اُردو ترجمہ كتابچہ ” من يّملك حق الاجتهاد ؟ “
عصر حاضر ميں متعدد اسباب ہيں جو اس موضوع پرقلم اُٹهانے كا تقاضا كر رہے ہيں :
(1) نااہل لوگوں نے علم و قابليت كے بغير شريعت ِخداوندى كے اُصول و فروع سے مسائل كے استنباط كى جسارت شروع كردى ہے- ان كى اكثريت نے حديث كے باريك اوربڑے بڑے مسائل ميں كريد اور تعمق شروع كردياہے -

(2) اكثر لوگوں كے ہاں يہ امتياز ختم ہوگيا ہے كہ جس شخص سے وہ تحصيل علم كررہے ہيں، آيا وہ اس لائق ہے بهى يا نہيں كہ شرعيات كے سلسلے ميں اس سے اخذ ِعلم كيا جائے اور اسے قابل توجہ ٹھہرايا جائے- ستم ظريفى ملاحظہ فرمائيے كہ ہم شريعت كے بارے ميں گفتگو كرنے والے ہركہ و مہ كى بات نہايت توجہ اور اہتمام سے سنتے ہيں اور اسے بحث و مباحثہ كا موضوع بنانا ضرورى سمجهتے ہيں، ليكن دنياوى معاملات ميں ہم صرف اسى كى طرف رجوع كرتے ہيں جو واقعى اس معاملہ كا ماہر ہے-

جب كسى كا كوئى عزيز مريض ہو تو وہ قطعاً پرچون فروش كے پاس علاج كا نسخہ دريافت كرنے نہيں جائے گا، كيونكہ اسے خوب معلوم ہے كہ مريضوں كا علاج كہاں كيا جانا ہے- ايسے ہى كوئى آدمى اگر اپنے مكان كى تعمير كرنا چاہتا ہے توكيا وہ كسى درزى كے پاس جائے گا ؟ قطعاً نہيں بلكہ وہ اپنا كام اس شخص كے سپرد كرے گا جوفن تعمير كاماہر اوراس كام كو بخوبى اور بطريق احسن انجام دينے كى اہليت ركهتا ہے - افسوس!كہ لوگ دنياوى معاملات كا تو اس قدر اہتمام كرتے ہيں- ليكن اگر دينى مسئلہ ہو تو ہر كسى سے سننے ميں ذرا تامل نہيں كرتے- اگر ميں يہ كہوں تو خلافِ حقيقت نہ ہوگا كہ آج كوئى بهى شخص دين كے مسائل كے متعلق گفتگو كرنے بیٹھ جائے تو وہ بہت سارے لوگوں كو اپنى طرف متوجہ اورہمہ تن گوش پائے گا- اس كى كچھ وجوہات ہيں :

پہلى يہ كہ اسلام آج پورى دنيا كى توجہ كا مركز بن گيا ہے- اسلام قبول كرنے كا رجحان دنيا بهر ميں روز افزوں ہے او رہر كوئى اسلام كے بارے ميں جاننے كا خواہش مند ہے-كیمونزم اپنى موت مرچكا ہے او رروس ميں بهى اسے پناہ نہيں ملى- دوسرى طرف مغربى تہذيب نوعِ انسانيت كو سكون واطمينان دينے سے محروم رہى ہے- لوگ فطرى تقاضوں سے مجبور ہوكر مذہب كى طرف رجوع كررہے ہيں اورايسے حالات ميں اسلام كى شاندار تاريخ اور احكامات كا آسان اور منطقى اُسلوب ان كى دلچسپيوں كا محور و مركز بن رہا ہے-

جب ہم اس حقيقت كو جان ليں گے كہ لوگوں كى اكثريت اسلام كى بات كرتى ہے اور ان لوگوں سے محبت كا اظہار كرتى ہے كہ اسلام ان كى توجہ كا مركز اور اللہ اور ا س كے رسول كا حكم ان كى جستجو كا محور ہے تو یقینا ہميں اس سنگين صورتِ حال كے ادراك ميں كوئى مشكل نہيں ہوگى جس سے يہ اُمت دوچار ہوا چاہتى ہے- صورتحال كى اس سے بڑى سنگینى كيا ہوسكتى ہے كہ آپ كے اندر يہ صلاحيت نہيں كہ آپ يہ فرق كرسكيں كہ كس سے اخذ ِعلم كرنا ہے ،كس سے نہيں اور كون شخص اس لائق ہے جس سے مسائل شرعیہ كے متعلق گفتگو كى جاسكے اور كون وہ شخص ہے جس كے لئے خاموش رہنا ہى ضرورى ہے ؟

فتوىٰ دينے اورشرعى مسائل كى وضاحت كرنے كى اہميت
يہ امر كسى وضاحت كا محتاج نہيں كہ شرعى مسائل ميں كلام كرنا كس قدر اہم معاملہ ہے، كيونكہ ايك مفتى اور محقق اپنى رائے اور ذاتى نقطہ نظر كو پيش نہيں كرتا اور نہ ہى اس سے يہ مطالبہ كيا جاتاہے كہ وہ اپنے مزاج اور خواہش كے مطابق فتوىٰ دے- اس سے فقط يہ پوچها جاتا ہے كہ فلاں مسئلہ يا واقعہ كے متعلق اللہ اور اس كے رسول كا فيصلہ كيا ہے ؟

اسى لئے امام قرافى جو مالكى فقہا اور اُصوليين ميں سے ہيں، مفتى كى تعريف كرتے ہوئے فرماتے ہيں :
” ايك مفتى درحقيقت اللہ تعالىٰ كا ترجمان ہوتا ہے، كيونكہ وہ نص شرعى كى تشريح و توضيح كر رہا ہے اور نص شرعى كا مرجع اللہ كى ذات ہے۔“

علامہ ابن قيم نے اپنى مشہور تصنيف كا نام أعلام الموقعين عن رب العالمين بهى اس لئے ركها كہ يہ امرواضح كر ديا جائے كہ شرعى مسائل ميں فتوىٰ دينے والا گويا اللہ كا ترجمان ہے- وہ ربّ كا نائب بن كر شرعى مسئلہ پر دستخط كرتا ہے- مفتى كى مثال اس وزير كى سى ہے جسے ايك حاكم يا بادشاہ اپنا قلم دان سونپ ديتا ہے- اس طرح مفتى بهى اللہ كے قلم دان كا وارث ہے اور جس مسئلہ كے بارے ميں سمجھتا ہے كہ يہ اللہ اور اس كے رسول ﷺ كا فيصلہ ہے، اس كا اظہار كرديتا ہے- امام ابن قيم  اپنى مذكورہ كتاب ميں فرماتے ہيں:

” جب بادشاہ كے سيكرٹرى كا عہدہ اس قدر اہميت كا حامل ہے ،جس سے كسى كو مجالِ انكار نہيں اوريہ نہايت قابل رشك عہدوں ميں سے ايك عہدہ ہے- پهر تم خود ہى اندازہ كرو كہ مالك ارض و سماوات كے قلم دان كى وزارت كا عہدہ كس قدر اہميت كا حامل ہوگا؟1
”چونكہ ايك مفتى اللہ تعالىٰ كى وزارت و قلمدان پر فائز ہوتا ہے جس سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ منصب ِافتا نہايت عظيم منصب ہے - ليكن يہ بات نہيں بهولنى چاہيے كہ يہ منصب جہاں ايك بہت بڑا شرف ہے، وہاں يہ ايك بہت بڑى ذمہ دارى بهى ہے- اس لئے اللہ تعالىٰ نے بذاتِ خود قرآن ميں اكثر مواقع پر عہدئہ افتا كواپنے ہاتھ ميں ليا ہے- چنانچہ اللہ تعالىٰ فرماتے ہيں:

