بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى كے زير اہتمام كام كرنے والے علمى ادارے ’ادارہ تحقيقاتِ اسلامى‘ اسلام آباد نے چند ماہ قبل اجتماعى اجتہاد كے عمل كو متعارف كرانے كى غرض سے اہل علم كا ايك بين الاقوامى سيمينار منعقد كرنے كا فيصلہ كيا- 19سے 22/مارچ 2005ء تك يہ سيمينار فيصل مسجد سے ملحقہ كيمپس كے آڈيٹوريم ميں منعقد ہوا- اس سيمينا رميں پاكستان سے متعدد اہل علم كے علاوہ انڈيا سے چار معروف علماء كرام … مولانا جلال الدين عمرى، مولانا خالدسيف اللہ رحمانى، ڈاكٹر سعود عالم قاسمى اور مولانا فہيم اختر ندوى…نے شركت كى، جبكہ سيمينار كے افتتاحى اجلاس ميں شام سے تعلق ركهنے والى عالم اسلام كى عظيم شخصيت ڈاكٹر وہبہ زحيلى نے بهى خطاب فرمايا- ڈاكٹر زحيلى نے اس دور ميں اسلامى فقہ پر شاندار علمى كام انجام ديا ہے اور كئى جلدوں ميں پرمشتمل آپ كى كتاب الفقہ الاسلامي وأدِلَّتہ فقہ ِمقارن كے موضوع پر ايك اچهوتى تصنيف ہے- اسى بنا پر علمى حلقوں ميں آپ كو ايك خاص مقام حاصل ہے اور اُنہيں تحقيقى دنيا كى نہايت محترم شخصيت سمجھا جاتا ہے-

سيمينار ميں شركت كے لئے پاكستان سے ممتاز اہل علم كو بهى دعوت دى گئى تهى كہ ا س كے مختلف پہلووں پر اپنے مقالات تحرير كريں- تين دن كے اس سيمينار كو آٹھ نشستوں ميں تقسيم كيا گيا تها- ہر روز ظہر سے قبل اور بعد ميں دو نشستيں ہوتيں، جن ميں طے شدہ موضوعات پر اہل علم اپنے اپنے مقالات كا خلاصہ 15سے 20 منٹ ميں پيش كرتے، ہر نشست كا آخرى نصف گھنٹہ مقالات پيش كرنے والوں سے سوالات كے لئے مخصوص تها- جبكہ مغرب كے بعد خصوصى نشست ميں توسيعى خطابات كا انتظام كيا گيا تها-

جيسا كہ سيمينار كا عنوان تين اجزا پر مشتمل ہے : تصور، ارتقا اور عملى صورتيں… اسى لحاظ سے سيمينار كو بهى تين حصوں ميں تقسيم كيا گيا تها- سيمينار كا پہلادن ’اجتماعى اجتہاد كے تصور‘ كے لئے مخصوص تها، جب كہ دوسرے دن دنيا بهر ميں اس مقصد كے لئے سرگرم اداروں كے تعارف پر مبنى مقالات پڑهے جانا تهے، گويا يہ مجلسيں اس كے ارتقا پرمشتمل تهيں- جبكہ تيسرے روز سيمينار كى آخرى دو مجلسيں ’اجتماعى اجتہاد كى بعض تطبيقى وعملى صورتوں‘ پر مقالات كے لئے مخصوص تهيں مثلاً كريڈٹ كارڈ ، بیمہ كارى يا فيملى پلاننگ كے موضوعات پر ہونے والا اجتماعى اجتہاد وغيرہ-

شعبہٴ فقہ وقانون كے انچارج پروفيسر ڈاكٹر محمد طاہر منصورى اس سيمينار كى نظامت كے فرائض انجام دے رہے تهے- ان كے ساتھ معاونت كرنے والوں ميں جناب قيصر شہزاد، جناب محمد احمدمنير، ڈاكٹر سہيل حسن انچارج شعبہٴ قرآن وحديث اور ڈاكٹر عصمت اللہ شريك تهے- سمينار كے متنوع پہلووں پر توبيسيوں مقالات لكھے گئے جبكہ جائزہ كميٹى نے حسب ِذيل 8/اداروں كے بارے ميں تعارفى مقالات كو بهی سيمينار ميں شركت كے لئے منتخب كيا تها :

نام ادارہ                                       مقالہ نگار
اسلامى فقہ اكيڈمى، انڈيا                             مولانا خالد سيف اللہ رحمانى
مجلس شرعى مباركپور، انڈيا                           مولانا محمد صديق ہزاروى
اسلامى نظرياتى كونسل، پاكستان                    جناب شہزاد اقبال شام
وفاقى شرعى عدالت، پاكستان                        جناب مطيع الرحمن
المجمعالفقہي(رابطہ) مكہ مكرمہ                        جناب الطاف حسين لنگڑيال
ہيئة كبار العلماء، سعودى عرب                     ڈاكٹر سہيل عبد الغفار حسن
مجمع البحوث الإسلامية، قاہرہ                      ڈاكٹر تاج الدين ازہرى
يورپى كونسل برائے افتاء وتحقيق                  جناب تنوير احمد

افتتاحى تقريب ميں فضيلة الشيخ الدكتور وهبة الزحيلي كے علاوہ جناب وسيم سجاد سابق چيئرمين سينٹ اور جناب جسٹس (ر) خليل الرحمن خاں ريكٹر اسلامك يونيورسٹى نے بهى خطاب كيا- اس كے بعد مقالات پڑهنے والے تقريباً پچيس اہل علم كے لئے سيمينار ہال كے درميان ميں راؤنڈ ٹيبل كے گرد نشستیں ترتيب دے دى گئيں جبكہ سامعين ان كے گردا گرد ہال ميں اپنى اپنى نشستوں پر براجمان تهے- ہال كا مناسب موسم، معيارى ساؤنڈ سسٹم اور نشست وبرخاست كى موزوں سہولتيں پورے سيمينار پر وقار اور سنجيدگى كا تاثر پيدا كررہى تهيں-

سيمينار كے انتظامات وسيع سطح پر كئے گئے تهے، خطاب كرنے والے اہل علم كو آمد ورفت كے پرتپاك انتظامات كے علاوہ قيام وطعام كى سہولتيں، پڑهے جانے والے مقالات پرمشتمل كتاب، ادارہ كى منتخب مطبوعات اور ايك بيگ كا تحفہ بهى ديا گيا- ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كا بيشتر عملہ تين روز تك سيمينار كے انتظامات اور مندوبين كى خدمت ميں مشغول رہا- ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كے سينئر اراكين بهى سيمينار ميں باقاعدگى سے شركت كرتے رہے جبكہ ديگر شركا ميں يونيورسٹى كے طلبہ اور اسلام آباد كے علم دوست حضرات شامل تهے-

