Mohaddis-248

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

جب ہم مسلمانوں کے خلاف دشمن کی فکری اور عسکری جنگ کے خطرات کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ فکری جنگ کی تباہی اور ہولناکی اوراس کے اثرات زیادہ سخت واقع ہوئے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کے خلاف فکری اور ثقافتی یلغار کی تباہی جنگوں اور گولہ بارود کی تباہی سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ یہی وہ سب سے بڑا چیلنج ہے جواس وقت عالم اسلام کو درپیش ہے۔ اب عیسائی قوتوں کی ساری جدوجہد کار خ اس طرف ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرکے انہیں ان کے دین سے متنفر کردیا جائے ۔ انہیں ذہنی طور پر اس قدر مرعوب کردیا جائے کہ وہ عیسائیت قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گویا آج عیسائیوں کا سب سے بڑا ہدف مسلمانوں کوعیسائی بناناہے!... اس مقالہ میں ہم اسی کے متعلق بحث کریں گے :
عیسائیت کا ہدف اِسلام کیوں ؟
عیسائی مشنری دین اسلام کو سب اَدیان سے پہلے اپنا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ ان کی تاریخ انہیں بتاتی ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے انہیں ہمیشہ شکست و ریخت سے دوچار کیا اورانہیں اپنا مغلوب بنایا۔ تاریخ شاہد ہے کہ صلیبی عیسائیوں نے اسلام کا سامنا کرنے اور مسلمانوں سے ٹکر لینے سے ہمیشہ گریز کیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مسلمان جب ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام تھام کر گھوڑے کی پشت پرسوار ہو جاتا ہے توپھر وہ اس عزم سے نکلتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی ۔لیکنآج امت ِ مسلمہ نے غفلت کی چادریں تان لیں ۔امت ِمسلمہ آج بیمار ہے ، البتہ مری نہیں۔ اونگھ رہی ہے، البتہ ابھی سوئی نہیں۔ مسلمانوں کو شکست تو دی جاسکتی ہے ، لیکن اسے صفحہٴ ہستی سے مٹایا نہیں جاسکتا۔
جب بھی کفر اور اسلام کی جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے اپنے مقصد کوسامنے رکھا، اللہ کی نصرت پر بھروسہ کیا تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ہزیمت سے دوچار نہ کرسکی۔ جب بھی مسلمانوں اپنے دین کی طرف لوٹے تو وہ ایک ناقابل شکست قوت بن کر اُبھرے اور صلیبی اس حقیقت کو خوب سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ فرانس کے مشہور بادشاہ لوئیس نہم Louis جو دو صلیبی معرکوں میں عیسائیوں کی قیادت کرچکا تھا، کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا۔ جب مسلمانوں نے اسے بدترین شکست دی اور 'منصورہ' کے معرکہ میں اسے گرفتار کرلیا پھر جب یہ رسوا ہو کر قید سے نکلا تو اس نے ایک مشہور وصیت لکھی جو 'پوپ لوئیس' کی وصیت کے نام سے مشہور ہوئی۔ وہ عیسائیوں کو تاکید کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"یاد رکھو! مسلمانوں کو عسکری میدان میں کبھی شکست نہیں دی جاسکتی، اس لئے تمہیں اس طریقہ جنگ سے دستبردار ہونا ہوگا۔ ا س کے مقابلے میں ثقافتی اور فکری یلغار سے مسلمانوں کو مغلوب کرنے کی کوشش کرو۔ "
یہ وصیت گویا ایک اعلان تھا کہ اب مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک نئی جنگ کا آغاز ہوگا ۔ پھر ایسے ہی ہوا اور عسکری جنگ کو فکری اور ثقافتی جنگ سے بدل دیا گیا۔
تحریکِ تنصیرکے اَہداف
عیسائی منصوبہ ساز وں نے اِسلامی ممالک میں کئی پراجیکٹوں پرکام شروع کررکھا ہے، کیونکہ وہ تنہا اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ انہیں بدھ مت، ہندومت اوریہودیت سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ یہ تمام مذاہب قومیت پرستی سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔ اپنی قوم اور اپنے ماننے والوں کے حصار سے باہر نکلنا ان مذاہب کی فطرت میں شامل نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ تمام مذاہب ترقی کے لحاظ سے نصرانیت سے بہت پیچھے ہیں۔ لیکن اسلام کو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک عالمگیر متحرک دین ہے ۔ بغیر کسی معاون کے دھیرے دھیرے آگے بڑھنا اس کی فطرت ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جوانہیں چین نہیں لینے دیتا !!
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تنصیری تحریک (عیسائی بنانے کی تحریک)کیپیش نظر متنوع اَہداف ہیں جنہیں وہ مسلمانوں کے خلاف بروئے کار لانا چاہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض روایتی اور بعض غیر روایتیہیں۔ پھر ان میں سے بعض ظاہر اور عیاں ہیں اور بعض خفیہ اور پوشیدہ۔ لیکن یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ تمام قسم کے اَہداف اور مقاصد مسلمانوں اور اسلام کے لئے انتہائی خطرناک ہیں ۔ افسوس !کہ مسلمان ابھی تک اسلام کے خلاف ان گھناؤنے منصوبوں سے بالکل بے خبر ہیں۔تنصیری تحریک کے پیش نظر کون سے مقاصد ہیں؟ بنیادی طورپر انہیں تین حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے :
(۱) مسلمانوں کو دین اِسلام سے برگشتہ کرنا: انہیں اسلام اورپیغمبر کی ذات کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا کرنا، اسلامی اَحکامات کے متعلق جعل سازی سے کام لے کر اِسلامی عقائد کی جڑیں کھوکھلی کرنا عیسائیوں کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ چنانچہ عیسائیوں کا ایک بہت بڑا پادری زویمر اپنے مشنریوں کو وصیت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
"عیسائیت کی تبلیغ کا مشن لوگوں کو نصرانیت میں داخل کرنا نہیں بلکہ تمہارا کام یہ ہونا چاہئے کہ تم مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کردو حتیٰ کہ وہ ایسی مخلوق بن جائیں جن کا اللہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔"
عیسائیوں کی اس ذہنیت کا جو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے، اس سے بہتر کھینچنا ممکن نہیں :
﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ......١٠٩ ﴾..... سورة البقرة "اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں، اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر (تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے)"
