مقصد و ضرورت
اُمت ِمسلمہ ميں چند صدياں ايسى گزرى ہيں جب اجتہاد كا دروازہ بند كركے پچهلے فقہاء ومجتہدين كى آرا پر ہى عمل كرليناكافى سمجھا جاتا رہا، ليكن موجودہ دور ميں ترقى وايجادات نے جس تيزى سے انسانى زندگى ميں محير العقول تبديلياں برپا كى ہيں، اس كے بعد وہى علما جو پہلے اجتہاد كے دروازے كو بند كرنے كاموقف ركهتے تهے، اب اسے كهولنے كے لئے آمادہ نظر آتے ہيں-كسى مخصوص فقہ كے پيروكاروں كى اصل مشكل يہ رہى ہے كہ اس فقہى مذہب كى نسبت جن عظيم المرتبت ائمہ فقہاسے ہے، آج ايسے عالم وفاضل اور وجيہ مجتہدين سے زمانہ خالى نظر آتا ہے، اس لئے اُنہوں نے اجتہاد كو بند ركهنے ميں ہى عافيت خيال كى- يہ امر درست ہے كہ اسلامى تاريخ جن ائمہ اسلاف كے كارہائے نماياں سے ہميں آگاہ كرتى ہے، ان كى شخصيات بڑى بهارى بهركم ہيں اور ان سے ہمارى نفسياتى وابستگى بهى ہمارے دلوں ميں اُنہيں ايك عظيم مقام عطا كرديتى ہے، ليكن اس عظمت كا يہ مطلب نكال لينا كہ اب اجتہاد كو ہى موقوف كرديا جائے، كوئى متوازن راہ نہيں ہے- چنانچہ كسى فقہى مذہب كے ماننے والوں كے ہاں بالعموم اجتہاد كى ايسى طول طويل شرائط پائى جاتى ہيں جن كى مصداق شخصيت كا وجود ان اَدوار ميں مشكل نظرآتا ہے۔ مولانا مودودى لكھتے ہيں :

”ميرے نزديك دنيا بهر كے مسلمانوں كے متعلق يہ بہت ہى برى رائے ہے- غالباً ابهى تك ہمارے مخالفوں نے بهى ہميں اتنا گرا ہوا نہيں سمجھا ہے كہ ايك اَرب سے زائد مسلمانوں ميں ان صفات كے حامل اشخاص كى تعداد 10، 12 سے زيادہ نہ ہو-“ 1

البتہ وہ لوگ جو كتاب وسنت كى حدود ميں رہتے ہوئے فقہى آرا ميں توسع كا پہلو اختيار كرتے رہے ہيں، ان كے ہاں يہ شرائط بهى اتنى بڑى نہيں ہيں۔مختلف فقہى مكاتب ِفكر كے ہاں شرائط ِاجتہاد كڑى ہونے كى وجہ يہ ہے كہ وہ ايسى شرائط كے ذريعے انہى صفات كے حامل علما كو اجتہادكا اہل قرار دينا چاہتے ہيں جو ان كے ائمہ فقہاسے صفات ميں قريب ترين ہوں- چونكہ اسلامى دنيا ميں فقہى مكاتب ِفكر كے پيروكاروں كى ہى اكثريت ہے، اسى لئے بالعموم يہاں اجتہاد كا دروازہ بند ركهنے پر ہى زور ديا جاتا رہا ہے اور اُنہوں نے سابقہ فقہى آراسے ہى كام چلانے كى كوششيں كى ہيں- اس مقصد كے لئے ان كے ہاں مجتہد ِمطلق، مجتہد ِمذہب اور مجتہد ِفتوىٰ كى كئى تفصيلات بهى ملتى ہيں حتى كہ احناف كے ہاں مجتہدين كى يہ اقسام پا نچ تك پہنچ جاتى ہيں-

اب نئے زمانے كى تيز دوڑ كا ساتھ دينے كے لئے جب اجتہاد كا احيا كرنا ضرورى ٹھہرتا ہے اور بہت سے ايسے مسائل پيش آتے ہيں جن كے بارے ميں فقہ اسلامى كے ذخيرے ميں براہ راست كوئى تفصيل موجود نہيں تو اس مشكل كا يہ حل تجويز كيا جاتا ہے كہ كسى ايك فرد ميں ان بلند خصائص كو مجتمع ديكهنے كى بجائے اہل علم افراد كے ايك مجموعے ميں اُنہيں مكمل كرليا جائے- ’اجتماعى اجتہاد‘ كى اصطلاح متعارف كرانے كا ايك پس منظر يہ بهى ہے-

اجتہاد كو ’فرد‘ سے ’اجتماع‘ كى طرف لے جانے كى يہ ايك اہم وجہ ہے جس كے پس پردہ اجتہاد كے بارے ميں حددرجہ احتياط كا تصور كارفرماہے- اس كى ديگر ضروريات ميں يہ بهى شامل كيا جاتا ہے كہ زندگى كے مختلف پہلوؤں ميں اس قدر وسيع نوعيت كا علمى كام ہوچكا ہے اور معلومات كے كئى نئے ايسے ابواب دريافت ہوچكے ہيں جن تمام پر ايك فرد كا عبور ركهنا بهى مشكل نظر آتا ہے- اس لئے كئى افراد كے مجموعے سے مدد لے كر درست حقائق اور وسيع تر معلومات كى مدد سے اجتہاد كا عمل بروئے كار لايا جانا زيادہ بہتر ہوگا-

بعض لوگ اس كى ضرورت يہ بهى پيش كرتے ہيں كہ كسى ايك صاحب ِعلم كى شرعى رائے كے بجائے يہى رائے اگر كئى اہل علم كى مشتركہ كاوش كے نتيجے ميں حاصل ہو تو اسے اسلامى معاشرے ميں قبولِ عام زيادہ حاصل ہونے كا امكان ہوتاہے- اس بنا پر اجتماعى اجتہاد كى صورت ميں اُمت ِمسلمہ ميں فكرى انتشار يا جديد مسائل كے بارے ميں رہنمائى كا خلا پيدا نہيں ہوسكے گا اور مسلمان زيادہ يكسوئى سے كسى مسئلہ كے شرعى حل پر عمل درآمد كرسكيں گے-

