جب سے طالبان نے افغانستان ميں بتوں كو منہدم كرنے كا اعلان كيا ہے، دنيا بھرميں ا س كے خلاف شديد ردّ ِعمل سامنے آرہا ہے بلكہ بعض لوگوں نے ان بتوں كى خريدارى كى پيشكش كى ہے اور بعض نے ان كى حفاظت پر اُٹھنے والے اِخراجات ادا كرنے كى يقين دہانى بھى كرائى ہے-كچھ ممالك اگر سفارتى دباؤ سے كام لے رہے ہيں توبعض ديگرڈرانے دھكانے سے بھى نہيں چوك رہے۔ غرور و تكبر ميں مبتلا بعض صہيونى عالمى اِداروں نے افغانستان كے ساتھ پاكستان كو بھى مطعون كرنا شروع كرركہا ہے- الغرض مارچ كے پہلے عشرے سے جنوبى ايشيا كے اَخبارات ميں بالخصوص اور دنيا بھر كے ذرائع ابلاغ ميں بالعموم اس مسئلہ كے بارے ميں اپنے اپنے مفادات اور نظريات كے مدنظر بہت كچھ لكھا جارہا ہے۔
افغانستان كے ساتھ پاكستان ميں بھى سفيروں اور عالمى نمائندوں كى آمدورفت زوروں پر ہے- اسلام كے بھى خواہ اور طالبان كے بارے ميں نرم گوشہ ركھنے والے بھى اپنى اپنى استعداد كے مطابق تجاويز و ہدايات پيش كر ر ہے ہيں- اس كے ساتھ ساتھ اس مسئلہ پر بعض علمى مباحث نے بھى جنم ليا ہے كہ آيا اسلام ميں مجسّموں اور بتوں كو باقى ركھنے كى گنجائش ہے يا نہيں؟- دورِ نبوى اور خلافت ِراشدہ ميں اس بارے ميں طرز عمل كيا ر ہا ہے اور اب مسلمانوں كو كيا كرنا چا ہئے؟ صہيونى لابى كے آلہ كار عالمى ذرائع ابلاغ كى اسلام كے خلاف شروع كى گئى اس علمى بحث ميں مسلمان بھى كود پڑے ہيں- يكم مارچ كو بى بى سى كے مكتوبِ پاكستان نامى پروگرام ميں بھى اس موضوع پر تشكيك پيدا كرنے او راسلامى موقف كو مسخ كرنے كى كوشش كى گئى ہے- روزنامہ نوائے وقت ميں شائع ہونے والى خبر كے مطابق اس رپورٹ ميں يہ دعوىٰ كيا گيا كہ مجسمہ وہ ہوتا ہے جس كى پرستش ہو اور اسلام ميں صرف وہ بت حرام ہيں جن كى پوجا كى جائے - رپورٹ ميں كہا گيا ہے كہ
"مجسمہ اس وقت بنتا ہے جب اس كى پرستش كى جائے، اگر اس كى پرستش نہ كى جائے تو انسانى مجسمہ اور پتھر كے بنے ہوئے گھوڑے اور انگوٹھى پر گڑھے ہوئے پھول ميں كوئى فرق نہيں- كسى بھى شے كى ٹھوس نقل مجسمہ ہے- اگر بت اور مجسمہ ميں يہ بنيادى فرق نہ ہوتا تو آج سے 1400 سال قبل نئے عالمى نظام كے قيام كے لئے كعبہ كو بتوں سے پاك كرنے والے پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كے وارث حضرت عمر بن خطاب مصر كى فتح كے بعد سب سے پہلے ابوالہول كے مجسّمے كو گراتے جو دريائے نيل كى سرزمين پر اسلام كى آمد سے بھى دو ہزار سال قبل سے ايستادہ تھا- ابوالہول ساڑھے تين ہزار سال سے اب بھى سينہ تانے كھڑا ہے۔
مجسمہ اور بت كا جو فرق حضرت عمر بن خطاب كو معلوم تھا وہ افغانستان ميں ملا عمر كے برسراقتدار آتے آتے غالباً معدوم ہوگيا ہے- اسى لئے گذشتہ دنوں قندھار سے يہ فرمان جارى ہوا كہ تمام بت گرا ديئے جائيں- ان ميں قبل از اسلام كا مہاتما بدہ كا باميان ميں ايستادہ 50ميٹر طويل پہاڑى مجسمہ بھى شامل ہے جونہ صرف افغانستان بلكہ عالمى ورثہ ہے-" (نوائے وقت: 3 مارچ ،صفحہ آخر)
اسى رپورٹ ميں بيسويں صدى كے چندشواہد كے ذريعے يہ ثابت كرنے كى كوشش بھى كى گئى ہے كہ طالبان كى بت شكن مہم كو اسلام كى حمايت حاصل نہيں بلكہ يہ محض طالبان كى انتہا پسندى كا اِعجاز ہے- ان مثالوں ميں1979 کے انقلابِ ايران كے بعد تخت ِجمشيد كے پرانے آثار كو جوں كا توں باقى رہنے دينے اور پاكستان ميں موہنجوداڑو اور ہڑپہ تہذيب كے نشانات كى حفاظت وغيرہ كے اقدامات شامل ہيں- مزيد برآں 1949ء ميں چين كے كميونسٹ انقلاب كے دوران ايك مسجد كے تحفظ كى طرف بھى اشارہ كيا گيا ہے جس كى تعمير كى نسبت ايك صحابى رسول كى طرف كى جاتى ہے كہ غير مسلم چينيوں نے اس مسجد كو آج تك باقى ركھا ہواہے-
تھائى لينڈ كى وزارتِ خارجہ نے بت شكنى كى اس مہم كا رخ موڑنے كى كوشش اس انداز ميں كى ہے كہ اگر كل افغانستان ميں امن قائم ہوجائے تو يہ تاريخى نوادرات غير ملكى سياحوں كى توجہ كا مركز بن كر ملكى آمدنى ميں اضافے كا سبب بن سكتے ہيں(نوائے وقت: 28فرورى) بعض نے افغانستان ميں قحط كے خاتمے كے لئے ان بتوں كى فروخت كو افغان قوم كے لئے موزوں قرار ديا ہے- اب تك جاپان، ايران، بھارت، نيويارك كى ميٹرو پوليٹن كو نسل اور متعدد عجائب گھروں كى طرف سے ان بتوں كو خريدنے كى آفرز كى جاچكى ہيں- اخبارات كے مطابق مولانا سميع الحق نے بھى طالبان كو ان بتوں كو فروخت كرنے، عجائب گھروں كے حوالے كردينے يا مصر كى مثال سامنے ركھتے ہوئے بطورِ عبرت ركھ چھوڑنے اور ان كى عبادت روك دينے كى طرف توجہ دلائى ہے- (نوائے وقت : 28فروری)
افغانستان ميں يہ بت طلوعِ اسلام سے قبل كے ہيں جن ميں كابل ميوزيم ميں600 كے قريب بت اور باميان ميں گوتم بدھ كے 65 اور 34 ميٹر اونچے دومجسّموں كے بارے ميں دنيا ميں زيادہ تشويش پائى جاتى ہے-
عالمى صورتحال اور سياسى حكمت ِعملى سے قطع نظرپہلے ہم ا ن صفحات ميں ان مغالطوں كا جائزہ پيش كريں گے جو اسلام كے تصورِ اصنام كے بارے ميں پھيلائے جارہے ہيں-كيونكہ كسى كو يہ حق حاصل نہيں كہ اسلام كى من مانى تعبير كرتا پھرے اور مسلمانوں كے اَذہان ميں تشكيك پيدا كرے-
بى بى سى كا يہ دعوىٰ مغالطہ آميز ہے كہ اسلام ميں پوجے اور نہ پوجے جانے والے بتوں ميں فرق ہے جسے اس نے بت اور مجسّمے كے فرق سے تعبيركيا ہے- اسلام ميں اس طرح كى كوئى تقسيم نہيں ملتى- بلكہ اسلام ميں نہ صرف مجسّموں كى مخالفت كى گئى ہے بلكہ ايسے نشانات يا علامات كو بھى جائز نہيں سمجھا گيا جو مقدس سمجھى جاسكتى ہيں - اسلام كى رو سے تصوير جائز نہ ہونے كى اہم بنياد يہى ہے كہ كل كلاں اس سے عقيدت كا تصور وابستہ ہو كر اس كى پوجا شروع ہوسكتى ہے- چنانچہ آج بھى محتاط علماء تصوير كو جائز قرار نہيں ديتے- گو كہ اوّلين مرحلہ ميں تصوير كو بھى عبادت كے مقصد كے لئے كبھى نہيں ركھا جاتا بلكہ بتدريج اس سے مشركانہ عقائد وابستہ ہوتے ہيں جيساكہ بت پرستى بھى اسى طرح تدريجاعمل ميں آئى ہے- اس لئے يہ كہنا بالكل بے جا ہے كہ جس بت كى عبادت نہيں ہوتى، اس كو باقى ركھنے كا جواز ہے- بالفرض آج اس كى عبادت نہيں ہوتى ليكن كل كلاں اس كى عبادت شرو ع ہوجانے كے اِمكان كو نظر انداز نہيں كيا جاسكتا- بہت سى بزرگ ہستياں ايسى ہيں جو اپنى زندگى ميں اپنے جيسے انسانوں سے مراديں مانگنے اور حاجت روائى سے لوگوں كو روكتى رہيں ليكن وقت گزرنے كے ساتھ لوگوں نے ان سے بھى اس طرح كى عقيدت قائم كرلى اور چند صديوں كے بعد ان كى عبادت شروع كردى-