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ ...﴿١٧٦...سورۃ النساء
”وہ تجھ سے فتوىٰ پوچھتے ہيں كہہ ديجئے، اللہ فتوىٰ ديتا ہے تم كو…“2

يہاں اللہ نے خود فتوىٰ ديا ہے اور افتا كواپنى ذاتِ مقدسہ كى طرف منسوب كيا ہے۔
افتاكى ذمہ دارى اس قدر بڑى ہے كہ سلف صالحين فتوىٰ ميں حد درجہ گريز كرتے تهے اور ہر ايك كى يہ كوشش ہوتى تهى كہ فتوىٰ كى ذمہ دارى كوئى دوسرا قبول كرلے -اس كے متعلق امام دارمى نے اپنى سنن ميں جو كچھ ذكر كيا ہے، وہ اس موضوع كا ايك باب ہے، وگرنہ تواس موضوع پرمكمل جلد بن سكتى ہے كہ سلف صالحين فتوىٰ دينے ميں كس قدر پرہيز كرتے تهے-

امام دارمى نے اس ضمن ميں باب من هاب الفتيا كے تحت بے شمار نصوص ذكر كى ہيں- ميں صرف دو روايات پر اكتفا كروں گا:
(1)ثقہ اور مشہور تابعى عبدالرحمن بن ابى ليلىٰ كا كہنا ہے :
” ميں نے ايك سو بيس صحابہ كو ديكها،جب ان سے كوئى حديث يا فتوىٰ پوچها جاتا تو ان ميں سے ہر ايك كى يہ كوشش ہوتى كہ حديث يا فتوىٰ كى ذمہ دارى اس كا كوئى دوسرا بهائى قبول كرلے-“ 3

غور فرمائيے كہ ايك سو بيس ممتاز اور كبار صحابہ كرام ہيں اور ہيں بهى بڑى عمر كے اور پهر علم كے بحر ذخار، ليكن فتوىٰ دينے سے گريز كا يہ عالم كہ ہر ايك يہ آرزو كرتا ہے كہ كاش كوئى دوسرا اس ذمہ دراى كو اُٹها لے-

(2) امام دارمى فرماتے ہيں كہ
” امام شعبى سے پوچها گيا كہ جب تم لوگوں سے كوئى سوال كيا جاتا ہے تو تمہارا طريقہ كار كيا ہوتاہے؟ تو كہا: تو نے ايك باخبرشخص سے سوال كيا ہے، لہٰذا سن، پهر فرمايا كہ جب ہم ميں سے كسى سے كوئى سوال كيا جاتا تو وہ خود فتوىٰ دينے كى بجائے اپنے ساتهى سے كہتا آپ فتوىٰ ديں-علىٰ ہذا القياس وہ اسى طرح پوچھتا پچھاتاپہلے كے پاس لوٹ آتا-“ 4

يہ غايت درجہ احتياط كيوں تهى؟ اس لئے كہ وہ خوب جانتے تهے كہ بغير علم كے فتوىٰ دينا اور اللہ تعالىٰ كے متعلق زبان كهولنا كتنابڑا گناه اور كتنا سنگين جرم ہے-

علامہ ابن قیم  نے جا بجا اس جرم كى سنگینى كا تذكرہ فرمايا ہے -ايك مقام پر فرماتے ہيں :
”اللہ پر كوئى بات بنا لينا اور فتوؤں اور فيصلوں ميں بغير علم كے زبان كهولنا يہ تمام حرام كاموں سے بڑھ كرحرام ہے- فرمانِ بارى تعالىٰ ہے :
قُلْ إِنَّمَا حَرَّ‌مَ رَ‌بِّىَ ٱلْفَوَ‌ٰحِشَ مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ‌ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِ‌كُوابِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَـٰنًا وَأَن تَقُولُواعَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٣٣...سورۃ الاعراف
”اے پيغمبر!ان لوگوں سے كہو، ميرے پروردگار نے جو چيزيں حرام ٹھہرائى ہيں،وہ تو يہ ہيں: بے حيائى اور بے شرمى كے كام، خواہ كهلے طور پر ہوں يا خفيہ -نيز گناہ كى باتيں، ناحق كى زيادتى اوريہ كہ اللہ كے ساتھ كسى كو شريك ٹھہراؤ جس كى اس نے كوئى سند نہيں اُتارى اور يہ كہ اللہ كے نام كوئى سے ايسى بات كہو جس كے متعلق تمہيں كوئى علم نہيں-“ 5

يہاں اللہ تعالىٰ نے پانچ حرام كاموں كاذكر كيا ہے، جن كى حرمت پر تمام شرائع سماويہ متفق ہيں اور ان پانچوں كو سنگینى حرمت كے اعتبار سے بالترتيب سے ذكر كيا ہے اور سب سے آخر ميں اس كو ذكر كيا جو سب سے بڑھ كر حرام ہے اور وہ يہ كہ اللہ كے نام پر كوئى ايسى بات كرنا جس كا علم نہ ہو، گوياشريعت ميں بغير علم كے بات كرنا اللہ پر جهوٹ باندهنے كے مترادف ہے !

ايسے اُمور جو علم كے بغير اللہ پر جهوٹ باندهنے كا مصداق ہيں!
اللہ كے متعلق علم كيبغير بات كرنے كى حرمت ميں درج ذيل اُمور شامل ہيں:
(1) اللہ تعالىٰ كى ذات ، صفات، اسماء اور افعال كے متعلق بغير علم كے گفتگو كرنا: جس طرح كہ اكثر لوگ اللہ تعالىٰ كى اُلوہیت، ربوبيت، اسماء و صفات اور مابعد الطبيعات اُمورمثلاً آخرت جنت،دوزخ اورپل صراط كے متعلق بغير علم اور بغير كسى دليل كے عجيب و غريب موشگافياں كرتے ہيں- ايسا كرنا بلاشبہ حرام ہے اور ياد رہے كہ مابعد الطبعیات مسائل ميں عقل كو دلیل اور بنياد نہيں بنايا جاسكتا- عقل انسانى خواہ جتنى بهى وسيع ہو، جب وہ دائرئہ نبوت سے بے نياز ہو كرعالم غيب كے حقائق كى نقاب كشائيوں كے لئے نكلے گى تو نتيجہ يہى ہوگا كہ وہ شكوك وشبہات كے صحراؤں ميں بھٹكتى پهرے گى- كتنے ہى فلاسفہ ہيں جو خود بهى گمراہ ہوئے- دوسروں كو بهى گمراہ كيا اوركتنى ہى صلاحيتيں مفلوج ہو كر رہ گئيں جن سے بہت استفادہ كيا جاسكتا تها- آخر ان بے فائدہ بحثوں اور نكتہ سنجیوں سے كيا حاصل جن سے نہ دنياوى مسائل كى گتھياں سلجهائى جاسكتى ہيں اور نہ دين سے متعلق ان سے رہنمائى لى جاسكتى ہے-

