﴿وَالعـٰدِيـٰتِ ضَبحًا ١ فَالمورِ‌يـٰتِ قَدحًا ٢ فَالمُغيرٰ‌تِ صُبحًا ٣ فَأَثَر‌نَ بِهِ نَقعًا ٤ فَوَسَطنَ بِهِ جَمعًا ٥ إِنَّ الإِنسـٰنَ لِرَ‌بِّهِ لَكَنودٌ ٦ وَإِنَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ لَشَهيدٌ ٧ وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخَيرِ‌ لَشَديدٌ ٨﴾... سورة العاديات "قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے اور آگ نکالنے والوں کی ٹاپ مارتے ہوئے اور حملہ کرنے والے صبح کے وقت، پھر اُڑایا صبح کے وقت غبار اور پھر اس غبار کے ساتھ لشکر کے بیچ میں گھس گئے۔ بے شک انسان اپنے رب کا سخت ناشکرا ہے اور وہ مال کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔ کیا وہ جانتا نہیں جب قبروں سے سب کچھ نکال باہر کیاجائے گا۔اور جو کچھ سینوں میں(راز) ہیں، انہیں ظاہر کردیا جائے گا..."
اس بارے میں اختلاف ہے کہ 'عادیات' سے مراد گھوڑے ہیں یا اونٹ۔ حضرت علی، ابن مسعود اور محمد بن کعب وغیرہ کا خیال ہے کہ اس سے مراد حاجیوں کے اُونٹ ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منیٰ دوڑتے پھرتے ہیں۔ ابن عباس، حسن اور فراء کے نزدیک اس سے مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں۔دوسرا قول درج ذیل چند وجوہ کی بنا پر صحیح ہے :
(۱) ضَبْح: لغت میں گھوڑے کے ہانپنے کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اس وقت بولا جاتاہے جب تیز رفتاری اور دوڑ کی وجہ سے گھوڑے کا سانس پھول جاتاہے او رایک قسم کی آوازاس کے سینے سے نکلتی ہوئی سنی جاتی ہے۔یہ آواز صہیل، حمحمہ (ہنہنانے) کے علاوہ ہے۔
(۲) ﴿فَالمورِ‌يـٰتِ قَدحًا ٢ ﴾... سورة العاديات: ٹاپو سے آگ نکالنا بھی گھوڑے کے ساتھ خاص ہے۔ اونٹ کے قدم اپنی نرمی اور ڈھیلے پن کی بنا پردوڑتے ہوئے آگ نکال ہی نہیں سکتے۔
(۳) تیز روی میں گھوڑوں سے غبار زیادہ اُڑتا ہے۔
اَثَرْنَ بِه: بہ کی ضمیر (Pronoun)سے مراد وہ مکان ہے جس میں گھوڑے دوڑتے ہیں۔ یہ غبار زیادہ تر اس وقت اُڑتا ہے جبکہ گھوڑے دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے درمیان میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس وقت حرکت و جولانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ گھوڑوں سے مراد لڑنے والے گھوڑے ہیں جن کو عرب اپنی لڑائیوں میں استعمال کرتے تھے۔ خاص مجاہدین کے گھوڑے بطورِ مثال کے یہاں بیان کئے جاسکتے ہیں۔ بلکہ مجاہدین کی سواریاں اپنے شرف و فضل کی بنا پر 'العادیات' کے مصداق بننے کی زیادہ مستحق ہیں۔ سلسلہ قسم میں گھوڑے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ اس جانور کی پیدائش بھی اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں میں سے ہے۔ اس کے ذریعہ سے عزت و نصرت اور فتح و کامرانی حاصل ہوتی ہے۔ اس کی تیز رفتاری سے انسان اپنے مطلوب کو حاصل کرلیتاہے۔ دشمنوں پر قابوپالیتا اور جنگوں میں اس سے خوب کام لیتا ہے۔
قرآن میں دوسری جگہ اونٹوں کا ذکربطورِ نعمت کیا گیا ہے کہ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک تمہارے سامان کو لئے پھرتے ہیں۔ اُونٹ زیادہ تر بوجھ اٹھانے کے لئے ہیں اور گھوڑے فتح و نصرت دلانے کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان دونوں نعمتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔
﴿فَالمُغيرٰ‌تِ صُبحًا ٣ ﴾.... سورة العاديات" حملہ کرنے کے لئے صبح کے وقت کو خاص طور پر اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت دشمن اپنی جگہ سے منتشر نہیں ہوسکتا کیونکہ دشمن پر ایسے وقت میں غفلت و سستی چھائی ہوتی ہے جبکہ حملہ آور آرام و راحت کے بعد حملہ کے لئے پوری طرح چاق و چوبند ہوجاتا ہے ۔
اسی لئے حدیث میں بھی ہے کہ رسول اللہﷺ جب کسی بستی پرحملہ کاارادہ رکھتے تو صبح تک انتظار کرتے۔ اگر موذن کی آواز سنائی دیتی تو حملہ سے رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے۔
جو حضرات 'العادیات' سے اونٹ مراد لیتے ہیں، انہوں نے اپنے معنی کو درست قرار دینے کے لئے کئی تاویلیں کی ہیں جن کو بغرضِ ر اختصار حذف کر دیا گیا ہے۔العادیات کی تفسیر میں چند اقوال اور بھی ملتے ہیں جو اپنے مفہوم و مطلب کے لحاظ سے ضعف سے خالی نہیں۔ اسی طرح 'موریات' کی تفسیر میں بھی متعدد اَقوال ملتے ہیں :
(۱) قتادہ کا قول ہے کہ موریات سے مراد یہ ہے کہ گھوڑے لڑنے والوں کے درمیان عداوت کی آگ بھڑکا دیتے ہیں ۔
(۲) عکرمہ  کی تفسیر ہے کہ موریات سے مراد وہ زبانیں ہیں ، جو اپنی تیز گفتاری سے دشمن کے انتقامی شعلوں کو تیز کردیتی ہیں۔
(۳) انسانوں کے افکار و آرا مراد ہیں جو مکروفریب کی آگ کو ہوا دیتی ہیں۔
یہ تشریحات آیت کے ظاہری الفاظ سے تو سمجھ میں نہیں آتیں۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ قیاس واشارہ سے یہ معانی نکالے جاتے ہیں تو کچھ صحت مانی جاسکتی ہے۔
مفسرین اور طریق تفسیر
اب تک سلف و خلف کی تمام تفسیریں تین اصولوں پرمبنی رہی ہیں۔
(۱) ظاہری الفاظ کو مدار قرار دینا۔ یہ متاخرین مفسرین کا طریقہ ہے۔
(۲) معانی کا لحاظ، اس طرز کو سلف نے اختیار کیا ہے۔
(۳) اشارہ وقیاس سے معانی و مطالب کا استنباط۔ یہ طریقہ صوفیا کے حلقہ میں رائج ہے۔ یہ صورت بھی جائز ہے بشرطیکہ چند باتوں کا لحاظ رکھا جائے :
(۱) آیت کے معنی سے تصادم او رٹکراؤ پیدا نہ ہو۔
(۲) وہ قیاسی یااشارہ سے سمجھا ہوا معنی فی نفسہ درست ہو
(۳) ظاہر لفظ میں اس معنی کے لئے کچھ گنجائش موجود ہو۔
(۴) ظاہر لفظ سے جو معنی سمجھے جاتے ہیں۔ اس میں اور قیاسی معنی میں کوئی تعلق او رمناسبت ہو۔ جب یہ چار شرطیں پائی جائیں، تب اس قسم کی تفسیر کوقبول کیا جاسکتا ہے۔
عَادِيَات / مُوْرِيَات اور اَثَرْن / وَسَطْن میں فرق
اللہ تعالیٰ نے انسانی افعال کو دوقسموں میں تقسیم کیا ہے : (۱) وسائل و ذرائع (۲) اغراض و مقاصد۔ گھوڑوں کا دوڑنا، دوڑتے ہوئے آگ نکالنا اور دشمن پر حملہ کرنا یہ سب افعال اصل غرض کے لئے ذریعہ ہیں اور دشمن کی صفوں میں غبار اڑاتے ہوئے گھس جانا اصل مقصد ہے۔ اسی بنا پر ذرائع کے لئے 'اسم فاعل' او راظہارِ مقصد و غرض کے واسطے 'فعل' کو بیان کیا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی طریقہ بیان یہاں مناسب تھا۔
مقسم علیہ کا بیان
جس چیز پر یہاں قسم اٹھائی گئی ہے وہ انسان کا كنود( ناشکرا) ہونا ،بخیل ہونا اورمال سے از حد محبت کرنا وغیرہ ہے۔ کَنَدَ يَکْنُدُ سے 'کنود' اس بنجر زمین کوکہتے ہیں جہاں کچھ بھی پیداوار نہ ہوسکے ۔اسی طرح 'کندیٰ' اس عورت کی صفت بھی آتی ہے جو اپنے شوہر کی نافرمان اور ناقدردان ہو۔ اصل لفظ کنود میں حق اور خیر سے روکنے کے معنی پوشیدہ ہیں۔ تمام مفسرین کے اَقوال اسی معنی کو شامل ہیں :