ادارہ كا يہ سيمينار اپنے مقصد اور نوعيت كے اعتبار سے واقعتا قابل قدر كاوش ہے- سركار ى اداروں ميں عموماً سرد مہرى كا جو رويہ پايا جاتاہے، يہ ادارہ اس سے خالى اور علمى رجحانات كا حامل ہے- اسلامى علوم كے مختلف ميدانوں ميں يہ ادارہ ملت ِاسلاميہ كى كئى اہم ضرورتوں كى تكميل كررہا ہے- اسى ادارے سے عربى اور انگريزى جرائد كے علاوہ برسہا برس سے ’فكر ونظر‘ كے نام سے اُردو زبان ميں تحقیقى مجلہ بهى شائع ہوتا ہے جو اپنى خدمات كى بنا پر ايك وقيع حيثيت ركهتا ہے-

اس ادارے كى فعاليت كے متعدد پہلووں ميں سے ايك نماياں پہلو تسلسل سے مختلف علمى موضوعات پر سيمينارز كا انعقاد بهى ہے- انہى چند سالوں كے دوران يہاں دو سيمينار ہوچكے ہيں جن ميں سے ايك 5 تا 8/اكتوبر 1998ء كو ’بين الاقوامى امام ابوحنيفہ كانفرنس‘ كے نام سے اور دوسرا ’برصغیر ميں مطالعہ حديث‘ كے موضوع پر 21،22/اپريل 2003ء كوہونے والا قومى سيمينار ہے- حاليہ سيمينار اسى تسلسل كى ايك كڑى ہے- وطن عزيز ميں جہاں آزادانہ علمى وتحقیقى رجحانات روبہ زوال ہيں اور مختلف نظريات اور كاوشوں كو تعصبات كے دائرے ميں ركھ كر ہى پركہا جاتا ہے، وہاں ايسے اہم موضوعات پر ملك بهر كے اہل علم كو دعوتِ تحقيق دينا اور انہيں مل بیٹھنے كا موقع فراہم كرنا ايك قابل قدر كوشش ہے- اوّل الذكر سيمينار كى روداد ماہنامہ ’محدث‘ لاہور كے نومبر1998ء كے شمارے ميں حافظ صلاح الدين يوسف صاحب كے قلم سے شائع ہوئى تهى، اس ميں حافظ صاحب نے ان جذبات كا اظہار كيا :
”اس اہم نوعيت كے سيمينار ميں اختلافى مسائل بهى زير بحث آئے، نقد وجرح كا سلسلہ بهى جارى رہا ليكن كسى بهى مرحلے پر بدمزگى پيدا نہ ہوئى، نہ فكر و رائے كے اختلاف ميں شدت كا اظہار ہوا-“

اُنہوں نے منتظمين كے حسن انتظام كو سراہتے ہوئے لكها :
”پورى غير جانبدارى سے، كسى مكتب ِفكر كے جذبات كو مجروح كئے بغير ايسے سيميناروں كا علم وتحقيق كے لئے انعقاد ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كا ايك قابل ستائش كردار ہے، اس علمى رويہ كو ديگر اداروں كے لئے بهى مشعل راہ ہونا چاہئے-“1

سيمينار كے تين دنوں ميں حاضرين كو ممتاز اہل علم كے علمى جواہر سے استفادہ كا خوب خوب موقع ملا، ان كے خطابات كا خلاصہ پيش كرنا تو شايد يہاں ممكن نہيں كيونكہ وہاں پيش كردہ ان كے خطابات بهى ان كے مقالوں كى تلخیص پر ہى مبنى تهے جس ميں مقالہ كے اہم پيراگراف كو پڑھ كر سنايا گيا تها- يہ مقالات كتابى صورت ميں تمام خطاب كرنے والوں كو تقسيم كر ديے گئے تهے، يہاں ہم ان خطابات كے بعض حصوں پر ہى اكتفا كريں گے، علمى نوعیت كے استدلال كو بہتر انداز ميں سمجهنے كے لئے ان كى مكمل تحريريں ہى كارآمد ہوں گى-

ماضى ميں اجتماعى اجتہاد
ماضى ميں اجتماعى اجتہاد كے وجود كے بارے ميں انڈيا سے تشريف لانے والے مشہور سكالر مولانا جلال الدين عمرى نے اپنا نقطہ نظر بيان كرتے ہوئے فرمايا كہ
فقہ ِاسلامى كى تاريخ ميں يہ تصور ہميں نہيں ملتا اور نہ ہى اس نام كى كسى اصطلاح كا وجود ماضى ميں دكهائى ديتا ہے- اسلامى فقہ ميں كہيں بهى يہ نہيں پتہ چلتا كہ فلاں رائے تو انفرادى اجتہاد ہے اور فلاں رائے اجتماعى اجتہاد كے نتيجے ميں حاصل ہوئى ہے- ايسے ہى اجتہاد سے قبل مشاورت كرنے يا نہ كرنے كے بارے ميں مروّجہ اُصولِ فقہ كوئى رہنمائى نہيں ديتے كہ اس كى ضرورت ہے يا نہيں اور اس كو انفرادى اجتہاد پر كس پہلو سے برترى حاصل ہے؟

مولانا عمرى نے كہا كہ اس تاريخى حقيقت كے باوجود اگر مل جل كر اجتہادى عمل ميں شركت كرلى جائے تو اس ميں بظاہر كوئى مضائقہ نظر نہيں آتا-

البتہ سيمينار ميں شريك كئى اہل علم نے دورِ نبوى ميں بهى اس كے وجود كا دعوىٰ كيا- اُنہوں نے دورِنبوى ميں مختلف غزوات: بدر،اُحداوراحزاب كے سلسلے ميں ہونے والے مشوروں كو اجتماعى اجتہاد بتاتے ہوئے اسيرانِ بدر ، صلح حديبيہ، واقعہ افك كے وقت رسول اللہ ﷺ كى مشاورت كو بهى اسى قبيل سے قرارديا-

البتہ ان حضرات نے اس امر كى نشاندہى كى ضرورت محسوس نہ كى كہ مذكورہ بالا مشاورت كا زيادہ تر تعلق دنيا كے تدبيرى اُمور سے ہے، ان ميں الہامى ہدايت سے استنباط جسے ’اجتہاد‘ كہا جاتا ہے، كا عنصر بہت كم ہے-يہاں يہ نكتہ قابل غور ہے كہ كيا مجرد ’مشاورت(i)‘ شرعى اجتہاد كى بنياد بن سكتى ہے يا اسے مصادرِفقہ ميں شامل كيا جا سكتا ہے ؟

