میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

عورت كے عورت سے تعلقات كيا حدكے زمرے ميں آتے ہيں؟
سوال: مجهے ايك اہم مسئلے ميں آپ كا فتوىٰ مطلوب ہے، كيونكہ يہ سوال آج كل بہت سى يونيورسٹى طالبات كى طرف سے ميرے سامنے تواتر كے ساتھ آرہا ہے كيونكہ يونيورسٹى ہاسٹلز ميں يہ بيمارى بكثرت موجود ہے :
(1) مرد كے مرد كے ساتھ غلط تعلقات ہوں تو شريعت ميں اس كى سزا موجود ہے، كيا اس كو حد قرار ديا جاسكتا ہے ؟
(2) دو طالبات كے آپس ميں غلط قسم كے تعلقات ہوں تو اس كى سزا كيا ہوگى؟ يہ حد ہوسكتى ہے يا تعزير؟ تعزير ہو تو پهر بهى كس حد تك سزا كا امكان ہوسكتا ہے؟ (ايك سائلہ)
جواب: لواطتاورسحاق (دو مردوں يا دو عورتوں كا آپس ميں غيرفطرى فعل) نہايت بے حيائى اور قبیح ترين جرائم ہيں-اوّل الذكر كا تذكرہ قرآنِ مجید ميں قومِ لوط كے قبائح ميں متعدد دفعہ ہوا،اسى جرم كى پاداش ميں ان كو صفحہٴ ہستى سے نيست و نابود كرديا گيااور قيامت تك كے ليے وہ مجرمين كيلئے مقام عبرت ہيں، نيزقرآن ميں ہے:
وَٱلَّذَانِ يَأْتِيَـٰنِهَا مِنكُمْ فَـَٔاذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِ‌ضُوا عَنْهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَّ‌حِيمًا ﴿١٦...سورۃ النساء
”اور جو دو مرد تم ميں سے بدكارى كريں تو ان كو ايذا دو، پهر اگر توبہ كرليں اور نيكو كار ہوجائيں تو ان كا پیچھا چهوڑ دو- بیشك اللہ توبہ قبول كرنے والا ، مہربان ہے۔ “

بہ سندحسن نبى ﷺ كا ارشاد ہے
(من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به) 1
”جس كو تم قومِ لوط كے جرم كا ارتكاب كرتے پاوٴ، پس فاعل اور مفعول بہ دونوں كو قتل كردو-“

اس بارے ميں صحابہ كرام كے فيصلے مختلف ہيں، مثلاً آگ ميں جلا ديا جائے، بلند و بالا گھاٹى سے گرا كر پتهروں كى بارش كردى جائے، وغيرہ وغيرہ- مذكورہ دونوں مسئلوں ميں طويل بحث كے بعد امام ابن حزم كا نظريہ ہے كہ ان پر صرف تعزير ہے۔2 ، 3

ميرے خيال ميں يہاں تعزير اقامت ِحد كے فقدان كى وجہ سے ہے-
مشكوٰة كے باب الامر بالمعروف ميں ہے كہ

”كسى قوم ميں كوئى گناہ ہوتا ہے اور وہ قوم قدرت كے باوجود ظالم كا ہاتھ نہ پكڑے تو اللہ كى طر ف سے سب پر عذاب آئے گا-“

تعزير عام حالات ميں دس كوڑے ہيں جبكہ جرم كى شناعت اور مجرم كے حالات كے پيش نظر اس ميں اضافہ بهى ہو سكتا ہے، ليكن پهربهى يہ سزا كم از كم حد سے نيچے ہى رہنى چاہئے اور حد كى كم از كم سزا 80 كوڑے ہيں- حدود معين ہيں، ان ميں اپنى طرف سے كمى بيشى نہيں كى جاسكتى، البتہ ديگر جرائم كے لئے تعزيردى جاسكتى ہے- 4

اللہ تعالىٰ كے لئے صيغہٴ جمع كا استعمال
سوال: اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں اپنے لئے جمع كا لفظ يعنى نَحْنُاستعمال كيوں كيا ہے، جبكہ قديم عربى زبان ميں واحد كے لئے جمع كا لفظ استعمال نہيں ہوتا- پهر الله تعالىٰ نے اپنے لئے’ هم‘ كالفظ كيوں استعمال كيا ہے جبكہ اللہ واحد ہے؟
جواب:بلاشبہ اللہ اكيلا معبود ہے ليكن بعض دفعہ اپنے لئے صيغہ جمع حاكميت اور اظہارِ قدرت وغير ہ كے لئے استعمال فرماتا ہے- حقيقت يہ ہے كہ

لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَٔلُونَ ﴿٢٣...سورۃ الانبیاء

”وہ جوكام كرتا ہے اُس كى پرسش نہيں ہوگى اور جو كام يہ لوگ كرتے ہيں، اس كى اُن سے پرسش ہوگى-“

بندوں كو اللہ كے لئے صيغہ جمع كے استعمال كرنے سے احتراز كرنا چاہئے،تاكہ توحيدى پہلو ميں فرق نہ آئے-چنانچہ علامہ ابن قيم فرماتے ہيں: ”پورى نماز ميں نبى ﷺ كى دعائيں لفظ واحد سے ہيں،

جيسا كہ دعا

(رَبِّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِيْ وَاهْدِنِيْ)اور دعاءِ استفتاح: (اللّهُمَّ اغْسِِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ) ہے-“ 5
جہاں تك بندوں كا آپس ميں تخاطب كا تعلق ہے سو اس ميں صيغہ جمع كے استعمال كا كوئى حرج نہيں- لفظ السلام عليكم اس امر كى واضح دليل ہے- مخاطب چاہے ايك ہو يا زيادہ صيغہ جمع كا سب پراطلاق ہے ، لہٰذا قديم عربى زبان ميں فرد كيلئے واحد كا صيغہ ہى استعمال كرنے كا دعوىٰ درست نہيں- شرعى دليل سب سے محكم ہے- 6

اُنگليوں پر تسبيحات شمار كرنے كا مسنون طريقہ
سوال: اُنگليوں پر تسبيحات شمار كرنے كا مسنون طريقہ كيا ہے ؟
جواب: رسول اللہ ﷺ تسبيحات داہنے ہاتھ كى گرہوں پر كيا كرتے تهے-سنن ابوداوٴد ميں عبداللہ بن عمرو سے مروى ہے كہ ميں نے رسول اللہ ﷺ كو ديكها :
يعقد التسبيح قال ابن قدامة بيمينه 7
”تسبيح كى گرہ لگاتے- راوىٴ حديث ابن قدامہ نے كہا: اپنے داہنے ہاتھ سے گنتى كرتے- “

سنن ابوداوٴد كى ايك دوسرى روايت ميں وأن يعقدن بالأناملتسبيحات پوروں پر گنيں“ كے الفاظ بهى ہيں-
يسيرہ كى حديث ميں اس كى علت يہ بيان ہوئى ہے كہ انگلياں عدالت ِالٰہى ميں بطورِ گواہ پيش ہوں گى جن كا آغاز چهوٹى اُنگلى سے ہوگا كيونكہ اہل عرب كا طريقہ حساب اسى سے شروع ہوتا ہے- ويسے بهى ہاتہ زمين پر ركهے ہوئے گنتى كريں تو يہ چهوٹى انگلى داہنے ہاتھ كى دا ہنى طرف سے سب سے پہلے پہلى آتى ہے-

حديث ميں ہے:

يعجبه التيمن في تنعله وترجله وطهوره وفي شأنه كله 8

”رسول الله ﷺ جوتا، كنگهى، طہارت، تمام اہم اُمور ميں دا ہنى طرف كو پسند فرماتے-“

امام نووى فرماتے ہيں: قاعدة الشرع المستمرة استحباب البداء باليمين في كل ما كان من باب التكريم والتزيين،وما كان بضدهما استحب فيه التياسر9

شرعى رواج اور ضابطہ يہ ہے كہ ہر وہ شے جس ميں تكريم اور تزيينكا پہلو پايا جاتا ہے، اس كو دا ہنى جانب سے شروع كرنا مستحب ہے اور اس كے برخلاف استنجا وغيرہ كو بائيں ہاتھ سے شروع كرنا مستحب ہے- البتہ اُنگليوں كے عقود (گرہوں/پوروں) كو اوپر يا نيچے سے استعمال كرنے كابظاہر اختيار ہے- والله اعلم!
مولانا عبدالرحمن محدث مباركپورى نے تحفة الاحوذى (4/284) ميں أنامل سے مراد مكمل انگلياں لى ہيں ليكن يہ درست معلوم نہيں ہوتا كيونكہ بظاہر الفاظِ حديث اس كى تائيدنہيں كرتے-

