میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(1209ھ/ 1794ء تا 1239 ھ/ 1823ء )

تازہ خواہى داشتن گرد اغ ہائے سينہ را
  گاہے گاہے باز خواں ايں قصہ پارينہ را


زير نظر تذكرہ جنوبى پنجاب كے ايك نامور صاحب ِعلم مصنف كا ہے- عربى زبان دانى، شاعرى اور تصانيف كى كثرت موصوف كا ايسا امتيازہے جس سے ان كى شخصيت اپنے اماثل واقران ميں نماياں ہوجاتى ہے-علاوہ ازيں آپ كے علم اور وسعت ِمعلومات سے ہركوئى متاثر ہوئے بغير نہ رہتا- يہاں يہ بات بهى قابل ذكر ہے كہ علامہ موصوف تصوف كا بهى گہرا رجحان ركهتے تهے جيسا كہ يہ رجحانات زير نظر مضمون سے بهى نماياں ہيں، مزيد برآں حنفى مسلك ہونے كے ساتھ ساتھ آپ نے تقليد كى مذمت ميں تصانيف بهى لكھیں اور حديث ِنبوى كى خدمت كو علما كا شعار بنانے كے لئے بهى جدوجہد كرتے رہے- آپ كى شخصيت اور تصانيف سے اہل علم كو واقفيت نہيں، نہ ہى اس بارے ميں كسى جگہ معلومات يكجا ملتى ہيں - (ح- م)

شيخ علامہ عبدالعزيز پرہاروى  كا اسم گرامى بيشتر قارئين كے لئے يقيناً نيا ہوگا- راقم الحروف جن دنوں دارالحديث محمديہ، جلال پور پيروالہ ميں سلطانِ محدثين حضرة مولانا سلطان محمود محدث (م 1995ء) كے ہاں زيرتعليم تها تو شيخ محترم اكثر و بيشتر دورانِ درس انتہائى عقيدت و احترام سے شيخ پرہاروى كا تذكرہ فرمايا كرتے تهے اور اپنے بعض خاص تلامذہ كو شيخ پرہاروى كى كتاب نعم الوجيزبهى پڑهاتے- شيخ پرہاروى نے مختصر مگر از حد مصروف زندگى گزارى- دور ِ حاضر كے بہت سے اہل علم ان كے نام اور كام سے واقف نہيں- شايد اس كى ايك وجہ يہ بهى ہے كہ ان كا تذكرہ مفصل طور پر يكجا مرتب نہيں ہوسكا- بہاوٴ الدين زكريا يونيورسٹى ملتان كے شعبہٴ عربى كے نامور اُستاذ ڈاكٹر محمد شفقت اللہ كو اللہ كريم جزاے خير عطا فرمائے كہ اُنہوں نے خاصى محنت كركے شيخ پرہاروى كے حالاتِ زندگى اور علمى كارناموں پر روشنى ڈالى ہے- آں موصوف عربى زبان كے ماہر اور عظيم سكالر ہيں- انہوں نے يہ تعارفى مضمون عربى زبان ميں لكها ہے- ان كى اجازت اور شكريہ كے ساتھ راقم الحروف اس تحرير كو اُردو قالب ميں ڈهال كر قارئين محدث كى خدمت ميں پيش كرنے كى سعادت حاصل كررہا ہے-

علامہ عبدالعزيز پرہاروى وہ عظيم شخصيت ہيں جنہوں نے جنوبى پنجاب ميں اسلامى ثقافت اور عربى زبان كى ترويج ميں شاندار خدمات انجام دى ہيں- آپ نے متنوع اسلامى موضوعات پر عربى زبان ميں متعدد مفيد كتابيں تاليف كيں جنہيں اہل علم كے ہاں خوب پذيرائى ملى- آپ اس علاقہ كے اہل علم ميں كثير التصانيف ہو گزرے ہيں- اور تاليف ِكتب كے ميدان ميں آپ كا خوب شہرہ ہے- آپ نے نقلى و عقلى علوم ميں كتابيں تاليف كركے ان دونوں قسم كے علوم كے مابين تطبيق كى بهى سعى كى- اس لئے آپ كا شمار نواحِ ملتان كے نماياں اہل علم و قلم ميں ہوتا ہے- مناسب معلوم ہوتا ہے كہ آپ كے علمى آثار و موٴلفات كے ذكر ِجميل سے قبل آپ كے حالاتِ زندگى كا ذكر ہوجائے-

نام، نسب، ولادت
آپ كى كنيت ابوعبدالرحمن، نام عبدالعزيز اور والد كا نام ابوحفص احمد بن حامد القرشى ہے۔ آپ ايك محدث، مفسر اور متكلم (ماہر علم كلام) بهى تهے- آپ كى ولادت تيرہويں صدى ہجرى كى پہلى چوتهائى ميں ہوئى-

مولوى غلام مہر على گولڑوى آپ كى ولادت كے متعلق رقم طراز ہيں كہ آں رحمہ اللہ كى ولادت ضلع مظفر گڑھ ميں كوٹ ادّو كے قريب ’پرہاراں‘ نامى بستى ميں 1209ھ كو ہوئى-

شيخ پرہاروى اپنى كتابوں ميں اپنى اس بستى كو ’پيرہيار‘ كے نام سے موسوم كرتے ہيں-چنانچہ ايك جگہ لكهتے ہيں: قرية بيرهيار،جعلها الله دارالقرار وهو موضع عذب الماء طيب الهواء” بستى ’بيرهيار‘ كو اللہ تعالىٰ نے ’دارالقرار‘ بناياہے- يہاں كا پانى شيريں، فضا عمدہ اور خوشگوار ہے-“

اپنى ايك تصنيف ’الاكسير‘ ميں لكهتے ہيں: ہمارى بستى ’بيرهيار‘ ہے- اس كا طول بلد 106 درجے اور عرض بلد تقريباً تيس درجے ہے- يہ دريائے سندھ كے شرقى ساحل پر دارالامان ملتان سے شمال مغربى جانب تقريباً آٹھ كوس كے فاصلہ پر ہے-

تحصيل علم
آپ نے حصولِ علم كا آغاز اپنے گهر سے كيا اور اپنے والد مكرم سے قرآنِ كريم حفظ كيا- بعد ازاں مزيد علوم كى تحصيل كے لئے رخت ِ سفر باندھ كر ملتان روانہ ہوئے اور وہاں حافظ محمد جمال ملتانى fكے مدرسہ ميں ڈيرے ڈال ديے-

عجیب بات ہے كہ موٴرخين اور آپ كے تذكرہ نويسوں ميں سے كسى نے بهى حافظ محمد جمال  كے علاوہ آپ كے كسى دوسرے اُستاذ كا ذكرتك نہيں كيا-آيا پرہاروى نے صرف انہى ايك استاذ سے استفادہ كيا اور دوسرے كسى صاحب ِعلم سے كچھ نہ پڑها؟ اس كى صراحت كتب، تراجم اور پرہاروى كى كتابوں ميں كہيں نہيں ملتى- البتہ يہ ذكر ملتا ہے كہ طلب ِعلمى كے آغاز ميں وہ كوئى زيادہ ہوشيار اور ذہين نہ تهے بلكہ آپ غير فطين يعنى غبى (كند ذہن) تهے-

مولوى امام بخش مہاروى لكھتے ہيں كہ مولوى عبدالعزيز پرہاروى انتہائى كند ذہن طالب علم تهے- آپ كوئى چيز ياد كرنا چاہتے تو بالكل ياد نہ كرسكتے تهے- اس بات كا علامہ پرہاروى نے خود بهى اعتراف كيا ہے- ايك جگہ رقم فرماتے ہيں كہ
”يہ مسكين (يعنى ميں) بچپن ميں قلت ِفہم ميں معروف تها-“

تاہم يہ ايك حقيقت ہے كہ علامہ پرہاروى پڑهائى كے شوقين اور علم كے دلدادہ تهے- اسباق كو ياد كرنے كى پورى پورى كوشش كرتے- اس كے باوجود ياد كرنے ميں ناكام رہتے تو رونے لگ جاتے- مولوى امام بخش مہاروى رقم طراز ہيں:

ايك دن كا واقعہ ہے كہ آپ ديوار كے ساتھ ٹيك لگائے انتہائى مغموم بیٹھے تهے، كتاب آپ كے سامنے تهى اور آنكهوں سے آنسو رواں تهے كہ حافظ محمد جمال نے آپ كو اس حالت ميں ديكھ ليا- انہوں نے فرمايا، عبدالعزيز! كيا بات ہے، تم پريشان كيوں ہو؟