خلفاء ِاربعہ كے دور سے بهى اجتماعى اجتہاد كى كئى مثاليں پيش كى گئيں جن ميں لشكر ِاُسامہ كى روانگى، منكرين زكوٰة سے جنگ، جمع قرآن كامسئلہ اور محاصل عراق كے بارے ميں مشاورتيں شامل ہيں- جامعہ اسلاميہ امداديہ، فيصل آباد كے اُستاذ مولانا محمد زاہد نے صحابہ ،تابعين اور ائمہ اسلاف كے ادوارميں تبادلہ خيال كے متعدد واقعات كو ’اجتماعى اجتہاد‘ قرارديا-

اجتماعى اجتہاد ميں قابل لحاظ اُمور
مولانا حافظ عبد الرحمن مدنى نے اپنے خطاب كا آغاز ہى اس بات سے كيا كہ اجتماعى كام ہميشہ انفرادى محنت سے بڑھ كر مفيد اور پہلودار ہوتا ہے اور اس كى اہميت سے انكار ممكن نہيں- البتہ مولانا نے اپنے خطاب ميں شريعت اور فقہ كا فرق كرتے ہوئے كتاب وسنت سے مستنبط فقہ و اجتہاد (خواہ انفرادى ہو يا اجتماعى)كے بارے ميں اس امر پر روشنى ڈالى كہ كيا ايسا اجتہاد شريعت (كتاب وسنت) كے قائم مقام ہوسكتا ہے؟ آپ نے كہا كہ ماضى قريب ميں مسلمان حكومتوں كى وہ مساعى جن كے ذريعے شریعت كى جزوى قانون سازى كركے اسے نافذ كرنے كا دعوىٰ كيا گيا، كو اجتماعى اجتہادكى مثال كے طور پر پيش كيا جاتا ہے حالانكہ تهوڑى مدت ميں ہى يہ قوانين برابر بدلتے رہے- بدلتى ہوئى چيز كو اتهارٹى كيسے قرار ديا جاسكتاہے؟ اُنہوں نے زور دے كر كہا كہ كيا انسان الہامى كلام كو اپنے الفاظ ميں منتقل كركے بہتر قانون سازى كرنے پر قدرت ركهتا ہے؟حاكم ہو ياقاضى اورمفتى، قرآن كى رو سے سب ما أنزل الله سے فيصلہ كرنے كے ہى پابند ہيں- جب يہ لوگ انسانوں كى تعبير يا ان كے وضع كردہ قوانين سے فيصلہ كريں گے تويہ قوانين ما أنزل الله كا حقيقى مصداق نہيں بن سكتے،خواہ ايسى فقہ كو شريعت(كتاب وسنت)كى روشنى ميں ہى تيار كيا گيا ہوكيونكہ ايسا اجتہاد بهرحال فقہ ہوگاجس ميں تعدد لازمى ہوتا ہے جبكہ ’محمدى شريعت‘ ايك ہے- اس ميں احكام كا تنوع تو ہوسكتا ہے، تعدد واختلاف محال ہے- اُنہوں نے پاكستان ميں نافذ اسلامى قوانين (حدود و قصاص) كى بعض كوتاہيوں كو مثالوں سے واضح كيا كہ شريعت ِاسلاميہ كو انسانى الفاظ ميں ڈهال لينے كى بنا پر اس كى تطبيق ميں كيسى مشكليں پيدا ہوجاتى ہيں بلكہ بہت سى وسعتوں سے ہاتھ دهونا پڑتا ہے-

حافظ صلاح الدين يوسف نے اپنے مقالے ميں علامہ اقبال كے تصور ’پارليمانى اجتہاد‘ كا تفصيل سے جائزہ ليا-اس سلسلے ميں اُنہوں نے تركى كى گرينڈ نيشنل اسمبلى كے مزعومہ اجتہادات اور اتاترك ازم كے مضراثرات كى بهى نشاندہى كى-اُنہوں نے ڈاكٹر محمد يوسف گورايہ كى كتاب ’اقبال اور اجتہاد ‘ ميں پيش كردہ فلسفے پر تنقيد كرتے ہوئے علامہ اقبال كى ملى خدمات كے بهرپور اعتراف كے باوجود اس بارے ميں علامہ كى رائے كو كمزور قرار ديا اور كہا كہ سيدسليمان ندوى كے پيش كردہ بعض اقتباسات كى روشنى ميں يہ پتہ چلتا ہے كہ علامہ مرحوم نے اس نقطہ نظر سے بعد ميں رجوع كرليا تها- حافظ صاحب نے اجتہاد كا حق عام اراكين پارليمنٹ كى بجائے اسلامى درك و بصيرت ركهنے والے ماہر علما كرام كے لئے مخصوص كرنے پر زور ديا-

حافظ صلاح الدين يوسف صاحب نے اپنے خطاب ميں يہ امر خوش آئند قرار دياكہ ايك وہ وقت تها جب ادارہ تحقيقاتِ اسلامى ميں تجدد پسند حضرات كى كھپت زياده تهى ليكن اب الحمدللہ صورتِ حال بہت مختلف ہے اور ادارئہ تحقيقاتِ اسلامى كے رفقا بہت اچها كام كر رہے ہيں ليكن ملك ميں اب بهى ايسے حضرات موجود ہيں جو ايك طرف معروف مسلماتِ اسلاميہ مثلاً حد ِرجم، معراجِ جسمانى، نزولِ عيسىٰ ، ظہورِ امام مہدى وغيرہ كے منكر ہيں تو دوسرى طرف يہ گروہ طوائف كلچر ( رقص وسرود اور گانے بجانے )كو شريعت اسلاميہ كى رو سے پسنديدہ قرار دے رہا ہے- ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كے سيلم الفكر منتظمین كى طرف سے ايسے لوگوں كى حوصلہ شكنى ہونى چاہيے- اس خطاب كے دوران جاويد احمد غامدى بهى موجود تهے-