سوال :كيا توڑى ميں عشر ہے؟
جواب: توڑى ميں عشر نہيں كيونكہ يہ چارہ كى قبيل سے ہے-

سوال :ميت اگر عورت ہو تو خوشبو لگائى جاسكتى ہے؟
جواب:موٴنث ميت كے لئے بهى كافور وغيرہ استعمال ہوسكتا ہے- نبى ﷺ كى صاحبزادى كے غسل ميں استعمال ہوا تها- 10

سوال :بكرنے دس سال قبل اپنے بيٹے كى شادى احمد كى بيٹى سے بغير كسى شرط كردى كيا اب احمد اپنے بيٹے كى شادى بكر كى بيٹى سے كرسكتا ہے؟
جواب: بلا شرط نكاح ’وٹہ سٹہ‘ كے زمرہ ميں نہيں آتا لہٰذا مذكورہ نكاح كرنا جائز ہے-

’زمين كو اس كے كناروں سے گھٹانا‘ سے كيا مراد ہے؟
سوال: اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں فرمايا ہے كہ ہم زمين كو اس كے كناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہيں، اس سے كيا مراد ہے؟
جواب:اس آيت كا مطلب يہ ہے كہ كفر دن بدن كم ہوتا جائے گا اور اہل اسلام كا غلبہ ہوگا- كسى نے كہا: ديہات ويران ہوئے جاتے ہيں- كسى نے كہاكہ اس سے جانوں ،پہلوں اور ميووں كاضائع ہونا مراد ہے كہ جانيں، پہل اور ميوے ضائع ہورہے ہيں اور قرطبى نے كہا: اس سے حكمرانوں كا ظلم مراد ہے، ان كے ظلم كى وجہ سے زمينى اور آسمانى بركات ناپيد ہوتى جائيں گى-11 مولانا مودودى تفہيم القرآن ميں فرماتے ہيں :
”زمين ميں ہر طرف ايك غالب طاقت كى كارفرمائى كے يہ آثار نظر آتے ہيں كہ اچانك كبهى قحط كى شكل ميں، كبهى وبا كى شكل ميں، كبهى سيلاب كى شكل ميں، كبهى زلزلے كى شكل ميں، كبهى سردى يا گرمى كى شكل اور كبهى كسى اور شكل ميں كوئى بلا ايسى آجاتى ہے جو انسان كے سب كئے دہرے پر پانى پھیر ديتى ہے- ہزاروں لاكهوں آدمى مرجاتے ہيں، بستياں تباہ ہوجاتى ہيں، لہلہاتى كھیتیاں غارت ہوجاتى ہيں اور پيداوار گھٹ جاتى ہے- تجارتوں ميں كساد بازارى آنے لگتى ہے، غرض انسان كے وسائل زندگى ميں كبهى كسى طرف سے كمى واقع ہوجاتى ہے اور كبهى كسى طرف سے اور انسان اپنا سارا زور لگا كر بهى ان نقصانات كو نہيں روك سكتا-“12

رفع اليدين كرنا او رنمازِ جنازہ وعيدين ميں اس كى حيثيت؟
سوال:كيا پیغمبر اسلام ﷺ اور صحابہ كرام رفع يدين كرتے تهے اور آخر تك كرتے رہے اور كيا نمازِ عيدين اور نماز جنازہ ميں بهى رفع يدين كرنا چاہئے-
جواب: امام ابوحنیفہ كے شاگردِ خاص امام محمد اپنى مشہور كتاب موطا ٴميں رفع اليدين كى صحيح حديث لائے ہيں-عبداللہ بن عمر سے روايت ہے كہ ”رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع كرتے تو رفع اليدين كرتے اور جب ركوع كے لئے تكبير كہتے تو رفع اليدين كرتے اور ركوع سے سراُٹهاتے تو رفع اليدين كركے سمع الله لمن حمده اور ربنا لك الحمد كہتے-“

اس سے معلوم ہوا كہ ان كے نزديك رفع اليدين كى حديث صحيح ثابت ہے، منسوخ نہيں-
امام محمد بن يحيىٰ ذہلى كا قول ہے كہ” رفع اليدين نہ كرنے والے آدمى كى نماز ناقص ہوگى-“ 13

