Page

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حج کی فرضیت
حج اِسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، اور ہر اس مرد و عورت پر فرض ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہے، فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا.....٩٧ ﴾......سورة آل عمران" یعنی "حج بیت اللہ کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں" اور جب حج کرنے کی قدرت موجود ہو تو اسے فوراً کرلینا چاہئے کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
"جس کا حج کرنے کا ارادہ ہو وہ جلدی حج کرلے، کیونکہ ہوسکتا ہو وہ بیمار پڑ جائے یا اس کی کوئی چیزگم ہوجائے یا کوئی ضرورت پیش آجائے" (احمد و ابن ماجہ)
اور حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کچھ لوگوں کو بھیج کر معلوم کروں کہ کس کے پاس مال موجود ہے اور وہ حج پر نہیں گیا تو اس پر جزیہ لگا دیا جائے۔
حج کی فضیلت
حج کی فضیلت میں وارد چند احادیث ِرسول ﷺ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :
۱۔ "حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے" (متفق علیہ) اور حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں اللہ کی نافرمانی نہ کی گئی ہو اور اس کی نشانی یہ ہے کہ حج کے بعد حاجی نیکی کے کام زیادہ کرنے لگ جائے اور دوبارہ گناہوں کی طرف نہ لوٹے۔
۲۔ رسولِ ﷺنے حضرت عمرو بن العاص سے فرمایا: "حج پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے" (مسلم)
۳۔ "حج اور عمرہ ہمیشہ کرتے رہا کرو کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جس طرح دھونی لوہے کے زنگ کو ختم کردیتی ہے۔" (طبرانی ، دارقطنی)
۴۔ "اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا یہ سب اللہ کے مہمان ہوتے ہیں، اللہ نے انہیں بلایا تو یہ چلے آئے اور اب یہ جو کچھ اللہ سے مانگیں گے، وہ انہیں عطا کرے گا" (ابن ماجہ، ابن حبان)
سفر حج سے پہلے چند آداب
۱۔ عازمِ حج کو چاہئےکہ وہ حج و عمرہ کے ذریعے صرف اللہ کی رضا اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی نیت کرے۔
۲۔ وہ حج کے اِخراجات رزقِ حلال سے کرے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ
" اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک چیز کو قبول کرتا ہے"۔
۳۔ تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لے اور اگر اس پر لوگوں کا کوئی حق (قرضہ وغیرہ) ہے تو اسے ادا کر دے، اور اپنے گھر والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرے، اور اگر کچھ حقوق وہ اَدا نہیں کر پایا تو انہیں ان کے متعلق آگاہ کردے۔
۴۔ قرآن و سنت کی روشنی میں حج و عمرہ کے اَحکامات کو سیکھ لے، اور سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہ کرے۔
۵۔ عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے محرم یا خاوند کے ساتھ ہی سفر حج کرے اور اکیلی روانہ نہ ہو۔
دورانِ سفر اور دورانِ ادائیگی ٴحج چند ضروری آداب
۱۔ اِحرام کی نیت کرنے کے بعد زبان کی خصوصی طور پر حفاظت کریں اور فضول گفتگو سے پرہیز کریں، اپنے ساتھیوں کو ایذا نہ دیں اور ان سے برادرانہ سلوک رکھیں، اور اپنے تمام فارغ اوقات اللہ کی اِطاعت میں گزاریں، کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ "جس نے حج کیااور اس دوران بے ہودگی اور اللہ کی نافرمانی سے بچا رہا، وہ اس طرح واپس لوٹا جیسے اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا"
۲۔ حجاج کے رَش میں خصوصاً حالت ِطواف و سعی میں اور کنکریاں مارتے ہوئے کوشش کریں کہ کسی کو آپ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے، اور اگر آپ کو کسی سے کوئی تکلیف پہنچے تو اسے درگزر کر دیں اور جھگڑا نہ کریں۔
