ارضِ پاکستان پر اس وقت بھوک اور پیاس کے بادل منڈلا رہے ہیں، پورا ملک خشک سالی کی زد میں ہے۔ خاص طور پر صوبہ سندھ اور بلوچستان کے اکثر حصے قحط کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی ہزار ایکڑ زرعی رقبہ بنجر ہوچکا ہے۔ گھاس اور پانی کی کمی سے مویشیوں کی ہلاکت ہورہی ہے۔ بجلی کی بار بار بندش کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ صنعت اور زراعت پر نزع کی کیفیت طاری ہے۔ اس کے اسباب کیاہیں اور اس کا علاج کیا ہے؟ اس پر بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ماضی کی طرح اس عذابِ الٰہی کی توجیہ اور اس کے اسباب و عوامل اور علاج کی تدبیریں بھی خالصتاً مادّی ذہنیت سے کی جارہی ہیں اور شاید کسی کا ذہن اس با ت کی طرف نہیں جارہا کہ اس ساری صورتحال کے پیچھے قدرت کا خفیہ ہاتھ کارفرما ہے۔
اصل اسباب اور وجوہات کی طرف توجہ دینا اور ان کو حل کرنا شاید کوئی اپنی ذمہ داری ہی تصور نہیں کرتا۔ حسب ِروایت ہر نئی حکومت سابقہ حکمرانوں کو اس کا ذمہ داری ٹھہرا کر بزعم خود اپنا فرض پورا کرلیتی ہے اوراس حوالے سے ٹی وی اور ریڈیو پر چند مذاکرے کروا کر ، اخبارات میں چند خبریں لگوا کر اور قومی خزانے سے قحط زدگان کی اِمداد کم اور تشہیر زیادہ کرکے حکومت گویا اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے لیتی ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے بہرحال ہمارا فرض ہے کہ ان مشکلات کے سدباب کے لئے ہم اپنے دین سے رہنمائی حاصل کریں۔ اس غرض سے سطورِ ذیل میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس صورتحال کے اسباب اور وجوہات اور علاج کی طرف توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔ وما توفيقي إلا بالله!
اسبابِ قحط اور ان کا تدارک ... قرآن و حدیث کی روشنی میں
برے اعمال اور ربّ کی نافرمانی :اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایاہے:
﴿ظَهَرَ‌ الفَسادُ فِى البَرِّ‌ وَالبَحرِ‌ بِما كَسَبَت أَيدِى النّاسِ لِيُذيقَهُم بَعضَ الَّذى عَمِلوا لَعَلَّهُم يَر‌جِعونَ ٤١ ﴾.... سورة الروم
"خشکی اور تری میں لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کوبعض برے اعمال کی سزا انہیں دنیا میں چکھا دے، شاید کہ لوگ برے اعمال سے باز آجائیں۔"
﴿وَما أَصـٰبَكُم مِن مُصيبَةٍ فَبِما كَسَبَت أَيديكُم وَيَعفوا عَن كَثيرٍ‌ ٣٠ ﴾.... سورة شورىٰ
"اور( لوگو) تم پر جو مصیبت آتی ہے تو تمہارے ہاتھوں نے جو کیا اس کی سزا میں اور بہت (سے قصور) معاف کردیتا ہے۔ "
ان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ دنیا میں خشک سالی، قحط، سیلاب، زلزلے ، طوفان ، اندرونی و بیرونی جھگڑے اور فسادات یا معاشی و اقتصادی اور اخلاقی بدحالی کی کوئی بھی شکل ہو، یہ سب انسان کے اپنے اعمال کا ہی نتیجہ ہے اور یہ ساری مصیبتیں اور آزمائشیں انسان پر اس لئے آتی ہیں کہ انسان ان سے عبرت حاصل کرے اور انہیں اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتے ہوئے اپنے حالات میں تغیر پیدا کرے۔
آج اگر ہم اپنے حالات پر نظر ڈالیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا جائزہ لیں تو حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی برائی نہیں جسے ہم نے من حیث القوم سینے سے نہ لگایا ہو۔ شرک و بدعات، توہمات اور خرافات، بے حیائی ، فحاشی اور عریانی ، ذخیرہ اندوزی اور سود خوری، بددیانتی اور کرپشن ، لوٹ کھسوٹ اورقتل و غارت گری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہم گم ہیں۔ سود جسے قرآن نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیا ہے، اسے عام آدمی سے لے کر حکومت تک کوئی بھی چھوڑنے کو آمادہ نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہمارے دعوے ہیں کہ ہمیں خوشحالی اور ترقی اسی راستے پر چلنے سے ہی ملے گی۔ چنانچہ صورتِ حال یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں جیسے جیسے ہمارے قدم بڑھ رہے ہیں، بدتر سے بدترین نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ ہم بغیر سوچے سمجھے مغربی اَقوام کی طرزِ زندگی اپنانے کے چکر میں دھکے کھا رہے ہیں۔ ہر آنے والی نئی حکومت اپنی طرف سے نئے نئے معاشی و اقتصادی پروگرام لے کر آتی ہے لیکن حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، والی صورتحال ہے۔
یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے باوجود بھی ہم اللہ اور اس کے پیارے رسول محمد عربیﷺ کی نافرمانی اور بغاوت والی روش چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج وطن عزیز خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں ہے۔ زمینیں ویران اور بستیاں غیر آباد ہوچکی ہیں۔ بعض علاقوں میں انسان اور جانور پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس رہے ہیں اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب مختلف نوعیت کا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے :
﴿فَكُلًّا أَخَذنا بِذَنبِهِ ۖ فَمِنهُم مَن أَر‌سَلنا عَلَيهِ حاصِبًا وَمِنهُم مَن أَخَذَتهُ الصَّيحَةُ وَمِنهُم مَن خَسَفنا بِهِ الأَر‌ضَ وَمِنهُم مَن أَغرَ‌قنا ۚ وَما كانَ اللَّهُ لِيَظلِمَهُم وَلـٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ ٤٠ ﴾...... سورة العنكبوت
"آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی (قومِ عاد) اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا (قومِ ثمود) اور کسی کوہم نے زمین میں دھنسا دیا (قارون) اور کسی کو غرقِ آب کردیا (فرعون، ہامان اور قومِ نوح) ...اللہ تو ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔"
اور دوسری جگہ فرمانِ الٰہی ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَظلِمُ مِثقالَ ذَرَّ‌ةٍ......٤٠ ﴾..... سورة النساء "بے شک اللہ کسی پر ذرّہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا"
جب کوئی قوم اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اُتر آئے اور سرکشی و بغاوت شروع کردے تو وہ قوم صفحہٴ ہستی سے جلد ہی مٹ جایا کرتی ہے :
﴿وَكَأَيِّن مِن قَر‌يَةٍ عَتَت عَن أَمرِ‌ رَ‌بِّها وَرُ‌سُلِهِ فَحاسَبنـٰها حِسابًا شَديدًا وَعَذَّبنـٰها عَذابًا نُكرً‌ا ٨ فَذاقَت وَبالَ أَمرِ‌ها وَكانَ عـٰقِبَةُ أَمرِ‌ها خُسرً‌ا ٩ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم عَذابًا شَديدًا ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ......١٠ ﴾..... سورة الطلاق
"اور کتنی بستیاں ایسی گذر چکی ہیں جنہوں نے اپنے ربّ اور ا س کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہم نے سختی سے ان کاحساب لیا اور ان کو بڑے عذاب (بیماری قحط وغیرہ میں) پھنسا دیا، بالآخر انہوں نے اپنے برے اعمال کا وبال چکھ لیا اور ان کے برے کاموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ملیا میٹ ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے سخت ترین عذاب تیار کررکھا ہے عقل والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔"
ناپ تول میں کمی بیشی اور زکوٰة ادا نہ کرنا :جو قوم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیروں کو پوجنے لگے اور ماپ تول میں کمی بیشی کرنا شروع کردے تو ایسی قوم بھی بہت جلد صفحہٴ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہے۔ سورئہ ہود میں اللہ نے حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کا قصہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ اپنی قوم کو خدائے واحد کا پرستار بننے کی دعوت دیتے رہے اور ماپ تول میں کمی بیشی سے منع کرتے رہے لیکن ان کی قوم نے صاف کہہ دیا کہ اے شعیب ! ہم تیرے کہنے پر اپنے آباؤ اجداد کے دین کو نہیں چھوڑ سکتے اور ماپ تول میں کمی بیشی سے بھی باز نہیں آسکتے حضرت شعیب کے بار بار نصیحت کرنے اور سمجھانے کے باوجود جب قوم باز نہ آئی تو حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا:
"میری قوم! تم اپنی جگہ جو کرتے ہو، کرتے رہو اور میں اپنا کام کرنے والاہوں، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور رسوا کن عذاب کی لپیٹ میں کون آتا ہے؟!!ہود:۹۳
پھر قومِ شعیب  پر عذابِالٰہی کا کوڑا برسا اور زوردار آواز نے ان کے کلیجے چیر دیئے اور وہ ایسے ختم کردیئے گئے جیسے وہ وہاں کبھی آباد ہی نہیں رہے تھے۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ماپ تول میں کمی بیشی کوئی معمولی نہیں بلکہ سنگین جرم ہے اور اس جرم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ پیداوار میں کمی کرکے قحط میں مبتلاکر دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضرت رسول اقدسﷺ نے فرمایا:
" جو لوگ ماپ تول میں کمی بیشی کریں گے: اللہ تعالیٰ ان کی پیداوار کم کردے گا اور ان پر قحط مسلط فرما دے گا۔" (ترغیب وترہیب)
آج اگر ہم اپنے معاشرے کاجائزہ لیں تو بے شمار تاجر ایسے ملیں گے جواس گھناؤنے جرم کو اپنی ذہنی ہوشیاری اور چالاکی سمجھتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کے لئے دنیا میں قحط اور آخرت میں عذابِ الیم کی وعید سنائی ہے
﴿وَيلٌ لِلمُطَفِّفينَ ١ الَّذينَ إِذَا اكتالوا عَلَى النّاسِ يَستَوفونَ ٢ وَإِذا كالوهُم أَو وَزَنوهُم يُخسِر‌ونَ ٣ ﴾..... سورة المطففين
"بڑی خرابی ہے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے جب لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ناپ یا تول کر دیتے ہیں توکم دیتے ہیں"