پهر تكبیر تحريمہ كے وقت وجوب رفع اليدين كے حنفیہ بهى قائل ہيں جس دلیل كے ساتھ تكبیر تحريمہ كے وقت ہميشہ رفع اليدين كرنے كا ثبوت ملتا ہے، اسى حديث ميں ركوع سے پہلے اور ركوع كے بعد بهى رفع اليدين كاذكر ہے- اگر پہلى رفع اليدين ہميشہ ہے تو باقى جگہ بهى ہمیشگى ثابت ہوگى- رفع يدين كرنے كا جو جواز ركوع سے ماقبل وبعد كے لئے بنايا جاتاہے ، وہى جوازآغاز كى تكبیر تحريمہ پر كيوں لاگو نہيں ہوتا؟عبداللہ بن عمر كى سابقہ روايت اس امر كى واضح دليل ہے-

مولانا اشفاق الرحمن حنفى رسالہ نور العينين ميں فرماتے ہيں:”مواظبت عند الافتتاح كا ثبوت نفس نقل رفع سے نہيں بلكہ نقل رفع، و عدم نقل تركِ رفع سے ہے-“ تو يہى دليل متنازع فيہ محل كى ہوئيں-

نمازِ عيدين اور جنازہ كى تكبیر تحريمہ كے ساتھ رفع اليدين سب كے نزديك ثابت ہے- البتہ زوائدتكبیرات ميں اختلا ف ہے- بعض احاديث سے نماز ِعيدين ميں زوائد تكبیرات كے وقت رفع اليدين كا استدلال كيا جاتاہے ، ليكن وہ محل نظر ہيں- خلاصہ يہ ہے كہ نمازِ عيدين كى زوائد تكبيروں ميں رفع اليدين كے متعلق كوئى صريح دليل نہيں- امام ابن حزم لكھتے ہيں:
لم يصح قط أن رسول اللهﷺ رفع فيه يديه 14
”رسول اللہ ﷺ سے قطعاً ثابت نہيں كہ آپ نے ان تكبيروں ميں رفع اليدين كى ہو-“15
اسى طرح جنازہ كى زوائد تكبیرات ميں بهى رفع اليدين كسى مرفوع حديث سے ثابت نہيں ہے ۔16
تاہم ابن عمر سے موقوفاً بہ سند ِصحيح ثابت ہے- 17

غيب كا علم اور والدہ كے رحم كا علم؟
سوال: بخارى كى حديث ہے كہ اللہ كے سوا كوئى نہيں جانتا كہ بارش كب ہوگى اور اللہ كے سوا كوئى نہيں جانتاكہ ماں كے پيٹ ميں كيا ہے؟ ليكن ايسے سائنسى آلات ايجاد ہوچكے ہيں جن كے ذريعے يہ معلوم كيا جا سكتا ہے كہ فلاں روز بارش ہوگى اور فلاں مقام پر ہوگى اور يہ بهى معلوم كيا جا سكتا ہے كہ ماں كے پيٹ ميں بچہ ہے يا بچى؟ تو اس صحيح حديث كا كيا مطلب ہوگا؟

جواب: سائنسى ايجادات كے موجد ہواوٴں كے رُخ سے بارش كے بارے ميں قياس آرائى كرتے ہيں، قيافوں سے كسى امر كا پتہ لگانے كى كوشش كرنے كا نام علم غیب نہيں اور ما في الإرحام سے مراد رحم كى جملہ كيفيات ہيں- اس سے لڑكا يا لڑكى ہى مقصود نہيں ورنہ اس كا علم تو رحم پر مقرر فرشتے كو ڈاكٹروں سے بهى پہلے ہوجاتا ہے-تفصيلى فتوىٰ الاعتصام ميں چھپ چكا ہے-

سوال:منسوخ آيات كى تعداد ؟كتنى قرآنى آيتيں ايسى ہيں جو كہ منسوخ كر دى گئى ہيں؟
جواب:لوگوں نے بہت سارى آيات كو منسوخ قرار ديا ہے ،جبكہ شاہ ولى اللہ نے ’الفوز الكبیر‘ ميں صرف پانچ آيات كا نسخ تسليم كيا ہے۔


