244-Jan-2001

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے آج ہمیں یہاں ایک ایسے مقصد کی خاطر جمع کیاجس کا تعلق امت ِ مسلمہ کے تشخص، اس کے اجتماعی مفادات، ملی نصب ُالعین اور اس سے وابستہ سوا اَرب انسانوں کے حال اور مستقبل سے ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کافضل و کرم ہے کہ آج کی مضطرب دنیا میں کچھ دردمند حضرات کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ انہوں نے اس عالمی مجلس کا اہتمام کیا اور عالم اسلام کے ہر گوشے سے اہل فکر و نظر اور اربابِ علم و دانش کو یکجا کیا۔ بلاشبہ وقت کاتقاضا ہے کہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر غور کیاجائے اور ان اَسباب وعلل کاکھوج لگایا جائے جو اس کی موجودہ مشکلات کا سبب ہیں تاکہ اس تجزیہ کی روشنی میں ایک ایسا ضابطہ کار تیارہوسکے جس پر عمل کرکے مسلمانوں کی دینی، اَخلاقی ، روحانی، علمی،معاشی، سیاسی اور سماجی صورت ِ حال کو بہتر بنایا جاسکے۔
مجھے توقع ہے کہ اہل علم و فضل کی اس کانفرنس میں نئے ہزاریے کے تناظر میں امت ِمسلمہ کے کردار کے حوالے سے گراں قدر اَفکار و خیالات سامنے آئیں گے اور اِصلاحِ احوال کے لئے ٹھوس تدابیر وضع کی جائیں گی۔ اپنے عروج و زوال کی طویل تاریخ پرنگاہ رکھتے ہوئے ہمیں موجودہ حالات کا معروضی تجزیہ کرنا ہوگا اور ماضی و حال کے اس جائزے کی روشنی میں مستقبل کی صورت گری کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کس قوت ِ محرکہ کے طفیل ہم عروج و کمال سے بہرہ مند ہوئے اور کن عوامل کے سبب شوکت و عظمت سے محروم ہو کر گوناگوں مسائل کی آماجگاہ بن گئے۔ ملت ِ اسلامیہ کے وجود کو لاحق عارضے کی درست تشخیص کے بغیر، مسیحائی کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔اور درست تشخص کے لئے ضروری ہے کہ ہم جذبات کی تندی و تیزی سے آزاد ہر نوع کی عصبیت سے پاک ہو کر اپنے مرضِ کہن کی تہہ تک پہنچیں اور پھر اس کی موٴثر چارہ گری کااہتمام کریں۔
امت ِمسلمہ کے سیاسی مسائل
آج جب ہم عالم اسلام پرنگاہ ڈالتے اور مختلف شعبہٴ ہائے حیات میں اپنی کارکردگی کاموازنہ مادّی طور پر ترقی یافتہ اور خوشحال دنیا سے کرتے ہیں تو ایک حوصلہ شکن تصویر سامنے آتی ہے۔ اس تصویر کاسب سے اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ انہیں بدترین قسم کی سفاکی اور بربریت کانشانہ بنایا جارہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ فوج حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے عوام کو نشانہ ستم بنا رہی ہے۔ اب تک ستر ہزار سے زائد کشمیری قتل کئے جاچکے ہیں۔نوجوانوں کی ایک پوری نسل ختم کردی گئی ہے۔ بستیاں قبرستانوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی قرار دادیں کاغذ کے ناکارہ پرزے قرار دی جارہی ہیں۔ ظلم کی سیاہ رات ہے کہ ڈھلنے میں نہیں آرہی اور اکیسویں صدی کا سورج بے بسی سے انسانیت سوز مظالم کا یہ دلدوز منظر دیکھ رہا ہے۔ فلسطین کے عوام آزاد فلسطینی ریاست کے مبنی برحق مطالبے کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں اور انبیاء کی سرزمین کے کوچہ و بازار نوجوانوں کے لہو سے رنگین ہورہے ہیں۔ اسرائیل ، انسانی تاریخ کے شرمناک مظالم کا اِرتکاب کر رہا ہے اور نہتے فلسطینیوں کی بستیوں پر آتش و آہن کی بارش ہورہی ہے۔ کوسوو کے مسلمانوں کی حالت ِ زار اور بوسنیا کے عوام پر ٹوٹنے والی قیامت کے زخم بھرنے میں نہیں آرہے۔ افغانستان اپنی آزادی و خود مختاری کا تاریخ ساز معرکہ لڑنے اور سرخرو ہونے کے باوجود ابھی تک استحکام اور ترقی و خوشحالی کی نوید ِ جانفزا سے محروم ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں امتیازی رویے نے اس عالمی ادارے کے ساتھ وابستہ توقعات مجروح کی ہیں۔ مہذب دنیا خاموشی سے یہ تماشا دیکھ رہی ہے کہ مشرقی تیمور کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد کو فوری طور پر عملی جامہ پہنا دیا جاتا ہے لیکن فلسطین اور کشمیر کے بارے میں اسی ادارے کی قراردادیں نصف صدی سے معرضِ التوا میں پڑی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اس امتیازی روِش سے عالمی ضمیر کے اندر بھی کوئی خلش پیدا نہیں ہورہی اور صورتِ حال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان مسائل اور مصائب کے بارے میں امت ِمسلمہ بھی پوری طرح ہم آواز اور ہم قدم نہیں۔
ٹیکنالوجی اور جدیدتصورات کے بروئے کار لانے کی ضرورت
جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔ اس اِبلاغی انقلاب اور اِطلاعاتی پھیلاؤ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج رُوئے زمین کا کوئی بھی خطہ ِ تہذیب و ثقافت، عقائد و نظریات اور اَخلاق و اَقدار کوان ہمہ گیر تبدیلیوں کے اثرات سے بچا کر نہیں رکھ سکتا۔ مغرب کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ محض وعظ و تلقین یا غیر حقیقت پسندانہ دفاعی حربوں کے ذریعے اس یلغار کو روکنا ممکن نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں۔ یہ عصر جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ اُسلوبِتبلیغ ہے جس کے لئے ہمارے اہل علم و دانش اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو زبردست محنت کرنا ہوگی۔
تہذیبوں کی کشمکش محض ایک مناظرہ نہیں ہوتی جس میں دلیل اور جوابی دلیل کی قوت ہی کو کافی سمجھ لیاجائے۔ تہذیبوں کاعروج و زوال ایک ہمہ گیر سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی سرگرمی سے عبارت عمل ہے جوبرس ہا برس کے بعد تشکیل پاتا ہے۔ آج مغربی تہذیب کے پھیلاؤ اور قوت ِ تسخیر کا بنیادی سبب دراصل جدید علوم اور سائنس پر اس کی گرفت ہے جس نے اسے سیاسی اور اقتصادی طور پر مستحکم بنا دیا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو پوری ملت ِاسلامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ عظیم کانفرنس عظیم شہر لاہور میں منعقد ہو رہی ہے جس میں بیسویں صدی کے عظیم مسلم مفکر حضرت علامہ محمد اقبال آسودہٴ خاک ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔ حکیم الامت فرماتے ہیں
تابش از خورشید عالم تاب گیر
برقِ طاق افروز از سیلاب گیر
ثابت و سیارہٴ گردوں وطن
آں خداوندانِ اَقوامِ کہن
ایں ہمہ اے خواجہ! آغوشِ خواند
پیش خیز و حلقہ درگوش تواند
جستجو را محکم از تدبیر کن
انفس و آفاق را تسخیر کن

" اے مردِ مسلمان! دنیا کو روشن کرنے والے سورج سے حرارت اور چمک دمک لے لے۔ پانی کے سیل رواں سے اپنے گھروں کو روشن کرنے والی بجلی پیدا کر۔ آسمان پر بسنے والے ساکن اور متحرک اَجرام فلکی، جنہیں زمانہ قدیم کی قومیں اپنا معبود خیال کرتی تھیں، تمہاری کنیزیں اور تمہارے حلقہ بگوش غلام ہیں۔ تو تلاش و جستجو کا عمل جاری رکھ، اسے اپنی تدابیر سے مضبوط اورنتیجہ خیز بنا اور اس ارض و سما کوتسخیر کر"
جدید علم وسائنس امت ِمسلمہ کی کاوشوں کاہی ثمرہ ہے!
