”ہميں انتہا پسند مولويوں كے اسلام كى ضرورت نہيں ہے، اگر كسى كو برقعہ اور داڑهى پسند ہے تو اسے اپنے گهر تك محدود ركهے- ہم انہيں برقعہ /داڑهى ملك پر مسلط نہيں كرنے ديں گے-“1

”بعض شدت پسند مذہبى تنظيميں ہميں كئى صدياں پیچھے لے جانا چاہتى ہيں- ہميں زمانے كے ساتھ چلنا ہوگا- مذہبى جنونى چاہتے ہيں كہ ميں چورى كرنے والے لوگوں كے ہاتھ كاٹ دوں- كيا ميں سب غريبوں كے ہاتھ كاٹ كر قوم كو ’ٹنڈا‘ بنا دوں؟ نہيں ايسا ہرگز نہيں ہوگا- شدت پسند عناصر ہم پر اپنا مرضى مسلط كرنا چاہتے ہيں ليكن ان اقليتى لوگوں كو علم ہونا چاہئے كہ ہم اكيسويں صدى ميں جى رہے ہيں- ہم انتہا پسندوں كو اپنے خيالات ٹهونسنے كى اجازت نہيں ديں گے-“ 2

”خواتين كو گهروں ميں بند ركهنا ايك رجعت پسند نظريہ ہے- نقاب ميں چھپى خواتين اسلام كى پسماندہ تصوير كشى كررہى ہيں- كچھ لوگ خواتين كو گهروں كے اندر ركهنا اور انہيں پردہ كروانا چاہتے ہيں جو بالكل غلط ہے-“ 3

”پسمانده اسلام ملكى ترقى كى راه ميں ركاوٹ ہے، كسى نے داڑهى ركهى ہے تو بسم اللہ- مجهے نہ كہو كہ ميں داڑهى ركهوں، ميں داڑهى نہيں ركهنا چاہتا- فلمى پوسٹر، ميوزك، داڑهى نہ ركهنا، خواتين كا برقعہ نہ پہننا، شلوار قميص، پينٹ اور ايل ايف او چهوٹے معاملات ہيں، انہيں ايشو نہ بنائيں- يہ چهوٹى سوچ اور چهوٹے ذہن كى بات ہے- پاكستان كو بڑے چيلنج درپيش ہيں!!

ايشو يہ ہے كہ ملك ميں كون سا نظام ہونا چاہئے؟ ہميں تہذيب يافتہ اور جديد اسلام چاہئے- پاكستانى معاشرے ميں طالبان طرز كے اسلام كى كوئى جگہ نہيں- ايسے اسلام سے سارے منصوبے دہرے رہ جائيں گے- ميں پوچھتا ہوں كيا يہ غير اسلامى ملك ہے؟ پاكستان اسلام كا قلعہ ہے مگر ہميں ايسا اسلام نہيں چاہئے جو معاشرے كو پسماندہ ركهے- ہم ترقى پسند اسلام كے حق ميں ہيں- فيصلہ كريں طالبان والا اسلام چاہئے يا ترقى پسند؟ ہميں عالمى سطح پر دہشت گرد قرار ديا جارہا ہے- علما ہوش مندى سے كام ليں-

قائداعظم اور علامہ اقبال كا تصور ترقى پسند پاكستان تها، مذہبى رياست نہيں- نفاذِ اسلام كے لئے لوگوں كے ذہنوں اور دلوں كو تبديل كرنے كى ضرورت ہے- پورى قوم برداشت والاكلچر چاہتى ہے- اسلام ميں سب كے حقوق محفوظ ہيں- اس كى قدر كوسمجھیں-“ 4

يہ بيانات تركى جيسى كسى رياست كے سربراہ كے نہيں ہيں جس كا آئين سيكولر ہے، يہ ارشاداتِ عاليہ كسى ايسے مسلمان ملك كے صدر كے بهى نہيں ہيں جس كا تعلق بعث پارٹى جيسى ملحدانہ نظريات كى حامل جماعت سے ہو، افسوس اور تعجب تو اس بات پر ہے كہ اسلامى شعائر كى كھلى تضحيك پر مبنى يہ ’جلالى خطابات‘ ايك ايسى مملكت كے سربراہ كى طرف سے ديئے گئے ہيں جس كے آئين كے مطابق اسلام رياست كا سركارى مذہبى ہے- اسى آئين كا آرٹيكل كہتا ہے كہ يہ مملكت كى پاليسى ہوگى كہ يہاں اسلام كے طرزِ حيات(Islamic way of life) پر عمل پيرا ہونے كے لئے عوام كى حوصلہ افزائى كى جائے گى اور اس كے لئے سازگار فضا قائم كرنے كے لئے اقدامات كئے جائيں گے-

بانى پاكستان محمد على جناح نے بارہا فرمايا كہ قيامِ پاكستان كا مطلب محض ايك خطہ ارضى كا حصول نہيں ہے بلكہ اس كا حقيقى مقصد يہ ہے كہ يہاں مسلمان اسلامى اقدار، اسلامى ثقافت اور اسلام كے شاندار اصولوں پر آزادانہ طور پر عمل كرسكيں-

داڑهى اور پردہ كو ہميشہ اسلامى شعائر اور اسلام كى تہذيبى و معاشرتى اقدار كا مظہر سمجھا جاتا رہا ہے مگر آج جنرل پرويزمشرف كى جانب سے ان اسلامى اقدار كے متعلق استہزا اور ناپسنديدگى كا نہايت بے باكانہ انداز ميں اظہار كيا جارہا ہے- بجائے اس كے كہ وہ اسلامى طرزِ حيات كو فروغ دينے كے لئے آئينى ذمہ دارياں نبھاتے ہوئے عملى اقدامات اُٹهاتے، اُنہوں نے اپنے بيانات كے ذريعے واضح اشارہ ديا ہے كہ آئين ميں جو كچھ درج ہے، وہ اس كے خلاف اقدامات كرنے كى تيارى كرچكے ہيں- ان كے بيانات سے يہ استنباط كرنا كوئى دور ازكار تاويل نہيں ہے كہ وہ اس ملك كا اسلامى تشخص ختم كركے اسے سيكولر شناخت دينا چاہتے ہيں تاكہ اہل مغرب كى نگاہ ميں اسے قبوليت حاصل ہوسكے-

19/ دسمبر 2004ء كو صدارتى ترجمانى نے وضاحت كى :
”كراچى ميں صدر مشرف كے مسلم ليگى كاركنوں سے خطاب كے حوالے سے اخبارات ميں كچھ جملے سياق و سباق سے ہٹ كر شائع كئے گئے- ترجمان نے واضح كيا كہ اللہ تعالىٰ ہى بہتر جانتا ہے كہ كون بہتر مسلمان ہے اور كسى كو يہ حق حاصل نہيں كہ وہ اپنى خواہشات دوسروں پر مسلط كرے- صدر نے كہا تها كہ برقہ اور داڑهى لوگوں كا ذاتى معاملہ ہے اور ہر كسى كو يہ حق ہے كہ وہ اپنى مرضى كے مطابق عمل كرے ليكن كسى كو اپنے خيالات دوسروں پر مسلط كرنے كا حق نہيں-“ 5