يہى وجہ ہے كہ قرآنِ كريم نے اس بارے ميں 'صنم' سے بھى ايك وسيع تر اصطلاح استعما ل كى ہے، اور اس ميں صنم سے ملتے جلتے اَلفاظ تماثيلاور اَوثانكے بھى آئے ہيں- صنم تو خود تراشيدہ بت اور مورتيوں كوكہتے ہيں جبكہ 'تمثال' كا ترجمہ مورت يا كسى كى مشابہت ميں تيار كى جانے والى شے كے ہيں- ليكن وَثن كا لفظ اس سے بھى وسيع تر ہے- ہر وہ شے جو كسى نيك شخصيت سے منسوب ہو كر احترام اور معبوديت كا مرتبہ پاجائے، اسے وَثن كہا جاتاہے-
طبرى نے مجاہد سے ذكر كيا ہے كہ 'صنم' اسے كہتے ہيں جو كسى كى صورت پر بنايا جائے جبكہ وثن ان اشيا پر بھى بولا جاتا ہے جو صورتوں كے بغيراحترام كے لائق سمجھى جائيں- يعنى وثن كا لفظ صنم سيعام ہے- (كتاب التوحيد: ص64) تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو: لسان العرب: ج13 /ص٤٤442
چنانچہ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنى ہونے والى قبر كے بارے اللہ تعالىٰ سے دعا كى :
«اللهم لا تجعل قبري وثنا يعبد ... اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد»  موطأ:1/182
"اے اللہ!ميرى قبر كو ايسى محترم شے نہ بنا دينا جس كى عبادت كى جائے... اللہ تعالىٰ ان قوموں پر بہت ناراض ہوا جنہوں نے اپنے انبياء كى قبروں كو سجدہ گاہ بنا ليا"
نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كى قبر نعوذ باللہ آپ كا مجسمہ نہيں ہے ليكن يہ چونكہ رحمت للعالمين سے منسوب زمين كا ايك حصہ ہے لہٰذا اہل اسلام كواسے وَثن بنانے سے منعكردياگيا- اسى طرح قرآن كريم ميں اللہ تعالىٰ فرماتے ہيں :
﴿فَاجتَنِبُوا الرِّ‌جسَ مِنَ الأَوثـٰنِ وَاجتَنِبوا قَولَ الزّورِ‌ ٣٠ ﴾...... سورة الحج
"تو 'اَوثان' كى پليدى سے بچواور جھوٹى بات سے پرہيز كرو"
يہاں بھى صنم كى بجائے وثن كا لفظ استعمال كيا گيا ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے اسلامى شريعت مجسّموں اور بتوں سے بھى پہلے غير اللہ كى عبادت كى طرف لے جانے والى ہر چيز كو حرام قرار ديتى ہے يہى شريعت ِاسلاميہ كا امتياز ہے كہ وہ نہ صرف برائى بلكہ برائى كے رستوں كا بھى سدباب كرتى ہے- علاوہ ازيں قرآنِ كريم ميں ہے :
﴿وَلَقَد بَعَثنا فى كُلِّ أُمَّةٍ رَ‌سولًا أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاجتَنِبُوا الطّـٰغوتَ.......٣٦ ﴾...... سورة النحل
"اور ہم نے ہر امت ميں رسول بھیجے كہ اللہ كى عبادت كرو اور طاغوت سے اجتناب كرو"
﴿أَلَم تَرَ‌ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتـٰبِ يُؤمِنونَ بِالجِبتِ وَالطّـٰغوتِ.......٥١ ﴾...... سورة النساء
"كيا آپ نے ان لوگوں پر غور نہيں كيا جنہيں كتاب اللہ سے حصہ ملا ہے پھر بھى وہ جِبْت اور طاغوت پر ايمان ركھتے ہيں"
طاغوت ہر اس چيز كو كہتے ہيں جو اللہ كے ماسوا كى عبادت كى طرف لے جانے والى ہوجبكہ جبت اَوہام وخرافات ، ٹونے ٹوٹكے وغيرہ پر اعتقاد كے لئے بولا جاتا ہے-(مترادفات القرآن :ص 183)
ان تمام آيات ميں ايسى اشياء كى عبادت ہونے يا نہ ہونے كے بارے ميں فرق نہيں كيا گياجس سے معلوم ہوتا ہے كہ بى بى سى كا دعوىٰ فكرى ضلالت كا آئينہ دار ہے جو اسلام سے چور دروازے كھول كر بت پرستى اور طاغوت كى پرستش كى راہ ہموار كرنا چاہتا ہے-
اہرامِ مصر اور ابوالہول كا مجسمہ
بى بى سى كى رپورٹ ميں كہاگيا ہے كہ "حضرت عمر فاروق نے فتح مصر كے بعد مصر كے بتوں اور مجسّموں كو باقى ركھا- مجسمہ اور بت كا جو فرق حضرت عمر بن خطاب كو معلوم تھا وہ افغانستان ميں ملا عمر كے برسراقتدار آتے آتے غالباً معدوم ہوگيا ہے-"
ليكن حقيقت يوں نہيں بلكہ اصل بات يہ ہے كہ مصر معاہدہٴ جنگ كى صورت ميں خلافت ِاسلامى ميں شامل ہوا اور اس معاہدئہ جنگ ميں يہ بات شامل تھى كہ مصر كے عبادت خانوں كى حفاظت كى جائے گى- جيسا كہ آگے آرہا ہے-يہى وجہ ہے كہ خلافت راشدہ ميں ان عبادت خانوں كو توڑا نہيں گيا - اُموى خليفہ مامون الرشيد كے دور ميں اہرامِ مصر كو منہدم كرنے كا منصوبہ پيش كيا گيا، جس كا ذكر تاريخ كى كتابوں ميں ملتا ہے- سب سے پہلے تو اہرامِ مصر كے بارے ميں پڑہئے :
«وقد ذكر أن بعض ملوك الإسلام شرع يهدم بعضها فإذا خراج مصر لا يفيء بقلعها وهي من الحجر والرخام وأنها قبور لملوك وكان الملك منهم إذا مات وضع في حوض من حجارة ويسمى بمصر والشام الجرون وأطبق عليه ثم بنى من الهرم على مقدار ما يرون من ارتفاع الأساس ثم يحمل الحوض ويوضع وسط الحرم ثم يقنطر عليه البنيان ثم يرفعون البناء على المقدار الذي يرونه ويجعل باب الهرم تحت الهرم ثم يحفرله طريق في الأرض ويعقد أزج طوله تحت الأرض مائة ذراع أو أكثر ... الخ»
"بعض مسلمان بادشاہوں نے اہرامِ مصر كو منہدم كرنا شروع كياليكن اس انہدام كے مصارف مصر سے حاصل ہونے والے كل خراج سے بھى زيادہ تھے- اس كى وجہ يہ ہے كہ اہرام مصر پتھروں اور عظيم چٹانوں سے تعمير كئے گئے- دراصل يہ شاہانِ مصر كى قبريں ہيں- بادشاہ جب مرجاتا تو اسے پتھروں كے ايك حوض كے درميان ركہ كر اوپر سے ڈہانپ ديا جاتا(مصر اور شام ميں اسے 'جرون' كہا جاتا ہے)- پھر وہ جتنا بلند چاہتے، ايك مضبوط حصار تعمير كرتے، پھر اس حوض كو اٹھا كر اس ہرم كے درميان ركھا جاتا- پھر اس كى بنيادوں پر پگھلا ہوا سيسہ ڈالا جاتا- اس كى بنياديں وہ اس قدر اونچى كرتے جتنا وہ چاہتے- ہرم كا دروازہ ہرم كے نيچے كى سمت بنايا جاتا، اس كا راستہ زيرزمين اس قدر طويل كھدوايا جاتا كہ وہ زمين كے اندر100ہاتھ يا اس سے زيادہ گہرا ہوتا- ہر ہرم كا دروازہ اسى انداز پر تعمير ہوتا- اور يہ لوگ اس تك پہنچنے كے پرپيچ راستے تعمير كرتے جب اس سے فارغ ہوتے تو اوپر سے نيچے كى طرف كھدائى كرتے- يہ مصرى بادشاہوں كى عادت تھى اور اس سے ان كى قوم كى اطاعت پسندى، صبر اور قوت كا پتہ بھى چلتا ہے" (كتاب المواعظ والاعتبار للمقريزى:1/115)
اس كے اِخراجات اور اس بارے ميں كى جانے والى كوششوں كا تذكرہ ابوالحسن مسعودى نے بھى اپنى كتاب 'اَخبار الزمان' ميں كيا ہے :
"خليفہ مامون الرشيد جب مصر آيا اور اس نے اَہرام مصر ديكھے تو انہيں منہدم كرنے كا ارادہ ظاہر كيا- اسے كہا گيا كہ ايسا كرنابہت مشكل ہے ليكن خليفہ اپنے عزم پر قائم رہا- چنانچہ آگ كے بڑے الاؤ جلائے گئے، سيسہ اور تانبا پگھلايا گيا، لوہاروں او رمعماروں كى ايك بڑى جماعت كو اس كام ميں لگايا گيا حتىٰ كہ اس پر بہت سا مال صرف ہوا- انہوں نے20 ہاتھ كے قريب ديواروں كى چوڑائى پيمائش كى- حتىٰ كہ جب وہ ديوار كے آخر تك پہنچے تو وہاں انہيں بڑى تعداد ميں سونے كے سكے ملے، ايك ہزار دينار كے قريب جن ميں ہرايك كا وزن ايك اوقيہ تھا- مامون ان سكوں كى صفائى اور سونے كا معيار ديكھ كر بہت حيران ہوا- تب اس نے اس مہم پر صرف ہونے والے اخراجات كااندازہ لگايا تو وہ اخراجات متوقع سونے كى ماليت سے بھى كہيں زيادہ تھے- مامون شاہانِ مصر كے يہ انتظامات ديكھ كر حيران و ششدر رہ گيا او راس نے يہ سونا ملكى خزانے ميں جمع كرا كے اس مہم كو بند كروا ديا" (بحوالہ المواعظ والا اعتبار للمقريزى: ص113)
