244-Jan-2001

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

موٴرخہ ۲/ نومبر ۲۰۰۰ء بروز جمعرات، جامعہ لاہور الاسلامیہ، ۹۱/ بابر بلاک نیوگارڈن ٹاؤن لاہور میں تقریب ِتکمیل صحیح بخاری شریف، تجوید وقراء ت کانفرنس اور جلسہ تقسیم اسناد، جامعہ کے ایک وسیع ہال میں منعقد ہوا جس میں عالم اسلام اور عرب ممالک کی ممتاز علمی شخصیات شریک ہوئیں، مہمانوں میں سعودی عرب کے وزیرعدل وانصاف ڈاکٹرعبداللہ بن محمد بن ابراہیم آلِ شیخ، معروف سماجی شخصیت اور مفتی شیخ صالح بن غانم السدلان، بحرین کی جمعیة التربیة الاسلامیہ کے چیئرمین شیخ عادل بن عبد الرحمن جاسم المعاودہ، سعودی عرب کی نامور دینی شخصیت شیخ عبداللہ بن حمد الجلالی ، مجمع الفقہ الاسلامی جدہ کے سینئر ممبر شیخ عبداللہ مطلق، تبوک ہائی کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر محمد ابراہیم البشر، مکتبہ دارالسلام کے مدیر مولاناعبد المالک مجاہد، لندن سے تشریف لانے والے ڈاکٹر صہیب حسن، اسلام آباد سے ڈاکٹر سہیل عبد الغفار حسن،جماعت الدعوة الیٰ القرآن والسنہ کے امیر مولانا سمیع اللہ ( سابق امیر صوبہ کنڑ، افغانستان)، پشاور سے آنے والے علماء اور ڈاکٹر اسمٰعیل لبیب،سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر شیخ احمد العجلان اور ان کی معیت میں متعدد غیرملکی شخصیات، سفارتخانوں اور مشنوں کے ذمہ داران موجود تھے۔
پارکنگ اور سیکورٹی کا اعلیٰ انتظام تھا۔ سٹیج کو دلہن کی طرح سجایا گیاتھا۔ ہال کے چاروں طرف جامعہ کے مختلف شعبہ جات کے تعارفی بینرز آویزں تھے۔ جامعہ کے بالائی بڑے ہال میں ہزار وں کرسیوں کا انتظام تھا، گویا طلباء اور مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہال اپنے رنگ و روپ میں ایک عظیم منظر پیش کر رہا تھا۔
لاہور سے ممتاز علماء، دانشور اور پروفیسر جامعہ کے ان پروگراموں میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے، جن میں شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ امجد چھتوی، مولانا قاری محمد عزیر،حافظ محمد ایوب (صدر شعبہٴ علوم اسلامیہ)پروفیسرعبد اللہ سرور(انجینئرنگ یونیورسٹی)،پروفیسر ڈاکٹر مزمل احسن شیخ، شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید مجاہد آبادی، مولانا عبد الرزاق یزدانی ناظم جامعہ ابن تیمیہ لاہور، شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ لوکو ورکشاپ، مولانا ابوبکر صدیق، قاری احمد میاں تھانوی، مکتبہ دارالسلام لاہورکے حافظ عبدالعظیم، پروفیسر نجیب الرحمن کیلانی، جامعہ کے سابق طالبعلم اور ادارہ بناء المساجد والمشاریع الخیریہ ،ریاض کے لاہور میں قائم دفتر کے ناظم مولانا زبیر عقیل اوردیگر بہت سے علماء کے علاوہ معزز شخصیات جناب فاروق حمید مرزا،جناب توقیر شریفی،جناب شیخ قمر الحق اور جناب انجینئر محمد ارشدصاحب بھی رونق افروز تھے۔
اجلاس کی صدارت عالی مرتبت ڈاکٹرعبداللہ بن محمد بن ابراہیم آلِ الشیخ(وزیر عدل سعودی عرب) نے فرمائی ۔ عصر کے بعد پروگرام کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔ افتتاحی تلاوت کلام مجید کے بعد تقریب بخاری کا آغاز ہوا۔ کلیة الشریعہ کی آخری کلاس کے ایک طالب علم نے صحیح بخاری کی آخری حدیث پڑھی اور شیخ الحدیث مولانا عبداللہ امجد چھتوی نے اس حدیث پر نہایت جامع اور علمی درس اِرشاد فرمایا۔ نمازِ مغرب کے بعد جمعیت التربیہ الاسلامیہ بحرین کے چیئرمین شیخ عادل بن عبد الرحمن جاسم المعاودہ کے بصیرت افروز اور جوش ولولولہ سے بھر پورخطاب سے پروگرام دوبارہ شروع ہوا۔ شیخ معاودہ نے طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے مشائخ اور اساتذہ کااحترام کریں، ادب کا تو یہ تقاضا ہے کہ اساتذہ کے سامنے زبان کھولنے سے پہلیان سے اجازت لی جائے اور طلباء کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل میں اخلاص پید اکریں۔ کتنے ہی علماء ہیں جن کی مثال اس گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو۔ کتنے ہی بہترین قرآن پڑھنے والے ہیں لیکن ان کا عمل ائمہ سلف کے خلاف ہے!!