صدارتى ترجمان نے يہ وضاحت نہيں كى كہ جناب صدر كا روئے سخن كس كى جانب تها؟ انہيں چاہئے تها كہ وہ نشاندہى فرماتے كہ پاكستان ميں فلاں گروہ يا جماعت يا كوئى فرد لوگوں كو زبردستى داڑھیاں ركهوانے اور عورتوں كو برقع پہنانے ميں ’ملوث‘ ہے جسے بروقت انتباہ كى صدرِ مملكت كو ضرورت پيش آئى- داڑهى ركهنا اور برقعہ پہننا اگرچہ اسلامى شعائر ميں داخل ہے اور اسے قرآن و سنت كى رو سے مسلمانوں كے لئے نہ صرف باعث ِثواب قرار ديا گيا ہے بلكہ اس كى پابندى نہ كرنے والا مسلمان اسلام كى نظر ميں گناہ كا مرتكب ہے- مگر كوئى بهى ايسى جماعت يا گروہ ريكارڈ پر نہيں ہے جسے بے پردہ عورتوں كو زبردستى برقعہ پہناتے ديكها گيا ہو يا بے ريش آدميوں كو داڑهى نہ ركهنے كى پاداش ميں جبر كا شكار كرتے پايا گيا ہو- جب حقيقت ميں كوئى ايسى مہم يا تحريك سرے سے وجود ہى نہيں ركھتى تو پهر صدر صاحب كے يہ كلمات بلا جواز ہى نہيں، ان كے عالى قدر منصب كے شايانِ شان بهى نہيں ہيں- وہ ذاتى حيثيت ميں خواہ كتنے بهى سيكولر ہوں، انہيں مذہب پسندوں سے كتنى ہى نفرت كيوں نہ ہو، مگر بحيثيت ِصدر پاكستان كے ان سے اسى طرح كى بے سروپا باتوں اور اسلامى شعائر كے متعلق قابل اعتراض ريماركس كى كوئى بهى سليم الفكر شخص توقع نہيں ركھ سكتا-

صدر صاحب كو اچهى طرح معلوم ہے كہ كوئى كسى كو زبردستى داڑهى ركهوا سكتا ہے اور نہ كسى آزاد خيال عورت كو برقعہ پوش پر مجبور كرسكتا ہے- داڑهى ركهنا صرف ’مولويوں‘كا ہى شيوہ نہيں ہے، بہت جديد تعليم يافتہ ،حتىٰ كہ شوبز سے تعلق ركهنے والے بهى داڑھیاں ركھ ليتے ہيں- 14/ اگست 2004ء كو صدر پرويز مشرف نے ايك تقريب ميں معروف گلوكار جنيد جمشيد كے ساتھ ’دل دل پاكستان‘ والا گانا گايا- جنيد جمشيد وہ نوجوان ہے جس نے پاكستان ميں پاپ ميوزك كو مقبول بنانے ميں اہم كردار ادا كيا ہے- مگر آج وہ تبليغى جماعت ميں شامل ہوكر ايك متشرع باريش داعى بن گيا ہے- اسى طرح پاكستان كركٹ ٹيم كے مايہ ناز كهلاڑى سعيد انور كى مثال ہے، كيا ايسے نوجوانوں پر كوئى اپنى رائے مسلط كرسكتا ہے؟

يہ كوئى بہت پرانى بات نہيں ہے جب داڑهى دنيا كى ہر تہذيب ميں مختلف صورتوں كے ساتھ تہذيبى قدر كا درجہ ركھتى تهى اور بے ريش آدميوں كى اس طرح تحقير كى جاتى تهى جس طرح كہ آج كا مادر پدر آزاد طبقہ متشرع حضرات كو استہزا كا نشانہ بناتا ہے- ذرا اُنيسويں صدى كے آخرى برسوں پر نگاہ ڈالئے جب انگلينڈ ميں ملكہ وكٹوريہ كى حكومت تهى- ’ملكہ حضور‘ كے خاوند شہزادہ البرٹ اور دونوں بيٹے ايڈورڈ اور جارج جو بعد ميں برطانيہ كے بادشاہ بنے، سب كى لمبى داڑھیاں تهيں- روس كا آخرى زار جو ملكہ وكٹوريہ كا عزيز تها، لمبى داڑهى والا انسان تها- انہى دنوں ملكہ وكٹوريہ كا نواسہ وليم جرمنى كا بادشاہ تها، اس كى بهى داڑهى تهى- فرانس، برطانيہ، جرمنى، اسپين اور آسٹريا كے بادشاہوں كى تصاوير اُٹها كر ديكھ ليں، آپ كو اكثر باريش مليں گے-

لاہور ميں گورنر ہاوٴس كے دربار ہال ميں پنجاب كے انگريز گورنروں كى تصاوير آويزاں ہيں، ان ميں سے بہت سے حضرات باريش ہيں- اُنيسويں صدى كے آخر اور بيسيويں صدى كے آغاز ميں يورپ كے معروف فلسفيوں، دانشوروں، اديبوں، شاعروں اور فنكاروں كى تصاوير بهى گواہى ديتى ہيں كہ داڑهى اس وقت كے حكما و دانشوروں كو بے حد مرغوب تهى- كارل ماركس، سگمنڈ فرائيڈ، ٹالسٹائى، برنارڈشا، ڈى ايچ لارنس، ڈارون، ہيگل اور متعدد ديگر افراد كى گھنى اور لمبى داڑهياں تهيں- برصغير پاك و ہند كے مسلمان بادشاہوں ميں شايد اكبر اور جہانگير ہى ايسے بادشاہ گزرے جن كى داڑھیاں نہيں تهيں-

جنرل پرويز مشرف صاحب ’روشن خيالى‘ كا بہت چرچا فرماتے ہيں اگر وہ ’روشن خيالى‘كے علمبردار دانشوروں كى تاريخ كا مطالعہ فرمائيں تو اُنہيں يقين كرنا پڑے گا كہ داڑهى كو ’روشن خيالى‘ثابت كرنے كے لئے برقعہ اور داڑهى كى تحقير كركے گناہ كے مرتكب ہورہے ہيں- انہيں كيوبا كے اشتراكى صدر فيڈل كاسترو اور ويت نام كے معروف راہنما ہوچى منہ كو بهى نگاہ ميں ركهنا چاہئے- اگر آج 9/ ستمبر كے واقعہ كے بعد امريكى ہر داڑهى والے مسلمان كو ديكھتے ہى اس كے ’دہشت گرد‘ ہونے كا واويلا مچانا شروع كرديتے ہيں تو ہميں ان كے اس واويلا پر پريشان ہونے كى بجائے جرأت مندى سے حقائق كا سامنا كرنا چاہئے- نجانے امريكى ذرائع ابلاغ ’داڑهى‘ كے خلاف اس قدر پراپيگنڈہ كيوں كررہے ہيں، حالانكہ 9/ ستمبر كے واقعہ ميں ملوث جن 19/ نوجوانوں كا نام ليا جاتا ہے ، ان ميں اكثر بے ريش تهے-