"يہى كوشش بعد ازاں سلطان صلاح الدين ايوبى كى بيٹے عثمان نے بھى كى- اس نے پتھر توڑنے والوں كى جمعيت اكٹھى كى، اور فوج كو بھى اس ميں شريك كيا- ٨ ماہ يہ لوگ اس مہم ميں لگے رہے ليكن مال اور تدبير كے بيش بہا نقصان كے پيش نظر آخر كار اس كو ترك كرديا"- (ص115،121)
ان میں سے ايسے بت جو توڑے جاسكتے تھے، انہيں خليفہ مامون نے طويل محنت و مشقت كے بعد منہدم كرواديا- منہدم ہونے والے ان بتوں ميں وہ عظيم الجثہ زنانہ مجسمہ بھى شامل تھا جودريائے نيل كے دوسرے كنارے فسطاط ميں نصب تھا- كتب ِتاريخ ميں اس كے بارے ميں جوحالات بيان كئے گئے ہيں اس سے اندازہ ہوتا ہے كہ يہ مجسمہ غالباً اسيس (Isis) ديوى اور اس كے بچے ہورس (Horus) كا تھا - اس بت كى پشت دريائے نيل كى طرف تھى- اسے دريائے نيل كى طغيانى سے بچانے والا بت تصور كيا جاتاتھا- اس بت كو توڑ كر اس كے پتھر مسجد كى تعمير ميں لگا ديئے گئے" (ايضاً:ص118)
كتب ِتاريخ كے ان اقتباسات سے اہرامِ مصر كے بارے ميں پتہ چلتا ہے كہ مصر كے بت اور مجسّمے گرانے كى كوششيں تو كئى بار كى گئيں ليكن انہيں كاميابى حاصل نہ ہوسكى- اب بيسويں صدى ميں جديد ٹيكنالوجى كى مدد سے اَہرام مصر كو توڑا پہوڑا گيا ہے- كہا جاتاہے كہ اہرامِ مصر كى مكمل دريافت بھى بيسويں صدى كے اوائل ميں ہوئى، جس كے بعد اس ميں دفن خزانوں كو لوٹنے كے لئے حرص كے مارے لوگوں ميں ايك مقابلہ شروع ہوگيا- ان اَہرام نے بہت افراد كى جانيں بھى ليں اور بہت لوگ اپنے مقصد ميں كامياب بھى ہوئے- جديد ٹيكنالوجى كو بروئے كار لاتے ہوئے يہاں سے بڑى تعداد ميں مجسّمے نكال كر مصرى عجائب گہر اور دنيا كے بڑے ميوزيم ميں بھى سجائے گئے- اب جبكہ وہ مسائل باقى نہيں رہے جن كى بنا پر اہرامِ مصر كے مجسّموں كو توڑا نہ جاسكا تہا تومسلم حكمرانوں ميں اطاعت اور اسلام كى پيروى كا وہ جذبہ ہى سرد پڑ چكا ہے اورتمام مسلم دنيا مغرب كے سياسى يا فكرى استعمار كا شكار ہے لہٰذا آج مصر ميں يہ مجسّمے بڑى تعداد ميں عجائب گھروں كى زينت بنے نظر آتے ہيں-
أبو الہول : بى بى سى كى رپورٹ ميں ابوالہول (Sphinx)كے مجسّمے كى بات كى گئى ہے كہ مسلمانوں نے جب مصر فتح كيا تو اس عظيم بت كو منہدم نہيں كيا گيااور وہ بت آج تك باقى چلا آرہا ہے-
ابوالہول كا مجسمہ 39ميٹر اونچا اور 20 ميٹر چوڑا ہے، جس كا سر انسان كا اور دہڑ شير كا سا ہے- اس كے بارے ميں روايات يہ ہيں كہ يہ صرف ايك مجسمہ نہيں تھا بلكہ اس طرح ايك انسان كو سزا دى گئى تھى كہ شير كے دہڑ ميں اس كے جسم كو چنوا كر اسے قابل عبرت بناديا گياتھا- تاريخى لحاظ سے يہ مقامِ تعظيم (عبادت ) نہيں بلكہ مقام عبرت ہے- كيونكہ يہ كسى بزرگ ہستى كى ياد ميں پتھروں كى مورت نہيں بلكہ ايك جيتے جاگتے انسان كو سزا دينے كى ياد گار ہے- چنانچہ اس سے تعظيم كے اثرات كى بجائے خوف وہيبت كے اَثرات مرتب ہوتے ہيں-چنانچہ 'اُردو دائرئہ معارف 'ميں ابو الہول كا ترجمہ 'خوف كا باپ' كيا گيا ہے اور بتايا گيا ہے كہ "عرب اسے وہم آميز خوف كے ساتہ ديكھتے تھے"-(جلد1، ص 931)
جيتے جاگتے انسانوں كے نقش اور مجسّمے ميں بڑا فرق ہے- يہى وجہ ہے كہ مختلف مميوں كوبتوں اور مجسّموں كے حكم ميں نہيں لاياجاتا- فرعونِ موسىٰ كى ممى آج تك بطورِ عبرت موجود ہے اور ابوالہول كے بارے ميں كسى نے بت كا سا حكم اختيار كرنے كا خيال پيش نہيں كيا- بعض لوگوں كو اس كے باوجود يہ خيال گزرا كہ لوگ اس سے بت پرستى ميں مبتلا ہوسكتے ہيں تو انہوں نے انفرادى طور پر اس كو منہدم كرنے كى كوششيں كيں- تاريخ نگار المقدسى كے بيان كے مطابق انہى كوششوں سے 985٥ء ميں اس كا چہرہ صحيح سالم نہ رہا- مقريزى نے بيان كيا ہے كہ 782ھ/1378ء ميں شيخ محمد صائم الدہر نے مجسّموں كو ختم كرنے كى مہم ميں اس كوبھى توڑنے كى بہت كوشش كى ليكن اس ميں وہ پورى طرح كامياب نہ ہوا-بعض موٴرخين كے نزديك اس كى ناك كا بہت مختصر ہونااور چہرے كامسخ ايسى ہى كوششوں كى بنا پر ہے-
مصر كى فتح ... معاہدئہ صلح كے ذريعے
بعض لوگوں نے اپنى بات ميں رنگ بھرنے كے لئے مصر كى فتح كو دورِنبوى كا واقعہ بتلايا ہے ليكن يہ صريح تاريخى مغالطہ ہے كيونكہ مصر دورِ فاروقى ميں حضرت عمروبن العاصكے ہاتھوں 20 ہجرى ميں خلافت ِاسلاميہ ميں داخل ہوا-يہاں اس بات كى وضاحت بھى ضرورى ہے كہ بى بى سى نے يہ دعوىٰ كيا ہے كہ مصر فتح كيا گيا تھا حالانكہ حقيقت يہ ہے كہ مصر فتح ہو كر اسلامى خلافت ميں شامل نہيں ہوا جس طرح دوسرے علاقے مفتوح ہوتے ہيں بلكہ مصر معاہدہ صلح كى صورت ميں خلافت ِاسلاميہ كا حصہ بنا- مفتوح ہونے والے اور معاہدے كى صورت ميں اسلام لانے والے ہر دو سے غالب آنے والے كا برتاؤ مختلف ہوتاہے- معاہدے كى صورت ميں غلبہ پانے والے معاہدہ كى شرائط كے پابند ہوتے ہيں- ا س بنا پر بالفرض اگر ابوالہول كا مجسمہ ايك بت بھى ہوتا تو ممكن تھا كہ معاہدہ كى شرائط كى پاسدارى ميں اسے باقى رہنے ديا جاتا- چنانچہ مستند كتب ِتاريخ ميں ان شرائط معاہدہ كا تذكرہ يوں ملتا ہے
«بسم الله الرحمن الرحيم ، هذا ما أعطى عمرو بن العاص أهل مصر من الأمان على أنفسهم وملّتهم وأموالهم وكنائسهم وصُلُبِهم وبرهم وبحرهم لا يدخل عليهم شيء من ذلك ولا ينتقض» (النجوم الزاہرة فى ملوك مصر والقاہرة : ١/٢٥)
"بسم اللہ الرحمن الرحيم ، يہ وہ عہد نامہ ہے جس كى رو سے عمروبن العاص نے اہل مصر كى جانوں ، اَديان ، اَموال ، كنيساؤں اور ان كى صليبوں اور ان كے بحر وبر كو اَمان دى- ان چيزوں كے بارے ميں كوئى دخل اندازى نہيں كى جائے گى اور اس عہد نامہ كو توڑا نہيں جائے گا... الخ"
اس عہدنامہ سے پتہ چلتا ہے كہ مصر اسلامى قلمرو ميں 'اہل ذمہ' كى حيثيت سے 20 ھ ميں داخل ہوا اور ان كے عبادت خانوں كى حفاظت كا معاہدہ كيا گيا- آہستہ آہستہ اسلام زور پكڑتا گيا اور ملكى داخلى تبديلى كے نتيجے ميں مصر ميں چند صديوں كے بعد اسلامى حكومت قائم ہوئى جيسا كہ آگے ذكرہوگا-
معاہدے كى صورت ميں مغلوب ہونے والے اہل خيبر كى زمين كا معاملہ بھى اس بارے ميں كافى دليل ہے كہ خيبر جب فتح كيا گيا تو اہل خيبرسے انكى سارى زمينيں چهين كر مالِ غنيمت كا حصہ نہيں بنائى گئيں بلكہ ايك حصہ شرائط ِ معاہدہ كے تحت انكے قبضہ ميں ہى رہنے ديا گيا جس ميں وہ كاشتكارى كيا كرتے تھے- بعدازاں حضرت عمر نے اپنے دور ميں حديث ِنبوى كى پيروى كرتے ہوئے ان يہوديوں كوجلاوطن كيا -
