیم ملک اور ریڈ کلف ایوارڈ تک بنے رہے!
ایک شعر اور سن لیجئے۔ تحریک ِخلافت اور ترکِ موالات کے زمانے کا ہے۔ وضاحت کی یہاں شاید ضرورت نہ پڑے:

گاندھی سے کیوں ہو وحشت باطن کی مسٹری ہے
شوکت سے کیوں نہ کھٹکیں ان کی تو ہسٹری ہے

مجھے امید ہے اکبر کا سیاسی تفکر اور کردار ان چند مثالوں سے بخوبی واضح ہوگیا ہوگا۔ اکبر کی شاعری کا یہ پہلو جدید ذہن کے لئے بڑا سبق آموز ہوسکتا ہے۔ زمانہٴ محکومی میں استعمار کا رنگ روپ کیا تھا، ہندو مسلم تعلقات کس نہج پر جارہے تھے، اور مستقبل قریب میں اس کے کیا نتائج نکلنے والے تھے؟ یہ باتیں ہمیں کلامِ اکبر میں ملیں گی۔ اکبر کے بہت سے اندیشے درست ثابت ہوئے۔ کچھ باتیں وقتی حالات کے ساتھ رفت گذشت ہو گئیں۔ بہرکیف خود شناسی کے نقطہ نظر سے یہ موضوع پرانا ہونے کے باوجود نیا بھی ہے۔
(۲) اب میں دوسرے رجحان یعنی جدید مغربی تعلیم کے نازک مسئلے کی طرف آتا ہوں۔جدید تعلیم کا مسئلہ گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے ایک اہم بلکہ بنیادی اور اختلافی مسئلے کے طور پر ہماری قومی زندگی کو متاثر کئے ہوئے ہے۔ جدید تعلیم سے مراد اگر محض مغربی علوم کی تحصیل ہوتی، تو شاید کوئی بھی صحیح الخیال انسان اس کی مخالفت نہ کرتا، اور اس کی افادیت کو شک کی نظروں سے نہ دیکھتا۔ لیکن اصل مسئلہ تو اس غرض وغایت کا تھا جو نئی تعلیم کے جاری کرنے میں کارفرما تھی۔ او ریہ غایت بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ برصغیر کے پہلے تعلیمی کمیشن کے چیئرمین لارڈمیکالے نے اپنی تعلیمی روداد (Minuts) میں جدید تعلیم کے استعماری مقصد کو بڑے نمایاں طور پر بیان کردیا تھا کہ "ہمیں اس وقت لازماً ایک ایسا طبقہ بنانا چاہئے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں رعایا کے درمیان مترجم ہو، اور یہ طبقہ ایسا ہونا چاہئے جو رنگ اور خون کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو، مگر مذاق اور رائے، اخلاق اور ذہن کے اعتبار سے انگریز ہو"۔2
میکالے کے بیان کردہ اس مقصد کو سامنے رکھئے اور جدید مغربی تعلیم پر لسان العصر کی تنقید کو دیکھئے، تواس بارے میں کوئی اِبہام باقی نہیں رہے گا۔ اکبر مغربی علوم کے مخالف نہیں تھے۔ وہ تو اس استعماری، سرکاری تعلیم کے مخالف تھے جس کا مقصد قوم کے نونہالوں کو ذہنی اصطباغ دینا تھا:

تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے؟ فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے؟ فقط سرکاری ہے
صیاد ہنر دکھلائے اگر تعلیم سے سب کچھ ممکن ہے
بلبل کے لئے کیا مشکل ہے اُلو بھی بنے اور خوش بھی رہے

یہ وہ نازک مسئلہ تھا جس پر اکبر کا شیخ بقولِ اقبال "مغربی تعلیم کے بارے میں سرسید احمدخان کے ساتھ مدة العمر" لڑا جھگڑا کیا۔ آج ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بے چارے قدامت انتساب شیخ کا خوف کچھ بے بنیاد نہ تھا"3

شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

مسیحی پادری تو ہماری قوم کے بچوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن استعماری تعلیم نے انہیں ذہنی اصطباغ دے کر اپنے حسب و نسب سے بیگانہ بنا دیا :

