Page

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آج دنیا میں جگہ جگہ گانے بجانے کا شوروغل برپاہے۔ شہر،بازار،گلی کوچے اس ہڑبونگ سے دوچار ہیں۔ ناچنے ،گانے والے اور میراثی اب گلوکار، ادکار،موسیقار اور فنکار کہلاتے اورفلمی سٹار، فلمی ہیرو جیسے دل فریب مہذب ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔مردوزَن کی مخلوط محفلوں کا انعقاد عروج پر ہے۔ بڑے بڑے شادی ہال، کلب،بازار، انٹرنیشنل ہوٹل اور دیگر اہم مقامات ا ن بیہودہ کاموں کے لئے بک کر دیئے جاتے ہیں جس کے لئے بھاری معاوضے ادا کئے جاتے اور شو کے لئے خصوصی ٹکٹ جاری ہوتے ہیں۔ چست اور باریک لباس، میک اَپ سے آراستہ لڑکیاں مجرے کرتی ہیں جسے ثقافت اور کلچر کا نام دیا جاتا ہے۔عاشقانہ اَشعار، ڈانس میں مہارت، جسم کی تھرتھراہٹ اور آوازکی گڑگڑاہٹ میں ڈھول باجوں اور موسیقی کی دھن میں کمال دکھانے والوں اور کمال دکھانے والیوں،جنسی جذبات کو اُبھارنے والوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا جاتاہے۔
اندرون وبیرونِ ملک طائفوں کی شکل میں پروگرام سارا سال جاری رہتے ہیں۔ انہیں ثقافت کی ترویج کے نام پر خصوصی مراعات دی جاتی ہیں۔ شادی بیاہ اور سالگرہ کے موقعوں پرمخصوص وضع قطع کے لباس کے ساتھ رقص و سرور کی محفلیں جمتی ہیں۔ عورتیں/ لڑکیاں ،غیرمردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ناچ اور تالی کی گونج میں خوب داد وصول کرتی ہیں۔اسی طرح ہر قسم کے فحش جنسی ناولوں اور ڈائجسٹوں کی بھرمار ہے۔ شہروں کے چوراہوں،بازاروں، سینما گھروں پر دیوہیکل عریاں عورتوں کی تصاویر آویزاں ہیں،فحش ناولوں کی بک ڈپوؤں پر بہتات ہے۔ ٹی وی، کیبل گھرگھرآچکاہے، پراگندہ گانوں کے پروگرام جاری اور ویڈیو سنٹر زپر ہر قسم کی فلمیں دستیاب ہیں۔ رہی سہی کسر ڈش انٹینا اور انٹرنیٹ نے نکال دی ہے جس سے نوجوان پود کو فحاشی اوربے راہروی کا عادی بنایا جارہا ہے ۔گلی گلی محلے محلے میں ویڈیو کے ہوشربا کاروبار کے ساتھ ساتھ اب انٹر نیٹ کیفے کے نام سے فحاشی وعریانی دھڑا دھڑ عوام میں پھیلائی جارہی ہے۔
دوسری طرف نظر دوڑائیں تو دین کے نام پر بھی یہی بے ہنگم کاروبار جار ی ہے۔دین کے تاجر بڑی بڑی زلفوں، مونچھوں والے، داڑھی سے عاری، ڈرؤانی شکل وصورت میں نشے سے دھت قوال اور گویے مخصوص انداز اور تالیوں، چمٹوں کے شور میں جگہ جگہ محفلیں جمائے ہوئے ہیں۔قبروں، مزاروں، خانقاہوں پر ٹولیوں کی شکل میں بھیک کے کشکول اٹھائے ہوئے، ڈھول کی تھاپ پر باجوں گاجوں پر رقص وسرور کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔زبانوں سے نازیب اور گستاخانہ کلمات نکالتے ہیں۔ ربّ ِذوالجلال، حضر ت محمدﷺ،حضرت علی،  حسن  وحسین اور فاطمہ زہرا  اور دیگر اولیاء اللہ کے نام لے کر چیختیاور دھمالیں ڈالتے اور جو جی میں آئے گاتے ہیں ۔مثال کے طور پر "عصمت ِکعبہ کو ٹھکرانے کا موسم آگیا "..." میں کیا جانوں رام ، تم ایک گورکھ دھندہ، سو میں شرابی شرابی!" (نعوذ باللہّٰ) ... اس پر طرہ یہ کہ نعت ِرسولﷺ اور اسلامی ترانوں کو بھی میوزک او ر نسوانی آوازوں کے ساتھ مزین کرنے کا کام زوروں پر ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے گانوں بجانوں کے بارے میں قرآن وحدیث کی تعلیم کیا ہے؟ صحابہ کرام اور اکابرین اُمت کی رائے کیا ہے؟ ان کا نقصان کیا ہے؟کیا ایسی مجالس ومحافل میں شرکت جائز ہے؟ گانا بجانا کن لوگوں کا مشغلہ ہے ؟کیا گانے بجانے روح کی غذا ہیں؟ مسلمان کی روح کی غذا کیاہے او ر کون سے اَشعار لے اور ُسرکے ساتھ پڑھے جاسکتے ہیں؟
اِسلام کی رو سے گانا بجانا حرام ہے !