در اصل بى بى سى كے مبصرين اسلام كى درست ترجمانى كى بجائے اسلامى شريعت كو توڑ مروڑ كر اپنا مقصد حاصل كرنا چاہتے ہيں تاكہ سادہ مسلمانوں كودہوكہ ديا جاسكے- اگر يہ لوگ واقعتا اسلام كى درست ترجمانى كرنا چاہيں تو اس كے لئے زيادہ واضح مثال دورِ عمر كى بجائے خود دورِ نبوى ميں موجود ہے اور وہ بهى ايسى صورت ميں جب مقابلے ميں آنے والے مفتوح ہوئے ہوں نہ كہ كسى معاہدے كى بنا پر انہوں نے اِطاعت اختيار كى- اس كى بہترين مثال فتح مكہ ہے- اگر بتوں كو محفوظ ركہنے اور ان كا اعزاز و اكرام برقرار ركہنے كے لئے اسلام آيا ہوتا تو نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مكہ كے موقع پر ضرور بتوں كے بچاؤ اور ان كى حفاظت كى تدبير/ رعايت فرماتے- كيونكہ فتح مكہ كے موقع پرمفتوحين سے، ديگر مفتوحين كے مقابلے ميں مختلف سلوك والى كئى رعايتيں كى گئى تہى جن ميں چند ايك يہ ہيں :
1- مكہ كو جنگى يورش كے نتيجے ميں فتح كيا گيا ليكن كسى كو لونڈى غلام نہ بنايا گيا- چنانچہ فتح مكہ كے بعد مسلمان ہونے والوں كو 'عتقاء' كى اصطلاح سے ياد كيا جاتا ہے-
2- مكہ كى زمين كو فاتحين ميں تقسيم نہ كيا گيا-
3- اہل مكہ كے سازوسامان كو مالِ غنيمت بنا كر اس كے حصے بھى تقسيم نہيں كئے گئے-
4- اہل مكہ كے سردار ابوسفيان كو سزا دينے كى بجائے ان كے گھر كو جائے امان قرار ديا گيا-
5- مكہ والوں كے ظلم و ستم اور متعدد جنگى تدابير ميں ملوث ہونے كے باوجود ان سب كے لئے عام معافى كا اعلان كيا گيا-
فتح مكہ اور بت شكنى كى مہم
فتح مكہ ميں دوسرى جنگوں كے بالمقابل متعدد مخصوص اَحكام كى رعايت كى گئى- اگر اس بات كى كوئى گنجائش ہوتى كہ وہاں بتوں كو بچايا جاسكتا تو نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس كا بھى حكم فرماتے- ليكن آپ نے جنگ سے فارغ ہونے كے بعد پہلا كام يہ كيا كہ بيت اللہ كے اندر حضرت على كى معيت ميں تشريف لے گئے اور خو داپنے دست ِمبارك سے 360 بتوں سے بيت اللہ كوپاك كرنا شروع كيا- بيت اللہ ميں بعض بت اس قدر اونچے تھے كہ آپ كى لاٹھى وہاں تك نہيں پہنچ سكتى تھى چنانچہ حضرت على نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو پيش كش كى كہ آپ ميرے كندہوں پر سوار ہو كر بلند ہوجائيں اور بت گرا ديں۔ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
" على ! تم نبوت كا بوجہ نہيں اٹھا سكتے، آؤ ميں تمہيں بلند كرتا ہوں اور تم انہيں گرا دو"
ياد رہے كہ ان بتوں ميں آپ كے جدامجد حضرت ابراہيم  اور حضرت اسمٰعيل  كے بت بھى تھے- (الرحيق المختوم اردو: ص252) اگر اسلام ميں بتوں كا كوئى جواز ہوتا تو آپ كائنات كى مقبول ترين ہستى حضرت ابراہيم  كا بت ضرور بچا ليتے، ليكن لمحے بھر كو بھى ايسا شائبہ وہاں پيدا نہ ہوا- اور آپ كعبہ كو بتوں سے پاك صاف كركے نكلے-
اگر بتوں كى عبادت ہى ان كو گرانے كا سبب ہوتى تو مكہ ميں غلبہ اسلام كے بعد صنم پرستى كى كوئى گنجائش باقى نہيں رہى تھى- اس امكان كے باوجود آپ كا بتوں كو گرا دينے كا مطلب اس كے علاوہ اور كيا ہے كہ اسلام ميں بتوں كے لئے اس طرح كى كوئى تفريق نہيں كہ اس كى عبادت كى جاتى ہے يا نہيں؟
ممتاز سيرت نگار ابن ہشام اپنى كتاب ميں باسند بيان كرتے ہيں اور صحيح مسلم ميں بھى موجود ہے كہ
"فتح مكہ كے روز رسول اللہ اداخل ہوئے تو آپ اونٹنى پر سوار تھے، اس پر بیٹھے بیٹھے طواف كيا ، بيت اللہ كے چاروں طرف سيسے سے جمے ہوئے بت نصب تھے- آپ كے دست ِمبارك ميں ايك لكڑى تھى، آپ بتوں كى طرف اشارہ كرتے جاتے اور فرماتے جاتے : ﴿وَقُل جاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البـٰطِلُ ۚ إِنَّ البـٰطِلَ كانَ زَهوقًا ٨١﴾..... سورة الاسراء "حق آگيا اور باطل چلا گيا، بے شك باطل زائل ہونے اور جانے والا ہى تھا" چنانچہ ہر بت جس كى طرف آپ اشارہ كرتے جاتے وہ گدى كے بل اور جس كى گدى كى طرف اشارہ كرتے وہ چہرے كے بل خود بخود گرتا جاتا تھا، يہاں تك كہ كوئى بت بھى باقى نہ رہا جو گر نہ گيا ہو" (صحيح مسلم، باب إزالة الأصنام من حول الكعبة: حديث 4601 اور سيرت ابن ہشام مترجم از مولانا غلام رسول مہر، ص 484)
حافظ ابن كثير سيرتِ ابن ہشام كے حوالے سے لكھتے ہيں كہ
"فتح مكہ كے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بيت اللہ كے اندر داخل ہوئے تو اس ميں ملائكہ وغيرہ كى تصاوير دیكھیں، ابراہيم كى تصوير ديكھى، ان كے ہاتھ ميں فال كے تير تھے۔ آپ نے فرمايا: اللہ انہيں غارت كرے، انہوں نے ہمارے جدامجد كو فال گر بنا ديا ، ابراہيم كو فال گيرى سے كيا نسبت؟ ابراہيم نہ يہودى تھے، نہ نصرانى ليكن سيدہے راستے والے مسلمان تھے اور مشركوں سے نہ تھے پہر آپ كے حكم سے سب تصاوير مٹا دى گئيں"(سيرت النبى ترجمہ مولانا ہدايت اللہ ندوى: ج2، ص396)
اس كے بعد امام احمد كے حوالے سے حضرت جابر كى روايت بيان كرتے ہيں كہ كعبہ كے اندر تصويريں منقش تھيں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے مٹانے كا حكم ديا تو حضرت عمرنے كپڑا تر كركے ان كومٹا ديا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ميں اندر آئے تو اس ميں كوئى تصوير نہ تھى-"
فتح مكہ كے موقع پر نبى اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كى اپنے صحابہ كو ہدايت كا تذكرہ امام نسائى نے كيا ہے :
«عن أبي الطفيل قال لما فتح رسول الله مكة بعث خالد بن الوليد إلى نخلة وكانت بها العزى فأتاها خالد وكانت على ثلاث سمرات فقطع السمرات و هدم البيت الذي كان عليها، ثم أتى النبي فأخبره فقال "ارجع فإنك لم تصنع شيئا" فرجع خالد، فلما أبصرته السدنة وهم حجبتها أمعنوا في الحيل وهم يقولون: ياعزى، ياعزى فأتاها خالد فإذا امراة عريانة ناشرة شعرها تحثوا التراب على رأسها فغمسها بالسيف حتى قتلها، ثم رجع إلى رسول الله فأخبره فقال تلك العزى» (تفسير ابن كثير: ج٤، ص٣٩٤)
"جب نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے مكہ فتح كيا تو خالد بن وليد كو نخلة مقام پر بہيجا وہاں پر عزىٰ (نامى عورت تھى جس كى عبادت كى جاتى) تھى- خالد وہاں پہنچے تووہاں ببول كے تين درخت تھے، آپ نے انہيں كاٹ ديا اور ان پر قائم عمارت كو ڈھا ديا- پھر آپ نے نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كو آكر اپنا كارنامہ ذكر كياتو آپ نے فرمايا: دوبارہ جاؤ تم كچھ بھى كركے نہيں آئے۔ تو حضرت خالد دوبارہ لوٹے، جب ان كومجاوروں نے ديكھا تو ان سے مكروفريب كرنے لگے اور يا عزىٰ ياعزىٰ پكارنے لگے۔ حضرت خالد نے قريب آكر ديكھا تو ايك ننگى عورت اپنے اوپر مٹى ڈالے ہوئے تھى- اس كے بال بكھرے ہوئے تھے (جس طرح ہمارے ہاں ملنگ زمين ميں ليٹے ہوتے ہيں) آپ نے اس كو تلوارچبھوئى اور اپنى تلوار سے اس كو قتل كرديا، واپس جاكر نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كو بتايا تو آپ نے فرمايا: "عزىٰ يہ تھى"۔