’اجتماعى اجتہاد‘ پر ايك سيمينار
اجتماعى اجتہاد كے متعددمقاصد كے پيش نظربين الاقوامى اسلامك يونيورسٹى كے زير اہتمام كام كرنے والے آئينى ادارے ’ادارہ تحقيقاتِ اسلامى‘ اسلام آباد نے چند ماہ قبل اجتماعى اجتہاد كے تصور كو متعارف كرانے كى غرض سے اہل علم كا ايك وسيع سيمينار منعقد كرنے كا فيصلہ كيا۔ 19سے 22 /مارچ 2005ء تك يہ سيمينار ادارہ ہذا كے كيمپس آڈيٹوريم ميں جو فيصل مسجد سے ہى ملحق ہے، منعقد ہوا- اس سيمينا رميں پاكستان سے متعدد اہل علم كے علاوہ انڈيا سے چار معروف علماء كرام … مولانا جلال الدين عمرى، مولانا خالدسيف اللہ رحمانى، ڈاكٹر سعود عالم قاسمى اور مولانا فہيم اختر ندوى…نے شركت كى، جبكہ سيمينار كے افتتاحى اجلاس ميں شام سے تعلق ركهنے والى عالم اسلام كى عظيم شخصیت ڈاكٹر وہبہ زحيلى نے بهى خطاب فرمايا- ڈاكٹر زحيلى نے اس دور ميں اسلامى فقہ پر شاندار علمى كام انجام ديا ہے اور آپ كى كئى جلدوں ميں كتاب الفقہ الاسلامي وأدلتہ فقہ ِمقارن كے موضوع پر ايك شاندار اضافہ ہے- اس بنا پر علمى حلقوں ميں آپ كو بہت وقعت دى جاتى اور نہايت احترام سے ديكها جاتاہے۔

سيمينار ميں شركت كرنے كے لئے پاكستان سے ممتاز اہل علم كو بهى دعوت دى گئى تهى كہ ا س كے مختلف پہلووں پر اپنے مقالات تحرير كريں- تين دن كے اس سيمينار كو آٹھ نشستوں ميں تقسيم كيا گيا تها۔ ہر روز ظہر سے قبل اور بعد ميں دو مجالس ہوتيں، جن ميں طے شدہ موضوعات پر اہل علم اپنے مقالات كا خلاصہ 15تا 20 منٹ ميں پيش كرتے، ہر نشست كا آخرى نصف گهنٹہ مقالات پيش كرنے والوں سے سوالات كے لئے مخصوص تها- جبكہ مغرب كے بعد نشست ميں اس دن ہونے والے خطابات كے بعض تشنہ پہلووں پر دو توسيعى خطابات كا انتظام كيا گيا تها۔

جيسا كہ سيمينار كا عنوان تين اجزا پر مشتمل ہے: تصور، ارتقا اور عملى صورتيں… اسى لحاظ سے سيمينار كو بهى تين حصوں ميں تقسيم كيا گيا تها- سيمينار كا پہلادن ’اجتماعى اجتہاد كے تصور‘ كے لئے مخصوص تها، جب كہ دوسرے دن دنيا بهر ميں اس مقصد كے لئے سرگرم اداروں كے تعارف پر مبنى مقالات پڑهے جانا تهے گويا يہ مجلسيں اس كے ارتقا پرمشتمل تهيں- جبكہ تيسرے روز سيمينار كى آخرى دو مجلسيں ’اجتماعى اجتہاد كى بعض تطبيقى وعملى صورتوں‘ پر مقالات كے لئے مخصوص تهيں مثلاً كريڈٹ كارڈ ، بیمہ كارى يا فيملى پلاننگ كے موضوعات پر ہونے والا اجتماعى اجتہاد وغيرہ۔

پروفيسر محمد طاہر منصورى جو شعبہ فقہ وقانون كے انچارج ہيں، اس سيمينار كى نظامت كے فرائض انجام دے رہے تهے، ان كے ساتھ معاونت كرنے والوں ميں جناب قيصر شہزاد، جناب محمد احمد، ڈاكٹر سہيل حسن انچارج شعبہٴ كتاب وسنت اور ڈاكٹر عصمت اللہ شريك تهے- يوں توسمينار ميں شركت كے لئے بيسيوں مقالات لكھے گئے ليكن جائزه كميٹى نے حسب ِذيل 8/ اداروں كے بارے ميں ہى تعارفى مقالات كو سيمينار ميں شركت كے لئے منتخب كيا تها :

نام ادارہ                            مقالہ نگار

اسلامى فقہ اكيڈمى، انڈيا                     مولانا خالد سيف اللہ رحمانى
مجلس شرعى مباركپور، انڈيا                   مولانا محمد صديق ہزاروى
اسلامى نظرياتى كونسل، پاكستان            جناب شہزاد اقبال شام
وفاقى شرعى عدالت، پاكستان                جناب مطيع الرحمن
مجمع الفقہ الإسلامي، مكہ                         جناب الطاف حسين لنگڑيال
ہيئة كبار العلماء، سعوديہ                      ڈاكٹر سہيل عبد الغفار حسن
مجمع البحوث الإسلامية، قاہرہ              ڈاكٹر تاج الدين ازہرى
يورپى كونسل برائے افتاء وتحقيق          جناب تنوير احمد

افتتاحى تقريب ميں فضیلة الشيخ دكتور وہبة الزحيلي كے علاوہ جناب وسيم سجاد سابق چيئرمين سينٹ اور جناب جسٹس (ر) خليل الرحمن خاں ريكٹر اسلامك يونيورسٹى نے خطاب كيا- اس كے بعد مقالات پڑهنے والے تقريباً پچيس اہل علم كے لئے سيمينار ہال كے درميان ميں راؤنڈ ٹيبل كے گرد نشستيں ترتيب دے دى گئيں جبكہ سامعين ان كے گردا گرد ہال ميں اپنى اپنى نشستوں پر براجمان تهے- ہال كا مناسب موسم، معيارى ساؤنڈ سسٹماورنشست وبرخاست كى موزوں سہولتيں پورے سيمينار پر وقار اور سنجيدگى كا تاثر پيدا كررہى تهيں۔

