کسی بھی ملک کے مالیاتی نظام میں دیانت وامانت کو بہت بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ دیانتداری و امانت داری مسلمہ اَخلاقی اَقدار ہیں۔ معاشرتی، سیاسی اور معاشی شعبوں میں ان اَقدار کو وہی حیثیت حاصل ہے جو کسی جسم میں گردش کرنے والے خون کو حاصل ہوتی ہے۔ کسی جسم میں گردش کرنے والا خون اگر تندرست اور جراثیموں سے پاک ہے تو وہ جسم بھی تندرست و توانا ہوگا لیکن اگر کسی کے خون میں کسی مرض کے جراثیم پیدا ہوجائیں تو یہ جسم بیماری کا شکار ہوجائے گا اور اگر ان جراثیموں کو خون سے مٹایا نہ گیا تو یہ اس جسم کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
اگر کسی ملک کے مالیاتی نظام میں بددیانتی، خیانت اور بے ایمانی سرایت کرجائے تو وہاں دولت کی عادلانہ تقسیم ممکن نہیں رہتی۔ اگر سرکاری کارندے اور افسران بدعنوانی میں ملوث ہوجائیں تو ملکی خزانہ غلط طور پر استعمال ہونے لگتا ہے۔ غیر حقدار لوگ تو ناجائز ذرائع سے سب کچھ لے جاتے ہیں لیکن حقدار محروم رہ جاتے ہیں۔ ملکی آمدنی عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔ عوام سرکاری خزانے اور قومی آمدنی سے مستفید نہیں ہوپاتے۔ سرکاری افسران تو بہت امیر ہوتے جاتے ہیں لیکن عوام کے حصے میں غربت ہی آتی ہے۔ ملکی خزانہ تو خالی ہوجاتا ہے لیکن ملک غریب اور سرکاری افسران امیر ہوجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملکی اخراجات چلانے کے لئے ملک سرمایہ دار ملکوں کا مقروض ہوجاتا ہے اور یہ سرمایہ دار ممالک اکثر اَوقات ایسی شرمناک شرائط کے ساتھ قرض دیتے ہیں کہ ملک سود در سود ادا کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے بلکہ بعض اوقات یہ شرائط ملکی سلامتی کے سراسر مخالف ہوتی ہیں۔
کرپشن ایک طرف ملک کے اندر دولت کی تقسیم کو غیر عادلانہ بناتی ہے اور دوسری طرف سرکاری خزانہ عوام کی بجائے بااثر لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ وہاں پوری قوم اخلاقی طور پر بدعنوانی کے مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ رشوت کے ذریعے ہر کام ممکن ہوسکتا ہے۔ پوری قوم کی ا خلاقی حس مردہ ہوجاتی ہے۔ ہر طرف بدعنوانی کی فضا چھا جاتی ہے۔ لوگ رشوت دے کر ہر جائز وناجائز کام کروا لیتے ہیں اور سرکاری کارندے رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔
اگر ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بڑا واضح اور قابل عمل موٴثر ضابطہ ملتا ہے۔ آپ کی حکمت ِعملی کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیمات تھیں جن میں ہمیں حلال و حرام کی تمیز سکھائی گئی ہے اور حرام خوری کے وبال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے امانت و دیانت اور بددیانتی کا واضح تصور پیش کیا۔ امانت داری کی فضیلت اور بددیانتی کی نحوست کا ذکر فرمایا اور ان پر لوگوں کو گامزن کروا یا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے نفوس کا تزکیہ1 فرمایا۔ان میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور یوم آخرت کی مسئولیت کا احساس پیدا فرمایا کہ انسان کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آپ نے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ قیامت کے دن کسی بھی شخص کو ایک قدم آگے اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک کہ وہ پانچ باتوں کے بارے میں جواب نہیں دے لے گا۔ ان میں ایک سوال یہ ہوگا کہ تم نے جو دولت کمائی، وہ کہاں سے اورکن ذرائع سے حاصل کی اور پھر اسے کن جگہوں پر خرچ کیا۔2
اُصول و ضوابط خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔ اگر لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف نہ ہو تو کوئی چیز انہیں برائی اور خیانت سے روک نہیں سکتی۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ ڈنڈے کے زور سے آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اِعلانیہ جرائم سے روک سکتے ہیں لیکن وہ جرائم جو چھپ کر ہوتے ہیں، قانون اور اختیار انہیں روک نہیں سکتا۔3اسی طرح اچھائی اور دیانت داری پرکبھی قانون مجبور نہیں کرسکتا ۔ اگر دل خوفِ خدا سے بھرا ہوا ہو تو لوگ خود بخود اعلانیہ اور خفیہ معاملات میں جرم سے اجتناب کریں گے۔ خصوصاً مالی معاملات میں تو انسان کی نیت کو بڑا دخل حاصل ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاحی حکمت ِ عملی میں تقویٰ اور خوف ِ خدا کو بنیادی اہمیت حاصل ہے گویا آپ نے لوگوں کے قلوب و اَذہان کو بدلا۔
قرآن مجید کے ذریعے حلال و حرام کا تصور واضح کرنے کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر امانت و دیانت کی عملی زندگی میں اہمیت بیان فرمائی۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں :
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں سنی ہیں: ایک کو تو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: امانت داری لوگوں کے دلوں کی جڑمیں اُتری ہے۔ یعنی یہ ان کی فطرت میں داخل ہے پھر انہوں نے اس فطری استعداد میں قرآن اور حدیث کے علم کے ذریعے اضافہ کیا۔ "
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ "پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کا حال بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ حال ہوگا کہ آدمی سوئے گا تو امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی اور اس کا ہلکا سا نشان اس کے دل میں باقی رہ جائے گا۔ پھر سوئے گا تو امانت چلی جائے گی اور ایک آبلہ کی طرح کا داغ اس کے اوپر رہ جائے ۔ جو اُٹھا ہوا تو ہوتا ہے مگر اندر سے خالی ہوتا ہے۔ لوگ ایسے ہوجائیں گے کہ لین دین کریں گے لیکن کوئی ایمانداری سے کام نہیں لے گا۔ اس وقت امانتداری کی مثال ایسے ہوجائے گی کہ لوگ مثال کے طور پر کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک امانتدار شخص ہے۔ آدمی کی تعریف کی جائے گی کہ کیسا عقل مند، خوش مزاج اور بہادر شخص ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمانداری نہیں ہوگی۔"4
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«لا إيمان لمن لا أمانة له»5 "اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانتداری نہیں"
آپ نے فرمایا
"جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔ جس کو اپنے عہد کا پاس نہیں اس میں دین نہیں۔ اس ہستی کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے کسی بندہ کا اس وقت تک دین درست نہ ہوگا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو اور اس کی زبان درست نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کا دل درست نہ ہو ... جو کوئی ناجائز ذرائع سے مال کمائے گا اور اس میں سے خرچ کرے گا تو اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ اگر اس میں سے خیرات کرے گا تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ جو اس میں سے بچ جائے گا وہ اس کے جہنم کی طرف سفر کا توشہ ہوگا"۔6