عقل نبوت سے قطعاً بے نياز نہيں ہوسكتى- عقل كا كام بس نص شرعى كو سمجھنا، اس كے معنى كا ادراك كرنا اور اسے حاكم مطلق تسليم كرتے ہوئے عقل كو اس كے مطابق چلاناہے- ليكن انسانى عقل كو وحى كا مدمقابل اور ہم پلہ قراردينا انسانى تكبر كى غمازى كرتا ہے اور يہى تكبر ان كے دلوں ميں يہ وہم پيدا كرتاہے كہ وہ اپنى عقل كى بدولت ماوراء الطبعيات اور تعبدى مسائل ميں جهانكنے كى طاقت ركهتے ہيں ،حالانكہ ماوراء الطبعيات مسائل تو دركنار بسااوقات عقل دنياوى مسائل كو سلجھانے ميں بهى ناكام ہوجاتى ہے-

(2) تقدير كے معاملے ميں بغير علم كے بات كرنے كى حرمت:مستقبل كے اُمور كے بارے ميں انسان كا بغيرعلم كے گفتگو كرنا بهى اسى زمرہ ميں آتا ہے- جس طرح كاہن، نجومى اور ہاتهوں كى لكيريں ديكھ كر قسمت شناسى كرنے والے كرتے ہيں اور لوگوں كى غفلت سے فائدہ اُٹها كر گمراہ كن طريقوں سے ان كا مال بٹورتے ہيں-

(3)بغير علم كے شرعى مسائل ميں كلام كرنے كى حرمت: یعنى حلال و حرام ، احكام، واجبات اور محرمات ميں اس وقت تك فتوىٰ دينا حرام ہے، جب تك كہ اس پر قرآن و سنت كى كوئى نص يا ائمہ فقہا كى آرا دلالت كناں نہ ہوں- پهر ہر شخص كو نص شرعى كى تعبیر و وضاحت كرنے كاحق نہيں ديا جا سكتا،بلكہ يہ حق صرف اس كو تفويض كيا جاسكتا ہے جو پختہ عالم ہو اور تمام نصوصِ شرعيہ پر اسكى نظر ہو-اللہ تعالىٰ نے بغير علم كے فتوىٰ دينے كى حرمت كاذكر كرتے ہوئے فرمايا:

وَلَا تَقُولُوالِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلٌ وَهَـٰذَا حَرَ‌امٌ لِّتَفْتَرُ‌واعَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ﴿١١٦...سورۃ النحل
”اور (ديكهو) ايسا نہ ہو كہ تمہارى زبانوں پر جو جهوٹى بات آجائے، بے دهڑك نكال ديا كرو اور اپنے جى سے ٹھہرا كر حكم لگا دو كہ يہ چيز حلال ہے اور يہ حرام ہے- اس طرح حكم لگانا اللہ تعالىٰ پر افترا پر دازى كرنا ہے اور ياد ركهو، جو لوگ اللہ پرافترا پردازياں كرتے ہيں وہ كبهى فلاح پانے والے نہيں-“          

 اسى طرح فرمايا:
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ‌ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا ﴿٣٦...سورۃ الاسراء
”اور ديكهو جس با ت كا تمہيں علم نہيں، اس كے پيچهے نہ پڑو- ياد ركهو !كان، آنكھ، عقل، ان سب كے بارے ميں باز پرس ہونے والى ہے“

اور مشركين كے بارے ميں فرمايا :
وَإِذَا فَعَلُوا فَـٰحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَ‌نَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ‌ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٢٨...سورۃ الاعراف
”اور يہ لوگ (مشركين عرب) جب بے حيائى كى باتيں كرتے ہيں تو كہتے ہيں ہم نے اپنے بزرگوں كوايسا كرتے ديكها ہے اور اللہ نے ايسا ہى كرنے كا ہميں حكم ديا ہے- اے پيغمبر ﷺ! تم كہہ دو، الله كبهى بے حيائى كى باتوں كا حكم نہيں دے گا -كيا تم اللہ كے نام پرايسى بات كہنے كى جرأت كرتے ہو جس كے لئے تمہارے پاس كوئى علم نہيں۔“

اللہ تعالىٰ نے مشركين كے دعوىٰ كا انكار كرتے ہوئے فرماياكہ وہ اللہ پر ايسا بہتان لگا رہے ہيں جسے وہ جانتے تك نہيں- ان لوگوں كا وطيرہ يہ تهاكہ جب يہ كوئى كام كرتے اور پهراُنہيں يہ كا م اچها لگتا تو اسے بار بار كرتے- جب اُنہيں منع كيا جاتا تو فوراً كہتے كہ خدا نے ايسا ہى كرنے كا ہميں حكم ديا ہے۔

مذكورہ دلائل يہ ثابت كرنے كے لئے كافى ہيں كہ بغير علم كے اللہ تعالىٰ كے بارے ميں كوئى بات كرنا علىٰ الاطلاق ايك سنگين جرم اور عظيم گناہ ہے-كيونكہ در حقيقت يہى گناہ تمام گناہوں كى جڑ ہے، حتىٰ كہ شرك ايسے ظلم عظيم كا سبب بهى يہى گناہ ہے - اس لئے مسلمان كو يہ زيب نہيں ديتا كہ وہ اس سنگين جرم كا ارتكاب كرے- اب ہم اللہ كے متعلق بغير علم كے بات كرنے كى وہ صورتيں بيان كرتے ہيں جن ميں آج اكثر لوگ ملوث ہوچكے ہيں۔

وہ صورتيں جو علم كے بغير اللہ پر جهوٹ باندهنے كا مصداق ہيں
(1) علما سے استغنا
اس دور ميں اجتہاد كى ارزانيوں نے ہر جاہل اور زبان و ادب سے نابلد كو اجتہاد و قياس پر جسو ر كرديا ہے- آج كل جو لوگ اُمورِ شريعت ميں غوروخوض اور بحث و تحقيق ميں كود پڑے ہيں، ان كى اكثريت ايسے لوگوں كى ہے جو اگرچہ زبان كى روانى، عبارت كى شستگى اور اُسلوب كى عمدگى سے بہرہ ور ہے، ليكن شريعت كے صحيح علم سے اُنہيں دور كا بهى واسطہ نہيں- وہ فہم وبصيرت اور شرعى علوم پر مكمل دسترس حاصل كئے بغير اور كتاب و سنت كے دلائل صحيحہ كا سہارا لئے بغير اُمورِ شريعت ميں عجيب و غريب موشگافياں كررہے ہيں-

ايسے لوگوں كى سب سے بڑى دليل يہ ہے كہ اسلام ميں عيسائيت كى طرح ملائيت اور تهياكريسى كا تصور نہيں ہے- اس لئے ہر كسى كو دين كے متعلق بات كرنے كا حق حاصل ہے- ہم كہتے ہيں كہ ہاں يہ درست ہے كہ اسلام ميں كسى خاص طبقہ كى دين پراجارہ دارى نہيں ہے كہ اس كے سوا كسى اور كو شريعت كے بارے بات كرنے كا حق حاصل نہ ہو، بلكہ ہر مسلمان كويہ حق حاصل ہے، بشرطيكہ اس ميں وہ شرائط موجود ہوں جو شرعى اُمور ميں بات كرنے كا لازمى تقاضا ہيں- يہ راستہ سب كے لئے كهلا ہے، ليكن اس كا يہ مطلب قطعاً نہيں كہ شریعت كو مباح گھاس سمجھ ليا جائے اور جو مرضى اس پر منہ مارى كرتا پهرے- مانا كہ اسلام ميں پروہت اورملائيت كا تصور نہيں ليكن اسلام ميں شريعت كى مہارت كا تصور ضرور پايا جاتا ہے- كتاب وسنت كى نصوص كو جاننا اوران كے الفاظ كى دلالت اور معانى كو سمجھنا علما كے بغير ممكن نہيں ہے!!