سيمينار كے انتظامات وسيع سطح پر كئے گئے تهے، خطاب كرنے والے اہل علم كو آمد ورفت كے پرتپاك انتظامات كے علاوہ قيام وطعام كى سہولتيں، پڑهے جانے والے مقالات پرمشتمل كتاب، ادارہ كى منتخب مطبوعات اور ايك بيگ كا تحفہ بهى ديا گيا- ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كا بيشتر عملہ تين روز تك سيمينار كے انتظامات اور مندوبين كى خدمت ميں مشغول رہا- ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كے سينئر اراكين بهى سيمينار ميں باقاعدگى سے شركت كرتے رہے جبكہ ديگر شركا ميں يونيورسٹى كے طلبہ اور اسلام آباد كے علم دوست حضرات شامل تهے۔

ادارہ كا يہ سيمينار اپنے مقصد اور نوعيت كے اعتبار سے واقعتا قابل قدر كاوش ہے- سركار ى اداروں ميں عموماً سرد مہرى كا جو رويہ پايا جاتاہے، يہ ادارہ اس سے خالى اور علمى رجحانات كا حامل ہے- اسلامى علوم كے مختلف ميدانوں ميں يہ ادارہ ملت ِاسلاميہ كى كئى اہم ضرورتوں كى تكميل كررہا ہے- اسى ادارے سے ديگر علمى جرائد كے علاوہ برسہا برس سے ’فكر و نظر‘ كے نام سے گراں قدر تحقيقى مجلہ بهى شائع ہوتا ہے جو اپنى خدمات كى بنا پر ايك وقيع حيثيت ركهتا ہے-

اس ادارے كى فعاليت كے متعدد پہلووں ميں سے ايك نماياں پہلو تسلسل سے مختلف علمى موضوعات پر سيمينارز كا انعقاد ہے- ماضى قريب ميں بهى يہاں دو سيمينار ہوچكے ہيں جن ميں سے ايك 5 تا 8/اكتوبر 1998ء كو ’بين الاقوامى امام ابوحنيفہ كانفرنس‘ كا انعقاد ہے اور دوسرا ’برصغير ميں مطالعہ حديث‘ كے موضوع پر 21،22/اپريل 2003ء كوہونے والا قومى سيمينار ہے- حاليہ سيمينار اسى تسلسل كى كڑى ہے- وطن عزيز ميں جہاں علمى وتحقيقى رجحانات رو بہ زوال ہيں، اور مختلف نظريات اور كاوشوں كو تعصبات كے دائرے ميں ركھ كر ہى پركها جاتا ہے، ايسے عالم ميں خالص علمى موضوعات پر ملك بهر كے اہل علم كو دعوتِ تحقيق دينا اور انہيں مل بیٹھنے كا موقع فراہم كرنا ايك قابل قدر كوشش ہے- اوّل الذكر سيمينار كى روداد ماہنامہ محدث كے نومبر1998ء كے شمارے ميں حافظ صلاح الدين يوسف حفظہ اللہ كے قلم سے شائع ہوئى تهى، اس ميں حافظ صاحب نے ان جذبات كا اظہار كيا ہے :

”اس اہم نوعيت كے سيمينار ميں اختلافى مسائل بهى زير بحث آئے، نقد وجرح كا سلسلہ بهى جارى رہا ليكن كسى بهى مرحلے پر بدمزگى پيدا نہ ہوئى، نہ فكر و رائے كے اختلاف ميں شدت كا اظہار ہوا-“ اُنہوں نے منتظمین كے حسن انتظام كو سراہتے ہوئے لكها ہے كہ ”پورى غير جانبدارى سے، كسى مكتب ِفكر كے جذبات كو مجروح كئے بغير ايسے سيميناروں كا علم وتحقیق كے لئے انعقاد ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كا ايك قابل ستائش كردار ہے، اس علمى رويہ كو ديگر اداروں كے لئے بهى مشعل راہ ہونا چاہئے۔“2

سيمينار كے تين دنوں ميں حاضرين كو ممتاز اہل علم كے علمى جواہر سے استفادہ كا خوب خوب موقع ملا، ان كے خطابات كا خلاصہ پيش كرنا تو شايد يہاں ممكن نہيں كيونكہ وہاں پيش كردہ ان كے خطابات بهى ان كے مقالوں كى تلخيص پر ہى مبنى تهے جس ميں مقالہ كے اہم پيراگراف كو پڑھ كر سنايا گيا تها۔ يہ مقالات كتابى صورت ميں تمام خطاب كرنے والوں كو تقسيم كر ديے گئے تهے، يہاں ہم ان خطابات پر اپنے تاثرات كے اظہار پر ہى اكتفا كريں گے، علمى نوعيت كے استدلال كو بہتر انداز ميں سمجهنے كے لئے ان كى تحريريں ہى كارآمد ہوں گى۔

واضح رہے كہ مذكورہ بالا تينوں سيميناروں ميں پڑهے جانے والے تمام تر مقالات ادارئہ محدث كى لائبريرى ميں موجود ہيں، جن سے شائقين استفادہ كرسكتے ہيں۔

ماضى ميں اجتماعى اجتہاد
ماضى ميں اجتماعى اجتہاد كے وجود كے بارے ميں انڈيا سے تشريف لائے ہوئے مستند اسلامى سكالر جناب مولانا جلال الدين عمرى نے اپنا نقطہ نظر بيان كرتے ہوئے فرمايا كہ

فقہ ِاسلامى كى تاريخ ميں يہ تصور ہميں نہيں ملتا اور نہ ہى اس نام كى كسى اصطلاح كا وجود ماضى ميں دكهائى ديتا ہے- اسلامى فقہ ميں كہيں بهى يہ نہيں پتہ چلتا كہ فلاں رائے تو انفرادى اجتہاد ہے اور فلاں رائے اجتماعى اجتہاد كے نتيجے ميں حاصل ہوئى ہے- ايسے ہى اجتہاد سے قبل مشاورت كرنے يا نہ كرنے كے بارے ميں اُصولِ فقہ كوئى رہنمائى نہيں ديتے كہ اس كى ضرورت ہے يا نہيں اور اس كو انفرادى اجتہاد پر كس پہلو سے برترى حاصل ہے؟

