مسجد ِحرام میں امامِ کعبہ کا خطابِ جمعہ
خانہٴ کعبہ کے اِمام اور خطیب(۱) شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے ۱۶/ محرم ۱۴۳۱ھ بمطابق ۲۱/اپریل ۲۰۰۰ء کو بیت اللہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا موضوع تھا ... حقوق الانسان !
سب تعریفیں اس اللہ کو سزاوار ہیں جس نے انسان کوپیدا فرمایا۔ اسے نک سک سے درست کیا پھر اس کے باطنی وظاہری قویٰ میں اِعتدال و تناسب ملحوظ رکھا۔ پھر جس صورت میں چاہا، اسے جوڑ کر تیار کیا۔ پھر محض پیدا کرکے اُسے چھوڑ نہیں دیا بلکہ عقل و فکر کی طاقتیں عطا فرما کر اس کے سامنے بھلائی اور برائی، نیکی اور بدی کے دونوں رستے نمایاں کرکے رکھ دیئے۔ ان میں سے بعض نے نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کی اور نیکیوں کی جستجو کو اپنا عزم ٹھہرایا اور قربت ِالٰہی اور جنت کے حصول کو اپنا مطلوب بنایا اور بعض نے بدی اوربدبختی کی راہ اپنائی اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کی لذتوں اور سامانِ عیش و طرب میں منہمک ہوگئے جس کے نتیجے میں خیر کے تمام دروازے ان کے لئے بند کردیئے گئے۔
میں اپنے ربّ کا شکر گزار ہوں جو دانشمندی اور حکمت ِبالغہ کی حامل ذات ہے۔ سارے کام اسی کے آگے پیش ہوتے ہیں اور وہی فیاضِ حقیقی اور شفیق ذات ہے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لاشریک ہے ، ایسا اقرارجو قائل کو روزِقیامت حساب سے چھٹکارا دلا دے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ ہمارے آقا اور پیغمبر محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ان پر نبوت کا سلسلہ تمام ہوا اور ایک نہایت باعزت کتاب ان پرنازل کی گئی۔ اللہ ان پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے۔ اس طرح ان کی آل اور صحابہ وتابعین پر اور ان ہستیوں پر جنہوں نے قیامت تک کے لئے آپ اور صحابہ و تابعین کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔
درود وسلام کے بعد! اے لوگو، میں تمہیں اور خود اپنے آپ کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ چنانچہ اللہ سے ڈرو، اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ اپنی دنیا کی زندگی کے لئے اس طرح محنت کرو گویا تم نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لئے اس طرح محنت کرو گویا تم نے کل مرجانا ہے۔ پوری لگن اور شوق سے آخرت کو اپنا مقصودبنا لو۔ نافرمانی کے کاموں اور انعاماتِ خداوندی کی ناشکری سے بچو۔ جب بھی کوئی قوم کفرانِ نعمت کی مرتکب ہوئی اور پھر اس نے توبہ بھی نہ کی تو اللہ نے اس سے عزت چھین لی اور د شمن کواس پرمسلط کردیا۔ جو آج ڈر گیا، کل کو محفوظ ہوگیا۔بھلا جس نے قلیل کو کثیر اور فانی کو ابدی کے بدلے فروخت کردیا، اس کا سودا خسارے کاسودا کیسے ہوسکتاہے؟۔ اور یاد رکھو! ایک دن تمہیں پوشیدہ اور ظاہری امور کی خبر رکھنے والے ربّ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو!!