9 ستمبر كے بعد تو ’القاعدہ‘كى وجہ سے اہل مغرب كو داڑهى فوبيا (Beard phobia) ہوگيا ہے- كئى مرتبہ پريس ميں ايسى خبريں شائع ہوئى ہيں كہ لندن كے فلاں ہوٹل ميں جب ايك باريش شخص داخل ہوا تو اسے ديكھتے ہى كئى افراد نے ہوٹل كى كهڑكيوں سے ’اسامہ، اسامہ‘ چلاتے ہوئے چهلانگيں لگا ديں- ايك دفعہ يہ خبر شائع ہوئى كہ امريكہ كے كيلى فورنيا ائيرپورٹ پر ايك مسافر بردار طيارہ پرواز كرنے ہى والا تها كہ جہاز ميں ايك باريش شخص كى موجودگى كى وجہ سے جہاز كے عملہ نے پرواز سے انكار كرديا- جب تك جہاز ميں بیٹھى ہوئى تمام سواريوں اور ان كے سفرى سامان كى نئے سرے سے پڑتال مكمل نہ كرلى گئى، جہاز كو اُڑنے كى اجازت نہ دى گئى- اور بے چارے داڑهى والے بے گناہ مسافر كو كئى گهنٹے زيرحراست ركھ كر اذيت سے دوچار كيا گيا- انگلينڈ كے حوالہ سے خبر شائع ہوئى كہ وہاں ايك گلى ميں كهيلتے ہوئے بچوں نے جب ايك داڑهى والے شخص كو اپنى طرف آتے ديكها تو دوڑ لگا دى-

ہمارے ايك جاننے والے صحافى نے واقعہ سنايا كہ لندن كى ايك عمارت ميں وہ لفٹ پرسوار تهے، اس ميں كچھ خواتين اور ان كے بچے بهى تهے- ٹارزن كى فلميں ديكھنے والے ان انگريز بچوں نے اُنہيں ديكھ كر چيخنا چلانا شروع كرديا- وہ بار بار وحشت زدگى كے عالم ميں ان پرنگاہ ڈالتے تهے اور آنكھیں بند كركے لفٹ كى ديوار سے چپك جاتے تهے- وہ صحافى بيان كرتے ہيں كہ اُنہوں نے اس عمارت كى اٹهارويں منزل پر جانا تها مگر ان بچوں كى وحشت زدگى اور ان كى ماوٴں كى شديد بدحواسى كا لحاظ كرتے ہوئے وہ بالآخر ساتويں منزل پراُتر گئے اور بقيہ منازل سيڑھیوں كے ذريعے طے كيں-

انہوں نے لطيف طنزيہ لہجے ميں كہا كہ
”داڑهى كى بركت سے مجهے ’جبرى ورزش‘ سے گزرنا پڑا-“

فاضل صدارتى ترجمان نے يہ وضاحت نہيں كى كہ صدرمملكت داڑهى والوں كے متعلق اس نفسياتى اُلجھن كا شكار كيوں ہيں- اگر يہ مان ليا جائے كہ جن نوجوان نے صدر مشرف صاحب پر قاتلانہ حملے جيسے گھناوٴنے جرم كا ارتكاب كيا، وه داڑهى والے تهے، تب بهى ان مٹھى بهر انتہا پسندوں كى وجہ سے پاكستان كے وہ لاكهوں بے گناہ اور دين دار افراد جو شرعى تقاضے كى تكميل كرتے ہوئے داڑهى ركهے ہوئے ہيں؛ صدر صاحب كے اس عمومى استہزا كے سزاوار كيونكر ہوسكتے ہيں؟

ہمارى اس رائے ميں غلطى كا احتمال ہوسكتا ہے، مگر ہميں يہ جان كر بے حد تعجب ہوتا ہے كہ صدر صاحب كى زبانِ معجز بيان سے اس طرح كے بيانات اس وقت كچھ زيادہ ہى تواتر سے جارى ہونا شروع ہوجاتے ہيں جب وہ امريكہ جانے كا عزم فرماتے ہيں يا جب ’روشن خيالى‘ كى اس عظيم سرزمين پر قدم رنجہ فرمانے كے بعد وہ واپس تشريف لاتے ہيں- گزشتہ سال جب امريكہ كے دورے ميں ابهى چند روز باقى تهے تو كوہاٹ ميں ايك تقريب سے خطاب كرتے ہوئے انہوں نے جو ارشاد فرمايا وہ اس مضمون كى ابتدا ميں گزر چكا ہے-

داڑهى اور برقعہ كے متعلق ان كے تازہ بيانات كى ’شانِ نزول‘ بهى كچھ مختلف نہيں ہے- 7/ دسمبر 2004ء كو امريكى صدر جارج بش سے شرفِ ملاقات كے بعد جب جنرل صاحب انگلينڈ پہنچے تو اُنہوں نے وہاں پاكستانيوں سے خطاب كرتے ہوئے جو كچھ ارشاد فرمايا، وه بهى اس مضمون كے شروع ميں نقل كيا جا چكا ہے-

دوسرے دن وہ فرانس تشريف لے گئے تو ان كے خطاب ميں بے باكى كا رنگ اور طبيعت كا بهاوٴ چڑهتے دريا كى موج بن كر اُمڈ پڑا- داڑهى اور برقعہ نے انكے قلب پرجو گهرے اثرات مرتب كئے ہيں، اس كا اظہار كرنے ميں وہ مجبور دكهائى ديئے- اُنہوں نے اہل مجلس سے مخاطب ہوتے ہوئے مولويوں كو تختہ مشق بنانے كے بعد داڑهى اور برقعہ كو ايك دفعہ پهر رجعت پسندانہ اسلام كى علامت قرار ديتے ہوئے سامعين پر اپنے ’روشن خيال‘ ہونے كا رعب جمانا چاہا-

جناب پرويز مشرف نے جب ’آزادى اور حريت‘كى اس زمين پر قدم ركها تو اس سے ايك دن پہلے ہمارے اخبارات ميں فرانس كے حوالہ سے خبر شائع ہوئى كہ وہاں كے مختلف سكولوں كى48 مسلمان طالبات كو سكارف پہننے كے ’جرم‘ كى پاداش ميں سكول سے خارج كرديا گيا ہے- وہ ننھى جانيں جو سيكولر فرانسيسى معاشرے ميں دين اسلام كى اعلىٰ تہذيبى قدروں كى شمعيں جلائے ہوئے اس قدر ايثار اورمستقل مزاجى كا مظاہرہ كررہى ہيں، نہيں معلوم ان كى نگاہوں سے اسلامى جمہوريہ پاكستان كے صدر مملكت كا يہ ’روشن خطبہ‘ گزرا يا نہيں، ہمارى دعا ہے كہ ان كے معصوم كان اس شعلہ نوائى سے محروم رہے ہوں اور ان كى آنكھیں يہ بيان نہ ديكھ سكى ہوں، ورنہ نجانے ان كے ننھے قلوب پر يہ بات كس قدر گراں بار ہوتى-