مولانا عمرى نے كہا كہ اس تاريخى حقيقت كے باوجود اگر مل جل كر اجتہادى عمل ميں شركت كرلى جائے تو اس ميں كوئى بظاہر كوئى مضائقہ نظر نہيں آتا-

البتہ سيمينار ميں شريك ديگر اہل علم نے نہ صرف صحابہ بلكہ دورِ نبوى ميں بهى اس كا وجود تسليم كيا، اُنہوں نے دورِنبوى ميں مختلف غزوات بدرواُحدواحزاب كے سلسلے ميں ہونے والے مشورے كو اجتماعى اجتہاد قرارديتے ہوئے واقعہ افك، صلح حديبيہ، معاذ بن جبل كى گورنرى اور اسيرانِ بدر كے متعلق مشاورت كو بهى اسى قبيل سے قرارديا-

البتہ ان حضرات نے اس امر كى نشاندہى كى ضرورت محسوس نہ كى كہ مذكورہ بالا تمامتر مشاورت كا تعلق دنيا كے تدبيرى اُمور سے ہے، ان ميں سے كوئى بهى پہلو شريعت كے نقطہ نظر كے بارے ميں اجتہادسے متعلق نہيں ہے-يہاں يہ نكتہ قابل غور ہے كہ كيا مشاورت شريعت كى بنياد اور مصدر بن سكتى ہے- جبكہ مشاورت كا تعلق اگر شريعت كے نقطہ نظر كے بارے ميں دلائل واستنباط كى نشاندہى سے ہو تو يہ مشاورت پيش آمدہ مسئلہ پر اجتہاد ميں معاونت كى ايك صورت ہے- ايسے ہى اسلام ميں مشاورت كا ايك نظام ہے جس ميں امير فيصلہ كرنے كے خصوصى اختيارات بهى استعمال كرتا ہے- دنياوى اُمور ميں امير كو حاصل ان اختيارات كى تو شريعت ميں گنجائش ملتى ہے ليكن دينى اُمور كى تعبير ميں امير كے ديگر اہل علم پراس اختيار كى اسلامى شريعت ميں حمايت نہيں پائى جاتى-

دور خلافت ِراشدہ ميں اجتماعى اجتہاد كى بهى بہت سى مثاليں پيش كى گئيں جن ميں لشكر اُسامہ كى روانگى، منكرين زكوٰة سے جنگ، جمع قرآن كامسئلہ، عراق كے محاذ پر مجاہدين كو بھیجنا اور محاصل عراق كے بارے ميں مشاورتيں شامل ہيں۔ جامعہ اسلاميہ امداديہ، فيصل آباد كے اُستاذ مولانا محمد زاہد نے دورِ صحابہ وتابعین اور ائمہ اسلاف كے ادوارميں بہت سى مجالس مشاورت كى نشاندہى كرتے ہوئے اُنہيں بهى اجتماعى اجتہاد قرارديا۔

اجتماعى اجتہاد ميں قابل لحاظ اُمور
مولانا حافظ عبد الرحمن مدنى نے اپنے خطاب كا آغاز ہى اس بات سے كيا كہ اجتماعى كام ہميشہ انفرادى محنت سے بڑھ كر مفيد اور پہلودار ہوتا ہے او راس كى اہميت سے انكار نہيں، البتہ مولانا نے اپنے خطاب ميں اجتماعى اجتہاد كے نتيجے ميں پيدا ہونے والے ايك سوال پر روشنى ڈالى- آپ نے كہا كہ ماضى ميں جن مجالس پر اجتماعى اجتہادكا دعوىٰ كيا جاتا ہے، ان ميں وہ مجالس بهى شامل ہيں جن كے ذريعے قانون سازى كركے اسلامى ممالك ميں اس كو نافذ كيا گيا- آپ نے سابق صدرِ مملكت سے اعلىٰ عدليہ كى ايك میٹنگ كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ كيا انسان اللہ كے الفاظ كو اپنے الفاظ ميں منتقل كركے بہتر قانون سازى كرنے پر قادر ہے ؟

اُنہوں نے كہا كہ قاضى قرآن كى رو سے صرف ما أنزل اللہ سے فيصلہ كرنے كا پابند ہے، جب كوئى قاضى انسانوں كے تدوين كردہ قوانين سے فيصلہ كرے گا تو يہ قوانين ما أنزل اللہ كا حقيقى مصداق نہيں ہوسكتے- اُنہوں نے پاكستان ميں نافذ اسلامى قوانين كى بعض مثالوں سے ثابت كيا كہ شریعت ِاسلاميہ كو انسانى الفاظ ميں ڈهال لينے كى بناپر اس كى تطبیق ميں كئى مشكلیں پيدا ہوجاتيں او ركئى وسعتوں سے ہاتھ دهونا پڑتا ہے-

حافظ صلاح الدين يوسف نے اپنے مقالے ميں علامہ اقبال كے تصور ’اجتہادِ پارليمنٹ‘ پر دلائل سے اپنا نقطہ نظر پيش كيا-اس سلسلے ميں اُنہوں نے تركى كے گرينڈ نيشنل اسمبلى كے اجتہادات اور اتاترك ازم كے مضراثرات كى بهى نشاندہى كى-ڈاكٹر محمد يوسف گورايہ كى كتاب ’اقبال اور اجتہاد ‘ ميں پيش كردہ فلسفے پر تنقيد كرتے ہوئے اُنہوں نے علامہ اقبال كى ملى خدمات كے بهر پور اعتراف كے باوجود دينى اُمو رميں ان كى رائے كے مرجوح ہونے كا موقف اپنايا اور كہا كہ سیدسلیمان ندوى كے پيش كردہ بعض اقتباسات كى روشنى ميں يہ پتہ چلتا ہے كہ علامہ نے اپنے نقطہ نظر سے خود ہى رجوع بهى كرليا تها-ايسے ہى حافظ صاحب نے اجتہاد كا حق اراكين پارليمنٹ كے بجائے اسلام ميں درك و بصيرت ركهنے والے ماہر علما كرام كے لئے مخصوص كرنے پر زور ديا-