"قیامت کی نشانیوں میں ہے کہ سب سے پہلے اس امت سے امانت کاجوہر جاتا رہے گا"۔7
آپ نے فرمایا: "میری امت اس وقت تک فطری صلاحیت پر قائم رہے گی جب تک وہ امانت کو غنیمت کا مال اور زکوٰة کو جرمانہ نہیں سمجھے گی۔"8
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت میں خیانت کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔9 نبی کریم نے فرمایا کہ "اگر کسی سے ساری دنیا کی چیزیں چھن جائیں اور اس کے پاس امانت کا وصف باقی رہ جائے تو اسے کسی چیز کا تا ٴسف نہیں"۔ آپ نے فرمایا:
"موٴمن میں ہر بری عادت ہوسکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ اس میں نہیں آسکتا"۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "امانت کا وصف اللہ نے انسانت کی فطرت میں رکھا ہے"۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک روایت موقوفاً بیان کی ہے کہ
"اللہ کی راہ میں شہید کیا جانا تمام گناہوں کا کفارہ ہے لیکن امانت کاکفارہ نہیں۔ ایک بندے کو قیامت کے روز لایا جائے گا جو شہید ہوا ہوگا او رکہاجائے گا کہ تم امانت (جس میں اس نے خیانت کی ہوگی) ادا کرو۔ وہ کہے گا کہ اے اللہ! اب میں اسے کس طرح لاؤں، اب تو دنیا ختم ہوچکی ہے۔ کہا جائے گا کہ اسے جہنم کے طبقہ 'ہاویہ' میں لے جاؤ۔ وہاں امانت والی چیز مثال بن کر اصل حالت میں اس کے سامنے آئے گی تو وہ اسے دیکھ کر پہچان لے گا اور اس کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے گرے گا یہاں تک کہ اسے پکڑلے گا۔ وہ اسے اپنے کندھوں پر لاد کر چلے گا۔ لیکن جب وہ جہنم سے نکلنے کی کوشش کرے گا تو وہ بوجھ اس کے کندھے سے گرپڑے گا۔ پھر وہ اس کے پیچھے ہمیشہ گرتا چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ نے وضو، نماز، ناپ تول اور دیگر بہت سی چیزیں گنا کر فرمایا اور ان سب سے زیادہ سخت معاملہ امانت کی چیزوں کا ہے۔"10
ابن عمر سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی اہمیت کو بیان فرمایا:
"اللہ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا کو نکال لیتا ہے۔ جب حیا اس سے نکل جاتی ہے تو ہمیشہ تو اس پر اللہ کا غصہ پاتا ہے۔ جب اس پر اللہ کا غصہ رہتا ہے تو اس کے دل سے امانت نکل جاتی ہے، تو اسے تو ہمیشہ چور اور خائن پاتا ہے۔ جب اسے تو چور اور خائن پاتا ہے تو اس میں سے رحمت نکل جاتی ہے۔ جب اس میں سے رحمت نکل جاتی ہے تو تو اسے ہمیشہ مردودو ملعون پائے گا۔ جب وہ ہر وقت مردود و ملعون ہوجاتا ہے تو اس کی گردن سے اسلام کی رسی نکل گئی"۔11
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی پاسداری او رمحافظت کا سبق لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کے ساتھ لوگوں کو خیانت او ربددیانتی کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید میں ارشاد ہے :
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَخونُوا اللَّـهَ وَالرَّ‌سولَ وَتَخونوا أَمـٰنـٰتِكُم...٢٧ ﴾... سورة الانفال
"اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت مت کرو اور نہ جانتے بوجھتے آپس کی امانتوں میں خیانت کرو"
قرآن مجید میں دوسرے مقام پر فرمایا :
﴿وَلا تَكُن لِلخائِنينَ خَصيمًا ١٠٥ ﴾... سورة النساء" اور آپ بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ ہوں
اور ایک مقام پر فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّـهَ لا يُحِبُّ الخائِنينَ ٥٨ ﴾... سورة الانفال
"بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کا صحیح مفہوم اپنے اسوہٴ حسنہ کے ساتھ پیش فرمایا، آپ جن باتوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، ان میں سے ایک خیانت ہے۔آپ کا ارشادِ گرامی ہے :
"اے اللہ مجھے خیانت سے بچائے رکھنا کہ یہ بہت برا اندرونی ساتھی ہے"12
آپ نے فرمایا: "سب سے اچھا میرا زمانہ ہے، پھروہ زمانہ جواس کے بعد آئے گا، پھر ا س کے بعد آنے والا زمانہ۔ اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا جب لوگ بن بلائے گواہی دیں گے۔ خیانت کریں گے۔ امانتداری نہیں کریں گے۔ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے"۔13
آپ نے فرمایا کہ بددیانتی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ آپ کا ارشادِ گرامی ہے:
«إذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة»14
"جب امانت ضائع کردی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرنا چاہئے۔"
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب میری امت کے لوگ پندرہ کام کرنے لگیں تو ان کاموں کی وجہ سے ان پربلائیں اور مصائب نازل ہوں گے۔ ان میں سے ایک بددیانتی ہے کہ لوگ مال غنیمت کی طرح امانت کو حلال کرلیں گے"۔15
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمران کوبیت المال کا محافظ اور امین قرار دیا ۔ اس پر یہ بات واضح فرما دی کہ اگر وہ کسی بھی طریقے سے بیت المال کی صحیح طور پر نگہداشت نہیں کرتا ، ا س کے استحکام و تحفظ کے لئے موزوں پالیسیاں وضع کرکے ان پر عمل درآمد کا اہتمام نہیں کرتا اور بیت المال کے سرمائے کو صحیح طور پر خرچ کرنے کا اہتمام نہیں کرتا تو وہ اسی طرح خائن اور بددیانت ہوگا جس طرح عام معاشرتی زندگی میں امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ ا س سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کو یہ بات باور کروائی ہے کہ وہ محض عوام کی طرف سے ایک امانت کے اٹھانے والے امین ہیں۔ یہ حکمران لوگوں پر حکومت کرنے کے لئے نہیں بلکہ وہ امانت کا حق ادا کرنے پر مامور ہیں ۔ احادیث ِنبویہ کی روشنی میں امام ابن تیمیہ ابومسلم خولانی کا حضرت معاویہ کے ساتھ مکالمہ نقل فرماتے ہیں کہ "ابومسلم خولانی نے حضرت امیر معاویہسے فرمایا کہ تم حقیقت میں مزدور ہو۔ ان بھیڑ بکریوں کو چرانے کے لئے تمہیں مزدوری پر رکھا ہوا ہے۔ اگر تم نے ان کی خبرگیری اچھی طرح سے کی اور جو بیمار ہوں ان کا علاج کیا تو تمہارا آقا تمہیں اُجرت دے گا اور اگر تم نے ان کی حفاظت اچھی طرح سے نہ کی تو ان کا مالک تمہارے ساتھ غضب ناک ہوگا، اسی طرح انسان اللہ کے بندے ہیں اور والیانِ ریاست اللہ کے بندوں پر اللہ کے نگہبان ہیں۔16
احادیث کی روشنی میں امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں:
«وقد دلت سنةرسول صلی اللہ علیه وسلم علی أن الولاية أمانة يجب اداوٴها في مواضع»17
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ولایت و حکمت ایک امانت ِالٰہی ہے جسے اس کے اصل مقام پر ادا کرنا واجب ہے"
حضرت علی  کا ایک قول ہے کہ "حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق امانت اَدا کرے۔ اگر وہ یہ حق ادا کرتا ہے تو عوام پر بھی اس کی اطاعت لازم ہوجاتی ہے"۔18
امانت کے اس تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح واضح فرمایا کہ جس طرح ایک چرواہا اپنے ریوڑ کا محافظ ہوتا ہے، اسی طرح تم میں سے ہر شخص اپنے اپنے مقام پر ذمہ دار او رمحافظ ہے۔ ایک حکمران اپنی رعایا کامحافظ ہے اور اس سے اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنی رعایا کے مفادات کا تحفظ کیا یا نہیں؟19 آپ نے فرمایا کہ:
«مامن عبد ليسترعيه الله رعية يموت وهو غاش لرعيته إلا حرم الله عليه الجنة»20
"کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ نے رعیت کی ذمہ داری سونپی ہو اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ رعیت کے بارے میں خیانت کرنے والا ہو تو اللہ نے اس پر جنت حرام قرار دے دی ہے"
اس حدیث ِمبارکہ کی تشریح میں امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ "والی ٴ حکومت رعایا کا ایسا راعی (محافظ و ذمہ دار) ہے جیسے گڈریا بھیڑوں کی رکھوالی کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ
"والیانِ مملکت اور افسرانِ خزانہ کے لئے جائز نہیں کہ ملکی خزانہ اپنی خواہشات کے مطابق اس طرح خرچ کریں جس طرح مالک اپنی ملکیت کی چیز خرچ کرتا ہے۔ افسرانِ خزانہ بلاشبہ امین اور نائب ہیں، وہ ہرگز مملکت کے اموال کے مالک نہیں ہیں۔21
اسی مضمون کی ایک اور حدیث ِمبارکہ بخاری اور مسلم شریف میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا:
«ما من وال يلي رعية من المسلمين فيموت وهو غاش لهم إلا حرم الله عليه الجنة»
"کوئی حکمران، جو مسلمانوں میں سے کسی رعیت کے معاملات کا سربراہ ہو، اگر اس حال میں مرے کہ وہ ان کے ساتھ دھوکہ اور خیانت کرنے والا ہو تو اللہ اس پرجنت حرام کردے گا"
ظاہر ہے دھوکہ اور خیانت کی ایک بڑی صورت یہ ہے کہ ان کے مالی معاملات کی حفاظت نہ کی جائے اور انہیں دھوکہ دے کر غلط مقامات پر خرچ کردیا جائے۔22
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالیاتی بلکہ پورے انتظامی نظام کی اصلاح کے لئے جو حکمت ِعملی اختیار فرمائی، اس کا ایک ستون ان عہدوں پر متمکن ہونے والے لوگوں کامعیارِ صلاحیت اور اخلاق تھا۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید کی مختلف آیات میں مختلف عہدوں پرتعینات ہونے والے لوگوں کے معیار کے بارے میں اشارات دیئے گئے ہیں۔ مثلا ً سورة البقرة کی آیت نمبر ۲۴۸ میں علم اور جسمانی مضبوطی، اسی سورت کی ۱۲۴ نمبر آیت میں فرمایا گیا کہ ظالم کو اللہ خلافت و منصب سے نہیں نوازتے۔ گویا ظالم آدمی اس عہدے کے لئے اہل نہیں ہے۔ اس کے برعکس عدل ہے۔ گویا کسی منصب پر فائز ہونے والا عدل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ سورة الاعراف کی آیت نمبر۱۲۸ میں یہ عمومی اُصول دیا گیا کہ اللہ جسے چاہتا ہے منصب عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح قرآن کے مختلف مقامات پر مناصب کی اہلیت کے لئے مختلف اشارات دیئے گئے ہیں۔ مثلاً الکہف : ۲۸، النور :۵۵، الانبیاء:۱۰۵، بنی اسرائیل:۷۰، ص ٓ: ۲۶، اوریوسف:۵۵ میں یہ صفات دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان آیات کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُصول و ضوابط مرتب فرمائے۔ مسلم مفکرین سیاست نے ان آیات کی روشنی میں اُصول مرتب کئے۔23 کتاب و سنت کی روشنی میں کوئی عہدہ اور منصب طلب کرنے والا اس عہدے کے لئے نااہل ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو بہت بڑا خائن قرار دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: «إن أخونکم عندنا من طلبه» "ہمارے نزدیک عہدہ طلب کرنے والاسب سے بڑا خائن ہے" آپ سے اس سلسلے میں متعدد روایات ہیں کہ مختلف لوگوں نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا لیکن آپ نے ان سب کو یہ کہہ کر کوئی عہدہ نہیں دیا۔ ا س کا سبب یہ ہے کہ جب کوئی کسی منصب کا خود مطالبہ کرتا ہے تو اس میں گمانِ غالب یہی ہوگا کہ وہ اس منصب کو دنیا کمانے کے لئے استعمال کرے گا۔ اپنے منصب کو ناجائز استعمال کرکے اسے دولت کمانے کاذریعہ بنائے گا۔24
مالیاتی عملے کوہدایات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مالیاتی حکمت ِعملی کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ آپ نے زکوٰة وصول کرنے والوں کو ان کے منصب کی اہمیت اور نزاکت کا احساس دلایا۔ رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے :
«العامل علی الصدقة لوجه الله تعالیٰ کالغازي في سبيل الله عزوجل حتیٰ يرجع إلی أهله» (ابوداود میں اَلفاظ ہیں: العامل علی الصدقة بالحق)25
"اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صدقات وصول کرنے والا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر لوٹ کر آجائے"
ایک اور روایت میں ہے کہ "عامل زکوٰة کو ا س منصب پر فائز کیا گیا اور اس نے حق کے مطابق زکوٰة وصول کی۔ کوئی بددیانتی نہیں کی اور زکوٰة دہندہ پر ظلم نہیں کیا تو ایسا شخص اس وقت تک اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہد کی مانند ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر گھر آجائے"26
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:« خيرالکسب کسب العامل إذا نصح»27
"بہترین کام عامل کا کام ہے جب تک وہ خیرخواہی کے ساتھ کام کرے"
مسند احمد میں ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عنقریب اللہ تعالیٰ مشرق و مغرب کے خزانے کھول دے گا۔ بے شک تمہارے عمال (جو زکوٰة وصول کرنے میں لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کے حقوق مارتے ہیں، غنیمت کے مال میں بددیانتی کرتے ہیں اور حاصل کی ہوئی چیزوں کو حاکم سے چھپاتے ہیں) جہنم میں جائیں گے۔ سوائے ان عمال کے جو محاصل وصول کرتے وقت اللہ سے ڈرتے رہے اور جنہوں نے امانت ادا کری یعنی جو کچھ وصول کیا تھا، اسے امانت داری کے ساتھ بیت المال میں جمع کروا دیا۔28 حضرت ابوموسیٰ اشعری  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایسا مسلمان خازن جو محاصل وصول کرنے کے لئے متعین کیا جائے اور وہ وصول شدہ تمام محاصل مکمل طور پر امیر کے سامنے جمع کرا دے تو ایسا شخص بھی ایک طرح سے صدقہ کرنیوالا ہے۔29 اس سلسلے میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار یہ تھا کہ مختلف علاقوں میں متعین کئے جانے والے عہدیداروں کو خصوصی ہدایات دیا کرتے تھے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں عہد ِنبوی سے ملتی ہیں کہ آپ کسی عامل یا عہدہ دار کو کسی جگہ متعین فرماتے توپیدل چل کر شہر کے باہر تک اس کے ساتھ جاتے، اس دوران اسے ہدایات دیتے تھے۔حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں :
"مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی جانب متعین فرمایا۔ میں جب روانہ ہوا تو آپ نے مجھے واپس بلایا اور فرمایا کہ میں نے تمہیں صرف اس لئے بلایا ہے کہ میں تمہیں بتادوں کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ بھی لوگے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن آئے گا۔ بس میں نے تمہیں یہی بتلانا تھا، اب اپنے کام پر جاکر لگ جاؤ"۔30