ممكن ہے اپنى فہم ميں صدر صاحب نے اہل فرانس كو پاكستان كے ’اعتدال پسند‘اور ’روشن خيال‘ رياست ہونے كا يقين دلانے كے لئے ايسے بيان كى ضرورت محسوس كى ہو، كيا ہى اچها ہوتا كہ وہ فرانس جيسے روشن خيال اور اعتدال پسند ملك كے اربابِ اقتدار سے شكايتاً نہيں تو وضاحتاً ہى يہ دريافت تو فرماتے كہ آخر ان معصوم بچيوں نے ايسے كون سے سنگين جرم كا ارتكاب كيا ہے كہ ان پر تعليم كے دروازے ہى بند كرديے گئے ہيں- وہ مروّت كے تقاضوں كا پورا خيال ركهتے ہوئے اپنى حيرت كا اظہار تو كرسكتے تهے كہ فرانس جيسے ملك ميں اگر كوئى مرد وعورت بالكل فطرى لباس ميں بازار ميں چہل خرامى كا شوق پورا كرنا چاہے تو رياست كا قانون اس كى اس آزادى كى راہ ميں مزاحم نہيں ہوتا-

اور يہ كوئى مفروضہ نہيں، گزشتہ انتخابات ميں فرانس كى ايك اداكارہ جو اليكشن لڑ رہى تهيں، انہوں نے بارہا پيرس كے بهرے بازاروں ميں اس ’حريت ِعملى‘ كا مظاہرہ بهى كيا- جناب صدر پوچھ تو ليتے كہ بے لباسى جہاں كوئى اخلاقى يا قانونى جرم نہيں ہے، وہاں معصوم بچيوں كا سكارف سے سر كو ڈهانپنا كيونكر باعث ِگرفت ہوسكتا ہے؟ہم يہ سوچنے پر اپنے آپ كو مجبو رپاتے ہيں كہ كيا يہ محض حسن اتفاق ہے كہ امريكہ كے دورہ سے قبل اور بعد جنرل صاحب اس طرح كے بيان ديتے ہيں يا يہ ان كى شعورى كاوش كا نتيجہ ہے كہ وہ اہل مغرب پر اپنى ’روشن خيالى‘ واضح كرنے كے لئے داڑهى اور برقعہ كو اپنے ذوقِ اعتدال پسندى كا تختہٴ مشق بناتے ہيں؟

’مولويوں‘ كا اسلام؟
يہ ملك ’اسلام‘ كے نام پر بنا تها- پاكستان كا مطالبہ كرنے والوں كے لئے اسلام كے نظامِ حيات كى عملى تجربہ گاہ كا حصول پاكستان كا اوّلين مقصد تها- مگر قيامِ پاكستان كے فوراً بعد ہى يہاں كے مٹھى بهر سيكولر اور اشتراكى دانشوروں نے ہندو اركانِ اسمبلى كے ساتھ مل كر پاكستان كو سيكولر رياست بنانے كى جدوجہد شروع كردى- انہوں نے متواتر پراپيگنڈہ كيا كہ اگر پاكستان ميں اسلام كو نافذ كيا گيا تو اس ملك پر مولويوں كا قبضہ ہوجائے گا جو اقليتوں كے ساتھ ناروا سلوك كريں گے- بدقسمتى سے يہاں زمامِ اقتدار بهى ايسے حكمرانوں كے ہاتھ ميں رہى جو فكرى طور پر ياتو سيكولر تهے يا اسلام سے ان كى وابستگى گہرى نہ تهى-لہٰذا اسلامى نظام كے نفاذ كو موٴخر كرنے كے لئے نت نئى اصطلاحات وضع كى گئيں اور خالص ’اسلام‘ كى جگہ اس كے ساتھ مختلف سابقے اور لاحقے نتھى كئے گئے-شروع شروع ميں مغرب كے اتباع ميں ’اسلامى فلاحى مملكت‘كى اصطلاح وضع كى گئيں- مقصود يہ تها كہ محض ’اسلام‘ قابل قبول نہيں ہے، جب تك كہ ’فلاحى‘ كا سابقہ اس كے ساتھ درج نہ كيا جائے- اس اصطلاح كے وضع كرنے ميں معذرت خواہانہ انداز اس لئے اپنايا گيا كہ اہل مغرب ’اسلامى رياست كو تنگ نظرى پر مبنى رياست‘ ہونے كا طعنہ ديتے تهے- گويا ہمارے دانشوروں نے اعتراف كرلياكہ ’اسلام‘ اپنے وسيع تر معنوں ميں فلاحى رياست كا تصور پيش نہيں كرتا، اسى لئے اس كے ساتھ ’فلاحى‘كا اضافہ ضرورى ہے-

پهر اس ملك ميں ماركس اور ماوٴ كے پيروكاروں كا غوغا بلندہوا- ان ميں سے ايك ذاتِ شريف نے تجويز كيا كہ يہاں كے مسلمان ’سوشلزم‘ كو قبول نہيں كريں گے، البتہ اس كے ساتھ ’اسلامى‘ كا سابقہ لگا ديا جائے تو پهر بہت كم لوگ اعتراض كريں گے- ايك طويل عرصہ تك ہمارے دانشور ’اسلامى سوشلزم‘ كو ہى اس ملك كے بدنصيب عوام كى فلاح و ترقى كى واحد ضمانت بنا كر پيش كرتے رہے- 1980ء اور 1990ء كى دهائى ميں مغربى دانشوروں نے اسلام كے لئے ’پوليٹيكل اسلام‘ اور ’عسكريت پسند‘ اسلام كى اصطلاحيں متعارف كرائيں-اسى زمانے ميں اسلام كو ’فنڈامينٹلزم‘ بناكر بهى پيش كيا- ہمارے مغرب نواز دانشوروں كى زبان پر يہ اصطلاحات اس قدر چڑھیں كہ وہ ان كى مالا جپتے نظر آئے، اُٹھتے بیٹھتے پاكستان كے اسلام پسندوں كو ’بنياد پرست‘ اور ’عسكريت پسند‘كہہ كر پكارنے لگے- ابهى كچھ عرصہ سے ’لبرل اسلام‘ كا ذكر ہونے لگا ہے- موجودہ حكومت نے باقاعدہ پاليسى كے طور پر ’روشن خيال اسلام‘ اور ’اعتدال پسند اسلام‘ كو متعارف كرانے كا بيڑا اُٹهايا ہے- كہا جاتا ہے كہ ہم اسلام كا روشن خيال چہرہ دنيا كو دكهائيں گے- ہمارے صدر صاحب نے ايك بيان ميں مولويوں كے اسلام كو ’وحشى اور جاہل اسلام‘ كا نام بهى ديا- 9/ ستمبر كے بعد امريكہ كے ’روشن‘ دماغوں نے ’اسلام‘ سے ’سول اسلام‘ كى تركيب وضع كى ہے- گويا تہذيب سے عارى يہ ننگ ِانسانيت اسلام كو اپنے تئيں تہذيب سكهانا چاہتے ہيں-

ہمارے جنرل صاحب جنہوں نے ’روشن خيال اعتدال پسندى‘كا بزعم خويش فلسفہ پيش كيا ہے، بارہا ارشاد فرما چكے ہيں كہ ”ہميں مولويوں كا اسلام نہيں چاہئے- ہم روشن خيال اسلام كى بات كرتے ہيں-“مگر انہوں نے ابهى تك نہ تو اپنے ’ روشن خيال اسلام‘ كے خدوخال بيان فرمائے ہيں اور نہ ہى مولويوں كے پيش كردہ اسلام كى خاميوں كى فہرست قوم كو پيش كى ہے-