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا

جدید تعلیم کے نام پر علوم سے زیادہ مغربی کلچر کی نقالی پر، انگریزی زبان سے زیادہ انگریزیت کی طرف میلان بڑھا، اوریہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بلکہ آزادی سے قبل سیاسی تحریکوں کی بدولت جو تھوڑا بہت حجاب تھا، یا قومی شعور اُبھرا تھا، وہ بھی آزادی کے بعد ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ اور مغربی کلچر اور انگریزیت کا شوق ایک خاص طبقے میں جنون کی حد تک بڑھ گیا ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے، کیا یہ طبقہ وہی تو نہیں جس کا تخیل میکالے کے ذہن میں پیدا ہوا تھا؟
آزادی کے بعد تعلیمی جہت کو درست کرنے اور اسے قومی مقاصد سے ہم آہنگ بنانے کے لئے کئی تعلیمی کمیشن بٹھائے گئے۔ لیکن ہر کمیشن زبانی لیپا پوتی کرکے اور ہاتھ کی صفائی دکھا کر رخصت ہوا۔ رہی سہی کسر عمل درآمد کمیٹیوں نے نکال دی۔ نتیجہ یہ کہ بنیاد وہی رہی۔ میکالے کا نظریہٴ تعلیم آج بھی کامیاب ہے، بلکہ پہلے سے کامیاب تر۔ اب ہر کوئی انگریز سے زیادہ انگریزی کا دلدادہ، انگریزی سے زیادہ انگریزیت کا شیدائی اور انگلش میڈیم سکولوں کا فدائی ہے۔
اندریں حالات اکبر کے تعلیمی اَفکار آج بھی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے مغربی علوم کی مخالفت نہیں کی۔ البتہ قومی تعلیم کے لئے ایک غایت کی نشاندہی ضرور کردی ہے:

تم شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اُڑو چرخ پہ جھولو
لیکن ایک سخن بندہٴ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

اکبر کے نزدیک علم کی منتہائے مقصود تو یہ ہے:

علم وہ خوب ہے جو حسن عمل تک پہنچے
ذوق وہ خوب کہ جو رازِ اَزل تک پہنچے

تعلیمی مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے اکبر نے کچھ ترجیحات بھی قائم کی ہیں۔ قومی تشخص کے نقطہ نظر سے انہوں نے دینی او راَخلاقی پہلوؤں پر خاص زو ر دیا ہے۔ مادّی نقطہ نظر سے تجرباتی سائنس اور صنعتی تعلیم کو اوّلین حیثیت دی ہے۔ پھر اَدب اور آرٹ کے مضامین آجاتے ہیں۔ فلسفہ چونکہ ذہنوں میں تشکیک پیدا کرتا ہے۔ اس لئے فلسفے سے خود دلچسپی رکھنے کے باوجود اکبر نے فلسفے کی تعلیم سے عام طور پر بچنے کی تلقین کی ہے :

فلسفے میں کیا دھرا ہے گھر کا ہو یا لندن
سعی کا موقع ملے تو آرٹ یا سائنس سیکھ
......
عزم کو تقلید مغرب کا ہنر کے زور سے
لطف کیا ہے لد لئے موٹر پہ زَر کے زور سے

جدید تعلیم پر اکبر کی تنقید اور پھر مثبت انداز میں ان کی تلقین کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں اوریہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اکبر کا نظریہٴ تعلیم گذشتہ دور ہی میں نہیں، آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتا ہے۔
(۳) اب میں تیسرے رجحان، تہذیبی پہلو کی طرف آتا ہوں۔سیاسی محکومی اور اس کے بعد استعماری تعلیم کی بدولت ذہنی محکومی کا تلخ پھل جدید تہذیب و معاشرت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اکبر اور اقبال کو اپنے اپنے زمانے میں اس محاذ پر سخت معرکہ آرائی سے دوچار ہونا پڑا۔ سرسید احمدخان نے 'تہذیب الاخلاق' جاری کرکے اپنی 'وحشی' قوم کے سامنے یہ نصب العین رکھا کہ وہ کامل درجے کی سولیزیشن یعنی تہذیب اختیار کرے4۔کامل درجے کی تہذیب کا یہ تصور انہوں نے مغرب سے لیا تھا:
"تمام خوبیاں دینی اور دنیوی جو انسان میں ہونی چاہئیں، وہ خدا تعالیٰ نے یورپ کو اور اس میں بالتخصیص انگلینڈ کو مرحمت فرمائی تھیں"۔5
سرسید احمدخان بڑے ہی مخلص تھے اور بقولِ حالی "قوم کے سچے بہی خواہ تھے"6وہ اسلامی درد سے بھی بہرہ ور تھے۔ یہ سب باتیں بجا، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کا یہ اقدام یا تجربہ نہایت خطرناک عواقب کا پیش خیمہ تھا۔بقولِ اکبر:

سر میں تھا سید کے قرآں ، زیر پا میخانہ تھا !

احساسِ شکست میں مبتلا محکوم قوم کو یہ مشورہ دینا دو اَحوال سے خالی نہ تھا۔ یا تو وہ انگریزوں کی طرح 'سراپا مہذب' بن جائے اور یا پھر جو کچھ اس کے پاس ہے اس سے بھی ہاتھ دھو کر نہ اِدھر کی رہے نہ اُدھر کی:

مرید دھر ہوئے وضع مغربی کرلی
نئے جنم کی تمنا میں خودکشی کرلی

اکبر کے لئے یہ ساری صورت حال بڑی الم انگیز تھی۔ ان کے نزدیک یہ وقت نئے تجربات کے لئے موزوں نہیں تھا :

کہ فرطِ ضعف نہیں وقت آپریشن کا

اکبر کے انتباہ کی پرواہ نہ کی گئی۔ تجربے ہوتے رہے۔ نئی نئی آنچیں لگتی رہیں اور ان میں بے کس قوم پگھلتی رہی۔ نہ مشرقی رہی، نہ مغربی بنی۔ عجیب و غریب سانچے میں ڈھلتی رہی اور اکبر بھی اپنے عجزوانکسار کے باوجود ساری عمر یہ تہذیبی جنگ لڑتے رہے۔ ناکامیوں اور مایوسیوں کے باوجود انہوں نے حرب وپیکار میں حوصلہ نہیں ہارا۔ مغربی تہذیب اپنے ساتھ اِلحاد، بے یقینی، نفس پروری، بے اخلاقی، بے راہ روی کا سیلاب لارہی تھی۔ اکبر سیاسی محکومی کا کڑوا گھونٹ ظرافت کی حلاوت کے ساتھ حلق سے نیچے اُتار سکتے تھے۔ ایک طالب ِصادق کی طرح مغربی علوم کو بھی خوش آمدید کہہ سکتے تھے۔ لیکن یہ تہذیبی مرحلہ ان کے لئے، ان کی قوم و ملت کے لئے سخت آزمائش کا تھا۔ یہاں سپراندازی کا مطلب قوم کی مکمل شکست اور ہمیشہ کی ذلت و رسوائی کے سوا او رکیا ہوسکتا تھا:

ہرگز نہیں ہم کو سلطنت کا افسوس ہے ابترئ معاشرت کا افسوس
انگریزوں پہ ہے بہت کم الزام اسکا ہے اپنی ہی میل معصیت کا افسوس

کیونکہ "طالب ِحق کو فلک نے ان کا طالب کردیا" تھا۔ اکبر کا غیر متزلزل عقیدہ تھا کہ آقا و مولاءِ یثرب کی متعین کردہ راہ سے ہٹ کر ہماری تہذیب و معاشرت کا کوئی تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ حجازی تہذیب، باخدا تہذیب ہے اور اسلامی معاشرت حیادار معاشرت ہے۔ اس کی عبادات، ا س کے معاملات، اس کی تفریحات، اس کا لباس، اس کی خوراک، اس کی رہائش، اس کے اسلوبِ حیات کے جملہ مظاہر عقیدہٴ توحید و رسالت سے پھوٹتے ہیں۔ موسمی اور مقامی تنوعات کے باوصف یہ تہذیب اپنے ہی محور یعنی دین حق کے گرد گھومتی ہے۔ دین سے بیگانہ ہو کر مسلمان کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ اس لئے اکبر ایسی مفاہمت کے قائل نہ تھے جس میں دین ہاتھ سے دینا پڑے۔ مصلحین قوم اور اکبر میں نزاع کا باعث درحقیقت اکبر کا یہی بے لچک رویہ تھا جو انہوں نے دین کے دفاع کے لئے ساری عمر اختیار کئے رکھا :