تفسير ابن كثير ميں سورہ ٴ نجم كى آيات ﴿أَفَرَ‌ءَيتُمُ اللّـٰتَ وَالعُزّىٰ ١٩ وَمَنو‌ٰةَ الثّالِثَةَ الأُخر‌ىٰ ٢٠ كے تحت نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كى بت شكن مہم كا تذكرہ بالاختصار يوں ہے :
"قبيلہ ثقيف كے بت 'لات' كو ڈہانے كے لئے نبى كريم نے مغيرہ بن شعبہ  اور ابوسفيان صخر بن حرب كو طائف بہيجاجنہوں نے اس كو ڈھا كر اس جگہ مسجد تعمير كردى بعض لوگوں كا خيال ہے كہ يہ بت حضرت على كے ہاتھوں تباہ ہوا- اسى طرح ذوالخلصة نامى بت جسے لوگ دوسرا كعبہ كہا كرتے تھے، كونبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جرير بن عبداللہ كے ہاتھوں فنا كروايا- فلس نامى بت حضرت على نے توڑا اور يہاں سے دو تلواريں رسوب اور مخزم لے كر گئے جو نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں ہى عطا كرديں- قبيلہ حمير او راہل يمن كا بت خانہ صنعاء ميں ريام كے نام سے تھا جس ميں ايك سياہ كتا بھى تھا، اس بت خانہ كى بھى آپ نے اينٹ سے اينٹ سے بجا دى۔ رضا نامى بنو ربيعہ بن سعد كا بت خانہ مستوغر بن ربيعہ بن كعب نے ڈھايا... الخ (مزيد تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو تفسير ابن كثير مترجم:ج٥، ص٢١٠)
ان احاديث سے پتہ چلتا ہے كہ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم بت شكنى كے لئے خود صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم كو روانہ فرماتے رہے اور جزيرئہ عرب كے نامور بت خانوں كو آپ نے اپنى حياتِ طيبہ ميں منہدم كرا ديا-
حضرت على سے مروى ہے كہ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
«كان رسول اللهﷺ في جنازة، فقال:أيكم ينطلق إلى المدينة فلا يدع بها وثنا إلاكسرہ ولا قبرا إلاسواہ ولا صورة إلا لطّخها؟ فقال رجل: أنا يارسول الله فانطلق فهاب أہل المدينة فرجع، فقال علي: أنا أنطلق يارسول الله، قال فَانْطَلِقْ فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ فقال: يارسول الله! لم أدع بها وثنا إلا كسرته ولا قبرا إلا سويته ولا صورة إلا لطختها، ثم قال الرسولﷺ: من عاد إلى صَنعة شيء من هذا فقد كفر بما أنزل على محمد» رواہ أحمد بإسناد حسن (مسند احمد:ج2، ص87... مجمع الزوائد: ج5، ص173...فقہ السنہ:3/499)
"نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم ايك جنازہ میں تھے تو آپ نے فرمايا كہ تم ميں كون آدمى ہے جو مدينہ ميں جائے وہاں كوئى بت (وثن) نہ چھوڑے مگر اس كو توڑ دے، كسى اونچى قبر كو نہ چھوڑے مگر اس كو زمين سے ملا دے، كوئى تصوير نہ ديكھے مگر اس كو مٹا ڈالے- ايك آدمى نے كہا: يارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ميں يہ كام كروں گا- يہ آدمى چلا گيا ليكن اہل مدينہ نے اس كو اس كام سے ڈرايا تو وہ گھبرا كر واپس لوٹ آيا۔ تب حضرت على نے كہا كہ ميں يہ كام كرتا ہوں۔ آپ نے كہا: جاؤ تو حضرت على گئے اور كچھ دير بعد واپس لوٹ آئے اور كہا: يارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اس ميں كوئى وثن نہيں چھوڑا اور نہ كوئى اونچى قبر مگر اسے زمین سے برابر كرديا، كوئى تصوير نہ چھوڑى مگر اس كو مٹا ڈالا ہے- تب نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: جس نے بھى ايسے برے كام پھر كئے تو گويا اس نے شريعت ِمحمدى سے كفر كيا"
حضرت على  نے اپنے دورِ خلافت ميں ابو الہياج اسدى كو خود اس كام كے لئے مامور كيا اور فرمايا:
«ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول اللهﷺ؟ ألاَّ تدع تمثالا إلا طمسته، ولا قبرا مشرفاً إلا سويته» (صحيح مسلم، باب الأمربتسوية القبر: حديث 969)
" كيا ميں تجھے اس كام كے لئے نہ بھيجوں جس كے لئے نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مامور فرمايا تھا ، وہ يہ كہ توكوئى تمثال (مجسمہ) نہ چھوڑ مگر اس كو مٹا ڈال اور كوئى عاليشان قبر نہ چھوڑ مگر اس كو برابر كردے"
سرزمين اسلام ميں بتوں كو باقى ركھنا اور نماياں كرنا
اسلامى شريعت كى روشنى ميں يہ بات تو بخوبى پايہٴ ثبوت كو پہنچ چكى كہ اسلام ميں بتوں كا كوئى جواز نہيں ملتا اورمسلمانوں كو بتوں كے باقى ركھنے سے منع فرمايا گيا ہے- جہاں تك اسلامى حكومت ميں غير مسلموں كا تعلق ہے كہ انہيں بت پرستى كى كس حد تك اجازت دى جاسكتى ہے يا غير مذاہب كے عبادت خانوں كے بارے ميں اسلام كيا نقطہ نظر ركھتا ہے- تو اس بارے ميں چند نكات درج ذيل ہيں-
شيخ الاسلام علامہ ابن تيميہ سے قاہرہ كے كنيساؤں(گرجاؤں) كو عيسائيوں كے لئے عبادت گاہ كے طور پر كھولنے كے بارے ميں پوچھا گيا، اوريہ بھى كہا گيا كہ يہ كنيسے دورِ فاروقى اور خلافت ِراشدہ ميں موجود تھے اور انہوں نے ان كو منہدم نہيں كيا تو علامہ ابن تیمیہ نے اس نكتے كى وضاحت ميں فرمايا :
"اوّل تو يہ بات ہى غلط ہے كہ قاہرہ ميں دورِ فاروقى ميں يہ كنيسے موجود تھے- تاريخ سے پتہ چلتا ہے كہ قاہرہ كا شہر حضرت عمر كے تين سو سال بعد، بغداد، بصرہ، كوفہ اور واسط كے بعد بسايا گيا۔
مسلمانوں كا اس امر پر اتفاق ہے كہ جو شہر مسلمان تعمير كريں تو اہل ذمہ اس ميں اپنا معبد خانہ تعمير نہيں كرسكتے، جن شہروں كو مسلمان معاہدئہ صلح كى صورت ميں فتح كريں اور ان ميں وہ سابقہ معبد خانوں كى حفاظت كا معاہدہ كريں اور مزيد بنانے سے روك ديں تو اس مقام پر بھى مزيدمعبد خانے تعمير نہيں كئے جاسكتے۔
اس طرح جن شہروں ميں مسلمان رہتے ہوں اور ان ميں مسلمانوں كى مساجد ہوں، اسلامى حكومت كے لئے ضرورى ہے كہ وہ وہاں شعائر كفر كو ظاہر كرنے 1سے غير مسلموں كو روكے، ہاں وہ اندرونِ معبد خانہ اپنے شعائر نماياں كرسكتے ہيں-
غير مسلموں كے بعد مصر كے جو حكمران آئے وہ غالى رافضہ (جو اپنے اماموں ميں اللہ تعالىٰ كے حلول كا عقيدہ ركھتے) تھے جن كا دورِ حكومت دو سو سال سے زيادہ ہے، يہ لوگ بھى صرف ظاہر اً اسلام كے نام ليوا تھے اور اندر سے كفر محض چھپائے ہوئے تھے- ان روافض كے بارے ميں مسلمان عوام، بادشاہ اور فقہاءِ اسلام كا اتفاق رہا ہے كہ يہ اسلام سے خارج ہيں اور ان سے لڑائى كى جاسكتى ہے- يہى وہ لوگ ہيں جنہوں نے تاتار كو مسلمانوں سے جنگ پر اُكسايا- ان غالى بادشاہوں كے وزرا كھبى يہودى رہے ہيں كبھى عيسائى، جنہوں نے ارضِ مصر ميں بہت سے كنيسے تعمير كئے- ان كے دور ميں مصر ميں عيسائيوں كى قوت كا يہ عالم تھا كہ انہوں نے ساحل شام اپنے قبضہ ميں لے ليا حتىٰ كہ نورالدين زنگى نے اسے بازياب كرايا- صلاح الدين كى جنگى كارروائيوں كے نتيجے ميں آخر مصر ١٢ ويں صدى عيسوى ميں مسلمانوں كے زير نگيں آيا" (اقتباسات فتاوىٰ ابن تيميہ: ج28، ص632 تا639)
