الشیخ محمد بن صالح بن محمد بن عثیمین
۱۰ جنوری ۲۰۰۱ء کی شام چھ بجے عالم اسلام ایک محدث ، فقیہ، جلیل القدر عالم دین اور ایک مربی وخطیب سے محروم ہوگیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ذی روح کا انجام بالآخر موت ہے مگر علماءِ ربانی کی وفات سے جو خلا پیدا ہوتا ہے، وہ اکثر پر نہیں ہوتا۔ شیخ محمد العثیمین جیسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں، ان جیسے علماء حقیقت میں اپنے علم، نیکی،تقویٰ، زہد، تعلیم دین اور لوگوں کی خدمت کی بدولت چمکتے ستارے ہوتے ہیں۔بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر  سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ تعالیٰ (زمین سے) ایک ہی دفعہ علم نہیں چھین لیتا، بلکہ علماکی وفات کے ذریعے آہستہ آہستہ علم اُٹھالیتا ہے"
شیخ مرحوم کی زندگی گونا گوں دینی خدمات سے بھری ہوئی ہے۔ آپ نے ۱۹۵۱ء میں مختلف مساجد میں درس و تدریس سے دینی خدمات کا آغاز کیا۔ عنیزہ کی جامع مسجدمیں پہلا جمعہ ۲ رجب ۱۳۷۶ھ (۱۹۵۶ء) میں پڑھایا اور عنیزہ میں آخری نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) جو ۳ شعبان ۱۴۲۱ھ کو عیدگاہ میں پڑھائی۔ آپ کی دینی جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو شاہ فیصل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ آپ کی چند نمایاں خدمات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے :ٴ ٭ آپ کا عنيزه کی جامع مسجدمیں ۴۵ سال مسلسل عقیدہ، فقہ ، حدیث، تفسیر اور دیگرعلوم پر درس دیتے رہنا۔ سرکاری تعلیمی اداروں خصو صا ً قصیم کے شریعت کالج میں آپ کی تدریسی خدمات اس کے علاوہ ہیں۔
٭ اِفراط و تفریط سے ہٹ کر آپ سلف صالحین کے طریقے پر راہِ اعتدال کے داعی تھے، دیگر ممالک کے علماء اور رہنماؤں کو بھی تلقین کرتے اور دین میں بے جا تشدد سے منع کرتے تھے۔
٭ طالب علموں سے آپ کو بہت محبت اور خصوصی شغف تھا جس کی وجہ سے بے شمار طلباء اندرون اور بیرونِ مملکت سے آپ کے حلقہ درس میں شمولیت کے لئے کھنچے چلے آتے تھے۔ اس کا بہت بڑا شاہدیہ واقعہ ہے کہ ان کے پرانے مٹی کے بنے ہوئے کچے مکان میں ایک مرتبہ شاہ خالد بن عبدالعزیز  تشریف لائے۔ انہوں نے گھر کی تعمیر نو کے لئے بڑی رقم کی پیش کش کی، مگر شیخنے شاہ خالد کو تجویز دی کہ اس کے بجائے طلباء کے لئے عمارت بنا دیں تاکہ وہاں طلباء قیام کرسکیں، چنانچہ شاہ خالد کے حکم سے جامع مسجد کو وسیع کیا گیا اور طلبہ کے لئے عمارت بھی بنا دی گئی۔
٭ آپ کے پاس مختلف ممالک سے طلبہ پڑھنے کے لئے آتے اور ان سے علم حاصل کرتے اور یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ... گذشتہ چار برس سے انہوں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں طلبہ کو ۵ ہفتوں کا خصوصی کورس کروانا شروع کیا جس سے مختلف یونیورسٹیوں اور خلیجی ممالکسے طلبہ شرکت کے لئے آنا شروع ہوئے۔