حوالہ جات
1. احمد:1/300،ابوداوٴد:4462،ترمذى:1456،ابن ماجہ:561
2. المحلّٰى :11/فعل قوم لوط : 460 اورمسئلہ سحاق: 472
3. سحاق(چپٹی) کے بارے میں ابن حزم نے دو قول ذکر کیے ہیں: پہلا قول علما کی ایک جماعت کا ہے،ان کی رائے یہ ہے کہ دونوں عورتوں کوسو سو کوڑے مارے جائیں،جیسا کہ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ''أدرکت علمائنا في المرأة تأت المرأةبالرفغة وأشباهها یجلدان مائة،الفاعلة والمفعولة بها''
''میں نے اپنے علما کو یہ کہتے ہوئے پایا کہ اگر عورت کسی عورت کے ساتھ سحاق اور کسی غلط تعلق کا ارتکاب کرے تو ان دونوں کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔''
اسی طرح واثلة بن أسقع سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
''السحاق زنا بالنساء بینهن'' ''سحاق عورتوں کا آپس میں زنا ہے۔''
دو سرا قول دیگر تمام علما کاہے،ان کے نزدیک یہ فعل انتہائی قبیح اور حرام ہے اور اس کی مرتکب عورت پر تعزیر عائد کی جائے گی، البتہ اس پر حد نہیں ہے۔حافظ ابن حزم نے تمام دلائل کا موازنہ کرنے اور چند صحیح نصوص کو ذکر کرنے کے بعد اس فعل کو سنگین جرم ،حرام اوراس کی مرتکب عورت پر حد کی بجائے تعزیر کو واجب قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ
''یہ نصوص اس بات پر روشن اورواضح دلیل ہیں کہ مرد کامرد سے اور عورت کا عورت سے مباشرت کرنا حرام ہے۔ جس مباشرت سے شریعت میں روکا گیا ہے،اس کا مرتکب اللہ کانافرمان اور ایک حرام فعل کا ارتکاب کر رہا ہے ،خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔جب مباشرت حرام ہے تو اگر مباشرت میں شرمگاہوں کو بھی استعمال کیا جائے تواس سے ا س جرم کی حرمت ،سنگینی اور اللہ کی نافرمانی یقینا اور بڑھ جائے گی۔نیزجب عورت اپنی شرمگاہ میں اپنے خاوند کی شرمگاہ کے علاوہ کوئی اور چیز داخل کرے گی تو اس نے قرآنی حکم (وَيَحْفَظْنَ فُرُ‌وجَهُنَّ) کو پس پشت ڈال کر شدید معصیت کا ارتکاب کیا ہے۔'' وہ مزید لکھتے ہیں:
''جب یہ ثابت ہو گیا کہ سحاق کرنے والی عورت معصیت ِالٰہی اور منکر کا ارتکاب کر رہی ہے توپھراس منکر کو ہاتھ سے روکنا فرض ہے، جیسا کہ رسول اللہ کافرمان ہے (من رأی منکم منکرًا أن یغیرہ بیدہ) ''جو تم میں منکر کا ارتکاب ہوتا دیکھے، اسے اپنے ہاتھ سے روکے۔'' لہٰذا ایسی عورت پر تعزیر ہو گی۔'' ابن شہاب زہری کا قول جس سے حد کا ثبوت ملتاہے ،اس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہمارے لیے کسی کی اتباع لازم نہیں ہے۔اور واثلہ بن اسقع کی حدیث کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اوّلاً تو یہ حدیث صحیح ثابت نہیں،کیونکہ اس میں بقیة نامی راوی ضعیف ہے ،نیز مکحول کی واثلہ سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت منقطع ہے ۔ اور بالفرض اس حدیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تو یہاں مراد وہ زنا نہیں ہے جو حد کو واجب کرتا ہے ،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''اعضا زنا کرتے ہیں اورشرمگاہ اس کی تکذیب یا تصدیق کرتی ہے۔'' تو معلوم ہوا کہ قابل حد زنا وہی ہے جو مرد کسی غیر عورت سے شرمگاہ کے ساتھ کرتا ہے ،جیسا کہ ماعز اسلمی کی حدیث میں اس کی صراحت موجودہے ۔
دلائل کی بنا پر حافظ ابن حزم کی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے ۔واللہ اعلم (اسلم صدیق)
4. اسلام كا فوجدارى قانون از عبد القادر عودہ شہيد: 1/94 بحوالہ فتح القدير: 4/112، 113 ، الاحكام السلطانيہ :192، 195 اور بدائع الصنائع: 7/33،56
5. زاد المعاد :1/263،264
6. مشكوٰة :3/1318، طبع مكتب ِاسلامى
7. ابوداوٴد مع شرح عون المعبود: 1/556
8. بخارى: باب التيمن
9. فتح البارى :1/270
10. بخارى:باب يجعل الكافور في الأخيرة
11. 9/334
12. ج3/ص161
13. صحيح ابن خزيمہ :1/298/589
14. المحلّٰى: 5/83،84
15. تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو :كتاب القول المقبول لتلميذى حافظ عبدالروٴف، شارجہ
16. ملاحظہ ہو:احكام الجنائز از علامہ البانى ص116
17. بيہقى : 4/44