تعجب كى بات يہ ہے كہ لوگوں كو دنياوى معاملات ميں تو اس حقيقت كا بخوبى ادراك ہے، ليكن دينى معاملات ميں اس سے نابلد كيوں ہيں؟ مثال كے طور پر اس دور ميں لائبريرياں طبى كتب سے كچھا كھچ بهرى ہوئى ہيں- ہزاروں كى تعداد ميں طبى پمفلٹ، كتابچے اورجرائد دنيا كے كونے كونے ميں پهيل چكے ہيں- بے شمار ايسے مراكز ہيں جو طبى كتب و رسائل كى طباعت واشاعت كا اہتمام كرتے ہيں۔

اب ميں آپ سے پوچهتا ہوں كہ طبى تصاوير، رپوٹوں، انڈكس اور اعدادوشمار پر مشتمل يہ بے شمار كتابيں جو آئے دن جديد اور ٹيكنيكل طرز پر ہمارے سامنے آرہى ہيں، كيا لوگوں كو ريسرچ اور ڈاكٹروں سے بے نياز كر ديں گى؟ كيا ہسپتال اور كلينك اور پريكٹس كے مراكز كهولنے كى ضرورت ختم ہوجائے گى؟ يقينا آپ كا جواب نفى ميں ہوگا اور آپ يہ ماننے پر مجبور ہوں گے كہ اس قسم كے ہسپتال، كلينك اور پريكٹس مراكز كهولنے كى ضرورت روز بروز بڑھ رہى ہے- آخر كيوں؟ اس لئے كہ كاغذ كے يہ اوراق ہمارى ضرورت پورى نہيں كرسكتے اور ان اوراق سے ايك سپيشلسٹ ڈاكٹرہى صحيح معنوں ميں استفادہ كرسكتا ہے- رہے عامة الناس تو وہ اس سے كسى حد تك توفائدہ حاصل كرسكتے ہيں،ليكن ان ميں سے بہت كم ايسے ہوتے ہيں جو عام معلومات كے ذريعے نسخہ تجويز كرنے اور مريض كا علاج كرنے كے قابل ہوجائيں،پهر بهى ہميشہ ايسے نہيں ہوتا، لہٰذا ہم ميڈيكل اورطبيہ كالجوں، تحقيق اور ريسرچ كے خصوصى طبى مراكز اور اس سلسلے ميں جو كاوشيں ہو رہى ہيں ، ان سے مستغنى نہيں ہوسكتے-

جب بات اس طرح ہے تو پهر ہم كيسے يہ مان ليں كہ محض قرآن اوركتب ِحديث ميں شرعى نصوص كا پايا جانا ہى عام و خاص سب كو كافى ہوجائے گا اور انہيں علما سے پوچھنے پچھانے كى ضرورت پيش نہيں آئے گى اور ہم يہ كیسے تسليم كر ليں كہ ہر مسلمان كسى بهى مسئلہ ميں محض اس بنا پر كہ وہ ايك نص سے واقف ہے اور سمجھتا ہے كہ يہ نص اسى مسئلہ كے متعلق ہے، اسے كھلى چھٹى دے دى جائے كہ وہ جيسے چاہے فتوىٰ سازى كرتا پهرے اور محض اپنى مرضى يا ہوائے نفس كے تقاضے سے انكشاف و تحقيق كا بازار گرم كردے، حالانكہ اس كے پاس علم و فضل كى اتنى پونجى نہيں ہے جس كى روشنى ميں وہ مسئلہ كا صحيح كهوج لگا سكے۔

يہاں ہم اسى قسم كے ايك محقق كا ذكر كرنا ضرورى سمجھتے ہيں جس نے ايك مشہور و معروف مجلہ ميں ايك طويل مضمون لكها-مضمون كا عنوان تها:
”صحيح بخارى ميں جو كچھ ہے، وہ سب كا سب صحيح نہيں ہے!“

ہم يقين سے كہہ سكتے ہيں كہ اس كا يہ دعوىٰ اس كے قلت ِمطالعہ كاغمازہے اور اس كے پاس علم كا اتنا سرمايہ نہيں جو اس كے سامنے حقيقت كو واضح كرسكے!!

اپنے دعوىٰ كے ثبوت ميں اس نے حضرت عائشہ كى وہ روايت پيش كى جس ميں حضرت عائشہ  فرماتى ہيں كہ

كان ! يأمرني فأتّزر فيباشرني وأنا حائض
”رسول اللہ ﷺ مجهے تہبند باندهنے كا حكم ديتے اور اس كے بعد مجھ سے مباشرت كرتے درآنحالے كہ ميں حائضہ ہوتى-“ 6

علم حديث سے معمولى شناسائى ركهنے والا انسان بهى بخوبى سمجھ سكتا ہے كہ يہاں مباشرت سے مراد جماع سے ماسوا باقى جسم سے استمتاع ہے- كيونكہ حديث ميں نہيں، كيونكہ يہ قرآنِ كريم كى اس آيت سے متعارض ہے :

وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَٱعْتَزِلُواٱلنِّسَآءَ فِى ٱلْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَ‌بُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْ‌نَ ۖ ... ﴿٢٢٢﴾...سورۃ البقرۃ
”پوچهتے ہيں كہ حيض كا كيا حكم ہے؟ كہو وہ ايك گندگى كى حالت ہے- اس ميں عورتوں كے قريب نہ جاؤ اور ان سے الگ رہو جب تك كہ وہ پاك صاف نہ ہوجائيں-“

چنانچہ جب كوئى شخص اصل مصادر، شروحاتِ حديث ، ائمہ كے اقوال اور معتمد كتب سے بے نياز ہو كر مسائل كو جانچنے كى كوشش كرے گا تو ظاہر ہے كہ وہ بڑى آسانى سے اس قسم كى فاش غلطيوں بلكہ اس سے بهى زيادہ خطرناك غلطيوں كا شكار ہوجائے گا-

افسوس صد افسوس كہ لوگ احاديث ِنبويہ اور فقہى مسائل كو اپنى آرا كا تختہٴ مشق بنانے اور احاديث ِنبويہ كو صحيح اور ضعيف قرار دينے، فقہى مسائل كو حلال و حرام ،مستحب ، مكروہ اور مباح قرار دينے سے ذرا باك محسوس نہيں كرتے اور ہوائے نفس كے تقاضوں سے مجبور ہو كر احاديث اور شرعى احكام كى تفسير كرنے بیٹھ جاتے ہيں اور ستم يہ كہ كتب ِشروحات يا اس كے بارے ميں علما كے اقوال كو ايك نظر ديكهنے كى بهى ضرورت محسوس نہيں كرتے-اللہ تعالىٰ نے قرآن مجيد ميں دومقامات پر يہ تاكيد فرمائى ہے، پہلے سورة نحل ميں اور پهر سورة انبياء ميں كہ

فَسْـَٔلُوٓا أَهْلَ ٱلذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٤٣...سورۃ النحل
”(مسلمانو!) اگر تم خود نہيں جانتے تو اہل علم سے دريافت كرلو-“