جب معاشرے میں لوگ اپنے مال و دولت سے صدقہ و خیرات عشر اور زکوٰة دینے سے پہلو تہی کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کی پیداوار ختم کرکے قحط میں مبتلا کردیتے ہیں۔سورئہ قلم میں اللہ تعالیٰ نے باغ والوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿إِنّا بَلَونـٰهُم كَما بَلَونا أَصحـٰبَ الجَنَّةِ إِذ أَقسَموا لَيَصرِ‌مُنَّها مُصبِحينَ ١٧ وَلا يَستَثنونَ ١٨ فَطافَ عَلَيها طائِفٌ مِن رَ‌بِّكَ وَهُم نائِمونَ ١٩ فَأَصبَحَت كَالصَّر‌يمِ ٢٠ ﴾... سورة ن
"ہم نے ان (مکہ کے کافروں) کو اس طرح آزمایا جیسے ایک باغ والوں کو آزمایا تھا جب وہ باغ والے قسم اُٹھا بیٹھے کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ لیں گے اور انہوں نے ( غریبوں، مسکینوں کی) استثناء نہ کی تو وہ سو ہی رہے تھے کہ تیرے مالک کی طرف سے ایک پھیرا لگانے والی (بلا) باغ پر پھیرا کر گئی۔ پھر سارا باغ ایسا ہوگیا جیسے کوئی سارا پھل کاٹ کر لے گیا ہو"
جب ان باغ والوں نے غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کو ان کا حق (عشر و زکوٰة وغیرہ) دینے کی بجائے اپنے باغ کا سارا پھل خود ہی سمیٹنے کا پروگرام بنایا اور رات کی تاریکی میں جاکر پھل کاٹنے کے لئے آپس میں صلاح و مشورے کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے آگ بھیج کر ان کے سارے باغ کو تباہ و برباد کردیا۔ حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ حضرت رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا:
«ما نقض قوم العهد إلا کان القتل بينهم ولا ظهرت الفاحشة في قوم إلا سلط الله عليهم الموت ولا منع قوم الزکاة إلا حبس عنهم الفطر» (ترغیب و ترہیب)
"جو قوم وعدے کی پاسداری نہیں کرے گی، ان کے درمیان قتل و غارتگری شروع ہوجائے گی اور جس قوم میں زنا کاری عام ہوجائے گی، ان پر اللہ تعالیٰ موت مسلط فرما دے گا اور جو قوم زکوٰة روک لے گی، اللہ تعالیٰ ان سے بارانِ رحمت کو روک لے گا"
حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسولِ معظمﷺ نے فرمایا:
«لم ينقص قوم المکيال والميزان إلا أخذوا بالسنين وشدة الموٴنة وجور السلطان عليهم ولم يمنعوا زکاة أموالهم إلا منعوا القَطْرَ من السماء ولو لا البهائم لم يمطروا »(تلخیص الحبیر، ابن ماجہ: ۴۰۰۹)
"جو قوم ناپ تول میں کمی بیشی کرتی ہے، اس کو قحط سالی کی سخت مصیبتوں میں گرفتار کرلیا جاتاہے اور ظالم حکمران ان پر مسلط کردیئے جاتے ہیں اور جو لوگ اپنے مال سے زکوٰة روک لیتے ہیں، ان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں۔ اگر جانور نہ ہوتے توبالکل بارش نہ ہوتی۔"
زکوة ادا نہ کرنا:امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف اعلانِ جہاد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ جو شخص نماز اور زکوٰة میں فرق کرے گا، میں اس کے خلاف جنگ کروں گا۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک 'اسلامی جمہوریہ پاکستان' میں اسلام کے اس اہم رکن یعنی ادائیگی زکوٰة سے فرار ہونے کی قانونی گنجائش موجود ہے اور درہم و دینار کے پجاری اسلام کے منافی اس قانون کا سہارا لے کر زکوٰة نہ دے کر غضب ِالٰہی کو دعوت دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے زکوٰة نہ دینے والوں کے لئے دنیا میں قحط اور خشک سالی جیسی نہایت سنگین سزا تیار کر رکھی ہے اور آخرت میں عذاب جہنم کی شدید وعید سنائی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
﴿وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ فَبَشِّر‌هُم بِعَذابٍ أَليمٍ ٣٤ يَومَ يُحمىٰ عَلَيها فى نارِ‌ جَهَنَّمَ فَتُكوىٰ بِها جِباهُهُم وَجُنوبُهُم وَظُهورُ‌هُم ۖ هـٰذا ما كَنَزتُم لِأَنفُسِكُم فَذوقوا ما كُنتُم تَكنِزونَ ٣٥ ﴾..... سورة التوبة
"اور جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو جس دن اس خزانے کو نارِ دوزخ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ا ن کی پیشانیاں،پہلو اورپیٹھیں داغی جائیں گی ( اور ان سے کہا جائے گا ) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کررکھا تھا، اپنے خزانوں کا مزہ چکھو!"
صحیح مسلم ، کتاب الزکوٰة کے باب اثم مانع الزکوٰة میں حدیث ہے کہ
"جو شخص اپنے مال سے زکوٰة نہیں دیتا، قیامت والے دن اس کے مال کو آگ کی تختیاں بنا کر اس کے دونوں پہلو،پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا۔ یہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اور لوگوں کا فیصلہ ہونے تک اس کا یہی حال رہے، اس کے بعد اسے جنت یا جہنم میں لے جایا جائے گا ۔ "
اس لئے دنیا میں قحط اور خشک سالی اور دیگر عذابوں سے بچنے اور آخرت میں نارِ دوزخ سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے مال و دولت سے زکوٰة عشر اور صدقہ و خیرات نکالنا ضروری ہے۔
اللہ کے دین سے روگردانی : جو قوم اللہ کے نازل کردہ دین سے روگردانی کو اپنا شیوہ بنا لے، اللہ ان کے مادّی وسائل کی کثرت و فراوانی کے باوجود ان کی گذران تنگ کردیتے ہیں۔فرمانِ الٰہی ہے :
﴿وَمَن أَعرَ‌ضَ عَن ذِكر‌ى فَإِنَّ لَهُ مَعيشَةً ضَنكًا......١٢٤ ﴾..... سورة طه
"جس نے میری کتاب (قرآن) سے منہ موڑ لیا (دنیا میں) اسکی معیشت تنگ کردی جائے گی"
آج اگر ہم اپنا اپنا جائزہ لیں تو یہ حقیقت ہرایک پر واضح ہوجاتی ہے کہ ہم نے من حیث القوم زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ تعالیٰ کے دین سے بغاوت کی روش اختیار کر رکھی ہے۔ تہذیب و تمدن، معاشرت ومعیشت، سیاست و عبادت، الغرض زندگی کے تمام شعبوں میں ہم پر یہود و نصاریٰ اور ہندوانہ تہذیب کے اثرات کی چھاپ نظر آتی ہے۔ جبکہ اللہ کے نازل کردہ دین پر عمل پیرا ہونے سے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ارشاد خداوندی ہے:
﴿وَلَو أَنَّهُم أَقامُوا التَّور‌ىٰةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيهِم مِن رَ‌بِّهِم لَأَكَلوا مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَر‌جُلِهِم......٦٦ ﴾..... سورة المائدة
"اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور جو کچھ ان کی جانب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے"
تفسیر احسن البیان میں ہے کہ اوپر کا ذکر یا تو بطورِ مبالغہ ہے یعنی کثرت سے اور انواع و اقسام کے رزق اللہ تعالیٰ مہیا فرماتا یا اوپر سے مراد آسمان ہے یعنی حسب ِضرورت خوب بارشیں برساتا اور نیچے سے مراد زمین ہے یعنی زمین اس بارش کواپنے اندر جذب کرلیتی اور خوب پیداوار دیتی نتیجةً شادابی اور خوشحالی کا دور دورہ ہوتا۔
انبیاء کرام کی تکذیب: جو قوم انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والسلام کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بجائے ان کی تکذیب کرنا شروع کردے تو ایسی قوم پر بھی اللہ تعالیٰ قحط مسلط فرما دیتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ جب قومِ عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بجائے ان کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر قحط مسلط کردیا اور ان پر طوفان کا عذاب بھیج کر انہیں نیست و نابود کردیا :
﴿فَلَمّا رَ‌أَوهُ عارِ‌ضًا مُستَقبِلَ أَودِيَتِهِم قالوا هـٰذا عارِ‌ضٌ مُمطِرُ‌نا ۚ بَل هُوَ مَا استَعجَلتُم بِهِ ۖ ر‌يحٌ فيها عَذابٌ أَليمٌ ٢٤ تُدَمِّرُ‌ كُلَّ شَىءٍ بِأَمرِ‌ رَ‌بِّها فَأَصبَحوا لا يُر‌ىٰ إِلّا مَسـٰكِنُهُم ۚ كَذ‌ٰلِكَ نَجزِى القَومَ المُجرِ‌مينَ ٢٥ ﴾..... سورة الاحقاف
"جب وہ دور سے بادل آتا دیکھتے تو کہتے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ دراصل یہ بادل وہی چیز ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے۔ اس میں ایسی ہوا ہے جس میں بڑا دردناک عذاب ہے جواپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر رہی ہے اور وہ ایسے ختم کردیئے گئے کہ ان کے مکانات کے علاوہ کوئی شے دکھائی نہیں دیتی تھی، مجرموں کی قوم کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔"
زنا کاری اور فحاشی کاعام ہوجانا:جس معاشرے میں بے حیائی، فحاشی اور عریانی بدکاری اور زنا کاری عام ہوجائے وہ معاشرہ بھی عذابِ الٰہی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے سورہٴ یوسف میں اہل مصر کی اخلاقی بدحالی کانقشہ پیش کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ مصر کے عوام تو عوام رہے وہاں کے حکمرانوں کی بیگمات بھی زنا کاری کی دلدل میں بری طرح مبتلا تھیں اور بدکاری کی اس حد تک رسیا تھیں کہ اپنے ناپاک منصوبے میں ناکامی کی صورت میں حضرت یوسف علیہ السلام کوبے گناہ پابند ِسلاسل کرا دیا تھا۔ چنانچہ قرآن حکیم نے شہادت دی کہ اس زناکاری اور فحاشی کی دلدل میں پھنسے ہوئے معاشرے پر اللہ تعالیٰ نے سات سال تک قحط مسلط کئے رکھا، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا :
«إذا ظهر في قوم الزنا والربا فقد أحلوا بأ نفسهم عتاب الله» (ترغیب وترہیب)
"جس قوم میں زناکاری اور سود خوری عام ہوجائے وہ اپنے لئے اللہ کے عذاب کو حلال کرلیتی ہے"
آج کس قدر افسوسناک بات ہے کہ 'لا إله إلا الله' کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والے وطن عزیز پاکستان میں اس گھناؤنے جرم کے لئے پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں اور اخبارات کے کئی صفحات حیا سوز تصاویر اور بدکاروں ، اداکاروں کے انٹرویوز سے سیاہ ہوتے ہیں اور رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا نے نکال دی ہے اور اس دفعہ تو جشن بہاراں کے نام پراور پھر بسنت کے موقع پر سرکاری سرپرستی میں جس طرح بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیا گیا ہے، وہ نہایت ہی باعث شرم اور قابل مذمت ہے!!