انہوں نے فرمایا کہ عبادت صرف ظاہری صورت کانام نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی اسلام کی آئینہ دار بن جائے۔ جو پڑھیں، اسے اپنے آپ میں ڈھونڈیں اور اس کے مطابق اپنے نفس کی اصلاح کریں۔ انہوں نے تقریب ِبخاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فرمایا: دیکھئے، آج پوری امت بخاری شریف کو حسن قبول کا درجہ دے کر اس کی احادیث کی صحت پر متفق ہوچکی ہے۔ امام بخاری نے بہت چھوٹی عمر میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور اپنے استاد اسحق بن راہویہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے صحیح احادیث پر مشتمل ایک عظیم کتاب تالیف فرمائی۔
انہوں نے فرمایا کہ آج ہم نے صحیح بخاری کو پڑھا تو ہے لیکن اسے اپنی ذات میں سمونے کی کوشش نہیں کی۔ یہی ہماری ذلت کی وجہ ہے او ریہود جن کی تعداد ۵۰ لاکھ سے زیادہ نہیں وہ ہمیں پیٹ رہا ہے۔ وہی یہود جو حضرت موسیٰ کے ہمراہ جہاد کو چھوڑنے کی وجہ سے چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکتے رہے، آج ہم بھی جھوٹی مسرتوں کے صحراء میں گھوم رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہمیں یاد رہنا چاہئے کہ جب تک تم جہاد کی طرف نہیں لوٹو گے عزت تمہارا مقدر نہیں بن سکتی، جہاد جہاں میدان جنگ میں اللہ کے لئے قتال کا نام ہے ، وہاں حصولِ تعلیم اور معاملات زندگی میں بھی جہاد پایا جاتاہے۔ہم کھانے میں برکت تلاش کرتے ہیں، لیکن یہ بھی سوچنا ہے کہ یہ دین کیسے برکت والا ہوگا؟ دین اس وقت تک برکت والا نہیں ہوسکتا جب تک ہم فرقہ پرستی کو چھوڑ کر اس دین کے لوازمات و مقتضیات پر عمل پیرا نہیں ہوجاتے۔
کلیہ القرآن کے استاذ قاری ظہیر احمد سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ عرب مہمانوں کو انہی کی زبان میں دعوتِ خطاب دینے کے لئے جناب زبیر عقیل سٹیج پر آئے او رانہوں نے سعودی عرب کی دبنگ علمی شخصیت ، جامعہ کی مجلس تاسیسی (مجلس التحقیق الاسلامی) کے رکن ڈاکٹر شیخ عبد اللہ الجلالی کو سعودی حکومت ، مہمان خصوصی وزیر عدل وانصاف اور ملت اسلامیہ کے جلیل القدر مہمان علماکی خدمات کا عربی میں تعارف کرانے کے لئے انہیں دعوتِ خطاب دی۔ شیخ عبداللہ بن حمد الجلالی نے فرمایاکہ میں اپنی طرف سے اورمدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ حافظعبدالرحمن مدنی کی طرف سے ، وزیر عدل ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ اور سعودی حکومت کے موٴسسین کو جنہوں نے خطہ حجاز میں اَمن و امان کی فضا پیدا کی اور قوانین اسلام کا نفاذ کیا، اور جملہ مہمان علما کو جامعہ میں تشریف آوری پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ اسی طرح بالخصوص سعودی عرب کی نامور علمی اور سماجی شخصیت شیخ صالح بن غانم السدلان کو بھی اس جامعہ میں رونق افروزہونے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