آپ نے روتے ہوئے عرض كيا: حضرت! مجهے سبق ياد نہيں ہورہا- تو حافظ محمد جمال نے فرمايا: آوٴ ميرے پاس آكر سبق ياد كرو- جب آپ نے اُستاد كے سامنے بیٹھ كر سبق پڑها اور استاد نے اُن كے لئے دعا كى تو قدرت ِ الٰہى اور اس كے فضل سے تمام عقلى ونقلى علوم كے دروازے آپ پر كهل گئے- آپ كسى بهى علم و فن كى كتاب كامطالعہ كرتے، آپ كے لئے وہ انتہائى آسان ہوجاتى-

حافظ محمد جمال ايك عظيم المرتبت انسان تهے- ان ميں ايك كامل استاذ كى تمام صفات موجود تهيں- وہ بچوں سے خوب شفقت فرماتے اور نہايت نرمى وتوجہ سے سبق سمجھاتے- سبق كى خوب تشريح كرتے- خوب شرح اور توضيح كركے تمام متعلقہ مباحث سميت پورا سبق طلبا كے ذہن ميں راسخ كرتے- وہ طلبہ كے سامنے سبق يا ليكچر ہى پيش نہ فرماتے بلكہ ان كے اذہان ميں علوم و معارف كى رغبت پيدا كرنے كى پورى كوشش كرتے-

وہ كيا مبارك دن تهاكہ جس روز شيخ پرہاروى طلب ِعلم اور تحصيل معارف ميں خوب خوب آگے بڑهنے لگے- يہاں تك كہ مسائل كا فہم آپ كے لئے از حد سہل ہوگيا- وہ برابر جدوجہد كرتے رہے يہاں تك كہ تمام علوم كى مشكلات ان پر خود بخود منكشف ہوتى چلى گئيں اور يوں محسوس ہونے لگاكہ تمام علوم اور ان كے حقائق آپ كو معلوم ہيں-

حافظ محمد جمال اللہ اس قدر عمدہ انداز سے تعليم ديتے اور مثالوں سے اسباق كو يوں واضح كرتے كہ جو بات ذہين طالب علموں كو دوسرے اہل علم سے سمجھ نہ آتى تو آپ ايسے گنجلك مسائل يوں آسان كركے پڑهاتے كہ كند ذہن طلبہ بهى اسے بخوبى سمجھ جاتے-

يہ امر بهى قابل ذكر ہے كہ حافظ محمد جمال اللہ ايك مہربان اور مشفق اُستاذ ہونے كے ساتھ ساتھ دقائقِ تدريس اور رموزِ تعليم سے بهى بخوبى واقف تهے- پڑهائى كے دوران طلبا كو جو مشكلات عارض آتيں اور انہيں علمى ميدان ميں آگے بڑهنے سے روكتيں، وہ ان كوملحوظ ركھ كر ان كااِزالہ فرماتے-

ان كى طرف سے طلبہ كو عام اجازت تهى كہ وہ اپنى مشكلات كے حل كے لئے جس وقت بهى چاہيں، ان كے ہاں آسكتے ہيں- جب اُستاذ اس قدر اعلىٰ اخلاق كا حامل ہو، وہ علم كے مقام اور آداب ِ تدريس سے بهى كماحقہ واقف ہو، اور پرہاروى  جيسا علم كاشيدائى ہروقت اس كے گرد منڈلاتا ہو، جسے دورانِ مطالعہ كسى بهى پيش آمدہ مشكل پراُستاذ كى طرف مراجعت اور ان سے سوال و جواب كى سہولت ميسر ہو تو بھلا اس پر تمام علوم كے دروازے كيوں وا نہ ہوں؟

شيخ پرہاروى اپنے مہربان و مشفق استاذ كے متعلق لكهتے ہيں كہ
”ہميں كسى بهى فن كے متعلق كوئى مشكل پيش آتى تو ہم ان كى طرف مراجعت كرتے، وہ اس بارے ميں ممكن حد تك اچهى سے اچهى اور عمدہ سے عمدہ گفتگو فرماتے-“

حافظ محمد جمال اللہ محض ايك متبحر عالم اور تدريس و تعليم كا اچها نمونہ ہى نہ تهے بلكہ وہ اس كے ساتھ ساتھ زيرتعليم طلبہ كے تزكيہٴ نفوس اور اصلاحِ اخلاق پر بهى توجہ فرماتے اور اس كے لئے بہترين اور قابل قبول انداز اختيار فرماتے-

ايك دفعہ كسى غريب آدمى نے حافظ محمد جمال اللہ كو كهانے پربلايا- آپ وہاں تشريف لے گئے- پرہاروى بهى ہمراه تهے- ميزبان نے گائے كا گوشت تيار كيا تها، جو كچھ عمدہ نہ تها- او رپكا ہوا بهى ٹهيك نہ تها بلكہ اس ميں كچھ ناگوار بُو بهى تهى- شاگرد پرہاروى كے چہرہ پر ناگوارى ظاہر ہوئى- اُستاذ سمجھ گئے كہ اسے گوشت كهانے ميں رغبت نہيں-

ملاحظہ كيجئے كہ ايسے موقعہ پراستاذ نے كس طرح طالب ِعلم كى تربيت كى، شاگرد رقم طراز ہے كہ جب شيخ محترم نے ميرے چہرے پر ناگوارى محسوس كى تو اُنہوں نے كهانے كى خوب مدح فرمائى، اور خوب لطف ہونے كے انداز ميں خوشى خوشى كهانا كهايا- ميں نے بهى مجبوراً ساتھ ديا اور زہر مار كيا- دعوت سے فارغ ہوكر ہاتھ دهوئے، رومال سے ہاتھ صاف كئے- اور ہاتھ اُٹهاكر يوں دعا كى: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِصَاحِبِ الطَّعَامِ وَلآكِلِيْهِ وَلِمَنْ سَعٰى فِيْه اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا بِفَضْلِكَ وَكَرَمِكَ يَا أَكْرَمَ الأكْرَمِيْنَ ”يا الله! ميزبان كى، كهانے والوں كى اور اس كى تيارى ميں كوشش كرنے والے سب لوگوں كى مغفرت فرما- يا الله اپنے فضل و كرم سے اس كهانے ميں ہمارے لئے بركت فرما- اے سب سے بڑھ كر عزت والے رب!“

آپ كى موٴلفات كا مطالعہ كرنے سے پتہ چلتا ہے كہ علوم و معارف كى محبت آپ كى گھٹى ميں پڑى ہوئى تهى اور آپ ملتان ميں حافظ محمد جمال اللہ كے ہاں دورانِ تعليم غيرنصابى مگر نافع علوم و فنون كى كتب كا از خود مطالعہ كيا كرتے تهے- ياد رہے كہ آپ نصابى اسباق اوقاتِ مدرسہ ميں اور غير نصابى علوم مدرسہ كے مقررہ اوقاتِ تعليم كے بعد فراغت اور چھٹى كے اوقات ميں مطالعہ كرتے اور آپ برابر كسى ماہر فن اُستاذ كى تلاش ميں رہتے جو فہم مسائل ميں آپ كى معاونت كرسكے- اور اگر كوئى مناسب رہنما نہ ملتا تو كسى كى معاونت كے بغير خود ہى اس فن كا مطالعہ شروع كرديتے- چنانچہ اس بارے ميں آپ نے خسوف و كسوف سے متعلقہ اپنى كتاب الإلہام ميں ذكر كيا ہے كہ ميں بچپن ہى سے اس علم كا شائق تها مگر مجهے اس كے متعلق كوئى ماہر معلم نہ مل سكا- شيخ پرہاروى دن رات اپنے استاذ حافظ محمد جمال اللہ كى معيت ميں رہتے- حد يہ كہ آپ صرف حضر ہى ميں نہيں بلكہ سفر ميں بهى اپنے لائق احترام استاذ كى مرافقت اختيار كرتے تاكہ ان مواقع پر بهى ان سے استفاده كرسكيں-

استاذِ محترم آپ كو تصوف كے اسرار كى بهى تعليم فرماتے اور اس كے رُموز سے آپ كو مطلع كرتے- پرہاروى اس كى صراحت يوں كرتے ہيں كہ ميں شيخ كے ہمراہ كشتى پرسوار ہواتو اُنہوں نے فرمايا: عبدالعزيز! اللہ تعالىٰ كے وجود كى نشانيوں ميں سے سمندرى امواج بهى ہيں-

پرہاروى علمى مسائل كے حل اور ان كے فہم كے لئے اپنے شيخ كى طرف مراجعت كرتے، وہ بهى ان كى خوب حوصلہ افزائى كرتے تاكہ علمى مسائل كے فہم اور تعليمى مراحل كو عبور كرنا ان كے لئے آسان ہو-