ابوداود شریف میں ہے کہ ایک صحابی ابو مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل بناکر بھیجنا چاہا اور فرمایا "ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت کے طور پر لیا ہوگا"۔ ابومسعود کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ "میں ایسا عہدہ نہیں لینا چاہتا" آپ نے فرمایا: "پھرمیں بھی جبرا ً تمہیں نہیں بھیجتا"31
اسی طرح کی ایک روایت حضرت سعد بن عبادہ کے بارے میں بھی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"ایسا نہ ہو کہ تو بلبلاتے ہوئے اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے جسے تو نے خیانت میں لیا تھا۔ میں نے کہا: پھر تو میں اس طرح کا عہدہ لینے سے دست بردار ہوتا ہوں۔ پھر آپ نے مجھے اس عہدہ پرمتعین فرمانے پر اصرار نہیں فرمایا۔32
اسی طرح کی ایک روایت طبرانی میں حضرت عبادة بن صامت کے بارے میں بھی ہے۔33
بخاری شریف میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"اللہ فرماتے ہیں کہ تین بندے ایسے ہیں جن کے میں مدمقابل ہو کر ان سے لڑوں گا۔ ان میں سے ایک وہ ہے جسے کوئی چیز (منصب وغیرہ) عطا کیا گیا اور اس نے اس میں بددیانتی کی"۔
اسلامی ریاست میں مالیاتی امور کے بارے میں خصوصی طور پر احتیاط سے کام لیا جاتاہے کیونکہ اگر اس شعبے میں ذرّہ برابر بھی بے احتیاطی سے کام لیا جائے تو ایک طرف ملکی خزانہ غلط طور پر خرچ ہوجاتا ہے دوسری جانب بدعنوانیاں جنم لیتی ہیں۔ تقسیم دولت کا سلسلہ غیر متوازن ہوجاتاہے اور لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مالیات کے معاملے میں ا سلام کس قدر احتیاط سے کام لیتا ہے، اس سلسلے میں ڈاکٹرحمیداللہ لکھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب میں سرکاری آمدنی کے ذرائع یعنی کن کن چیزوں پر محصول لیاجائے، اس کی تفصیل تو ہمیں ملتی ہے۔ لیکن انہیں کن کن مدات میں خرچ کیا جائے، اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ان مذاہب میں اس شعبے کو حکمران کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ ٹیکسوں کی اس آمدنی کو وہ جس طرح چاہے خرچ کرے اور عام طورپر حکمران اپنی ذات پر اور فضول خرچیوں اور عیاشیوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔34 ... ڈاکٹر حمیداللہ مزید لکھتے ہیں :
"میرے علم میں قرآن کریم وہ پہلی دینی کتاب ہے جس میں آمدنی کے وسائل کے متعلق بہت کم تفصیل ملتی ہے لیکن اسے خرچ کرنے سے متعلق انتہائی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے"35
اسلام سے پہلے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مصارف کا کوئی قاعدہ اور ضابطہ موجود نہ تھا۔ رئیس قبیلہ غنیمت وغیرہ کے محاصل کے خرچ کرنے میں تمام اختیارات کے مالک ہوتے۔ عموماً کل محاصل کے چوتھائی حصے کا مالک رئیس ہوتا تھا۔ اس میں وہ تمام قیمتی اشیاء خود رکھ لیتا۔ تقسیم کے بعد جو کچھ بچ رہتا یا بچا لیا جاتا، وہ اس کے قبضے میں آجاتا۔ اس کے علاوہ اس زمانے میں یہ طریق کار بھی موجود تھا کہ جو شخص کوئی مال لوٹتا، وہ اسی کا ہوجاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نظام میں مثبت اور دیرپا تبدیلیاں کیں۔ آپ نے مالِ غنیمت کو فوج میں باقاعدہ ضابطے کے مطابق تقسیم کرنے کا اصول رائج فرمایا۔ یہ اصول نہایت عادلانہ تھے۔ کسی فرد کی بجائے حاصل ہونے والے مال کو اجتماعی ملکیت قرار دیا۔ غنیمت، فئے، زکوٰة، خراج، جزیہ اور دیگر محاصل اسی انداز سے تقسیم کئے جاتے کہ کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملتا اور یہی اُصول آپ کے بعد بھی مستقل طور پر تقسیم دولت کے اصول بن گئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصل کے نظام کو بڑی احتیاط کے ساتھ منظم فرمانے کی بنیادیں رکھ دیں۔ آپ کے مبارک عہد میں آپ کے پاس وفود آتے تھے۔ جانے والے وفود کو خرچہ دیا جاتاتھا۔ مختلف علاقوں سے سالانہ محاصل وصول ہو رہے تھے۔جزیہ و خراج بھی مل رہا تھا۔ زکوٰة کی وصولی کے لئے بھی باقاعدہ نظام نافذ ہوچکا تھا۔ مملکت کا نظام چلانے کے لئے دیگر اخراجات بھی تھے۔ ان حالات میں یہ بات قرین قیاس ہے کہ آپ نے باقاعدہ بیت المال کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ڈاکٹر حمیداللہ لکھتے ہیں کہ آپ نے مسجدنبوی سے متصل ایک کمرے کو بیت المال کے طور پرمختص فرما رکھا تھا۔ ا س کمرے کی خصوصی نگرانی کی جاتی تھی۔ اس کمرے میں رقم اور اجناس رکھی جاتی تھیں۔ حضرت بلال اس کی نگرانی پر مامور تھے۔ ڈاکٹر حمیداللہ اس کمرے کو پہلا بیت المال او رحضرت بلال کوپہلے وزیرمال قرار دیتے ہیں۔36
مالیات و محاصل کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ قواعد و ضوابط رائج فرمائے۔ ان قواعد سے افسرانِ مالیات کو باقاعدہ آگاہ کیا جاتا تھا اور ان پر بڑی سختی سے عمل کروایا جاتا۔ باقاعدہ طور پر ان ہدایات پر عمل درآمد کی نگرانی کی جاتی تھی۔ اس طرح کی ہدایات میں یہ باتیں شامل ہوتی تھیں کہ زکوٰة وصول کرنے والے خود چل کر زکوٰة دینے والے کے پاس جائیں۔ ا س کا فائدہ یہ ہوگا کہ سرکاری ملازم خود زکوٰة کا مال دیکھ سکے گا او رکسی بھی طرح کی بدعنوانی مثلاً زکوٰة کا مال چھپانے کی بنیاد ختم ہوجائے گی۔ اسی طرح یہ ہدایت بھی تھی کہ زکوٰة میں چھانٹی کا مال نہ لیا جائے، نہ ہی گھٹیا مال وصول کیا جائے۔ اسی طرح زکوٰة دینے والوں کو بھی ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔زکوٰة لینے اور دینے والے سبھی شرعی اُصولوں سے آگاہ کردیئے گئے تھے او ریوں زکوٰة دینے والوں کی لاعلمی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے استحصال کی راہیں بند کردی گئیں۔37
زکوٰة عائد کرنے کا نصاب اور دیگر مسائل بالکل واضح اور شریعت کے اَحکام تھے، ا س لئے زکوٰة کی رقم کے تعین (Fixation) کے بارے میں بھی کسی طرح بھی کسی ایک فریق کو دھوکہ دینے یا دھوکہ کھانے کی گنجائش اور اِمکان موجود نہ تھا۔ اس طرح مالیات کے بارے میں کسی بدعنوانی کے آغاز کا امکان خود بخود ہی ختم ہوگیا۔
اس کے ساتھ ہی یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت نے ہر شخص کو اتنی جرأت عطاکردی تھی کہ اگر کوئی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ا رتکاب کرتا تو وہ خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ اہلکار کی ہر کارروائی پر اس سے سوال کرسکتا تھا اور عدالت ِ نبوی تک رسائی کرسکتا تھا۔ اس ماحول میں کسی طرح کی بدعنوانی ممکن نہ تھی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی پالیسی کا ایک سنہرا اصول یہ تھا کہ حاصل ہونے والی آمدنی اور اجناس آپ بیت المال میں جمع کرکے رکھا نہیں کرتے تھے بلکہ فوری طور پر اعلان فرما دیتے کہ مستحق لوگ آکر اپنا اپنا حق وصول کر لیں۔38
بہت سے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو اس وقت تک سکون نہیں آتا تھا جب تک کہ بیت المال میں آنے والا مال مستحق لوگوں تک پہنچا نہیں دیتے تھے۔39 آپ کے اس طریق کار کی ایک حکمت تو یہ ہوسکتی ہے کہ آپ ارتکازِ دولت کی بجائے دولت کے پھیلانے کو پسند فرماتے تھے۔ دوسری حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ جلد از جلد اس مال کو تقسیم کرکے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتے ہوں اور آپ چاہتے تھے کہ حق، جلد از جلد حقدار تک پہنچ جائے۔