(۱) ابن عباس کا قول ہے کنود أي کفور ناشکرا
(۲) وہ بخیل جو عطیہ سے روکتا ہے،اپنے غلام کو بھوکا رکھتا ہے اور کسی کو مصیبت میں دیکھ کر بھی اس کا دل نہیں پسیجتا۔
(۳) حسن بصری کا قول ہے کہ'کنود' وہ ہے جو اپنے ربّ کو ملامت کرتا ہے۔ مصیبتوں کو گنتا ہے اور نعمتوں کوبھول جاتا ہے۔
﴿وَإِنَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ لَشَهيدٌ ٧ ﴾... سورة العاديات
اور بے شک وہ اس پر گواہ ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں چند اَقوال ہیں :
(۱) اِنَّه کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں ۔
(۲) انسان اپنی حالت پر خودگواہ ہے خواہ وہ زبان سے انکار ہی کرتا ہے۔ سیاق کے لحاظ سے یہ دوسرا مطلب زیادہ مناسب ہے۔ ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخَيرِ‌...٨ ﴾... سورة العاديات" میں اِنَّه سے مراد بھی انسان ہی ہے۔ اب کلام کی ترتیب یہ ہوئی کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انسان ناشکرا ہے پھر بتلایا کہ وہ خود اس پر گواہ ہے۔ پھر آخر میں فرمایاکہ انسان مال کی محبت کی وجہ سے کنجوس واقع ہوا ہے۔
پہلے قول کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی گواہی مراد ہوتی ہے وہاں بعد میں 'علیٰ' آتا ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿ثُمَّ اللَّـهُ شَهيدٌ عَلىٰ ما يَفعَلونَ ٤٦ ﴾... سورة يونس "پھر اللہ تعالیٰ خبردار ہے، اس سے جو وہ کرتے ہیں"۔یعنی وہ پوری طرح واقف اور مطلع ہے۔ اگر انسانی شہادت مراد ہوتی تو بجائے 'عليٰ' کے 'ب' آناچاہئے تھی جیسا کہ فرمایا:﴿ما كانَ لِلمُشرِ‌كينَ أَن يَعمُر‌وا مَسـٰجِدَ اللَّـهِ شـٰهِدينَ عَلىٰ أَنفُسِهِم بِالكُفرِ‌...١٧ ﴾... سورة التوبة"مشرکین کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آبادکریں بحالے کہ وہ اپنے نفسوں پر کفر کے ساتھ گواہی دے رہے ہیں"۔ اسی طرح اگر یہاں بھی شہادتِ انسانی مراد ہوتی تو یوں کہا جاتا ﴿وَإِنَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ لَشَهيدٌ﴾ کیونکہ 'کنود 'یہاں پر مشہود بہ (جس کے ذریعے گواہی دی جائے) ہے۔ اور نفس انسان مشھود علیھا (جس کے بارے میں یا جس پر گواہی دی جائے)
﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخَيرِ‌ لَشَديدٌ﴾ "وہ خیر و محبت میں سخت ہے"۔ باتفاقِ مفسرین یہاں 'خیر' سے مراد مال ہے۔ 'شدید' سے مراد بخیل ہے جس کو مال کی محبت نے بخل پر آمادہ کردیاہے۔ ابن قتیبہ کے نزدیک لِحُبِّ الْخَیْرِ، شدید کے متعلق ہے۔ یہاں انسان کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں:
(i) ربّ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔
(ii)جو کچھ اللہ نے دیا ہے، اس میں سے خرچ نہیں کرتا۔ نہ تو مخلوق کا ہمدرد ہے اور نہ محسن حقیقی کا شکرگزار۔ ایک فاجر انسان ایساہی ہوتا ہے۔ بخلاف اس کے ایک موٴمن صالح کی حالت دوسری ہوتی ہے وہ خدا کے لئے مخلص اور اس کے بندوں کے واسطے محسن و ہمدرد ہوتا ہے۔
بخل اور کفر ... اخلاص اور احسان