سيميناركے توسيعى خطابات ميں جناب جاويد احمد غامدى كا خطاب سب سے پہلا تها- انہوں نے علمى اصطلاحات كى نئى تعبيروں كى روايت برقرار ركهتے ہوئے اجتہاد كى تعريف ميں بهى عام اہل علم سے جدا گانہ نقطہ نظر اپنايا- اُنہوں نے معاذ بن جبل كى مشہور حديث ميں وارد لفظ اَجتهد برأيي سے استدلال كرتے ہوئے كہا كہ زندگى كے بہت سے پہلووں پر شريعت كى رہنمائى موجود نہيں ہے، اس لئے وہاں پر انسان كو اپنى عقل ورائے سے كام لينا چاہئے- انہوں نے كہا كہ قرآن قطعى الثبوت ہونے كے علاوہ قطعى الدلالہ بهى ہے، اس كے لئے آپ نے مولانا فراہى كے قول: القرآن لايحتمل إلا تاويلا واحدا كا حوالہ ديا اور كہا كہ قرآن ہر مسئلہ كے بارے ميں ميزان كى حيثيت ركهتا ہے- كلام كى تفہيم كے حوالے سے جناب جاويد غامدى نے كہا كہ بعض چيزيں متكلم كے ذہن ميں كلام كے وقت ہى مستثنىٰ ہوتى ہيں، اس لئے ان كو خارج سمجهنے ميں كوئى زيادہ تردّد نہيں كرنا چاہئے اور ايسے مستثنيات كا تعين عقل سے از خود ہوجاتا ہے- اس سے غالباً آپ غلام احمد پرويز كے پيش كردہ نظريہ پر تبصرہ كررہے تهے جو اُنہوں نے مختلف خلفا كے اوّليات كے حوالہ سے پيش كيا ہے- آپ نے گهنٹہ بهر كے خطاب ميں متعدد نازك مسائل پر محتاط لب ولہجہ اپناتے ہوئے اپنے بعض نظريات كى تائيد ميں اشارتاً گفتگو كى-

توسیعى خطابات كى پہلى نشست كى صدارت جناب ڈاكٹر محمود احمد غازى كررہے تهے- تبصرہ كرتے ہوئے ڈاكٹر غازى نے جاويد احمدغامدى كى بہت سى آرا كو بحث طلب قرار ديا اور كها كہ آپ بذاتِ خود ايك مستقل مكتب ِفكر كے بانى(ii) ہيں- انہوں نے قرآنى آيات كى صرف ايك ہى تفسير ممكن ہونے كے دعوے كو بهى علما كى نظر ميں اجنبى قرار ديتے ہوئے يہ سوال اُٹهايا كہ اگر يہ مان ليا جائے تو پهر آج تك مفسرين قرآنِ كريم كى كئى آيات كى متنوع تفسيريں كيوں كرتے چلے آرہے ہيں؟

پہلے روز كى نشستوں ميں اجتہاد كے حوالے سے تو بہت سى باتيں كہى گئيں ليكن اجتہاد كے متوازن فكر كے علاوہ اس ميں ’اجتماعيت‘ كے تصور كو زيادہ نكهارا نہ جاسكا- اجتماعى اجتہاد كى جو خصوصيت اسے عام اجتہاد سے ممتاز كرتى ہے، وہ اجتماعیت كا وصف ہے اور اس اجتماعيت كے لوازمات پر گفتگو ہونا اس سيمينار كى ضرورت تهى، اور انہى پہلووں پر بحث مباحثہ كے ذريعے مل جل كر اسلامى موقف كو نكهارنے ميں مدد ملتى- (اس سلسلے ميں راقم كا مختصر مضمون ملاحظہ فرمائيں)

راقم الحروف كواس سے قبل مختلف بين الاقوامى نَدوات ميں شركت كا موقع ملا ہے، ايسے سيميناروں ميں آغاز ميں ہى مطلوبہ موضوع كى حدود كا تعين كيا جاتا ہے، بالخصوص جبكہ وہ سابقہ لٹريچر ميں زيادہ متعارف نہ ہو- ايسے ہى ان سيميناروں ميں خطابات كے بعد حاضرين ميں سے فاضل مبصرين كو بهى دعوت دى جاتى ہے اور وہ پيش كردہ خطاب كے تشنہ وضاحت پہلووں كا احاطہ كرنے كى كوشش كرتے ہيں اور اس موضوع پر اپنا نقطہ نظربهى پيش كرتے ہيں- گويا اس نوعيت كے سيميناروں ميں مقررين كے علاوہ سامعين كى نمائندگى بهى شامل ہوتى ہے كيونكہ ايسے موضوعات كے سامعين بهى معقول علمى صلاحيت كے حامل ہوتے ہيں-

پيش نظر سيمينار ميں اس ضرورت كى جزوى تكميل كے لئے روزانہ توسيعى خطابات كا تصور تو موجود تها ليكن اس پر بوجوہ درست عمل نہ ہوسكا- چاہئے تو يہ تها كہ دن بهر ميں ہونے والے مقالات ميں تشنہ پہلووں كى وضاحت وہاں كى جاتى، ايسے ہى مقالہ پيش كرنے والے كو بهى وضاحت كا موقع ملتا ليكن اس كے بجائے نئے سرے سے كچھ مزيد پہلووں پر بحث كهول دينے سے وہ مقصد حاصل نہيں ہوسكا-

صرف قرآن وحديث كى اتباع اور فقہى آرا سے آزادانہ استفادہ
دينى مدارس كى فضا سے باہر جو اہل علم اسلامى علوم كى خدمت كررہے ہيں، ان ميں يہ احساس روز بروز پختہ ہوتا جارہا ہے كہ مختلف فقہى مسالك ميں بُعد كى لكیريں كھینچ كر اسلام كو درپيش چیلنجز كا سامنا كرنا شايد ممكن نہ ہو- اس لئے يہ سيمينار جس ميں زيادہ تر نمائندگى مدارس سے باہر عصرى جامعات سے وابستہ اہل علم كى تهى، ميں يہ خيال بہ تكرارپيش كيا گيا ہے كہ يہ دور ہم سے فقہى دائروں سے بالا تر ہوكراسلامى تعليمات كى بہتر تفہیم كا تقاضا كرتا ہے-

بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى كے صدر جناب ڈاكٹر محمود احمد غازى نے پہلے روز اپنے توسيعى خطاب ميں فرمايا كہ

”كاش ہم اس دو رميں واپس لوٹ سكيں جو اسلام كى ابتدائى چار صديوں كا دور ہے- ان ابتدائى چار صديوں ميں جس طرح صحابہ كرام، تابعین اور ائمہ اسلاف فقہى حدبنديوں سے آزاد ہوكر اسلام كو سمجھنے سمجھانے كى كوشش كرتے تهے، يہى رجحان اسلام كى وسعتوں سے ہميں بہتر مستفيد ہونے كا موقعہ فراہم كرتاہے-“

واضح رہے كہ ابتدائى چار صديوں كے بعد بقول شاہ ولى اللہ محدث دہلوى اُمت ِمسلمہ تقليد اور مختلف فقہى مذاہب ميں بٹ گئى تهى اور ہرشخص كا تعارف ايك مخصوص فقہ كے حوالے سے كيا جانے لگا تها- ليكن اب نئے دور ميں يہ رجحان آہستہ آہستہ تبديل ہوتا نظر آرہا ہے- اس رجحان كى نشاندہى كے لئے جناب محمود غازى نے اپنے خطاب ميں ايك نئى اصطلاح متعارف كرائى :