(۲) اسلام کو پھیلنے سے رو کنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرنا :عیسائی مشنری کا قلم اور زبان اِسلام کے خلاف زہرآگیں ہے، کیونکہ مسلمانوں کوعیسائی بنانے سے زیادہ انہیں یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں ان کی اپنی قوم اِسلام کی حقانیت سے آشنا ہو کر دائرئہ اسلام میں داخل نہ ہوجائے۔ اسلام فوبیا(اسلام سے خوف) ہر وقت ان کے ذہنوں پر سوار رہتا ہے اور وہ ہمیشہ یہ شور مچاتے ہیں کہ دین اسلام ان کے لئے خطرہ ہے۔ اور وہ اسلام کو اس قدر بدنما بنا کر پیش کررہے ہیں کہ مغربی معاشرہ، لادینیت، اِلحاد اورکلیسا سے شدید نفرت کے باوجود عیسائی ہونا اپنے لئیباعث ِفخر سمجھتا ہے۔
اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنے کے علاوہ وہ ایمان وہدایت کی بنیادوں کو بھی مضمحل کر رہے ہیں اور مغرب جس چیز پر سب سے زیادہ اسلام کو مطعون ٹھہراتا ہے، وہ یہ الزام ہے کہ اسلام تلوار کے زورسے پھیلا ہے، اسلام نے بڑی خونریزی کی ہے، حالانکہ یہ سراسردروغ گوئی اور بد دیانتی ہے ۔اوراس خلافِ حقیقت پروپیگنڈے اور جعل سازی کا مقصدصرف اور صرف یہی ہے کہ خود تلوار سونت کر مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے کا قانونی جواز پیدا کیا جا سکے ۔ مغرب اسلام کی وسعت کے روکنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ لوگوں کو عیسائی بنانے کے پردہ میں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کا قانونی جواز پیدا کیا جائے ۔ درحقیقت مغرب یہ سمجھتا ہے کہخواہ کتنے ہی عیسائی مراکز قائم کرلئے جائیں لیکن تلوار استعمال کئے بغیر لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ لوگوں کے سامنے اسلام میں داخل ہونے کے مواقع عیسائیت کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔
ہم یہ متنبہ کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ عیسائی مشنریوں کی تکنیک اور ہدف ہر علاقہ میں مختلف ہوتا ہے۔ عرب ممالک میں یہ لوگ محض مسلمانوں کو ان کے عقائد سے متزلزل کر نے اور انہیں اسلام سے نکالنے پراکتفا کرتے ہیں، انہیں نصرانیت میں داخل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ لیکن دیگر ممالک میں یہ بالفعل مسلمانوں کو عیسائی بناتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عرب ممالک تنصیری تحریک کا شکار ہو کر حلقہ عیسائیت میں داخل نہیں ہوتے ۔بلکہ وہاں بھی بعض اوقات عیسائیوں کی تبلیغی سرگرمیاں ثمر آور ہوتی ہیں اوربعض لوگ بالفعل عیسائی بن جاتے ہیں۔ البتہ دیگر اسلامی ممالک میں لوگوں کی اکثریت عیسائیت کی طرف مائل ہورہی ہے۔
(۳) مغربی تسلط کے قیام کے لئے عالم اسلام کو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی لحاظ سے اپنا غلام بنانا، عالمی سیاسی وحدت کے نظریہ کو مسلط کرنے کے لئے فضا کو ساز گار بنانا ،اپنی معاشرتی اَقدار کو فروغ دینا، جدید اقتصادی سیٹ اَپ تشکیل دینا، ثقافتی اور تہذیبی رکاوٹوں، دینی اور ثقافتی بحثوں میں پڑے بغیرانسانی معاشروں کے درمیان پائے جانے والے امتیازات کا خاتمہ کرنا، بلکہ یوں سمجھئے کہ پورے عالم کو دینی لحاظ سے ایک وحدت بنانا اور اس کے علاوہ بے شمار خوشنما اَہداف جن سے اکثر لوگوں نے دھوکہ کھایا۔ یہ تمام اَہداف ظاہری لحاظ سے جتنے خوشنما ہیں، اندر سے اتنے ہی خوفناک اور نقصان آمیز ہیں۔ یہ درحقیقت مسلمانوں کی ناکہ بندی کرنے، انہیں مغرب کی غلامی میں جکڑنے، انہیں خود کار ہتھیاروں میں محصور کرکے اسلامی تشخص اور اسلامی تمدن کو مسخ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے اور اس سازش کو کامیاب بنانے کے لئے مغرب وہ پرانے طریقے چھوڑ کر جدید طریقوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کررہا ہے ۔کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عیسائیت کی سرگرمیاں بین الاقوامی تبدیلیوں کے سامنیہتھیار ڈال دیں گی اور ان کے قائدین ان تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہوجائیں گے۔ نہیں، بلکہ عیسائی مشنری اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ان تبدیلیوں کو ایک قیمتی موقعہ تصور کرتے ہیں ۔وہ ان کے زیر سایہ اپنے منصوبوں اور مقاصد کو بروئے کار لانے کے لئے خوب تگ و تاز کریں گے۔
زمانہ کی چکی تیزی سے گھوم رہی ہے، آج کا دن گذشتہ کل سے زیادہ دور نہیں۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں ، عیسائی مشنری جس طرح آج 'سیاسی وحدت' کے نظریہ کے زیرسایہ نصرانیتکی نشرواشاعت میں کوشاں ہیں، اسی طرح اس سے پہلے انہوں نے یورپی عسکری استعماریت کے ذریعے نصرانیت کو پھیلایا۔ اور اس سے پہلے صلیبی جنگوں میں انہوں نے مسلمانوں کو عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا اور وہ حربے استعمال کئے جس کے ذکر سے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ یہ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ اب صلیبی جنگیں ختم ہوچکیں۔ ایسا ہرگز نہیں، صلیبی جنگیں ختم نہیں ہوئیں۔صرف ان جنگوں کا انداز اور طریق کار تبدیل ہوگیا ہے۔ میدانِ جنگ میں عیسائیوں کو ہونے والی مسلسل ناکامیوں نے ان کی جنگ کارخ ثقافتی اور علمی وتہذیبی انقلاب کی طرف موڑ دیا ہے ۔ صلیبیوں نے اسلامی ممالک میں عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت کوہمیشہ جاری رکھا ہے اوروہ دن دور نہیں جب کہ یہ لوگ بر سر عام اوربغیر کسی رکاوٹ اور بندش کے عیسائیت کی تبلیغ و ترویج کریں گے۔
عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت کے ذرائع ... زمانہٴ قدیم اور جدید میں!
گذشتہ کئی برسوں سے عیسائیوں نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو جدید طریقوں پر استوار کرنا شروع کردیا ہے۔ عیسائی مبلغین نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لئے جدید قسم کے ذرائع ایجاد کئے ہیں جو پرانے ذرائع سے زیادہ خفیہ، زیادہ موٴثر اور مکروفریب دہی میں زیادہ کارآمد ہیں۔ علاوہ ازیں وہ نت نئے ذرائع تبلیغ ایجاد کرنے کے لئے بڑی محنت اورجانفشانی سے کام کر رہے ہیں ۔اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ عیسائی مشنری ہر دروازے سے مسلمانوں پر داخل ہوئے۔ سیاسی، اقتصادی، معاشرتی، ثقافتی اور دیگر راستوں سے مسلمانوں پر ا س طرح یلغار کی کہ مسلمانوں کے دل میں ذرا بھی کھٹکا پیدا نہیں ہوانے دیا ۔ آج عیسائی تبلیغ کا انحصار قدیم ذرائع کے علاوہ ان جدید ذرائع پر بھی ہے۔
زیر نظر سطور میں ہم انہیں جدید ذرائع تبلیغ پر روشنی ڈالیں گے جنہیں عیسائی مشنری بطور ہتھیار کے استعمال کررہے ہیں ۔ ہم نے ان ذرائع کو چند قسموں پر تقسیم کیا ہے اور بطور ثبوت کے بعض نمونوں اور مثالوں کا تذکرہ بھی کردیا ہے :