حافظ صلاح الدين يوسف صاحب نے اپنے خطاب ميں يہ بهى كہاكہ ايك وقت وہ تها جب ادارہ تحقيقاتِ اسلامى ميں تجدد پسند حضرات كى نمائندگى زيادہ تهى ليكن اب الحمد للہ صورتِ حال يكسر مختلف ہے اور ادارئہ تحقيقات اسلامى كے رفقا بہت اچها كام كر رہے ہيں ليكن ملك ميں اب بهى ايسے گروہ موجود ہيں جو ايك طرف مسلماتِ اسلاميہ كے منكرہيں جيسے حد ِرجم، معراجِ جسمانى ، نزولِ عيسىٰ، ظہورِ امام مہدى اور ثبوتِ زنا كے لئے چار عينى مسلمان مردوں كى گواہى وغيرہ سب كا انكار يہ گروہ كر رہا ہے اور دوسرى طرف يہ گروہ طوائف كلچر ( رقص وسرود اور گانے بجانے ) كو سند ِجواز بهى مہيا كررہا ہے- ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كے موجود سیلم الفكر منتظمین كى طرف سے ايسے لوگوں كى حوصلہ افزائى كى بجائے حوصلہ شكنى ہونى چاہيے- ان كى قدر افزائى كا اہتمام اسلامى غيرت و حميت كے منافى ہے۔ اس خطاب كے دوران جاويد احمد غامدى بهى موجود تهے- كاش حافظ صاحب موصوف كا يہ كلمہ حق اور بروقت انتباہ ان لوگوں كو حقيقت سے آگاہى كا باعث بن سكے جو ’فتنہٴ اعتزالِ جديد‘ سے خير كى توقع ركهتے ہيں -

سيميناركے توسيعى خطابات ميں جناب جاويد احمد غامدى كا خطاب سب سے پہلا تها- توسيعى خطابات كى مناسبت سے ضرورت تو اس امر كى تهى كہ آپ دن بهر ميں پيش كئے جانے والے خطابات پر تبصرہ كرتے ہوئے تشنہ پہلووں كى تكميل كرتے ليكن آ پ نے نئى بحثيں شروع كرنے ميں زيادہ دلچسپى لى- جناب غامدى نے سابقہ روايات كو برقرار ركهتے ہوئے اجتہاد كى تعريف ميں ہى تمام اہل علم سے ايك جدا گانہ نقطہ نظر اپنايا- آپ نے معاذ بن جبل كى مشہور حديث ميں آنے والے الفاظ اَجتھد برأييسے استدلال كرتے ہوئے كہا كہ زندگى كے بعض پہلووں پر شريعت كى رہنمائى موجود نہيں ہے، اس لئے يہاں پر انسان كو اپنى عقل ورائے سے كام لينا چاہئے- آپ نے كہا كہ قرآن كريم قطعى الدلالہ ہے، قرآن ہر مسئلہ كے بارے ميں ميزان كى حيثيت ركهتا ہے، آپ نے مولانا فراہى كے فرمان: القرآن لايحتمل إلا تأويلا واحداكا حوالہ بهى ديا- كلام كى تفہیم كے حوالے سے جناب جاويد غامدى نے كہا كہ كلام ميں بعض باتيں بوقت ِكلام ہى اس سے مستثنىٰ ہوتى ہيں، ا س لئے ان كو خارج سمجهنے ميں كوئى زيادہ تردّد نہيں كرنا چاہئے- اس سے غالباً آپ ’اولياتِ عمر‘پر پيدا ہونے والے اشكال كى وضاحت كرنا چاہتے تهے-آپ نے ايك گهنٹہ سے زيادہ اپنے خطاب ميں متعدد نكات پر گفتگو كى جس ميں محتاط لب ولہجہ اپنانے ہوئے اپنے بعض نظريات كى تائيد ميں بہ لطائف گفتگو كى گئى-

توسيعى خطابات كى مجلس كى صدارت جناب ڈاكٹر محمود احمد غازى كررہے تهے- تبصرہ كرتے ہوئے ڈاكٹر غازى نے جاويد احمدغامدى كى بہت سى آرا كو بحث طلب قرار ديا اور كہا كہ آپ بذاتِ خود ايك مستقل مكتب ِفكر كے بانى ہيں- انہوں نے قرآنى آيات كى صرف ايك ہى تفسير ممكن ہونے كے دعوے كو بهى اجنبى سمجهتے ہوئے يہ استفسار كيا كہ اگر يہ مان ليا جائے تو پهر آج تك مفسرين قرآنِ كريم كى متعدد تفسيريں كيوں كرتے آرہے ہيں؟ پہلے روز كى مجالس ميں اجتہاد كے حوالے سے تو بہت سى باتيں كہى گئيں ليكن اجتماعى اجتہاد كے تصور ميں زيادہ نكهار نہ ہوسكا-

اجتماعى اجتہاد كے سلسلے ميں يہ امر قابل غور ہے كہ كن صورتوں كو اجتماعى قرار ديا جائے اور كن كو انفرادى كاوش سمجھا جائے- اس اجتماع ميں اجتہاد كے بارے ميں جو آرا پيش كى گئيں ان كى رو سے يہ تعين تو ضرور ہوگيا كہ اس ميں ايك سے زيادہ افراد شركت كرتے ہيں ليكن يہ واضح نہيں ہوسكا كہ اس ميں ان كى شركت مشاورت ومعاونت كى قبيل سے ہوتى ہے يا وہ عمل اجتہاد ميں بهى خود شريك ہوتے ہيں۔

اجتماعى اجتہاد كى اصطلاح كا تقاضا تو يہ ہے كہ ايك سے زيادہ مجتہدين ايك مسئلہ كے بارے ميں تبادلہ خيال كركے اپنا اپنا شرعى موقف پيش كريں-البتہ ديگر صورتوں كو اجتماعى اجتہاد كہنا درست نہيں ہونا چاہئے كيونكہ جہاں تك مشاورت / معاونت كا تعلق ہے تو اس نوعيت كا كام ہميشہ سے مجتہدين كرتے آئے ہيں كہ اپنے شاگردوں سے دلائل جمع كرنے ميں مدد لى يا مسئلہ پيش آنے پر اس موضوع كے ماہرين سے آرا حاصل كرليں ليكن ان تمام آرا سے اخذ واستفادہ ان كا انفرادى فعل ہوتا ہے اور وہ بہر حال عمل اجتہاد ميں منفرد ہوتے ہيں- يہ كام تو ماضى ميں بهى ہوتا رہا ليكن اس پر كبهى اجتماعى اجتہاد كى اصطلاح نہيں بولى گئى- ايسى مشاورت خلفاے راشدين بهى منعقد كيا كرتے تهے، ليكن معاونت كے بعد وہ اپنى شرعى رائے صادر فرمايا كرتے جو ظاہر ہے كہ يہ اجتہادى رائے ان سے ہى منسوب ہوتى۔