۳۔ باجماعت نماز پڑھنے کی پابندی کریں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سستی نہ برتیں۔
۴۔ خواتین غیر مردوں کے سامنے بے پردہ نہ ہوں۔
حج تمتع کے مختصر اَحکام
عمرہ: اِحرام، تلبیہ، طواف، سعی، بالوں کو منڈوانا /کٹوانا
حج: ۸/ ذوالحج: احرامِ حج، تلبیہ، منیٰ میں ۹/ ذوالحج کی صبح تک قیام
۹/ ذوالحج : وقوفِ عرفات، دس کی رات مزدلفہ میں قیام
۱۰/ ذوالحج: بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا، طوافِ افاضہ و سعی
۱۱/ ذوالحج :کی رات منیٰ میں قیام
۱۱ و ۱۲ / ذوالحج (جس نے جلدی کی) اور ۱۳ / ذوالحج (جس نے تاخیر کی) تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا، منیٰ میں قیام، مکہ مکرمہ سے روانگی سے پہلے طوافِ وداع
عمرہ کے تفصیلی اَحکام
(۱) اِحرام
۱۔ اِحرام حج و عمرہ کا پہلا رکن ہے ، اور اس سے مراد ہے: "احرام کا لباس پہن کر تلبیہ کہتے ہوئے مناسک ِحج و عمرہ کو شروع کرنے کی نیت کر لینا"... اور ایسا کرنے سے حاجی پر چند اُمور کی پابندی کرنا لازمی ہو جاتا ہے... عمرے کا اِحرام میقات سے شروع ہوتا ہے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ لباسِ اِحرام پہلے پہن لیا جائے اور نیت میقات سے کی جائے... میقات سے اِحرام باندھے بغیر گزرنا حرام ہے، اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اسے میقات کو واپس آنا یا مکہ جاکر 'دَم' دینا پڑتا ہے۔
۲۔ احرام باندھتے وقت غسل کرنا، صفائی کے اُمور کا خیال کرنا اور بدن پر خوشبو لگانا سنت ہے۔
۳۔ مرد دو سفید اور صاف ستھری چادروں میں اِحرام باندھیں گے جبکہ خواتین اپنے عام لباس میں ہی احرام کی نیت کریں گی، البتہ نقاب نہیں باندھیں گی اور دستانے نہیں پہنیں گی۔ اگر میقات پر عورت مخصوص ایام میں ہے تو تب بھی وہ غسل کرکے احرام کی نیت کر لے گی۔
۴۔ اِحرام کی نیت ان الفاظ سے ہوگی: "لَبَّيْکَ اّللّٰهُمَّ عُمْرَةً' اور اگر رستے میں کسی رکاوٹ کے پیش آنے کا خطرہ ہو تو اسے یہ الفاظ بھی پڑھنے چاہئیں: «اَللّٰهُمَّ إِنْ حَبَسَنِیْ حَابِسٌ فَمَحَلِّیْ حَيْثُ حَبَسَتْنِیْ» پھر تلبیہ پڑھنا شروع کردیں اور طواف شروع کرنے تک اسے پڑھتے رہیں، تلبیہ یہ ہے «لَبَّيْکَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ لاَ شَرِيْکَ لَکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَشَرِيْکَ لَکَ»
"میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں... تیرا کوئی شریک نہیں، بے شک تمام تعریفیں، نعمتیں او ربادشاہت تیرے لئے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں!"
۵۔ مردوں کے لئے مستحب ہے کہ وہ تلبیہ بلند آواز سے پڑھیں، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا تھا، اور آپ ا نے فرمایا کہ کوئی مسلمان جب تلبیہ پڑھتا ہے تو اس کے دائیں بائیں پتھر اور درخت بھی تلبیہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ (بیہقی و ابن خزیمہ)
۶۔ اِحرام باندھ لینے کے بعد کئی لوگ فوٹو کھنچواتے ہیں اور عورتیں بے پردہ ہوجاتی ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور کچھ لوگ میقات سے ہی اپنا دایاں کندھا ننگا کر لیتے ہیں، حالانکہ ایسا صرف طوافِ قدوم میں کرنا چاہئے۔
۷۔ احرام کی نیت کرنے کے بعد کچھ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جوکہ یہ ہیں: جسم کے کسی حصے سے بال اکھیڑنا یا کٹوانا ، ناخن کاٹنا، خوشبو استعمال کرنا، بیوی سے صحبت یا بوس وکنار کرنا، دستانے پہننا، اور شکار کرنا۔ مرد پر سلا ہوا کپڑا پہننا اور سر کو ڈھانپنا حرام ہوجاتاہے او رعورت پر نقاب باندھنا ممنوع ہوجاتا ہے، البتہ وہ غیر مردوں کے سامنے چہرے کا پردہ کرنے کی پابند ہوگی۔ خواہ کپڑا اس کے چہرے کو بھی لگ جائے، کیونکہ امہات الموٴمنین اور صحابیات  اسی طرح کرتی تھیں۔