اور اس سے بڑھ کردکھ کی بات یہ ہے کہ اہل علم ودانشور حضرات کوقومی ہیرو قرار دینے کی بجائے اداکاروں اور بدکاروں کوبڑے خوشنما اور پرکشش نام اور ایوارڈ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ایک اسلامی ملک میں جب علم وہنر اور تعلیم وتہذیب کی یوں بے حرمتی اور بے توقیری کی جائے اور گویوں اور بھانڈوں کو ثقافتی سفیر ،محبت کے راہی اور دیگر خوشنما نام دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو پھر ایسے ملک میں فتنے فساد، معاشی بدحالی، اندرونی اور بیرونی جھگڑے، خشک سالی اور قحط ہو نے میں چنداں حیرانگی نہیں۔
شرک وبدعت : جو قوم خالق حقیقی اللہ ربّ العزت کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت کرنے لگے اور مصائب و آلام کے رفع کے لئے غیر اللہ کے نام کی نذرونیاز اور چڑھاوے چڑھانے لگے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو بھی قحط سالی اور دیگر سنگین مصیبتوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔
کفارِ قریش کے سامنے جب رسول کریمﷺ نے توحید کی دعوت پیش کرتے ہوئے انہیں خدائے واحد کا پرستار بننے کی دعوت دی تو انہوں نے حسدوعناد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے خود ساختہ معبودوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا اور وہ بڑی مصیبت میں گرفتار ہوگئے حتیٰ کہ وہ آپس میں لڑ لڑ کر مرنے لگے۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ مردار چمڑے اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہوگئے ان میں سے ہر شخص کو مصیبت اور بھوک کی شدت کی وجہ سے زمین و آسمان کے درمیان دھواں نظر آنے لگا۔ (صحیح بخاری: حدیث ۴۳۲۵)
آج ہمارے عوام اور حکمران دونوں طبقے شرک کی دلدل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ عوام رفع حاجات کے لئے قبروں میں دفن افراد کے مزاروں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں نذرو نیازکے طور پر بکرے چھترے دے کر اپنے مال و دولت سے بھی لٹتے ہیں اور سب سے بڑی دولت ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اور حکمران کرسی ٴاقتدار کو طول دینے کے لئے وائٹ ہاؤس کا طواف کرتے اور ٹیکسوں کی بھرمار کرکے عوام کے خون پیسنے کی کمائی کا نذرانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حضور بطورِ نیاز پیش کرتے ہیں۔ جس ملک کے عوام اور حکمرانوں کا یہ حال ہو تو پھر ان پر بارانِ رحمت کا نزول نہیں ہوا کرتا بلکہ خشک سالی ، قحط اور دیگر مختلف عذابوں کی لپیٹ میں آجانا اس قوم کا مقدر بن جاتا ہے۔
ناشکری : جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے تکبر اور غرور کرنا شروع کردے اور آخرت کوبھول جائے تو ایسی قوم کے مال و دولت کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کرکے عذاب سے دوچار کردیتے ہیں۔ سورہٴ کہف میں اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کا واقعہ بیان فرمایا ہے :
﴿وَاضرِ‌ب لَهُم مَثَلًا رَ‌جُلَينِ جَعَلنا لِأَحَدِهِما جَنَّتَينِ مِن أَعنـٰبٍ وَحَفَفنـٰهُما بِنَخلٍ وَجَعَلنا بَينَهُما زَر‌عًا ٣٢ كِلتَا الجَنَّتَينِ ءاتَت أُكُلَها وَلَم تَظلِم مِنهُ شَيـًٔا ۚ وَفَجَّر‌نا خِلـٰلَهُما نَهَرً‌ا ٣٣ وَكانَ لَهُ ثَمَرٌ‌ فَقالَ لِصـٰحِبِهِ وَهُوَ يُحاوِرُ‌هُ أَنا۠ أَكثَرُ‌ مِنكَ مالًا وَأَعَزُّ نَفَرً‌ا ٣٤وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظالِمٌ لِنَفسِهِ قالَ ما أَظُنُّ أَن تَبيدَ هـٰذِهِ أَبَدًا ٣٥ وَما أَظُنُّ السّاعَةَ قائِمَةً وَلَئِن رُ‌دِدتُ إِلىٰ رَ‌بّى لَأَجِدَنَّ خَيرً‌ا مِنها مُنقَلَبًا ٣٦ قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُ‌هُ أَكَفَر‌تَ بِالَّذى خَلَقَكَ مِن تُر‌ابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ سَوّىٰكَ رَ‌جُلًا ٣٧ لـٰكِنّا۠ هُوَ اللَّهُ رَ‌بّى وَلا أُشرِ‌كُ بِرَ‌بّى أَحَدًا ٣٨ وَلَولا إِذ دَخَلتَ جَنَّتَكَ قُلتَ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ۚ إِن تَرَ‌نِ أَنا۠ أَقَلَّ مِنكَ مالًا وَوَلَدًا ٣٩ فَعَسىٰ رَ‌بّى أَن يُؤتِيَنِ خَيرً‌ا مِن جَنَّتِكَ وَيُر‌سِلَ عَلَيها حُسبانًا مِنَ السَّماءِ فَتُصبِحَ صَعيدًا زَلَقًا ٤٠ أَو يُصبِحَ ماؤُها غَورً‌ا فَلَن تَستَطيعَ لَهُ طَلَبًا ٤١ وَأُحيطَ بِثَمَرِ‌هِ فَأَصبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيهِ عَلىٰ ما أَنفَقَ فيها وَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُر‌وشِها وَيَقولُ يـٰلَيتَنى لَم أُشرِ‌ك بِرَ‌بّى أَحَدًا ٤٢﴾...... سورة الكهف
"مثال بیان کرو ان کے لئے دو آدمیوں کی: ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ عطا فرمائے، ان کے ارد گرد کھجور کی باڑ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔ دونوں باغ پھلے پھولے اور پھل دینے میں انہوں نے ذرّہ سی بھی کسر نہ چھوڑی۔ ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کردی اور اس سے خوب نفع حاصل ہوا۔
یہ سب کچھ پاکر ایک دن وہ اپنے ساتھی سے کہنے لگا کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری بھی رکھتا ہوں۔ پھر وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوجائے گی اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگرمجھے کبھی اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا۔ اس کے ساتھی نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :کیا تو اس ذات کے ساتھ شکر کی بجائے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے اور پھرنطفے سے پیدا کیا اورتجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا۔ میرا ربّ تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہو رہاتھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا ماشاء اللہ لاقوة إلا باللہ!
اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پارہا ہے تو بعید نہیں کہ میرا ربّ تیرے باغ سے بہتر مجھے عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج کر اسے تباہ و برباد کردے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے یا اس کا پانی زمین میں اُتر جائے اور پھر تو کسی طرح نہ نکال سکے ۔
آخر کار یہ ہوا اس کا سارا پھل مارا گیا اور وہ اپنے انگور کے باغ کو ٹٹیوں پر اُلٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔"
حضرت شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں کہ آخر اس کے باغ کا وہی حال ہوا جو اس کے نیک بھائی کی زبان سے نکلا تھا کہ رات کو آگ لگ گئی، آسمان سے سب جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگیا جو مال خرچ کیا تھا، دولت بڑھانے کو، وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ (موضح القرآن)
اس واقعہ سے مندرجہ ذیل چار باتیں معلوم ہوتی ہیں :
1۔ دنیوی نعمتیں دو گھڑی کی دھوپ اور چار دن کی چاندنی ہیں، ناپائیدار اور فانی ہیں۔ پس عقل مند وہ ہے جوان پر گھمنڈ نہ کرے اور ان کے بل بوتے پر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ نہ ہوجائے اور تاریخ کے وہ اوراق ہمیشہ پیش نظر رکھے جن کی آغوش میں فرعون، نمرود، ثمود اور عاد کی قاہرانہ طاقتوں کاانجام آج تک محفوظ ہے :﴿سير‌وا فِى الأَر‌ضِ فَانظُر‌وا كَيفَ كانَ عـٰقِبَةُ المُجرِ‌مينَ ٦٩ ﴾..... سور النمل "زمین کی سیر کرو اور پھر دیکھو کہ نافرمانوں کا کیا انجام ہوا!"
2۔ حقیقی اور دائمی عزت ایمان اور عمل صالح سے میسر ہوتی ہے، مال و دولت اور حشمت ِدنیوی سے حاصل نہیں ہوتی۔قریش مکہ کو مال و دولت، ثروت و سطوت حاصل تھی ،مگر بدر کے میدان میں ان کے انجامِ بد اور دین و دنیا کی رسوائی کو کوئی روک نہ سکا۔ جبکہ مسلمان ہمہ قسم کے سامانِ عیش سے محروم تھے مگر ایمان باللہ اور عمل صالح نے جب ان کو دینی و دنیوی عزت و حشمت عطا کی تو اس میں کوئی حائل نہ ہوسکا :﴿وَلِلَّهِ خَزائِنُ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ وَلـٰكِنَّ المُنـٰفِقينَ لا يَفقَهونَ ٧ ﴾...... سورة المنافقون
" حقیقی عزت اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہی ہے مگر منافقین اس حقیقت سے ناآشنا ہیں۔"
۳۔ موٴمن کی شان یہ ہے کہ اگر اس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاکی نعمتوں سے نوازا ہے تو غرور اور تکبر کی بجائے درگاہِ حق میں جبیں نیاز جھکا کر اعترافِ نعمت کرے اور دل و زبان سے دونوں سے اقرار کرے کہ خدایا اگر تو یہ عطا نہ فرماتا تو ا ن کا حصول میری اپنی قوت و طاقت سے باہر تھا۔ یہ سب تیرے ہی عطا و نوال کاصدقہ ہے :
﴿وَلَولا إِذ دَخَلتَ جَنَّتَكَ قُلتَ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ......٣٩﴾..... سورة الكهف
"اور اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت تو نے یوں کیوں نہ کہا کہ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔"
صحیح حدیث میں ہے کہ لاحول ولا قوة الا باللہ جنت کے پوشیدہ خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے کہ بندہ اعتراف کرے کہ بھلائی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر نہ ممکن ہے یعنی جس شخص نے زبان سے اقرار اور دل سے اس حقیقت کااعتراف کرلیا گویا کہ اس نے جنت کے مستور خزانوں کی کنجی حاصل کرلی۔
اس کے برعکس کافر کی حالت یہ ہے کہ اس کو جب دولت و ثروت اور جاہ و جلال میسر آجائے تو وہ خودی میں آکر مغرور ہوجاتا ہے اورجب اسے خدا کا کوئی نیک بندہ سمجھتا ہے کہ یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہے، اس کا شکر کر تو وہ اکڑ کر کہتا ہے:﴿إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ عِندى﴾
کہ "یہ خدا کا دیا ہوا نہیں بلکہ میری اپنی دانائی اور علم و ہنر کا نتیجہ ہے۔"
موٴمن اور کافر کو اللہ کی طرف سے بھی الگ الگ جواب ملتا ہے جسے اس طرح بیان کیا گیا ہے :
﴿أَيَحسَبونَ أَنَّما نُمِدُّهُم بِهِ مِن مالٍ وَبَنينَ ٥٥ نُسارِ‌عُ لَهُم فِى الخَير‌ٰ‌تِ ۚ بَل لا يَشعُر‌ونَ ٥٦ إِنَّ الَّذينَ هُم مِن خَشيَةِ رَ‌بِّهِم مُشفِقونَ ٥٧ وَالَّذينَ هُم بِـٔايـٰتِ رَ‌بِّهِم يُؤمِنونَ ٥٨ وَالَّذينَ هُم بِرَ‌بِّهِم لا يُشرِ‌كونَ ٥٩وَالَّذينَ يُؤتونَ ما ءاتَوا وَقُلوبُهُم وَجِلَةٌ أَنَّهُم إِلىٰ رَ‌بِّهِم ر‌ٰ‌جِعونَ ٦٠ أُولـٰئِكَ يُسـٰرِ‌عونَ فِى الخَير‌ٰ‌تِ وَهُم لَها سـٰبِقونَ ٦١ ﴾.... سورة المومنون
"کیا (یہ کافر) لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے اس لئے ان کی امداد کر رہے ہیں کہ بھلائی پہنچانے میں سرگرمی دکھائیں ، نہیں مگر وہ شعور نہیں رکھتے (کہ ان کے بارے میں حقیقت حال دوسری ہے یعنی قانونِ مہلت کام کر رہا ہے) اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، اس کی نشانیوں پریقین رکھتے ہیں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اس کی راہ میں جو کچھ دے سکتے ہیں، بلا تامل دیتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل ترساں رہتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے حضور لوٹنا ہے تو بلا شبہ یہ لوگ ہیں جوبھلائیوں میں تیزگام ہیں اور یہی ہیں جو اس راہ میں سب سے آگے نکل جانے والے ہیں۔"
۴۔ سعید وہ ہے جو انجام سے قبل حقیقت ِانجام کو سوچ لے اور انجام کار سعادت ِابدی و سرمدی پائے اور شقی وہ ہے جو انجام پر غور کئے بغیر غرور و نخوت کا اظہار کرے اور انجامِ بد دیکھنے کے بعد ندامت وحسرت کا اِقرار کرے اور اس وقت یہ ندامت و حسرت اس کے کچھ کام نہ آئے ۔ چنانچہ اس واقعہ میں بھی منکر کو وہی شقاوت پیش آئی : ﴿وَأُحيطَ بِثَمَرِ‌هِ فَأَصبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيهِ عَلىٰ ما أَنفَقَ فيها وَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُر‌وشِها وَيَقولُ يـٰلَيتَنى لَم أُشرِ‌ك بِرَ‌بّى أَحَدًا ٤٢ ﴾.... سورة الكهف
"آخر کار ہوا یہ کہ اس کا سارا پھل مارا گیا اوروہ اپنے انگور کے باغ کوٹٹیوں پر اُلٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا، کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا"
اور یہی روزِ بد فرعون کو دیکھنا پڑا کہ وقت گزرنے کے بعد اس نے کہا: اگر عذاب کے مشاہدے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت مان لیتا تو اس دردناک عذاب کی لپیٹ میں نہ آتا:
﴿حَتّىٰ إِذا أَدرَ‌كَهُ الغَرَ‌قُ قالَ ءامَنتُ أَنَّهُ لا إِلـٰهَ إِلَّا الَّذى ءامَنَت بِهِ بَنوا إِسر‌ٰ‌ءيلَ وَأَنا۠ مِنَ المُسلِمينَ ٩٠ ءالـٔـٰنَ وَقَد عَصَيتَ قَبلُ وَكُنتَ مِنَ المُفسِدينَ ٩١ ﴾..... سورة يونس
"یہاں تک کہ جب وہ (فرعون) غرقاب ہونے لگا تو اس نے کہاکہ میں اقرار کرتا ہوں کہ کوئی الٰہ نہیں سوائے اس ذات کے جس پربنواسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوتا ہوں، اللہ کی طرف سے جواب آیا اور اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور فسادیوں میں سے تھا۔"
قارون کا قصہ کبر ونخوت: قارون کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کے خزانے وافر مقدار میں عطا فرمائے تھے، اس کے خزانوں کی چابیاں اٹھانے کے لئے قوی ہیکل مزدوروں کی جماعت درکار تھی۔ اس تمول اور سرمایہ داری نے اس کو بے حد مغرور کردیا تھا اور وہ دولت کے نشہ میں اس قدر چور تھا کہ اپنے عزیزوں،قرابت داروں اور قوم کے افراد کو حقیر و ذلیل سمجھتا اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم نے ایک مرتبہ ان کو نصیحت کی کہ