گانے بجانے کی حرمت کے بارے میں قرآن مجید میں ارشادِباری ہے :
﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ‌ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ ٦ ﴾...... سورة القمان
" لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو لغو باتو ں کو مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے"
جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے جس سے مراد گانا بجانا اور اس کا ساز وسامان ہے او ر سازو سامان، موسیقی کے آلات او رہر وہ چیزجو انسان کو خیر او ربھلائی سے غافل کر دے اور اللہ کی عبادت سے دور کردے۔ اس میں ان بدبختوں کا ذکر ہے جو کلام اللہ سننے سے اِعراض کرتے ہیں اور سازو موسیقی ، نغمہ وسرور او رگانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد بھی یہی ہے کہ آلات ِطرب وشوق سے اپنے گھروں میں لاتے ہیں اور پھر ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں- لہو الحدیث میں بازاری قصے کہانیاں ، افسانے ، ڈرامے، ناول اورسنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پر چار کرنے والے اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات، ریڈیو، ٹی وی،وی سی آر ، ویڈیو فلمیں ،ڈش انٹینا وغیرہ بھی۔
(۲) گانا بجانا شیطان کی آواز ہے...ارشادِ باری تعالیٰ ہے
﴿وَاستَفزِز مَنِ استَطَعتَ مِنهُم بِصَوتِكَ.......٦٤ ﴾....... سورة الاسراء
" اور اے شیطان! تو جسے بھی اپنی آ واز سے بہکا سکے، بہکا لے"
آواز سے مراد پر فریب دعوت یا گانے موسیقی اور لہو ولہب کے دیگر آلات ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان بکثرت لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں:
"اس سے مراد صوت المزامیر یعنی شیطان کی آواز ،گانے بجانے ہیں۔"
ابن عباس  فرماتے ہیں"گانے اور ساز لہوولہب کی آوازیں یہی شیطان کی آوازیں ہیں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو حق سے قطع کرتا ہے" (قرطبی) اور اللہ تعالیٰ نے شیطان کے راستوں کی پیروی سے روکا ہے کیونکہ اس کے سارے ہتھکنڈے بے حیائی اور برائی کے داعی ہیں، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّبِعوا خُطُو‌ٰتِ الشَّيطـٰنِ ۚ وَمَن يَتَّبِع خُطُو‌ٰتِ الشَّيطـٰنِ فَإِنَّهُ يَأمُرُ‌ بِالفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌......٢١ ﴾...... سورة النور
"اے ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم مت چلو جو شخص شیطان کے قدموں کی پیروی کرتا ہے تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔"
فاحشة کے معنی بے حیائی کے ہیں۔ شیطان کے پاس بے حیائی کی طرف مائل کرنے کی بہت راہیں ہیں۔ فحش اخبارات ، ریڈیو، ٹی وی ، فلمی ڈراموں کے ذریعہ جو لوگ دن رات مسلم معاشرے میں بے حیائی پھیلا رہے ہیں اور گھر گھر اس کو پہنچا ر ہے ہیں، یہ سب شیطانی جال ہیں۔ اس آیت سے ما قبل وہ آیات ہیں جن میں حضرت عائشہ  پرلگائی تہمت کا ذکر ہے کہ "جن لوگوں نے آپ پر فحش کا الزام لگایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹی خبر کو صریح بے حیائی قرار دیا اور اسے دنیا و آخرت میں عذابِ الیم کا باعث قرار دیا ہے" لیکن جو لوگ ان آلات حرب کے چینل چلا نے والے اور ان اداروں کے ملازمین ہیں تو وہ اللہ کے ہاں کتنے بڑے مجرم ہیں جو آئندہ نسلوں کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں ۔
(۳) ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
﴿أَفَمِن هـٰذَا الحَديثِ تَعجَبونَ ٥٩ وَتَضحَكونَ وَلا تَبكونَ ٦٠ وَأَنتُم سـٰمِدونَ ٦١ ﴾...... سورة النجم
"پس کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو اور بطورِ مذاق ہنستے ہو اور روتے نہیں ہوبلکہ گانے گاتے ہو"
حضرت عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں:«نداء السمود هو الغناء في لغة الحجر»یعنی حجر قبیلہ کی زبان میں سُمود سے مراد گانا ہے... حضرت عکرمہ فرماتے ہیں:
"کفارِ مکہ کی بھی عاد ت تھی کہ وہ قرآن کریم سننے کی بجائے گانے گاتے تھے"
(۴) مخلوط مجالس کا انعقاد ناجائز ہے ، ان مجالس میں عورت تقریر کرسکتی ہے، نہ گا سکتی ہے اور نہ ہی لباس اور زیور کا اظہار کرسکتی ہے ، نہ جسم کو عریاں اور نمایاں کرسکتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يـٰنِساءَ النَّبِىِّ لَستُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ ۚ إِنِ اتَّقَيتُنَّ فَلا تَخضَعنَ بِالقَولِ فَيَطمَعَ الَّذى فى قَلبِهِ مَرَ‌ضٌ وَقُلنَ قَولًا مَعر‌وفًا ٣٢ وَقَر‌نَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّ‌جنَ تَبَرُّ‌جَ الجـٰهِلِيَّةِ الأولىٰ ۖ وَأَقِمنَ الصَّلو‌ٰةَ وَءاتينَ الزَّكو‌ٰةَ وَأَطِعنَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ........٣٣ ﴾..... سورة الاحزاب
"اے نبی ﷺکی بیویو! تم عام عورتوں کے مثل نہیں ہو اگر تم پرہیز گاری اختیار کرو تو نرم انداز سے گفتگو نہ کرو کہ جس کے دل میں کوئی بیماری ہو وہ کوئی براخیال کرے،ہاں قاعدے کے مطابق بات کرو اور اپنے اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانہ کی طرح اپنے بناؤ سنگار کا اظہارنہ کرو ، نماز ادا کرتی اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور ا س کے رسول کی اطاعت گزاری کرتی رہو۔"
اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لیے کشش رکھی ہے، اس کی حفاظت کے لیے خصوصی ہدایات بھی دی ہیں تاکہ عورت مرد کے لئے فتنے کا باعث نہ بنے،اس طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں فطری طور پر دلکشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہےجو مرد کے اندر جاذبیت پیدا کرتی ہے ۔ چنانچہ عورت کی آوازکے لیے بھی یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ مرد وں سے گفتگو کرتے وقت قصداً نرم لب ولہجہ اختیار نہ کیاجائے ۔نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھا پن ہو تاکہ کوئی بدباطن نرم کلامی کی وجہ سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو سکے اور ساتھ ہی واضح کرو یاکہ زبان سے ایسا لفظ نہ نکالنا جومعروف قاعدے اور اَخلاق کے منافی ہو اور ﴿إِنِ اتَّقَيتُنَّ﴾کہہ کر اشارہ کردیا کہ یہ بات اور دیگر ہدایات جو آگے آرہی ہیں، وہ پرہیز گار عورتوں کیلئے ہیں کیونکہ انہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کی آخرت برباد نہ ہو جائے۔ جن کے دل خوفِ الٰہی سے عاری ہیں، انہیں ہدایات سے کیا تعلق ہے!