(۱) مشکلات میں گھرے مسلمانوں کو اِمدادی سرگرمیوں کے ذریعے
بعض طبعی حوادث اور خانہ جنگیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی، ہلاکت اور اندوہناک حالات سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو عیسائی بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عیسائی مشنری، یتیم بچوں اور بیواؤں کے کربناک حالات، ان کے طعام و قیام، لباس، تعلیم و علاج کی ضرورتوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے اَہداف کا نشانہ بناتے ہیں۔ نادار،بھوکے ننگے اوربے بس مسلمانوں کومتاثر کرنے اوران کا دل جیتنے کے لئے ان سے مادّی اور معنوی تعاون کرکے اور ان کے رِستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ کر انسانی ہمدردی کی آڑ میں انہیں عیسائی بنار ہے ہیں ۔اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ انہیں صرف ان کے علاج اور تعلیم سے دلچسپی ہے ۔ اس طرح یہ لوگ مسلمانوں کو ذہنی طور پر مرعوب کرکے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور انہیں قائل کرتے ہیں کہ نصرانیت ہی آخرت کے عذاب اور دنیا کی تنگدستی سے چھٹکارے کا سبب ہے۔یہ مشنری اپنی ان خدمات کے عوض مسلمانوں پر یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ اتوار کو عبادت کے لئے کسی گرجا میں جائیں ، دوسری طرف اسلامی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے پرہیز کریں۔
ایک سروے کے مطابق دنیا کے کل پناہ گزینوں میں سے ۸۰ فیصد پناہ گزیں مسلمان ہیں جو مختلف اَسباب کی بنا پر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ان اسباب میں خاص طور پر جنگیں، حکومتوں کی پکڑ دھکڑ، اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونا یا دینی ، سیاسی اور نسلی تشدد کا خوف سرفہرست ہیں۔ چونکہ ان پناہ گزینوں کو خاندان کا شیرازہ بکھر جانے اوربنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی کے سبب سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت جلدعیسائی جماعتوں اور تنظیموں کے تبلیغی جال کا ہدف بن جاتے ہیں اوران کو شکار کرنا ان کے لئے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ زیر نظر سطور میں ان کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے :
٭ ۱۹۹۶ء میں جب سیرالیون کی خانہٴ جنگی میں ۱۰ ہزار سے زائد لوگ قتل ہوگئے اورتقریباً ۱۰/لاکھ مسلمان اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوگئے تو عالمی تنظیم برائے تعاون World Relief Corporation کے سربراہ کرسچین کول نے کہا:
"ان مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لئے ہمارے سامنے تمام دروازے کھلے ہیں"
٭ الروٴیا العالمیة ایک بڑی فعال تنظیم ہے اور ۸۰ سے زائد ممالک میں عیسائیت کی تبلیغ میں سرگرم ہے اور ۸۶ ہزار صومالی مسلمان مہاجرین کی نگہداشت کرتی ہے۔ انہیں علاج معالجہ، قیام طعام اور تعلیم کی سہولتیں مہیا کرتی ہے۔ ان سہولتوں کی آڑ میں انہیں نصرانیت کی دعوت دیتی ہے۔
اس طرح جرمنی کی ایک تنظیم صومالیہ میں امراضِ چشم کے خلاف کام کر رہی ہے۔ لیکن درحقیقت ان کا حقیقی مقصد نصرانیت کی دعوت و تبلیغ ہے اور اس حقیقت کا اظہار اس تنظیم کے سابقہ ڈائریکٹر ڈی جی میشیل نے اپنے اسلام قبول کرنے کے بعد کیا۔
اس طرح صومالیہ میں ایک اور بڑی تحریک کام کررہی ہے جس میں پروٹسٹنٹ اورکیتھولک عیسائی مصروفِ کار ہیں۔ شمالی نائیجریا اور مالی Mali کے بربر قبائل جب قحط سالی کی لپیٹ میں بلک رہے تھے اور خشک سالی ان کے مویشیوں کو نگل رہی تھی، ہزاروں لوگ، فقروفاقہ اور بیماری کی بھینٹ چڑھ چکے تھے تو یہ عیسائی تنظیم ان کی بے بسی سے فائدہ اٹھا کر انہیں عیسائی بنا رہی تھی۔
بوسنیا میں عیسائی تبلیغی مشنوں نے عیسائی تعلیم پرمشتمل سات لاکھ کتب تقسیم کیں۔ اسی طرح عراق میں بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں سے فائدہ اٹھا کر انجیل کی حکایات پر مشتمل کئی ہزار کتابچے اورکیسٹیں عراقی بچوں میں تقسیم کی گئیں۔
(۲) جدید مواصلاتی ذرائع کا استعمال
اس دور میں عیسائیت کی دعوت و تبلیغ کو فروغ دینے کے لئے جس چیز سے سب سے زیادہ استفادہ کیا جارہا ہے وہ جدید ٹیکنالوجی، ذرائع مواصلات ، فیکس اور انٹرنیٹ، اِی میلہے ۔یاد رہے کہ ۱۹۹۶ء میں اس مقصد کے لئے کام کرنے والے کمپیوٹروں کی تعداد 20,69,61,000 تھی۔
٭ ۱۹۹۳ء میں کمپیوٹر کی مشہور زمانہ فرم مائیکروسافٹ نے عیسائی تبلیغی اداروں کو ۵ ملین ڈالر لاگت کے عالمی کمپیوٹر سافٹ وئیرز فراہم کئے۔
٭ ایک مخصوص اِدارہ کے سربراہ امریکی پوپ بیلی گراہم نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لئے 'صلیبی حملہ' کا منصوبہ بنایا۔ اس کا ہدف ذرائع مواصلات کے ذریعے۵۰۰ شہروں میں ۴۰۰ ملین مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا چنانچہ اس نے ۱۷۰ ممالک پرمحیط ۱۶ مواصلاتی چینل قائم کئے۔ عیسائیت کو پھیلانے کے لئے یہ ایک عظیم منصوبہ تھا جس میں اس قدر جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا گیا۔
(۳) کثیر تعداد میں گرجا گھروں کی تعمیر اور تنصیری مراکز کا قیام
عیسائی تنظیمیں نہایت مستعدی اوربے پناہ جذبہ سے کثیر تعداد میں گرجا گھر اور تنصیری مراکز تعمیر کر رہی ہیں۔ اس کا اندازہ اس با ت سے لگایا جاسکتا ہے کہ
٭ مالی Mali کے دارالحکومت باماکو Bamako میں صرف ایک گرجا تھا اوریہاں عیسائیوں کی آبادی صرف ۲ فیصد تھی مگر اب عیسائی تبلیغی تنظیم کی مسلسل جدوجہد سے صرف دارالحکومت میں ۳۲ گرجا گھر تعمیر ہوچکے ہیں۔
٭ مغربی افریقہ کے ملک غانا Ghana میں ۱۹۹۳ء میں صرف ایک سال کے اندر ۶۰۰ نئے گرجا گھر تعمیر کئے گئے۔
(۴) بذریعہ ڈاک عیسائیت کی تبلیغ
بعض عرب ممالک خصوصاً مصراس تشویشناک صورتِ حال دوچارہے۔ عیسائی تنظیمیں مسلمانوں کو عیسائی تعلیمات پر مشتمل خطوط ارسال کرتی ہیں جن میں اسلام کے بارے میں شرم آمیز طور پر شکوک وشبہات اور الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ڈاک کی چیکنگ اور نگرانی کے ذریعے دہشت گردوں کی نشاندہیکی جاسکتی ہے تو کیا ان مشنریوں کی ڈاک کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا جب ایسا ممکن ہے توپھرکیا وجہ ہے کہ عرب حکومتیں نہ ان مشنریوں کا محاسبہ کرتی ہیں اور نہ ان کی ڈاک پر پابندی لگاتیں ہیں ۔
(۵) مختلف زبانوں کے ماہر اعلیٰ درجہ کے مشنری تیار کرنا