"اللہ تعالیٰ نے تجھے بے شمار دولت و ثروت بخشی اور عزت و حشمت عطا فرمائی ہے۔لہٰذا اس کا شکر کر اور مالی حقوق زکوٰة و صدقات دے کر غربا ، فقرا اور مساکین کی مدد کر، خدا کو بھول جانا اور اس کے اَحکام کی خلاف ورزی کرنا اَخلاق و شرافت دونوں لحاظ سے سخت ناشکری اور سرکشی ہے۔ اس کی دی ہوئی عزت کا صلہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تو کمزوروں اور ضعیفوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگے اور تکبر و غرور میں غریبوں اور عزیزوں کے ساتھ نفرت سے پیش آئے۔ "
قارون کے جذبہ انانیت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت پسند نہ آئی اور اس نے مغرورانہ انداز میں جناب موسیٰ علیہ السلام سے کہا: موسیٰ یہ میری دولت و ثروت تیرے خدا کی عطا نہیں ہے، یہ تو میرے عقلی تجربوں اور عملی کاوشوں اور ہنرمندی کا نتیجہ ہے :﴿إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ عِندى﴾، میری تیری نصیحت مان کر اپنی دولت کو اس طرح برباد نہیں کرسکتا۔ مگر موسیٰ علیہ السلام برابر اپنے فریضہ تبلیغ کو سرانجام دیتے رہے اور قارون کو راہِ ہدایت دکھاتے رہے۔
قارون نے جب یہ دیکھا کہ موسیٰ کسی طرح پیچھا نہیں چھوڑتے تو ان کو زِچ کرنے اور اپنی دولت و حشمت اور ظاہری چمک و دمک، ٹھاٹھ باٹھ اور رئیسانہ کروفر اور جاہ و جلال کے مظاہر سے مرعوب کرنے کے لئے ایک دن بڑے متکبرانہ انداز کے ساتھ نکلا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مجمع میں پیغامِ الٰہی سنا رہے تھے کہ قارون ایک بڑی جماعت کے ساتھ خاص شان و شوکت میں خزانوں کی نمائش کرتے ہوئے سامنے سے گزرا ، اشارہ یہ تھا کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو میں بھی ایک جتھا رکھتاہوں اور زرو جواہر کا بھی مالک ہوں لہٰذا ان دونوں ہتھیاروں کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام کوشکست دے کر رہوں گا۔
بنی اسرائیل نے جب قارون کی اس دنیوی ثروت و عظمت کو دیکھا تو ان میں سے کچھ آدمیوں کے دلوں میں انسانی کمزوری نے جذبہ پیدا کیا اور وہ بے چین ہو کر یہ دعا کرنے لگے: اے کاش! یہ دولت و ثروت ہم کو بھی حاصل ہوتی مگر بنی اسرائیل کے اربابِ حل و عقد نے فوراً مداخلت کی اور ان سے کہنے لگے کہ خبردار اس دنیوی زیب و زینت پر نہ جانا اور اس کے لالچ میں گرفتار نہ ہو بیٹھنا تم عنقریب دیکھو گے، اس مال و دولت کا انجام کیسا ہونے والا ہے؟ آخر کار جب قارون نے کبرونخوت کے خوب مظاہرے کرلئے اور حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی تحقیر و تذلیل میں حد درجہ زور صرف کرلیا تو اب غیرتِ حق حرکت میں آئی اور پاداشِ عمل کے فطری قانون نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور قارون اور اس کی دولت پر خدا کا یہ اٹل فیصلہ ناطق کردیا : ﴿فَخَسَفنا بِهِ وَبِدارِ‌هِ الأَر‌ضَ﴾ "ہم نے قارون اور اس کے سرمایہ کو زمین کے اندر دھنسا دیا" اور بنی اسرائیل کے سامنے اس کا غرور باقی رہا، نہ سامانِ غرور سب کو زمین نے نگل کر سامانِ عبرت بنا دیا۔ قرآنِ حکیم نے اس واقعہ کو سورئہ قصص میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
ان دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ مال و دولت کے ملنے پرشکر کے بجائے اگر تکبر و غرور کیاجائے تو اللہ وہ مال و دولت اور رزق کی فروانی کو تباہ و برباد کرکے اپنا عذاب مسلط کردیتے ہیں۔ ﴿فَاعتَبِر‌وا يـٰأُولِى الأَبصـٰرِ‌﴾
جو قوم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے ناشکری کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے وہ نعمتیں چھین کر انہیں مختلف طرح کے مصائب و آلام میں مبتلا کردیتے ہیں۔ قرآنِ میں اللہ نے فرمایا
﴿وَضَرَ‌بَ اللَّهُ مَثَلًا قَر‌يَةً كانَت ءامِنَةً مُطمَئِنَّةً يَأتيها رِ‌زقُها رَ‌غَدًا مِن كُلِّ مَكانٍ فَكَفَرَ‌ت بِأَنعُمِ اللَّهِ فَأَذ‌ٰقَهَا اللَّهُ لِباسَ الجوعِ وَالخَوفِ بِما كانوا يَصنَعونَ ١١٢﴾.... سورة النحل
"اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال دیتا ہے، وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو وافر رزق پہنچ رہاتھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کردیا۔ تب اللہ نے اس کے باشندوں کو ان کے کرتوتوں کا یہ مزہ چکھایا کہ خوف اوربھوک کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں"
اس سے معلوم ہوا کہ جو قوم کفرانِ نعمت کا راستہ اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کے اَوامر و نواہی سے پہلوتہی کرے ، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کے دروازے بندکردیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے اپنی نعمتیں سلب کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مسحتق بننے کے لئے ضروری ہے کہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
قرآن حکیم نے قومِ سبا پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس قوم پر اللہ تعالیٰ نے بے شمار اور لامحدود انعام و اکرام کئے۔ دنیوی سج دھج، کروفر اور مال و زر کی کثرت کی وجہ سے انہیں ہمہ قسم کی نعمتیں میسر تھیں اور ان تمام چیزوں پر مستزادیہ تھا کہ یمن سے شام تک جس شاہراہ پر اہل سبا کے تجارتی قافلوں کی آمد و رفت تھی، اس کے دونوں جانب حسین و جمیل باغات اور خوشبودار درختوں کا سایہ تھا اور قریب قریب فاصلہ پر ان کے سفر کو آرام دہ بنانے کے لئے کاروان سرائے بنی ہوئیں تھی جو شام کے علاقہ تک ان کو اس آرام کے ساتھ پہنچاتی تھیں کہ پانی، میوؤں اور پھلوں کی کثرت یہ بھی محسوس نہیں ہونے دیتی تھی کہ وہ اپنے وطن میں ہیں یا دشوار گزار سفر میں حتیٰ کہ جب خوش گوار سایہ اور راحت بخش ہوا میں ان کا کارواں سراؤں میں ٹھہرتا، پرلطف میوے اور تازہ پھل کھاتا، ٹھنڈا اور میٹھا پانی پیتا ہوا حجاز اور شام تک آمدورفت رکھتا تو ہمسایہ قومیں رشک و حسد سے ان پر نگاہیں اٹھاتیں اور تعجب و حیرت کے ساتھ ان کی اس عیش و عشرت پرانگشت بدنداں ہوجاتی تھیں۔ قرآنِ حکیم کی ان آیات میں قوم سبا کی خوشحالی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿لَقَد كانَ لِسَبَإٍ فى مَسكَنِهِم ءايَةٌ ۖ جَنَّتانِ عَن يَمينٍ وَشِمالٍ ۖ كُلوا مِن رِ‌زقِ رَ‌بِّكُم وَاشكُر‌وا لَهُ ۚ بَلدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَ‌بٌّ غَفورٌ‌ ١٥ ﴾..... سورة سبا
"بلاشبہ اہل سبا کے لئے ان کے وطن میں قدرتِ الٰہی کی عجیب و غریب نشانی تھی۔ دو باغوں کا (سلسلہ) دائیں بائیں (اور اللہ نے ان کو فرما دیا تھا) کہ اے سبا والو! اپنے پروردگار کی جانب سے بخشی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر کرو، شہر ہے پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشنے والا"
چنانچہ اہل سبا ایک عرصہ تک تو اس جنت ارضی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمت ہی سمجھتے رہے اور حلقہ بگوش اسلام رہتے ہوئے اَحکام الٰہی کی تعمیل اپنا فرض سمجھتے رہے لیکن دنیوی ٹھاٹھ باٹھ اور عیش و عشرت نے ان میں بھی وہی بداخلاقی اور کردارپیدا کردیئے جو ان کی پیشرو متکبر اور مغرور قوموں میں موجود تھے حتی کہ حالت یہاں تک جا پہنچی کہ انہوں نے دین حق کو بھی خیرباد کہہ دیا اور کفر و شرک کی سابقہ زندگی کو پھر اپنا لیا، تاہم ربّ ِغفور نے فوراً گرفت نہیں کی بلکہ اس کی وسعت ِرحمت نے قانونِ مہلت سے کام لیااور انبیاء نے ان کو راہِ حق کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ ان نعمتوں کا مطلب یہ نہیں کہ تم دولت و ثروت اور جاہ و جلال کے نشہ میں مست ہوجاؤ اور نہ یہ کہ اخلاقِ کریمانہ کو چھوڑ بیٹھو اور کفر وشرک اختیار کرکے خدا کے ساتھ بغاوت کا اعلان کردو۔ سوچو اور غور کرو کہ یہ بری راہ ہے اور اس کا انجام نہایت خطرناک ہے۔