سائنس، ٹیکنالوجی، عصر حاضر کے علوم و فنون اور علم و حکمت کے مختلف شعبوں پر عبور مسلمانوں کاخاصہ رہا۔قرآنی تعلیمات میں کائنات کے سربستہ رازوں کی تحقیق و جستجو کوبہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔اسلام کی نظریاتی اَقدار اور سائنسی ارتقا کے درمیان کبھی تصادم و پیکار کی فضا پیدا نہیں ہوئی بلکہ جدید سائنسی علوم پر دسترس اسلام کی متحرک اور روشن خیال فکر کا حصہ رہی۔ ساتویں سے چودھویں صدی عیسوی تک ہم اسلام کے اس پہلو کومعراجِ کمال پر دیکھتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب کیمیا، طبیعات، علم الہندسہ، فلکیات، طب، فلسفہ اور تاریخ کے شعبوں میں جابر بن حیان، الکندی، الخوارزمی، الرازی، ابن الہیثم، البیرونی، الغزالی، ابن رشد اور ابن خلدون جیسے عالی قدر مفکرین، سائنس دان اور اہل حکمت و دانش دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام کی فکر انگیز تعلیمات سے آراستہ ان شخصیات نے اپنی تحقیقات اور افکار کے ذریعے کائنات کے اَسرار و رموز کے مطالعہ و تحقیق کاذوق و شوق پیدا کیا۔ فروغِ علم کے اس زرّیں عہد میں علم و حکمت کاجو عظیم خزانہ سامنے آیا، اس کی مثال یونان سمیت کسی خطہ اَرضی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔فکر تازہ کی اسی لہر نے یورپ سمیت دنیاکے کئی خطوں کی نسل نو کو علم و فن کی نئی بلندیاں سر کرنے کا سلیقہ عطا کیا۔ افسوس کہ علم و حکمت کا یہ کارواں تاریخ کے ریگزاروں میں کھو گیا اور سلطنت ِعلم کی فرمانروائی چھنتے ہی ہمہ پہلو زوال ہمارا مقدر ہوگیا۔علامہ اقبال نے اسی المیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئین مُسلّم سے کوئی چارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں انکو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

سلطنت ِعلم کی فرمانروائی سے محرومی، سیاسی زوال کاپیش خیمہ بنی۔ سیاسی زوال نے تہذیبی جاہ وجلال کی چکا چوند ماند کردی۔ان سارے عوامل نے یکجا ہو کر مسلمان خطوں کو معاشی پسماندگی کی تاریکیوں میں دھکیل دیا اور معاشی پسماندگی کے سبب مسلمانوں کے کم و بیش سارے علمی مراکز سامراج کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے گئے۔
اُمہ میں بیداری اور زندگی کی لہر
بیسویں صدی کے نصف ِاوّل میں سیاسی بیداری کی لہر اٹھی اور بہت سے اسلامی ممالک نے سامراج سے آزادی حاصل کرلی۔اس سے بجا طور پر یہ توقع کی جانے لگی کہ آزاد اسلامی ممالک میں ایک بار پھر اسلام کے حقیقی تصور کی کارفرمائی ہوگی۔ دانش کدے پھر سے آباد ہوں گے۔علم و حکمت کے سرچشمے پھرسے پھوٹ پڑیں گے اور تحقیق وجستجو کی دشت ویراں پھر سے ہری ہوجائے گی، لیکن یہ خواب پوری طرح شرمندہٴ تعبیر نہیں ہوسکا۔بلاشبہ بعض اسلامی ممالک نے اس میدان میں قابل ذکر پیش رفت کی۔ صنعت و حرفت اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے بعض شعبوں میں قابل قدر ترقی کی مثالیں بھی سامنے آئیں۔ خود پاکستان نے بے سروسامانی اور شدید دباؤ کے باوجود اپنے دفاعی ایٹمی پروگرام کو پایہٴ تکمیل تک پہنچایا اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کے طور پرسامنے آیا۔بعض برادر اسلامی ممالک نے تیز رفتار صنعتی اور معاشی ترقی کی اچھی مثالیں قائم کیں۔ لیکن ان مثبت اور حوصلہ افزا پہلوؤں کے باوجود، عالم اسلام اجتماعی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی اَقوام کے ہم قدم نہیں ہوسکا۔
علم وتحقیق سے بے اعتنائی کا نوحہ