علامہ ابن تيميہ كا يہ قول كہ دارالاسلام ميں غيرمسلموں كے معبد خانے نہ ہوں ،نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كے اس فرمان كى بنا پر ہے :
1- لاخصاء في الإسلام ولا كنيسة "اسلام ميں خصى ہونے كى اجازت ہے نہ كنيسا كى" (كتاب الاموال از ابو عبيدقاسم بن سلام، ص:137)
2- اسى طرح طاؤس فرماتے ہيں:
«لا ينبغي بيت رحمة أن يكون عند بيت عذاب» (ايضاً:ص138)
"جائز نہيں كہ بيت ِرحمت (مسجد) كے ساتہ بيت عذاب (غير مسلموں كے معبد خانے) ہوں"
يہى بات علامہ ابن قيم جوزى نے أحكام أہل الذمة ميں كہى ہے، فرماتے ہيں :
"جب صليب كفر كے نماياں شعارات ميں سے ايك ہے تو اس كو بلادِاسلاميہ ميں ظاہر كرنا بھى منع ہوا-جيسا كہ امام احمد نے يہ روايت كيا ہے: «ولا يرفعون صليبا ولا يظهروا خنزيرا ولا يرفعوا نارا ولا يظهروا خمرا وعلى الإمام منعهم من ذلك»
" نہ يہ صليب نماياں كريں، نہ خنزير كو ظاہر كريں، نہ آگ كو بلند كريں اور نہ شراب كھلے عام پئيں او رحاكم وقت كو چاہئے كہ انہيں ان كاموں سے روك كر ركھے-"
اسى طرح مصنف عبدالرزاق ميں روايت ہے كہ معمر نے ميمون بن مہران سے روايت كيا : حضرت عمر بن عبدالعزيز نے اپنے امراءِ حكومت كو لكھاكہ "شام ميں عيسائيوں كو ناقوس بجانے سے روك كے ركھيں، يہ لوگ اپنے كنسياؤں كے اوپر صليب نماياں نہ كريں- تنبيہ كے باوجود اگر كسى نے اس كا ارتكاب كيا تو اس كى رہائش گاہ بتانے والے كے قبضہ ميں دے دى جائے گى-"
علامہ ابن قیم مزيد فرماتے ہيں:
"صليب كو ظاہر كرنا اور بتوں كو ظاہر كرنا برابر ہے كيونكہ صليب عيسائيوں كا اسى طرح معبود ہے جيسے بت، اسى لئے عيسائيوں كو صليب كے پجارى بھى كہا جاتاہے- عيسائيوں كوكنيساؤں كے دروازوں اور بيرونى ديواروں پر صليب بنانے كى اجازت نہيں دى جائے گى، ليكن اگر وہ درونِ خانہ اس كو لگائيں تو اس پر كوئى پكڑ نہيں" (ص:719)
اسى طرح صحيح بخارى ميں نبى اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كا يہ فرمان موجود ہے :
«إن عائشة حدثته أن النبي لم يكن يترك في بيته شيئا فيه تصاليب إلا نقضه»
"حضرت عائشہ نے بيان كيا كہ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم گھر ميں كوئى ايسى شے نہ چھوڑتے جس ميں صليب كى شبيہ ہوتى مگر اس كو توڑ ڈالتے" (باب نقض الصور: حديث5952)
اسلامى تعليمات اس بارے میں بڑى واضح ہيں كہ دارالاسلام ميں غير مسلموں كو اپنے مذہب سے وابستگى كى اسى حد تك اجازت ہے جہاں تك وہ مسلمانوں كے عقائد پر اثر انداز نہ ہوں- اگر وہ اپنى تعليمات كى مسلمانوں ميں تبليغ شروع كرديں تو ايسے غير مسلموں كو دارالاسلام ميں رہنے كا كوئى حق نہيں- اسلام كى تعليمات اس بارے ميں بھى واضح ہيں كہ كن مذاہب كے ساتھ مفاہمت (معاہدئہ صلح) ہوسكتى ہے- اس ميں بنيادى شرط يہ ہے كہ وہ مذاہب شرك كى لعنت سے پاك ہوں- چنانچہ جمہور ائمہ كے نزديك اہل ذمہ صرف اہل كتاب ہى ہوسكتے ہيں جبكہ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كى ايك حديث كے مطابق اس ميں مجوس كو اختلافى طور پر شامل كيا جاسكتا ہے- جو مذاہب ان تين كے ماسوا ہوں، ان سے جنگ كے بعد اسلام قبول كرنے يا ان كو مفتوح (قتل) كرلينے كے سوا اسلام ميں كوئى ديگر صورت نہيں- يہ مذہب امام احمد اور شافعى كا ہے جبكہ امام ابوحنيفہ اور امام مالك كى رائے ميں جزيرئہ عرب كے ماسوا تمام كفار سے جزيہ لے كر ان سے معاہدئہ صلح ہوسكتا ہے- (المغنى لابن قدامہ: ج13/ص208،202)
اسى طرح فقہاءِ اسلام نے دائمى جزيہ پرمبنى معاہدئہ صلح ميں بھى دو شرطوں كى پابندى ضرورى قرار دى ہے، اوّل يہ كہ وہ ہر سال جزيہ اَدا كرتے رہيں گے،دوم اسلامى احكام كى بھى ظاہرى رعايت و پاسدارى كريں گے يعنى منكرات كے ارتكاب سے بھى دور رہيں گے- (ايضاً:207)
بتوں كى فروخت
افغانستان ميں پيش آنے والى حاليہ صورتحال سے پريشان ہو كر بعض لوگ طالبان كو ان بتوں كو فروخت كرنے كى ترغيب دے رہے ہيں، جس پرطالبان نے درست موقف اپنايا ہے كہ مسلمان بت شكن ہوسكتا ہے، بت فروش نہيں- اسلام كى رو سے بتوں اور مجسّموں كى فروخت ممنوع ہے كيونكہ اس طرح يہ بھى بدترين گناہ 'شرك' كى ترويج ميں ہى ايك مدد ہے- ان بتوں كو اگر ان كے پجاريوں كے ہاتھ فروخت كرديا گيا تو ظاہر بات ہے كہ وہ اس كى پوجا ہى كريں گے چنانچہ صحيح مسلم ميں حضرت جابر بن عبداللہ نے نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كا يہ فرمان ذكر كياہے:
«إن الله و رسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام»
"نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مكہ كے موقع پر فرمايا: بے شك اللہ اور اس كے رسول نے شراب، مردار، خنزير اور بتوں كى خريدوفروخت سے منع فرمايا ہے" (صحيح مسلم، باب تحريم بيع الخمر: حديث1581)
علامہ ابن قيم اپنى كتاب 'زاد المعاد' ميں اس حديث كى شرح كے ضمن ميں فرماتے ہيں:
"جہاں تك بتوں كى فروخت سے روكنے كا تعلق ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے كہ ہر وہ آلہ جو شرك كے لئے معاون ثابت ہو چاہے جيسا بھى ہو، صنم ہو يا وثن يا صليب، يا شرك پر مشتمل كتب ہيں، ان سب كى خريد و فروخت ممنوع ہے- ان سب كو ضائع كردينا اور ختم كردينا واجب ہے- ان كى فروخت گويا اس كام كى نشوونما اور حفاظت كا ايك ذريعہ تصور ہوگى- چنانچہ اصنام كى فروخت ديگر اشياء كى فروخت سے زيادہ سنگين ہے كيونكہ ہر شے كى ممانعت اس كے داخلى فسا دكى بنا پر ہوتى ہے- نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصنام كا ذكرآخر ميں اس كے كمتر گناہ ہونے كى بنا پر نہيں فرمايا بلكہ تدريجا ً سنگين سے سنگين امر كو بيان كيا ہے... الخ" (زادالمعاد: ج5 ص654)
شريعت ِاسلاميہ كے مختصر مطالعہ كے بعد افغانستان ميں بت شكن مہم كو سامنے ركھا جائے تو معلوم ہوتا ہے :
1۔ شريعت ِاسلاميہ ميں پوجے جانے اور نہ پوجے جانے والے بتوں كے درميان كوئى فرق نہيں-
2۔ اسلامى شريعت بتوں، اصنام، تماثيل حتىٰ كہ اوثان كى بھى شديد مخالفت كرتى ہے اور اسلامى معاشرے ميں ان كو قبول نہيں كيا جاسكتا-
3۔ نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود بت شكن مہم ميں حصہ ليا اور متعدد صحابہ كرام كواس مقصد كيلئے روانہ فرمايا ان بتوں ميں آپ كے جدامجد كے بت بھى شامل تھے ليكن ان سے بھى كوئى رو رعايت نہ كى گئى۔
4۔ مصر چونكہ معاہدئہ صلح كے نتيجے ميں فتح ہوا لہٰذا وہاں عبادت گاہوں اور بتوں كو منہدم نہ كيا گيا-