”آج دنيائے اسلام ايك نئى فقہ كى طرف بڑھ رہى ہے- اگر كوئى نئى اصطلاح استعمال كرنے كى اجازت دى جائے تو ميں عرض كروں گا كہ ايك ’كاسموپوليٹن فقہ‘ وجود ميں آرہى ہے- اس اصطلاح سے ہمارى مراد يہ ہے كہ اب يہ رجحان روز بروز تقويت پكڑتا جارہا ہے كہ تمام فقہى مذاہب كو اور تمام فقہاے اسلام كے فقہى ذخيرے اور ورثے كو مشتركہ فكرى اور علمى ذخير ہ قرار ديا جائے-اور اُمت ِمسلمہ كى مشتركہ كاوش اور مشتركہ ثروت سمجھ كر اس سے استفادہ كيا جائے- آج بہت تيزى سے ايسى فقہ وجود ميں آرہى ہے جو فقہ حنبلى، حنفى يا شافعى كے نام سے موسوم نہيں كى جاسكتى بلكہ اس كوصر ف ’فقہ اسلامى‘ كے نام سے ہى موسوم كيا جاسكتاہے-

آئندہ پچاس سالوں ميں يہ كاسمو پوليٹن فقہ ( اس كو جو بهى عنوان ديا جائے) پورى دنياے اسلام كو اپنے اثر ميں لے لے گى اور مدارسِ فقہ يا مكاتب ِفقہ كى اہمیت بڑى حد تك تاريخى ہو كر رہ جائے گى- علىٰ سبيل المثال اسلامى بينكنگ يا ايسے ہى دوسرے موضوعات پر جو اَدب يا لٹريچر سامنے آياہے اور تيزى كے ساتھ آرہا ہے، اس كو حنفى بينكنگ، شافعى بينكنگ يا حنبلى بينكنگ قرار نہيں ديا جاسكتا- اس ميں حنفى، شافعى،مالكى اور حنبلى فقہا كے اجتہادات اور فرمودات سے يكساں استفادہ كيا گيا ہے-“ 2

جناب ڈاكٹر محمود احمد غازى جيسى فاضل شخصیت سے ايسے جذبات كا اظہار ايك خوش آئند امر ہے، يہى و جہ ہے كہ آپ كے خطا ب كے خاتمے پر حافظ صلاح الدين يوسف نے ان خيالات كو پيش كرنے پر آپ كو مبارك باد دى اور آپ كے اَفكار كى تحسين فرمائى-

يہى بات ’اجتماعى اجتہاد كے اساليب‘ پرروشنى ڈالتے ہوئے بہاولپور يونيورسٹى كے شعبہٴ علومِ اسلاميہ كے پروفيسر شبير احمد جامعى نے سيمينار ميں بڑے موٴثر انداز ميں كہى- آپ لكھتے ہيں :

”اس سلسلہ ميں اہل السنت والجماعت كے تمام فرقوں ميں روا دارى كى اسپرٹ پيد ا ہونا بہت ضرورى ہے- لوگ حنفى اور اہل حديث، شافعى او رحنبلى كى اصطلاحات ميں بات كرنا چهوڑ ديں، فقہ خواہ امام ابو حنيفہ كى ہو يا امام مالك كى، امام شافعى كى ہو يا امام احمد بن حنبل كى، سب ہمارى اپنى فقہیں ہيں- يہ سب ائمہ بهى ہمارے مشتركہ امام ہيں- ان ميں سے كسى كے خلاف يا كسى كے حق ميں بے جا تعصب ميں ہميں مبتلانہيں ہونا چاہئے-

صحيح اُصول يہ ہے كہ مختلف مسائل ميں جس كا اجتہاد بهى قرآن وسنت كے زيادہ موافق اور حالات ومصالح سے زيادہ ہم آہنگ نظر آئے،اسے اختيار كرليں- ہميں تاكيد بهى اسى چيز كى ہے- اجتہادى مسائل ميں اسلام نے ہميں امام ابوحنيفہ يا امام شافعى كى يا ديگر ائمہ كى فقہ كى پيروى كى ہدايت نہيں كى- بلكہ اسى اجتہاد كى پيروى كرنے كا حكم ديا ہے جو كتاب وسنت كے زيادہ موافق اور قريب ترين ہو-“3

صفحہ 84پر آپ مزيد لكھتے ہيں :
”جو شخص كتاب وسنت پر عمل كرتا ہے، وہ دين پر عمل كرتا ہے- كتاب وسنت سے ہٹ كر كسى مسلك كواللہ تعالىٰ نے اتباع اور اطاعت كے لئے مقرر نہيں فرمايا- اللہ كى طرف سے اطاعت كے لئے نامزد اور معين اللہ كے نبى اور وہ دين ہے جو كتاب وسنت كى شكل ميں ہمارے پاس موجود ہے- قرآن وسنت نے اولى الامر فقہا كى اطاعت كو بهى لازم كيا ہے ، ليكن وہ اس بات كے ساتھ مشروط ہے كہ كتاب وسنت كے تابع ہو، اس سے متعارض يا متصادم نہ ہو- اگر كتاب وسنت سے متعارض ہو تو پهر فقہا كى نہيں بلكہ قرآن وسنت كى ہى اطاعت كى جائے گى-“

ايسى ہى بات حافظ صلاح الدين يوسف نے اسى سيمينار ميں پيش كردہ اپنے مقالہ ميں كہى:
”اجتہادى كميٹى كو فقہى مسلك سے بالا ہونا چاہئے اور كسى بهى فقہى مسلك كى بالا دستى اس پر نہيں ہونى چاہئے، يہ بالكل صحيح ہے“4

مصفى اور عقد الجيد سے شاہ ولى اللہ دہلوى كے اقتباس پيش كرنے كے بعد آپ لكھتے ہيں:
”فقہانے اپنے حالات اور عرف كے مطابق اجتہاد كيا اور شرعى احكام مستنبط كئے- اب حالات كے تقاضے اور ان كى نوعيتيں مختلف ہيں- عرف بدل چكے ہيں اور نئى تہذيب كى بوقلمونيوں نے بہت سى نئى مشكلات اورپيچيدگياں پيدا كردى ہيں- ان حالات ميں گذشتہ صديوں كے فقہا كے اجتہاد ى احكام كو من وعن نافذ كرنے پر اصرار معقول طريقہ نہيں ہوگا- نہ اكثريت واقليت كا راگ الاپنا مناسب ہوگا- اصل چيز قرآن وحديث كى برترى اور عوام كى سہولت ہے- اس نقطہ نظر كے بعد كسى بهى فقہ كو بنياد بنا ليا جائے ليكن ديگر فقہوں سے بهى استفادہ كيا جائے اور جو فقہى مسئلہ موجودہ زمانے كے مقتضيات سے زيادہ ہم آہنگ او رارفق بالناس ہو ، اسے اپنا ليا جائے- قطع نظر اس كے كہ وہ مسئلہ فقہ حنفى كا ہو يا فقہ شافعى كا، فقہ مالكى كا ہويا فقہ حنبلى كا-اس طريقے اس تقليدى جمود ، حزبى تعصب اور گروہ بندى كى بهى حوصلہ شكنى ہوگى جس كو اسلامى نظام كے نفاذ ميں ركاوٹ باور كرايا جاتا ہے اور عصرى مسائل كاحل بهى سہل ترہوجائے گا-“5