دوسری ہدایت یہ ہے کہ گھروں میں ٹک کر رہو، بغیر ضروری حاجت کے گھروں سے باہر نہ نکلو۔ اس میں وضاحت کردی گئی ہے کہ عورت کا دائرئہ عمل سیاسی اورمعاشی نہیں بلکہ گھر کی چاردیواری کے اندر اُمورِخانہ داری سر انجام دینا ہے۔ اگر بوقت ِضرورت گھر سے باہر نکلنا پڑ جائے توبناؤسنگار کرکے یا ایسے اندازسے جس سے بناؤ سنگار ظاہر ہوتا ہو، مت نکلے یعنی بے پردہ ہو کر عورتوں کا نکلنا منع ہے جس سے ان کا سر، چہرہ، بازو اور چھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے بلکہ سادہ لباس میں ملبوس ہو کر باپردہ خوشبو لگائے بغیر باہر نکلے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو کتنی پاکیزہ تعلیم دی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَقُل لِلمُؤمِنـٰتِ يَغضُضنَ مِن أَبصـٰرِ‌هِنَّ وَيَحفَظنَ فُر‌وجَهُنَّ وَلا يُبدينَ زينَتَهُنَّ إِلّا ما ظَهَرَ‌ مِنها ۖ وَليَضرِ‌بنَ بِخُمُرِ‌هِنَّ عَلىٰ جُيوبِهِنَّ.....٣١ ﴾..... سورة النور
"اے نبی ﷺ! مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہوجائے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں"
زینت سے مراد وہ لباس اور زیور ہے جو عورتیں اپنے حسن وجمال میں نکھار پیدا کرنے کے لیے گھر میں خاوند کے لیے پہنتی ہیں جب اس کا اظہار منع ہے تو جسم کو عریاں اور نمایاں کرنا بالاولیٰ حرام ہوگا۔ إلا ما ظہرمنھاسے مراد زینت اور جسم کا وہ حصہ ہے جس کا چھپانا ممکن نہ ہو جیسے کوئی چیز پکڑتے یالیتے ہوئے غیرمحرموں پر ہتھیلیوں کا ظاہر ہوجانا یا دیکھتے ہوئے آنکھوں سے پردہ کا ہٹ جانا۔ اس طرح ہاتھوں میں انگوٹھی، مہندی، سرمہ کاجل کا سامنے آجانا یا لباس اور زینت کو چھپانے کے لیے جو برقعہ یا اوڑھنی یا چادر لی جاتی ہے ، وہ بھی زینت ہی ہے، ایسی زینت کا اظہار بوقت ِضرورت یا بوجہ ضرورت الا ما ظہر کے تحت مباح ہے اور گریبان پر اوڑھنی سے مراد سر، گردن، سینے اور چھاتی کو چھپانا ہے۔
افسوس صد افسوس کہ مخلوط مجالس میں آزادیٴ نسواں نے کیا کیا گل کھلا رکھے ہیں۔ آواز ہے تو وہ بھی گونج دار اور سریلی طرز وناز ، تالیوں کی چٹاک اور قدموں کی کڑ اکڑ اور جسم کی کروٹوں سے عورتیں نوجوانوں کو کس طرح دعوتِ نظارہ دے کر خوش ہوتی ہیں۔ اہل مجالس جھوم جھوم اُٹھتے ہیں، شرم وحیاکی تمام حدیں پارہوجاتی ہیں ،شراب وکباب اور نوٹوں کی بارش ہوتی ہے۔بے پردگی کا یہ عالم ہے کہ سر سے پاوٴں تک میک اَپ سے مزین ہوتی ہیں اور زمانہ جاہلیت کو بھی مات کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورت ایک کھلونا بن کر یا کمپنیوں کے اشتہار کا ٹریڈ مارک بن کررہ گئی ہے۔
احادیث میں گانے بجانے کی حرمت
(۱) میری امت میں کچھ گروہ ساز باجوں کو حلال سمجھیں گے
ابوعامر یا ابو مالک الاشعری  فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:
" میری اُمت میں سے کچھ گروہ اٹھیں گے، زنا کاری اور ساز باجوں کو حلال سمجھیں گے۔ ایسے ہی کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہا ئش پذیر ہوں گے۔ شام کے وقت ان کے چرواہے مویشیوں کو لیکر انکے ہاں واپس لوٹیں گے۔ ان کے پاس ایک محتاج آدمی اپنی حاجت لے کر آئے گا تو وہ اس سے کہیں گے: کل آنامگرشام تک ان پر عذاب نمودار ہوگا اور اللہ ان پر پہاڑگرادے گا جو انہیں کچل دے گا اور دوسرے لوگوں کی شکل وصورت تبدیل کرکے قیامت تک بندر اور خنزیر بنادے گا (بخاری)
(۲)گانے بجا نے کے رواج پانے سے آسمان سے پتھروں کی بارش
حضرت عبدالرحمن بن ثابت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا
" ایک وقت آئے گا کہ میری امت کے کچھ لوگ زمین میں دَب جائیں گے، شکلیں بدل جائیں گی اور آسمان سے پتھروں کی بارش کا نزول ہوگا۔ فرمایا اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ کلمہ گوہوں گے جواب دیا: ہاں ،جب گانے، باجے اور شراب عام ہوجائے گی اور ریشم پہنا جائے گا" (ترمذی)
(۳) گانے والی (مُغنّیات) عام ہوں گی
حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ رسول ﷺنے فرمایا
"میری امت میں لوگ زمین میں دھنسیں گے، شکلیں تبدیل ہوں گی اور پتھروں کی بارش ہوگی حضرت عائشہ  نے پوچھاکہ وہ لاالہ الااللہ کہنے والے ہوں گے، آپ انے فرمایا :جب مغنیات (گانے والیوں) کا عام رواج ہوگا، سود کا کاروبار خوب چمک پر ہوگا اور شراب کا رواج عام ہوگا اور لوگ ریشم کو حلال سمجھ کر پہنیں گے" (ابن ابی الدنیا)
عمران بن حصین  سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا
"اس امت میں زمین میں دھنسا نا، صورتیں بدلنا اور پتھروں کی بارش جیسا عذاب ہوگا تو مسلمانوں میں سے ایک مرد نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیسے ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا: جب گانے والیاں اور باجے گاجے ظاہر ہوں گے اور شرابیں پی جائیں گی" (ترمذی)
(۴) حضور انے ساز کی آواز سے کانوں میں اُنگلیاں ڈال لیں
نافع  مولیٰ ابن عمر فرماتے ہیں کہ
"عبداللہ بن عمر  نے ساز بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنے کانوں میں اُنگلیاں دے دیں اور راستہ بدل لیا، دور جاکر پوچھا: نافع کیا آواز آرہی ہے؟ تو میں نے کہا: نہیں، تب انہوں نے انگلیاں نکال کر فرمایا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا، آپ نے ایسی ہی آواز سنی تھی اور آواز سن کر میری طرح آپ ا نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں تھیں" (احمد،ابوداود،ابن حبان)
(۵) آپﷺ کا ساز اور باجے کی کمائی سے منع کرنا
حضرت ابوہریرہ  نے ساز باجے کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ (اخرجہ ابوعبید فی غریب الحدیث)
(۶) ریڈیو ،ٹی وی اور بذریعہ کیسٹس گانا سننا حرام ہے!