5۔ جوں جوں اسلامى عنصر مصر ميں قوت پكڑتا رہا توں توں بت خانوں كو گرانے كى كوششيں كى جاتى رہيں جن ميں كچھ كامياب رہيں اور كچھ كثير مصارف كى بنا پر بندكرنا پڑيں۔
6۔ ابوالہول كو باقى ركھنے كى بنيادى وجہ مميوں كى طرح اس كا مقام عبرت ہونا ہے ،نہ كہ يہ مقام تعظيم و تعبد ہے - اسى بنا پر اس سے صرف ِنظركيا گيا ہے۔
7۔ اسلام بت خانوں اور كليساؤں كے بارے ميں مختلف نقطہ نظر ركھتا ہے- عيسائى عبادت خانے (كنيسا) اور يہودى معبد خانے (بيع) تو بعض شرائط كے ساتھ اسلامى قلمرو ميں برداشت كئے جاسكتے ہيں ليكن شركيہ بت خانوں كے بارے ميں اسلام ميں كوئى نرمى نہيں، يہى وجہ ہے كہ معاہدئہ صلح بھى غير مشرك اَقوام سے ہى ہوسكتاہے- يہاں اہل ذمہ كى بحث چھيڑنا بھى چنداں فائدہ مند نہيں كيونكہ بدہ مت كا شمار ان مذاہب سے ہوتا ہے جن سے اسلام كا معاہدئہ صلح بھى ممكن نہيں۔
8۔ افغانستان كے دارالاسلام ہونے كى وجہ سے وہاں بتوں كو برداشت نہيں كيا جاسكتا۔
9۔ اسلام ميں بتوں اور حرام اشياء كى فروخت ممنوع ہے كيونكہ يہ بھى شرك كو پھيلانے ميں معاونت ہے۔
مذكورہ بالا تصريحات سے پتہ چلتا ہے كہ اسلام كى رو سے بت شكنى مسلمانوں كا فريضہ ہے اور مسئلہ كى حد تك طالبان كا يہ اِقدام بالكل درست ہے ليكن ياد رہنا چاہئے كہ اسلامى شريعت صرف احكام وہدايات كا مجموعہ نہيں بلكہ اس ميں حالات و واقعات كو ملحوظ بھى ركھنا پڑتاہے، ممكن ہے ايك امر شرعى تقاضا تو ہو ليكن مخصوص حالات ميں اس كى اجازت اسلامى شريعت سے نہ مل سكے- طالبان كى بت شكن مہم كى مثال بھى كچھ ايسى ہى ہے۔
جس طرح عالمى طور پر طالبان كے حوالے سے اسلام كى متشددانہ تصوير ذرائع ابلاغ پر پيش كى جارہى ہے اور اس بہانے اسلام كو مطعون كياجارہا ہے، ذرائع ابلاغ اور عالمى سياست پر مغربى اور صہيونى اجارہ دارى كے اس دور ميں اس طرح كا اقدام بہت سوچ سمجھ كركرنے كى ضرورت ہے- طالبان كى نوآموز حكومت كے لئے شديد كشاكش اور تناؤ كے اس دورميں ايسے ايشوز كواٹھانا مناسب نہيں ہوگا جس كى وہ نہ مناسب وضاحت كرسكنے پر بھى قادر ہوں، نہ ہى عالم اسلام سے اس كى كلى حمايت حاصل كر سكيں-يہى وجہ ہے كہ نبى كريم نے بھى بت شكنى كا عمل كو اوائل اسلام ميں نہيں كيا ، وگرنہ ہجرت سے قبل بيت اللہ كے چند بتوں كو گرا دينا آپ كے جا ن نثار صحابہ كے لئے ناممكن نہيں تھا-فتح مكہ كے بعد جب اسلام كو قبول عام حاصل ہوا اور لوگ فوج در فوج اسلام ميں داخل ہونے لگے تب نبى كريم نے مختلف صحابہ كوبت گرانے كى مہم پر روانہ كيا-اس سے پتہ چلتا ہے كہ غير وں كے مقدس مقامات كے بارے ميں كاروائى بہت سوچ سمجھ كركرنے كى ضرورت ہے۔
طالبان كى بت شكنى ...موجودہ حالات كے تناظر میں
شريعت ِاسلاميہ میں بت شكنى كى واضح اور محكم تعليمات كے باوجود طالبان كى موجودہ بت شكن مہم كے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہيں- امريكہ، يورپ اور بدھ مت كے پيروكار ممالك ميں تو طالبان كے اس اِقدام كو عالمى تہذيب كے نوادرات كو صفحہٴ ہستى سے مٹانے كا وحشيانہ اِقدام كہاجارہا ہے مگرعالم اسلام ميں بھى اس مسئلہ پر اختلافِ رائے سامنے آيا ہے- عالم اسلام كے خلاف امريكہ اور مغربى سامراجى طاقتوں كے استعمارى ہتھكنڈوں كے تناظر ميں اس مسئلہ كو ديكھنے والے مسلمانوں كى طرف سے طالبان كى بت شكنى كوايك آزاد اور خود مختار مسلمان ملك كى جرأت مندانہ پاليسى قرار ديا جارہا ہے- مسلمانوں كى طرف سے اس مسئلہ پر مختلف آراء پيش كى گئيں جو درج ذيل ہيں:
دين پسندوں كا وہ پرجوش طبقہ جو مغرب اور اس كى تہذيب سے نفرت كرتا ہے، ا س نے بلاشبہ طالبان كے جرأت مندانہ اقدام كو خراجِ تحسين پيش كيا ہے- ان ميں صرف روايتى علماء ہى نہيں، دائيں بازو كى صحافيوں كى اچھى خاصى تعداد بھى شامل ہے- يہاں يہ ممكن تو نہيں كہ پاكستانى پريس ميں شائع ہونے والے مضامين اور كالموں كا جامع سروے پيش كياجائے، البتہ چند ايك مثاليں پيش كرنے سے اس طبقہ كى رائے كى نمائندگى پيش كى جاسكتى ہے- روزنامہ 'نوائے وقت' كے كالم نگار طاہر مسعود اپنے كالم 'افغانستان آزاد ہے!' ميں طالبان كے موٴقف كى حمايت ميں تحرير كرتے ہيں :
"ملاعمر جب يہ كہتے ہيں كہ گوتم بدھ كے يہ مجسّمے بت ہيں اور ان كا انہدام ہمارا مذہبى اور دينى فريضہ ہے تو وہ صحيح كہتے ہيں- يہ بت كسى زمانے ميں الٰہ رہے ہيں او ردين اسلام كے مطابق اللہ كے سوا كوئى الٰہ نہيں- دنيا ان مجسّموں كو تہذيبى ورثہ قرار ديتى ہے- اگر يہ تہذيبى ورثہ ہيں بھى تو يہ افغانستان كا تہذيبى ورثہ نہيں اور وہاں كے حكمران اس تہذيبى ورثہ كو باطل قرار دے كر اس سے اپنا رشتہ منقطع كرنا چاہيں تو اس پر كسى كو اعتراض كا كيا حق ہے؟ مغربى دنيا كے معيارات دوہرے ہيں۔
تہذيب كے ان پرستاروں كا حال يہ ہے كہ وہ بے جان پتھر كى مورتيوں پرفدا اور نثار ہيں اور بھوك و افلاس سے تڑپتے اور جيتے جاگتے انسانوں سے بيگانہ اور غافل ہيں- وہ مجسّموں كے ٹوٹنے پر تو طوفان اٹھا ديتے ہيں ليكن مرتے ہوئے انسانوں كو ديكھ كر ان كے حلق سے كوئى كراہ نہيں نكلتى۔
میں تو اس معاملے كوايك نقطہ ٴ نگاہ سے ديكھتا ہوں- ملا عمر نے ان مجسّموں او ربتوں كى تباہى پر امريكہ اور اس كے حليف ملكوں كا دباؤ قبول نہ كركے يہ ثابت كرديا ہے كہ افغانستان غريب اور پسماندہ ہونے كے باوجود ايك آزاد ملك ہے- افغانستان ايك ايسا ملك ہے جوامريكہ، روس، فرانس، برطانيہ، جاپان اور بھارت كے سامنے آزادى اور خود دارى كے جذبے سے كھڑا ہونے اور ان كى ڈكٹيشن لينے سے انكار كرنے كى جرأت ركھتا ہے" (نوائے وقت:22/ مارچ2001ء)
جماعت اسلامى كى فكر سے تعلق ركھنے والے ايك دانشور جناب متين فكرى طالبان كى بت شكنى پر ان الفاظ ميں تبصرہ كرتے ہيں :
"عصر حاضر ميں طالبان كے فہم اسلام سے اختلاف ہوسكتا ہے، يہ كہا جاسكتا ہے كہ وہ جديد دور كے تقاضوں كو سمجھنے سے قاصر ہيں اور بہت سے معاملات ميں تنگ نظرى كا ثبوت دے رہے ہيں ليكن يہ كريڈٹ بہركيف انہيں جاتا ہے كہ وہ اسلام كے معاملہ ميں احساسِ كمترى كا شكار نہيں ہيں...انہوں نے انتہائى بے سروسامانى اور كسمپرسى كے عالم ميں ايسے ايسے بتوں كو ٹھوكر مار كر اوندہے منہ گرايا ہے كہ پورى دنيا حيرت سے تك رہى ہے- مثلاً امريكہ كى انا كا بت جسے پورى دنيا اپنا ديوتا سمجھ كر پوج رہى ہے، طالبان كى ٹھوكروں كى زد مين آكر كراہ رہا ہے- طالبان ايك تباہ حال افغانستان ميں مٹى كے ڈہير پر بيٹھے ہيں، ان كے پاس اب كھونے كے لئے كچھ نہيں رہا ليكن دوسروں كى جھوٹى طاقت كا پول كھولنے اور ان كى تہذيب كا ملمع اتارنے كے لئے ان كے پاس بہت كچھ ہے" ( ہفت روزہ ايشيا:28 /مارچ 2001ء)