اے مسلمانو! ایک عقلمند انسان اپنی فطرت سے اس مرجع الخلائق مقتدر ہستی کو پہچان سکتاہے جو اس کے تمام معاملات کو منظم کرتی ہے، اس کے توازن کو برقرار رکھتی ہے، اسے گمراہی کے بھنورسے نکالتی ہے، اس کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے،اس کے دین ، جان ومال اور عزت و آبرو کے تمام گوشوں کو ایک منظم اور مرتب اَنداز میں امن مہیاکرتی ہے۔
یہ تمام حقوق اور عالمگیر اَمن کا مرجع اللہ تعالیٰ کی کا دین ہے جس پر اس نے تمام انسانوں کی تخلیق فرمائی اوران حقوق کا اِطلاق زندگی کے ہر شعبہ پر ہوگا۔ خواہ اس کا تعلق انسانی زندگی سے ہو، عدل وانصاف سے ہویا آزادی سے۔ ہر انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی جان، مال، عزت و آبرو اور اپنے عقائد کی حفاظت کرے کیونکہ تمام انسان اپنی ماں کے شکم سے آزاد پیدا ہوئے ہیں اور یہ تمام حقوق انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہیں۔
یہ انسانی حقوق نہ تو درآمد (Import) کئے جاسکتے ہیں اورنہ ہی اپنی عقل سے فرض کئے جاسکتے ہیں۔ یہ خود بخود اُبھرتے اور جنم لیتے ہیں۔ وہ انسانی معاشرہ سے پھوٹتے ہیں اوران کی بنیاد وہ دین ہے جسے اللہ نے انسانیت کے لئے پسند فرمایا۔ اے مسلمانو! حکمران اور رعایا کے درمیان معاہدہ کی رو سے بنیادی ستون جن پر اِن حقوق کی عمارت استوار ہے ، دو ہیں: ریاست اور عوام۔ اگر اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو پھر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورانسانی حقوق کے علمبرداروں اور اس کے حامیوں کی مخالفت کرے گا۔ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا جرم ہے تو یقینا انسانی حقوق کی تعریف، ان کے تعین اوران حقوق کی تفصیل میں متردّد ہونا بہت بڑا جرم ہے۔ اورپھر انسانی حقوق کے نام پراپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے حصول کے لئے بے حیائی کے کلچر کو فروغ دینا اس سے بھی زیادہ المناک اور وحشت ناک ہے۔
جو شخص اپنے آپ کا احترام کرتا ہے وہ یقینا کھلے دل سے اور غیر مشروط طور پر حقوق انسانی کی بھی تائیدکرے گا بشرطیکہ وہ حقوق ایک واضح نظامِ حیات کے اُصولوں سے متصادم نہ ہوں۔ آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان ہر ذمہ داری اور جواب دہی سے آزاد ہوجائے۔ آزادیٴ اظہار کے نام پر دشنام طرازی اورہرزہ سرائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کیا حریت ِفکر کا یہ مطلب ہے کہ انسان کفر کا ارتکاب کرے اور تخریب کاری کا گھناؤنا فعل انجام دے۔ نقل وحمل کی آزادی کا مطلب قطعاً نہیں کہ دوسرے ممالک پر تسلط جما لیا جائے ہاں البتہ جو بات ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی کی طرف سے حقوقِ انسانی کی پامالی اور بے حرمتی ہو تواس کا محاسبہ کیا جائے اور اس کو مکمل سزا دی جائے۔ لیکن اس دوران مختلف قوموں کے دینی اور اعتقادی فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا بھی ضروری ہے۔ اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے کے نظریات کا جائزہ لینے کے لئے بالکل غیر جانبداری سے کام لیا جائے۔ جہاں ہرایک کو سوال کرنے اور وضاحت طلب کرنے کا حق حاصل ہے تو وہاں پوچھے جانے والے کوبھی اپنے نظریات کی وضاحت کرنے کا پورا پورا موقع ملنا چاہئے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ بعض این جی اوز اسلام میں انسانی حقوق کے ایشو کا اِدراک کرنے اور اسلامی معاشروں کی خصوصیات کو سمجھنے میں ناکام رہی ہیں، لیکن ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا اسلام کی حقیقت اوراس کے اَحکام کو نہ سمجھنا اوراسلامی تشریحات کو سننے کا اپنے اندر حوصلہ نہ پانا ان کو یہ حق دے دیتا ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی صورت کو مسخ کرکے پیش کریں اور ا س کے مبادیات کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں۔ ہم مکمل وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی اصول و اَقدار ہی وہ منفرداُصول و قوانین ہیں جو انسان کی ترقی اوراس کی عظمت اور حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔
اسلامی تہذیب اس لحاظ سے خصوصیت کی حامل ہے کہ یہ تہذیب اپنے اصول و تشریحات اور اپنے نظریاتی اور ثقافتی ڈھانچے کے لحاظ سے دوسری تہذیبوں سے بالکل مختلف ہے اوراہل اسلام کو باقی لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔اسلام ہی ایسا دین ہے جس نے مسلمانوں کی شخصیت کو ایک عمدہ قالب میں ڈھالا، کیونکہ اس کی بنیاد وحی الٰہی" اللہ کی کتاب اورمحمد رسول اللہﷺ کی سنت" ہے۔
متجددین کا یہ دعویٰ نہایت افسوسناک ہے کہ وحی الٰہی آج کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرسکتی۔ یہ لوگ دین اور دنیا کی جدائی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ان کی تنظیمیں دین وسیاست کی تفریق کی دعوت دے رہی ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ دین کو دنیاوی زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔ جبکہ اس کے مقابل اسلام ، دین اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے کو ہی اوّلین اور اہم ترین مقصد قرار دیتا ہے۔ اسلام کی رو سے دین ہی اولین ضرورت بلکہ تمام حقوق کا سرچشمہ ہے۔ اسی سے مسلمانوں کے ہاں اخلاقی ضابطے اور معاشرتی اخلاق کی قدریں جنم لیتی ہیں۔
اسی طرح ایک مسلمان معاشرہ کے لئے اس کے تمام حقوق و فرائض اور باہمی تعلقات میں شریعت کے اُصول اور اس کی نصوص ہی تشریعی نظام کا درجہ رکھتی ہیں۔
اے لوگو! اگر تم ہمارے مذہب کی کوئی مثال لینا چاہتے ہو تو صرف قرآنِ مجید میں مذکور قصہ تکریم انسان پر ہی غور کرلو جہاں اللہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ انسان کو پیدا کرے گا پھر اسے اس زمین کا خلیفہ بنائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دین شرفِ آدمیت اور نوعِ انسانی کی عظمت و تکریم کا علمبردار ہے۔ اور یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ انسانی غلطیوں اور کوتاہیوں کے نتیجے میں شرفِ آدمیت کی پامالی کا اسلام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جب معزز فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ یہ مخلوق جس کی پوری تاریخ گناہوں سے لبریزہوگی، کیا اس مقام کی مستحق ہے کہ اس کو پیدا کرکے خلافت کے منصب پر سرفراز کر دیا جائے تو معلوم ہے، اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا تھا، قرآن کی آیت پڑھئے :
﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً ۖ قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ٣٠ ﴾...... سورة البقرة
"پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: کیا آپ زمین پر کسی ایسے کو پیداکرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خون ریزیاں کرے گا۔ آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لئے تقدیس تو ہم کرہی رہے ہیں۔ فرمایا: جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔"
تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ نوعِ انسانی واقعی شرف و تکریم اور منصب ِخلافت کے لائق ہے اور چند اَفراد یا چند گروہوں کا راہِ راست سے بھٹک جانا اس بات کا باعث نہیں ہوسکتا کہ آدم کی باقی اولاد کو شرفِ آدمیت کے اس مرتبہ سے معزول کردیا جائے جو انہیں اللہ نے عطا فرمایا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