افریقہ کے جنگلوں ، وسطی ایشیا اور نائیجیریا کے قبائل کو عیسائی بنانے کے لئے ان قبائل کی زبانوں پر دسترس رکھنے والی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں جو اس قبیلہ اور نسل کی زبان میں انجیل کا ترجمہ کرتی ہیں۔ اور تنصیریت پرمشتمل کتب طبع کرکے ان میں تقسیم کرتی ہیں۔ اسی طرح عیسائی مشنریز کو ان قبائل کی زبان، عادات اور نظریات سے متعارف کرنے کے لئے مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
٭ ایک عیسائی تنظیم __جس کا ہیڈکوارٹر امریکہ میں ہے __نے مسلم ملک سینی گال کے قبیلہ 'الولوف' کے بچوں کو عیسائی بنانے کے لئے ان کی زبان میں انجیل کا ترجمہ کیا۔
٭ تنصیری ریڈیو بلکہ دوسرے ریڈیو بھی مخصوص قبائل کی زبان میں تبلیغ کر رہے ہیں، اور عیسائی ریڈیو پوری دنیا میں افریقی قبائل 'لوموا' اور 'ماکوا 'کی زبان میں خاص پروگرام نشر کرتے ہیں۔
٭ امریکی عیسائی تنظیم Greet Cammossion Center نے چین کے صوبہ گرگیزستان کے مسلم ضلع(تونخ غان) میں ۲۰ مشنری بھیجے، جہاں مسلمانوں کی تعداد ۳ لاکھ ہے۔
٭ یورپی عیسائی تنظیم (ECM) کی کوشش سے سب سے پہلے البانی زبان میں انجیل کا ترجمہ مکمل ہوا اورا س کا پہلا نسخہ البانیہ کے صدر کوپیش کیا گیا۔
٭ اس کے علاوہ قبیلہ المانیکا __ جن کی آبادی گیمبیامیں ۱۰۰ فیصد ہے __کی زبان میں انجیل کا ترجمہ مکمل ہوچکا ہے۔
۱۹۹۵ء میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی جس کا کام عربوں کو عیسائی بنانا تھا۔ اس کی بنیاد رکھنے والوں میں اسرائیل، اُردن، مصر اور دیگر عرب ممالک کے عیسائی شامل تھے۔ اس کے علاوہ مغرب کی ایک جماعت تنظیم تنصیر العالم العربي اور بیلی گراہم ایسوسی ایشن اور سوئٹزر لینڈکے شہر لوزاں میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے اراکین بھی اس میں شامل تھے۔
٭ اسی طرح امریکہ کے شہر ایلینوی میں ایسے تبلیغی مشن پائے جاتے ہیں جن کا کام مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان مہاجرین کو عیسائی بنانا ہے۔
(۶) عیسائیت کی خدمت کے لئے سیاسی اور اِبلاغی عہدوں سے فائدہ اٹھانا
اگرچہ کلیسا سیاست سے کلی طور پر الگ رکھنے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن اس کے باوجود پادریوں اور پاپاؤں کی اعلیٰ سیاسی عہدوں پر تعیناتی کروائی جاتیہے تاکہ اس کے ذریعہ عیسائیت کا پرچار کیا جاسکے۔ افریقہ کے چھ ممالک ٹوگو Togo، کانگو Congo، گیبن Gabon اور زائیر میں قائم مقام کمیٹیوں کے صدر پادری اورپوپ ہوتے ہیں۔
جالیوس نیریری __ جو ایک متعصب عیسائی پادری تھا__ نے تنزانیہ پر ۲۶ سال تک حکومت کی باوجودیکہ وہاں مسلمانوں کی آبادی ۷۵ فیصد ہے، اس نے اپنے پورے دورِ حکومت میں ملکی وسائل کواسلام کے خلاف استعمال کیا۔ مسلمانوں کو حق تعلیم اورانتظامی عہدوں سے محروم رکھا۔ انہیں اپنے رسم ورواج اور مذہبی شعائر ادا کرنے کی بھی اجازت نہ تھی، حتیٰ کہ انہیں ملکی شہریت تک سے محروم کردیا گیا۔ دورانِ حکومت اس کی کوئی تقریر بھی اس تذکرہ سے خالی نہ ہوتی تھی کہ وہ عیسائی ہے اور اسے اپنے عیسائی ہونے پر فخر ہے۔ حتیٰ کہ ۱۹۷۶ء میں قاہرہ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران بھی وہ اس اظہار سے باز نہ رہ سکا۔
کینیا کا سابقہ صدر دانیال آراب موی جو ایک متعصب اور متشدد عیسائی تھا، بھی اسلام دشمنی میں جالیوس نیریری کا ہم مثل تھا۔یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگاکہ 'عالمی چرچ کونسل 'نے جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ وہاں عیسائی باشندوں کی تعداد ۷ فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اسی طرح جنوبی سوڈان میں باغیوں کا سرغنہ جان جارانگ بغاوت پھیلانے کے لئے گرجاؤں کو بطورِ ہیڈکوارٹر اور اڈّوں کے استعمال کیا کرتا تھا۔
(۷) عالمی اِنعامات اور ایوارڈز سے نوازنا
عیسائیت کی تبلیغ اوراِسلام مخالف سرگرمیوں میں اہم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو بطورِ حوصلہ افزائی عالمی نوبل انعامات سے نوازا جاتا ہے۔اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ کمیٹی نے اَقوامِ متحدہ کے سابقہ جنرل سیکرٹری آرتھوڈکسی عیسائی پطرس غالی کو بین الاقوامی امن کوششوں اور معاشرتی تفریق کے خاتمہ کے سلسلے میں کوششوں کے صلہ میں عالمی نوبل ایوارڈ سے نوازا جس کی مالیت دو لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر تھی۔ جن کوششوں کی بنا پر وہ اس ایوارڈکے مستحق قرار دئے گئے وہ یہ تھے کہ انہوں نے بوسنیا کے مسئلہ کے حل میں اہم کردار ادا کیا ۔
(۸) پادریوں کے عالمی تبلیغی دورے
نصرانیت کے بڑے بڑے مبلغین اور مشنریوں کو بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے دوروں پر بھیجا جاتا ہے خصو صاً ان ممالک میں جو تنصیری تحریک کا اصل نشانہ ہیں، مثلاً
پوپ یوحنا پولس دوم نے ۵ / فروری ۱۹۸۰ء تا ۲۰ /ستمبر ۱۹۹۵ئکے دوران ۴۶ مرتبہ تقریباً ۴۰ /افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا پوپ نہیں ہے جس نے اس قدر زیادہ افریقی ممالک کے دورے کئے ہوں۔ ان دوروں سے عیسائی تبلیغ کے لئے راہ ہموار ہوئی اور عیسائی مشنریوں کے لئے اپنے غلط اور گمراہ کن نظریات کی ترویج کے لئے راستے کھلے۔ اسی طرح حکومتی معاونت اور سرکاری حیثیت سے عیسائیوں کی تبلیغی کارکردگی میں اضافہ ہوا۔
لیکن یہ سوال ابھی باقی ہے کہ عیسائی پوپ افریقی ممالک کے دوروں کا اس قدر اہتمام کیوں کرتے ہیں؟... ان کی اس خصوصی توجہ کا مقصد دراصل یہ ہے کہ افریقی یورپ سے عیسائیت کا دیوالیہ نکل رہا ہے اور عیسائیت کی روح ان کے دلوں سے خارج ہو رہی ہے ۔ باوجود کوشش بسیار کے اسلام سے نفرت اور دشمنی ان کے دلوں میں پختہ نہیں ہوئی، بلکہ اسلام کی فکری قوت نے صائب رائے رکھنے والوں کو متاثر کیا ہے۔یہ بات عیسائی پاپاوٴں کے لئے انتہائی پریشان کن ہے ۔ لہٰذا اس مذہبی قحط کو ختم کرنے کے لئے وہ اس قدر دوروں کا اہتمام کرتے ہیں ۔
علاوہ ازیں ان کثیر دوروں کا مقصد افریقی ممالک میں تبلیغ کرنے والے مشنریوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا اور انہیں ہر قسم کے وسائل مہیا کرنا ہے۔ مذہبی پاپاوٴں کے ان دوروں سے نہایت خطرناک نتائج مرتب ہورہے ہیں اور لوگ کثرت سے عیسائیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔ مثلاً پوپ یوحنا پولس کے ۱۹۹۷ء میں لبنان کے دورہ سے جو دور رَس اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ بڑے بڑے ممالک میں تنصیری تنظیمیں اور تنصیری دفاتر قائم کرنے کے لئے بھی عیسائی پادریوں کی طرف سے دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے ایک عیسائی پادری عورت ام تریزا نے اپنے دورئہ مصر کے دوران چارعیسائی مدارس کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ بہت سے جلسوں اور پروگراموں کی سرپرستی کے فرائض سرانجام دیئے۔