حضور اکرم ا جس طرح بتوں سے نفرت کا اظہار کرتے تھے، اسی طرح ساز باجوں سے بھی نفرت کرتے تھے۔ جس طرح بتوں کی پرستش حرام گردانتے تھے، اسی طرح ساز باجوں کو سننا بھی حرام قرار دیتے تھے جیسا کہ حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا کہ
"مجھے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ بتوں اور ساز باجوں کو مٹا ڈالوں" (مسند احمد)
(۷) ڈھول باجے شراب کی طرح حرام ہیں
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:
" میں ساز باجے اور ڈھولک کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں" (الفوائد)
ایسے ہی حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
" بلاشبہ اللہ نے شراب، جوا او ر ڈھولک حرام فرمائے ہیں اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے" (مسنداحمد)
(۸) گانا سننے کی سزا
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "جو شخص کسی گلو کارہ کی مجلس میں بیٹھا اور اس نے گانا سنا، قیامت کے روز اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا" (قرطبی)
جس طرح کسی گلوکارہ کے شو میں بیٹھ کر گانا سننا حرام ہے ، اسی طرح ریڈیو،ٹی وی ،وی سی آر اور کیسٹوں کے ذریعہ گانا سننا بھی حرام ہے کیونکہ دونوں دراصل ایک ہی چیز کے دو پہلو ہیں۔
(۹) جس آدمی کے پاس گانے والی عورت ہو، اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے!
حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا
"جو شخص اس حالت میں فوت ہوا کہ اس کے پاس گلوکارہ ہے، اس کا جنازہ مت پڑھو"(قرطبی)
(۱۰) گانے والیوں کی خرید وفروخت اور ان کی کمائی حرام ہے !
حضرت ابی امامہ  سے روایت ہے
" محمد ا نے مغینات(گانا گانے والیوں) کی خریدوفروخت اور ان کی کمائی سے منع فرمایا " (ابن ماجہ: ۲/۷۳۳)
(۱۱) گھنٹیاں شیطانی ساز ہے!
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ گھنٹیاں شیطانی ساز ہیں (مسلم)۔ اسی طرح آپ نے جنگ ِبدر کے موقعہ پر اونٹوں کی گردنوں سے گھنٹیاں الگ کردینے کا حکم دیا تھا۔
(۱۲) جھانجن (پاؤں کا زیور جس میں آواز ہوتی ہے)بھی شیطانی ساز ہے!
اُمّ المومنین حضرت ام سلمیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے سنا ،آپ نے فرمایا
"جس گھر میں جھانجن یا گھنٹی ہو، اس میں فرشتے نہیں آتے" (نسائی)
حضرت عائشہ  نے فرمایا: میرے پاس ایک لڑکی لائی گئی جس کے پاؤں میں جھانجیں تھیں جو کہ آواز دیتی تھیں۔ حضرت عائشہ  نے فرمایا: اسے میرے پاس نہ لاؤ جب تک اس کی جھانجیں کاٹ نہ د و اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا:
"جس گھر میں جھانجیں ہوں، وہاں (رحمت کے ) فرشتے نہیں آتے" (ابوداود )
(۱۳)گانے ساز باجوں اور گانے والیوں کی وجہ سے مسلمان مصیبتوں میں گھر جائیں گے!