يہاں اہل ذكر سے مراد علما ہيں اور شریعت ہميں اس بات كا پابند كرتى ہے كہ كوئى بهى مسئلہ ہو، اس شخص سے پوچها جائے جو اس بارے ميں مستند ہو-اگر وہ طبى مسئلہ ہو تو اطبا سے پوچھنا چاہئے- اگر مسئلہ لغوى ہے تو كسى اديب يا شاعر سے پوچها جائے- اگر شريعت كا مسئلہ ہو تو علماءِ شريعت سے پوچھنا چاہئے اور يہى لوگ اہل ذكر ہيں جن كا تذكرہ اللہ تعالىٰ نے آيت:

فَسْـَٔلُوٓاأَهْلَ ٱلذِّكْرِ‌ ... ﴿٤٣...سورۃ النحل

ميں كياہے-

جس طرح ايك فقیہ سے طب كا كوئى مسئلہ پوچهنا مناسب نہيں ہے، ايسے ہى كسى ڈاكٹر سے شريعت كا مسئلہ پوچھنا بهى قطعى مناسب نہيں- نہ ہى كسى اديب، شاعر يا صحافى سے شریعت كا كوئى مسئلہ پوچها جاسكتا ہے- یقینايہ لوگ ہمارے لئے قابل احترام ہيں- يہ حضرات بهى معاشرے كى ترقى اور اس كے اخلاق كى تہذيب اور نوجوان نسل كى تاديب ميں اہم كردار ادا كر رہے ہيں، ليكن يہ لوگ شرعى علوم كے ماہر نہيں، اس لئے ان سے شرعى مسئلہ پوچهنا بے جا ہوگا-

رسول اللہ ﷺ نے ان صحابہ پر سخت ناراضگى كا اظہار فرمايا تها جنہوں ايك موقع پر بغير علم كے فتوىٰ ديا تها- وہ طويل حديث ہے جس كا حاصل قصہ يہ ہے كہ
” ايك صحابى كسى جنگ ميں شريك تها كہ اس كو پتهر لگا اور اس كا سر زخمى ہوگيا- اسى دوران وہ جُنبی ہوگيا- تو اس نے اپنے ساتهيوں سے دريافت كياكہ اب وہ كيا كرے؟ ساتهيوں نے اسے غسل كرنے كامشورہ ديا- اس نے غسل كيا- نتيجہ يہ ہوا كہ اس كا زخم بگڑا اور اس كى موت واقع ہوگئى- جب نبى ﷺ كو واقعہ كا علم ہوا تو فرمايا: خدا ان كو ہلاك كرے ان لوگوں نے اسے مار ڈالا- جب مسئلہ معلوم نہيں تها تو پوچھ كيوں نہيں ليا، لا علمى كا علاج دريافت كرلينا ہى تو ہے-“ 7

يہاں نبى ﷺ نے يہ رہنمائى فرمائى ہے كہ وہ عاجز اور جاہل شخص جو سرمايہٴ علم سے محروم ہے،ا س كے لئے طريقہ كار يہ ہے كہ وہ كسى سے دريافت كرلے۔

اسى طرح حديث ميں ايك ملازم كا قصہ مشہور ہے كہ ايك شخص كسى كے ہاں ملازم تها - اس نے مالك كى بيوى سے زنا كرليا- ملازم كے باپ نے لوگوں سے سوال كيا تو اُنہوں نے كہا:تيرے بيٹے كو سنگسار كيا جائے گا- اس كے بعد اس نے علما سے سوال كيا تواُنہوں نے فتوىٰ ديا: تيرے بيٹے پر سو كوڑے اور ايك سال كى جلاوطنى ہے اور اس عورت كو رجم كيا جائے گا- اس كے بعد وہ نبى ﷺ كے پاس آيا اور آپ ﷺ كو واقعہ كى اطلاع دى- نبى ﷺ نے اس كا اہل علم سے سوال كرنا درست تسليم كيا اورعلما كے اس فتوىٰ پر اعتماد كيا، باوجود يكھ زمانہٴ نبوت تها اور رسول ﷺ ان كے درميان موجود تهے- 8

يہ احاديث اس بات پر دلالت كرتى ہيں كہ لوگوں كے لئے حلال و حرام كو پہچاننے كا درست طریقہ يہى ہے كہ وہ اہل علم كى طرف رجوع كريں۔
جب ہم اہل علم كى طرف رجوع كرنے كى بات كرتے ہيں تو اس سے ہمارى مراد يہ نہيں ہے كہ كوئى شخص صاحب ِعلم، مطالعہ كا حامل ہونے كے باوجود جو جواب ملے، اس پراندها اعتماد كرتے ہوئے آنكھیں بند كرلے- بلكہ ايسے صاحب ِعلم شخص كے لئے ضرورى ہے كہ عالم جو فتوىٰ دے، اس پر اس سے مناقشہ كرے، اس كے سامنے اس فتوىٰ كے مدمقابل دوسرا قول پيش كرے- اس سے دليل كا مطالبہ بهى كرے تو اس ميں كوئى حرج نہيں ہے !!

اس لئے ضرورى ہے كہ مسائل شرعیہ كے متعلق بات نہايت ٹهوس اور رطب و يابس سے بالكل پاك ہونى چاہئے- ہر شخص كو يہ اختيار نہيں دياجاسكتا كہ وہ بغير كسى قيد و شرط كے شتر بے مہار شرعى مسائل كو اپنى انكشاف و تحقيق كا تختہٴ مشق بنائے- وگرنہ پهر وہى صورت ہوگى كہ ہر شخص شرعى مسائل ميں فتوىٰ بازى كا بازار گرم دے گا،يہ سوچے بغير كہ آيا وہ اس منصب كا اہل ہے؟ اس كے پاس علم كى اتنى پونجى ہے جو اسے منصب ِاجتہاد پر فائز كرسكے؟ توپهر خود ہى بتائيے كہ ملحدانہ اجتہاد كے اشہب ِتيز رو كو كون روك سكے گا اور تشريع جديد اور وضع دين كى قباحتوں كى روك تهام كيونكر ہوسكے گى؟

يہ معمولى كام نہيں كہ ہر شخص اس سے عہد ہ برا ہوسكے- كوئى بهى شخص ماہر علما كرام اور مفتيانِ عظام سے كسى طرح بهى بے نياز نہيں ہوسكتا- وہ علما جو وسيع مہارت اور طويل تجربہ كے حامل ہيں اور جن كى زندگياں كتب كى ورق گردانى ميں گھپ گئيں اور علم كا كوئى گوشہ ان سے مخفى نہيں ہے۔

(2) دعوىٰ اجتہاد
اللہ تعالىٰ كے بارے ميں بغير علم كے بات كرنے كى دوسرى صورت دعوىٰ اجتہاد ہے- معاملہ صرف شرعى علوم ميں بحث و مباحثہ تك محدود نہيں رہا، بلكہ معاملہ اس سے بہت آگے بڑھ گيا ہے اور وہ يہ كہ اب ہر شخص مجتہد ہونے كا دعويدار ہے- اس سے يہ نہ سمجھا جائے كہ ہم ان لوگوں ميں سے ہيں جن كا دعوىٰ ہے كہ اجتہاد كا دروازہ بند ہوگيا ہے، جيساكہ بعض لوگوں كى طرف سے اعتراض كيا جاتاہے كہ ”ديكهو ! فلاں نے اجتہاد كا دروازہ بند كرديا …!!“
”كيا آپ لوگوں كى عقلوں پر پابندى لگانا چاہتے ہيں…!!“