قاہرہ كے مجمع البحوث الاسلامي كا تعارف كراتے ہوئے جناب ڈاكٹر تاج الدين ازہرى نے شيخ الازہركے اس تحفظ كا سيمينار ميں بطورِ خاص ذكر كيا ، آ پ لكھتے ہيں :
”شيخ الازہر نے اپنے ماتحت مفتيان كو سوالات بھیجنا شروع كرديے-ان ميں سے ہرايك اپنے مسلك كا لحاظ كرتے ہوئے جواب دے ديتا جو اگر چہ علمى طور پر تو درست ہوتا مگر ہميشہ يہ ڈر لگا رہتا كہ اس سے اسلامى اُخوت او روحدتِ معاشرہ متاثر نہ ہوجائے- يہ ايك بڑا خوف تها جس كے اِزالے كے لئے شيخ الازہر مصطفى مراغى نے 1935ء ميں چاروں مسالك كے علما كو نمائندگى ديتے ہوئے ايك كميٹى لجنة كبار العلمائقائم كى اور اُنہيں تلقين فرمائى كہ وہ كسى خاص مسلك كى قيد كے بغير راجح دليل، آسانى، عرفِ عام اور حالات كو مد نظر ركهتے ہوئے اس طرح فتوىٰ ديں كہ اُمت كى بہتر ى ہو اور شر كو كم سے كم كيا جاسكے-“ 6

مولانا حافظ عبد الرحمن مدنى نے سيمينار كے پہلے روز كيے جانے والے سوالات كا جواب ديتے ہوئے كہا :
”فقہاكے فتاوىٰ اورفيصلوں كى حيثيت ايك نظير كى حد تك ہے، جس كا مجتہدين كو پابند نہيں كيا جاسكتا- ہمارے ہاں عدالتى نظائر كى پابندى كا تصور برطانيہ سے درآمدہ ہے كيونكہ برطانيہ ميں تحريرى قانون كى بجائے عدالتى نظائر ہى قانونى حيثيت ركهتے ہيں جبكہ فرانس ميں چونكہ دفعہ وار قانون موجودہے، اسلئے فرانسيسى عدالتى نظام ميں نظائر كو يہ حيثيت حاصل نہيں-“

سيمينار كے دوران ’اجتہاد‘ كے موضوع پر ہونے والے ٹى وى مذاكرہ ميں روشن خيالى اور آزادىٴ فكر كے بارے ميں ميزبان كے سوال كا جوا ب ديتے ہوئے اُنہوں نے كہا كہ
”ہمارے ہاں گذشتہ چند صدياں مذہبى تنگ نظرى اور اپنے اپنے دائروں كے اندر رہتے ہوئے اسلام كو سمجهنے كى كوششوں ميں صرف ہوئى ہيں- جبكہ آزادىٴ فكر اور روشن خيالى كا صحيح تصور يہ ہے كہ صرف كتاب وسنت كى پابندى اختيار كى جائے اور ائمہ اسلاف سے استفادہ كرتے ہوئے ان كى دينى رائے كو كتاب وسنت كى روشنى ميں ہى سمجھا جائے- ايسى فكرى آزادى سے ہى جديد دور كے مسائل كو حل كيا جاسكتا ہے-“

رابطہ عالم اسلامى كى فقہ كميٹى كا تعارف كراتے ہوئے الطاف حسين لنگڑيال لكھتے ہيں:
”مجمع كا مسلك وسيع المشربى رہاہے اور وہ لامسلكى اجتہاد كا قائل ہے- مختلف مكاتب ِفقہ اور دنيا كے مختلف خطوں سے علماء سے تعلق ركهنے كے باوجود مقاصد ِشريعہ كى پاسدارى كرتے ہوئے يہاں تمام مكاتب ِفكر كى آرا سے استفادہ كيا جاتا ہے-

فقہى اختلاف كے بارے ميں مجمع كى رائے يہ ہے كہ اس كے پس پشت كچھ علمى اسباب ہيں جن ميں اللہ كى عظيم حكمت اور بندوں پر اس كى رحمت كار فرما ہے-اس كى وجہ سے نصوص سے استنباطِ احكام كے دائرہ ميں وسعت پيدا ہوئى ہے-يہ اختلاف ايك عظيم تر نعمت اورعظيم فقہى قانونى سرمايہ ہے-اگر كبهى ايك مسلك كے لحاظ سے كوئى تنگى و دشوارى پيش آجاتى ہے تو دوسرے مسلك ميں اس كے لئے كشائش و آسانى ميسر رہتى ہے- “ 7

اسى سے ملتے جلتے خيالات كا اظہار مختلف مقررين كى طرف سے ہوتا رہا جس كا حاصل يہ ہے كہ عصرى مسائل سے آگاہى ركهنے والے اہل علم فقہى حدبنديوں ميں مقيد ہوكر ان مسائل كا حل كرنے كے بجائے اب وسيع تر اسلامى فقہى ذخيرے سے آزادانہ استفادے كا موقف اپنا رہے ہيں- اور اجتماعى اجتہاد كا تصور متعارف كرانے كى و جہ بهى مختلف نقطہ ہائے نظر سے استفادہ كرنے كى ضرورت كا ايك اعتراف اوراظہار ہے- يہ امر خوش آئندہے كہ فقہى حدبنديوں سے نكل كر اسلام كو درپيش چيلنج كا جوا ب مشتركہ علمى سرمائے سے ديا جائے-

جن اہل علم كو زمانے كے بدلتے تقاضوں سے زيادہ واسطہ پيش نہيں آتا بلكہ مسلم معاشرے كے روايتى مسائل سے ہى انہيں پالا پڑتا رہتاہے، وہ ابهى تو اس ضرورت كا ادراك نہيں كرتے ليكن جوں ہى اُنہيں جديد معاشرے كے مسائل سے سابقہ پيش آئے گا، وہ بهى اپنے نقطہ نظر پر نظرثانى كرنے پر آمادہ ہوجائيں گے- اللہ تعالىٰ ہميں خود مختلف گروہوں ميں بٹے رہنے كى بجائے اسلام كے دائرے ميں رہتے ہوئے اس كى خدمت كى توفيق بخشے- آمين!