پہلى بات تويہ ہے كہ’مولويوں كے اسلام‘ كى بات يہى بے معنى ہے- كسى مولوى نے آج تك يہ دعوىٰ نہيں كيا كہ ”اسلام اس كا اپنا وضع كردہ ہے-“ اسلام قرآن و سنت پر مبنى ابدى الہامى تعليمات كا نام ہے- اگر صدر صاحب كى نظر ميں واقعى كوئى ’مولويوں كا اسلام‘ بهى وجود ركهتا ہے تو پهر ان كا فرض ہے كہ وہ قوم كى راہنمائى فرمائيں كہ’مولويوں كے اسلام‘ اور ’حقيقى اسلام‘ ميں كيا فرق ہے؟ اور وہ مولويوں كے اسلام كو قرآن و سنت كے مطابق نہيں سمجهتے؟ انہيں يہ بهى وضاحت كرنى چاہئے كہ وہ جس ’روشن خيال اسلام‘كى بات كرتے ہيں، اس كا مصدر و ماخذ قرآن و سنت ہے يا پهر ان كى شخصى لبرل تاويلات و تعبيرات جن كا اسلام كى حقيقى روح سے كوئى بهى تعلق نہيں ہے؟ اگر واقعى وہ مولويوں كے تصورِاسلام كو تنقيد كا نشانہ بنانا چاہتے ہيں تو انہيں بے حد سنجيدہ استدلال كے ذريعے ان كى خاميوں كى نشاندہى كرنا چاہئے، فرانس ياكراچى ميں عوامى جلسوں سے خطاب كے ذريعے اس طرح كے موضوعات پر شعلہ نوائى كا مظاہرہ كرنا كسى بهى اعتبار سے قابل قدر اُسلوب نہيں سمجھا جاسكتا-

ان كا اندازِ بيان نہ صرف مذہب پسند عوام كو اچها نہيں لگا، بلكہ ان كے بعض معتقد سياسى راہنماوٴں نے بهى اس پر ناگوارى خاطر كا اظہار كيا ہے- پاكستان مسلم ليگ (ق) سے تعلق ركهنے والے جنرل (ر) مجيد ملك جو سياستدان كے ساتھ ساتھ فوجى بهى ہيں، نے داڑهى اور برقعہ والے صدر مشرف كے بيان پر تبصرہ كرتے ہوئے كہا كہ وہ صدر مشرف سے بات كريں گے كہ اس طرح كے بيانات دينے سے پہلے مسلم ليگ كى قيادت سے مشورہ ضرور كرليا كريں كيونكہ انہيں اس سے مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے- 6

ايك نظريہ غلط يا درست تو ہوسكتا ہے، مگر يہ بات ناقابل فہم ہے كہ ايك نظريہ كو ’وحشى يا جاہل‘ كہہ كر پكارا جائے- ايك انسان تو وحشى يا جاہل ہوسكتا ہے، مگر اس كا عقيدہ فى نفسہ جاہل كيسے ہوسكتا ہے- صدر صاحب خود اہل زبان ميں سے ہيں، انہيں فاعل اور اسم فاعل كے درميان علمى فرق كو ملحوظِ خاطر ركهنا چاہئے- اُنہوں نے اپنے مذكورہ بيانات ميں جو اسلوب منتخب فرمايا، پاكستان كے حكمرانوں ميں سے شايد سكندر مرزا جيسا بے دين شخص واحد حكمران ہے، جس كے اس طرح كے بيانات ريكارڈ پر ہيں- 1956ء ميں سكندر مرزا نے ايك سيمينار سے خطاب كرتے ہوئے اسلام كے بارے ميں ايسى ہى يادہ گوئياں كيں- 7

ہم نے ’سرخ جنت‘ كے فريب خوردہ جذباتى انڈر گريجوايٹ نوجوانوں اور انتہا پسند ماركسٹوں كى زبان سے اس طرح كے بيانات تو بارہا سنے ہيں، كسى سنجيدہ طبع دانشور كو اس انداز ميں بات كرتے ہوئے كم ہى ديكها ہے-

صدر مشرف نے اپنے بيانات كے ذريعے يہ تاثر ديا ہے كہ وہ طبقہ علما سے بحيثيت ِاجتماعى بيزارى اور نفرت كرتے ہيں- وہ ان ميں كسى قسم كے امتياز كے روا دار نہيں ہيں- معلوم ہوتا ہے كہ وہ تمام اسلام پسند علما اور دينى راہنماوٴں كو انتہا پسند سمجهتے ہيں- ايك قابل احترام طبقہ كے متعلق اس طرح كى تعميم كو كوئى بهى پسند نہيں كرے گا- علما كے درميان ايسے افراد موجود ہيں كہ جنہوں نے اپنے كردار سے روشن مثاليں قائم نہيں كيں، مگر ان كى معتدبہ اكثريت كريم النفس انسانوں پر مبنى ہے جنہوں نے اپنى زندگيوں كو قال الله وقال الرسول كے وظيفے كے لئے وقف كرركها ہے- جنرل پرويز مشرف ’القاعدہ‘ كو پسند نہيں كرتے، اُنہيں اچهى طرح معلوم ہے كہ اس ملك كے اكثر علما ’القاعدہ‘ كى حكمت ِعملى سے متفق نہيں ہيں- علماكى ايك كثير تعداد تو اسامہ بن لادن كى سخت مخالف ہے- پهر نہ جانے وہ ايك ہى وار ميں سب علماء كو تختہٴ مشق كيوں بناتے ہيں- ويسے بهى يہ بات حقيقى روشن خيالى كے اُصولوں كے منافى ہے كہ ايك طبقہ كو بلااستثنا اس طرح كى تنقيد كا نشانہ بنايا جائے- وزير اعظم جناب شوكت عزيز نے بهى علماء ومشائخ سے خطاب كرتے ہوئے ان سے درخواست كى كہ وہ ذمہ دارانہ كردا رادا كريں اور اپنے درميان غلط لوگوں كو داخل نہ ہونے ديں جس سے ان كا اميج عوام ميں متاثر ہوتا ہے-8

اگر صدر صاحب اپنے خطبات ميں داڑهى اور پردہ جيسے اسلامى شعائر كا يوں ہى مذاق اُڑاتے رہے، تو پهر حكومت علماء و مشائخ سے اس طرح كا كردار ادا كرنے كى توقع كيونكر كرسكتى ہے- اگر طبقہ علما (جنہيں آپ نفرت سے مولوى كہتے ہيں) اس قدر ہى قابل مذمت ہے تو پهر حكومت آئے دن علماء ومشائخ سے كنونشن بلانے كا ڈهونگ كن مقصد كى تكميل كے لئے رچاتى رہتى ہے؟

پردہ اور اقبال وقائد
جنر ل پرويز مشرف قائداعظم اور علامہ اقبال كى روشن خيالى كے پيروكار ہونے كے دعويدار ہيں- معلوم ہوتا ہے انہوں نے جناح اور اقبال كے سوانح و افكار كا بالاستيعاب مطالعہ نہيں كيا- ان دو اكابرين كے ناموں كا سہارا لے كر وہ مغرب كى روشن خيالى كو اسلام كے نام پر بننے والى اس مملكت ِخداداد ميں رواج دينا چاہتے ہيں-