علاوہ ازيں مختلف ڈاكٹروں كى مدد سے بعض طبى مسائل ميں يا غير مسلم ماہرين سے معلومات حاصل كرنے كو بهى اجتماعى اجتہاد ہى باور كيا جاتا ہے جبكہ ظاہر ہے كہ مجتہدانہ اوصاف مكمل نہ ہونے كى بنا پر اُصولى طورپر اُنہيں عمل اجتہاد ميں شريك نہيں سمجھاجاسكتا-

اہل علم كى شرعى آرا كا تحفظ
اجتماعى اجتہاد كا اگر مصداق متعين كرليا جائے كہ اس سے مراد معاونت ومشاورت كى بجائے عمل اجتہاد ميں مختلف مجتہدين كا شركت كرنا ہى ہے تو يہاں ايك اور اہم سوال اُبهرتا ہے- ايك سے زيادہ مجتہدين كى ايك موضوع پر ازخود متفقہ شرعى رائے اپنانے كى تائيد اسلامى فقہى ذخيرے سے نہيں ہوتى- اسلام ميں وہ وسعت اور جامعيت موجود ہے جس ميں مختلف ذوق كے اہل علم پيش آمدہ مسئلہ كى اپنے انداز ميں تعبير وتطبيق كرتے ہيں- يہى وجہ ہے كہ دورِصحابہ ميں بهى شرعى آرا ميں اختلاف ہوتا رہا اور ائمہ اربعہ ميں بهى اختلافى مسائل اتفاقى اُمور كى بہ نسبت كہيں زيادہ رہے ہيں-جب ايك سے زيادہ مجتہدايك غير منصوص مسئلہ ميں غور وفكركركے شرعى رائے كى نشاندہى كى كوشش كريں گے تو ان ميں اختلافِ رائے كا پيدا ہونا ايك فطرى امر ہے!!

اجتماعى اجتہاد كايہ اہم سوال ہے كہ ان كو متفق كرنے يا قريب قريب ملتى جلتى رائے پر لانے كے لئے كوئى طريقہ كار يا اُصول وضع كيا جاسكتا ہے اور اس اُصول كى شرعى حيثيت كيا ہے ؟

اس نكتہ كى وضاحت كے لئے اجتماعى اجتہاد كى كوششوں كو دو حصوں ميں تقسيم كرنا ضرورى ہے- اجتماعى اجتہادكى بعض كوششيں ايسى ہيں جن كا مقصد پيش آمدہ مسئلہ پر اہل علم كو مشتركہ غور وخوض كى دعوت دينا ہے- ايسے اداروں ميں پاكستان كى اسلامى نظرياتى كونسل، جدہ كى مَجْمَع الفقہياور انڈيا كى اسلامك فقہ اكيڈمى كى مثال دى جاسكتى ہے-

الحمد للہ اس سيميناركے دوران اس نوعيت كے اجتہادى اداروں كى كاوشوں كے جائزہ كے دوران يہ امر سامنے آيا كہ ان كے ہاں اہل علم كے لئے فكرى آزادى كى گنجائش موجود ہے اور اس كا تحفظ كيا جاتاہے- رابطہ عالم اسلامى كے زيرا ہتمام 1961ء سے قائم مَجْمَع الفقہ الاسلامی كا تعارف كراتے ہوئے جناب الطاف حسين لنگڑيال نے اس امر كى نشاندہى كى كہ اس كے بنيادى ضوابط ميں اس امر كا تعين كيا جاچكا ہے كہ اس ميں شركت كرنے والے اہل علم كو اپنى شرعى رائے پر قائم رہنے كى آزادى حاصل ہوگى، ايسے ہى ان كے 23 فيصلوں ميں اختلافى نوٹس كا تذكرہ بهى كياگيا ہے-

يہى بات انڈيا كى اسلامك فقہ اكيڈمى كے جنرل سيكرٹرى جناب مولانا خالد سيف اللہ رحمانى نے اپنے مقالہ ميں اكيڈمى كے طريق كار كى وضاحت ميں تحرير كى ہے كہ

”كميٹى كى مرتب كردہ تجاويز لوگوں پر مسلط نہيں كى جاتيں- جس تجويز پر اتفاق ہو، اسے متفقہ حيثيت سے ذكر كيا جاتاہے-جس ميں شركا كى غالب اكثريت كى ايك رائے ہو او ر ايك دو اشخاص كو اختلاف ہو، ان ميں پہلى رائے كا بحيثيت ِتجويز ذكر كرتے ہوئے اختلاف ركهنے والے حضرات كے نام، اور نقطہ نظر كے حاملين كى مناسب تعداد ہو تو تجويز ميں اختلافِ رائے كا ذكر كرتے ہوئے دونوں نقاطِ نظر كو مساويانہ حيثيت ميں بيان كيا جاتاہے اور ہررائے كے قائلين ميں معروف، نماياں اور اہم شخصيتوں كا بهى ذكر كيا جاتا ہے- اور جس طرح تجاويز سيمينار ميں پيش كى جاتى ہيں، بعينہ اسى طرح طبع كرليا جاتا ہے-“ 3 ، 4

ہمارے دينى مدارس كى مجالس افتا كے فتاوىٰ ميں بهى اسى امر كا اہتمام كيا جاتاہے-

جس طرح جوابات كى تيارى كے وقت فكرى جبر كويہاں گوارا نہيں كيا جاتا، ايسے ہى اس نوعيت كے اداروں كے كام كى نوعيت بهى سفارشات تك ہى محدود رہتى ہے اور بعد ميں عوام الناس كو بهى ان آرا كا پابند نہيں بنا يا جاتا- اجتماعى اجتہاد كے اس نوعيت كے اداروں كا كام لائق تحسین ہے اور اس كام كى حوصلہ افزائى ہونى چاہئے۔