بعد اَزاں مدیر الجامعہ مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معزز مہمانوں اور تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا اور تقریب میں شرکت پر جامعہ کے اساتذہ او رذمہ داران ومعاونین کی طرف سے خلوص دل سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ جامعہ کا تعارف پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ جامعہ لاہور الاسلامیہ جس کی بنیاد ۱۹۷۹ء میں رکھی گئی، صرف ایک علمی ادارہ نہیں بلکہ عنقریب یہ کلمہ حق کی سربلندی کے لئے ایک علمی اور اسلامی تحریک کا کردار ادا کرے گا(ان شاء اللہ)۔ یہ ادارہ مذہبی تعصبات سے ہٹ کر قرآن وحدیث کے علوم اور ائمہ فقہا کے اَفکار سے استفادہ کرنے کے ذریعے (کتاب و سنت کو ہی شریعت سمجھنے کے منہج پر) علم کی روشنی پھیلا رہاہے۔ جامعہ ہذامیں دینی اور عصری نصاب تعلیم کا امتزاج کرکے ایک ایسا مثالی نظام ونصابتشکیل دیا گیا ہے جو عالم عرب کی مشہور یونیورسٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے فرمایاکہ جامعہ کے قیام کا مقصد قرآن وحدیث کے علوم کی اشاعت، ائمہ فقہا کے فقہ واصول کا تعارف،مسلمان نوجوانوں کو اسلامی تہذیب سے آراستہ کرنا، زندگی کے تمام شعبوں میں ماہر علماء اور مفکرین تیار کرنا جو علیٰ وجہ البصیرت دعوت و تحقیق کا کام کرسکیں، بالخصوص اسلامی قانون کے ماہر جج اور وکلا تیار کرنا تاکہ وہ عدالتوں میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوششوں میں شریک ہوسکیں۔انہوں نے فرمایا کہ جامعہ میں درج ذیل شعبہ جات کام کر رہے ہیں :
۱۔ المعہد العالی للشریعہ والقضاء:جس کا مقصد اسلامی معاشرہ کے قیام کے لئے مناسب افراد تیار کرنا او رایسے ماہر شریعت وقانون جج تیار کرنا جو شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرسکیں۔
۲۔ کلیۃالشریعہ:یہ اپنی نوعیت کا پاکستان میں پہلا کالج ہے جس میں فقہی بصیرت کے ساتھ ساتھ اُمت کے تمام فقہی ذخیرے سے طلبا کو آگاہ کرایا جاتا ہے او راعتدال وتوازن سے اس سے استفادہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ا س کا دورانیہ تعلیم چار سال ہے۔
۳۔ کلیۃ القرآن الکریم والعلوم الاسلامیہ: ۱۹۹۱ء میں اس کلیہ کا اِجرا ہوا۔ جس میں وفاق المدارس السلفیہ کے شرعی اور عربی نصابِ تعلیم میں کچھ ترامیم کرکے مدینہ یونیورسٹی کے نصاب تعلیم کی روشنی میں تجوید اور قراء ت سبعہ وعشرہ کا اضافہ کیا گیاتا کہ اس کلیہ کا فارغ التحصیل ماہر قاری ہونے کے ساتھ ساتھ مستند عالم دین بھی ہو۔ پورے پاکستان میں دینی علوم کے ساتھ تجوید و قراء ت کی اس قدر اعلی تعلیم کا حامل یہ واحد ادارہ ہے۔
۴۔ کلیۃ العلوم الاجتماعیہ: دورِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے شرعی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے آراستہ افراد تیار کرنے کے لئے یہ کلیہ ۱۹۸۹ء میں قائم کیا گیا جس میں طلباء کو مروّجہ دنیاوی علوم کی مڈل سے بی اے تک شام کے اوقات میں باضابطہ اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اسی کلیہ کے تحت عربی واسلامی کمپیوٹر کی وسیع ٹریننگکے انتظامات بھی موجود ہیں اور جامعہ کے تمام طلبہ کو لازمی بنیادوں پر کمپیوٹر کی تعلیم وتربیت مفت دی جاتی ہے جس میں اسلامی افکار اور لٹریچر کے لئے انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے خصوصی استفادہ کی تربیت بھی شامل ہے۔
۵۔ المدرسۃالرحمانیہ اس کے دو مستقل شعبے ہیں:
(الف) جو کلیۃالشریعہ اور کلیۃ القرآن سے ملحق ثانوی درجہ کی تعلیم کے لئے مختص ہے۔ ثانوی (ہائر سیکنڈری) درجہ کے اس مدرسہ کی سند کا سعودی عرب کی تمام یونیورسٹیوں سے معادلہ Equalation موجودہے۔مدرسہ سے چار سال کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان یونیورسٹیوں میں براہِ راست تمام متعلقہ ڈگری کورسز میں داخلہ (سکالر شپ) دیا جاتاہے۔