نجانے ہمارے حكمران جناح اور اقبال جيسے اكابرين كے نام پر اپنى مزعومہ جديديت كو فروغ دينے كى حكمت ِعملى كيوں اختيار كرتے ہيں- اگر پرويز مشرف اتاترك كو واقعى اپنا آئيڈيل اور رول ماڈل سمجهتے ہيں تو انہيں چاہئے كہ سيكولرازم كے نفاذ كے لئے محمد على جناح اور علامہ اقبال كى آڑنہ ليں كيونكہ جن لوگوں نے ان دو شخصيات كے افكار كا مطالعہ كيا ہے، وہ يقين ركهتے ہيں كہ ان كے پيش نظر سيكولر رياست كا تصور ہرگز نہ تها- اتاترك سيكولر، لبرل اور ملحد تها، اس نے اپنے نظريات كو عملى جامہ پہنچانے كے لئے بے حد سفاكانہ طرزِعمل اختيار كيا مگر كسى كے نام كى آڑ نہ لى-

صدر پرويز مشرف اتاترك كى طرح واضح طور پر اسلام كى نفى بهى نہيں كرتے- لندن ميں بهى اپنے خطاب ميں انہوں نے كہا كہ پاكستان لا إلہ إلااللہ كے نعرہ پر بنا تها اور ميں اب بهى يہ نعرہ لگانے كو تيار ہوں (نوائے وقت: 9/ دسمبر) اگر واقعى وہ يہ سوچ ركهتے ہيں كہ پهر داڑهى اور شعائر اسلام كے متعلق ان كے بيانات ناقابل فہم ہيں- يہ شعائر ِاسلام اپنى روح كے اعتبار سے كلمہ طيبہ ہى كا پرتو ہى تو ہيں- كلمہ طيبہ پر يقين ركهنے والا مسلمان كسى ايسے شعاركى تضحيك كا تصور بهى نہيں كرسكتا جسے ملت ِاسلاميہ حكم الٰہى سمجهتے ہوئے صديوں سے اختيار كرتى آئى ہے-

سرسيد احمد خان اپنے دور ميں ’روشن خيال‘ اور ’ترقى پسند‘ سمجھے جاتے تهے- آج بهى اُنہيں اس حيثيت سے جانا جاتا ہے- داڑهى كے بارے ميں تو ان كے بارے ميں كچھ لكھنا سعى لاحاصل ہوگا كيونكہ جس شخص نے ان كى تصوير ديكھ ركهى ہے، وہ داڑهى كے متعلق ان كے خيالات كو بخوبى جانتا ہے- اگرچہ سرسيد مغربى تہذيب كے بہت سے مظاہر سے بے حد مرعوب تهے اور اپنى قوم كو ان كے اپنانے كى تبليغ كرتے رہتے تهے مگر پردہ كے بارے ميں ان كا نقطہ نظر اور طرزِ عمل اس وقت كے راسخ الاعتقاد مسلمانوں سے بالكل مختلف نہ تها-

ہمارے آج كے روشن خيال دانشور جو ’ملا‘ كے مقابلے ميں سرسيد احمد خان كے ’روشن خيال اسلام‘ كا بار بار تذكرہ كرتے رہتے ہيں، ان كى اطلاع كے لئے ہم سرسيد احمد خان كے ايك مضمون سے درج ذيل اقتباس نقل كرتے ہيں :

”ان دنوں ميں عورتوں كے پردے كى نسبت متعدد تحريرات اخباروں ميں شائع ہوتى ہيں اور ہمارے بعض عزيز جن كو ہم لحمك لحميكہہ سكتے ہيں اور بعض ہمارے مخدوم جن كو ہم فخر قوم كہہ سكتے ہيں، پردے كے مخالف ہيں مگر ہم كو گو لوگ نئے فيشن كا سمجھیں مگر ہم تو اگر اسى پرانے فيشن كے نہيں ہيں تو دقيانوسى مزاج كے تو ضرور ہيں اور اسى لئے ہم اپنے مخدوموں كى رائے كے مخالف ہيں اور عورتوں كا پردہ جو مسلمانوں ميں رائج ہے، اس كو نہايت عمدہ سمجھتے ہيں- يہ خيال كرنا كہ اگرپردے كى رسم اُٹھ جائے تو ہندوستانيوں كو انگريزوں سے زيادہ راہ ورسم اور ارتباط كا موقع ملے گا، محض غلط خيال ہے-“9

سرسيد اپنے ہم وطن مسلمانوں كى پسماندگى پر بہت دل برداشتہ رہتے تهے اور انہيں ترقى كى طرف مائل كرنے كے لئے انہوں نے زندگى بهر جدوجہد كى- مگر ان كى روشن خيالى بهى شايد ’ناقص‘ اور ’سطحى‘ تهى كيونكہ وہ برقعہ پہننے كو چهوٹا معاملہ نہيں سمجهتے تهے، نہ ہى داڑهى ان كى روشن خيالى ميں ركاوٹ تهى- وہ عجيب ’روشن خيال‘ تهے جنہيں نقاب ميں چھپى خواتين ’اسلام كى پسماندہ تصوير كشى‘ كرتى نظر نہيں آتى تهيں- جناب پرويز مشرف كو چاہئے كہ وہ سرسيد كے دقيانوسى ہونے كا فتوىٰ صادر فرمائيں-

سرسيد كى مندرجہ بالا تحرير سے ہم پر يہ بهى منكشف ہوتا ہے كہ ان كے دور ميں بعض ’مخدوم‘ اور ’فخر قوم‘ ايسى نابغہ روزگار ہستياں بهى تهيں جو انگريزوں سے ارتباط بڑهانے كے لئے اپنى عورتوں كو پردہ سے باہر لانا چاہتے تهے اور ان كى اس خواہش كى تكميل كى راہ ميں كوئى ملى حميت بهى سد ِراہ نہ تهى- معلوم ہوتا ہے كہ يہى وہ ’فخر قوم‘ تهے جنہوں نے اس برصغير كے جديد مسلمانوں ميں بے پردگى جيسى ’ترقى پسندانہ‘ روش كو اپنانے كے لئے اولين دستے كا كام ديا، اور آج ان كے جانشين اسے ’روشن خيالى‘كا ناقابل انفكاك حصہ گردانتے ہيں!!