ابن منبہ کے حوالے سے محمد بن اسحق بیان کرتے ہیں کہ خوشحالی کے ان دنوں میں ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے تیرہ نبی فریضہ رسالت ادا کرنے آئے مگر انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی موجودہ خوشی اور عیش کو دائمی سمجھ کر کفروشرک کی بدمستیوں میں مبتلا رہے۔ بالآخر تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی بدولت ان کا انجام بھی وہی ہوا جو گذشتہ زمانہ میں اللہ کی نافرمان قوموں کا ہوتا ہے اور اللہ نے ان پر دو طرح کے عذاب مسلط کردیئے :
پہلی سزا: سیل عرم، جس کی بدولت ان کے جنت نظیر باغات برباد ہوگئے اور ان کی جگہ جنگلی بیریاں، خاردار درخت اور پیلو کے درخت اُگ کر یہ شہادت دینے اور عبرت کی کہانی سنانے لگے کہ خدا کی پیہم نافرمانی اور سرکشی کرنے والی اَقوام کا یہی حشر ہوتا ہے۔ چنانچہ ہوا یہ کہ وہ ڈیم جس کی تعمیر پر ان کو بڑا فخر و ناز تھا اور جس کی بدولت ان کے دارالحکومت کے دونوں جانب تین سو مربع میل تک خوب صورت اور حسین باغات اور سرسبز و شاداب کھیتوں اور فصلوں سے چمن گلزار بنا ہوا تھا، وہ ڈیم خدا کے حکم سے ٹوٹ گیا اور اچانک اس کا پانی زبردست سیلاب بن کر وادی میں پھیل گیا اور مآرب اور اس کے تمام حصہ زمین پرجہاں یہ راحت بخش باغات تھے، چھا گیا اور ان سب کو غرقاب کرکے برباد کردیااور جب پانی آہستہ آہستہ خشک ہوگیا تو اس پورے علاقے میں باغوں کی جنت کی جگہ پہاڑوں کے دونوں کناروں سے وادی کے دونوں جانب جھاؤ کے درختوں کے جھنڈ، جنگلی بیروں کے درخت اور پیلو کے درختوں نے لے لی جن کا پھل بدذائقہ تھا۔ اور خدا کے اس عذاب کو اہل مآرب اور قومِ سبا کی کوئی قوت و سطوت نہ روک سکی اور فن تعمیر اور انجینئرنگ کے کمال بھی ان کے کام نہ آئے او ر قوم سبا کے لئے اس کے سوا کوئی چارہٴ کار باقی نہ رہا کہ اپنے وطن مألوف اور بلدہٴ طیبہ مآرب اور نواح کو چھوڑ کر منتشر ہوجائیں۔ قرآن حکیم نے اس عبرت ناک واقعہ کو بیان کرکے دیدہ نگاہ اور بیدار قلب انسان کو نصیحت کا یہ سبق سنایا ہے :
﴿فَأَعرَ‌ضوا فَأَر‌سَلنا عَلَيهِم سَيلَ العَرِ‌مِ وَبَدَّلنـٰهُم بِجَنَّتَيهِم جَنَّتَينِ ذَواتَى أُكُلٍ خَمطٍ وَأَثلٍ وَشَىءٍ مِن سِدرٍ‌ قَليلٍ ١٦ ذ‌ٰلِكَ جَزَينـٰهُم بِما كَفَر‌وا ۖ وَهَل نُجـٰزى إِلَّا الكَفورَ‌ ١٧ ﴾..... سورة سبا
"پھر انہوں (قومِ سبا ) نے ان پیغمبروں کی نصیحتوں سے منہ پھیر لیا پس ہم نے ان زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے دو عمدہ باغوں کے بدلے دو ایسے باغ اُگا دیئے جو بدمزہ پھلوں جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں کے جھنڈ تھے۔ یہ ہم نے ان کو ناشکرگزاری کی سزا دی او رہم ناشکری قوم ہی کو سزا دیا کرتے ہیں"
دوسری سزا: مآرب کے ڈیم ٹوٹ جانے پر جب شہر مآرب اور ا س کے دونوں جانب کے علاقے سرسبز کھیتوں، خوشبودار درختوں اور عمدہ میوؤں اور پھلوں کے شاداب باغوں سے محروم ہوگئے تو ان بستیوں کے اکثر باشندے منتشر ہو کر کچھ شام ، عراق اور حجاز کی جانب چلے گئے اور کچھ یمن کے دوسرے علاقوں میں جا بسے مگر عذابِ الٰہی کی تکمیل ہنوز باقی تھی۔ اس لئے سبا نے صرف غرور اور سرکشی ، کفر و شرک ہی کے ذریعے اللہ کی نعمتوں کو نہیں ٹھکرایا تھا بلکہ ان کو یمن سے شام تک راحت رساں آبادیوں اور کارواں سراؤں کی وجہ سے وہ سفر بھی راس نہ آیا جس میں ان کو یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ سفر کی صعوبتیں کیا ہوتی ہیں اور پانی کی تکلیف اور خوردونوش کی ایذا کس شے کا نام ہے او رقدم قدم پر وہ خوشبودار درختوں اور پھلوں کے باغات کی وجہ سے گرمی اور تپش کی زحمت سے بھی ناآشنا تھے۔
انہوں نے ان نعمتوں پر خدا کا شکر ادا کرنے کی بجائے بنی اسرائیل کی طرح ناک بھوں چڑھا کر یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ بھی بھلا کوئی زندگی ہے کہ انسان سفر کے ارادے سے گھر سے نکلے اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ حالت ِسفر میں ہے یا اپنے گھر میں۔ خوش نصیب انسان تو وہ ہے جو ہمت ِمرداں کے ساتھ سفر کی ہمہ قسم کی تکالیف اٹھائے، پانی اور خوردونوش کے لئے آزار سہے اور اسبابِ راحت و آرام کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے لذتِ سفر کا ذائقہ چکھے ۔ کاش! ہمارا سفر ایسا ہوجائے کہ ہم یہ محسوس کرنے لگیں کہ وطن سے کسی دور دراز جگہ کا سفر کرنے نکلے ہیں او رہم دوری منزل کی تکالیف سہتے ہوئے حضر اور سفر میں امتیاز کرسکیں۔ بدبخت اور ناسپاس گزار انسانوں کی یہ ناشکری تھی جس کی تمناؤں اور آرزؤں میں مضطرب ہو کر خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے تھے اور اس کے انجامِ بد سے غافل ہوچکے تھے۔
قوم سبا نے جب اس طرح کفرانِ نعمت کی انتہا کردی تو اب اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسری سزا یہ دی کہ یمن سے شام تک ان کی تمام آبادیوں کو ویران کردیا جو ان کے راحت و آرام کی کفیل تھیں اور سفر کی ہر قسم کی صعوبتوں سے ان کو محفوظ رکھتی تھیں اور اس طرح پورے علاقے میں خاک لگی اور یمن سے شام تک نو آبادیوں کا یہ سلسلہ ویرانہ میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔ چنانچہ قرآن حکیم کی یہ آیات اسی حقیقت کا اعلان کر رہی ہیں :
﴿ وَجَعَلنا بَينَهُم وَبَينَ القُرَ‌ى الَّتى بـٰرَ‌كنا فيها قُرً‌ى ظـٰهِرَ‌ةً وَقَدَّر‌نا فيهَا السَّيرَ‌ ۖ سير‌وا فيها لَيالِىَ وَأَيّامًا ءامِنينَ ١٨ فَقالوا رَ‌بَّنا بـٰعِد بَينَ أَسفارِ‌نا وَظَلَموا أَنفُسَهُم فَجَعَلنـٰهُم أَحاديثَ وَمَزَّقنـٰهُم كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ لَءايـٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ‌ شَكورٍ‌ ١٩ ﴾..... سور سبا
"ہم نے ان ملک اور برکت والی آبادیوں (یعنی شام) کے درمیان بہت سی کھلی آبادیاں کردی تھیں اور ان میں سفر کی منزلیں (کارواں سرائے) مقرر کی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ چلو ان آبادیوں کے درمیان دن رات بے خوف و خطر۔ مگر انہوں نے کہا: ہمارے پروردگار ہمارے سفروں اور منزلوں کے درمیان دوری کردے اور یہ کہہ کر انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا پس ہم نے ان کو کہانی بنا دیا اور ان کو پارہ پارہ کردیا۔ بلاشبہ اس واقعہ میں عبرت کی نشانیاں ہیں صابر اور شکرگزار بندوں کے لئے۔"
قرآن حکیم نے جب اہل عرب کو سبا اور سیل عرم کا یہ واقعہ سنایا تو اس وقت یمن کا ہرآدمی ا س حقیقت کا بچشم خود مشاہدہ کررہا تھا اور وہ تمام خاندان بھی جو حجاز، شام، عمان، بحرین، نجد میں اس حادثہ کی بدولت پناہ گزیں ہوگئے تھے، اپنے آباؤ اجداد کے اس مرکز کی حالت ِزار کو دیکھ او رسن رہے تھے۔ حتیٰ کہ ہمدانی جو کہ چوتھی صدی ہجری کا مشہور سیاح ہے ، اپنی کتاب 'اکلیل' میں یمن کے اس حصے کے متعلق اپنی عینی شہادت پیش کرتا ہے کہ قرآنِ حکیم نے جنتان عن یمین و شمال کہہ کرجن باغوں کاذکر کیا ہے بلا شبہ آج بھی ان کی جگہ اس قدر کثرت سے پیلو کے درخت موجود ہیں کہ اتنی کثرت کے ساتھ اور کہیں نہیں پائے جاتے اور انہی درختوں کے ساتھ جھاؤ اور کہیں کہیں جنگلی بیر کے درخت بھی نظر آتے ہیں اور وہ دیدئہ بینا کو عبرتناک داستان سنا رہے ہیں۔ فاعتبروا يأولي الأبصار!