بسااوقات ايسا بهى ہوتا كہ شيخ اپنے شاگرد كو آزمانے كے لئے اور اس كا امتحان لينے كے لئے از خود سوال كرديتے تاكہ شاگرد كى معلومات اور استعداد كا اندازہ ہوسكے اور وہ اس مسئلہ كو شاگرد كے ذہن ميں خوب راسخ كرسكيں-شيخ پرہاروى اپنى بعض تحارير ميں رقم طراز ہيں:

ايك دن ميں شيخ كى معيت ميں كشتى پر سوار تها كہ دورانِ سفر ملاح نے پانى كى گہرائى كا اندازہ لگانے كے لئے ايك لمبى لكڑى پانى ميں ڈالى- مگر وہ پانى كى گہرائى كو نہ جانچ سكا تو اس كى زبان سے بے ساختہ نكلا:اللہ يہ سن كر شيخ نے مجھ سے فرمايا: عبدالعزيز! آيا تم سمجھے كہ اس نے كيا كيا ؟ ميں نے عرض كيا: اس كى بات كا مطلب يہ ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ كى حقيقت بهى ايك گہرا سمندر ہے- اس كى گہرائى كا بهى اندازہ نہيں كيا جاسكتا- يہ سن كر شيخ نے كہا، بالكل- اس نے يہى كہا ہے-

اُستاد كا اپنے شاگرد پر اعتماد
حافظ محمد جمال اللہ نے آپ كى ديانت و امانت اور علمى مرتبہ كے پيش نظر اپنے خطوط لكھنے كے لئے آپ كو مقرر كرركها تها- چنانچہ پرہاروى رقم طراز ہيں:

آپ كے خطوط ميں ہى لكها كرتا تها- آپ مجهے حكم ديتے كہ صاف صاف لكهوں اور تحرير گنجلك نہ ہو- آپ نے مروّجہ علوم وفنون اور عقلى و نقلى علومِ متداولہ كى تكميل كى- اس وقت كا نظامِ تعليم ’درس نظامى‘ كہلاتا تها جسے ملا نظام الدين نے مرتب كيا تها-

اس درس كا نصاب گيارہ علوم و فنون اور تينتاليس43 كتب كى تدريس پر مشتمل تها- معقولات كى اكثر كتب مكمل اور باقى كچھ كتب جزوى طور پر پڑهائى جاتى تهيں- درسِ نظامى كے مرتب ملانظام الدين نے كتب ِتصوف كو نصاب سے خارج كرديا تها پرہاروى نے درسِ نظامى كے مطابق صرف متداولہ علوم كى تحصيل پر ہى اكتفا نہ كيا جس كانتيجہ يہ نكلا كہ اس دور كے منہج تعليم ميں جو كوتاہياں تهيں، وہ دور ہوگئيں- ہمارا خيال ہے كہ آپ نے تيرہ13 تا پندرہ 15 سال كى عمر ميں مروّجہ علوم كى تحصيل كى تكميل كرلى تهى-

شاہى دربار سے آپ كا تعلق اور لوگوں كا حسد
پرہاروى نے علومِ درسيہ كى تكميل كے بعد مختلف علوم و فنون كى كتب كا خوب مطالعہ كيا اور ہر فن كے بارے ميں كتابيں تصنيف كيں- آپ كى ان علمى خدمات اور بلند علمى مرتبہ كى بدولت علمى حلقوں ميں آپ كوبہت زيادہ پذيرائى ملى- پهر حاكم ملتان كے صاحبزادے امير شاہ نواز خان سے بهى آپ كا رابطہ ہوگيا اور اس كے ساتھ گہرے مراسم قائم ہوگئے- امير شاہ نواز خان خود بهى صاحب ِعلم تهے اور اہل علم سے محبت كرتے تهے- اُنہوں نے پرہاروى كو اپنے ہاں بلوايا اور مختلف سوالات كئے- پرہاروى نے اس كے ہر سوال كا جواب ديا- شاہى محل ميں ان كے مابين متعدد موضوعات پر طويل گفتگو ہوئى-

اميرشاہ نواز خان نے محل ميں موجود اہل علم كے سامنے آپ كى وسعت ِمعلومات اور فہم ودانش كا فخريہ اندا زميں ذكر كيا- پرہاروى لكهتے ہيں كہ امير ميرى وجہ سے دوسرے اہل علم پر فخر كا اظہار كيا كرتا تها-

پرہاروى كے بادشاہ سے تعلقات، علوم ميں بلند علمى مرتبہ، تصنيف و تاليف ميں مشغوليت، بحث و تحقيق كا شوق اور حاكم كا دوسرے اہل علم كے سامنے ان كى فضيلت كا اعتراف اور ديگر اہل علم كا آپ كى شخصيت كا مقابلہ نہ كرسكنا، ان تمام اُمور نے دوسرے اہل علم كے دلوں ميں آپ كے خلاف حسد كى آگ بهڑكائى او روہ آپ كے مرتبہ و مقبوليت ميں كمى كرنے اور لوگوں كو آپ سے نفرت دلانے كى كوششيں كرنے لگے- اور ان كى پورى زندگى ميں انہيں زچ كرنے اور ضرر پہنچانے كى مساعى كرتے رہے- اور انہيں زندگى بهر اپنى بدسلوكيوں كا نشانہ بناتے رہے- اس بارے ميں اُنہوں نے اپنى ايك كتاب النبراس كے اختتام پر ايك نظم لكھى ہے - اس كا ايك شعر يوں ہے :


وَأَنْتَ حَفِيْظُ الْكُلِّ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ
وَخَصْمٍ لَجُوْجٍ يَطْمِسُ الْحَقَّ بَاطِلَه


”اور اے اللہ! حاسدين كے حسد كے شر سے اور جو مخالف اپنے باطل سے حق كو مٹانا چاہتا ہے، ان كے شر سے توہى بچانے والا ہے“

آپ اپنى كتابوں اور تحارير ميں لوگوں كے حسد اور علمى طور پر آپ كى ہمسرى نہ كرسكنے والوں كے تعصب پر ردّعمل كے طور پر لكھتے ہيں:
”علم اور صحيح اہل علم كے اُٹھ جانے كا شكوہ اللہ ہى سے ہے-“

ايك اور مقام پر لكھتے ہيں:
”معاصرين او ركم فہم متعصب اہل علم كے رويہ پر اللہ ہى سے فرياد ہے-“

اس قسم كے پريشان كن احوال كے باوجود پرہاروى علوم وفنون كے مطالعہ اور تدريسى اور تصنيفى اُمور ميں مشغول رہے تاآنكھ آپ عنفوانِ شباب ہى ميں 1239ھ كواس دارِفنا سے دارِبقا كو سدهار گئے-

مولانا عبدالتواب ملتانى  آپ كى عمر كے بارے ميں لكھتے ہيں كہ وفات كے وقت آپ كى عمر تيس برس كے لگ بهگ تهى-

شيخ پرہاروى عقيدہ اہل سنت كے حامل اور فقہ حنفى كے پيرو تهے- آپ نے علم عقائد كے بارے ميں مفيد كتابيں تصنيف كركے دلائل و براہين سے عقائد ِاہل سنت كا بهرپور دفاع اور مضبوط علمى اساس پر شيعہ عقائد كا ردّ بهى كيا- آپ كى كتب و مصنفات و موٴلفات ميں اہل بيت كى فضيلت اور محبت كا بيان ملتا ہے- آپ كو اہل بيت سے غايت درجہ محبت تهى-

اس دور ميں علمى حلقات ميں جو علوم متداول اور زيردرس تهے- آپ ان تمام علوم و فنون كے علاوہ ديگر بہت سے ان فنون كے بهى ماہر اور اجل عالم تهے جو بڑے بڑے علمى مراكز ميں پڑهائے جاتے تهے؛ آپ كو ان تمام علوم كے حصول و معرفت كااز حد شوق تها-

آپ كى اس شديد علمى رغبت نے آپ كو علوم كى طرف مائل كيا-اور اسى شوق و رغبت كى وجہ سے كتابوں كاپڑهنا اور مطالعہ اور مہارت سب كچھ آپ كے لئے سہل تر ہوتا گيا اور آپ كا علمى شہرہ پهيلتا چلا گيا-مولوى امام بخش مہاروى لكھتے ہيں كہ
”آپ كے علمى مرتبہ كا شہرہ ہر زماں ومكاں ميں، نزديك اور دور ہر طرف پهيل گيا-“