(ب) مدرسۃ الازہر اور مدرسۃ الزہراء جس میں طلباء اور طالبات کو قرآنِ کریم تجوید کے ساتھ حفظ کرایا جاتا ہے۔ اس شعبہ کی ۱۰ سے زائد کلاسیں ہیں جس میں ماہر اساتذہ فن کی تحقیق وجستجو سے بہترین نتائج حاصل کئے جارہے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں جامعہ کو درپیش مشکلات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جن میں نمایاں ترین یہ ہے کہ ان تمام اداروں کے لئے مناسب حال وسیع عمارتیں موجودنہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مختلف شعبوں کے مطابق ماہر اساتذہ کی قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے طلباء کی شدید خواہش کے باوجود جامعہ ان کو داخلہ دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
آخر میں انہوں نے معزز مہمانوں اور حاضرین مجلس کا دوبارہ شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی تشریف آوری سے ہماری تقریب کو رونق بخشی۔
اس کے بعد خادم الحرمین الشریفین کی حکومت کے وزیر عدل ڈاکٹرعبداللہ بن محمد بن ابراہیم آلِ الشیخ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں آج اپنے اہل علم بھائیوں کے درمیان موجود ہوں۔ آج مجھے وہ دن یاد آرہے ہیں جب میں بھی جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض میں طالب علم تھا۔ میں یہاں سعودی حکومت کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے آیا ہوں جو اسلام کا منبع اورقلعہ ہے۔ جس نے دورحاضرمیں اسلام کے جھنڈے بلند رکھے ہوئے ہیں اورجہاں اسلامی نظام بالفعل نافذ ہے۔ اور خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبد العزیز آلِ سعود اور ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبد العزیز آلِ سعود کی حکومت حرمین وشریفین کی آرائش کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت کا علم اٹھائے ہوئے ہے۔ میں صرف ایک بات کرتا ہوں وہ یہ کہ دنیا و آخرت میں اونچا مقام حاصل کرنے کے لئے اخلاص اور نیت کی سچائی کی ضرورت ہے۔
جامعہ لاہور الاسلامیہ کے بارے میں آپ نے اپنے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جامعات ہی پاکستانی عوام میں اسلامی علوم کی نشرواشاعت او رسعودی عرب سے تعلق مضبوط کرنے کی کامیاب کوششیں کر رہے ہیں۔ ایسے جامعات عالم اسلام کا طرہ امتیاز ہیں جو کسی قسم کی حکومتی امداد وتعاون کے بغیر صرف مسلمان اہل خیر کے سرپرستی سے اسلام کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ مولانا مدنی کو میں طویل عرصے سے جانتا ہوں اور میں نے انہیں مخلص اور نیکی کے لئے محنت ومشقت کرنے والا پایا ہے، اس جامعہ کے طلبہ بھی سعودی یونیورسٹیوں میں امتیازی حیثیت سے تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ میں اس جامعہ کے نیک مقاصد میں شمولیت کو اپنے لئے باعث ِسعادت سمجھتاکرتا ہوں۔
انہوں نے فرمایا کہ شیخ عبداللہ بن حمد الجلالی نے میرے بارے میں جن نیک جذبات کا اظہار کیا ہے ،اس پر میں ان کا شکرگزار ہوں او ریہ ان کے حسن نیت کی دلیل ہے۔
اس کے بعد جامعہ کے مختلف شعبوں سے فارغ ہونے والے طلباء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقسیم کا آغاز وزیرعدل کے دست ِمبارک سے ہوا اورتکمیل شیخ ڈاکٹرعبداللہ المطلق کے ہاتھوں ہوئی۔ جس کے اَعداد وشمار کچھ یوں ہیں :
کلیۃ الشریعہ سے فارغ ہونے والے          ۶۵       طلباء نے اسناد حاصل کیں۔
کلیۃ القرآن سے فارغ ہونے والے          ۶۰       طلباء نے اسناد حاصل کیں۔
شعبہ کمپیوٹرسے فارغ ہونے والے           ۳۲       طلباء نے اسناد حاصل کیں۔
شعبہ حفظسے فارغ ہونے والے                   ۷۸     طلباء نے اسناد حاصل کیں۔