جو قوم فرمانِ نبوی کے سامنے جھکنے کی بجائے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر کمربستہ ہوجائے ، اللہ تعالیٰ ان کی پیداوار میں کمی کرکے انہیں غربت و افلاس، فقر و فاقے اور بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں :
"سیدنا عمر فاروق ایک دفعہ اپنے زمانہ خلافت میں غلہ منڈی میں گئے اور جاکر اناج کے ڈھیروں کا معائنہ کرنے لگے۔ ایک جگہ آپ نے نہایت عمدہ اناج دیکھا اور فرمایا کہ اللہ اس غلے میں برکت عطا فرمائے اور اس کے لانے والے پر بھی رحم و کرم فرمائے۔ آپ کو بتایا گیا کہ اس غلہ کے مالکوں نے اس کو سٹاک کیا ہوا تھا۔ آپ نے دریافت کیا کہ وہ کون ہیں جنہوں نے اُمت کی ضرورت کے وقت اس غلہ کو سٹاک کیا ہے۔ آپ کو بتایا گیا کہ فلاں فلاں آدمی ہیں۔ آپ نے ان کو طلب کرکے فرمایا کہ
"میں نے رسول کریمﷺ سے سنا ہے کہ جو آدمی امت ِمسلمہ کی ضرورت کے وقت اناج سٹاک کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے کوڑھ کی بیماری لگا دیں گے یا اسے غربت و افلاس میں مبتلا کردیں گے۔"
ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے وہاں کھڑے ہی اللہ کے حضور توبہ کرلی اور آئندہ ذخیرہ اندوزی نہ کرنے کا اللہ سے وعدہ کرلیا لیکن دوسرے آدمی نے کہا کہ یہ ہمارا اناج ہے، ہم جب چاہیں اور جیسے چاہیں خرچ کریں کسی کو کیا اعتراض ہے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو کوڑھ کی بیماری میں مبتلا کردیا اور وہ اسی حال میں مرگیا۔ (مسند احمد ، مسندعمر بن خطاب: ۱۳۰)
فریضہ امر بالمعروف سے روگردانی: جو قوم امر باالمعروف ونہی عن المنکر کے شرعی فریضے کو چھوڑ دیتی ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی زد میں آجاتی ہے۔ حذیفہ بن یمان سے مروی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا:
«والذي نفسي بیدہ لتأمرن وتنھون عن المنکر أولیوشکن اللہ أن یبعث علیکم عذابا منه فتدعونه فلا یستجاب لکم» (جامع ترمذی، کتاب الفتن:۲۰۹۵)
"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب مسلط کردے۔ پھر تم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔"
قطع رحمی : جو قوم صلہ رحمی کی بجائے قطعی رحمی اور آپس میں رحم و کرم کی بجائے سرکشی و بغاوت اور ظلم وستم پر اُتر آئے، اللہ اسے دنیا میں عذاب کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا :
«ما من ذنب أحری أن يعجل لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخرله في الآخرة من قطيعة الرحم والبغي»(ابو داود، کتاب الادب:ص۳۵)
" دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی دیتے ہیں اور وہ دو گناہ یہ ہیں: قطع رحمی اور ظلم و ستم کرنا"
حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ حضرت رسول کریمﷺ نے فرمایا:
«لاَ تَظْلِمُوْا فَتَدْعُوْا فَلاَ يُسْتَجَاب لَکُمْ وَتَسْتَقُوْا فَلاَ تَسْقُوْا وَتَسْتَنْصُرُوْا فَلاَ تُنْصَرُوْا» (مجمع الزوائد: ۵/۲۳۵)
"ظلم نہ کرو ورنہ تمہارا حال یہ ہوگا کہ تم دعائیں کرو لیکن تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی، اور تم بارش طلب کرو گے لیکن تم پر بارش نہیں برسے گی اور تم مدد طلب کرو گے لیکن تمہاری مدد نہیں کی جائے گی"
جو قوم اللہ کی نافرمانی کواپنا شیوہ بنا لے اور گناہ پر گناہ کرتی چلی جائے اور توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے رزق سے محروم کردیتے ہیں۔ حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«إن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يعيبه ولا يرد القدر إلا الدعا ولا يزيد في العمر إلا البر»(ابن ماجہ، باب فی القدر: حدیث ۸۷)"بیشک آدمی گناہ کا ارتکاب کرکے رزق سے محروم ہوجاتاہے اور دعا تقدیر میں ردّوبدل کردیتی ہے اور نیکی کرنے سے عمر میں برکت ہوجاتی ہے۔"
علاج

کسی بھی چیز کے استعمال میں جب اسراف و تبذیر سے کام لیا جائے تو اس کا نتیجہ بالآخر غلط ہی نکلے گا۔ انسان کے پاس اگرچہ مال و زر کے خزانے ہی کیوں نہ موجود ہوں، اگر وہ ان کے استعمال میں اسراف سے کام لے گا تو بہت جلد ان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ پانی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے تین چوتھائی حصے کوپانی سے بھرا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگراس کا استعمال مناسب نہ ہو تو انسان اس کے ایک ایک قطرے کو بھی ترس جاتا ہے۔ جن علاقوں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہوتاہے وہاں باشندے عموماً پانی کو مفت سمجھ کر اس کا بے بہا استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ پانی کی سطح وہاں آہستہ آہستہ گرنا شروع ہوجاتی ہے اور پھر سارا علاقہ پانی کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لئے نبی اکرمﷺ نے مسلمانوں کو پانی کے سلسلہ میں بھی اسراف و تبذیر سے منع فرمایا ہے۔
سیدنا حضرت سعدبن ابی وقاص کے متعلق مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ دورانِ وضو ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں دیکھ کرفرمایا کہ
"ہاں! یہ بھی اِسراف میں شامل ہے، اگرچہ تم کسی جاری نہر کے کنارے پرہی کیوں نہ بیٹھے ہو" (پانی کو ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کیاکرو) ۔ ( ابن ماجة،کتا ب الطهارة وسننها: حدیث ۴۱۹)
اس لئے ہمیں اس ہدایت ِنبوی پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم اس عظیم نعمت پانی کی کمی کا شکار نہ ہوں۔ اِسراف و تبذیر سے کام لینے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند بھی نہیں فرماتے
﴿إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِ‌فينَ ١٤١ ﴾..... سورة الانعام
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَلَو أَنَّ أَهلَ القُر‌ىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَ‌كـٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَر‌ضِ وَلـٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنـٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ ٩٦..... سورة الاعراف
"اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے (اللہ کی طرف رجوع کرتے) اور (برے کاموں) کفروشرک سے بچے رہتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو ہمارے پیغمبروں کو) جھٹلایا تو(ہم نے بھی) ان کے کاموں کی سزا میں انہیں پکڑ لیا۔"
٭ قرآنِ حکیم میں اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَ‌جًا ﴿٢ ﴾..... سورة الطلاق
" جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے ،اللہ اس کیلئے مصیبتوں سے نکلنے کے راستے پیدا فرما دیتے ہیں"
٭ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کو لازم کرلیا، اللہ اسے ہر تنگی سے نجات دیں گے اورایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے وہم وگمان بھی نہیں ہو گا۔
٭ جناب ربیع بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت حسن بصری کی مجلس میں چار آدمی آئے اور انہوں نے اپنے اپنے مسائل ومشکلات حسن بصری  کے سامنے پیش کیے۔ایک نے کہا: میں بیمار ہوں، دوسرے نے کہا: میرے پاس اولاد نہیں ہے ،تیسرے نے کہا: میں نہایت غریب ہوں اور چوتھے نے کہا کہ ہمارے علاقے میں قحط سالی کادور دورہ ہے۔ آ پ نے ہر ایک کو استغفار کرنے کا حکم دیا۔ مجلس سے ایک آدمی نے کہا کہ حضرت ان کے مسائل ومشکلات علیحدہ علیحدہ ہیں،لیکن آپ نے تمام کو علاج او ر نسخہ ایک ہی بتایا ہے، اس کی کیاوجہ ہے؟حسن بصری نے فرمایا کہ جناب نوح نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سامنے استغفار کرو ،وہ بڑا بخشنے والا ہے ۔وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا، اور تمہیں مال ودولت اور بیٹے بھی دے گا اورباغات بھی تمہیں عنایت فرمائے گا اور نہروں کو بھی جاری کر دے گا۔ (روح المعانی )
(۱) قحط سالی میں حضرت رسولِ کریم نمازِ استسقاء ادا کرتے اور بڑے خشوع و خضوع سے توبہ و استغفار کرتے اور یہ دعائیں پڑھتے:«اللّٰهُمَّ اسْقِنَا الْغَيْثَ وَلا تَجْعَلْنَا مِنَ القٰنِطِيْنَ» (الاذکار للنووی)"الٰہی ہم پر باران رحمت نازل فرما او رنا امید ہونے والوں میں نہ بنا"
«اللّٰهُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَهَائِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأحْيِِ بَلَدَکَ الْمَيِّتِ...»