بیت المال کی نگرانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مقدم تھی۔ ایک دفعہ رئیس فدک نے غلے سے لدے ہوئے چار اونٹ آپ کی خدمت میں بھیجے۔ اسے فوری طور پر تقسیم کیا گیا لیکن کچھ بچ رہا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو پھر آج گھر نہیں جاؤں گا۔ آپ نے رات مسجد میں ہی بسر فرمائی۔ جب اگلے روز حضرت بلال نے خبر دی کہ سارا مال تقسیم ہوگیا ہے تو آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور گھر تشریف لے گئے۔40
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصل کی تقسیم کے سلسلے میں ہمیشہ احتیاط سے کام لیتے ہوئے اپنے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کو کبھی محاصل وصول کرنے کی ذمہ داری نہیں سونپی۔ طبقات ابن سعد، کتاب الخراج، زاد المعاد، فتوح البلدان وغیرہ میں ان لوگوں کے اسمائے گرامی یکجا کئے گئے ہیں جو عہد نبوی میں وصولی کے کام پر متعین کئے جاتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا تعلق خاندانِ نبوت سے ہو۔41 بلکہ آپ کے خاندان میں سے اگر کسی نہ کسی موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا بھی کہ اسے مالیات کے شعبے میں کوئی ذمہ داری سونپی جائے تو آپ نے دو ٹوک انداز میں انکار فرما دیا کہ صدقات کے مال آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز نہیں کیونکہ یہ لوگوں کے اَموال کی میل کچیل ہوتی ہے۔42
دراصل اگر انہیں اس شعبے میں کوئی ذمہ داری سونپی جاتی تو ان کا معاوضہ انہیں حاصل شدہ محاصل سے ادا کیا جاتا۔ آپ نے یہ بات گوارا نہیں فرمائی کہ زکوٰة وغیرہ سے آپ کے خاندان کے کسی فرد کو کسی بھی انداز سے بلا واسطہ یا بالواسطہ کچھ حاصل ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارک یہ تھا کہ مالِ غنیمت آنے کے بعد حضرت بلال کو حکم فرماتے کہ وہ اعلان کردیں کہ جس جس کے پاس جو کچھ بھی ہو،وہ لے کر مسجد نبوی میں جمع کروادے۔43 گویا یہ اعلان ہوتا تھا کہ غنیمت کا مال اجتماعی مال ہے، اس پر کسی کا ذاتی حق نہیں ہے۔ جنگ ِبدر کے موقع پر لوگوں نے مال غنیمت انفرادی طور پر اکٹھا کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مال سرکاری خزانے میں جمع کروایا اور اسے سب لوگوں میں برابر تقسیم کردیا۔44
ملکی خزانے کو امانت سمجھنے کے اعتبار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذات سے نہایت عمدہ مثال پیش فرمائی۔ آپ نے ایک موقع پر زمین سے بکری یا اونٹ کا ایک بال پکڑا اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو مال اللہ نے تمہیں دیا، اس میں میرا حصہ پانچویں حصے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے او ریہ پانچواں حصہ بھی تمہارے ہی واسطے ہے۔45 یعنی اسے محتاجوں اور غربا میں تقسیم کردیتا ہوں۔ مالِ فئے اور مالِ غنیمت کے بارے میں قرآن مجید کی آیات کے تحت تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ ان میں سے جو حصہ آپ کوشرعی اور قانونی طور پر حاصل ہوتا، آپ اسے بھی اپنی ذات سے زیادہ محتاجوں پر خرچ کرتے تھے۔46 مخیریق جوبنوقیفقاع کے ایک یہودی تھے، نے یہ وصیت کررکھی تھی کہ ان کی وفات کے بعد سات باغات جوان کی ملکیت تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف ہوں گے۔ ان کی وفات کے بعد یہ باغات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے۔ لیکن آپ نے یہ باغات وقف فرما دیئے اور ان کی آمدنی غربا و محتاجوں کو ملنے لگی۔47
آپ کی ذاتی اور گھریلو زندگی بھی سادگی کا نمونہ تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ اور آپ کے اہل بیت تین دن تک متواتر گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھا سکتے تھے۔ آپ فرماتی ہیں :
"اہل بیت ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک چاند سے گزر کر دوسرا چاند آجاتا اور ہمارے گھر میں چولہا نہ جلتا۔ اس دوران ہمارا گزر اوقات کھجور اور پانی پر ہوتا"۔48
جو چیزاستعمال کرنی جائز نہیں ہے، اس کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محتاط اسوہٴ حسنہ پیش فرمایا۔ حضرت انس سے روایت ہے "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور پر سے گزرے۔ فرمایا: کہ "اگر مجھے خوف نہ ہوتا کہ یہ کھجور صدقے میں سے ہوگی تو میں اسے کھا لیتا"49 ایک موقع پر حضرت حسن (جو اس وقت ابھی بچے تھے) نے خشک کرنے کے لئے پڑی ہوئی کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال لی۔ مگر آپ نے یہ چبائی ہوئی کھجور منہ سے نکلوائی۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اس بچے کو یہ کھجور کھا لینے دیتے تو اس میں کیا حرج تھا؟ آپ نے فرمایا: "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لئے صدقہ کھانا حلال نہیں ہے"50آپ کو اگر کوئی چیز پیش کی جاتی تو آپ پوچھتے کہ یہ صدقہ یا ہدیہ؟ اگر ہدیہ ہوتی تو استعمال فرماتے ورنہ ہاتھ آگے نہ بڑھاتے۔51 بعض روایات میں یوں آتا ہے کہ آپ کو ایک موقع پرکھجوروں کا ایک ٹوکرا پیش کیا گیا۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کی کھجوریں ہیں۔ حضرت حسن نے اس میں ایک کھجو رکھا لی۔ آپ نے منہ میں انگلی ڈال کر یہ کھجور اُگلوا دی۔52
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہٴ حسنہ سے یہ مثال پیش فرما دی تاکہ کسی کو انگلی اٹھانے کاموقع نہ ملے۔ آپ کا یہ محتاط رویہ آپ کا ذاتی جذبہ ایثار ہی نہ تھا بلکہ یہ رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لئے ایک مثال تھی کہ مالی بے قاعدگیوں کو روکنے کے لئے سب سے پہلے حکمران کو اپنی مثال پیش کرنا ہوگی۔ آپ کی اس پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیداللہ لکھتے ہیں کہ
"اگر سرکاری آمدنی حکمران کی آمدنی سمجھ لی جائے توحکمران کے قریبی لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہو کہ یہ دولت حکمران کے لئے حرام ہے توماتحت افسروں کو ذرا احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے کہ حکمران ان کا محاسبہ کرے گا۔ ا س لحاظ سے یہ نہایت اہم بات ہے کہ اسلام کے سوا دنیا کی کسی اور قوم نے سرکاری آمدنی حکمران کی ذات کے لئے ممنوع قرار نہیں دی۔ یہ خصوصیت بھی صرف اسلام ہی کو حاصل ہے۔53
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال کے بارے میں اس اعتبار سے بھی احتیاط کی پالیسی اختیار کی کہ صرف حقداروں کوہی دیا ۔ آپ نے فرمایا :
«ما أعطيکم ولا أمنعکم إنما أنا قاسم أضع حيث أُمِرت»54
"میں خود نہ تمہیں کچھ دیتا ہوں نہ کسی چیز کو تم سے روکتا ہوں۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں جہاں مجھے حکم دیا جاتا ہے، وہاں خرچ کرتا ہوں"