۸۔ حالت ِاحرام میں غسل ، سر میں خارش کرنا، چھتری کے ذریعے سایہ کرنا اور بیلٹ باندھنا جائز ہے۔
(۲) طواف
۱۔ مسجد حرام میں پہنچ کر تلبیہ بند کردیں، پھر حجر اسود کے سامنے آئیں، اپنا دایاں کندھا ننگا کرلیں، اگر بآسانی حجر اسود کو بوسہ دے سکتے ہوں تو ٹھیک ورنہ ہاتھ لگا کر اسے چوم لیں، اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اس کی طرف اشارہ کرکے زبان سے «بسم الله، الله اکبر» کہیں اور طواف شروع کردیں، رسول اللہ ﷺنے حضرت عمر سے کہا تھا: "اے عمر ! تم طاقتور ہو، سو کمزور کو ایذا نہ دو، اور جب حجر اسود کا استلام کرنا چاہو تو دیکھ لو، اگر بآسانی کرسکو تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے سامنے آکر تکبیر کہہ لو"
۲۔ پہلے تین چکروں میں کندھے ہلاتے ہوئے، چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ، تیز تیز چلیں، اگر رَش ہو تو صرف کندھوں کو ہلانا کافی ہوگا... یہ حکم عورتوں اور ان کے ساتھ جانے والے مردوں کے لئے نہیں ہے۔
۳۔ دورانِ طواف ذکر، دعا اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہیں، ہر چکر کی کوئی خاص دعا نہیں ہے، البتہ رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان ﴿رَ‌بَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا حَسَنَةً وَفِى الءاخِرَ‌ةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النّارِ‌ ٢٠١ ﴾..... سورة البقرة" پڑھنا مسنون ہے۔ اگر چاہیں تو بابِ کعبہ'ملتزم' سے چمٹ کر بھی دعا کرسکتے ہیں، ذکر اور دعا میں آواز بلند کرنا درست نہیں ہے۔
۴۔ رکن یمانی کو ہاتھ لگا سکیں تو ٹھیک ورنہ بغیر اشارہ کرنے اور بوسہ دینے کے وہاں سے گزر جائیں۔
۵۔ سات چکر مکمل کرکے مقامِ ابراہیم کے پیچھے اگر جگہ مل جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ مسجد حرام کے کسی حصے میں دو رکعات ادا کریں۔ پہلی رکعت میں 'سورة الکافرون' اور دوسری میں 'سورة الاخلاص' سور ة فاتحہ کے بعد پڑھیں، پھر زمزم کا پانی پئیں اور اپنے سر پر بہائیں۔ اس کے بعد اگر ہوسکے تو حجر اسود کا استلام کریں ، ورنہ صفا کی طرف چلے جائیں۔
(۳) سعی
صفا کے قریب جاکر ﴿إِنَّ الصَّفا وَالمَر‌وَةَ مِن شَعائِرِ‌ اللَّهِ......١٥٨ ﴾....... سورة البقرة" پڑھیں، پھر صفا پہ چڑھ جائیں اور خانہٴ کعبہ کی طرف منہ کرکے یہ دعا پڑھیں: «لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُُ وَحْدَہ لاَشَرِيْکَ له، له الْمُلْکُ وَله الْحَمْدُ يُحْيِیْ وَيُمِيْتُ، وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيْیٴٍ قَدِيْرٌ، لاَ اِلٰه إِلاَّ اللهُ وَحْدَہ لاَشَرِيْکَ له، اَنْجَزَ وَعْدَہ وَنَصَرَ عَبْدَہ وَهَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہ» پھر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں۔ تین مرتبہ اسی طرح کرکے 'مروہ' کی طرف روانہ ہوجائیں، راستے میں دو سبز نشانوں کے درمیان دوڑیں، البتہ عورتیں اور ان کے ساتھ جانے والے مرد نہیں دوڑیں گے۔ پھر عام رفتار میں چلتے ہوئے 'مروہ' پر پہنچیں، یہاں پہنچ کر ایک چکر پورا ہوجائے گا، اب یہاں بھی وہی کریں جو آ پ نے صفا پر کیا تھا، پھر واپس 'صفا' کی طرف آئیں، راستے میں دو سبز نشانوں کے درمیان دوڑیں، صفا پر پہنچ کر دوسرا چکر مکمل ہوجائے گا، پھر اسی طرح سات چکر پورے کریں۔ آخری چکر مروہ پر پورا ہوگا، دورانِ سعی ذکر، دعا اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہیں۔
(۴) سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا
صفا اور مردہ کے درمیان سعی مکمل کرکے سر منڈوا لیں یا پورے سر کے بال چھوٹے کروالیں، عورت اپنی ہر مینڈھی سے ایک 'پور' کے برابر بال کٹوائے، اس طرح عمرہ مکمل ہوجائے گا۔ اب آپ احرام کھول دیں، اور احرام کی وجہ سے جو پابندیاں لگی تھیں وہ ختم ہوجائیں گی۔
عمرے کے بعد آٹھ ذوالحج تک...!