"الٰہی اپنے بندوں اور جانوروں کو پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلا دے اور اپنے ویران شہر آباد کردے" (ابوداود: حدیث ۹۹۴)
«ألْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، مٰلِکِ يَوْمِ الدِّيْنِ، يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ، اللّٰهُمَّ أنْتَ اللّٰهُ لاَ إلٰهَ إلاَّ أنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ لَنَا قُوّةً وَبَلاَغًا إلٰی حِيْنٍ...» (ابوداود:حدیث ۹۹۲)
"تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، جو نہایت رحم کرنے والا ، بڑا مہربان ہے۔ قیامت کے دن کا مالک ہے۔ اس کی شان ہے کہ جو چاہے کر ڈالے۔ الٰہی تو ہی ہمارا معبود ہے۔ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم تیرے محتاج بندے ہیں۔ ہم پر بارش نازل فرما، جو بارش تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لئے تقویت کا ذریعہ بنا دے اور ایک مدت تک کفایت کا وسیلہ بنا دے"
امّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ "جب آپ نمازِ استسقاء میں یہ دعائیں پڑھتے اور توبہ استغفار کرتے تو بارانِ رحمت شروع ہوجاتی" (ابوداود)
٭ حافظ ابن عساکر اپنی سند کے ذریعے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت کے دور میں لوگ خشک سالی سے دوچار ہوگئے تو حضرت رسول کریمﷺ مدینہ سے نکل کر بقیع غرقد کے میدان میں تشریف لائے۔ آپ کے سرمبارک پر سیاہ عمامہ تھا جس کا ایک شملہ سامنے اور دوسرا دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا ہوا تھا اور آپ عربی کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے پھر آپ نے قبلہ رخ ہو کر صحابہ کو دو رکعت بآوازِ بلند نماز پڑھائی اور اس میں سورئہ تکویر اور سورئہ ضحی تلاوت کی پھر اپنی چادر اُلٹ دی تاکہ خشک سالی دور ہوجائے۔ پھر آپ نے حمد ِالٰہی بیان کی اور ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی:
«اللّٰهُمَّ ضَاحَتْ بِلاَدُنَا وَاغْبَرَّتْ أرْضُنَا وَهَامَتْ دَوَابُنَا اللّٰهُمَّ مُنَزِّلَ الْبَرَکَاتِ مِنْ اَمَاکِنِهَا وَنَاشِرَ الرَّحْمَةِ مِنْ مَعَادِنِهَا بِالْغَيْثِ الْمُغِيْثِ أنْتَ الْمُسْتَغْفِرُ لْلآثَامِ فَنَسْتَغْفِرُکَ لِلْجَامِعَاتِ مِنْ ذُنُوْبِنَا وَنَتُوْبُ إلَيْکَ مِنْ عَظِيْمِ خَطَايَانَا اللّٰهُمَّ أرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْنَا مِدْرَارًا وَاکْفِنَا مَغْزُوْرًا مِنْ تَحْتِ عَرْشِکَ مِنْ حَيْثُ يَنْفَعُنَا غَيْثًا مُغِيْثًا رَائِعًا مُمَرِّعًا طَبَقًا غَدَقًا خِصْبًا تُسْرِعُ لَنَا بِهِ النَّبَاتَ وَتُکْثِرُ لَنَا بِهِ الْبَرَکَاتِ وَتُقْبِلُ الْخَيْرَاتِ اللّٰهُمًّ إنَّکَ قُلْتَ فِیْ کِتَابِکَ وَجَعَلْنَا من الْمَاءَ کُلَّ شَيْیٴٍ حَیٍّ اللّٰهُمَّ فَلاَ حَيَاةَ لِشَیٴٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ الاَّ بِالْمَاءِ اللّٰهُمَّ وَقَدْ قَنَطَ النَّاسُ أوْ مَنْ قَنَطَ النَّاس مِنْهُمْ وَسَاءَ ظَنُّهُمْ وَهَامَتْ بَهَائِمُهُمْ وَعَجَّتْ عَجِيْجَ الثَّکْلیٰ عَلَی أوْلاَدِهَا إذْ حَبَسْتَ عَنَّا قَطْرَ السَّمَاءِ فَدَقَّتْ لِذٰلِکَ عَظْمُهَا وَذَهَبَ لَحْمُهَا وَذَابَ شَحْمُهَا اللّٰهُمَّ ارْحَمْ اَنِيْنَ لِاٰنِه وَحَنِيْنَ الْحَانَةِ وَمَنْ لاَيَحْمِلُ رِزْقَهُ غَيْرُکَ اللّٰهُمَّ ارْحَمِ الْبَهَائِمَ الْحَائِمَةَ وَالانْعَامَ السَّائِمَةَ وَالاَطْفَالَ الصَّائِمَةَ اللّٰهُمَّ ارْحَمْ الْمَشَايِخَ الرُّکَعَ وَالاَطْفَالَ الرُّضَعَ وَالْبَهَائِمَ الرُّتَّعَ اللّٰهُمَّ زِدْنَا قُوَّةً إلٰی قُوَّتِنَا وَلاَ تَرُدَّنَا مَحْرُوْمِيْنَ إنَّکَ سَمِيْعُ الدُّعَاءِ بِرَحْمَتِکَ يَا أرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ فَمَا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ حَتّٰی جَاءَ تِ السَّمَاءُ حَتّٰی اَهَمَّ کُلُّ رَجُلٍ کَيْفَ يَنْصَرِفُ إلٰی مَنْزِلِهِ فَعَاشَتِ الْبَهَائِمُ وَاخْصَبَتِ الارْضُ وَعَاشَ النَّاسُ کُلُّ ذٰلِکَ بِبَرَکَةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ»
(رواہ ابن عساکر بسندہ، قال البرہان الہندی فی کنز العمال ۸/۴۳۴/ ۲۳۵۴۶ رجالہ ثقات)
" اے اللہ !ہمارے شہر ویران ہوگئے او رہماری زمین بنجر ہوگئی، اور ہمارے مویشی پیاسے پھرنے لگے۔ اے اللہ، تو، تو برکات کو اس کی اصل جگہوں سے نازل کرنے والا ہے اور موسلادھار بارشوں کے ذریعے رحمتوں کو چشموں سے پھیلانے والا ہے، تو گناہوں کے بخشنے والا ہے، چنانچہ ہم اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اپنی بڑی غلطیوں سے تیرے سامنے توبہ کرتے ہیں، اے اللہ ! ہم پر اپنے عرش کے نیچے سے موسلا دھار بارش ٹپکانے والابادل بھیج جو ہمیں عام بارش سے نفع بہم پہنچائے اور تازہ گھاس اور جڑی بوٹیاں اگائے اور وہ بادل بارش سے بھرپور اور چھتری کی طرح پھیلا ہوا ہو اور ذرخیزی کا ذریعہ ہو جو ہمارے لئے نباتات اگائے اور اس کے ذریعے برکات کی فراوانی کر دے اور ہمیں خیرات دینے کے لئے ملے۔
اے اللہ! تو نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے ۔ اے اللہ! جو چیز پانی سے پیدا ہوئی وہ پانی سے ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ اے اللہ لوگ ناامید ہوگئے اور ان کے گمان برے ہوگئے اور ان کے چوپائے گرمی سے چکرا گئے اور یوں جیسے گمشدہ اولاد پر ان کی ماں روتی ہے، کیونکہ تو نے ہم سے بارش روک لی ہے اس بنا پر ان کی ہڈیاں نکل آئیں ، گوشت سوکھ گیا اور چربی پگھل گئی۔ اے اللہ! تو رونے والوں کے رو نے اور بلکنے والوں کے بلکنے پر رحم فرما اور ان پر بھی رحم فرما جن کے رزق کا تیرے سوا کوئی ذمہ دار نہیں۔ اے اللہ! گھومنے پھرنے والے چوپایوں اور چرنے والے مویشیوں اور روزے دار بچوں پر رحم فرما !
اے اللہ! کمان کی طرح جھکے ہوئے عمر رسیدہ لوگوں اور شیرخوار بچوں اور چرنے چگنے والے جانوروں پر رحم فرما اور ہماری قوت میں اضافہ فرما اور ہمیں محروم و نامراد کرکے نہ لوٹا۔ اے ارحم الراحمین! تو اپنی رحمت سے دعائیں سننے والا ہے۔"
حضرت رسول مقبول ﷺابھی اس دعا سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی۔ اور ہر آدمی گھر جانے کے لئے سو چنے لگا چنانچہ چوپائیوں کی جان میں جان آئی، زمین سرسبز ہوگئی اور لوگ خوشحال ہوگئے اور یہ سب کی سب آنحضرتﷺ کی دعا کی برکت سے ہوا۔
٭ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ایک دفعہ قحط پڑ گیا۔ آپ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر ایک کھلے میدان میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی و انکساری سے دعائیں مانگیں اور کثرت سے استغفار کیا اور نماز میں سورہٴ نوح کی تلاوت کی اور فرمایا کہ میں نے بارش کو اس کے سوراخوں سے طلب کیا ہے۔ (ابن کثیر)
٭ حکومت کو شرعی حدود نافذ کرنے چاہئیں، اس سے ملک میں خیروبرکت اور امن وسکون ہوگا۔
«عن أبي هريرہ قال قال رسول اللهﷺ : حد يعمل به في الأرض خير لأهل الأرض من أن يمطروا أربعين صباحا» (ابن ماجہ: حدیث ۲۵۲۹)
"حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: کہ زمین پر (ایک شرعی) حد کا نفاذ ان کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے"
" ایک شرعی حد کا نفاذ چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے " (نسائی ،ابن ماجہ)
اس لیے پوری قوم کو سنت ِنبوی کے مطابق پورے ملک میں نمازِ استسقاء کا اہتمام کرنا چاہیے اور اپنا اپنا جائزہ لیناچاہیے ۔جوکمی وکوتاہی ہم میں پائی جاتی ہے، اسے دور کر کے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی چھوڑ کر صحیح معنوں میں ان کی اطاعت کرنی چاہیے۔
سودی کاروبار، ذخیرہ اندوزی، حرام ذرائع آمدنی، دھوکہ بازی، رشوت خوری اور کرپشن سے باز آنا چاہیے۔ بدکاری سے بھی اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ وعدے کی پاسداری اور امر بالمعروف ونہی عن المنکرکا فریضہ پوری قوم کو ادا کرنا چاہیے۔ عریانی اور فحاشی کی روک تھام کے لئے اجتماعی کوشش بروئے کار لانی چاہیے۔ ظلم و زیادتی سے گریز کرنا چاہیے اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرنا چاہیے۔ ماپ تول میں کمی بیشی کی بجائے پورا لینا اور دینا چاہیے۔ ان باتوں پر عمل پیرا ہونے سے اللہ راضی ہو جائے گا اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا اور رحمت ِخدا وندی جوش میں آئے گی۔ بارشوں کا نزول شروع ہوجائے گا اور کھیتوں میں ہریالی آئے گی اور وطن عزیز ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔ إن شاء الله!

٭٭٭٭٭

فَأَعرَ‌ضوا فَأَر‌سَلنا عَلَيهِم سَيلَ العَرِ‌مِ وَبَدَّلنـٰهُم بِجَنَّتَيهِم جَنَّتَينِ ذَواتَى أُكُلٍ خَمطٍ وَأَثلٍ وَشَىءٍ مِن سِدرٍ‌ قَليلٍ ﴿١٦