دوسرى طرف اجتماعى اجتہاد كے تحت ايسے بهى متعدد اداروں كو شامل كيا جاتاہے جن كا مقصد كتاب وسنت سے بعض قوانين كو اخذ كركے ممكنہ مسائل كے پيش نظر ان كو قانونى الفاظ كا جامہ پہنانا ہوتا ہے- ايسى قانون ساز مجالس كا مقصد چونكہ چند متعين نكات پر پہنچنا ہوتا ہے ، اگر اس ميں متعدد نقطہ ہائے نظر كو راہ دى جائے تو قانون سازى كا مقصد ہى فوت ہوجاتا ہے چنانچہ يہاں اجتماعى اجتہاد كے دوران بهى ايك مخصوص نتيجہ تك پہنچنے كيلئے فكرى جبر اختيار كرنا، كچھ لينا اور كچھ دينا سے گزرنا پڑتا ہے- مفاہمت اور انتظامى دباؤ يا كسى ضابطے كے زير اثر ہونے والى يہ قانون سازى اس ميں شريك اہل علم كى فكرى آزادى كے حق كو متاثر كرتى ہے- اسلئے ايسى قانون ساز مجالس كا دورانِ اجتہاديہ جبر اسلامى شريعت كى رو سے پسنديدہ نہيں كہا جاسكتا۔

علاوہ ازيں اس سے بڑى علت يہ لاحق ہوتى ہے كہ جبر سے پروردہ ان كى يہ سفارشات عوام الناس كے لئے بهى حكومتى دباؤ كے بل بوتے پر نافذ ہوتى ہيں- اس سے بهى عوام ايك مخصوص فكرى رائے پر عمل كرنے كے پابند ہوكر شريعت كى وسعت سے مستفيد ہونے كے حق سے محروم ہوجاتے ہيں- ياد رہے كہ عامة المسلمین كتاب وسنت كى ہى اُصولى اتباع كے پابند ہيں ايسے ہى كسى مجتہد كے لئے فقہى رائے كى پابندى كا بهى اسلامى شريعت ميں تصور نہيں پايا جاتا جبكہ اس قانون سازى كا تو قاضى صاحبان كو بهى مجتہد ہونے كے باوجود پابند كيا جاتا ہے- ہاں مسئلہ پيش آنے پر جب قاضى سے رجوع كيا جاتاہے يا مفتى سے جواب طلب كيا جاتا ہے تب اوّل الذكر صورت ميں نزاع كے فريقين كو اور ثانى الذكر صورت ميں عام مسلمان كو مجتہدكى اس رائے كى پابندى كرنا پڑتى ہے جس پر قرآن وحديث سے دليل موجود ہو۔

سيمينار كے تيسرے روز 21/مارچ كو صبح 7 بجے پى ٹى وى ورلڈ پر ’اجتہاد‘ كے حوالے سے ہونے والے مذاكرہ ميں مولانا حافظ عبد الرحمن مدنى نے كہا :

”اجتہاد كتاب وسنت كى حدود ميں رہتے ہوئے اپنى عقل ودانش كو كا م ميں لانے كا نام ہے- اسلام ميں عقل بذاتِ خود مصدرِ شریعت تو نہيں البتہ وہ شریعت كے احكام كو سمجهنے ميں اسى كے حدود كے اندر رہتے ہوئے اپنى جولانى دكها سكتى ہے-اسلام ميں جمہوريت سے زيادہ انسانى رائے كو تحفظ عطا كيا گيا ہے- چنانچہ اسلامى رياست اپنے ماتحتوں كو كسى نظريہ كو ذ ہنى طورپر ماننے كى پابند نہيں كرسكتى جيساكہ اسلامى تاريخ ميں اس كى مثاليں موجود ہيں كہ امام مالك نے طلاقِ مكرہ اور امام احمد بن حنبل نے قرآن كے مخلوق ہونے كاعقيدہ شديد حكومتى جبر كے باوجود قبول نہ كيا-ايسے ہى خلفاء راشدين كے دور ميں ابو ذر غفارى كے تصورِ دولت اور حذيفہ بن يمان كے كتابيہ سے نكاح پربرقرار رہنے كے واقعات بهى اسى كى تائيد كرتے ہيں-“

اسلام اورقانون سازى
اسلامى شريعت ميں اصلاً توقانون سازى كا تصور نہيں پايا جاتا، استعمار كے آنے سے قبل اسلامى ممالك ميں تيرہ صديوں تك قانون سازى كى ايسى كوئى بهى اجتماعى كوشش ديكهنے ميں نہيں آتى- اس سلسلے كى اوّلين كوشش 1870ء ميں سلطنت ِعثمانيہ كا مجلة الأحكام العدليةہے جس كے بعد مختلف اسلامى ممالك ميں ايسى قانون سازيوں كى ايك لمبى تفصيل شروع ہوجاتى ہے- اِنہى ميں پاكستان ميں عائلى قوانين 1962ء، حدود آرڈيننس 1979ء اور قانونِ قصاص وديت 1991ء وغيرہ آتے ہيں۔

ايسى قانون سازى سے اسلامى شريعت اپنے دائمى وعالمگير وصف اور انطباق كى وسعت كے جوہر سے محروم ہوجاتى ہے اور اس سے اسلام كے نفاذ كاخواب شرمندئہ تعبير نہيں ہوسكتا- دنيا بهر ميں سرزمين حجاز استعمارى غلبہ سے محفوظ واحد اسلامى خطہ رہا ہے- اس ملك ميں آج تك كسى قانون سازى كے بغيرشريعت اپنى اصل صورت (قرآن وحديث5) ميں نافذ ہے، اور اسى كے ذريعے ہى وہ دنيا كا تيز اور بہترين عدالتى نظام كاميابى سے چلا رہے ہيں اور وہاں حدود وجرائم كى كوئى دفعہ وار قانون سازى نافذ بهى نہيں ہے- دوسرى طرف پاكستان قانون سازى كے جھمیلوں كى وجہ سے حدود آرڈيننس پر پچيس برس گزر جانے كے باوجود عملى طورپر ايك حد كو بهى نافذ كرنے ميں كامياب نہيں ہوسكا اور آئے روز سيكولر طبقہ كو قانون سازى كى غلطيوں كے نام پر اصلاح كا بہانہ بهى ملتا رہتا ہے- اور نہ ہى مصر، اُردن، شام، تركى، تيونس وغيرہ ميں اسلامى قانون سازى كے بعد اسلام كے نفاذ ميں قابل ذكر كاميابى حاصل ہوئى ہے-