۱۔ بعض لوگ عمرے سے فارغ ہو کر مختلف مساجد اور پہاڑوں کی زیارت کے لئے ثواب کی نیت سے جاتے ہیں حالانکہ ایسا کرنا ضیاعِ وقت ہے۔ اسی طرح مسجد عائشہ سے اِحرام باندھ کر بار بار عمرے کرنا بھی ثابت نہیں ہے۔
۲۔ مسجد ِحرام میں نماز باجماعت پڑھنے کی پابندی کریں اور اس کی فضیلت میں یہی کافی ہے کہ اس میں ایک نماز ایک لاکھ نماز سے افضل ہوتی ہے۔
۳۔ خانہٴ کعبہ کا نفلی طواف کرتے رہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ طواف کرتے ہوئے ایک ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے او رایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے، اور پورے سات چکر لگانے کا ثواب ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہے۔
حج کے تفصیلی احکام
۸/ ذوالحج... یوم الترویہ
مکہ مکرمہ میں جہاں آپ رہائش پذیر ہیں، وہیں سے حج کا احرام باندھ لیں۔ احرامِ حج کا طریقہ بھی وہی ہے جو احرامِ عمرہ کا ہے۔ سو صفائی اور غسل کرکے اور بدن پر خوشبو لگا کر اِحرام کا لباس پہن لیں، پھر "لَبَّيْکَ اَللّٰهمَّ حَجًّا" کہتے ہوئے حج کی نیت کر لیں اور تلبیہ شروع کردیں اور ۱۰/ ذوالحج کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑتے رہیں۔ احرام باندھ کر ظہر سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہوجائیں جہاں ظہر، عصر، مغرب ، عشاء اور ۹/ ذوالحج کی فجر کی نمازیں پڑھنا اور رات کو وہیں ٹھہرنا ہوگا۔
۹/ ذوالحج ...یومِ عرفہ
۱۔ طلوعِ شمس کے بعد تکبیر اور تلبیہ کہتے ہوئے عرفات کی طرف روانہ ہوجائیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ آپ حدودِ عرفہ کے اندر ہیں۔ زوالِ شمس کے بعد اگر ہوسکے تو امام کاخطبہ حج سنیں اور اس کے ساتھ ظہر و عصر کی نمازیں جمع و قصر کرکے پڑھیں، اگر ایسا نہ ہوسکے تو اپنے خیمے میں ہی دونوں نمازیں جمع و قصر کرتے ہوئے باجماعت ادا کرلیں۔
۲۔ پھر غروبِ شمس تک ذکر، دعا، تلبیہ اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہیں اور یہ دعا بار بار پڑھیں: «لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّهُ وَحْدَہ لاَشَرِيْکَ لهُ، له الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْیٴٍ قَدِيْرٌ» اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری ظاہر کریں، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں اور ہاتھ اُٹھا کر دنیا و آخرت میں خیر و بھلائی کی دعا کریں، اس دن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اہل عرفات پر فخر کرتا ہے۔
۳۔ و قوفِ عرفہ کا وقت زوالِ شمس سے لے کر دسویں کی رات کو طلوعِ فجر تک رہتا ہے، اس دوران حاجی ایک گھڑی کے لئے بھی عرفات میں چلا جائے تو حج کا یہ رکن پورا ہوجاتا ہے۔
۴۔ غروبِ شمس کے بعد عرفات سے انتہائی سکون کے ساتھ مزدلفہ کو روانہ ہوجائیں، جہاں سے سب سے پہلے مغرب و عشاء کی نمازیں جمع و قصر کرکے باجماعت پڑھیں، پھر اپنی ضرورتیں پوری کرکے سو جائیں۔