(۹) عیسائی مذہبی شخصیات کی کرامات کا پروپیگنڈہ
عیسائی پادریوں کے ہاتھ پر بہت سے معجزات اور خرقِ عادت چیزوں کے وقوع پذیر ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور ضعیف الاعتقاد لوگوں کو ان کے مبنی برحقیقت ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس مثال سے کیا جاسکتا ہے کہ ۱۹۹۲ء میں ایک امریکی پادری نے متعدد امریکی ریاستوں کا دورہ کیا، وہاں کے گرجا گھروں نے اسے خوب اعزاز سے نوازا ۔ ا س نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حضرت عیسیٰ  کے معجزات کوزندہ کرسکتا ہے۔ وہ وہاں ایک مہینہ رہا اور تقریباً ۲۰۰ کے قریب مسلمان اس سے متاثر ہو کر عیسائی بن گئے۔ آخر اللہ کا کرنا ایسا ہو ا کہ لوگوں کے سامنے اس کی جعلی کرامتوں کا پول کھل گیا اور یہ ذلیل و رسوا ہو کر وہاں سے نکل گیا ۔اس طرح کہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ بعض لوگوں کو رقم دیتا ہے اور وہ اس کے حکم کے مطابق جان بوجھ کر اپاہج اور اندھے بن کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر یہ ان سے کہتاکہ اگر وہ حضرت عیسیٰ  پرایمان لے آئیں تو وہ انہیں صحت یاب کردے گا۔ یہ لوگ عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کرتے اور ساتھ ہی اپنی اصلی حالت میں آجاتے ۔
(۱۰) عیسائیت کی تبلیغ بذریعہ سینما
عیسائی مشنریوں نے کینیا کی افریقی بستیوں میں تنصیری فلمیں دکھانے کاکام شروع کیا ہے اور مختلف سینما گھروں میں فلم دیکھنے کے لئے جانے والے مسلمانوں کی تعداد ۲۰۰۰ تک پہنچ چکی ہے۔ان میں سے ۶۵ مسلمان عیسائیتسے متاثر ہو چکے ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ عیسائی مشنریوں کی امدادی سرگرمیاں کس قدر زیادہ ہیں اور کس قدر تیزی سے وہ مسلمانوں کا تعاقب کر رہے ہیں اور اس کے بالمقابل مسلمان کس قدر غفلت کا شکار ہیں !!
اب ملاحظہ فرمائیے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے کس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں:
٭ قاہرہ میں منعقد ہونیوالے ایک بین الاقوامی کتاب میلہ میں بے شمار تنصیری فلمیں فروخت ہوئیں۔ ان میں سے ایک فلم یسوع مسیح Jesus کے متعلق تھی۔ جس میں حیاتِ مسیح اور ان کے معجزات کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ غرض اس قسم کی بے شمار فلمیں وہاں نہایت سستے داموں فروخت ہوئیں۔
٭ امریکہ میں پروٹسٹنٹ فرقہ کے ایک گرجا گھر کی طرف سے حضرت عیسیٰ  کی زندگی کے متعلق ایک فلم منظر پر آئی جس پر کئی ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ ۵۰۳ ملین اَفراد نے یہ فلم دیکھی، ان میں سے ۳۳ ملین افراد نے نصرانیت کے بنیادی نظریات کو تسلیم کرلیا۔ یہ فلم ۱۹۷ ممالک میں دیکھی گئی۔ ۳۸۰ تنصیری تنظیموں نے اس فلم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے دعوتی پروگراموں میں اسے دکھایا۔ علاوہ ازیں ۲۴۱ مختلف زبان میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے اورمزید ۱۰۰ زبانوں میں اس کا ترجمہ تکمیل کے مراحل میں ہے اور ۳۲۰ تنظیموں کو اس کی سرکو لیشن کا کام سونپا گیا ہے۔
(۱۱) مسلم علاقوں میں عیسائیوں کی آباد کاری
مسلم اقلیتی علاقوں میں عیسائیوں کو لا کر آباد کیا جاتا ہے ،تاکہ ان علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی روح کو ختم کیا جائے اور اسلامی ثقافت کو مغربی ثقافت سے تبدیل کردیا جائے ۔اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں :
٭ روس سے آنیوالے نصرانیوں کو یونان کے مسلم اکثریتی علاقہ تراقیا العربیة میں لا کرآباد کیا گیا۔
٭ بوسنیا کے مسلمانوں کو ان کے علاقوں سے ہجرت کرنے پرمجبور کیا گیا تاکہ وہاں آرتھوڈکس سربوں اور کروات (یوگوسلاویہ کا ایک خطہ) کے کیتھولک عیسائیوں کو آباد کیا جاسکے۔ ۱۹۹۵ء کے نصف تک ان مہاجر مسلمانوں کی تعداد ۱۷ لاکھ، ۳۰ ہزار تک پہنچ چکی تھی جو اپنے گھروں سے بے دخل دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیا گیا ۔ پھر دوسری مرتبہ یہی عمل کوسووا کے مسلمانوں کے ساتھ دہرایا گیا۔
٭ چین کے مغربی صوبوں میں بھی یہی گھناؤنا کھیل کھیلا گیا، صرف اس لئے کہ وہاں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ پورے چین میں مسلمانوں کی تعداد ۹۳ ملین ہے جو کل آبادی کا ۱۰ فیصد ہے اوریہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم اقلیت تصور کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہوا یہ کہ چینی حکومت نے مسلم اکثریتی صوبہ نیتفشیا سے مسلمانوں کو اٹھا کر تقریباً دس لاکھ غیر مسلموں کو یہاں لاکر آبا دکردیا۔اسی طرح ایک کروڑ ۳۰ لاکھ غیر مسلموں کو مسلم اکثریتی علاقہ 'مشرقی ترکستان' میں منتقل کردیا۔ اگر یہ گھناؤنا کھیل اسی طرح جاری رہا تو بعید نہیں کہ مسلمان ا قلیت غیر مسلموں کے درمیان گھل کر اور بکھر کر رہ جائے۔
٭ ناٹو کے حملوں کے دوران یوگوسلاویہ (Serbia) کے کیتھولک گرجوں کے چیئرمیننے اپنی قیام گاہ کو بلغراد سے کوسووا کی طرف اس لئے منتقل کرلیا تاکہ وہ سرب عیسائی باشندوں کو وہاں سے ہجرت کرنے سے روک سکے ۔
(۱۲) دفتری کاغذات پر عیسائیت کی تبلیغ
بہت سے مالیاتی اِداروں اور فرموں کی طرف سے دفتری معاملات کے جو کاغذات اور چیک شائع کئے جاتے ہیں، ان کے پیچھے نصرانی علامات (صلیب وغیرہ) نقش ہوتی ہیں اور جوانب پر انجیل کے کلمات درج ہوتے ہیں۔ ا س سے ایک طرف تو ان کمپنیوں اور فرموں کے ملازمین اور ورکروں کے درمیان عیسائیت کی اشاعت کی جاتی اور دوسری طرف یہ تاثر دے کر کہ اس سے مال میں برکت ہوگی، متعصب عیسائی سرمایہ کاروں سے مال بٹورا جاتا ہے۔ پھر حیران کن بات یہ ہے کہ ان مالیاتی اداروں اور فرموں کو چرچوں کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
(۱۳) مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز عبارتوں سے گریز