دوسرا طبقہ ان نام نہاد مسلمانوں پرمشتمل ہے جن كے فكرى سرچشمے سيكولرازم اور سوشلزم ہيں- وہ نہ صرف جہادى تنظيموں كے سخت مخالف ہيں بلكہ طالبان كو غير مہذب، اَن پڑھ اور نيم وحشى بنا كر پيش كرتے ہيں- پاكستان كاانگريزى پريس اور اُردو اخبارات ميں لكھنے والے سيكولر صحافى باميان ميں مجسمہ شكنى كے خلاف طالبان كى مذمت ميں ايڑى چوٹى كا زور لگا رہے ہيں- ان كا استدلال جس قدر بھى قوى ہو، چونكہ ان كى سوچ تعصب سے خالى نہيں ہے، اس لئے اس طبقہ كے خيالات كو درخور اعتنا نہيں سمجھا جاسكتا- ان ميں سے بعض مضمون نگار طالبان كے اقدام كو اسلامى تاريخ سے حوالہ جات ڈہونڈكو مسترد كرنے كى سعى ميں بھى مصروف ہيں- ان كے اہم ترين دلائل ميں مصر كا ابوالہول آتا ہے جس كا ذكر تفصيل سے مندرجہ بالا سطور ميں كرديا گيا ہے- محمود غزنوى كى جانب سے افغانستان ميں بتوں كو نہ توڑنے كو بھى دليل بنا كر پيش كيا جارہا ہے- ان ميں سے بعض اس طرح كے سوالات بھى اٹھا رہے ہيں:" جب انتقامى طور پر اللہ تعالىٰ كو برا بھلا كہلانے سے بچنے كے لئے ان كے معبود باطل كو گالياں دينا ممنوع ٹھہرا تو پھر ان كو توڑنا كيسے جائز ہوگا؟"...ايك صاحب اعتراض كرتے ہيں " افغانستان كے اندر يہ شرك كے خلاف جہاد زمانہٴ امن ميں كيا جارہا ہے" -بہرحال سيكولر اور اشتراكى طبقہ كے بارے ميں ہم يہاں يہ تبصرہ كرنا بھى مناسب سمجھتے ہيں كہ وہ ماضى كى ہر روايت كو توڑنے كو انقلابيت كى سب سے اہم دليل سمجھتے ہيں- مگر مجسّموں كے متعلق يہى روايت شكن طبقہ حد درجہ روايت پرست واقع ہوا ہے كيونكہ اس روايت كا تعلق اسلام سے ہے- دو ہزار سال پرانے بتوں سے ان كى محبت كے باوجود وہ ترقى پسند اور انقلابى بنے ہوئے ہيں۔
ہمارى رائے ان دونوں نقطہ ہائے نظر سے مختلف ہے- ہم اس بات پر يقين ركھتے ہيں كہ كسى مسلمان حكومت كے لئے نماياں بت كى شكل ميں كسى مجسمہ كا باقى ركھنا حرام ہے لہٰذا طالبان كى جانب سے بت شكنى كے اِقدام كو شريعت كى حمايت بھى حاصل ہے مگر حكمت اور مسلمانوں كى سياسى اور ملى مصلحت كے وسيع تناظر ميں اس كا جائز ہ ليا جائے تو طالبان كى جانب سے دنيا بھر ميں مسلمانوں كے حالات بالخصوص غير اِسلامى ملكوں ميں مسلمان اقليتوں اور انكے متبركات كى توہين كے خطرات سے چشم پوشى كركے فورى طور پر مجسّموں كوتوڑنے كا اقدام كئى پہلوؤں كى طرف غوروفكر كى دعوت ديتا ہے :
(i) آج كل دنيا 'عالمى بستى' كى حيثيت ركھتى ہے جس ميں مختلف علاقوں ميں بسنے والے مسلمانوں كے مفادات ايك دوسرے سے باہم مربوط ہيں- آج كوئى بھى ملك اپنے گھر ميں اس قدر خود مختار نہيں ہے كہ وہ ديگر ممالك كو نظر انداز كرنے كا متحمل ہوسكے- طالبان كے اس اقدام سے بعض ممالك مثلاً سرى لنكا، جاپان، برما وغيرہ جہاں مسلمان اقليت ميں ہيں، وہاں مسلمانوں كو شديد ردّعمل اور مشكلات كا سامنا كرنا پڑسكتا ہے-امام غزالى  كى رائے ميں جہاں ملى اور اِضطرارى مصلحت ہو، وہاں شريعت كے بعض امور كى تنفيذ كو موٴخر كرديا جائے تو اسلامى شريعت سے اس كى گنجائش ملتى ہے-
(ii) مسلمان ملكوں كى طرف سے طالبان كے مذكورہ اِقدام كى تائيد كرنا بالخصوص پاكستان كے لئے خاصا مشكل امر ہے كيونكہ اگرعالم اسلام اور پاكستان اس پاليسى كى حمايت كرتا ہے تو اسرائيل كے زير قبضہ مسجد اقصىٰ اور بھارت ميں ہندوؤں كى طرف سے مسلمانوں كى عبادت گاہوں كو مسمار كرنے كے خلاف احتجاج كرنے كى پوزيشن ميں اُصولى طور پر نہيں رہے گا- بھارت كے تشدد پسند ہندوؤں كى طرف سے مسلمانوں كى مساجد مسمار كرنے كا اعلان بار بار كيا جارہا ہے بلكہ انہوں نے مسجد قوت الاسلام ميں قرآن كريم كى توہين كر بھى ڈالى ہے جس كے خلاف پاكستان نے احتجاج بھى كيا ہے- پاكستان ان كى اس تشدد پسند پاليسى كے خلاف احتجاج اسى صورت ميں كر سكتا ہے جب كہ وہ طالبان كے اقدام كى سركارى طور پر حمايت نہ كرے۔
(iii) بعض اہم شخصيتوں بلكہ اِداروں كى طرف سے طالبان كو ايك بين الاقوامى شرعى عدالت كے قيام كى تجويز بھى دى گئى تہى- اس تجويز كے مطابق اگر عالم اسلام كے جيد علماء پر مشتمل يہ عدالت تشكيل دے دى جاتى اوران سے درخواست كى جاتى كہ وہ شريعت ِاسلاميہ اور ملت ِاسلاميہ كے اجتماعى مفادات كى روشنى ميں اس مسئلہ پر راہنمائى بہم پہنچائے تو يہ تجويز بے حد مناسب تھى- اگر اس كو مان ليا جاتا تو طالبان يہ ذمہ دارى اپنے سرلينے كى بجائے شريعت كورٹ اور پورے عالم اسلام پر اجتماعى طور پر يہ ذمہ دارى ڈال ديتے- اس طرح انہيں عالم اسلام كى فى الجملہ حمايت كى صورت ہى اجتماعى ذمہ دارى كى وجہ سے اس طرح كى سخت تنقيد كا سامنا بھى نہ كرنا پڑتا- ايك عالمى شريعت كورٹ كے قيام كى وجہ سے دنيا بھر كى توجہ كا مركز بننے كے علاوہ مسلمانوں كے ديگر مسائل كے حل كيلئے بھى نتائج بڑے مثبت ثابت ہوتے۔
(iv) افغانستان جس بدترين معاشى بدحالى كے دور سے گزر رہا ہے- اس طرح كے سخت اِقدامات صرف تنہا اپنے سر لينے كے بعد افغان عوام كى مشكلات مزيد گہمبير ہوسكتى ہيں- لہٰذا مصلحت يہى ہے كہ ايسے اقدامات كو فى الحال موٴخر كرديا جائے- حكمت ِعملى كے طور پر وسيع تر مفادات كے تحفظ كے لئے طالبان بت شكنى كے اس عمل كو موٴخر كرسكتے ہيں اور يہ تاخير شرعى اعتبار سے بھى ناجائز نہيں ہوگى۔
(v) سعودى عرب اور پاكستان جيسے طالبان كے خيرخواہ ممالك بھى طالبان كى بت شكنى كى مہم كى تائيد نہيں كر رہے- پاكستان كے وزيرداخلہ اس سلسلے ميں باقاعدہ افغانستان كا دورہ بھى كرچكے ہيں- سعودى عرب جس كے حكمرانوں اور عوام كا مزاج موٴحدانہ ہے، وہ بھى اس مسئلہ كے متعلق تقريباً سكوت كا رويہ اختيار كئے ہوئے ہيں- تاہم صوبہ قصيم كے ايك عالم دين كى طرف سے ذاتى حيثيت ميں بت شكنى كے اس اقدام كى حمايت كى گئى ہے-ليكن بعض مسلمان ممالك اور علماء نے واضح طور پر طالبان كے اِقدام كى مخالفت بھى كى ہے- ايسے حالات ميں جب امت ِمسلمہ بھى فورى اقدام كى حمايت نہيں كر رہى، يہ معاملہ موٴخر كردينا چاہئے تھا۔
ہمارى رائے ہے كہ پاكستان كى اسلام پسند جماعتيں اور علماء ايك مشتركہ سيمينار كے انعقاد كے ذريعے اس موضوع پر کھل كر اظہارِ خيال كريں اور اس كے بعد باہمى مشاورت كے ذريعے ايك متفقہ موقف اختيار كركے پاكستان، طالبان اور عالم اسلام كى راہنمائى كا فريضہ ادا كريں- طالبان كى طرف سے بت شكنى مہم كے مضمرات پاكستان اور عالم اسلام كے لئے بھى غور طلب ہيں، اسے محض طالبان كا مسئلہ قرار دے كر نظر انداز كرنا امت ِمسلمہ كے اجتماعى مفادات سے روگردانى كرنے كے مترادف ہوگا۔


 

نوٹ
1. سنا ہے کہ طالبان نے شاہراہوں کے بتوں کو تو گرایا، اندرون معبد خانہ کاروائیاں نہیں کیں۔