علامہ اقبال كے ’روشن خيال‘ ہونے كامعاملہ بهى ہمارے روشن خيالوں كے ہاں متنازع فيہ ہے- اگرچہ ڈاكٹر جاويد اقبال كہتے ہيں كہ علامہ اقبال نے اعتدال پسندى اور روشن خيالى كى ابتدا كى، مگر 1930ء اور 1940ء كے عشرے كے اكثر ترقى پسند مصنّفين نے علامہ اقبال كو رجعت پسند قرار ديا- صدر مشرف كيونكہ علامہ اقبال كو ’روشن خيال‘ سمجھتے ہيں اور اس قوم كو ’اقبال كا اسلام‘ اپنانے كى تبليغ بهى فرماتے رہتے ہيں- اسى لئے داڑهى اور پردہ كے بارے ميں اقبال كے نقطہ نظر كى وضاحت بهى ضرورى معلوم ہوتى ہے- اگر جنرل پرويز مشرف كى روشن خيالى كے ميزان ميں اقبال كى شخصيت كو تولا جائے، تو وہ ترقى دشمن اور ’انتہا پسند‘ قرار پائيں گے، كيونكہ انہوں نے كبهى خود تو داڑهى نہ ركهى مگر ہميشہ داڑهى والوں كااحترام كيا اور ان سے داڑهى كے متعلق ايك بهى مصرعہ يا قول منسوب نہيں ہے جس ميں انہوں نے داڑهى كى تضحيك كى ہو، نہ ہى انہوں نے كبهى كہا كہ ”مجهے نہ كہو كہ ميں داڑهى ركهوں-“

پردہ كے متعلق تو وہ انتہا درجہ كے ’بنياد پرست‘ تهے- علامہ اقبال كى والدہ، تينوں بھنيں اور تينوں بيوياں پردے كى سخت پابندى كرتى تهيں، يہ ايك مشہور واقعہ ہے كہ گول ميز كانفرنس ميں شركت كرنے كے لئے جب وہ لندن ميں مقيم تهے تو برطانوى حكومت نے انہيں ايك وفد كے سربراہ كے طور پر اسپين كا دورہ كرنے كى پيش كش كى تهى- شرط يہ تهى كہ وہ اپنے ساتھ اپنى بيگم صاحبہ كولے جائيں گے جو پردہ نہيں كريں گى- اپنے وقت كے سب سے بڑے مسلمان شاعر ودانشور نے برطانوى حكومت كى اس پيش كش كو پائے حقارت سے ٹهكرا ديا- علامہ اقبال اپنى بيگمات كے ساتھ كسى عوامى مجلس ميں شريك نہ ہوئے- معلوم ہوتا ہے جنرل پرويزمشرف صاحب كے علم ميں علامہ اقبال كى يہ ’تاريك خيالى‘ نہيں ہے ورنہ وہ يا تو علامہ اقبال كى فكر پر مبنى پاكستان بنانے كا ذكر نہ كرتے يا پهر انہيں نقاب پوش مسلمان عورتيں ’پسماندگى كى تصوير‘ ہرگز نظر نہ آتيں- عين ممكن ہے كہ عورتوں كو گهر كے اندر ’قيد‘ ركهنے كى وجہ سے وہ اقبال كو بهى تنقيد كا نشانہ بناتے-

محمد على جناح كے روشن خيال ہونے پر ہمارے تمام سيكولر اور سوشلسٹ دانشور متفق ہيں- جناح كا گهرانہ خاصا روايتى قسم كا تها- ان كى والدہ پردے كى پابند تهيں، ان كى پهوپهياں بهى پرده كرتى تهيں- قائداعظم خود پردے كے متعلق اتنے سخت نہ تهے، ان كى بہن فاطمہ جناح بهى پردہ نہيں كرتى تهيں، مگر قائداعظم كے بيانات ميں سے ايك بيان بهى پردے كى مذمت يا تضحيك پر مبنى نہيں ملتا- انہوں نے كبهى پردے كو پسماندگى كى علامت قرار نہيں ديا- قائداعظم كى تقارير و بيانات كا مفصل ريكارڈ موجود ہے- بزمِ اقبال، لاہور نے ان كى تقارير و بيانات كو پانچ جلدوں ميں شائع كيا ہے- اس ميں ايك بهى ان كابيان ايسا نہيں ہے جو صدر پرويز مشرف كى ’روشن خيالى‘كے لئے رہنمائى كا كام دے سكے- بلكہ مسلم ليگ كے كئى جلسوں كى رپورٹ كے ضمن ميں يہ بات بيان كى گئى ہے كہ ان جلسوں ميں مسلمان خواتين شريك ہوتى تهيں مگر وہ دوسرے خيمہ ميں پردے كى اوٹ ميں مردوں سے الگ رہتى تهيں-

مسلم ليگ 1940ء كے اجلاس كى تصوير ميں ايك برقعہ پوش خاتون بهى نظر آتى ہيں، يہ بيگم مولانا محمد على جوہر كى تصوير ہے، جو صوبہ يو پى كى نمائندگى كررہى تهيں- بانى پاكستان نے كبهى پردے كى اوٹ ميں بیٹھ كر ان كى تقارير سننے والى مسلمان خواتين كو يہ ہدايت نہ كى كہ”اب زمانہ بدل گيا ہے، لہٰذا تم پرده چهوڑ دو-“ نہ ہى انہوں نے بيگم محمد على جوہر كے پردہ پر اعتراض كيا- جناح كے كسى بيان ميں داڑهى اور شعائر ِاسلام كى تضحيك كا تاثر نہيں ملتا-

معلوم ہوا كہ جنرل مشرف صاحب جس ’روشن خيالى‘ كا پهريرا بلند كررہے ہيں، اس كا فكرى سرچشمہ فكر اقبال ہے، نہ طرزِ قائد اعظم ! پهر اس كا سرچشمہ آخر كہاں ہے؟ ہم اس پر بات تهوڑى دير كے لئے موٴخر كرتے ہيں-

پردہ اور اربابِ سياست
نجانے صدر پرويز مشرف كے ذہن ميں يہ بات كيونكر پيدا ہوگئى ہے كہ اس ملك ميں ايك اقليتى طبقہ اكثريتى طبقہ پر پردہ ’مسلط‘ كرنا چاہتا ہے- معلوم ہوتا ہے انہوں نے پاكستان كے حكمرانوں كے خاندانى ماحول كا بهى تفصيل سے جائزہ نہيں ليا، ورنہ وہ يہ خلافِ حقيقت بات شايد كبهى نہ كرتے- اگر وہ غورفرمائيں تو جان ليں گے كہ پاكستان كے وزرائے اعظم كى اكثريت كے خاندان پردے كے پابند رہے ہيں- جناب ذوالفقار على بهٹو بے حد ترقى پسند اور ’روشن خيال‘ حكمران تهے، ان كا سندهى گهرانہ پردے كا سخت پابند تها- ان كى پہلى بيوى امير بيگم نے مرتے دم تك پردے كى پابندى كى- بے نظير بهٹو نے اپنى كتاب ’دختر مشرق‘ ميں ذكر كيا ہے كہ وہ خود ميٹرك تك پردہ كرتى رہى ہيں- پرويز مشرف كے اپنے دور كے تين وزراے اعظم ميں سے دو، يعنى جناب ظفر اللہ خاں جمالى اور چوہدرى شجاعت حسين كے گهرانے پردے كے پابند ہيں البتہ جناب شوكت عزيز كے بارے ميں كچھ كہنا مشكل ہے!!