حضرت علی سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب میری اُمت پندرہ کام کرنے لگے گی تو اس پر مصائب ٹوٹ پڑیں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کون سے کام ہیں آپﷺنے فرمایا:
" جب مالِ غنیمت تمام حق داروں کو نہیں ملے گا، امانتیں ہڑپ کرلی جائیں گی ، زکوٰة تاوان سمجھی جائے گی، خاوند بیوی کا فرمانبردار ہوگا ، بیٹا ماں کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست سے نیک سلوک اور باپ سے جفا سے پیش آئے گا، مسجدوں میں لوگ زور زور سے بولیں گے ، انتہائی کمینہ ذلیل شخص قوم کا سربراہ ہوگا ، کسی آدمی کی شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جائے گی ، شراب نوشی عام ہوگی ، ریشم پہنا جائے گا ، گانے والی عورتیں عام ہوجائیں گی، ساز باجوں کی کثرت ہوگی اور آنے والے لوگ پہلے لوگوں پر طعن کریں گے" (ترمذی)
صحابہ کراماور کابرین اُمت کے ارشادات
٭ ﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ.......٧ ﴾..... سورة لقمان" کے بارے میں عبد اللہ بن مسعود  فرماتے ہیں
"اس سے مراد گانا بجانا ہے اور تین بار قسم اُٹھا کر اس بات کودہرایا کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے" (ابن جریر ، ابن ابی شیبہ)
٭ حضرت عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں :
"باجے ،گانے بجانے کے آلات اور ڈھول اور ساز وغیرہ حرام ہیں" (بیہقی)
٭ عبد اللہ بن عمر  کا گزر ایک ایسے قافلہ سے ہوا جو اِحرام کی حالت میں حج کے لیے جارہے تھے۔ ان میں ایک شخص گا رہا تھا ۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول نہ کرے (ابن ابی الدنیا)
٭ اُمّ المومنین حضرت عائشہ نے ایک عورت کو گھر پر دیکھا جو گارہی تھی اور اپنے سر کو خوشی سے گھمارہی تھی اور بڑے بڑے بال رکھے ہوئے تھے۔حضرت عائشہ نے فرمایا:
" اُف یہ تو شیطان ہے ،اس کو نکالو ،اس کو نکالو ،اس کو نکالو" (بخاری )
٭ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں: راگ گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے (تلبیس ابلیس۲۸۰)
٭ امام تبعی جنہوں نے کثیر صحابہسے علم حدیث حاصل کیا، فرماتے ہیں:
"گانے والے اور جس کے لئے گایا گیا دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو!" (تلبیس ابلیس،ص ۲۷۹)
٭ فقہاءِ ائمہ اربعہ امام ابو حنیفہ ،امام مالک ،امام احمد بن حنبل اور امام شافعی رحمہم اللہ سب گانے بجانے کی حرمت کے قائل ہیں ۔
٭ جناب احمد رضا خان بریلوی سے کسی نے پوچھا کہ ایک دوست مجھے عرس پر لے گیا، وہاں گانے کے ساتھ ساز اور ڈھول بج رہے تھے، میں نے پوچھا: کیا یہ ناچ شریعت میں حرام ہے، کیا اس طرح رسول اکرمﷺاور اولیاءِ کرام خوش ہوتے ہیں یا ناراض ؟جناب بریلوی نے جواب دیاکہ
"ایسی قوالی حرام ہے اور حاضرین سب گناہوں کے مرتکب ہیں، ان سب حاضرین کا گناہ عرس کرنے والوں اور قوالوں پر ہے" (احکامِ شریعت)
مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت گائے یا مرد، قوالی کرنے والے مرد ہوں یا عورتیں، الگ الگ مجرہ کریں یا اجتماعی، گانے والا ایک ہو یا جتھا، گانے بجانے، رقص وناچ اور نسوانی جسم کی نمائش کی سب صورتیں ناجائز اورحرام ہیں، ایسے کاموں میں زندگی گزارنے والوں کو فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور توبہ کرنی چاہئے ۔معاشرے کی اَخلاقی پستی وتباہی کا سبب دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ گانے بجانے والے پیشہ وَر بھی ہیں جن میں قوال سر فہرست داخل ہیں ۔
مشرکین مکہ بھی عبادت کی خاطر بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور طواف کے دوران منہ میں اُنگلیاں ڈال کر سیٹیاں اور ہاتھوں سے تالیاں بجاتے تھے، اس کو وہ عبادت اور نیکی کا نام دیتے تھے۔ بعینہ جس طرح آج کل مسجدوں ،آستانوں ،مقبروں ،مزاروں پر جاہل لوگ رقص کرتے، ڈھول پیٹتے، دھمالیں ڈالتے، ہیرون او ر چرس بھی سرعام پیتے ہیں۔کیا یہی ہماری نماز اور عبادت ہے !! (نعو ذ بالله من ذلک)
قرآن و حدیث کے دلائل ، صحابہ کرام اور علماءِ امت کے اَقوال اور احمد رضا خان کے فتوؤں پر اس قبیل کے لوگ غور کریں اور سوچیں کہ ہم کیسے وادیٴ گناہ میں آنکھیں بند کیے کھچےکھچے جارہے ہیں !!
نقصانات
(۱) گانا بجانا اللہ اور اس کے رسول ﷺنے حرام کیا ہے ،کیونکہ یہ فعل فواحش اور گندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر یہ کام اچھا ہوتا تو اللہ اور رسول حرام نہ قرار دیتے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُل إِنَّما حَرَّ‌مَ رَ‌بِّىَ الفَو‌ٰحِشَ ما ظَهَرَ‌ مِنها وَما بَطَنَ.....٣٣ ﴾..... سورة الاعراف
"کہہ دیں: بے شک میرے ربّ نے حرام کیا، ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ اور پوشیدہ ہیں "
علانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جا کر بدکاری کرنا اور پوشیدہ سے مراد کسی محبوبہ، گرل فرینڈسے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے بعض کے نزدیک اوّل الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو حرام ہے ۔لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی صورت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے اور ہر قسم کی ظاہری بے حیائی کو شامل ہے جیسے مخرب اخلاق فلمیں، بے حیائی پر مبنی ڈرامے، فحش اخبارات ورسائل،رقص وسرود اور مجروں، قوالیوں کی محفلیں، عورتوں کی بے پردگی اور مردوں سے بے باکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسومات میں بے حیائی کے عام مظاہر وغیرہ سب فواحش ظاہرہ ہیں ۔
ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکے بارے میں فرمایا:
﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيهِمُ الخَبـٰئِثَ......١٥٧ ﴾...... سورة الاعراف