اس زمانہ میں عیسائیوں نے صلیبی دور کا کھلا ہوا معاندانہ انداز مصلحتاً ترک کردیا ہے لیکن مقصدکے نشتر اور تیز کردیئے ہیں۔اس کا آغاز انہوں اس طرح کیا کہ استعماری بالادستی کے وہ کلمات جو مسلمانوں کے ذہنوں میں منقش ہوچکے تھے، ان کا استعمال ختم کردیا ہے۔ ان میں سے ایک وہ مشہور عبارت ہے جسے عیسائی مشنری عموماً استعمال کیا کرتے تھے کہ" کروڑوں مسلمان جہنم کا ایندھن بنیں گے جب تک کہ وہ مکمل طور پر عیسائی نہیں بن جاتے"۔ اس طرح لفظ 'مشنری' کا استعمال بھی انہوں نے بند کردیا ہے۔ بلکہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ تنصیری تحریک کے منتظمین مسلمانوں کو دھوکہ اور فریب دینے کے لئے اکثر وہ نام اور عبارات استعمال کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ہاں مروّج ہیں۔مثلا ً تنصیری ریڈیو کے ایک پروگرام کا نام انہوں نے 'نور علیٰ نور' اور اس کے ڈائریکٹر کا نام شیخ عبداللہ رکھا ہے۔ نیروبی میں قائم ایک ہسپتال کانام 'اسم اللہ' رکھا گیا ہے اور گرجا گھروں کے نام 'بیوت اللہ' رکھتے ہیں۔جس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ گھر اللہ کی عبادت اور ذکر کے لئے تعمیر کئے گئے ہیں۔
(۱۴) مسلمانوں کے عقائد و نظریات میں تشکیک پیدا کرنا، انہیں خلط مَلط کرنا :
اس مقصد کے لئے اگر عیسائی مشنریوں کو اپنے موقف سے ہٹنا بھی پڑے تو پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے محبت، مشابہت اور چاپلوسی کا اظہار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور مسلمانوں میں شکوک وشبہات کو ہوا دیتے ہیں۔جب عیسائی مشنریوں نے یہ دیکھا کہ انسان جس دین کو اختیار کرلیتا ہے اور اسے اپنے لئے دنیا و آخرت کا نجات دہندہ سمجھتا ہے تو انتہائی مشکل ہے کہ وہ اس دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین قبول کرلے۔ خاص طور پر مسلمان کو عیسائی بنانا اور زیادہ مشکل ہے کیونکہ اسلام اور عیسائیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ لہٰذا انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مسلمانوں کو مرحلہ واراسلام سے نصرانیت کی طرف لایا جائے۔چنانچہ وہ سب سے پہلے آہستہ آہستہ مسلمان کی اپنے دین سے وابستگی کو کم کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان اسلام کے متعلق شکوک و شبہات کاشکا رہوجاتا ہے اورعیسائیت اسے زیادہ اچھی اور بھلی لگنے لگتی ہے۔ بلاشبہ اگر اس پر فریب اور مکروہ سیاست کااور کوئی خطرہ نہ بھی ہوتا تو یہی خطرہ کافی تھا کہ مسلمانوں کو ان کے دین کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار کردیا جائے۔ سادہ اور جاہل مسلمان بڑی آسانی سے ان کی اس پالیسی کا شکار بن جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو شکوک و شبہات کا شکار کرنا عیسائی مشنریوں کا خاص ہدف ہے۔ اب وہ مسلمانوں کو عیسائی بنانے یا انہیں عیسائیت کی ترغیب دینے کی بجائے اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ بس انہیں دین اسلام سیبیگانہ کردیا جائے۔ کیونکہ ان کا غالب نظریہ یہ ہے کہ عیسائیت کو قبول کرنا اس قدر بڑا شرف ہے جس کا مسلمان مستحق نہیں ہوسکتا ،ا س لئے وہ مسلمان کو عیسائیت میں داخل کرنا پسند نہیں کرتے ۔ شاید کہ بعضمثالیں ہمارے اس دعویٰ کی حقیقت کو واضح کرسکیں۔
٭ بعض تنصیری تنظیموں نے متعدد امریکی ممالک میں انجیل کا عربی زبان میں ترجمہ کرکے شائع کیا۔ اوراسے قرآن کی طرز پرنہایت خوبصورت انداز میں لکھا۔ اس کے ہر باب کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا گیا تھا اور قرآن کی طرح تمام کلمات پر اِعراب لگائے گئے تھے۔ زیادہ سے زیادہ قرآنی کلمات کے انتخاب کی کوشش کی گئی تھی، مثال کے طور پر ایک عبارت ملاحظہ فرمائیے :
«قُلْ يَا عِبَادِیَ الَّذِيْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَنْتَظِرُوْنَ، اِعْمَلُوْا فِیْ سَبِيْلِه وَاحْذَرُوْهُ کَمَا يَحْذَرُ الْخَدَمُ سَاعَةً يَرْجِعُ مَوْلاَهُمْ فَمَا هُمْ بِنَائِمِيْنَ، قَالَ الْحَوَارِيِّونَ أَ يُرِيْدُنَا مَوْلاَنَا بِهٰذَا أَمْ يُرِيْدُ النَّاس أَجْمَعِيْنَ؟ فَضَرَبَ لَهُمْ عِيْسیٰ مَثَلاً»
غور فرمائیے کہ مذکورہ عبارت عربی گرامر کی کس قدر غلطیوں سے بھرپور ہے۔
عیسائیوں کا انجیل کو قرآن کی طرز پرلکھنا گویا ان کی طرف سے یہ اعتراف ہے کہ دین عیسائیت شدید ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے اور انجیل اپنی تحریف اور تبدیلی کے بعد اپنے دشمنوں کو تو کیا اپنے پیروکاروں کو بھی راہ ِ ہدایت دکھانے پر قادر نہیں ہے، اس لئے وہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں تاکہ وہ انجیل کو قرآن سمجھ کر مان لیں۔
٭ اسی طرح وہ انجیل کی تلاوت بھی قرآنِ مجید کی طرز پر کرتے ہیں۔
٭ کویت میں یہ لوگ اپنی نماز ہفتہ کی بجائے جمعہ کو اَدا کرتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ وہ نماز مسلمانوں کی نماز کی طرح ادا کرتے ہیں۔
٭ عیسائی مشنری، مسلمان داعیوں اور مشائخ کا بھیس بدل کر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔افریقہ کے بیشتر ممالک میں ایسا ہورہا ہے۔
٭ یہ لوگ اپنے گرجے مساجد کے ڈیزائن پر بناتے ہیں اورمسجد کی طرح اس میں محراب اور مینار تعمیر کرتے ہیں۔
٭ جن اُصول اور شعائر ِاسلامیہ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان انہیں چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوں گے، ان میں یہ مسلمانوں کے ساتھ مفاہمت کرلیتے ہیں۔مثلاً تعددِ زوجات کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ بعض افریقی قبائل میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا رواج ہے اور نصرانی ہونے کی صورت میں ان کا سب بیویوں کو چھوڑ کر ایک پر اکتفا کرنا نہایت مشکل ہے تو عیسائی مشنری انکے نصرانیت میں داخل ہونے اور متعدد شادیاں کرنے کو اس بات پر ترجیح دیتے ہیں کہ وہ اسلام پر باقی رہیں۔ پھراگلے مرحلہ میں وہ انہیں آمادہ کرلیتے ہیں کہ ان میں سے ایک منتخب کرلو اور باقی چھوڑ دو۔ اسی طرح وہ ختنہ کے معاملہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ موافقت کرلیتے ہیں۔
(۱۵) اسلام کے متعلق شکوک وشبہات کو ہوا دینا
نہایت احسن طریقے سے یہ لوگ مسلمانوں کے سامنے شکوک و شبہات کو ہوا دیتے ہیں اور نصرانیت کو دلکش بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس طریقے سے عیسائی مشنری اسلام کی حقیقی صورت اور اس کے شعائر کو بالواسطہ یا بلا واسطہ مسخ کر رہے ہیں۔ وہ سرعام اسلام کو رِجعت پسندی اور دہشت گردی کا طعنہ دیتے ہیں۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
٭ ہالینڈ Nederland کے ایک کنیسا نے وسیع پیمانے پر ایک رپورٹ شائع کی کہ اسلام ایک جھوٹا دین False Religion ہے اور پورے عالم کے لئے شدید خطرہ کا باعث ہے۔
٭ ایک تنصیری تنظیم نے ایک مسجد کی تصاویر شائع کیں جس میں مسلمانوں کو نماز پڑھتے دکھایا گیا تھا اور تصاویر کے نیچے لکھا تھا "دہشت گردی کا اڈّہ"!