تو ايسا ہرگز نہيں ہے- بلكہ ہم يہ كہتے ہيں اور بعض ہم عصر مصنّفين بهى ہمارے ہم نوا ہيں، كہ اجتہاد كا دروازہ كهولا نہيں گيا بلكہ اسے بالكل توڑ ديا گيا ہے- اس كے كواڑ ہر ايك كے لئے كهول ديے گئے ہيں اور ہر شخص اس ميں داخل ہونے كے لئے آزاد ہے، خواہ وہ اجتہاد كا اہل ہو يا نہ ہو- درحقيقت ايسے لوگ اجتہاد كے دعويدار بن بیٹھے ہيں جنہيں سوائے اس كے نام كے كچھ معلوم نہيں- وہ سمجهتے ہيں كہ اگر ان كااجتہاد درست ہوگا تو دوہرے اجر كے مستحق ہوں گے، اگر غلط ہوگا تو ايك اجر كے مستحق ہيں- حالانكہ يہ لوگ اس حديث كے اصل مفہوم سے واقف نہيں ہيں- دراصل يہى لوگ حديث (من كذب على متعمدًا)كے صحيح مصداق ہيں -

مقامِ افسوس ہے كہ ہر شخص اجتہاد كا مدعى ہے ،جبكہ اجتہاد تو دور كى بات، علما نے توفتوىٰ دينے كے لئے بهى شرائط مقرر كى ہيں- چنانچہ وہ شرائط ملاحظہ فرمائيے جن كا ايك مفتى ميں پاياجانا ضرورى ہے :
(1)اسلام:

كافر اور مرتد كو يہ حق نہيں كہ وہ شرعى مسائل ميں گفتگو كرے حتىٰ كہ وہ مسلمان ہوجائے يا ارتداد سے توبہ كرلے، پهر تعليم حاصل كرے يہاں تك كہ وہ علم كے اس مرتبہ پر پہنچ جائے جو اسے افتا جيسے منصب ِجليل كا اہل ثابت كرسكے-

(2)مكلف ہونا:

وہ شخص جو تكليف شرعى كى عمر كونہ پہنچا ہو، وہ فتوىٰ نہيں دے سكتا-

(3) عدالت:

فاسق انسان خواه اس كا فسق قولى هو يا فعلى هو يا اعتقادى؛ ايسے شخص كے فتوىٰ كو قبول كيا جائے گا، نہ اس كى بات سنى جائے گى۔

يہ تين شرائط: مسلمان ہونا ، مكلف ہونا، عادل ہونا تمام علما كے نزديك متفقہ ہيں اور علما كا اس بات پر اجماع ہے كہ مفتى اور شرعى مسائل ميں بات چيت كرنے والے ميں ان شروط كا پايا جانا ضرورى ہے-ان كے علاوہ چند شروط اور ہيں جن ميں علما كا اختلاف ہے :

مفتى كى بات كو صرف اس صورت ميں قبول كيا جائے گا،جب وہ مجتہد ہو-مجتہد ہونے كا مطلب يہ ہے كہ كتاب و سنت كى نصوص كا كامل علم ركهتاہو، علومِ لسانى پر عبور ركهتا ہو، اس كى اُصولِ فقہ پر نظر ہو، مسائل اجماعيہ سے واقفيت ركهتا ہو، تاكہ ايسا نہ ہو كہ كوئى قول اجماع كے خلاف ہو اور اسے معلوم ہى نہ ہو- مزيد برآں تاريخ، فقہ، ائمہ و مجتہدين كے اختلافات اور ان كے مسلك و دلائل سے بهى آگاہ ہو، تاكہ وہ ائمہ وعلما كے اختلافات كى گتھیاں سلجها كر اس ميں سے راجح اور مرجوح كا امتياز كرسكے۔

بعض نے يہاں ايك اور شرط كا اضافہ كيا ہے كہ مفتى فطرتِ سليمہ كا حامل اور غير معمولى ذہنى سلجهاؤ ركهتا ہو اور اس لائق ہو كہ زير بحث مسئلہ پر تمام سمتوں سے غوروفكر كرسكے جو اس مسئلہ كوسلجھانے ميں ممدومعاون ہوسكيں- مفتى كے لئے ضرورى ہے كہ وہ ايك خاص ذہنى معيار كا مالك ہو- اصابت ِرائے اور پورى ثقاہت كے بغير اس كے لئے اس وادىٴ پرخار ميں قدم ركهنا خطرہ سے خالى نہيں-امام جوينى اس كى تعبير يوں كرتے ہيں كہ
”مفتى كيلئے ضرورى ہے كہ وہ فطرى لحاظ سے فقیہ ہو- یعنى وہ بہت بيدار مغز، نہايت متنبہ اور اعلىٰ درجہ كا ذہين انسان ہو- حالاتِ حاضرہ پر اس كى گہر ى نظر ہو، لوگوں كے حیلوں اور ان كى مكاريوں كو خوب جانتا ہو اور نہايت احسن طريقے سے حق تك پہنچنے كى استطاعت ركهتا ہو۔“

اسى طرح امام احمد بن حنبل ان شرائط كا اظہار كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ جب تك كسى ميں درج ذيل پانچ اوصاف نہ ہوں، وہ مفتى بننے كا اہل نہيں ہو سكتا :
(1) وہ شخص خالص نيت كا حامل ہو- جس شخص كى نيت خالص نہ ہوگى، نہ اسے خود نورانيت حاصل ہوگى اور نہ اس كے كلام ميں نورانيت ہوگى۔

(2) دوسرى شرط يہ كہ وہ شخص حلم و بردبارى اور وقار و شائستگى جيسى صفات سے آراستہ ہو اور پورے دينى ڈهانچہ پراس كى تفصيلى نظر ہو-مطلب يہ ہے كہ ايك مفتى كو ايسے بلند اخلاق سے متصف ہونا چاہيے جو اسے لوگوں كى نظروں ميں قدوة اور نمونہ بنا ديں۔ وہ لوگوں كے ہاں ثقاہت كا معيار بن جائے كہ وہ شريعت كے معانى كى جو تعبير و تشريح كرے، لوگ بلاجهجك اسے قبول كرليں-

(3) تيسرى شرط يہ كہ جو علمى ڈهانچہ اس كے پاس ہے، اس پر اس كى گرفت مضبوط ہو- مطلوبہ مسائل شرعيہ پر اسے مكمل عبور اور قدرت حاصل ہو۔ اسے يہ معلوم ہو كہ ہمارا دين كيا ہے، اس كى عبادات كس ڈهب كى ہيں، عقائد كياہيں اور اخلاق ومعاشرت كى كيا نوعيت ہے۔

(4) كفايت شعارى مفتى كا نماياں وصف ہونا چاہئے كہ جو كچھ لوگوں كے ہاتھ ميں ہے، اس سے وہ اپنے آپ كو بالكل مستغنى اور بے نياز كرلے، وگرنہ وہ لوگوں كے ہاتهوں ميں كٹھ پتلى بن كے رہ جائے گا۔