"اور حلال کرتاہے ان کے لئے پاکیزہ چیزیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہی"
نبی ﷺکے نزدیک جیسے سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے کہ گانابجانا حرام ہے، انہیں حلال قرار دینا اور ان آلات کی خرید وفروخت اور سماع میں مگن ہو جانا اللہ اور رسول ﷺکے احکامات کی صریح مخالفت اور خلاف ورزی ہے ۔ارشادِ ربانی ہے
﴿فَليَحذَرِ‌ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِ‌هِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ ٦٣ ﴾..... سورة النور
"سنو جو لوگ حکم رسولﷺ کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈر جانا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں کوئی دکھ کی مار نہ پڑے"
آفت سے مراد دلوں کی وہ کجی ہے جو انسان کو ایمان سے محروم کر دیتی ہے۔ یہ نبی ﷺکے اَحکام سے سر تابی اور ان کی مخالفت کرنے کا نتیجہ ہے اور ایمان سے محرومی اور کفر پر خاتمہ جہنم کے دائمی عذاب کاباعث ہے۔ پس نبی ﷺکے طریقے اور سنت کو ہروقت سامنے رکھنا چاہیے، اس لیے کہ جو اَقوال واَعمال اس کے مطابق ہوں گے، وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول اور دوسرے سب مردود ہوں گے۔ (بخاری)
(۲) غیر مذاہب مثلاً عیسائیت وہندومت سے مشا بہت ہے کیونکہ ان مذاہب میں موسیقی جائز ہے اور اپنی عبادت میں وہ باجے گاجے استعمال کرتے ہیں، میت کے سوگ میں موسیقی کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اگر اسلام کے نام لیوا کسی بھی تاویل کے ذریعہ سے اسے جائز قرار دیں تو من تشبَّہ بقوم فہو منہم (ابوداود) "جو کسی قوم کی تشبیہ اختیار کرتا ہے وہ انہی سے ہے" کے مصداق ٹھہریں گے۔
(۳) جو قوم اس قسم کی قبیح حرکتوں میں لگ جائے تو منزلِ مقصود بھول جاتی ہے، تباہی وبربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ غیر قوموں کو بآسانی دبوچنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بغداد کی تباہی اس کی زندہ مثال ہے ، اندلس میں مسلمانوں نے آٹھ سوسال حکومت کی لیکن حکمران جب رقص وسرورکی عیاشیوں میں محو ہوئے تو اندلس مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ برصغیر پاک وہند میں بھی انگریز کا دور دراز سے آکر قابض ہو جانے کا بڑا سبب مغلوں کا رقص وسرور کی محفلوں کوآباد کرنا اور محلات کو عیش گاہوں میں تبدیل کرنا تھا۔
(۴) دل زنگ آلود ہو کر اللہ کی یاد سے دورہوجاتے ہیں۔ بے حیائی، نفاق اور دیوثی کو فروغ ملتاہے،شہوانی وحیوانی جذبات بھڑکتے ہیں۔ ڈاکہ، چوری، فساد ،اغوا ، قتل وغارت گھناؤنے جرائم جنم لیتے ہیں۔جیسے آج معاشرہ ان قباحتوں میں پھنس چکا ہے۔ وہ بچیاں جو والدین کی اطاعت گزار ہوتیں تھیں آج ایسے ہی فلمی گانے سن سن کرمن پسند آشناوٴں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں اور عدالتوں میں حاضر ہوکر والدین کی بجائے آشناوٴں کے ساتھ جانے کو ترجیح دیتی ہیں ۔
(۵) آنے والی نسل پر منفی اثر پڑتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالد بن ولید  ، محمد بن قاسم ،طارق بن زیاد جیسے غیور سپوت ناپید ہیں اور عام بچیاں عائشہ  اور فاطمہ الزہرا جیسی عفت مآب خواتین کو اپنے لئے نمونہ بنانے کی بجائے نورجہاں، امّ کلثوم، لتا ، عنایت حسین بھٹی اور ابرار الحق ایسے فنکاروں اداکاروں، گلوکاروں کے تذکرے فخر سے کرتی ہیں۔
(۶) دولت کا ناجائز ضیاع ہوتا ہے۔
گانے بجانے کی محفلوں میں شرکت ناجائز اور حرام ہے !
(۱) ارشادِ باری تعالیٰ ہے
﴿وَقَد نَزَّلَ عَلَيكُم فِى الكِتـٰبِ أَن إِذا سَمِعتُم ءايـٰتِ اللَّهِ يُكفَرُ‌ بِها وَيُستَهزَأُ بِها فَلا تَقعُدوا مَعَهُم حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِ‌هِ ۚ إِنَّكُم إِذًا مِثلُهُم......١٤٠ ﴾..... سورة النساء
" اللہ تعالیٰ تم پراپنی کتاب میں نازل کر چکا ہے کہ جب تم کسی مجلس کواللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو حتیٰ کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں کرنے لگیں، ورنہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہوگے"
ایسی محفلوں کے لیے امر بالمعروف لازمی ہے اور ان میں شرکت کبیرہ گنا ہ ہے۔ اس آیت سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسی مجالس اور اجتماعات جن میں اللہ اور رسولﷺ کے اَحکامات کا قولاًیا عملاً مذاق اُڑایاجا رہا ہو، ان میں شرکت ناجائز ہے جیسے آج کل امراء ، فیشن ایبل اور مغربی تہذیب کے دلدادہ لوگوں کی محفلوں، شادی بیاہ، سالگرہ، محفلوں اور بسنت کے میلوں پر کیا جاتا ہے ۔ "ان جیسا ہونے کی قرانی وعید" اہل ایمان کے دلوں میں کپکپی طاری کرنے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ دل میں ایمان ہو!
قوالوں کا اندازِ راگ و غنا اور میراثیوں کا مخلوط مجالس میں ڈھول اور مختلف دھنوں پر نوجوان لڑکیوں کا بن ٹھن کر لڈی بھنگڑا ڈالنا، تھر تھرانا ،مٹکنا اوربغل گیر ہونا،اور غیر مردوں کا اس کو شہوت بھری نگاہوں سے دیکھنا...ہر ذی شعور شخص اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ اس وقت اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی کس قدر دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں ، بھلا کسی طرح ایسے اجتماعات میں شرکت جائز ہوسکتی ہے !!

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

(۲) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الَّذينَ اتَّخَذوا دينَكُم هُزُوًا وَلَعِبًا......٥٧ ﴾..... سور المائدة
"اے اہل ایمان! ا ن لو گوں کودوست نہ بناؤ جوتمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں"
دین کو کھیل اورمذاق بنانے والے چونکہ اللہ اور رسول کے دشمن ہیں، اس لئے ان کے ساتھ اہل ایمان کی دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ گانا بجانا شریعت ِاسلامیہ کے ساتھ ہنسی مذاق ہے!