آج انڈونیشیا سے مراکش تک پھیلے ہوئے اسلامی ممالک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کے بیس فیصد کے لگ بھگ ہے لیکن اس آبادی کاتقریباً چالیس فیصد حصہ ناخواندہ ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ۵۶اسلامی ممالک کی مجموعی افرادی قوت صرف ۸۰لاکھ کے لگ بھگ ہے جو اس شعبے میں مصروفِ کار عالمی آبادی کا صرف تقریباً چار فیصد ہے۔ تحقیق اور ترقی یعنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے میدان میں ان اسلامی ممالک کا حصہ عالمی افرادی قوت کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ساری اسلامی دنیا میں یونیورسٹیوں کی تعداد تقریباً ۳۵۰ ہے جن میں مجموعی طور پر سالانہ صرف ایک ہزار PHDs فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں یونیورسٹی کی سطح پر سائنس اورٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی تعداد صرف ۲۰ فیصد ہے اور یہ وہ ممالک ہیں جن کی افرادی قوت سوا ارب انسانوں کے لگ بھگ ہے۔ جن کی آزاد مملکتیں تقریباً تین کروڑ مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ جو تیل کے مجموعی ذخائر کے تین چوتھائی حصے کے مالک ہیں۔ جن کے پاس لامحدود معدنی دولت ہے۔ جوبے پناہ زرعی استعداد کے حامل ہیں او رجہاں کے لوگ جفاکش، ہمت شعار اور بے مثال ذ ہنی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں کہ ان تمام اسلامی ممالک کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار صرف بارہ ہزار بلین ڈالر ہے۔رقبے اور آبادی کے لحاظ سے کہیں چھوٹے ممالک فرانس، جرمنی اور جاپان کی مجموعی قومی پیداوار بالترتیب ۱۵ ہزاربلین، ۲۴ ہزاربلین اور ۵۵ ہزاربلین امریکی ڈالر ہے۔ یعنی مجموعی طور پر صرف ان تین ممالک کی مجموعی قومی پیداوار ۹۴ ہزار بلین ڈالر بنتی ہے۔ دنیا کی مجموعی برآمدات میں ہمارا حصہ ساڑھے سات فیصد اورمجموعی عالمی معیشت میں ہمارا حصہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ ہم پر تقریباً سات سو بلین ڈالر کا قرضہ ہے جو دنیا کے مجموعی قرضوں کا ۲۶ فیصد ہے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ذہین اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک نوجوان حالاتِ کار کی ناموزونیت اور محدود اِمکانات کے باعث ترکِ وطن کرجاتے ہیں۔ پاکستان ، مصر، ایران، شام، بنگلہ دیش، ترکی، الجزائر، لبنان اور اُردن اسی سنگین مسئلے سے دوچار ہیں۔ صرف پاکستان سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ۶۰فیصد گریجویٹس وطن چھوڑ جاتے ہیں۔یہ ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے اور اگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی تو حالات کی سنگینی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور آنے والا منظر زیادہ دلکش نہیں ہوگا۔
امت کو درپیش چیلنجز
اس امرکی شدید ضرورت ہے کہ ہم علم وحکمت کے تمام شعبوں بالخصوص سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ و ارتقا کے لئے ہنگامی کوششیں کریں اور اس مقصد کے لئے پورا عالم اسلام ایک بھرپور تحریک کا آغاز کرے۔ ہمیں یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سیاسی آزادی و خود مختاری کے لئے اقتصادی استحکام بنیادی شرط ہے اور اقتصادی استحکام کے لئے لازمی ہے کہ ہم صنعت و حرفت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کریں۔اپنے وسائل مجتمع کرکے ایسے ادارے قائم کریں جو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ او رامت ِ مسلمہ کی نوجوان افرادی قوت کے لئے کافی ہوں۔
اپنے مسائل کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں اس پہلو کا پوری شرح و بسط کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے کہ امت ِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و اتفاق اور اخوت و یگانگت کی وہ مثالی فضا کیوں قائم نہیں ہوسکی جو توحید و رسالت پرایمان رکھنے کامنطقی تقاضا ہے۔