اس کے بعد شیخ ڈاکٹرصالح بن غانم السدلان کو دعوت دی گئی جنہوں نے طلباء کو نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا: اے حاضرین مجلس اور فارغ التحصیل ہونے والے طلبا!میں آپ کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور جامعہ نے جو علمی امانت آپ کے کندھوں پر رکھی ہے ،اس کو کامل طریقے سے ادا کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ اپنے اساتذہ سے تعلق رکھنے ، ان کی فضیلت کا اعتراف کرنے اور انہیں دعاؤں میں یاد رکھنے کی تلقین کرتا ہوں۔ میں حاملین علم کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس دین کی طرف دعوت دینے کے لئے دنیا بھر میں پھیل جائیں۔
اس کے بعد انہوں نے چند دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے کہ اللہ اسلام اور اپنے موٴحد بندوں کی نصرت فرمائے، شرک و مشرکوں کو ذلیل کرے اورمسلمان حکمرانوں کو توفیق دے کہ قرآں وسنت کے مطابق فیصلے کریں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس جامعہ کو ترقی اور اس کے منتظمین کو ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین
نمازِ عشاء کے بعد پروگرام کے تیسرے سیشن کا آغاز قاری احمد میاں تھانوی کی تلاوت سے ہوا، آپ نے حقیقت ِقراء اتِ سبعہ وعشرہ پر مفصل اور مدلل خطاب فرمایا۔ انہوں نے مختلف مثالوں سے یہ بات ثابت کی کہ دراصل قراء تِ سبعہ وعشرہ ہی قرآن ہے اور قراء تِ حفص کو صحیح اور باقی قراء توں کو غیر صحیح کہنا در حقیقت پورے قرآن کو غیر صحیح کہنے کے مترادف ہے۔
اس کے بعد جامعہ ہذا کے استاذِ محترم قاری ظہیر احمد نے فن قراء ت کی اصطلاح 'تکبیراتِ بزی' کے موضوع پر مفصل خطاب کیا۔ انہوں نے احادیث سے یہ ثابت کیاکہ سورة الضحیٰ سے لے کر آخر قرآن تک ہر سورة کے اختتام پر تکبیرات پڑھنا (جن کو تکبیراتِ بزی کانام دیا گیا ہے) نبی اکرمﷺ سے ثابت ہے او راس پر کبار علماء و قراء کا عمل بھی ہے لہٰذا تکبیرات کا پڑھنا مسنون ہے۔
وقفہ طعام کے بعد تقریب ِاختتامِ قراء اتِ سبعہ کا آغاز ہوا۔ قاری عزیر صاحب نے سبعہ سے فارغ ہونے والے طلباء کا آخری سبق سنا۔ مدارسِ دینیہ میں ختم بخاری شریف کی دیرینہ روایت کی پیروی میں ختم قراء ات سبعہ وعشرہ کے انعقاد کی یہ اوّلین کوشش تھی جس کو جاری کرنے کے سعادت اللہ تعالیٰ نے جامعہ ہذا کے کلیۃ القرآن کو عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تجوید وقراء ات سے بے اعتنائی کے اس دور میں اللہ تعالیٰ جامعہ کی ان کوششوں کو ثمر آور بنائے او رانہیں دوام بخشے۔آمین!
بعد ازاں قراءِ کرام کی تلاوتوں کا دور شروع ہوا جو اپنی مسحور کن آوازوں سے سامعین کے دلوں کو گرما رہے تھے۔ قاری عبدالسلام (بورے والہ) قاری فیصل محمود (قصور) قاری عارف بشیر (لاہور) قاری قمر الاسلام (گوجرانوالہ) حافظ حمزہ مدنی(لاہور) قاری ظہیر الدین (فیصل آباد) قاری عبدالماجد (لاہور) قاری محمود الحسن بڈھیمالوی اور سب سے آخر میں کلیۃ القرآن کے پرنسپل قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب نے تلاوتِ کلام پاک کے متنوع انداز پیش کئے۔آخر میں یہ مبارک پروگرام وکیل الجامعہ مولانا حافظ عبدالسلام صاحب (فتح پوری) کی پرسوز دعا سے ایک بجے نصف شب اختتام پذیر ہوا۔
یہ تینوں پروگرام شیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی او رمولانامحمد رمضان سلفی مدیر مجلس التحقیق الاسلامی کی سرپرستی میں کلیہ الشریعہ کے محترم پرنسپل جناب مولانا محمد شفیق مدنی، کلیۃ القرآن الکریم کے پرنسپل قاری محمد ابراہیم میر محمدی، عصری تعلیم کے انچارج حافظ حمزہ مدنی،مولانا اقبال نوید ، (ناظم) علامہ محمد یوسف کی شبانہ روز کاوشوں اور طلبا جامعہ کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے۔