(۳) قرآن کریم میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلا تَقرَ‌بُوا الزِّنىٰ ۖ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ٣٢ ﴾..... سورة الاسراء
"تم زنا کاری کے نزدیک مت جاؤ کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اوربہت ہی بری راہ ہے"
جس طرح زنا بے حیائی کاسبب ہے اورحرام ہے، اسی طرح ہر وہ فعل جو زنا کاری کا سبب بنے حرام ہوگا مثلاً کسی غیر محرم عورت کو دیکھنا، خلوت میں اس سے کلام کرنا، عورت کا بے پردہ ہو کر بن سنور کر گھر سے باہر نکلنا، عورت کے گانے سننا ... یہ سب راستے زِناکاری کاپیش خیمہ ہیں۔ ان تمام امور سے آپﷺ نے سختی سے منع کیا ہے ، گویا جوشخص غیر محرم عورتوں کے گانے سنتا ہے تو یہ اس کے کانوں کا زنا لکھا جاتا ہے او رجو آنکھ سے کسی غیر محرم کو دیکھے تو یہ اس کی آنکھوں کا زنا شمار ہوتاہے۔جس طرح گانا سننا حرام ہے اس طرح کسی مجلس میں شریک ہوکر مجرہ دیکھنا / سننا بھی حرام ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
"دل بھی زنا کرتاہے، آنکھ بھی زنا کرتی ہے...
گانا بجانا غیرمسلموں کا مشغلہ ہے!
اسلام سے قبل گانے بجانے کے تمام اَطوار عروج پر تھے، عہد ِرسالت میں کافروں نے نبی ﷺکی دعوت کو جس قدر دبانے کی کوشش کی، تمام حربے آزمائے، ان میں ایک بڑا فتنہ گانے بجانے کا بھی تھا۔
﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ.......٦ ﴾.... سورة لقمان "کے شانِ نزول میں مختلف اَقوال منقول ہیں۔ جن میں ایک یہ ہے کہ نضربن حارث کا شمار مشرکین مکہ کے اہم تاجروں میں ہوتا تھا ، وہ مختلف ملکوں میں تجارتی سفر کرتا تھا ۔ ایک بار وہ ملک فارس سے بڑے بڑے بادشاہوں کے تاریخی قصے خرید لایا اور مشرکین مکہ سے کہا کہ محمدﷺتم کو قومِ عادوثمود کے واقعات سناتے ہیں ، آؤمیں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفندیار اور دوسرے شاہانِ فارس کے قصے سناتا ہوں ۔ (بیہقی)
(۱) ابن عباس  سے روایت ہے کہ یہ تاجر باہر سے ایک گانے والی لونڈی خرید کرلایا اور اس کے ذریعہ اس نے لوگوں کو قرآن سننے سے روکنے کی یہ صورت نکالی کہ جو لوگ قرآن سننے کا ارادہ کرتے، اپنی اس کنیز سے ان لوگوں کو گانا سنواتا او رکہتاکہ محمدﷺ تم کو قرآن سنا کر کہتے ہیں کہ نماز پڑھو، روزے رکھو اور اپنی جان دے دو، جس میں تکلیف ہی تکلیف ہے لیکن تم یہ گانا سنو اور جشن طرب مناؤ ۔(بیہقی)
(۲) ابن خطل فتح مکہ کے موقع پر غلافِ کعبہ سے لٹکا ہوا قتل کیا گیا تھا۔اس لئے کہ وہ مرتد ہوگیاتھا اور اس نے اپنے ایک ساتھی کو قتل کردیا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اس نے دو لونڈیاں گانے والی رکھی ہوئیں تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی مذمت اور بدگوئی کرواتا اور ڈانس کرواتا تھا۔ آپﷺ نے دونوں کو قتل کرنے کا حکم بھی صادر کیا، جن میں ایک قتل کردی گئی اور دوسری کیلئے امان طلب کی گئی۔ (فتح الباری)
تالیاں اور سیٹیاں بجانے کا کام بھی کافر کرتے اور اسی کو عبادت سمجھتے۔ جس طرح آج ہمارے ہاں دین کے نام پرقوالی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

﴿وَما كانَ صَلاتُهُم عِندَ البَيتِ إِلّا مُكاءً وَتَصدِيَةً.....٣٥ ﴾..... سورة الانفال
"اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا تھی"
چنانچہ تمام مسلمان بھائیوں کو غور کرنا چاہیے اور ایسے افعال سے پرہیز کرنا چاہیے۔مسلمان موٴمن کی روح کی غذا ذکر الٰہی سے شغف ہے۔روح کی غذا گانا بجانا نہیں بلکہ یہ ایک مہلک زہر ہے جس سے دل وجسم میں قلق اور ہیجان پیدا ہوتا ہے۔گانا بجانا روح کی نہیں بلکہ بدروح کی غذا ہے۔مسلمان کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ بے ہودہ مجالس میں حاضر نہیں ہوتا ۔ارشادِ باری ہے :
﴿وَالَّذينَ لا يَشهَدونَ الزّورَ‌ وَإِذا مَرّ‌وا بِاللَّغوِ مَرّ‌وا كِر‌امًا ٧٢ ﴾..... سورة الفرقان
"اور جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بیہودہ شے پر ان کا گزر ہوتا ہے تو بزرگانہ گزر جاتے ہیں"
زُوْر سے مراد جھوٹ ہے ۔ ہر باطل چیز بھی جھوٹ ہے۔ جھوٹی گواہی سے لے کر کفروشرک اور ہر طرح کی غلط چیزیں مثلاً لہوولہب ،گانا بجانا اور دیگر بے ہودہ جاہلانہ رسوم وافعال سب اس میں شامل ہیں عبادالرحمن کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسی بے ہودہ مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے بلکہ خاموشی اورعزت ووقار کے ساتھ وہاں سے گذر جاتے ہیں۔کلام اللہ لگاؤ سے سنتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے
﴿وَالَّذينَ إِذا ذُكِّر‌وا بِـٔايـٰتِ رَ‌بِّهِم لَم يَخِرّ‌وا عَلَيها صُمًّا وَعُميانًا ٧٣ ﴾..... سورة الفرقان
"جب انہیں انکے ربّ کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے بہرے ہو کر اُن پر نہیں گرتے "