۵۔ عورتوں اور ان کے ساتھ جانے والے مردوں اور بچوں کے لئے اور اسی طرح کمزوروں کے لئے جائز ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کو چلے جائیں۔
۱۰/ذوالحج ...یوم عید
۱۔ فجر کی نماز مزدلفہ میں اَدا کریں، پھر صبح کی روشنی پھیلنے تک قبلہ رُخ ہو کر ذکر، دعا اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہیں۔
۲۔ بڑے 'جمرہ' کو کنکریاں مارنے کے لئے مزدلفہ سے ہی موٹے چنے کے برابر کنکریاں اٹھا لیں... اَیامِ تشریق میں کنکریاں مارنے کے لئے مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھانا ضروری نہیں۔
۳۔ پھر طلوعِ شمس سے پہلے منیٰ کو روانہ ہوجائیں، رستے میں وادی ٴ محسر کو عبور کرتے ہوئے تیز تیز چلیں۔
۴۔ منیٰ میں پہنچ کر سب سے پہلے بڑے جمرة کو جو کہ مکہ کی طرف ہے، سات کنکریاں ایک ایک کرکے ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ 'اللہ اکبر' کہیں ، کنکریاں مارنے کے بعد تلبیہ پڑھنا بند کردیں۔ کمزور یابیمار مرد، بچے اور اسی طرح خواتین کنکریاں مارنے کے لئے کسی دوسرے کو نائب بناسکتے ہیں۔
۵۔ پھر قربانی کا جانور ذبح کریں جو کہ بے عیب ہو اور مطلوبہ عمر کے مطابق ہو۔ قربانی کا گوشت اپنے لئے بھی لے آئیں اور فقراء میں بھی تقسیم کریں۔ اگر آپ بامر مجبوری قربانی نہیں کرسکتے تو آپ کو دس روزے رکھنا ہوں گے، تین ایامِ حج میں اور سات وطن لوٹ کر۔
۶۔ پھر سر کے بال منڈوا دیں یا پورے سر کے بال چھوٹے کروا دیں۔ خواتین اپنی ہر مینڈھی سے ایک پور کے برابر بال کٹوائیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ حلال ہوجائیں گے، جو کام بسبب ِاحرام ممنوع تھے وہ سب حلال ہوجائیں گے سوائے بیوی کے قرب کے جو طوافِ افاضہ کے بعد جائز ہوگا۔ اب آپ صفائی اور غسل وغیرہ کرکے اپنا عام لباس پہن لیں اور طوافِ افاضہ کیلئے خانہٴ کعبہ چلے جائیں۔
۷۔ طوافِ افاضہ حج کا رکن ہے، اگر کسی وجہ سے آپ دس ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ نہیں کرسکے تو اسے بعد میں بھی کرسکتے ہیں۔ اور اگر خواتین مخصوص ایام میں ہوں تو وہ طہارت کے بعد طواف کریں گی۔ اگر وہ ایامِ تشریق کی کنکریاں مارنے کے بعد پاک ہوتی ہیں تو طوافِ افاضہ کرتے ہوئے طوافِ وداع کی نیت بھی کرلیں تو ایسا کرنا درست ہوگا اور اگر وہ قافلے کی روانگی تک پاک نہیں ہوتیں اور قافلہ والے بھی ان کا انتظار نہیں کرسکتے تو وہ غسل کرکے لنگوٹ کس لیں اور طواف کرلیں۔
۸۔ طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعات ادا کریں، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کریں اور منیٰ کو واپس چلے جائیں جہاں گیارہ کی رات گزارانا واجب ہے۔
۹۔ دس ذوالحج کے چار کام (کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، حلق یا تقصیر، طواف و سعی) جس ترتیب سے ذکر کئے گئے ہیں، انہیں اسی ترتیب کے ساتھ کرنا مسنون ہے، تاہم ان میں تقدیم و تاخیر بھی جائز ہے۔
ایامِ تشریق
۱۔ ۱۱ اور ۱۲ ذوالحج کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے، اور اگرچاہیں تو ۱۳ تک بھی منیٰ میں رہ سکتے ہیں۔ ان ایام میں تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا ہوتا ہے، ا س کا وقت زوالِ شمس سے لے کر آدھی رات تک ہوتا ہے۔