﴿وَلَقَد كَرَّ‌منا بَنى ءادَمَ وَحَمَلنـٰهُم فِى البَرِّ‌ وَالبَحرِ‌ وَرَ‌زَقنـٰهُم مِنَ الطَّيِّبـٰتِ وَفَضَّلنـٰهُم عَلىٰ كَثيرٍ‌ مِمَّن خَلَقنا تَفضيلًا ٧٠ ﴾..... سورة الاسراء
"یقینا ہم نے اولادِآدم کو بڑی عزت دی اور خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔"
اس طرح صرف ہمارا دین ہی نوع انسانی کی راہنمائی کرتا اور اس کے لئے زندگی کا لائحہ عمل متعین کرتا ہے۔ اور قافلہ انسانیت نے یقینا اپنا راستہ بنانا شروع کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی زمین کی خلافت عطا فرمائی تاکہ وہ اسے آباد کرے، اس کی اِصلاح اور تعمیر کرے۔ چنانچہ فرمایا:
﴿هُوَ أَنشَأَكُم مِنَ الأَر‌ضِ وَاستَعمَرَ‌كُم فيها فَاستَغفِر‌وهُ ثُمَّ توبوا إِلَيهِ ۚ إِنَّ رَ‌بّى قَر‌يبٌ مُجيبٌ ٦١ ﴾...... سورة هود
"وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا اور پھر اسی میں تمہیں بسا دیا، پس تمہیں چاہئے کہ اسی سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو، یقین کرو، میرا پروردگار (ہر ایک کے) قریبہے اور (ہرایک کی) دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔"
اس لئے مسلمان مکمل عزم اور وثوق سے یہ کہتے ہیں کہ اسلام ہی وہ پہلا مذہب ہے جس نے وسیع پیمانے پر اور کامل ترین صورت میں انسانی حقوق کے اُصولوں کا تعین کیا۔ وہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے انسانی حقوق کے یہ اصول دوسری قوموں کو سکھائے (ایکسپورٹ کئے) اور اس سلسلے میں دوسری قوموں نے مسلمانوں کے ہی خوانِ کرم سے زلہ ربائی کی، گویا انسانی حقوق کا سارے کا سارا سرمایہ اور سرچشمہ اسلام ہے۔ لیکن ستم یہ کہ یہی حقوق آج ہمیں سکھائے (امپورٹ کئے) جارہے ہیں۔ گویا وہ ایک نئی انسانی دریافت ہے اور اس سے پہلے ہم ان حقوق سے واقف نہیں تھے۔
انہیں کون بتائے کہ یہ بات جو تم اب کر رہے ہو کوئی نئی اور انوکھی نہیں بلکہ تم تو جگالی کررہے ہو، یہ سب کچھ صدیوں پہلے ہوچکا ہے۔ ہماری اور ان مغربیوں اور مغرب زدگان کی مثال بارش کے اس پانی کی سی ہے جو آسمان سے اترتا ہے پھر زمین میں ٹھہر جاتا ہے۔ پھر عرصہ کے بعد ایک اُبلتے ہوئے جاری چشمہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے حقائق و اثرات جوان کی نظروں سے اوجھل تھے، اب پوری آب وتاب سے ان پر ظاہر ہورہے ہیں۔
اسی طرح اہل اسلام برملا کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کی حقیقی اور یقینی ضمانت اورانہیں بطریق احسن کارگاہِ عمل میں لانے کی ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کے بندوں کے فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق کئے جائیں اور تمام اسلامی معاشرے، تمام ممالک اور اَفراد اسلام سے وابستہ ہوجائیں۔ اس کا مطلب تن پروری اور انسانی حقوق کو اپنی ذات تک محدود کرنا نہیں بلکہ مقصد انسانی تہذیب کے لئے نفع رساں وِرثہ اور مفید معلومات کی راہیں کھولنا ہے۔
آپ خود غور فرمائیے کہ اَقوامِ متحدہ کی طرف سے انسانی حقوق کے معاہدہ کا جو عالمی چارٹر شائع ہوا، اگرچہ اس میں بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں لیکن پچاس برس سے زیادہ عرصہ بیت جانے کے باوجود عادلانہ طریقے سے انہیں نافذ نہیں کیا جاسکا اور نہ وہ مختلف علاقوں میں اقوامِ عالم پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کو روک سکا ہے۔ اور ان مظالم کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہوئے۔ اس لئے انسانی حقوق کے اس چارٹر پرنظرثانی کی ضرورت ہے جس میں نہ مختلف دینی اور ثقافتی خصوصیات کا لحاظ رکھا گیا ہے اورنہ انسانی معاشروں کے لئے صحیح عرف ِعام کو پیش نگاہ رکھا گیا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو اس چارٹر پر نظرثانی اور اس کی تشکیل نو کی متقاضی ہیں تاکہ اسے تمام اَقوام کی تمناؤں کے مطابق اوران کے عقائد صحیحہ اور مسلماتِ دینیہ سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اسی صورت میں ہی عدل و حریت اور بھائی چارہ کے بنیادی اُصولوں کو نافذ کیا اورکارگاہِ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔
وہ حقوق جن کی پامالی پر ہم زیادہ پریشان ہیں اور انسانیت کا ایک جم غفیر ان سے محروم ہے، وہ حقوق ہیں جن کے بغیر انسانی وجود برقرار نہیں رہ سکتا ہے۔ انہی حقوق کی طرف انبیاء اور مصلحین نے دعوت دی اوران کے قیام کی خاطر جہاد کیا۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کروڑوں انسانوں کو خدا کا انکار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اورانہیں ایسی تعلیم حاصل کرنے پرمجبور کیا جاتا ہے جومذہب سے نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا کرتی اور ان کے اسلاف اور ایسی رسومات کی شدید توہین کرتی ہے جنہیں مذہبی تقدس حاصل ہے ۔آج تمام دنیا استعمار کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ جہاں معاشی وسائل اور خوراک کو لوٹ رہا ہے، وہاں وہ قوموں کے عقائد پربھی ڈاکہ ڈال رہا ہے، ان کے افکار کو زہر آلود کر رہا ہے اورانہیں ان کے ایمان سے گمراہ اور مقاصد سے ہٹانے میں کوشاں ہے۔ یقینا آج دنیا انسانی حقوق کے ایسے منشور کی طرف دیکھ رہی ہے جہاں عقل سلیم وحی الٰہی سے ہم آہنگ ہو۔ جب اس قسم کامنشور نافذ کردیا گیا تو یقینا دنیا اس کا خیرمقدم کرے گی۔
انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی اور ملکی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ اپنے دعوؤں اور رویوں پر نظرثانی کریں۔ خاص طور پر مذہب اور ربّ کے ساتھ انسان کا فطری تعلق اور اس تعلق کے نتیجے میں اطاعت وفرمانبرداری اور ربّ العالمین کے سامنے جھکنے کا جو جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس کے بارے میں انہیں اپنے موقف پر ضرور نظر ثانی کرنی چاہئے۔
جب انسانی معاشروں سے دینی راہنمائی ناپید ہوجاتی ہے تو ان کی زندگی کی ساری رونقیں ختم ہوجاتی ہیں اورحیاتِ بشری جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں برآمد ہونے والے خطرناک نتائج بھی ان این جی اوز کے پیش نظر رہنے چاہئیں۔ این جی اوز کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان انسانی دکھوں کو بھی شمار کریں جو دین سے مادر پدر آزادی کی صورت میں جنم لیتے ہیں۔ لاکھوں انسانی جانیں نیست و نابود کرنے والی اجتماعی قتل کی مثالیں کیا انہیں اپنے رویوں کو بدلنے کی دعوت نہیں دیتیں۔ بلقان میں جو خون کی ندیاں اور نہریں بہائی گئیں پھر قوقاز میں بہائی گئیں اور اب مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان، مقبوضہ کشمیر، برما اور فلپائن میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا جارہا ہے، آخر یہ سب کچھ کیا ہے؟... کیا یہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرہ میں نہیں آتا!!
عورتوں اور بچوں کی خرید وفروخت کے المناک واقعات کی آخر ہم کیا تعبیرکریں گے۔ کیا یہ انسانی حقوق میں سے ہے کہ عالمی معیشت کا دارومدار جسم فروشی، جرائم اور نشہ آور اشیا پر ہو۔ کیا زناکاری وبدکاری کی مختلف صورتیں انسانیت کی توہین نہیں؟ شکم مادر میں کروڑوں بچوں کا اِسقاط کیوں انسانی حقوق کی پامالی شمار نہیں ہوتا؟؟ ...آزادی کے نام پر لڑکیوں کو اِباحیت کی قربان گاہ پر چڑھایا جارہا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ دنیا میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے ایک تہائی حرامی ہیں۔ تہذیب ِجدید کے ثنا خواں لوگو! بتاؤ اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ اَخلاق کی دیواریں ڈھے چکیں، بے حیائی کا عفریت ہر طرف دندنا رہا ہے۔ جنسی تسکین کے لئے لواطت جیسے جرم کو جائز قرار دے دیا گیاہے۔ حتیٰ کہ بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور ان تنظیموں کی سرگرمیوں کو تحفظ دینے کی خاطر قانون سازی کی جارہی ہے۔ ایسے قوانین بنائے جارہے ہیں جو قوانین الٰہی اور قوانین فطرت کے سراسر خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ مردانہ ہم جنس پرستی (Gay)اور خواتین ہم جنس پرستی (Lesbian)کو بھی قانونی جواز مہیا کردیا گیا۔ قومِ لوط اسی غیرفطری رویہ کی وجہ سے عبرتناک انجام سے دوچار ہوئی
﴿وَتَذَر‌ونَ ما خَلَقَ لَكُم رَ‌بُّكُم مِن أَزو‌ٰجِكُم ۚ بَل أَنتُم قَومٌ عادونَ ١٦٦ ﴾..... سورة الشعراء
"اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنا یا ہے ، ان کو چھوڑ دیتے ہوبلکہ تم ہو ہی حد سے گزرنے والے ۔"
اللہ کا فضل ہے کہ مسلمان اپنے دین کے سبب اس بے رو ک ٹوک جنسی آزادی اورحیا باختگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے محفوظ رہے۔ وہ اپنے ربّ کی شریعت کو نافذ کرتے ہیں جس کے عدل وانصاف سے وہ آشنا ہیں۔ شریعت تمام اَفراد کے حقوق کی ضامن ہے۔ اس نے اسلامی معاشرہ کو بے دینی اور انتشار و خلفشار سے بچایا اورمناسب اہتمام سے بچوں کی تربیت کی اور مضبوط اور خالص سماجی تعلقات میں امن عامہ کے تحفظ اور ایک خوشگوار زندگی فراہم کرنے کیلئے تعزیر اور حدود پرمبنی قوانین کو متعارف کروایا۔
ہم قطعاً اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ یہ تنظیمیں اپنی کم فہمی اور مغالطہ آمیز تشریحات کے ذریعے اللہ کے دین، اس کے اَحکام اور اسلامی معاشرہ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کریں۔ اور ہمیں یہ بھی گوارا نہیں کہ یہ لوگ حقوقِ انسانی کے پروپیگنڈے کے ذریعے اسلامی اَقدار اور شرعی اَحکام کو ہدفِ تنقید بنائیں۔
حقوق انسانی کا ٹھیکیدار مغرب اس مسئلے کو ہر قوم اور ملک کے خلا ف بطورِ ہتھیار استعمال کر رہاہے۔ جہاں اس کے سیاسی یا معاشی مفادات خطرے میں ہوں وہاں یہ حقوقِ انسانی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ غریب ممالک کو اسی بنیاد پر اِمداد دی جاتی ہے۔ گویا یہ ان کادوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں ناجائز مداخلت کا ایک وسیع دروازہ ہے۔ اور اس طرح انہیں قوموں کے مذاہب و عقائد اور جائز رسم ورواج پرہاتھ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔ اوریہ سارا گھناؤنا کھیل حقوقِ انسانی کے نام پر کھیلا جارہا ہے۔
بدقسمتی سے انسانی حقوق کا ایشو یورپین ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکا ہے جسے وہ بعض ممالک سے اپنے مخصوص مطالبات منوانے اور اپنے اقتصادی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بطورِ ہتھیار کے استعمال کر رہے ہیں۔ بعض ممالک کو تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متہم کیا جاتا ہے لیکن خطہ فلسطین ہو یا وادیٴ کشمیر، چیچنیاکے پہاڑ ہوں یا بوسنیا کا برف پوش علاقہ وہاں مغرب کا ایک نیا چہرہ سامنے آتا ہے۔ اگریہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ نہایت بھونڈی سیاسی دہشت گردی ہے جسے یہ لوگ اپنے سیاسی اور اقتصادی مقاصد کے حصول کے لئے بعض بااثر ممالک کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔ یقینا یہ شریعت ِاسلامیہ اور اس کے اَحکام کو مٹانے کے لئے ایک خفیہ حملہ ہے۔