یہ پہلو قابل غور ہے کہ فکری، نظریاتی اور تہذیبی ہم آہنگی کے باوجود ہم سیاسی اور اقتصادی تعاون کے بے پناہ اِمکانات کو عملی جامہ پہنانے سے کیوں قاصر ہیں؟ امت کے اجتماعی وسائل، اُمت کو درپیش مسائل کامداوا کیوں نہیں کر پارہے؟ کیا یہ امر قابل افسوس نہیں کہ اسلامی ممالک کی مجموعی تجارت کا صرف دس فیصد حصہ باہمی تجارت پر مشتمل ہے؟
کیا ہمارا سرمایہ، ہماری توانائیاں اور ہماری صلاحیتیں پوری طرح امت ِ مسلمہ کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے کام آرہی ہیں؟ صورتِ حال کی سنگینی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعض اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازعات کی فضا موجود ہے۔ اس کانفرنس کے زعما کو چاہئے کہ وہ عالم اسلام کے مابین مضبوط فکری و روحانی رشتوں کی استواری کے ساتھ ساتھ مادّی ترقی و خوشحالی اور سیاسی و اقتصادی تعاون کے لئے راہنمائی کریں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہر لمحہ ہمارے پیش نظر رہنا چاہئے کہ ﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا.....١٠٣﴾..... سورة آل عمران
یہ امر محتاجِ وضاحت نہیں کہ آج جو قومیں اپنی جغرافیائی حدوں سے نکل کر دوسرے ممالک کے سیاسی، نظریاتی اور تہذیبی تشخص پر اثر انداز ہورہی ہیں، ان کا سب سے موٴثر ہتھیار 'اکانومی' ہے۔ بدقسمتی سے دنیا کا اقتصادی نظام ایسے استحصالی تصورات پر مبنی ہے جواسلامی تعلیمات سے کسی طور پر ہم آہنگ نہیں۔ ایک جامع او رہمہ پہلو اسلامی نظامِ معیشت کی تشکیل اور عمل پذیری نہایت ضروری ہے جو سود کی لعنت سے پاک اور جدید دور کے اقتصادی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اسلامی ترقیاتی بنک کی خدمات قابل قدر ہیں لیکن اسلامی ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں کی استحصالی گرفت سے نکالنے کے لئے مزید موٴثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے معاشی ماہرین کے لئے بہت بڑاچیلنج ہے اور اس چیلنج کا جواب لانے میں جتنی تاخیر ہوگی، اسی قدر ہماری اُلجھنیں بڑھتی چلی جائیں گی۔
یورپ مشترکہ مالی مفادات کے لئے ایک کرنسی کانظام رائج کرچکا ہے۔ ہمیں ایک اسلامی اقتصادی نظام تک پہنچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پرکام کرنا چاہئے۔
معزز حاضرین !امت کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے ہمیں یہ نکتہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ہماری دنیوی اور اُخروی فلاح کا حقیقی راز قرآن و سنت کی تعلیمات کو انفرادی و اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔ اسلام عقائد و عبادات کی حدوں سے آگے نکل کر حیاتِ انسانی کے تمام تر پہلوؤں کا اِحاطہ کرتااورایک مربوط نظام فکرو عمل کی واضح بنیادیں فراہم کرتا ہے۔علماءِ کرام اور صاحبانِ فکر و دانش کو اسلامی نظام سیاست و حکومت کے واضح خدوخال کا ایسا قابل عمل نقشہ مرتب کرنا چاہئے جوقرآن و سنت کے راہنما اصولوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہو اور جو عہد ِحاضر کی فکر کوبھی اپیل کرے۔
اسلام دانش و تدبر اور حکمت و فراست کادرس دیتا ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کرانا چاہئے کہ اسلام امن، سلامتی، دوستی، مفاہمت اوربھائی چارے پر یقین رکھنے والا مذہب ہے جو انسانی حقوق کی پاسداری کو دینی اقدار کا جزو خیال کرتاہے۔اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل پانچ بنیادی حقوق یعنی حق الاحیا(Right of Life) ، حق الحریہ (Right of Liberty) حق التملک(Right of Property) حق العلم (Right of Knowledge) او رحق الکرامہ یعنی (Right of Personal Dignity) کا آفاقی منشور دیا۔ اسلام نے خواتین کو بلند معاشرتی مقام دیا اور ان کے حقوق کی مستحکم ضمانت فراہم کی۔ بیواؤں، یتیموں، حاجت مندوں، بے کسوں اورمصائب میں مبتلا انسانوں کے حقوق ہمارے نظامِ اخلاق کے اہم اجزا ہیں۔مسلم معاشروں میں اقلیتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت اور ان کے حقوق کی پاسداری مذہبی فریضے کی حیثیت رکھتی ہے۔بدقسمتی سے اسلام کے ان زرّیں اصولوں کے بارے میں مغرب کی بے خبری کی وجہ سے عمومی طورپر ایک منفی تاثر پایا جاتاہے۔ ہمیں اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے ٹھوس تدابیر کرنی چاہئیں تاکہ مسلم معاشروں کی حقیقی تصویر نمایاں ہوسکے۔