۲۔ سب سے پہلے چھوٹے جمرہ کو سات کنکریاں ایک ایک کرکے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ " اللہ اکبر" کہیں، پھر اسی طرح درمیانے جمرہ کو کنکریاں ماریں، اگر آپ کو کسی دوسرے کی طرف سے بھی کنکریاں مارنی ہوں تو پہلے اپنی کنکریاں مار کر پھر اس کی کنکریاں ماریں، چھوٹے اور درمیانے جمرہ کو کنکریاں مارنے کے بعد قبلہ رُخ ہو کر دعا کرنا مسنون ہے۔
۳۔ پھر بڑے جمرہ کوبھی اسی طرح کنکریاں ماریں، اس کے بعد دعا کرنا مسنون نہیں۔
۴۔ کنکریاں مارتے ہوئے اگر قبلہ بائیں طرف اور منیٰ دائیں طرف ہو تو زیادہ بہتر ہے، لازم نہیں۔
۵۔ تینوں جمرات کوکنکریاں کے لئے کنکریاں منیٰ سے کسی بھی جگہ سے اٹھا سکتے ہیں۔
۶۔ جمرات کا نشانہ لے کر کنکریاں ماریں، صرف گول دائرے میں کنکریاں پھینک دینا کافی نہیں ہے۔
۷۔ جمرات کو شیطان تصور کرکے انہیں گالیاں دینا یا جوتے رسید کرنا جہالت ہے۔
۸۔ ایامِ تشریق کے فارغ اوقات اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزاریں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کریں، اور باجماعت نمازوں کی پابندی کریں۔
۹۔ اگر آپ ۱۲ ذوالحج کو ہی منیٰ سے روانہ ہونا چاہتے ہیں تو غروبِ شمس سے پہلے پہلے کنکریاں مار کر منیٰ کی حدود سے نکل جائیں ورنہ ۱۳ کی رات بھی وہیں گزارنا ہوگی اور پھر تیرہ کو کنکریاں مار کر ہی آپ منیٰ سے نکل سکیں گے۔
طوافِ وداع:مکہ مکرمہ سے روانگی سے پہلے طوافِ وداع کرنا واجب ہے، اگر خواتین مخصوص ایام میں ہوں تو ان پر طوافِ وداع واجب نہیں۔ ۱۲ یا ۱۳ ذوالحج کو کنکریاں مارنے سے پہلے طوافِ وداع کرنا درست نہیں ہے۔
آدابِ زیارتِ مسجد ِنبوی

۱۔ مکہ مکرمہ میں حج مکمل ہوجاتا ہے، البتہ مسجد ِنبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب حاصل کرنے کی نیت کرکے مدینہ طیبہ کا سفر کرنا مستحب ہے۔
۲۔ مسجد ِنبوی میں پہنچ کر تحیة المسجد پڑھیں، بہتر ہے کہ روضة من ریاض الجنة میں جاکر پڑھیں کیونکہ وہ جنت کا ٹکڑا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے سامنے آئیں، درود و سلام پڑھیں اور بہتر ہے کہ درودِ ابراہیمی، جسے نماز میں پڑھا جاتا ہے، پڑھا جائے۔ پھر آپ اکے دونوں ساتھیوں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر  کوسلام کہیں اور اگر دعا کرنا چاہیں تو قبلہ رُخ ہو کر کریں۔
۳۔ روضہٴ مبارکہ پر بنیت ِتبرک ہاتھ پھیرنا یا اس کا طواف کرنا قطعاً درست نہیں ہے۔
۴۔ مردوں کے لئے مستحب ہے کہ وہ جنت البیقع میں مدفون حضرات اور اسی طرح شہداءِ اُحد کی قبروں پر جاکر انہیں سلام کہیں اور قبلہ رخ ہو کر ان کے لئے دعا کریں۔
۵۔ مساجد مدینہ طیبہ میں سے مسجد ِنبوی کے علاوہ صرف مسجد ِقبا میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہے، باقی مساجد میں نماز پڑھنے کی کوئی فضیلت نہیں ہے، اس لئے ان کا قصد کرنا درست نہیں ہے۔
حج میں ہونے والی عام غلطیاں