٭ گذشتہ سال ارجنٹائن سے ایک دوست محمد عیسیٰ اپنی اہلیہ سمیت تشریف لائے او رکہا کہ میں قصیم میں شیخ عثیمین کے پاس جارہا ہوں، وہاں ۵ ہفتوں کے لئے وہ کورس کرواتے ہیں۔ چنانچہ گذشتہ سال ۵۰۰ سے زائد طلبہ اور ۶۰ سے زائد عورتوں اور لڑکیوں نے اس خصوصی کورس میں شرکت کی۔ یہ طلبہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی رہائش او رکھانے پینے کے اِخراجات سبھی شیخ رحمہ اللہ کے ذمہ تھے۔
٭ شیخ نے کم و بیش ۴۲ کتب اور رسائل ترتیب دیئے۔ انہوں نے سب سے پہلے ۱۹۶۰ء میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  کی ایک کتاب کی تلخیص کی، جو عقیدئہ توحید کے متعلق تھی او رامام ابن تیمیہ  نے شام کے شہر حماة کے لوگوں کے مطالبہ پر لکھی تھی۔ آپ کی کتابیں بے شمار اداروں سے شائع ہوئیں اور مختلف زبانوں میں ان کے تراجم بھی کئے گئے۔
٭ سعودی ریڈیو کے پروگرام 'نورعلی الدرب' سے بھی آپ کے خطابات اور فتاویٰ جات نشر ہوتے رہے ہیں۔
٭ شیخ کے فتاویٰ جات کی اب تک کم و بیش ۱۸ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ بہت سی کتابیں او ررسائل کیسٹوں سے تیار ہوکر مارکیٹ میں آئے ہیں۔ ایک مدت سے شیخ نے مختلف ممالک میں ٹیلی فونک خطاب کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا۔ راقم نے بھی امریکہ، برطانیہ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں لوگوں سے ان کے خطابات کی شہرت اور چرچا سنا۔
٭ آپ کی منکسر مزاجی کی یہ حالت تھی کہ علم کی گہرائی اور وسعت کے باوجود فتویٰ دینے میں جلد بازی کی بجائے غوروفکر فرماتے اور اپنے استاذِ گرامی شیخ ابن باز  کی زندگی میں اکثر مسائل کیلئے ان سے رجوع فرماتے۔
آپ کے آخری وقت کے رفیق سلیمان بن عبدالرحمن بطی کے مطابق شیخ کی آخری وصیت یہ تھی کہ
"قرآن کریم میں تدبر اور غور کریں، اس کی تفسیر سیکھیں، اِسلام کو مشرق و مغرب اور شمال سے جنوب تک پہنچا دیں او را س کے لئے سارے وسائل استعمال کریں۔"
بلاشبہ ان کی شخصیت اللہ کے رسول ﷺکی اس حدیث کے مصداق ہے کہ
"جب آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اَعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزیں مرنے کے بعد بھی اَجروثواب کا باعث رہتی ہیں۔ صدقہ جاریہ یا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ یا نیک اولاد جواس کے لئے دعائے مغفرت فرمائے"
ان کے کتنے اَعمال ہیں جو صدقہ جاریہ کے ضمن میں ہیں۔ کتنی مساجد، مدارس، داعی، طالب علم،کتب اور کتنی کیسٹیں ہیں، جن سے اُمت ِمسلمہ فائدہ اٹھا رہی ہے۔نہایت افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس موقع پرپاکستانی ذرائع اَبلاغ اور حکومت پاکستان کی کج روی بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ 'نورجہاں' جیسی فاحشہ رقاصہ و مغنیہ اورننگ ِدین و ملت عورت کی وفات پر اَخبارات کے خصوصی رنگین ایڈیشن چھپے۔ صدرِ پاکستان جیسی 'دینی شخصیت' کے تعزیتی پیغامات جاری ہوئے، مگر اس عالم بے بدل کی وفات پرکسی طرف سے کوئی ہلچل نہیں مچی۔ اِنا لله وانا اليه راجعون!