ايك اهم تجويز
سيمينار كے دوسرے روز چوتهى نشست ميں ادارہ تحقيقاتِ اسلامى كے ڈاكٹر عصمت اللہ نے كويت كى ايك تنظيم كى گراں قدر خدمات پر روشنى ڈالى جس سے اكثر حاضرين واقف نہ تهے- ان معلومات كے مطابق طبى فقہى اُمور پر كام كرنے والى كويت كى المنظمة العالمیة للعلوم الطبیة 25برس سے اپنے موضوع پر ممتاز نوعیت كا كام كر چكى ہے اور بعض موضوعات پر تو ايك درجن سے زائد سيميناربهى منعقد كرچكى ہے- ان ميں سے بہت سے موضوعات ايسے ہيں جن كے بارے ميں اسلامى معاشرہ رہنمائى كا شديد محتاج ہے- يہ تحقيقات انٹرنيٹ پر اسلامى دنيا كے استفادہ كے لئے كھلى پڑى ہوئى ہيں اورہر كوئى انہيں اپنے كمپيوٹر ميں اُتار سكتا ہے- ان تحقيقات پر مشتمل متعدد كتب بهى چهپ چكى ہيں ليكن افسوس كہ اسلامى دنيا كے نامور اہل علم كو بهى اس ادارے كے نام او ركام سے آگاہى نہيں-

جناب ڈاكٹر عصمت اللہ كے ان معلومات پر مبنى خطاب كو بے حد سراہا گيا اور اس كے بعد مولانا جلال الدين عمرى نے تبصرہ كرتے ہوئے اس امر پر افسوس كا اظہار كيا كہ طبى موضوعات پر اسلامى نقطہ نظر كى تشريح و ترجمانى كے لئے وہ بهى سالہا سال سے اپنى كاوشيں جارى ركهے ہوئے ہيں- ليكن ان معلومات تك رسائى نہ ہونے كے سبب وہ ہر موضوع پر شروع سے محنت كرتے رہے ہيں، كاش كہ انہيں اس كويتى ادارے كا علم ہوتا او روہ اس كى كاوشوں كى مدد سے اپنے كام كو مزيد جامع بنا سكتے-

متعدد موضوعات پر يہ مشكل سامنے آتى رہتى ہے كہ اسلامى دنيا ميں مختلف موضوعات پر كام ہو چكتا ہے ليكن اس كام كے بارے ميں كسى جگہ معلومات دستياب نہيں ہوتيں جس كى بنيادى وجہ يہ ہے كہ اسلامى دنيا كا آپس ميں رابطہ باہمى وسائل كى مدد سے نہيں ہے اورمغربى ذرائع ابلاغ ہى ان كے درميان معلومات پہنچانے كا وسيلہ بنے ہوئے ہيں اور اِنہى پر اكتفا كيا جاتا ہے-

اس سلسلے ميں ہمارى پرزور سفارش يہ ہے كہ اگر چہ وسائل كى عدمِ دستيابى يا بااختيار اداروں كى عدم دلچسپى كى بنا پر مسلمان اہل علم كو آپس ميں تبادلہ معلومات كرنے كے مواقع حاصل نہيں ہوتے، نہ ہى اسلامى كتب كا كوئى ايسا عظيم الشان مركز موجود ہے جو تمام مسلم محققين كى كاوشوں كو يكجا ركهنے كا دعوىٰ كرسكے تو كم ازكم ايك ايسا مركز ِمعلومات ضرور قائم ہونا چاہئے جہاں اسلامى دنيا ميں ہونے والى تمام تحقيقى كاوشوں كى رپورٹ دستياب ہو-گويا اگر شخصى يا حقيقى طورپر يہ علمى خزانہ يكجا نہيں ہوسكتا تو چند باذوق لوگوں كى كاوش سے ايسا مركز ضرور قائم ہوسكتا ہے جہاں ان كے بارے ميں صرف معلومات يكجا ميسر ہوسكيں-اس مقصد كے لئے ايسے مركز كى خدمات كو انٹرنيٹ سے منسلك كركے اس سے تمام عالم اسلام فائدہ اُٹها سكتا ہے-

كسى ايك موضوع پرہونے والا سابقہ كام مزيد تحقیق كے لئے بہت ٹهوس بنياد فراہم كرتا ہے- باوجود اس كے كہ مختلف خطوں ميں پيش آنے والے مسائل مختلف نوعيت كے حامل ہوتے ہيں مگر اپنى اساسى رہنمائى كى حد تك ان ميں كافى حد تك اشتراك پايا جاتا ہے-

اس دور ميں اسلامى تحقیق كى اوّلين ضرورت ايك ايسے مركز كى ہے جہاں اسلامى ممالك كى تمام قابل ذكر يونيورسٹيوں كى اسلامى موضوعات پر تحقيق كے بارے ميں معلومات يكجا موجود ہوں، ان كى دستيابى اور موجودگى كے بارے ميں بنيادى معلومات وہاں سے مل سكيں- ايسے ہى اسلامى موضوعات پر كام كرنے والے تحقیقى اداروں اور ان كے كام كى تفصيلات وہاں ميسر ہوں- مثال كے طور پر اسلامى نظرياتى كونسل يا وفاقى شرعى عدالت پاكستان كے تحت جن موضوعات پر پاكستان كے اہل علم كوجمع كركے وقيع كام كيا جا چكا ہے، ان كى فہرستيں حاصل كرنے كا كوئى نہ كوئى ذريعہ ضرورہونا چاہئے-

امريكہ ميں اس مقصد كے لئے ’سائنٹفك ريسرچ‘ كے نام سے ايك ادارہ سرگرم ہے- اس ادارے ميں مختلف علوم پر ہونے والى تحقيق كے بارے ميں تمامتر معلومات كو جمع كيا جاتا ہے- مثال كے طور سائنس كى ايك شاخ علم كيميا كے بارے ميں 1907ء كے بعد سے جس قدر تحقیقى كام ہوا ہے، اس كو محفوظ كرنے كا يہاں باقاعدہ ايك نظم موجود ہے- كیمیاميں ہونے والى تمامتر تحقیق كا خلاصہ يہاں ہر ہفتہ درج كيا جاتاہے اور اس كو انٹرنيٹ ويب سائٹس پر اَپ ڈيٹ بهى كر ديا جاتا ہے- پهر كیمیا كے ميدان ميں مزيد تحقيق كا آغاز وہاں سے كيا جاتاہے جہاں دنيا بهر كے سائنسدان اب تك پہنچ چكے ہيں- اس سے، پہلے سے موجود كام ميں تكرار كا عنصر كم سے كم ہوجاتاہے-اس امريكى ادارے كا بنيادى مقصد يوں تو سائنسز كے موضوع پر معلومات كى فراہمى نہيں بلكہ دراصل يہ اپنے اپنے موضوع پر ہونے والے تحقیقى كام اورتحقیقى مقالات كى درجہ بندى كاكام كرتا ہے- پہلے تحقیقى رسائل كو وہاں رجسٹر كيا جاتا اور ان ميں شائع ہونيوالے مقالات كے معيار كى جانچ كے بعد اس كى علمى حيثيت كو ايك نمبر كے ذريعے متعين كيا جاتا ہے مقالات لكھنے والے اشخاص كى كاركردگى اور اس فن ميں ان كے مقام كا اندازہ انہى نمبروں كے ذريعے ہوتا ہے- ليكن اس سے معلومات كى فر اہمى كا وسيع تر مقصد بهى حاصل ہوجاتا ہے-