اہل اسلام یہ اعلان کرتے ہیں کہ صرف وہی دنیا کے سامنے انسانی حقوق کا حقیقی چارٹر اور صحیح نقشہ پیش کرسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ چارٹر اور نقشہ انسانی حقوق کے ڈھنڈورچیوں کو خوش نہیں کرسکے گا۔ یقینا آپ کو تعجب اور حیرانگی ہوگی کہ یہ لوگ ایک ایسے مجرم کے حق میں توچیختے اور واویلا کرتے ہیں جس پر اللہ کا قانونِ 'قصاص' نافذ کیا جارہا ہو، ا س لئے کہ اس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا یا ا س نے اللہ کی زمین میں فساد پھیلایا یا اللہ اور ا س کے رسول سے جنگ کی ہے۔ لیکن جب ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے بس، بے گناہ اورکمزور مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے تہ تیغ کیا جاتا ہے، ان پر آتش و آہن کی بارش کی جاتی ہے، ان کے گھروں کو منہدم کیا جاتا ہے، انہیں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا جاتاہے، ان کے بچوں اور عورتوں کو جلا وطن کیا جاتا ہے تو مہذب دنیا خاموشی سے یہ تماشا دیکھتی ہے اور کلمہ حق اور دلی ہمدردی کا ایک لفظ بھی ان کی زبان پر نہیں آتا۔ اس کی تازہ ترین مثال آگ میں جلتا اور خون میں تڑپتا ہوا چیچنیاہے۔گویا ان نہتے مسلمانوں پرجو ستم ڈھائے جارہے ہیں اور وہاں جن جرائم کا ارتکاب ہورہا ہے وہ جرائم ان لوگوں کی ڈکشنری میں شامل نہیں ہیں۔کیونکہ یہ ان کے نزدیک ان ممالک کا اندرونی معاملہ ہے۔ لیکن افسوس کہ حقوقِ انسانی کے نام پردوسرے ممالک کے اقتدارِ اعلیٰ کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔
اے لوگو! بتاؤ، اَخلاق کے بغیر انسان کی کیا قدروقیمت ہے؟ جب اپنی ذمہ داری ہی ادا نہ کی جائے تو ایسی آزادی کا کیا مطلب؟ جب فرائض پورے نہ کئے جائیں تو مطالبہ حقوق کا کیا معنی !!؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
﴿وَالتّينِ وَالزَّيتونِ ١ وَطورِ‌ سينينَ ٢ وَهـٰذَا البَلَدِ الأَمينِ ٣ لَقَد خَلَقنَا الإِنسـٰنَ فى أَحسَنِ تَقويمٍ ٤ ثُمَّ رَ‌دَدنـٰهُ أَسفَلَ سـٰفِلينَ ٥ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ فَلَهُم أَجرٌ‌ غَيرُ‌ مَمنونٍ ٦ فَما يُكَذِّبُكَ بَعدُ بِالدّينِ ٧ أَلَيسَ اللَّهُ بِأَحكَمِ الحـٰكِمينَ ٨ ﴾...... سورة التين
"قسم ہے انجیر اور زیتون اور طور سینا اور اس پر امن شہر (مکہ) کی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اسے ہم نے سب نیچوں سے نیچا کردیا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے!!"
اے لوگو! انسانی حقوق کا یہ واویلا ظاہری طور پر اور اَلفاظ کی حد تک نہایت خوبصورت، دلکش ہے اور یہ نعرہ بڑا دلفریب اور اس کی چمک بڑی مسحور کن ہے لیکن قوموں کے لئے ا س کا نتیجہ انتہائی ہولناک ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد مغرب کا دوہرا معیار اور اس کی منافقانہ پالیسیاں ہیں۔
وائے افسوس! کہ انسانی حقوق کا واویلا صرف وقتی نعرے ہیں جو (مغرب کی) خواہشات و مقاصد کے مطابق بدلتے رہتے ہیں اوریہ نعرے زمان و مکان اور حالات کے تابع ہیں۔ ا س لئے ضروری ہے کہ قوموں کی دینی اور ثقافتی خصوصیات اور صحیح رسوم و رواج اور صالح روایات کا لحاظ کیا جائے۔
سعودی عرب کی حکومت، دین اسلام پرکاربند ہونے، شریعت کونافذ کرنے اور فکری، معاشرتی اور اخلاقی امتیاز کے لحاظ سے اِسلامی خصوصیات کا عمدہ نمونہ ہے۔ سعودی مملکت میں مکہ مکرمہ، اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر خانہٴ کعبہ، مدینہ منورہ اور مسجد ِنبوی جیسے مسلمانوں کے مقدس مقامات پر مشتمل ہے۔ بلاد الحرمین ہی اسلام کا مرکز اس کا سرچشمہ اور مقامِ بعثت ہے جہاں اسلام کی سب سے پہلی جماعت وجود میں آئی، جسے لوگوں کی قیادت کا فرض سونپا گیاکہ وہ ان کو نیکی کا حکم دے اوربرائی سے منع کرے !!