اللہ تعالیٰ کا ذکر سن کر اللہ کی جلالت وعظمت سے ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ ارشادِ باری ہے:
﴿إِنَّمَا المُؤمِنونَ الَّذينَ إِذا ذُكِرَ‌ اللَّهُ وَجِلَت قُلوبُهُم وَإِذا تُلِيَت عَلَيهِم ءايـٰتُهُ زادَتهُم إيمـٰنًا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ٢ الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلو‌ٰةَ وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ٣ ﴾..... سورة الانفال
"پس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔"
ذکر الٰہی سننے سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے
﴿وَإِذا سَمِعوا ما أُنزِلَ إِلَى الرَّ‌سولِ تَر‌ىٰ أَعيُنَهُم تَفيضُ مِنَ الدَّمعِ.......٨٣ ﴾...... سورة المائدة
"اور جب وہ رسول کی طرف نازل کردہ کتاب کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں"
قرآن پڑھنے سے متقین کے جسم کانپتے اور جسم ودل ذکر الٰہی کی طرف جھک جاتے ہیں :
﴿اللَّهُ نَزَّلَ أَحسَنَ الحَديثِ كِتـٰبًا مُتَشـٰبِهًا مَثانِىَ تَقشَعِرُّ‌ مِنهُ جُلودُ الَّذينَ يَخشَونَ رَ‌بَّهُم ثُمَّ تَلينُ جُلودُهُم وَقُلوبُهُم إِلىٰ ذِكرِ‌ اللَّهِ ۚ ذ‌ٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهدى بِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ ٢٣ ﴾...... سورة الزمر
"اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل کیا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی آیتوں پر مشتمل ہے، جس سے ان لوگوں کے جسم کانپ اُٹھتے ہیں جو اپنے ربّ کا خوف رکھتے ہیں۔ آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں۔"
یعنی جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف وکرم کی اُمید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز وگداز پید اہوتا ہے اور اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسوں کی جھڑی لگ جاتی ہے، ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہوش و حواس باختہ ہو جائیں اور عقل وہوش نہ رہے کیونکہ یہ بدعتیوں کی صفت ہے اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے (ابن کثیر) ۔جیسے آج کل بدعتیوں کی قوالی میں اس طرح کی شیطانی حرکتیں عام ہیں جسے وہ حالت ِبے خودی اور بے ہوشی سے تعبیرکرتے ہیں۔
ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اہل ایمان کا معاملہ اس بارے میں کافروں سے چند وجوہ کی بنا پر مختلف ہے:
(۱) اہل ایمان کا سماع قرآنِ کریم کی تلاوت ہے جب کہ کفار کا سماع بے حیا گانے والیوں کی آوازوں میں گانا بجانا سننا ہے (جس طرح اہل بدعت کا سماع مشرکانہ غلو پر مبنی قوالیوں اور نعتیں ہیں)۔
(۲) اہل ایمان قرآن سن کر ڈرکر اَدب ، اُمید، محبت، علم وفہم سے روپڑتے ہیں جب کہ کفار شورکرتے ہیں اور کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں۔
(۳) اہل ایمان سماعِ قرآن کے وقت اَدب وتواضع اختیار کرتے ہیں جیسے صحابہ کی عادتِ مبارکہ تھی، جس سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اوران کے دل اللہ کی طرف پھرجاتے (ابن کثیر)
وہ اشعار بغیر ساز کے پڑھے جا سکتے ہیں جو فحش گوئی کی بجائے خیروحکمت پر مبنی ہوں: إن من الشعر لحکمة ... ہر وہ شاعری جو مسلمانوں کے کردار وسیرت کو سنوارے، اسلام کی حمایت میں اور اس میں جھوٹ نہ ہو۔ توحید وسنت کی جھلک اس میں ہو، باطل، بدعت و شرک کی کاٹ کے لیے ہو تو جائز ہے جس طرح اسلام کی حمایت میں حسان بن ثابت  کو خودنبی ﷺنے فرمایا کہ
"کافروں کی مذمت بیان کرو ... جبریل بھی تمہارے ساتھ ہے" (بخاری)
کون سے اشعار جائز ہیں!
اگر یہ جائز اشعار بھی ساز کے ساتھ پڑھے جائیں تو سابقہ نصوص کی وجہ سے ناجائز ہوں گے۔لیکن وہ اشعار جو بغیر اُصول وضوابط کے کسی مذمت و مدح میں ذاتی پسند وناپسند پر مبنی ہوں، اور وہ غلو اور مبالغہ آرائی سے لبریز ہوں اور شاعرانہ تخیلات میں جھوٹ سچ کے قلابے ملائے گئے ہوں، اگرساز کے بغیر بھی پڑھے جا ئیں تب بھی ناجائز ہیں کیونکہ ایسے شعراء کی اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے اور ان کی پیروی کرنے والوں کی بھی ... فرمایا
﴿وَالشُّعَر‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الغاوۥنَ ٢٢٤ أَلَم تَرَ‌ أَنَّهُم فى كُلِّ وادٍ يَهيمونَ ٢٢٥ وَأَنَّهُم يَقولونَ ما لا يَفعَلونَ ٢٢٦ ﴾...... سورة الشعراء
" شاعروں کی پیروی وہی کرتے ہیں جو بہکے ہوتے ہوں، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جوکرتے نہیں"
اس قسم کے اشعار کی مذمت میں ہی جامع ترمذی میں فرمانِ رسول ﷺ ہے کہ
"پیٹ کو ایسی پیپ سے بھر لینا جو اسے خراب کردے، شعروں کے ساتھ سے بھر لینے سے بہترہے"

٭٭٭٭٭