آپ نے لوگوں پر واضح فرما دیا تھا کہ ریاست کے خزانے میں جو کچھ ہے وہ لوگوں کی امانت ہے۔ آپ اس امانت کو حقداروں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ایک شخص نے آپ سے زکوٰة کے مال میں سے کچھ مانگا تو آپ نے فرمایا:
"اللہ نے زکوٰة کے مال کی تقسیم میں کسی کو حتیٰ کہ نبی کے دخل کو بھی پسند نہیں کیا بلکہ اس نے خود اسے آٹھ حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اب اگر تم ان آٹھ میں سے ہو تو میں تجھے تیرا حق دے دوں گا۔"55
آپ نے یہ سنہرا اصول دیا کہ مالیاتی عہدوں پر فائز لوگوں کے طرز ِ عمل پر خصو صی نگاہ رکھی جائے او رانہیں اس بات کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ وہ اپنی تنخواہ کے علاوہ رعایا سے کسی قسم کا ہدیہ قبول کریں۔ کیونکہ یہ بدعنوانی کا دروازہ ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد فرامین موجود ہیں کہ آپ نے عمال حکومت کے لئے حرام قرار دے دیا کہ وہ کوئی ہدیہ قبول نہ کریں۔ اس باب کا نام ہی "باب ھدایا العمال" ہے۔
رسول اللہ ا نے قبیلہ ازد کے ایک شخص ابن اللُّتْبِیة کو صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ جب وہ لو ٹ کر آیا تو کہنے لگا کہ یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفے میں ملا ہے۔ یہ بات سن کر آپ جلال میں آگئے اور منبر پر تشریف فرما ہوکر اللہ کی تعریف بیان کرنے کے بعد فرمایا:
"اس تحصیلدار کا کیا حال ہے جسے میں (صدقات کی وصولی کے لئے) متعین کرتا ہوں پھر وہ کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے او ریہ مجھے ہدیہ ملا ہے۔ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتے کہ اسے کوئی ہدیہ ملتا ہے یا نہیں۔ (یعنی اگر اس وقت بھی جب سرکاری کام نہ ہو کوئی ہدیہ دیا کرتا ہو تو اس کا ہدیہ کام کے بعد بھی درست ہے ورنہ ظاہر ہے کہ اس نے یہ ہدیہ دباؤ سے دیا ہوگا یا کسی اور ناجائز غرض کی خاطر دیا ہوگا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد اکی جان ہے کوئی تم میں سے ایسا مال نہ لے گا مگر قیامت کے دن اپنی گردن پر لاد کر اسے لائے گا۔ اس طرح حاصل کیا ہوا اگر اونٹ ہوگا تو وہ بڑبڑا رہا ہوگا۔ گائے ہوگی تو چلا رہی ہوگی۔ بکری ہوگی تو ممیا رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور فرمایا: "یااللہ! میں نے تیرا حکم لوگوں تک پہنچا دیا"56
روایت کے اندر اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ انہوں نے خود آکر اس مال کی نشاندہی کردی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش فرما دیا تھا کہ یہ مال مجھے ملا ہے اور یہ مال سرکار کا ہے۔ اس سے ان کی بدنیتی کی بجائے نیک نیتی ظاہر ہورہی ہے۔ کیونکہ اگر ان کی نیت میں کوئی خرابی ہوتی اور وہ یہ ہدایا چھپانا چاہتے ہوتے تو اس مال کا ذکر قطعاً نہ کرتے جو انہیں ذاتی حیثیت میں ملا تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ لوگوں کو صحابہ کرام  سے عقیدت تھی اور وہ اسی بنا پر انہیں ہدایا اور تحائف دینا باعث ِثواب سمجھتے تھے۔ یہ تحائف دینے والوں نے بھی اسی نیت سے دیئے تھے او رلینے والے کی نیت بھی صاف تھی۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت کے مسئلے سے قطع نظر آئندہ کے لئے کسی طرح کی بدعنوانی کے انسداد کے لئے ہر سوراخ کو بند فرما دیا۔57
ابوداود شریف میں مالیات کی وصولی پر مامور عہدہ داروں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے کہ «من استعملناه علی عمل فرزقناه رزقا فما أخذ بعد ذلك فهو غلول»58 "ہم نے جسے کسی جگہ کا عامل مقرر کیا اور اس کے کام کا معاوضہ بھی مقرر کردیا اگر وہ اس معاوضے سے زائد جو حاصل کرتا ہے تو یہ ناجائز آمدنی ہے" مسند احمد میں بھی ایسی روایت موجود ہے کہ عاملین محاصل کو جو تحائف ملیں، وہ خیانت میں شامل ہیں۔59 مسند احمد میں ہی روایت ہے کہ
"ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  جنت البقیع کے قبرستان میں سے گزر رہے تھے کہ ایک قبر والے کے بارے میں فرمایا کہ "تم پر افسوس ہے" پھراس کی وضاحت فرمائی کہ اس قبر والے کو ایک مرتبہ عامل مقرر کیا گیا تھا، اس نے اس میں سے ایک چادر خیانت کے طور پر لے لی۔ اب وہ چادر اس کے اوپر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔" یہ روایت بخاری شریف میں بھی موجود ہے۔60
مستورد بن شداد سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے :
«من کان لنا عاملاً فليکتسب زوجة فإن لم يکن خادم فليکتسب خادما فإن لم يکن له مسکن فليکتسب مسکنا ، قال: قال أبوبکر أخبرت أن النبي قال من اتخذ غير ذلك فهو غال أوسارق»61
"جنہیں ہم عامل مقرر کریں، اسے چاہئے کہ ایک بیوی رکھ لے۔ اگر اس کے پاس کوئی خدمتگار نہ ہو تو ایک خدمتگار رکھ لے۔ اگر اس کے پاس رہائش گاہ نہ ہو تو ایک رہائش گاہ رکھ لے۔ مستورد کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق  نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم اسے سنا ہے کہ اگر کسی عامل نے اس سے زائد حاصل کیا تو وہ خائن ہے یا چور ہے"62
مسند احمد کی ایک روایت میں سواری کا بھی ذکر ہے کہ اگر سواری نہ ہو توسواری بھی لے لے۔63 اسی طرح عدی بن عمیرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
«من استعملناه منکم علی عمل فکتمنا مِخيطا فما فوقه کان غلولاً يأتي يوم القيامة قال فقام إليه رجل أسود من الأنصار کأني أنظر إليه فقال يارسول الله أقبل عني عملك قال وما لك قال سمعتك تقول کذا وکذا قال وأنا أقوله الآن: من استعملناه منکم علیٰ عمل فيجيء بقليل وکثيره فما أوتي منه أَخَذَ وما نُهي عنه انتهى»64
"اگر ہم کسی کو کسی کام کے لئے متعین کریں پھر وہ اس میں سے ایک سوائی یا اس سے زیادہ چھپا رکھے تو وہ غلول (خیانت) ہے۔ اسے وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔ یہ سن کر سانولے رنگ کا ایک انصاری شخص کھڑا ہوا کہ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ ا س نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے جو کام مجھے سونپا ہے، آپ مجھ سے واپس لے لیجئے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ (کہ یہ کام واپس کر رہے ہو) ا س نے کہا کہ میں نے سنا ہے آپ ایسے ایسے فرما رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تو اب بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ جسے ہم کسی کام کے لئے متعین کریں، اسے جو کچھ ملے، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب کچھ لے کر (بیت المال میں) آئے۔ پھر اسے اس کام کے معاوضے کے طور پر جو کچھ ملے، وہ لے لے اور جو نہ ملے اس سے باز رہے"
مسنداحمد میں حضرت عبداللہ بن صامت سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال پکڑتے پھر فرماتے کہ میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا۔65 ابن مردویہ کے حوالے سے ابن کثیر نے روایت نقل کی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا جائے لیکن تہہ تک نہیں پہنچتا۔ خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینکا جائے گا۔ پھر خیانت کرنے والے سے کہا جائے گا کہ جا اسے جا کر لے آ۔66