٭ ان افریقی ممالک میں کام کرنے والے اسلامی مراکز کے خلاف ٹیلیویژن پر نشریاتی اور پروپیگنڈہ مہم چلائی جاتی ہے اور ان مراکز کو اسلامی ممالک کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے اورانہیں مذہبی جنگ کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام دیا جاتا ہے۔یہ سب کچھ احمددیدات کے عالمی ادارہ 'مرکز الدعوة الاسلامی' کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے۔
(۱۶) تنصیری لٹریچر سے ناجائز فائدہ اُٹھانا
تبشیری تحریک اور اس کے مشنریوں نے مسلمانوں کے درمیان اپنے گمراہ کن نظریات کا زہر پھیلانے کے لئے ثقافت واَدب کے میدان کو بطورِ وسیلہ کے ناجائز استعمال کیا پھراس گھناؤنے منصوبے کے پیش نظر مسلمانوں کو عیسائی بنانے اور ان کے عقائد کو متزلزل کرنے کے لئے صرف تعلیم، طب اور اجتماعی وسائل پر ہی اکتفا نہ کیا گیا بلکہ اس کے لئے تہذیب و ثقافت اور لٹریچر کا بھی ناجائز استعمال کیا گیا۔ اب اس کا دائرہ کار آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد اس کا ہدف بن رہی ہے۔ عیسائی مشنریوں نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے مختلف کتابیں، قصے اور حکایات لکھنے کا کام شروع کیا۔ حتیٰ کہ وہ ادب کی دنیا میں تنصیری لٹریچر کے نام سے معروف ہو کر مختلف ادبی رنگوں مثلاً ناول، قصیدہ، ڈرامہ، مقالات اور فلموں کی صورت میں پیش کیا جاتا رہا اور یہ تمام لٹریچر عیسائیت کو اختیار کرنے کی دعوت اور اسلام سے نفرت کے جذبہ سے بھرپور تھا۔
پھر اس میدان میں تنہا تنصیری لٹریچر ہی سرگرم نہیں تھا بلکہ بے شمار اِدارے بھی تعلیم و تربیت کے بہانے ان علاقوں میں تنصیری لٹریچر کے شریک ِکار تھے جو سیاسی عسکری اور فکری اعتبار سے حملہ آوروں کے زیر تسلط رہ چکے تھے۔ اور پھر تنصیری لٹریچر بھی کوئی سادہ اور سطحی قسم کا نہ تھا بلکہ ا س میں تمام ممکنہ فنی اور آزمودہ ذرائع انتہائی چالاکی، مہارت اور سمجھ بوجھ سے استعمال کئے گئے تھے۔ زہر کی تلخیوں کو تحقیق کے شہد میں اس طرح چھپایا گیا تھا کہ کام ودہن کو تو تلخی محسوس نہ ہو لیکن رگ و پے میں زہر اتر جائے۔ صراحت کی بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا گیا تھا۔ قصہ مختصر کہ عیسائیت کی تبلیغ کے لئے ان لوگوں کو زمین جہاں بھی ہموار اور زرخیزنظرآئی انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔ عام طور پر تبشیری لٹریچر میں جن طریقوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، ان کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے :
1۔ بشپوں اور راہبوں کو فرشتہ صفت اور نابغہ روزگار ہستی بنا کر پیشکیا جاتا ہے۔ انہیں خطرات سے ٹکراتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور خوبصورت جسمانی خدوخال، و جیہ چہرہ کے ساتھ ساتھ شاندار لباس زیب تن کئے ہوئے ظاہرکیا جاتا ہے۔
2۔ بشپ کو صبر و تحمل، بردباری، جاں نثاری اور سرفروشی کا پیکر بنا کر دکھایا جاتا ہے۔
3۔ تبشیری موٴلفین کا یہ بنیادی نصب العین ہے کہ مفہوم خواہ کتنا عمیق ہو البتہ اسلوب عام فہم اور تکلف سے پاک ہو نا چاہئے اور عبارت گنجلک اورپیچیدہ تو بالکل نہ ہو۔
4۔ اسلام کی حقیقی صورت کو بالواسطہ طریقہ سے بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اوریہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسلام میں تحریف ہوچکی ہے۔
5۔ خوبصورت اقدار و روایات کو نہایت سائنٹفک طریقے سے محفوظ کرنا کیونکہ اس کے بغیر نہ مطلوبہ مقصد حاصل ہوسکتا اورنہ اسلام کومغلوب کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے۔
یہ بات ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ تنصیری تحریک سب سے بڑی اسلام دشمن تحریک ہے۔ وہ لٹریچر اور فنون اسی کی صحیح جگہ پر رکھتی ہے ، اس کے لئے منصوبہ بندی کرتی اور اس کے لئے ضروری وسائل مہیا کرتی ہے۔ تنصیری لٹریچر کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرواکے اسے عالم اسلام کے گوشے گوشے میں پھیلاتی ہے۔ پھر اسے مختلف نقادوں کی طرف تبصرہ کرنے اور مقدمہ لکھنے کے لئے بھیجا جاتا ہے اس کے بعد ان نقادوں ، کتب کے مصنّفین کوبڑے بڑے عالمی ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔ اس طرح گویا عیسائی لٹریچر کی عالمی سطح پر تشہیر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس تنصیری لٹریچر کو سینماؤں، ٹیلیویژن اور ڈراموں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اوربڑے بڑے مصنّفین کو اس 'کارِ شر' میں شرکت کرنے کے لئے ابھارا جاتا اور انہیں بلند و بالا اَلقابات سے نوازا جاتا ہے۔
مغربی تبشیری لٹریچر میں صرف مشنریوں اور بشپوں کے اَخلاقی محاسن بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ مغربی لٹریچر کا ہدف یہ اُمور بھی ہیں :
1۔ اسلام کی حقیقی شکل کو مسخ کرنا،مسلمان اور اس کے نظریاتی عقائد پر مبنی ورثہ کی توہین کرنا۔
2۔ وہ مغربی افکار جو عیسائیت سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں، ان کو پھیلانے کے لئے راستہ ہموار کرنا۔ شائد اس سے یہ بات بھی واضح ہو تی ہے کہ مغربی طرزِ فکر اسلامی نظریات کے منافی ہے۔ اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مغربی دنیا اسلامی تعلیمات سے کس قدر تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کررہی ہے ۔