میں اس ضمن میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں جارحانہ، متحارب اور متصادم رویہ اختیار کرنے کے بجائے فکری متانت، ذ ہنی بلوغت، علمی ثقاہت اور موٴمنانہ فراست کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہئے۔ مبنی برحق موقف کی قوت اس کا جارحانہ پن نہیں، اس کی روح خیر او راس کا جوہر صداقت ہے۔ ہمیں دوسروں سے اُلجھنے کے بجائے خود اعتمادی کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہئے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے دلوں میں ایمان و یقین کی اس قوت کو بھی بیدار رکھنا ہوگا جو ہر عہد میں مسلمانوں کااعزاز و امتیاز ہی ہے۔اپنے سینے میں توحیدکی امانت رکھنے والا کوئی شخص کسی بھی مادّی قوت کے جاہ و جلال سے مرعوب نہیں ہوسکتا۔ ایمان و یقین کی یہ قوت کمزور پڑنے لگے توخوف، بے یقینی اور احساسِ کمتری جیسے مہلک امراض 'خودی' کے بیش بہا جوہر کوختم کر ڈالتے ہیں۔ اللہ کے بجائے غیر اللہ سے امیدیں وابستہ کرنے اور اس سے خوف کھانے والے لوگ ذلت و رسوائی کی پستیوں میں لڑھکتے چلے جاتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی قوتِ ایمانی کو پوری طرح بیدار و متحرک کریں کیونکہ یہی اہل ایماں کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
میں عالم اسلام کے اہل علم و دانش کی ا س کانفرنس کے لئے دعاگو ہوں کہ وہ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی ہمہ پہلو نشاةِ ثانیہ کے لئے جامع تجاویز مرتب کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو۔ میری تجویز ہے کہ یہ کانفرنس ایسی کمیٹیاں تشکیل دے جو اس کانفرنس کے بعد بھی اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں تحقیقی کام کرتی رہیں اور اس طرح اس علمی اجتماع کو ایک تسلسل حاصل ہوجائے۔
مادّی، سیاسی اور اقتصادی طور پر شکستہ حال قومیں پھر سے فتح مند ہوسکتی اور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہیں لیکن ذ ہنی ،فکری اور روحانی اعتبار سے شکست کھا جانے والی اقوام دولت ِخودی سے محروم ہو کر تاریخ کے ظلمت کدوں میں کھو جاتی ہیں۔ میں اس نمائندہ اجتماع کے ذریعے اس حقیقت کااظہار ضروری خیال کرتاہوں کہ مسائل کی سنگینی، مصائب کے ہجوم اورمشکلات کی کثرت کے باوجود فرزندانِ اسلام کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔ ہمارے دل توحید کی دولت سے مالا مال اور ہماری روح حب رسول ﷺ کی لذتوں سے سرشار ہے۔ ہم امن کے پیامبر اور سلامتی کے سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے نظریے کی حفاظت کے لئے نقد جاں پیش کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ ہم لامحدود قدرتی وسائل اور انتہائی ذہین، ہمت، شعار اور جفاکش افرادی قوت کے حامل ہیں۔علم و فن سے محبت ہماری فطرت میں شامل ہے۔ ان شاء اللہ یہ ناسازگار موسم جلد ختم ہوجائیں گے اور ہمارے بال وپر ایک بار پھر اسی قوتِ پرواز سے آشناہوں گے جس نے صحرائے عرب کے حدی خوانوں کو دنیا کاراہنما بنا دیا تھا۔ ہمارے دلوں میں آرزو کے چراغ ہمیشہ روشن رہیں گے اوران شاء اللہ وہ دن جلد آئے گا جب
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش     اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی!

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین!  وما علينا الا البلاغ

٭٭٭٭٭