دل ہی دیتا تھا یہ ، وہ دین بھی کرتے تھے طلب
یہی باعث ہے کہ اکبر سے ، بتوں سے نہ بنی

ہم یہ نہیں کہتے کہ سرسید احمدخان کو اس تجربے کی ہلاکت آفرینی کا احساس نہیں تھا۔ یہ تو ماننا پڑتا ہے کہ وہ ایک جری مصلح تھے، اور ان کی 'ڈسپاٹک' طبیعت میں انتہا پسندی موجود تھی۔ اس معاملے میں سرسید کے رفقا نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، مولوی سمیع اللہ خان، حالی، شبلی، نذیراحمد کے خیالات ان سے بہت مختلف او راکبر کے بہت قریب تھے۔ خود سرسید کو بھی آخری زمانے میں اپنے تجربے کی ناکامی کا احساس ہوگیا تھا7۔ کیونکہ نئی نسل جس رنگ میں سامنے آئی اس کا تو وہ تصور بھی نہ کرتے تھے :

نہ حالی کی مناجاتوں کی پرواہ کی زمانے نے
نہ اکبر کی ظرافت سے رکے یارانِ خود آراء

تہذیبی جنگ کا یہ سلسلہ اکبر اور سرسید کے دور سے گزر کر کئی مرحلے طے کرچکا ہے۔ سیاسی تحریکوں نے بھی اس کا رخ بدلا۔ اقبال نے بھی تہذیب ِحاضر کے خلاف اعلانِ جنگ کرکے اس کے دباؤ کو بہت کم کیا۔ لیکن کچھ ایسے حقائق بھی سامنے آتے ہیں جو مسلمانوں کے مزاج کے حوالے سے ذرا غور طلب ہیں۔ ایک کھٹک قلب و ذہن میں اکثر محسوس ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو غیروں سے زیادہ اپنوں سے کیوں نقصان پہنچتاہے؟ یہ عجیب واقعہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک موقع پر اینٹی گاڈسوسائٹی بنی۔8 معاذ اللہ! یہ شرف بھی ایک مسلم یونیورسٹی ہی کو حاصل ہونا تھا۔ کسی دوسری یونیورسٹی کو یہ اعزاز نہ مل سکا۔ پھر ملحد اساتذہ کی کمین گاہیں بھی مختلف محمڈن اینگلو اورینٹل یا اسلامیہ کالجوں میں موجود رہیں۔ کسی دیانند اینگلو ویدک کالج، کسی سناتن دھرم کالج، کسی خالصہ یا مشن کالج کو یہ توفیق بھی نصیب نہ ہوسکی!

وہ تو گرجا پر رکا اور یہ گیا کعبے کو پھاند!