ڈيرہ غازى خان كے نواح سے كچھ اہل علم نے آپ كا امتحان لينے كى غرض سے كچھ سوالات آپ كى خدمت ميں روانہ كئے- پہلے تو آپ نے ان سوالات كا جواب دينے سے ترددّ كيا- تاكہ ان كى وجہ سے كسى قسم كا اختلاف يا عداوت پيدا نہ ہوجائے مگر بعد ميں ان سوالات كے جوابات اس اندیشہ سے لكھ بھیجے كہ كہيں اسے ان كى كم علمى پر محمول نہ كرليا جائے- وہ سوالات ايسے تهے كہ ان كا جواب بہت زيادہ علم كى روشنى ميں ہى دياجاسكتا تها- آپ نے ان سوالات كے جوابات كے ساتھ ساتھ مختلف علوم كے كچھ سوالات لكھ كر شيخ احمد ڈيروى كو بهجوا ديے- اب ہميں كچھ علم نہيں كہ شيخ احمد نے ان سوالات كے جوابات ديے تهے يا وہ ان كے جوابات دينے سے عاجز رہے تهے- تاہم ان سوالات سے يہ ضرور اندازہ ہوتا ہے كہ سوال كرنے والا خود كس قدر صاحب ِعلم تها اور وہ ان سوالات سے متعلقہ علوم كا كس قدر ماہر تها-

شعرى ذوق
پرہاروى كے علمى آثار كا مطالعہ كرنے سے پتہ چلتا ہے كہ شعرگوئى كے بارے ميں وہ انتہائى زرخيز ذہن اور عمدہ ذوق كے مالك تهے- قوافى اور اوزانِ شعر سے آپ بخوبى واقف تهے- معجون الجواہر،الياقوت اور نعم الوجيز وغيرہ آپ كى تاليفات سے اس موضوع ميں آپ كى استعداد كااندازہ لگايا جاسكتا ہے-

آپ اپنى كتابوں اور تاليفات كى ابتدا ميں بطورِ مقدمہ اور كتابوں كا اختتام اپنے منظوم كلام سے كرتے ہيں- چنانچہ النبراس كا مقدمہ 33/ اشعاراور خاتمہ 19/ ابيات پر مشتمل ہے-

آپ نے اپنى تاليفات الياقوت،حب الأصحاب اور النبراس كا آغاز منظوم كلام سے كيا ہے- اگر آپ كى تمام موٴلفات ہمارے پيش نظر ہوتيں تو ہم يقينى طور پر آپ كے منظوم مقدمات ِ كتب كا ذكر كرسكتے- يہ آپ كا ايك ايسا نادر وصف ہے جو برصغیر كے اہل علم كى موٴلفات ميں انتہائى كم ياب ہے- تشہد ميں اشارہٴ سبابہ كے اثبات كے متعلق آپ كے ايك رسالہ سے آپ كى شعرگوئى كى قدرت واستعداد كا خوب اندازہ ہوتا ہے-

آپ كى موٴلفات سے يہ بهى معلوم ہوتا ہے كہ آپ نبى ﷺ كى مدح و نعت كے متعلق اشعار كہتے اور ثناخوانِ رسالت حضرت حسان بن ثابت كے اشعار پر تضمين بهى كہتے- مثلاً


وَمَا أَحْسَنَ الْبَيْتُ الَّذِيْ قَدْ أَتٰى بِه
الْمُوٴَيِّدُ بِرُوحِ الْقُدْسِ فِيْ الشِّعْرِ
لَه هِمَمٌ لَا مُنْتَهٰى لِكِبَارِهَا
وَهِمَّتُهالصُّغْرىٰ أَجَلُّ مِنَ الدَّهْرِ


”وہ ابيات كيا خوب ہيں جواشعار ميں روح القدس (جبريل عليہ السلام) كى تائيد پانے والے (حسان) نے كہے ہيں- اس كى بڑى بڑى مساعى و خدمات كے كيا كہنے- اس كى تو معمولى سى خدمت بهى زمانے بهر سے زيادہ وقيع ہے-“

’ايمان كامل‘ كے نا م سے فارسى زبان ميں آپ كا ايك كتابچہ ہے- اس ميں مثنوى كے انداز پر ايك سو بيس اشعار ہيں- اس ميں آپ نے اسلامى عقائد اور ان سے متعلقہ مسائل پر اجمالى بحث كى ہے-
النبراس كے اختتام پر آپ نے جو قصیدہ رقم كيا ہے، وہ سہل ممتنع كى نہايت عمدہ مثال ہے- آپ نے ان ميں قرآنى آيات كے اقتباسات لفظاً و معنى ً ذكر كئے ہيں- اس قصيدہ كے بعض ابيات درج ذيل ہيں:


تَبَارَكْتَ يَا مَنْ لَا يَخِيْبَنَّ سَائِلُه       وَعَمَّ جَمِيْعُ الْكَائِنَاتِ نَوَائِلُه
لَكَ الْحَمْدُ مِنْ عَبْدِ الْعَزِيْزِ بْنِ أَحْمَد  بِمَا رَقَمْتَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَامِلُه
وَإنِّىْ أَخَافُ السَّهْوَ فِيْهِ لِعُجْلَتِيْ        وَأَجْدَرُ فِعْلٍ بِالْمَزَالِقِ عَاجِلُه
بُضَاعَتِي الْمُزْجَاةُ خُذْهَا تَكَرُّمًا     وَأَوفِ لَنَا الْكَيْلَ الْوَسِيْعَ مَكَائِلُه
لَقَدْ مَسَّنِىْ ضُرٌّ وَجِئْتُكَ سَائِلًا         وَأَنْتَ الَّذِيْ يُغْنِيْ الْفَقِيْرَ نَوَافِلُه
وَأَنْتَ تُعِيْنُ الْعَبْدَ خَيْرَ إِعَانَةٍ             إِذَا انْقَطَعَتْ أَسْبَابُهُ وَوَسَائِلُه
وَأَنْتَ حَفِيْظُ الْكُلِّ مِنْ شَرِّحَاسِدٍ  وَخَصْمٍ لَجُوْجٍ يَطْمِسُ الْحَقَّ بَاطِلُه
وَصَلِّ عَلٰى خَيْرِ الْبَرَايَا مُحَمَّدٍ           كَرِيْمِ السَّجَايَا لَا تُعَدُّ فَضَائِلُه
وَأَصْحَابِهِ الأَخْيَارِ طُرًّا وَآلِه          وَسَلِّمْ بِتَسْلِيْمٍ يَجُوْذُ هَوَاطِلُه


اسى طرح آپ كا ايك عربى قصيدہ میمیہ بهى ہے جو آپ كى جدتِ فكر، متانت ِرائے اور اہل وطن علما سے از حد اخلاص كا مظہر ہے- اس ميں آپ نے علماءِ زمانہ كى اس روش پرتاسف كا اظہار كيا ہے كہ وہ علم حديث كو پس پشت ڈال كر غير مفید عقلى علوم كے پیچھے پڑے ہيں- آپ اس قصيدہ ميں اپنے دور كے علما كو اس بے كار شغل پر ملامت كرتے ہوئے حديث كى طرف متوجہ ہونے كى ترغيب دلاتے ہيں-آپ فرماتے ہيں:


أَ يَا عُلَمَاءَ الْهِنْدِ طَالَ بَقَائُكُمْ     وَزَالَ بِفَضْلِ اللهِ عَنْكُمْ بَلَاوٴُكُمْ
رَجَوْتُمْ بِعِلْمِ الْعَقْلِ فَوْزَسَعَادَةٍ        وَأَخْشٰى عَلَيْكُمْ أنْ يَخِيْبَ رَجَاءُ كُمْ
فَلاَ فِيْ تَصَانِيْفِ الأَثِيْرِ هِدَايَةٌ      وَلَا فِىْ إِشَارَاتِ ابْنِ سِيْنَا شِفَائُكُمْ
وَلَا طَلَعَتْ شَمْسُ الْهُدىٰ مِنْ مَطَالِعٍ            فَأَوْرَاقَهَا دَيْجُوْرُكُمْ لَا ضِيَائُكُمْ
وَلَا كَانَ شَرحُ الصَّدْرِ يَشْرَحُ صَدْرَكُمْ         بَلْ اِزْدَادَ مِنْهفِيْ الصُّدُوْرِ صَدَائُكُمْ
وَبَازِغَةٌ لَا ضَوْءَ فِيْهَا إذْا بَدَتْ       وَأَظْلَمَ مِنْهكَاللَّيَالِىْ ذَكَائُكُمْ
وسُلَّمُكُمْ مِمَّا يُفِيْدُ تَسَفُّلًا           وَلَيْسَ بِه نَحْوَ الْعُلُومِ اِرْتِقَائُكُمْ
فَمَا عِلْمُكُمْ يَوْمَ الْمَعَادِ بِنَافِعٍ      فَيَا وَيلَتٰى مَاذَا يَكُوْنُ جَزَائَكُمْ
أَخَذْتُمْ عُلُوْمَ الْكُفْرِ شَرْعًا كَأَنَّمَا                فَلَاسِفَةُ الْيُونَانِ هُمْ أَنْبِيَائُكُمْ
مَرِضْتُمْ فَزِدْتُمْ عِلَّةً فَوْقَ عِلَّةٍ        تَدَاوَوْا بِعِلْمِ الشَّرْعِ فَهُوَدَوَائُكُمْ
صِحَاحَ حَدِيْثُ الْمُصْطَفىٰ وَحِسَانُه              شِفَاءٌ عَجِيْبٌ لَمْ يَزَلْ مِنْه دَوَائُكُمْ