پہلے پہل اسکندر، دوین، بریدو، روسو اور وولٹیر Voltair جیسے ناول نگاروں نے تبشیری ناول لکھے اوران کی زہر آگیں قلموں نے اسلام کو سب و شتم کا نشانہ بنایا۔ محمدﷺ کے بارے میں Voltair کے زہر آلود قلم سے نکلنے والے ناول کے متعلق توفیق الحکیم کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے محمد(ﷺ) کے متعلق وولٹیر کا ناول پڑھا تو مجھے شرمندگی ہوئی کہ اس رائٹر کا شمار تو آزاد خیال مفکرین میں سے ہوتاہے، اس کے باوجود اس نے اپنے ناول میں نبیﷺ کو سب و شتم کا نشانہ بنایا ہے۔یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا، اور اس کی اس مذموم حرکت کی وجہ مجھے سمجھ نہ آئی۔ لیکن میری یہ حیرت اس وقت ختم ہوگئی جب میں نے دیکھا کہ وہ اپنا یہ ناول چودھویں پوپ (پنوا) کوپیش کر رہا تھا۔توفیق الحکیم مزید لکھتا ہے:
"ا س کے کچھ عرصہ بعد میں نے وولٹیر پر پوپ کی تنقیدپڑھی جو بہت معمولی اور مکارانہ تھی جس میں دین کے متعلق اس نے ایک لفظ بھی نہیں بولا بلکہ تمام ادبی اسلوب کے گرد گھومتی تھی۔"
اب وہ اعداد وشمار ملاحظہ فرمائیں جو مجلہInternational Bullettin of Missionary Research میں عیسائیت کی تبلیغی سرگرمیوں کے متعلق ۱۹۹۰ء کی رپورٹ میں شائع کئے گئے تھے :
تبشیری سرگرمیوں میں کام کرنے والی تنظیمیں 21000
عیسائی مبلغین تیار کرنے والے ادارے 3,970
عیسائیت کی تعلیم دینے والے ادارے 92,200
ملکی مشنریوں کی تعداد 39,23000
غیر ملکی مشنریوں کی تعداد 2,85,250
شائع ہونے والے تبشیری رسائل وجرائد 238
تقسیم کئے جانے والے انجیل کے نسخے 129 ملین
کلیسا کے فنڈ کی مقدار 157 بلین امریکی ڈالر
جدید موضوعات پر لکھے جانے والے کتابچے 65,600
کام کرنے والے ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی چینلز کی تعداد 2160
ہر ماہ سامعین اور حاضرین کی تعداد 1,369,620,600
٭ اسی مجلہ کی عیسائیت کی تبشیری سرگرمیوں کے بارے میں ۱۹۹۶ء کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے :
تبشیری تنظیموں کی تعداد 4500
عیسائی مبلغین بھیجنے والی تنظیمیں 23200
ملکی مشنریز 4635500
بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مشنریز 398000
چرچ کو ملنے والے فنڈز 193بلین ڈالر
تبشیری مشن کے لئے کام کرنے والے کمپیوٹرز 206961000
تقسیم کئے جانے والے انجیل کی نسخے 178317000
شائع ہونے والے تبشیری رسائل وجرائد 30100
کام کرنے والے ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز 3200
کیتھولک مشنریز جو مختلف سالوں میں امریکہ سے دیگر ممالک میں تبلیغ کیلئے بھیجے گئے
(عبدالرحمن السمط کی کتاب لمحات عن التنصیر فی أفریقیا سے اقتباس )
1960ء میں بھیجے جانے والے مشنریز 6782... 1964ء میں 7146مشنریز...1968ء میں 9655مشنریز...1972ء میں 7656مشنریز...1976ء میں7010مشنریز...1980ء میں 6601مشنریز... 1984ء میں6393مشنریز... 1988ء میں6063مشنریز... 1992ء میں6037 مشنریز ...اور 1996ء میں6063 مشنریزامریکہ تبلیغ کے لئے بھیجے گئے۔
دنیا بھرمیں انجیل کو پھیلانے کی مہم
حالیہ اَعداد وشمار کے مطابق روئے زمین پر تقسیم کیے جانے والے انجیل کے نسخوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ماضی میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ موجود تعداد گزشتہ سال کی نسبت 140فیصد زیادہ ہے یہ اعداد وشمار ان انجیلوں کے متعلق ہیں جو صرف امریکی تنظیموں کی طرف سے تقسیم کی گئیں ۔
اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے جو ایک ہوش مند مسلمان کو چونکا دینے کے لئے کافی ہے :
براعظم افریقہ میں تقسیم کیے جانے والے نسخوں کی تعداد 4,208,568
براعظم ایشیا میں تقسیم کیے جانے والے نسخوں کی تعداد 25,6977,601
مشرقِ وسطی اور یورپ میں 15,763,62
اسی طرح چینی حکومت نے نیانگنگ شہر کے امیتی پریس انجیل کے 15ملین نسخے چھاپنے کی اجازت دی ہے۔ (تنظیماتِ انجیل ، امریکہ کی عالمی رپورٹ ۱۹۷۹ء سے اقتباس) ...(البیان)
۴ /ہزارمشنری تنظیمیں جو لوگوں کو عیسائی بنانے کے میدان میں سر گرم ہیں
اس وقت سب سے زیادہ خطرناک وہ چرچ ہیں جو بیرونی ممالک میں نہایت منظم طریقہ سے تبشیری دعوتی کام انجام دے رہے ہیں۔ ا س وقت وہاں ۴ ہزار ایسی عیسائی تنظیمیں ہیں جو نہایت تندہی اور مستعدی سے اس کام میں مگن ہیں اور ان اداروں کے تحت کام کرنے والے مشنریوں کی تعداد 262300ہے جن کا کام صرف دعوت وتبلیغ ہے اور چرچ ان پر سالانہ ۸/بلین ڈالر خرچ کرتا ہے ۔ اور ہر سال ایسی دس ہزار کتب اور مقالے شائع کیے جاتے ہیں جو عیسائی تبلیغ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ (البیان)
....................................مراجع ومصادر ....................................
(۱) التبشیر والاستعمار فی البلاد العربیة للدکتور ولید الخالدي والدکتور عمر فروخ․
(۲) القدس بین الوعد الحق والوعد المفتری ، د/ سفر ا لحوالی ․
(۳) الإسلام علی مفترق الطرق ، محمد أسد
(۴) إصدارات لجنة مسلمی إفریقیا (تصدر فی الکویت، الأمین العام د/عبد الرحمن السمیط)
مجلة ' الکوثر' الأعداد ، ۲، ۳،۴،۶․
مجلة ' أخبار اللجنة ' الأعداد: ۱،۱۸،۱۹،۲۰․
مجلة 'الدراسات' العدد الأول
(۵) مجلة الوعي الإسلامی ( الصادرة عن وزارة الأوقاف والشوٴون الإسلامیة بالکویت ) الأعداد :۳۵۰،۳۴۱،۳۷۸․
(۶) مجلة الرابطة : (الصادرة عن رابطة العالم الإسلامی بجدة ) العدد : ۳۶۸ ․
(۷) مجلة التوحید : (الصادرة عن جماعة أنصار السنة المحمدیة بمصر ) العدد : ۵ السنة ۲۷
(۸) مجلة المختار الإسلامی : الأعداد : ۱۳۰،۱۳۳،۱۷۱ ․
(۹) جریدة المسلمون : ۵۷۴ ، ۶۵۹ ․
(۱۰) جریدة أخبار الیوم بتاریخ ۲۳/۸/۱۹۹۷م ․
(۱۱) جریدة الأہرام بتاریخ:۱،۱۱،۲۸/۵/۱۹۹۷م/ ۱۱،۱۴/۹/۱۹۹۷م/ ۱۳/۱۲/۱۹۹۷م ۱۳/۲/۱۹۹۸م/۳/۳/۱۹۹۸م/۱۳/۱۲/۱۹۹۸م/۳۰/۳/۱۹۹۹م/۱۰،۹/۵/۱۹۹۹م
(۱۲) جریدة وطنی (لسان حال الأقباط بمصر ) ، الأعداد : ۱۸۳۷ ۱۸۶۰ ․
(۱۳) یومیات ألمانی مسلم ، د/ مراد فرید ہوفمان : (ترجمة عباس رشدی العماری )