کوئی تحقیق کرنا چاہے تو یہ موضوع عبرت آموز ہونے کے علاوہ دلچسپ بھی ہے کہ جو تعلیمی ادارے غریب مسلمانوں کے چندے اور مسلم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے چٹکی چٹکی آٹے کے ذریعے بنے، ان میں اسلام کے خلاف یہ مورچے کیونکر قائم ہوئے؟
اس ذہنی کھٹک کو لئے ایک روز میں غازی علم الدین شہید کے مرقد پرانوار پر پہنچا کہ شمع رسالت کا یہ پروانہ شاید میری کچھ رہنمائی کرے۔ مرقد سے ندا آئی کہ:
"مسلمان جب تک اپنے عقیدے و ایمان پر قائم رہتا ہے، وہ فاسق و فاجر بھی ہو، پھر بھی اس میں قومی غیرت و حمیت باقی رہتی ہے۔ عقیدے سے منحرف ہو کر وہ اللہ او ررسولﷺ ہی کا باغی نہیں ہوتا، بے غیرت بھی ہوجاتا ہے، اور اسلامی معاشرے میں بے غیرتوں کا کوئی مقام نہیں!"
اس سوال و جواب کو چھوڑتے ہوئے میں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ دورِ حاضر کی اس تہذیبی جنگ یا معرکہ روح و بدن کے سلسلے میں اکبر کا جدید ذہن سے کیا تعلق ہے؟
یہ امر کوئی ایسا مخفی نہیں رہا کہ تہذیب ِمغربی اب نزع کی حالت میں ہے۔ بھاپ سے گزر کر ایٹمی توانائی تک رسائی حاصل کرلینے اور چاند تک پہنچ جانے کے باوجود اہل مغرب کو دھرتی پر سیدھے سبھاؤ چلنا نہیں آیا۔ مشرق کاانسان تو ان کے ہاتھوں دکھی تھا ہی، اب خود ان کا گھر بھی دکھوں کی آگ سے جل رہا ہے۔ بدن پھنک رہا ہے، روح تڑپ رہی ہے۔ اکبر نے شاید اسی وقت کی پیش گوئی کی تھی :

اور بھی دور فلک ہیں ابھی آنے والے
ناز اتنا نہ کریں ہم کو مٹانے والے

آخر یہ ہزاروں، لاکھوں ہپی کس خوشی میں دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں؟ یہ اجتماعی خودکشیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ حقیقت میں یہ اس مادر پدر آزاد تہذیب کے مایوس العلاج مریض ہیں جنہیں کھاؤ پیئو اور عیش کرو کا سبق دیا گیا تھا۔ اب یہ اس عیش مسلسل سے اکتا گئے ہیں۔ ان کی حیوانی خواہشات کی تسکین نہ خمر و خنزیر سے ہو رہی ہے، نہ چرس اورہیروئین سے۔ اس تہذیب کا بھیانک انجام اب کوئی دور نہیں، لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ ہمارے کھاتے پیتے خوش حال گھرانوں کے کچھ چشم و چراغ ابھی تک اس لب ِ گور تہذیب کے صید ِہوس بنے اپنی دنیا و عاقبت خراب کر رہے ہیں!
دوسری طرف عالم اسلام کا ایک بڑا حصہ سیاسی محکومی کی زنجیریں توڑ کر حریت ِفکر و عمل کا متلاشی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا انقلاب ہے جس کے جلو میں پندرہویں صدی ہجری کا آفتاب عالم تاب چند برس قبل طلوع ہوچکا ہے !!
اسلامی دنیا کی پسپائی کا زمانہ ختم ہوا۔ اب اس کی کارفرمائی کا دور شروع ہورہا ہے۔ اس عالم میں اقبال اور اکبر اسلامی دنیا کے بہت بڑے فکری رہنما ثابت ہوسکتے ہیں۔ اقبال کے سامنے اس عصر نو کی سحر بے حجاب تھی۔ اکبر شب رفتہ کے مسافر تھے۔ لیکن اس مردِ حق آگاہ نے کفر و الحاد کی اس شب ِتیرہ و تار میں بھی حجازی تہذیب کے چراغ نیم شبی کو اپنے آنسوؤں کی لو سے روشن رکھا اور اعلاءِ کلمة الحق سے کبھی منہ نہ موڑا !

وجد میں آئے حیرتوں میں رہے عجز کے ساتھ لب کشائی کی
بندگی کا صلہ ملے نہ ملے داد دے دی مگر خدائی کی

 


حوالہ جات
1.  رموز بے خودی
2.  منٹس آن ایجوکیشن ان انڈیا، کلکتہ ۱۸۶۲ء ،ص ۱۱۵
3.  ملت ِبیضا پرایک عمرانی نظر
4.  تمہید پرچہ 'تہذیب ُالاخلاق'
5.  مسافر انِ لندن، ص ۱۸۵
6.  حیاتِ جاوید (دیباچہ)
7.  حیاتِ جاوید ، ص ۳۳۲
8.  مکتوباتِ اقبال بنام سید نذیر نیازی ، ص ۲۰۰ تا ۲۰۴