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز کھڑے ہوئے تاکہ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ نے غنیمت کے مال میں چوری کرنے کو بڑا گناہ فرمایا۔ آپ نے فرمایا:
"میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ آئے اور اس کی گردن پرایک اونٹ بلبلا رہا ہو اورکہتا ہو کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد فرمائیں اورمیں اسے کہوں کہ مجھے کچھ اختیار نہیں ہے ... (پھر فرمایا) کہ میں تم میں سے نہ پاؤں قیامت کے دن کہ وہ میرے پاس آئے، اپنی گردن پر ایک گھوڑا لادے ہوئے ہو جو ہنہنا رہا ہو اور کہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے! میں کہوں کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں توتجھے بتاچکا تھا کہ چوری کی بہت بڑی سزا ہے۔ پھر تو نے کاہے کو چوری کی۔ (پھر آپ نے فرمایا کہ) میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے روز میرے پاس آئے اور اپنی گردن پر ایک بکری اٹھائے ہوئے ہو جو ممیارہی ہو اور کہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہوں کہ مجھے کوئی اختیار نہیں (کہ تجھے اس جرم کی سزا سے بچا سکوں)


 

حوالہ جات
1.  ا س سلسلے میں قرآن مجید میں سورة آل عمران کی آیت نمبر ۱۶۴ میں فرمایا: ﴿لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَ‌سولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايـٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ...١٦٤ ﴾... سورة آل عمران "بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں پریہ احسان فرمایا ہے کہ ان میں ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے ہیں جو ان کے سامنے آیات کی تلاوت فرماتے ہیں، ان کے نفوس کا تزکیہ فرماتے ہیں، انہیں کتاب کی تعلیم دیتے اور انہیں حکمت سکھاتے ہیں۔
2.  ترمذی، امام، جامع ترمذی، ابواب صفة القیامة ، جلد چہارم، صفحہ ۳۵، حدیث نمبر ۲۵۳۱۔ اس حدیث کے بارے میں صاحب ترمذی نے لکھا ہے کہ یہ غریب ہے۔ لیکن صاحب مشکوٰة اسے صحیح حدیث قرار دیتے ہیں کیونکہ دیگر ذرائع سے اس کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ مشکوٰة، جلد دوم، صفحہ ۶۵۶، حدیث نمبر ۵۱۹۷۔
3.  اگر لوگوں کے قلوب و اذہان اور انداز فکر کی اصلاح کئے بغیر کوئی قانون نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات بالکل الٹے مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکہ میں امتناع شراب کا حکم نافذ کیا گیا۔ لیکن لوگوں کی ذہنی تربیت نہیں کی گئی تھی ا س لئے لوگوں نے تجسس کے تحت اس قانون کے نفاذ کے بعد زیادہ مقدار میں شراب پینا شروع کردی۔ یہ قانون ۱۹۱۸ء میں امریکی کانگریس نے منظور کیا اور دسمبر ۱۹۳۳ء میں اسے منسوخ کردیا گیا۔ (بحوالہ مولانا مودودی، اسلامی ریاست، صفحہ ۱۳۱)
اس سلسلے میں قرآن مجید کی وہ آیات جن میں مالی امور زیر بحث آئے ہیں ان سب کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے خوف، آخرت کی مسئولیت او رحرام خوری کی صورت میں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ مثلا ً یتامیٰ کے مال میں احتیاط کا حکم دیا تو آخر میں فرمایا کہ جو لوگ ان کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔ مالی امداد کے ذکر کے بعد فرمایا کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں جو انہیں پھلانگتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے( النساء:۱۳) سورة البقرة کی آیت نمبر ۲۸۲ میں ادھار لین دین کا ذکر ہوا تو آیت کے آخر میں فرما دیا کہ اللہ تمہارے دل کی کھوٹ کو جانتا ہے۔ ا س سلسلے میں قرآن مجید کی آیات (النساء:۴۔۱۳) (البقرة:۱۸۸،۱۶۸) (الموٴمنون:۵۱) میں حلال و حرام ا ذکر کیا گیا ہے۔ تو آخر میں آخرت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ حرام کھانا دنیا اور آخرت میں شدید سزا کا سبب بنے گا۔ صدقہ و خیرات اور عبادات صرف حلال کی کمائی سے ہی مقبول ہوتے ہیں۔
4.  بخاری، محمد بن اسماعیل، امام، الجامع الصحیح... ترمذی، الجامع الصحيح، باب ماجاء فی رفع الامانة، دارالتراث، بیروت، حدیث نمبر ۲۱۷۹، جلد چہارم، صفحہ ۴۷۴... ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب ذھاب الامانة، دارالحدیث قاہرہ، الجزء الثانی، صفحہ ۱۳۴۶، حدیث نمبر ۴۰۵۳
5. علی المتقی، کنزالعمال، موٴسسة الرساله، ۱۹۷۹ء جلد سوم، صفحہ ۶۱، حدیث نمبر ۵۵۰۰
6.  ایضا ً، جلد سوم، صفحہ ۶۲، حدیث نمبر ۵۵۰۳

7. ایضا ً، جلد سوم، صفحہ ۶۰، حدیث نمبر ۵۴۹۰، ۵۴۹۱، ۵۵۰۵، ۵۵۰۶
8.  ایضا ً، جلد سوم، صفحہ ۶۲، حدیث نمبر ۵۴۰۴
9.  بخاری، کتاب الایمان، باب علامات التفاق، جلد اول، صفحہ ۱۴، صفحہ۳۲۱،۳۲۴،۳۲۵ -a۹بیہقی، شعب الایمان
10.  البیهقی، شعب الایمان، باب فی الامانات وما يجب من ادائها الی اهلها، جلد رابع، صفحہ ۳۲۳، حدیث ۵۲۶۶
11.  ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب ذهاب الامانة، الجزء الثانی، صفحہ ۱۳۴۷، حدیث نمبر ۴۰۵۴
12.  ابوداؤد، کتاب فی الاستعاذة، جلد دوم، صفحہ ۹۰، حدیث نمبر ۱۵۴۷
13.  بخاری، کتاب فضائل الصحاب النبي ، جلد چہارم، صفحہ ۱۸۹، حدیث نمبر ۳۴۵۰ ۱۷۔...؟
14.  الترغيب والترهيب، باب الترغيب فی انجاز الوعد والامانة... الجزء الرابع، ترمذی، صفحہ ۴۱۱۔
15.  ابن تيمية، السياسة الشرعية

16. ایضا ً: صفحہ ۵،۶
17.  حامد الانصاری، مولانا، اسلام کا نظام حکومت، لاہور، صفحہ ۱۴۵
18.  بخاری، کتاب الدعوات، جلد چہارم، صفحہ ۱۵۲، مزید باب المراة فی بیت زوجھا۔
19.  مسلم، الجامع الصحیح، باب فضیلة الامام العادل، ابوداؤد، سنن ابی داؤد، کتاب الخراج والامارة، باب مايلزم الامام من حق الرعية، حدیث نمبر ۲۹۲۸، جلد سوم، صفحہ ۱۳۰۔
20.  ابن تیمیہ

21.  بخاری، کتاب الاحکام، باب نمبر۱، مسلم، کتاب الخراج والامارة، باب ۵
22.  اس سلسلے میں تفصیلات کے لئے دیکھیں :ابن تيميه ، السياسة الشرعية،
الماوردی، الاحکام السلطانية، صفحہ ۱۹۳
23.  ابوداؤد، کتاب الخراج والامارة، باب ماجاء فی طلب الامارة، حدیث نمبر ۲۹۳۰، جلد سوم، صفحہ ۱۳۰۔
24.  منذری، الترغيب والترهيب، کتاب فی العمل علی الصدقة بالتقویٰ ، جلد دوم، صفحہ ۷۹
25.  ابوداؤد، کتاب الخراج والامارة والفئ، باب فی ا لسعاية علی الصدقة ، جلد سوم، صفحہ ۱۳۲، حدیث ۲۹۳۶
26.  الترغيب، کتاب فی العمل علی الصدقة بالتقویٰ، صفحہ ۷۹
27.  ایضا ً، صفحہ ۸۰

28. ایضا ً، صفحہ ۸۰

29. مسلم، کتاب الزکوٰة، باب اجرالخازن الامین
30.  ترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی هدايا الامراء، جلد سوم، صفحہ ۶۲۱
31.  ابوداؤد، کتاب الامارة، باب فی غلول الصدقه، جلد سوم، صفحہ ۱۳۵، حدیث نمبر ۲۹۴۷
32.  ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد اول، صفحہ ۴۲۲، زیرآیت آلعمران:۱۶۱، (ماکان لنبی ان یغل...)