”اے علماءِ ہند! اللہ تمہیں طويل زندگى دے او راللہ كے فضل سے تمہارى سارى بيمارياں زائل ہوجائيں- تم عقلى علوم ميں كاميابى اور سعادت كى اُميد ركهتے ہو- مجهے ڈر ہے كہ تمہارى اُميد پورى نہ ہوسكے گى…’الاثير‘ كى تصانيف ميں كچھ ’ہدايت‘ نہيں اور نہ ابن سينا كى ’الاشارات‘ ميں تمہارى شفا ہے…’مطالع‘ سے ہدايت كا سورج طلوع نہيں ہوتا- اس كے اوراق تمہارے لئے ظلمت ہيں، ضيا نہيں…’صدرا‘ كى شرح تمہارے سينوں كو نہيں كهول سكتى بلكہ اس سے تو تمہارے سينوں كى بيمارياں مزيد بڑہتى ہيں…اور ’بازغة‘ طلوع ہو تو اس ميں كچھ نور نہيں بلكہ اس سے تمہارى ذہانت راتوں كى طرح مزيد سياہ ہوتى ہے…اور ’سلَّم‘ (سلم العلوم) تمہيں پستى ميں لے جاتى ہے اور اس كے ذريعے تم علوم كى بلنديوں كى طرف نہيں جاسكتے… تمہارے يہ علوم قيامت كے دن تمہيں كچھ فائدہ نہ ديں گے- افسوس! تمہارا بدلہ كيا ہوگا؟… تم كفر كے علوم كو اپنے لئے شريعت سمجھے ہوئے ہو- گويا يونان كے فلاسفہ تمہارے انبيا ہيں… تم بيمار ہو اور تمہارى بيماريوں ميں اضافہ ہورہا ہے- تم شرعى علوم سے علاج كرو، يہى تمہارى دوا ہے… حضرت محمد مصطفى ﷺ كى صحيح اور حسن احاديث عجيب شفا ہيں اور تمہارے لئے حقيقى دوا ہيں-“

موٴلفات، رسائل اور تعليمات
پرہاروى نے كچھ زيادہ طويل عمر نہيں پائى- اس كے باوصف انہوں نے عربى كتب ميں ايسا گراں قدر اضافہ كيا ہے كہ انسان ششدر رہ جاتا ہے- ہمارا استعجاب اس وقت مزيدبڑھ جاتا ہے جب ہم ديكهتے ہيں كہ ان كا دورِ تاليف انتہائى مختصر ہے- جبكہ آپ كى گراں قدر تصانيف، مختصرات و مطولات اور تعليقات و شروح كى تعداد ايك صد سے زائد ہے- اس قدر عظيم علمى خدمت اللہ تعالىٰ كى خاص توفيق ہى سے ممكن ہے-
ايں سعادت بزور ِ بازو نيست         تانہ بخشد خدائے بخشندہ

آپ كى موٴلفات ميں سے ايك تاليف كا نام الخصائل الرضيةہے- اس ميں آپ نے اپنے شيخ حافظ محمد جمال اللہ ملتانى كے احوال بيان كئے ہيں جن كا انتقال 1226ہ كو ہوا- ان كے انتقال سے تين ہى دن بعد آپ نے ان كے احوال سے متعلق يہ كتاب لكھ دى- ہمارى معلومات كے مطابق يہ آپ كى اوّلين تصنیف ہے- اس وقت آپ كى عمر پندرہ برس تهى- اس بنياد پر ہم كہہ سكتے ہيں كہ آپ كا دور ِ تصنيف و تاليف 1226ھ سے يا شايد اس سے كچھ ہى پہلے شروع ہوتا ہے- اور يہ سلسلہ 1239ھ ميں آپ كے انتقال پُرملال تك چلتا ہے- گويا آپ كى مدتِ تاليف چودہ سال سے متجاوز نہيں-

شيخ پرہاروى كوتصنيف و تاليف كا بہت زيادہ شوق تها- آپ اللہ تعالىٰ سے دعا كيا كرتے تهے كہ وہ اس سلسلہ ميں آپ كى مدد فرمائے اور اس راہ ميں آسانياں مہيا كرے اور خطا و زلل سے محفوظ ركهے- آپ يہ تمنا بهى كيا كرتے تهے كہ آپ كى موٴلفات كى تعداد بہت ہو اور اللہ تعالىٰ ان ميں بركت فرمائے- ہمارے اس موقف كى تائيد آپ كى تاليف الناہية عن ذم معاوية ميں آپ كے اس كلام سے ہوتى ہے، آپ لكهتے ہيں:   *


اُدْعُ بِالْفَلاحِ لِعَبْدِ الْعَزِيْزِ بْنِ أَحْمَد
بَارَكَ اللهُ فِىْ مُصَنَّفَاتِه


”آپ اللہ تعالىٰ سے عبدالعزيز بن احمد كى كاميابى كى دعا كريں- اللہ اس كى مصنفات ميں بركت فرمائے-“ آپ تصنيف و تاليف ميں مشغوليت كو عبادت كا درجہ ديتے اور اسے اُخروى ثواب كا ذريعہ قرار ديتے تهے- آپ اللہ تعالىٰ سے يوں دعا كرتے ہيں:             


اِلٰهَ الْبَرَايَا أَسْتَخِيْرُكَ سَائِلًا                            وَمَاخَابَ عَبْدٌ يَسْتَخِيْرُ وَيَسْأَلُ
فَإنِّىْ بِتَصْنِيْفِ الدَّفَاتِرُ مُولَعٌ                          عَلٰى وَجَلٍ أَنْ تَضِيْعَ وَتَبْطُلُ
فَإنْ كَانَ مَاصَنَّفْتُه لَهْوٌعَابِثٌ                          فَيَا رَبِّ اَشْغِلْنِي بِمَا هُوَ أَفْضَلُ
وَإِنْ كَانَ فِيْ التَّصْنِيْفِ خَيْرٌوَبَرَكَةٌ فَيَسِّرْه لِيْ كَيْلًا يَعُوْقَنَّ مُشْكِلُ


”اے كائنات كے الٰہ! ميں تجھ سے سوال كرتے ہوئے استخارہ كرتا ہوں، اور يہ حقيقت ہے كہ تجہ سے استخارہ كرنے والا اور مانگنے والا كبهى نامراد نہيں ہوتا… مجهے كتابيں تصنیف كرنے كا شوق ہے- مجهے يہ اندیشہ بهى ہے كہ كہيں وہ ضائع نہ ہوجائيں… ميں جو كتابيں تصنيف كرتا ہوں، اگريہ بے فائدہ كام ہے تو ميرے ربّ مجهے اس سے كسى بہتر كام ميں مصروف كردے اور اگر تصنيف كے كام ميں خير اور بركت ہے تو اسے ميرے لئے آسان كردے تاكہ كوئى مشكل آڑے نہ آسكے-“

آپ اپنے ايك اور قصيدہ ميں اللہ سے دعا كرتے ہيں:

فَضَاعِفْ لَهُ يَوْمَ الْجَزَاءِ ثَوَابَهَا كَمَزْرَعِ حَبٍّ دَامَ تَنْمُوْسَنَابِلُه
”يااللہ! تو اپنے بندے كو قيامت كے روز ان كتابوں كا كئى گنا اجر عطا فرمانا جيسے ايك ايك دانہ اُگتا ہے تو اس كى بالياں بڑھتى چلى جاتى ہيں-“

آں رحمہ اللہ اپنى تاليفات كو ’باقيات صالحات‘ (تاديرباقى رہنے والے اعمالِ صالحہ) شمار كرتے تهے- آپ كى تمنا ہوتى تهى كہ آپ كى تاليفات كو قبولِ عام حاصل ہو اور وہ عرصہٴ دراز تك صفحہٴ ہستى پر باقى رہيں- چنانچہ ايك مقام پر اللہ سے يوں دعا كرتے ہيں:*


وَأَسْأَلُكَ اللّٰهُمَّ يَا خَيْرَ سَامِعٍ بِأَسْمَائِك الْحُسنىٰ الَّتِيْهِيَ أَبْجَلُ
قَبُوْلَ تَصَانِيْفِىْ جَمِيْعًا وَرَسْمَهَا       عَلٰى صَفْحَاتِ الدَّهْرِ لَا تَزِيْلُ


”يا اللہ! اے بہترين سننے اور قبول كرنے والے، ميں تيرے جليل القدر اسما كے وسيلے سے دعا كرتا ہوں كہ تو ميرى تمام تصانيف كو قبول فرما اور يہ عرصہ دراز تك صفحہٴ ہستى پر باقى رہيں-“