'جامعہ لاہور الاسلامیہ' کے سالانہ امتحان ۲۰۰۰ء کے نتائج

موٴرخہ ۲۳/ نومبر۲۰۰۰ء بروز جمعرات جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور کے کلیات(کلیۃ الشریعہ او ر کلیۃ القرآن) کے سالانہ امتحان کے نتائج کا اعلان کیاگیا جس میں کلیۃ الشریعہ کے پرنسپل مولانا محمد شفیق مدنی ، کلیۃ القرآن الکریم کے پرنسپل قاری محمد ابراہیم میر محمدی، وکیل الجامعہ مولانا عبد السلام فتح پوری،مولانا رحمت اللہ ، مولانا احسان اللہ فاروقی ،قاری ظہیر احمد، قاری محمدفیاض، مولانا عبد الغفار عاصم ،حافظ حمزہ مدنی اور دیگر اساتذہ نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت جامعہ کے شیخ الحدیث فضیلۃ الشیخ حافظ ثناء اللہ مدنی نے فرمائی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ حمزہ مدنی نے انجام دیئے ۔
شیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی نے طلباء سے خطاب فرمایا۔ آپ نے علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اَسلاف کی دینی اور علمی ایمان افروز کاوشوں کاتذکرہ کیا اورطلبا کو تلقین کی کہ وہ اپنے اَسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیمی میدان میں اَنتھک محنت کریں۔ انہوں نے امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبا کو مبارکباد دی اور ان کے لیے دعافرمائی ۔ اس طرح انہوں نے ناکام ہونے طلبا کومحنت و توجہ سے پڑھنے کی تلقین کی۔ ان کے بعد جامعہ کے سابق استاد مولانا عتیق اللہ نے خطاب کرتے ہوئے طلباء کو ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کی ترغیب دی اور ا س کو دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز قرار دیا۔

اس کے بعد کلیۃ الشریعہ کے پرنسپل مولانا محمد شفیق مدنی نے سالانہ امتحان کے نتائج کا اعلان کیا اور اول دوم سوم آنے والے طلبا کو کتب اور نقدی کی صورت میں انعام دیئے گئے ۔طلبا نے یہ انعامات وکیل الجامعہ مولانا عبد السلام فتح پوری کے دست ِمبارک سے حاصل کیے ۔ اس موقع پر جامعہ بھر میں ۱۰۰ فیصدنمبر حاصل کرکے اوّل آنے والے طالب علم قاری عبد الروٴف صغیر کے لیے مولانا محمد شفیق مدنی نے ۱۰۰۰ روپے نقدی اورکتب کے خصوصی انعام کا اعلان کیا۔ یہ انعام شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی نے اپنے دست ِمبارک سے دیا۔ اس طالب علم کو کلّیۃ القرآن الکریم کی طرف سے بھی خصوصی انعام دیاگیا۔ پروگرام کا اختتام مولانا عبد السلام کے دعائیہ کلمات سے ہوا ۔ جس کے بعد طلبہ سالانہ چھٹیوں پر اپنے گھروں کو چلے گئے۔یاد رہے کہ جامعہ میں اگلا تعلیمی سال عید الفطر کے ۱۰ روز بعد شروع ہوگا جس کے لئے داخلے شروع ہیں... امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے نام یہ ہیں :
کلاس نام                              حاصل کردہ نمبر                            پوزیشن
ثالثہ کلیہ
عبد الرحمن عابد                                                              79.25%                                                                          اوّل
محمد یٰسین بن محمد                                                            70.85%                                                                          دوم
قاری محمد اشرف                                                           66.22%                                                                           سوم
ثانیہ کلیہ