33.  الترغيب والترهيب، باب الترغيب فی العمل علی الصدقة، جلد دوم، صفحہ ۸۲۔ ایضا ً، الترغیب فی انجازالوعد، جلد چہارم، صفحہ ۴۱۵، بحوالہ بخاری،
34.  حمید اللہ، ڈاکٹر، خطبات بہاولپور، صفحہ ۳۳۶
35.  ایضا ً، صفحہ ۱۸۳
36.  ایضا ً، صفحہ ۱۸۳
37.  یہ اصول و ضوابط حدیث کی ہر کتاب میں کتاب الزکوٰة کے تحت بیان ہوئے ہیں مثلا ً مسلم، کتاب الزکوٰة، باب ارضاء الساعی مالم يطلب حراما، اور باب ارضاء السعادة۔
مزید دیکھیں: نور محمد غفاری، ڈاکٹر ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی، صفحہ ۲۳۵ تا ۲۴۱
38.  اس سلسلے میں علامہ ذہبی لکھتے ہیں : وإن سياسة الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کانت تقضي بتوزيغ المال لبنورة إن جاء غدوة لم ينقف النهار أوعشية لم يبت حتیٰ يقسمه ذهبی، دول الاسلام في تاريخ، جلد اول، صفحہ ۸
39. اس سلسلے میں بہت سی مثالیں ڈاکٹر نور محمد غفاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی ، صفحہ ۲۷۷،۲۷۸
40. ابوداؤد، باب قبول هدايا المشرکين، جلد سوم، صفحہ ۱۷۱، روایت نمبر ۳۰۵۵
41.  ڈاکٹر نور محمد غفاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی، صفحہ ۲۳۶
42.  نسائی، سنن نسائی، کتاب الزکوٰة، باب استعمال آل النبي صلی اللہ علیہ وسلم علی الصدقة، حدیث نمبر ۲۶۱۴۔
ربیعہ بن حارث سے روایت ہے انہوں نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہمیں صدقات جمع کرنے پر عامل مقرر کردیں۔اتنے میں حضرت علی آگئے اور ہم اس حال میں بیٹھے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو عامل مقر رنہیں فرمائیں گے۔ پھر عبدالمطلب بن ربیعہ کہتے ہیں کہ پھر میں اور فضل دونوں مل کر چلے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا: "صدقہ لوگوں کی میل کچیل ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کے لئے جائز نہیں ہے"
43.  ابوداؤد، کتاب الجهاد، باب في تعظيم الغلول، جلد سوم، صفحہ ۶۸، حدیث نمبر ۲۷۱۲
44.  صفی الرحمن، مبارکپوری، مولانا، الرحیق المختوم، صفحہ ۳۱۰
45.  ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب في الامام ليتاثربشيء من الفيء لنفسه، جلد سوم، صفحہ ۸۲، حدیث نمبر ۲۷۵۵، (المکتبة العصریہ ، مصر)
46.  بخاری،کتاب المغازی، باب غزوة خیبر، ۵/ ۸۲۔ اس سلسلے میں بہت سی کتب میں احادیث کی روشنی میں تفصیلات بیان کی گئی ہیں، مثلاً نورمحمدغفاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی، صفحہ ۲۷۸، ۲۸۲، خالد علوی ڈاکٹر، انسان کامل، صفحہ ۴۶۵ ،۴۷۲
47.  ابن ہشام، السيرة النبويه، جلد دوم، صفحہ ۱۴۰
48.  ترمذی، کتاب الزہد، باب معيشة انبياء، ۴/ ۵۸۰...بخاری، کتاب الرقاق، باب کيف کان عيش النبی، جلد ہشتم، صفحہ ۳۱۱...بخاری، کتاب البيوع، باب شراء الحوائج بنفسه، مزید باب مرض النبيا
49.  مسلم، کتاب الزکوٰة، باب تحريم الزکوٰة علی رسول صلی اللہ علیہ وسلم
50.  الهیثمی،مجمع الزوائد، منبع الفوائد، جلد سوم، صفحہ ۹۰، باب الصدقة
51.  مسلم، کتاب الرسول الله صلی اللہ علیہ وسلم

52. ایضا ً، جلد سوم، صفحہ ۸۹
53.  حمید اللہ، ڈاکٹر، خطبات بہاولپور، صفحہ ۳۳۶
54.  بخاری، کتاب فرض الخمس، باب قول الله تعالیٰ فان لله خمسه 55. ......؟
56.  مسلم، کتاب الامارة، باب تحريم هدايا العمال (اس باب میں سات ہم مضمون احادیث موجود ہیں) جلد سوم، صفحہ ۱۴۶۳ تا۱۴۶۴، حدیث ۱۸۳۲...ابوداؤد، سنن، کتاب الخراج الامارة، باب فی ارزاق العمال، حدیث ۱۱۷۳
57.  نورمحمدغفاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی، صفحہ...؟
58.  ابوداؤد، کتاب الخراج الامارة، باب فی ارزاق العمال، جلد سوم، صفحہ ۱۳۴، حدیث نمبر ۲۹۴۳۔ مسلم ، کتاب الامارة، باب تحريم الهدايا
59.  ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد اول، صفحہ ۴۲۲، زیر آیت ﴿ماکان لنبی ان يغل﴾ (آلعمران:۱۶۱)
60.  ایضا ً، جلد اول، صفحہ ۴۲۲
61.  ابوداؤد، کتاب الخراج والامارة، باب فی ارزاق العمال، جلد سوم، صفحہ ۱۳۴، حدیث نمبر ۲۹۴۵
62.  ایضا ً، صفحہ ۱۱۷۲

63. ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۴۲۱
64.  مسلم، کتاب الامارة، باب تحريم الهدايا العمال، جلد سوم، صفحہ ۱۴۶۵، حدیث نمبر ۱۸۳۳
ابوداود، کتاب الاقضيه، باب فی هدايا العمال، جلد دوم، صفحہ ۳۰۰، ۳۰۱، حدیث نمبر ۳۵۸۱
65.  ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۴۲۲
66.  ایضا ً، صفحہ ۴۲۳