مملکت ِسعودی عرب زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کے دین کی پابند اور اس کی شریعت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔ خواہ کوئی حاکم ہے یا افسر ، ہر کوئی زندگی کے تمام شعبوں میں شریعت کا پابندہے اور شریعت کا یہ التزام اسلام کی خصوصیت کو مکمل طور پر نمایاں کرتا ہے۔حکومت ِسعودیہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں اورہر مناسب موقع پر اسلام کی اسی عظمت کا اظہار کرتی ہے۔ اوربلادِ حرمین کو ایک ایسا نمونہ ہونے کا شرف حاصل ہے کہ عالم اسلام اور دیگر ممالک کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں دنیا کی نظریں اسی کی طرف اُٹھتی ہیں۔
اس کا بنیادی اسلامی نظام صراحت کرتا ہے کہ یہ مملکت شریعت ِاسلامیہ کے مطابق حقوقِ انسانی کا تحفظ کرتی ہے۔ اس با ت کا جاننا ضروری ہے کہ یہ نظام جن حقوقِ انسانی کومعین کرتاہے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی بنیاد شریعت کے وہ مسلمہ قواعد اور دین کے وہ اَحکام ہیں جن کے مفاہیم نہایت واضح اور آثار نہایت روشن ہیں۔وہ محض نعرے یا ایسے کمزور اصول نہیں جن میں خالی دعوؤں کے سوا کچھ نہ ہو۔ ان تمام حقوق کے پیش نظر یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس خطہ کے باشندے رسالت کے پاسبان ہیں اور آسمانی تعلیم کے حامل ہیں جسے وہ تمام معاملات میں فیصلہ کن مانتے ہیں۔ جو چیز اس آسمانی تعلیم کے موافق ہو خواہ وہ باہرسے درآمد کی گئی ہو، وہ ان کے نزدیک یقینا حق ہے اور جو چیز اس کے مخالف ہو، وہ باطل ہے خواہ وہ ہمارے ہاں طے شدہ رواج ہی کے مطابق کیوں نہ ہو۔
ایک سینئر سعودی اہلکار نے فیصلہ کن بات کہی ہے کہ "اگر یہ تنظیمیں کتاب اللہ ، سنت رسول اور خلفاءِ راشدین اور تابعین کے طریقہ کے مطابق شریعت کو نافذ کرنے کے سلسلے میں ہم سے جھگڑا اوربحث و مباحثہ کریں تو یہ ان کا حق ہے۔ لیکن اگر وہ اسلام کو بطورِ عقیدہ اور شریعت کے ہدف ِتنقید بناتی ہیں تو ہم ان کے اس قسم کے اعتراضات کو ٹھکراتے ہیں اورکلی طور پر اس کا انکار کرتے ہیں۔ اورہم اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اوراسلام کے مطابق زندگی بسر کریں گے۔ ہم اورہماری آنے والی نسلیں اللہ کے حکم سے قیامت تک کے لئے اسلام کے مطابق زندگی گزاریں گے ، خواہ کسی کو پسند ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ اسلام ہی ہماری عزت و عظمت کا ضامن ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی رسی کو پوری قوت سے پکڑے رکھیں۔"
اب ان تنظیموں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو واضح کریں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا شرعی حدود کا نفاذ حقوقِ انسانی کے خلا ف ہے؟ کیا معاشرے کے امن وامان کے تحفظ کے لئے تعزیراتِ شرعیہ کا نفاذ انسانی حقوق کے منافی ہے؟ کیا مجرم پر رحم کرتے ہوئے اسے چھوڑ دینا اور مظلوم کو اس کے حق سے محروم کردینا انسانی حقوق کے زمرہ میں آتا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ وطن (سعودی عرب) ان کا حقیقی ہدف نہیں بلکہ اس وطن کا نظام اور عقیدہ ، ان تنظیموں کا ٹارگٹ ہے۔
لہٰذا ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے عقیدے اور شریعت کے بارے میں بحث و مباحثہ اور گفتگوکا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔ یہ وہ دین ہے جسے اللہ نے ہمارے لئے پسند فرمایا۔ اورہم نے خوش دلی سے اسے قبول کیا۔ ہم اللہ کے شکرگزار اور ثنا خواں ہیں کہ اس نے ہمارے لئے ایسے دین پسند فرمایا۔
میں دوبارہ کہوں گا کہ ہم راضی ہیں، اللہ کے ربّ ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی اور رسول ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ ہمارا ہادی او رناصر ہے اور اسی پر ہی ہمارا توکل اور بھروسا ہے!!

٭٭٭٭٭