(5) مفتى كيلئے پانچويں شرط يہ ہے كہ وہ زمانے كے حالات او رلوگوں كى طبائع سے خوب واقف ہو تاكہ ان كے حیلوں اور مكاريوں كوسمجھ سكے۔سچے اور جهوٹے ميں تميز كرسكے اوركسى كى تيز طرارى اورمكروفريب سے دهوكہ ميں مبتلا نہ ہوجائے۔9

ان شرائط كى اہميت كے پيش نظرائمہ كرام خود بهى حتىٰ الوسع فتوىٰ دينے سے اجتناب كرتے اور دوسروں كوبهى بغير علم كے فتوىٰ دينے سے منع كرتے- امام ابن قيم اپنى كتاب أعلام الموقعينميں لكھتے ہيں كہ
”ہمارے شيخ (علامہ ابن تیمیہ ) ان لوگوں سے شديد نفرت كا اظہاركرتے تهے جوبغير علم كے فتوىٰ دينے اور شرعى علوم ميں زبان كهولنے كى جسارت كرتے۔ لوگ اُنہيں كہا كرتے كہ كيا آپ كو اللہ تعالىٰ نے ان مفتيوں كى نگرانى كى ذمہ دارى سونپى ہے؟ تو آپ نے فرمايا:”جب روٹياں پكانے والے باورچى پر داروغہ مقرر ہے تو جاہل مفتيوں كو كيوں آزاد چهوڑ ديا جائے۔“

ليكن حيرت كى بات يہ ہے كہ بعض لوگ ابن تیمیہ  كى طرف يہ بات منسوب كرتے ہيں كہ وہ عاصى اور فاسق كو بهى اجتہاد كا اہل قرار ديتے ہيں، جبكہ ابن تیمیہ  نے ايسے لوگوں كو خوب ہدفِ تنقيد ٹھہرايا ہے اور انہيں فتوىٰ دينے سے منع كياجو فتوىٰ دينے كے اہل نہ ہونے كے باوجود فتوىٰ بازى كرتے ہيں -پهر يہ كيسے ممكن ہوسكتا ہے كہ وہ عام آدمى كو اجتہاد كا مجاز قرار ديں۔“10

اگر آپ ايسے لوگوں سے احتجاج كريں كہ بھئى آپ لوگ منصب ِافتا پر فائز ہونے كے اہل نہيں ہيں تو ان كا جواب يہ ہوگاكہ”كيا رسول اللہ ﷺ كا يہ فرمان صحيح نہيں ہے كہ جب حاكم اجتہاد كرے، پهر اس كا اجتہاد درست ہو تو اس كو دو اجر مليں گے اور اگر غلط ہو تو اس كو ايك اجر ملے گا- 11

لہٰذا ميں دو يا كم از كم ايك اجر سے اپنے كو محروم نہيں كرنا چاہتا- پهر آپ اس قدر پريشان كيوں ہيں؟كيوں مجھ پر اعتراض كرتے ہيں اور مجهے اپنے علم كے مطابق مسائل شرعيہ ميں بات كرنے اور فتوىٰ دينے سے كيوں روكتے ہيں؟“

ليكن درحقيقت مذكورہ بالا حديث كا مصداق وہ شخص ہے جو درج ذيل دو شرائط كا حامل ہو :
(1)پہلى شرط يہ ہے كہ وہ شخص عملى طور پر اجتہاد كرنے كى اہليت ركهتا ہو- اس كے لئے ضرورى اہليت كا معيار يہ ہے كہ وہ بے پاياں اور غيرمعمولى علم كا حامل شخص ہو- اس كى معلومات كا دائرہ انتہائى حد تك وسيع ہو۔

(2)دوسرى شرط يہ ہے كہ وہ شخص پيش آمدہ مسئلہ كے اجتہاد ميں اپنى پورى صلاحيت صرف كردے- اس شخص كامشہور ومعروف ہونا كافى نہ ہوگا، بلكہ اس كے لئے ضرورى ہے كہ وہ اس مسئلہ كے بارے ميں تمام فقہا كى آرا كو پيش نگاہ ركهے اور مسئلہ كے تمام پہلوؤں پر غوروفكر كرے-اگر كسى سے بحث مباحثہ اور پوچھنے كى ضرورت پڑ جائے تو كسى طرح كا عار محسوس نہ كرے، حتىٰ كہ حق اس كے سامنے واضح ہوجائے۔ اس كے بعد فتوىٰ دے تو كوئى مضائقہ نہيں۔ اس صورت ميں وہ مذكورہ حديث كا صحيح مصداق اور اجر كا مستحق ہو گا - ليكن اگر مذكورہ شرائط اس ميں نہيں تو ايسا شخص گناہگار ہوگا خواہ اس كا فتوىٰ درست ہى كيوں نہ ہو، كيو نكہ اس كا درستگى كو پالينا ايك اتفاقيہ امر تصور ہوگا، اس لئے وہ دونوں حالتوں ميں گناہ كامرتكب ہوگا-اس كى دليل پيغمبر ﷺ كا يہ فرمان ہے كہ

من قال في القرآن برأيه فقد أخطأ
” جس نے قرآن مجيد كے متعلق اپنى رائے سے كوئى بات كہى تو يقينا ا س نے بہت برا كيا۔“

اگر يہ حديث صحيح ہے تو زير بحث موضوع كى زبردست دليل ہے۔ اگر صحيح نہيں بهى تو پهر سنن ابن ماجہ كى ايك صحيح حديث ہے،امام احمد اور ديگر نے بهى اسے روايت كيا ہے كہ

نبى ﷺ نے فرمايا:

من أفتى بفتيا غير ثبت فإنما إثمه علىٰ من أفتاه
”جس كو غلط فتوىٰ ديا گيا تو گناہ اس پر نہيں بلكہ فتوىٰ دينے والے پر ہوگا۔“

كيونكہ يہ مفتى بغير علم اور دليل شرعى كے بات كر رہا ہے۔ اس لئے اس كا اپنا گناہ بهى اپنے سر ہوگا اور جس كو وہ گمراہى كى طرف دهكيل رہا ہے، اس كا گناہ بهى اسى كے سر ہوگا۔

چنانچہ فرمانِ الٰہى ہے :
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَ‌ىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ﴿١٤٤...سورۃ الانعام
”پهر اس سے بڑھ كر ظالم اور كون ہوگا جو اللہ كى طرف منسوب كركے جهوٹى بات كہے تاكہ علم كے بغير لوگوں كى غلط راہنمائى كرے۔يقينا اللہ ايسے ظالموں كو راہ راست نہيں دكهاتا۔“

تو معلوم ہوا كہ بغير علم كے دينى معاملات ميں طبع آزمائى كرنے والا اللہ كے ہاں سب سے بڑا ظالم ہے- اپنى ذات پر بهى ظلم ڈها رہا ہے اور پورى اُمت اور معاشرے كو بهى تختہٴ ستم بنا رہا ہے اور روزِ قيامت يہ شخص سب كا بار اپنے كندهوں پر اُٹهائے ہوئے ہوگا-

اللہ تعالىٰ كا فرمان ہے:
لِيَحْمِلُوٓا أَوْزَارَ‌هُمْ كَامِلَةً يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ‌ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُ‌ونَ ﴿٢٥...سورۃ النحل
”(ان كے اس طرزِ عمل كا نتيجہ يہ ہو گا) كہ قيامت كے دن پورا پورا اپنے گناہوں كا بوجہ اُٹهائيں گے اور اُن لوگوں كا بوجہ بهى جنہيں (اس قسم كے فتوے دے كر) يہ بغير علم و روشنى كے گمراہ كرتے رہے، تو ديكهو، كيا ہى برا بوجھ ہے جو يہ اپنے اوپرلادے چلے جارہے ہيں۔“