اسلام نے شريعت كى تشريح او راس كى تطبيق و تعبير كا حق مسلم علما كو ديا ہے، جديد سيكولر رياست يہ حق كسى مذہبى شخصیت كو دينے كے بجائے قانونى ماہرين كے سپرد كرنا چاہتى ہے- اس بنا پر جديد اسلامى ممالك ميں بهى عدليہ كے نام پرمسلم علما كرام كے منصب پر غير مسلموں كے عدالتى نظاموں كے ماہرين جج حضرات اور وكلا كى ايك فوج ظفر موج مسلط ہے- اسلام ميں قاضى كے لئے اجتہادى صلاحيت ضرورى ہے، ليكن جديد جج حضرات قرآن وسنت سے محرومى كے باوجود دفعہ وار قانون سازى كے بل بوتے پر اسلامى شريعت كى تطبيق كا حق اپنے ہاتهوں ميں لے كر عوام كو شريعت كى وسعتوں سے محروم كرنے كے مرتكب ہو رہے ہيں۔

قانون سازى ايك مستقل موضوع ہے، جس پر عالم اسلام خصوصاً عالم عرب ميں مستقل نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہيں- ہمارى نظر ميں استعمارى دور ميں اسلامى ذہنوں ميں جڑ پكڑنے والا يہ ايك مغربى تصور ہے، شريعت كا نفاذ كتاب وسنت كے ذريعے ہى بہتر ہوسكتا ہے اور اللہ نے بهى قاضيوں كو كئى آيات ميں ما أنزل اللہ سے فيصلہ كرنے كا حكم ديا ہے :

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٤٤...سورۃ المائدۃ
” او رجو قاضى ما أنزل اللہ كے ساتہ فيصلہ نہ كرے، وہ كافر ہے-“


﴿ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلاَ تَتَّبِعَْ أَهْوَائَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَا اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكَ ﴾ (المائدة : 43)
” اے نبى! ان كے مابين ما أنزل اللہ كے ساتھ ہى فيصلہ فرمائيے، انكى خواہشات كى پيروى نہ كريں اوربچیں اس بات سے كہ يہ ما أنزل اللہ كے بارے ميں آپ كو فتنہ ميں نہ ڈال ديں-“

ما أنزل اللہ صرف كتاب وسنت ہى ہے، انسانوں كے بہترين فہم كى بناپر حاصل ہونے والى فقہ بهى ما أنزل اللہ كا كلى مصداق نہيں كيونكہ اجتہاد ميں تو خطا وصواب كا احتمال ہوتا ہے-

زير نظر موضوع سے قانون سازى كا تعلق اتنا ہى ہے كہ اجتماعى اجتہاد كى وہ صورتيں جن كا مقصد قانون سازى كرنا ہے، وہ آغاز ميں طريقہ كار كے جبر اور بعد ميں نفاذ كے جبر كى بنا پر اسلامى شريعت ميں مستحسن نہيں كہى جاسكتيں- اس لئے ’اجتماعى اجتہاد‘ كے تحت اگر ان نوعيت كى قانون ساز اداروں كو بهى ذكر كيا جائے تو اس فكرى جبر كا مداوا ہونا اور ايك متوازن موقف كا تذكرہ انتہائى ضرورى ہے۔


 حوالہ جات
1.     تفہیمات: 3/19
2.      محدث، نومبر 1998ء : ص 59
3.     مقالاتِ سيمينار:ص194
4.    تاہم اوّل تو ایسی اجتماعی کاوشوں میں مختلف مکاتب ِفکر کو مناسب نمائندگی نہیں دی جاتی، ثانیاً ان فقہی مقالات اور فیصلہ جات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے یہ بات ضرور سامنے آتی ہے کہ ان میں فقہی توسع اور نصوصِ شریعت کی بالادستی کا کماحقہ اہتمام نہیں کیا جاتابلکہ فقہ حنفی کا رجحان غالب نظر آتاہے جیسا کہ ولایت ِنکاح کے مسئلے میں فقہ حنفی کی رائے کو اختیار کیا گیا ہے، حالانکہ متعدد نصوص سے اس کی حمایت نہیں ہوتی اور موجودہ حالات میں اس سے مرد و زَن کے بے باکانہ معاشقوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
5.    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآنِ مجید کو دستور کی حیثیت دینے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ اس میں تو ایک دستور کے تقاضے ہی پورے نہیں ہوتے، پھربعض مسلم دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم دستور سے بھی بلند تر کتاب ہے لیکن دستور نہیں ہے۔یہ دعویٰ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ کہا جائے کہ قرآن کریم معروف معنوں میں کتاب ہونے کے تقاضے پورے نہیں کرتا،کیونکہ کتاب میں تو ابواب بندی ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح قرآن کریم ایک روایت ساز کتاب ہے جو انسانی ضوابط کی پابند نہیں ہوسکتی، ایسے ہی اسلام کا اپنا سیاسی ڈھانچہ ہے۔ یہ تصور جدید ریاست کا ہے جس میں ملک پر ایک دستور حکومت کرتا ہے، لیکن دورِ نبویۖ، دورِ خلافت ِراشدہ اور تیرہ صدیوں کی اسلامی تاریخ میں ایسا کوئی دستور نظر نہیں آتا جو اسلامی ریاست پرحاکم ہو۔ اسلام جدید تصورِ دستور کا پابند نہیں کہ پہلے اسے تسلیم کیا جائے پھر اس کے مطابق دستور کی کوئی کتاب تیار کی جائے۔ اس کے بغیر کتاب وسنت کی صورت میں ہی اللہ کی شریعت اسلامی حکومت اور عوام کیلئے ہدایات کا مرکز و محورہے۔ انسانوں کے بنائے تصورات پر اللہ کی دی ہوئی شریعت کو پورا اُتارنا ہی حماقت ہے!!