دوسرى طرف اسلامى علوم كا يہ حال ہے كہ ہر موضوع پر ہونے والى تحقیق كا آغاز بالكل ابتدا سے ہوتاہے اوراس دو رميں اسلام پر ہونے والى تحقيق كا بيشتر حصہ ايسا ہے جن كے اكثر اجزا پر كام پہلے سے ہوچكتا ہے ليكن اس كى معلومات كہيں دستياب نہيں ہوتيں-

اسلامى موضوعات پر ہوچكنے والے كام سے استفادہ كرتے ہوئے مزيد اُمور پر تحقیق كے لئیگذشتہ معلومات سے استفادہ كرنا بهى گويا ’اجتماعيت‘ كا تصور اپنے اندر ركهتاہے جہاں ايك فرد اپنے علمى رسوخ اور معلومات پر اعتماد كى بجائے اجتماعى انسانى كاوشوں كو پيش نظر ركھ كر ايك مسئلے كا حل دريافت كرسكتا ہے- اگر وہ چند اہل علم افراد كو اكٹھا كرنے كى قدرت نہيں ركهتا يا ہمارى لائبريرياں اسے متعلقہ موضوع پر مواد يكجا فراہم نہيںكرسكتيں تو كم ازكم اسلامى معلومات كے مركز سے استفادہ كرتے ہوے وہ كاغذ پر چند اہل علم كى آرا كو ايك جگہ ملاحظہ كرسكتا ہے- اس كى ضرورت روز افزوں ہے ليكن يہ كام بڑے مالى وسائل كے بغير ممكن نہيں !!

حوالہ جات
1.      محدث، نومبر 1998ء : ص 59
2.     عصر حاضر ميں اجتہاد اور اس كى قابل عمل صورتيں ص 2،3
3.    مقالاتِ سيميناربر اجتماعى اجتہاد: ص 75،76
4.   مقالاتِ سيمينار: ص 166
5.  مقالاتِ سيمينار:ص 168
6.   ص 248
7.   مقالات : ص 305

i. اصطلاحات اور الفاظ کا موزوں اور برمحل استعمال ہی زیادہ محتاط روش ہے۔ اجتہاد توکسی امر کی شرعی حیثیت کے تعین کے لئے ہوتا ہے جبکہ تدبیر یا مشاورت کسی امر کے جائز طریقوں میں سے کوئی موزوں طریقہ استعمال کرنے پر ہوتی ہے جیساکہ خلفائ کی مشاورت کے بارے میں صحیح بخاری میں آتا ہے کہ وہ صرف جائز اُمور میں ہی اسے منعقد کیا کرتے:وکانت الأئمة بعد النبي يسْتَشِیْرُوْن الأمناء من أهل العلم في الأمور المُباحة لیأخذوا بأسهلها۔ اوّ ل الذکر کی بنیاد شریعت کی رہنمائی ہوتی ہے جس کے اہل ماہرین شریعت ہیں جبکہ ثانی الذکر میں مشاورت ہی بنیادی عامل ہوتی ہے اور اس کے بعد امیر کے فیصلے سے کوئی بھی پہلو اختیار کیا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر جنگ کرنے کا طریقہ کار کیا ہو؟ لشکر کی ترتیب کیا ہو اور اسے کس مقام پر کھڑا کیا جائے ؟ ان میں یہ پہلو کہ کن کے خلاف جنگ کرنا جائز ہوجاتا ہے؟ تو اجتہاد پر موقوف ہے لیکن اس کے طریقہ کار میں تدبیری پہلو غالب ہے جو مشاورت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جنگ ِبدر میں پڑائو ڈالنے کے مسئلہ پر حُباب بن منذر کا نبی کریمۖ سے مکالمہ اس کی نمایاں مثا ل ہے۔ (مستدرک حاکم: ٥٨٠١) ایسے ہی ٹریفک کے بارے میں بنایا جانے والے نظم اور اس سلسلے میں کئے جانے والے غور وفکر کو 'اجتہاد' سے تعبیرکرنا درست نہ ہوگا۔شورائی اجتہاد میں دونوں پہلو بیک وقت جمع ہورہے ہیں۔ گویا عمل اجتہاد میں مسئلہ کے مختلف پہلوئوں پر شرعی دلائل کی نشاندہی تو مشاورت سے حاصل ہوسکتی ہے لیکن اس کے بعد نتیجہ کے حصول میں ہرمجتہد منفرد ہوتاہے۔ جن میں اتفاقِ رائے اتفاقاً تو ہوسکتاہے، لیکن اُنہیں اتفاقِ رائے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ مشاورت کا تعلق اگر شریعت کے نقطہ نظر کے بارے میں دلائل واستنباط کی نشاندہی سے ہو تو یہ مشاورت یا تبادلہ خیال پیش آمدہ مسئلہ پر اجتہاد میں معاونت کی ایک صورت ہے۔ انتظامی اور تدبیری اُمور میں مشاورت کا ایک نظام ہے جس میں امیر فیصلہ کرنے کے خصوصی اختیارات بھی استعمال کرتا ہے۔ دنیاوی اُمور میں امیر کو حاصل ان اختیارات کی تو شریعت میں گنجائش ملتی ہے لیکن دینی اُمور کی تعبیر میں امیر کے دیگر اہل علم پراس ترجیحی اختیار کی اسلام میں حمایت نہیں پائی جاتی۔
ii. مستقل مکتب ِفکر کا بانی ہونا کیا جملہ توصیف ہے یا کچھ اور ؟ غامدی مکتب ِفکرنے اس دور میں جن افکار ونظریات کو پروان چڑھایا ہے وہ سرسید، اسلم جیراجپوری اور پرویز کے افکار کا ہی تسلسل ہیں۔ غور کریں کہ اس مکتب ِفکر نے موجودہ دور میں اسلام کی خدمت کی ہے یا مسلماتِ اسلامیہ سے انحراف کا رستہ اپنایا ہے ؟