حج ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کی قبولیت دو شرطوں کے ساتھ ہوتی ہے: اخلاصِ نیت اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے موافقت۔ اس تمنا کے پیش نظر کہ حجاج کرام کو حج مبرور نصیب ہو اور وہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنے وطنوں کو واپس لوٹیں، ذیل میں حجاج کی عام غلطیاں درج کی جارہی ہیں تاکہ حتیٰ الوسع ان سے پرہیز کیا جائے۔
بغیر اِحرام باندھے میقات کو عبور کرجانا، اِحرام باندھتے ہی دایاں کندھا ننگا کر لینا، خاص ڈھب سے بنے ہوئے جوتے کی پابندی کرنا (حالانکہ ٹخنوں کوننگا رکھتے ہوئے ہر قسم کا جوتا پہنا جاسکتا ہے)، احرام باندھ کر بجائے کثرتِ ذکر و استغفار اور تلبیہ کے لہو لعب میں مشغول رہنا، باجماعت نماز ادا کرنے میں سستی کرنا، خواتین کا بغیر محرم یا خاوند کے سفر کرنا، غیر مردوں کے سامنے عورتوں کا پردہ نہ کرنا، حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے مزاحمت کرنا، اورمسلمانوں کو ایذا دینا، دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے حجر اسود کی طرف اشارہ کرنا، حطیم کے درمیان سے گذرتے ہوئے طواف کرنا، رکن یمانی کوبوسہ دینا یا استلام نہ کرسکنے کی صورت میں اس کی طرف اشارہ کرنا، ہر چکر کے لئے کوئی دعا خاص کرنا، کعبہ کی دیواروں پر بنیت ِتبرک ہاتھ پھیرنا، طوافِ قدوم کے بعد بھی دایاں کندھا ننگا رکھنا، دورانِ طواف دعائیں پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنا، صفا اور مروہ پر قبلہ رخ ہو کردونوں ہاتھوں سے اشارہ کرنا، اقامت ِنماز ہوجانے کے بعد بھی سعی جاری رکھنا، سعی کے سات چکروں کی بجائے چودہ چکر لگانا، سر کے کچھ حصہ سے بال کٹوا کر حلال ہوجانا، حدودِ عرفہ سے باہر وقوف کرنا، یہ عقیدہ رکھنا کہ جبل رحمہ پر چڑھے بغیر وقوفِ عرفہ مکمل نہں ہوگا، غروبِ شمس سے پہلے عرفات سے روانہ ہوجانا، مزدلفہ میں پہنچ کر سب سے پہلے مغرب و عشاء کی نمازوں کی ادائیگی کی بجائے کنکریاں چننے میں لگ جانا، مزدلفہ کی رات نوافل پڑھنا، کنکریاں دھونا، سات کنکریاں بجائے ایک ایک کرکے مارنے کے ایک ہی بار دے مارنا، کنکریاں مارنے کے مشروع وقت کا لحاظ نہ کرنا، پہلے چھوٹے، پھر درمیانے اور پھر بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنے کی بجائے ترتیب اُلٹ کر دینا، چھوٹے اور درمیانے جمروں کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہ کرنا، قربانی کے لئے جانور کی عمر کا لحاظ نہ کرنا، عیب دار جانور قربان کرنا، ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں نہ گزارنا، ۱۲ یا ۱۳ ذوالحج کو کنکریاں مارنے سے پہلے طوافِ وداع کر لینا۔ طوافِ وداع کے بعد مسجد حرام سے اُلٹے پاؤں باہر آنا۔ نبی کریم ﷺکی قبر کی زیارت کی نیت کرکے مدینہ طیبہ کا سفر کرنا، حجاج کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو سلام بھیجنا، ہر نماز کے بعد روضہٴ رسول ﷺکی طرف چلے جانا یا اس کی طرف رُخ کرکے انتہائی ادب سے کھڑے ہوجانا، دعا میں آپ ا کو وسیلہ بنانا، مدینہ طیبہ میں چالیس نمازوں کی پابندی کرنے کی کوشش کرنا۔

٭٭٭٭٭