قاری محمد مصطفی                                                             93.55%                                                                          اول
قاری محمد حسین                                                             83.55%                                                                           دوم
قاری محمد عبداللہ                                                            83.11%                                                                           سوم
اولیٰ کلیہ
حافظ خضر حیات                                                              95.37%                                                                          اول
محمدطیب سیف                                                                94.05%                                                                           دوم
قاری عبد الروٴف خان                                                   91.66%                                                                           سوم
رابعہ ثانوی
قاری محمد رضوان                                                            94.77%                                                                          اول
قاری محمد احمد صدیق                                                       94.55%                                                                         دو م
محمد سیف اللہ                                                                  94.12%                                                                          سوم
ثالثہ ثانوی
قاری عبد الروٴف صغیر                                                   100 %                                                                             اول
حافظ محمد عمران                                                                95.22%                                                                         دوم
قاری عاصم فاروق                                                          87.12%                                                                           سوم
ثانیہ ثانوی
قاری فہد اللہ                                                                   97%                                                                                 اول
قاری عبد الشکور                                                             91.03%                                                                           دوم
قاری محمد احمد                                                                 91%                                                                                  سوم
اولی ثانوی
قاری فرمان الٰہی                                                          98.80%                                                                             اول
طاہر اسلام                                                                   98.66%                                                                             دوم
مزمل محمدی                                                                97.33%                                                                              سوم
٭ رابعہ کلیہ نے وفاق المدارس السلفیہ کا امتحان دیا جس کے نتائج عید الفطر کے بعد موصول ہونگے۔

٭٭٭٭٭