امام ابن قيم اپنى كتاب أعلام الموقعين ميں فرماتے ہيں:
”جو شخص اہل نہ ہونے كے باوجود مفتى بن بیٹھے ،وہ گناہگار اور نافرمان ہے اور جو حكمران ايسے شخص كو منصب ِافتا پرفائز كرتا ہے، وہ بهى گناہ ميں برابر كا شريك ہے۔“ 12

امام ابن جوزى فرماتے ہيں :
”حكمرانوں كو چاہئے كہ وہ نااہل مفتيوں كو منصب ِ افتا سے ہٹا ديں ،جيساكہ بنو اُميہ كے حكمرانوں نے كيا- ايسے مفتيوں كى مثال اس شخص كى سى ہے جسے خود تو راستے كا علم نہيں، ليكن دوسروں كو بتلاتا ہے كہ تمہیں اس راستہ پر جانا ہے يا اس اندهے كى سى ہے جو نمازيوں كو قبلہ بتلانے بیٹھ جائے يا اس اناڑى كى جو طب كے حروفِ ابجد سے بهى واقف نہيں، ليكن مطب كهول كربیٹھ جائے،بلكہ يہ شخص تو ان سب سے بدتر ہے- جب ايك حكمران جاہل اور نيم حكيم كو مطب كهولنے سے روكنا ضرورى سمجھتا ہے تو كيا يہ ضرورى نہيں كہ وہ ان جاہلوں كو فتوىٰ بازى سے روكے جو قرآن وسنت كے علم سے مطلقا ً بے بہرہ ہيں-“13

فقہاء حنفيہ نے ايسے مفتى كوالمفتي الماجن (بے شرم، كم سواد) مفتى كے نام سے موسوم كيا ہے- چنانچہ امام ابوحنيفہ فرماتے ہيں:
”ايسے كم سواد ، بے شرم اور نااہل مفتى پر پابندى عائد ہونى چاہئے- پوچها گيا: كيوں؟ تو فرمايا: اس لئے كہ وہ فتوىٰ كے ساتھ مذاق كرتا ہے ،يعنى وہ نااہل ہونے كے باوجود فتوىٰ ديتا ہے۔“

اللہ اُمت ِمسلمہ كو ايسے مفتیوں كى شر سے محفوظ ركهے جنہوں نے فتوىٰ دينے كے لئے آستینیں چڑها ركهى ہيں۔ ان كى مثال ايسے بھیڑيوں كى ہے جنہوں نے بھیڑ كى كهال پہن ركهى ہو۔يہ لوگ اللہ كى ترجمانى اپنى خواہشاتِ نفس كے تحت كركے اللہ پر بہتان قائم كرتے ہيں۔

البتہ بمقتضائے حال اگر كوئى طالب ِعلم كسى خاص مسئلہ كے بارے ميں تحقیق كرتا ہے يا كوئى اورآدمى كتب سے استفادہ كركے كسى مسئلہ كے بارے تحقيق كرتا ہے اور اس مسئلہ كے متعلق ائمہ كے اقوال اور دلائل كى چهان بين كركے كسى نتيجہ پرپہنچ جاتا ہے تواس ميں كوئى مضائقہ نہيں ہے، كيونكہ اجتہاد بقولِ اہل علم كے جزوى بهى ہوسكتا ہے، يعنى ہوسكتا ہے كہ ايك آدمى كو ايك خاص مسئلہ پراستيعاب وعبور حاصل ہو تو اسے اس مسئلہ پراجتہاد كرنے كا مجاز قرار ديا جاسكتا ہے… ليكن يہ اور طرز كا اجتہاد ہے۔

(3) دين كے بعض مسائل كو معمولى سمجھ كر ان ميں بحث وتحقيق كا جوازنكالنا
بعض لوگ يہ سمجهتے ہيں كہ دين كے بعض مسائل بہت آسان ہيں، اس لئے ان مسائل ميں گفتگو كرنے ميں كوئى حرج نہيں ہے- اس كى صورت يوں سمجهئے كہ بعض لوگ جو يا تو عامى قسم كے ہوتے ہيں يا كالجوں كے تعليم يافتہ اور آج كے جديد مفكرين جن كى دينى معلومات اس قدر نہيں ہوتيں كہ وہ شرعى مسائل ميں بات كرنے كے قابل ہوسكيں، وہ بیٹھ جاتے ہيں اور كسى خاص مسئلہ كے بارے ميں طبع آزمائى شروع كرديتے ہيں - پهر معاملہ محض بحث مباحثہ تك محدود نہيں رہتا بلكہ وہ ايك نتيجہ اور معين حل تك پہنچنے كى ناكام سعى كرتے ہيں اور آخر ميں كہتے كيا ہيں؟كہ ” لو يہ كون سا مشكل مسئلہ تها ؟اس ميں تو زيادہ تكلف كرنے كى ضرورت نہيں تهى۔“

ذرا فقہ و حديث كے جليل القدر عالم امام مالك كى طرف ديكهئے۔ ان سے ايك مرتبہ مسئلہ پوچها گيا تو فرمايا :ميں نہيں جانتا- اس پرپوچھنے والے نے كہا كہ يہ تو معمولى مسئلہ ہے۔ امام مالك كا يہ سننا تها كہ چہرہ غصہ سے لال ہوگيااور اس آدمى كو مخاطب كركے فرمايا:

”سنو !علم دين كو كبهى معمولى اور ہلكا نہ سمجھنا- كيا اللہ كا يہ فرمان نہيں ہے:

إِنَّا سَنُلْقِى عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ﴿٥...سورۃ المزمل

”ہم تم پر ايك بهارى كلام نازل كرنے والے ہيں-“ 14

ثابت يہ ہوا كہ حلال و حرام كے مسائل معمولى نہيں ہيں- پس كوئى بهى آدمى شرعى مسائل ميں زبان كهولنے سے پہلے يہ ضرور سوچ لے كہ وہ ايك شرعى مسئلہ كا فيصلہ كررہا ہے- وہ گويا اللہ اور اسكے رسول كا ترجمان ہے- ربّ العالمين كى طرف سے فتوىٰ پر مہر ثبت كررہا ہے- وہ اپنى جيب ِخاص سے كوئى چيز نہيں دے رہا كہ اس ميں اپنى مرضى سے تصرف كرلے - اسلئے اس معمولى سى غفلت اور تساہل پسندى بهى اس كيلئے انتہائى خطرناك ثابت ہو سكتى ہے - (جارى ہے)


حوالہ جات
1.      الاحكام:29
2.      أعلام الموقعين: 1/10
3.      سنن دارمى: 1/49
4.      ايضاً
5.      أعلام الموقعين:1/10
6.      بخارى مع الفتح: 1/ 403
7.      سنن ابو داود: 1/93 وغيرہ
8.      بخارى مع الفتح: 12/121 ومسلم:1697
9.      أعلام الموقعين: 4/199
10.  أعلام الموقعين: 4/217
11. صحيح بخارى:8/157 ومسلم؛ 1342
12.  4/317
13.  ايضاً
14.  أعلام الموقعين: 4/218