آپ عقلى و نقلى علوم و فنون ميں تصنيف كى رغبت ركهتے تهے- آپ جب اپنى كتاب النبراسكى تاليف سے فارغ ہوئے، تو اس سے قبل آپ متعدد رسائل، كتابچوں اور طويل كتب كى تكميل كرچكے تهے- تو آپ اپنى كثرتِ تاليفات پر ازحد مسرور ہوئے اور اس نعمت پر آپ نے يوں اللہ كا شكر ادا كيا :


وَأَنْتَ تُعِيْنُ الْعَبْدَ خَيْرَ إِعَانَةٍ          إذَا انْقَطَعَتْ أَسْبَابُهوَوَسَائِلُه
وَلَوْ لَمْ تَدَارَكْه بِفَيْضٍ مُسَلْسَلٍ      لَمَا كَثُرَتْ فِيْ كُلِّ عِلْمٍ رَسَائِلُه
وَلَوْ لَمْ تُعِنْهمِنْ جَنَابِكَ عِصْمَةً     فَتَألِيْفُه زُوْرٌ وَحَبْطٌ دَلَائِلُه


”اور جب ميرے اسباب و وسائل منقطع ہوجائيں تو ہى ميرى خوب اعانت كرتا ہے- اگر تيرى مسلسل رحمت ميرے شامل حال نہ ہوتى تو ہر علم ميں ميرے وسائل بكثرت نہ ہوتے- اور اگر تو اپنے فضل سے مجهے پهسلنے سے محفوظ نہ ركهتا تو مير ى تاليفات بے كار اور دلائل بے وقعت ہوتے-“

اہل ِ علم اور اصحاب ِ فكر و نظر نے آپ كى موٴلفات كو نہايت قدر كى نگاہ سے ديكها ہے- شير محمد خان نادر رقم طراز ہيں: ”آپ كو تاليف و تصنيف كا ذوق بہت زيادہ تها- آپ نے ہر علم و فن ميں متعدد كتابيں يادگار چهوڑى ہيں-“

مولوى برخوردار ملتانى لكھتے ہيں: ”آپ نے ہر فن كے متعلق ايسى عجیب عجیب كتابيں تصنیف كى ہيں جو متقدمين كى تاليفات سے بہرحال فائق ہيں-“

مولانا عبدالحئ كو، پرہاروى كى بہت سى كتابوں سے آگہى ہوئى- وہ لكهتے ہيں كہ پرہاروى نے معقولات ومنقولات ميں بہت سى كتابيں تصنيف كى ہيں-

شيخ شمس الدين بہاولپورى، مولانا امام بخش مہاروى، علامہ محمداقبال اور مولانا عبدالتواب ملتانى وغيرہ عالى قدر اصحاب علم آپ كى موٴلفات كى بہت قدر كرتے- مگر انتہائى افسوسناك بات يہ ہے كہ آپ كى موٴلفات كى حفاظت نہيں ہوسكى-وہ جابجا منتشر ہيں- اس كى اصل وجہ يہ ہے كہ آپ كى كوئى صلبى اولاد نہ تهى جو اس گراں قدر علمى ورثہ كى حفاظت كرسكتى- آپ كى زندگى ميں ملتان اور گردونواح پر سكھوں كا تسلط ہوگياتها- اُنہوں نے مساجد اور خانقاہوں كو مسمار كرديا- مسلمانوں كوخوف زدہ ركها- علما اور طلاب ِ علم پر عرصہٴ حيات تنگ ہوگيا-وہ امن و سكون كى تلاش ميں اِدهر اُدهر نكل گئے، مسلمانوں كے تعليمى و تربيتى ادارے تباہ ہوگئے اور سكهوں نے مسلمانوں كو مزيدپڑهنے پڑهانے كا كوئى موقعہ نہ ديا- ان حالات ميں ان كتابوں كى حفاظت نہ ہوسكى- كوئى كتاب جس كے ہاتھ لگى، وہ ساتھ لے گيا اور وہ كتابيں وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ طاقِ نسيان كى نذر ہوگئيں اور ان ميں سے بہت تهوڑى كتابيں محفوظ رہ سكيں-

اطمينان اور خوشى كى بات ہے كہ آج كل اہل علم اور اہل تحقيق آپ كى موٴلفات كى تلاش اور جستجو كررہے ہيں- اس كے نتيجے ميں اِدهر اُدهر سے پرہاروى كى متعدد كتابيں دستياب ہوچكى ہيں- ملتان، بهاولپور اور ڈيره غازى خان او راطراف و نواح ميں لوگوں كے ذاتى كتب خانوں اور بعض لوگوں كے گهريلو كتب خانوں اور اسى طرح بعض سركارى لائبريريوں، مساجد، مدارس اور خانقاہوں كے كتب خانوں سے بهى آپ كى كچھ كتابيں مل چكى ہيں- نيز پاكستان كے مختلف علاقوں ميں بعض اہل ذوق كے ہاں بهى آپ كى بعض كتابيں محفوظ ہيں- چونكہ شيخ پرہاروى كى موٴلفات مختلف مقامات پر بكھرى ہوئى ہيں، سب يكجا دستياب نہيں- بعض كتابيں گردشِ زمانہ سے معدوم بهى ہوچكى ہيں- آج ہم ان ميں سے بعض كے صرف ناموں ہى سے واقف ہيں- ہم آپ كى موٴلفات كو چار اقسام ميں تقسيم كرسكتے ہيں :

(1) آپ كى وہ كتابيں جن كے متون پر برصغير كے علما اور عربى و اسلامى علوم كے ماہرين نے تحقيقى كام كيا ہے-
(2) آپ كى وہ كتابيں جو ضائع ہونے سے بچ گئيں اور طبع ہوچكى ہيں-
(3) وہ كتابيں جو ضائع ہونے سے تو محفوظ ہيں، البتہ تاحال زيور طبع سے آراستہ نہيں ہوسكيں- البتہ وہ بعض احباب كے ذاتى مكتبات اور بعض خانقاہوں كے مكتبات ميں موجود و محفوظ ہيں-
(4) وہ كتابيں جو مرور ِ زمانہ كے ساتھ ساتھ معدوم ہوگئيں اور ہميں ان كے صرف نام ہى معلوم ہوسكے ہيں- مصنف كے حالات ِ زندگى كے ضمن ميں يا ان كى تاليفات ميں ضمناً ان كا تذكرہ ملتا ہے-

آپ كى جن كتابوں پرتحقيق كى جاچكى ہے
(1) نعم الوجيز في إعجاز القرآن العزيز:

يہ كتاب علم البلاغہ سے متعلق ہے اور علم بيان، معانى اور بديع پر مشتمل ہے- اس كى تاليف 1236ھ ميں ہوئى، عرصہ ہوا يہ كتاب مكتبہ سلفيہ ملتان سے شائع ہوئى تهى، سن اشاعت مذكور نہيں- اوّلاً اس كتاب كى تحقيق بہاوٴ الدين زكريا يونيورسٹى كے عربى زبان ميں ايم اے كے طالب علم سيد حبيب اللہ نے كى- بعدازاں ڈاكٹر ظہوراحمد اظہر سابق صدر شعبہٴ عربى، پنجاب يونيورسٹى لاہور نے بهى اس كتاب كى تحقيق كى- اور اس كے شروع ميں ايك شاندار مقدمہ لكھ كر فن بلاغت كى موٴلفات كى تاريخ لكهى- اور برصغير ميں مرحلہ وار اس فن كى ترقى كے مدارج بيان كئے- يہ كتاب 1994ء ميں المجمع العربي الباكستاني سے طبع ہوچكى ہے-

(2) الياقوت:

ہمارے محترم دوست محمد شريف سيالوى نے اس كتاب پر تحقيق كى ہے- انہوں نے ڈاكٹريٹ كے لئے اس كا انتخاب كيا ہے- وہ 1994ء ميں اس كتاب كى تحقيق كركے پى ايچ ڈى كى ڈگرى حاصل كرچكے ہيں- يہ تاحال طبع نہيں ہوئى-

(3) السلسبيل في تفسير التنزيل:

يہ كتاب تفسير الجلالين كے انداز پر ہے- آپ نے انتہائى اختصار و ايجاز كے ساتھ مشكلات كى وضاحت كى ہے- آپ نے جن آيات كو سہل سمجھا، ان كى تفسير نہيں كى ہے- صاحب ِمقالہ عربى (ڈاكٹر محمد شفقت اللہ) نے پى ايچ ڈى كے لئے اس كتاب كا انتخاب كيا اور پنجاب يونيورسٹى سے پى ايچ ڈى كى ڈگرى حاصل كى ہے-

(4) معجون الجواهر:

يہ كتاب ايك مقدمہ اور سات ابواب پرمشتمل ہے- يہ دراصل ’الياقوت‘كا اختصار ہے جو مصنف نے خود كيا ہے- سيدہ خورشيد نے شعبہٴ عربى زبان، پشاور يونيورسٹى سے ايم فل كى ڈگرى كيلئے اس كا انتخاب كيا اور 1998ء ميں ڈگرى حاصل كرچكى ہيں-

(5) عالم المثال:

يہ مختصر رسالہ ’عالم المثال‘ كے اثبات ميں ہے- موٴلف نے اس بارے ميں قرآن و حديث اور شيخ ابن عربى كى بعض موٴلفات سے شواہد پيش كئے ہيں- ڈاكٹر محمد شفقت اللہ نے اس كے متن كى تحقیق اور اغلاط كى درستى كى ہے جسے ماہنامہ ’الدراسات الاسلاميہ‘ كے مدير ڈاكٹر محمد الغزالى نے اپنے مجلہ ميں شائع كرنے كا وعدہ فرمايا ہے-

مذكورہ كتب ميں سے صرف نعم الوجيز ہى تاحال طبع ہوئى ہے اور عالم المثال عنقريب زيور ِ طبع سے آراستہ ہونے والى ہے-

بلا تحقيق مطبوعہ كتب
(1) كوثر النبي ﷺ وزلال حوضه الروي:

يہ مفيد كتاب اُصولِ حديث سے متعلق ہے- اس كا جز اوّل ملتان سے طبع ہوا تها اور دوسرا جز تاحال طبع نہيں ہوسكا-

(2) زمرد أخضر وياقوت أحمر:

موٴلف نے علم طب سے متعلق ايك ضخيم كتاب تاليف كرنے كا اعلان كيا تها اور كتاب لكھنا شروع كى تهى- مگر بعض ركاوٹوں كى بنا پر اسے پايہٴ تكميل تك نہ پہنچا سكے- شائقين كو انتظار تها- عجلت كے پيش نظر موٴلف نے ’الاكسير‘كى تلخيص كردى- جس كا نام ’زمرد اخضر و ياقوت احمر‘ ركها- اس كى تاليف 1228ھ كو ہوئى اور يہ كتاب لاہور سے 1345ھ كو شائع ہوئى-

(3) عنبر أشهب:

يہ رسالہ علم طب كے مبادى پر مشتمل ہے- آپ نے يہ رسالہ علم طب كے مبتدى طلبہ كے لئے لكها- 1234ھ ميں اس كى تاليف ہوئى او رلاہور سے 1345ھ ميں زمرد اخضر كے ساتھ طبع ہوا-

(4) الصمصام:

يہ مختصر رسالہ اُصول تفسير سے متعلق ہے- مكتبہ سلفيہ ملتان سے طبع ہوا- اس پر سالِ طباعت مذكور نہيں- يہ رسالہ درميان ميں سے ناقص بهى ہے-

(5) الناهية عن ذم معاوية:

يہ كتاب ايك مقدمہ اور سترہ فصول پر مشتمل ہے- اس ميں احاديث، اقوالِ صحابہ و تابعين اور فقہاء و محدثين كے اقوال و آرا كى روشنى ميں حضرت معاويہ بن ابى سفيان كے مناقب بيان كئے گئے ہيں- اس كى تاليف 1232ھ ميں ہوئى- ملتان سے متعدد مرتبہ يہ كتاب شائع ہوئى- الناهية عن طعن أميرالموٴمنين معاوية كے نام سے 1998ء ميں استنبول، تركى سے بهى شائع ہوچكى ہے-

(6) الخصائل الرضية:

اس ميں آپ نے اپنے شيخ حافظ محمد جمال اللہ ملتانى كے احوال، اقوال اور مناقب ذكر كئے ہيں- يہ 1325ھ كو مطبع ابى العلا، آگرہ سے ’گلزارِ جماليہ‘ كے نام سے طبع ہوچكى ہے-

(7) مرام الكلام في عقائد الاسلام:

اس ميں علم الكلام كے مباحث ہيں- ملتان سے طبع ہوئى- آخر سے نامكمل و ناقص ہے-

(8) الأوفاق:

يہ مختصر رسالہ نجوم كے اوقات اورشروط سے متعلق ہے- ايك بار كوٹ ادّو سے شائع ہوا ہے-

(9) السر المكتوم:

يہ رسالہ نجوم كے احكام اور اعداد و حروف كے اسرار پرمشتمل ہے- ايك مرتبہ ملتان سے اور ايك مرتبہ كوٹ ادّو سے شائع ہوا ہے-

(10) الاكسير الأعظم:

علم طب سے متعلق يہ ايك عظيم الشان ضخيم كتاب ہے-انگريز دور ِ حكومت ميں ڈاكٹر لائنزچانسلرجامعہ پنجاب نے لكها ہے كہ يہ كتاب مہاراجہ رنجيت سنگھ كے دور ميں طبع ہوئى-

(11) مخزنِ سليماني:

حكيم شمس الدين بہاولپورى نے ’الاكسير الاعظم‘ كے جزوِ ثالث كا عربى سے اُردو ترجمہ كيا ہے- اسى كا نام ’مخزنِ سليمانى‘ ہے- يہ كتاب 1906ء كو مطبع نول كشور سے طبع ہوچكى ہے-

(12) إيمانِ كامل:

يہ فارسى ميں منظوم ہے- اس ميں مثنوى كے انداز پراسلامى عقائد بيان كئے گئے ہيں- مكتبہ فاروقيہ ملتان سے ايك بار شائع ہوچكى ہے- تاريخ طباعت مذكور نہيں-

(13) النبراس:

يہ ’شرح العقائد‘ كى شرح ہے- برصغير كے مختلف مطابع سے متعدد مرتبہ شائع ہوچكى ہے- قيامِ پاكستان كے بعد ايك بار ملتان سے اور ايك بار سرگودها سے شائع ہوچكى ہے-

مخطوطات
(1) كوثر النبي ﷺ:

جزء ثانى، ہميں اس كتاب كے ايك نسخہ كى استاذ داوٴد لاہورى كے ہاں اطلاع ملى جسے ان سے ايك سعودى شخص خريد كرلے گيا- اس كاايك نسخہ علامہ پير سيد محب اللہ شاہ الراشدى پير آف جهنڈا، سندھ كے مكتبہ ميں بهى موجود ہے-

(2) الترياق:

يہ رسالہ طب ِنبوى سے متعلق ہے- اس كى فوٹو سٹيٹ مولوى خدا بخش مدرّس خيرالمدارس، ملتان كے مكتبہ ميں موجود ہے-

(3) التعليقات على تهذيب الكلام للتفتازاني:

اس كا ايك نسخہ مولوى خدا بخش بهٹہ كے مكتبہ ميں ہے- اس كى فوٹو سٹيٹ ڈاكٹر محمد شفقت اللہ كے پاس بهى ہے- واضح ہوكہ يہ مخطوطہ آخر سے نامكمل ہے- مصنف نے اس كے آغاز ميں منظوم مقدمہ رقم فرمايا-
اس كا آغاز يوں ہے:


فَرَدْتَ يَا مَنْ يَسْتَحِيْلُ مِثَالُه          وَلَا يَتَنَاهٰى مَجْدُه وَجَلَالُه
وَأَخْرَسَ نُطْقَ الْوَاصِفِيْنَ نَعُوْتُه     وَأَقَرَّعَيْنَ النَّاظِرِيْنَ جَمَالُه


(4) التمييز:

اس كا مخطوطہ مولوى خدا بخش بهٹہ كى لائبريرى ميں موجود ہے- اور اس كى فوٹوسٹيٹ ڈاكٹر محمد شفقت اللہ كے پاس بهى ہے-

(5) سرالسماء:

يہ تاليف علوم الحكمة الرياضية والالهية والطبيعية سے متعلق ہے-اس كامخطوطہ خانقاہ سراجيہ كندياں كے مكتبہ ميں ہے او راس كى فوٹو سٹيٹ ڈاكٹر محمد شفقت اللہ كے پاس بهى ہے- يہ نسخہ آخر سے نامكمل ہے-

(6) الالهام في الكسوف والخسوف:

اس كا مخطوطہ مولوى خدا بخش بهٹہ آف كوٹ ادّو كے مكتبہ ميں موجود ہے-

(7) شرح حصن حصين:

اس كا مخطوطہ اسد نظامى آف جہانياں (ملتان) كے مكتبہ ميں ہے البتہ يہ نسخہ كٹا پهٹا اور درميان سے نامكمل ہے-

(8) الدر المكنون والجوهر المصون:

يہ رسالہ تعويذات اور دعاوٴں كے بارے ميں ہے- اس كا ايك نسخہ مولوى خدا بخش بهٹہ كوٹ ادّو كے مكتبہ ميں راقم مقالہ عربى (ڈاكٹر محمد شفقت اللہ) كى نظر سے گزرا-

(9) إثبات رفع السبابة في التشهد:

اس كا موضوع نام ہى سے ظاہر ہے - يہ منظوم ہے- اس كى ايك نقل ڈاكٹر محمد شفقت اللہ كے ذاتى كتب خانہ ميں بهى ہے-

كتب ِمفقودہ
اب تك 25 كتب كا تذكرہ گزر چكا ہے، ذيل ميں ہم پرہاروى كى تصنيف كردہ بعض كتابوں كے محض نام ذكر كرنے پر اكتفا كرتے ہيں- يہ كتابيں تاحال طبع نہيں ہوئيں اور نہ ہميں ان كے مخطوطات كى كسى جگہ موجودگى كا تاحال پتہ چل سكا ہے :
(1) ماغسطن             

(2) سدرة المنتهىٰ
(3)بنطاسيا                 

(4) البحرالمحيط
(5) العتيق                   

(6) اللوح المحفوظ
(7) الأدقيانوس                          

(8)اليواقيت في علم المواقيت
(9) منتهٰى الكمال                      

(10)رسالة في الجفر الجامع
(11)رسالة في ذم التقليد           

(12) تخمين التقويم            
(13)تسهيل الصعود                    

(14) النيرين
(15)منطق الطير                        

(16) كتاب التقويم
(17)صرف عزيزي                    

(18) ألماس
(19)نحو عزيزى                                       

(20) رسالة في الخضاب
(21)الوافي بالقوافي                     

(22) رسالة أفعلة 
(23)غرائب الاتقياء                  

(24) حاشيه على شرح الملاّ جامى
(25)حاشيه مدارك التنزيل        حاشيه صدرا

تسخير اكبر                                   اعجازالتنزيل فى البلاغة
تفسير سورة الكوثر                           عمادالاسلام وعمدة الإسلام
كتاب الدوائر                               سلسة الذهب
اختصار تذكرة الطوسي                        حواشي تفسير البيضاوي     
الاسطرنوميا الصغير                            الاسطرنوميا المتوسط           
الاسطرنوميا الكبير                             كنزالعلوم
البيت المعمور                                البيت المحفوظ


الكتاب حول القواعد الرياضية لاستخراج الأوقات
الحاشية العزيزية على متن الايساغوجي
جامع العلوم الناموسية والعقلية 
التخليص للمتوسطات في الهندسة
ميزان في عروض الأدب وقوافيه
دستور في العروض والبحورالعربية           
ملخص الإتقان في علوم القرآن
آپ كى قليل مدتِ تاليف جو كسى بهى طرح بيس سال سے متجاوز نہيں، اس قليل مدت ِ عمر ميں اس قدر كثرتِ موٴلفات نے آپ كو تصنيف و تاليف كے ميدان ميں اپنے دور كا نماياں فرد بنا ديا اور آپ كے معاصرين ميں سے كوئى بهى شخص ايسى چيز پيش نہ كرسكا جو ميدانِ تاليف، اسلام اور مسلمانوں كى زبان لغت ِ عربيہ كى خدمت ميں آپ كا ہمسر ہوتا-

حواشى
(1) پرہاروى، عبدالعزيز احمد، ابو حفص، القرشى، ملتانى؛ زمرد اخضر، مكتبہ چراغِ دين، لاہور 1345ھ، ص :4
(2)گولڑوى، غلام مہر على، اليواقيت المہرية، چشتياں، بہاولنگر، ص:151
(3)پرہاروى، مصدر سابق، ص:135
(4)پرہاروى، الاكسير الأعظم، مخطوطہ المكتبة العامة، پنجاب يونيورسٹى لاہور، ورق:10
(5)گولڑوى، مصدر سابق، ص:151                 

(6)گولڑوى، مصدر سابق، ص:151
(7)مہاروى، امام بخش المولوى، المتوفى 1300ھ، گلشن ابرار، مخطوطہ فارسى، مكتبہ خانقاہ چشتياں، اس كى فوٹو سٹيٹ اسد نظامى جہانياں، ملتان كے مكتبہ ميں موجود ہے- ورق:120
(8)پرہاروى، مرام الكلام فى عقائد الاسلام، مكتبہ فاروقيہ ملتان، ص:92
(9)مہاروى، مصدر سابق، ورق:120

(10)پرہاروى، گلزار جماليہ، مطبع ابى العلاء آگرہ، 1327ھ، ص:9
(11)پرہاروى، مصدر سابق، ص:7    

(12)پرہاروى،مصدر سابق، ص:10،11
(13) پرہاروى، الالہام، مخطوطہ مكتبہ مولوى خدا بخش بهٹہ، كوٹ ادو، ورق:01
(14) پرہاروى، مصدر سابق، ص:27 

(15) پرہاروى، مصدر سابق، ص:24         

(16)ايضاً، ص:29
(17) صديقى، بخت يار حسين، پروفيسر، برصغير پاك و ہند كے قديم عربى مدارس كا نظام تعليم و تربيت، ادارہ ثقافت اسلاميہ، لاہور، 1982ء، ص:21،22
(18) صديقى ، مصدر سابق، ص:21                  

(19) صديقى، مصدر سابق، ص:21،22

(20) پرہاروى، كوثر النبى، مكتبہ خيرالمدارس ملتان، ورق:58
(21)پرہاروى، النبراس شرح شرح العقائد، سرگودها، 1397ھ
(22) پرہاروى، كوثر النبى، ورق:54

(23) پرہاروى، مصدر سابق، ورق:01

(24) گولڑوى، مصدر سابق، ص:151
(25) تعليقات مولوى عبدالتواب ملتانى على السلسبيل للبرہاروى، مخطوطہ مكتبہ خواجہ عبدالودود ، ملتان، ورقہ :60
(26) پرہاروى، مصدر سابق، ورق:120 پرہاروى، نعم الوجيز فى اعجاز الكتاب العزيز، مكتبہ سلفيہ ملتان، ص:35
پرہاروى، النبراس، ص:602،603
الملتانى، محمد عبدالعليم ملا،الحواشى على أبيات علم ميراث مع ما يتعلق بها من الأبحاث للملا نصير، قديمى اسلامى كتب خانہ ملتان، طبع ثالث، ص:27
پرہاروى، الناہية عن طعن أمير المومنين معاوية، المكتبة الحقيه، استنبول، تركى، 1403ھ، ص:1
پرہاروى، النبراس، ص:30                 

پرہاروى مصدر سابق، ص:603
پرہاروى، مصدر سابق، ص:603                        

پرہاروى، مصدر سابق، ص:603
نادر، شيرمحمد خاں، زبدة الأخبار، فارسى، تصحيح احمد نبى خان، لاہور، ص:85
الملتانى، محمد برخوردار، المولوى، تعليقات على النبراس، سرگودها،1977ء ص:21
ندوى، عبدالحئ، نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر طيب اكادمى ملتان، ، 1992ء ج7، ص

شيخ شمس الدين بہاولپورى، رياست بہاولپور كے حاكم بہاول خان كے سركارى طبيب تهے- انہوں نے الاكسير الاعظم كا عربى سے اُردو ترجمہ كيا- اسى اُردو ترجمہ كا نام ’مخزنِ سليمانى‘ ہے- يہ كتاب علم ِ طب سے متعلق ہے- مخزن سليمان 1906ء ميں مطبع نول كشور لكهنوٴ سے شائع ہوئى اور اہل فن نے اس كى خوب مدح كى-

پرہاروى، مصدر سابق، ورق:120
علامہ محمد اقبال بهى پرہاروى كى بعض موٴلفات كے شائق تهے- مگر انہيں كہيں سے دستياب نہ ہوسكيں تو انہوں نے سراج الدين بہاولپورى كو خط لكہ كر ’سرالسماء‘ رسالہ طلب كيا- علامہ محمداقبال كا يہ خط المعارف، مجريہ دسمبر 1983ء ادارہ ثقافت اسلاميہ لاہور ميں ”مشاہير كے تين غير مطبوعہ مكتوبات“ كے زير عنوان شائع ہوچكا ہے-

تعليقات المولوي عبد التواب الملتاني على السلسبيل للبرہاروي مخطوطہ مكتبہ خواجہ عبدالودود ملتانى، ورق:60
مثلاً مولانا مناظر احسن گيلانى اور زاہد شاہ بخارى-مولانا گيلانى عہد انگريزى ميں جامعہ عثمانيہ حيدر آباد دكن ميں قسم الشريعہ كے رئيس تهے- انہوں نے پرہاروى كى كتاب’النبراس‘ كى خوب مدح كى ہے- ’مشاہير اہل علم كى محسن كتابيں‘ كراچى ، ص:50