جیساکہ یہاں پر بخل اور کفر کو یکجا فرمایا ہے، اسی طرح قرآن کی متعدد آیات میں ان دونوں کا تذکرہ ہے : (۱) ﴿فَوَيلٌ لِلمُصَلّينَ ٤ الَّذينَ هُم عَن صَلاتِهِم ساهونَ ٥ الَّذينَ هُم يُر‌اءونَ ٦ وَيَمنَعونَ الماعونَ ٧ ﴾... سورة الماعون "پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریا کاری کرتے ہیں او رمعمولی برتنے کی چیزوں سے روکتے (بخل کرتے)ہیں"۔
(۲) ﴿وَالَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُم رِ‌ئاءَ النّاسِ وَلا يُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَلا بِاليَومِ الـٔاخِرِ‌...٣٨ ﴾... سورة النساء "جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو لوگوں کے دکھاوے کیلئے اور اللہ اور دن آخرت پرایمان نہیں رکھتے"۔
(۳) ﴿وَماذا عَلَيهِم لَو ءامَنوا بِاللَّـهِ وَاليَومِ الـٔاخِرِ‌ وَأَنفَقوا مِمّا رَ‌زَقَهُمُ اللَّـهُ...٣٩ ﴾... سورة النساء "ان کا کیا نقصان تھا، اگر وہ قیامت او راللہ تعالیٰ پرایمان لے آتے"۔
اسی کے ہم معنی آیات سورة اللیل کے شروع میں بھی ہیں۔
(۴) ﴿وَيلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ ١ الَّذى جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ ٢ ﴾... سورة الهمزة "خرابی ہے چغل خور عیب چین کے لئے جس نے مال جمع کیا اور گن گن کررکھا۔"
(۵) ﴿إِنَّ اللَّـهَ لا يُحِبُّ مَن كانَ مُختالًا فَخورً‌ا ٣٦ الَّذينَ يَبخَلونَ وَيَأمُر‌ونَ النّاسَ بِالبُخلِ وَيَكتُمونَ ما ءاتىٰهُمُ اللَّـهُ مِن فَضلِهِ...٣٧ ﴾... سورة النساء
"اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا مٹکنے والے اربابِ فخر و غرور کو جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کوبھی اس کا حکم دیتے ہیں۔ اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دیا ہے اس کوچھپاتے ہیں"۔
اخلاص واحسان : فخر و غرور اور مال کوجمع کرکے رکھنا سب بخل کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام صفات نماز اور زکوٰة کے مقصد کی عین ضد ہیں۔ کفر وبخل کے بالمقابل اخلاص و احسان کو ان آیات میں یکجا بیان فرمایا ہے:﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ وَيُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ٣ ﴾... سورة البقرة
"جو لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جوکچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں"۔
﴿وَاعبُدُوا اللَّـهَ وَلا تُشرِ‌كوا بِهِ شَيـًٔا ۖ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسـٰنًا...٣٦ ﴾... سورة النساء "اور اللہ کی عبادت کرواور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو"۔
مرعاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کی علم وفضل سے بھرپورشرحِ مشکوة بنام مرعاة المفاتیح کی ۱۰/جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ چند برس قبل آپ کی وفات سے یہ شرح نامکمل رہ گئی تھی۔ گوجرانوالہ میں مولانا خالد گرجاکھی نے اس شرح کو مزید ۱۰ جلدیں لکھ کر مکمل کیا ہے اور اب اس کی مکمل ۲۰ جلدیں ہوگئی ہیں۔جن میں سے پہلی ۱۰ مولانا مبارکپوری کی تصنیف کردہ ہیں۔ آخری دس جلدیں ان دنوں کمپیوٹر کتابت ہوکر ادارہ احیاء السنہ ، گرجاکھ گوجرانوالہ سے عنقریب شائع ہوجائیں گی۔ ان دنوں طباعت کے آخری مراحل میں ہیں۔

٭٭٭٭٭