ماضى كے حكمرانوں ميں پاكستان كے سابق وزيراعظم چوہدرى محمد على، صد رايوب خان، صدر جنرل يحيىٰ خان، سابق وزيراعظم بلخ شيرمزارى، سابق گورنر جنرل خوا جہ ناظم الدين كے گهرانے پردے كے پابند تهے- سابقہ مغربى پاكستان كے گورنر نواب آف كالا باغ كا گهرانہ پردے كے متعلق متشددانہ رويہ ركهتا تها- سابق صدر فاروق لغارى كا خاندان بهى پردہ كرتا ہے- مغربى پاكستان كے وزراے اعلىٰ ميں سے نواب مشتاق گورمانى، سردار عبدالحميد دستى، گورنر جنرل موسىٰ خان كے گهرانے پردے كى پابندى كرتے تهے-

صدر پرويز مشرف كے دور كے موجودہ چار وزرائے اعلىٰ ميں سے تين يعنى پنجاب كے وزيراعلىٰ چوہدرى پرويز الٰہى، سرحد كے وزيراعلىٰ اكرم خان درانى اور بلوچستان كے وزيراعلىٰ جام يوسف كے خاندان كے بار ے ميں يقينى حد تك يہ كہا جاسكتا ہے كہ وہ پردے كے پابند ہيں- مياں نواز شريف كا گهرانہ بهى نيم پردے كا قائل ہے- يہ ايك نامكمل فہرست ہے مگر تب بهى يہ ايك ناقابل ترديد ثبوت ہے اس بات كا كہ پاكستان ميں پردہ كسى پر ’مسلط‘ نہيں كيا جاتا بلكہ يہاں كى اسلامى اقدار اور رواج دونوں كے احترام كى وجہ سے پردہ كى روايت مسلمہ ہے-

عالم اسلام ميں سعودى عرب ميں تو خير كسى عورت كو محرم كے بغير سفر كرنے كى اجازت ہے نہ وہ ڈرائيونگ كرسكتى ہے- مگر ملائيشيا، يمن، اُردن، انڈونيشيا، بحرين، كويت وغيرہ ميں كالجوں اور يونيورسٹى كى طالبات يا تو پردہ كرتى ہيں يا سكارف ضرور ليتى ہيں- صدر مشرف امريكہ آتے جاتے رہتے ہيں، اُنہيں چاہئے كہ وہ امريكہ ميں مسلم خواتين كى ايك تحريك كے بارے ميں معلومات ضرورحاصل كريں جس كا ماٹوہے:’حجاب ميں آزادى‘(Freedom in Hijab) ان ميں اچهى خاصى تعداد سفيد فام امريكى عورتوں كى ہے جنہوں نے اپنى خوشى سے اسلام قبول كرنے كے بعد پردہ اپنايا ہے- كيا صدر مشرف انہيں بهى ’پسماندہ‘كہيں گے-

ويسے ان كے مربى جارج بش كو بهى كبهى ان پردہ پوش خواتين كو پس ماندہ كہنے كا حوصلہ نہ ہوا- اگر وہ كہہ بهى ديتے تو انہيں اپنے الفاظ واپس لينے پڑتے كيونكہ وہاں كا آئين بهرحال كسى طبقہ كى اس طرح كھلى تضحيك كى اجازت نہيں ديتا- ہمارے ہاں كا آئين بهى اس كى اجازت نہيں ديتا، مگر جہاں آئين كے آرٹيكل ٦ كى خلاف ورزى كرتے ہوئے آرمى چيف، جمھورى حكومتوں كا تختہ اُلٹ ديتے ہيں، تو ان كاكچھ نہيں بگڑتا، وہاں پردہ جيسے شعائر اسلام كے خلاف بيان دينے ميں ان كى باز پرس كيونكر ہوسكتى ہے-

دانشوروں اور اہل قلم كا ردّ عمل
صدر پرويز مشرف كے مذكورہ بيانات كے خلاف پاكستان كے سنجيدہ طبقہ نے شديد ردعمل كااظہار كيا ہے- ان ميں صرف علما ہى نہيں، ان ميں سياستدان، صحافى، عدليہ كے سابق اركان اور جنرل مشرف كے حامى بعض مسلم ليگ (قائداعظم) كے سينئر راہنما بهى ہيں- حقيقت يہ ہے كہ سوائے مذہب بيزار انتہا پسند سيكولر دانشوروں كے، كوئى بهى سنجيدہ طبع شخص اس طرح كے بيانات كو تحسين كى نگاہ سے نہيں ديكھ سكتا-

جنرل (ر) مجيد ملك جو قائداعظم مسلم ليگ كے سينئر راہنما اور قومى اسمبلى كے ركن ہيں، نے مشرف صاحب كے بيان كو ’غير حكيمانہ‘ قرار ديتے ہوئے كہا :
”صدر مشرف كوايسے سياسى موضوعات پر بات كرتے ہوئے ہم سے مشورہ كرنا چاہئے تها- ہم صدر صاحب سے اس ضمن ميں بات كريں گے -“ 10

علامہ اقبال كے فرزند جسٹس (ر) جاويد اقبال نے نظريہٴ پاكستان فاوٴنڈيشن كے پليٹ فارم پرايك تقريب سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا:
”روشن خيالى ، اعتدال پسندى سياسى نعرہ ہے- اس كا علامہ اقبال اور قائداعظم كى روشن خيالى سے كوئى تعلق نہيں ہے - روشن خيال اعتدال پسندى كا تصور ’مصلحت ِوقت‘ كے تحت پيش كيا گيا ہے-“11

جناب عبدالقادر حسن ايك معروف اور سينئر كالم نگار ہيں، ان كى آرا كو بے حد وقيع سمجھا جاتا ہے، وہ اپنے اسلوب ميں اظہارِ خيال كرتے ہوئے لكھتے ہيں:
”ہم ديكھ رہے ہيں كہ اچانك كچھ لوگ كہيں سے برآمد ہوگئے ہيں اور انہوں نے اپنے دائرئہ كار ميں پاكستانى مسلمانوں كى پاكستانى روح اور جذبے پر حملے شروع كرديئے ہيں- كوئى كسى مسلمان كے چہرے پر داڑهى ديكھ كر اسے نوچ لينا چاہتا ہے، كوئى كسى مسلمان خاتون كى چادر كواس كے سر سے كھینچ لينا چاہتا ہے، كوئى مدرسوں كو فتنہ و فساد كا مركز ثابت كرنے ميں لگاہوا ہے تاكہ يہاں كوئى خدا اور رسول كا نام نہ لے سكے- كوئى امريكہ جيسے مسلمانوں كے قاتلوں كى تعريف و توصيف ميں، جرأتيں دكها رہا ہے اور كوئى يہاں تك بڑھ گيا ہے كہ پاكستان كے اندر ہندوكلچر اور ثقافت كو چلتا پهرتا اور ناچتا گاتا ديكهنا چاہتا ہے-

برصغير ميں جس گروہ كو كبهى ترقى پسند كہا جاتا تها، اب نئے دورميں اسے روشن خيالى كے نام سے ياد كيا جاتاہے- ’ترقى پسند‘ سوويت يونين كے كميونزم كى علامت اور پہچان تهى، اب چونكہ امريكہ كا دور آگيا ہے، ساز بدل گئے ہيں، اس لئے اس اصطلاح ميں نام كى تبديلى كردى گئى ہے اور وہ لوگ جو كبهى ترقى پسند كہلاتے تهے، اب روشن خيال كہلانے لگے ہيں ليكن ہيں وہى كے وہى- انہوں نے صرف تبديلى نام كا اشتہار چهپوايا ہے اور سوويت يونين كى تحليل كے ساتھ ہى بقولِ شخصے وہ ماسكو سے واشنگٹن جانے والى پہلى ڈائريكٹ پرواز سے فى الفور روانہ ہوگئے- اب يہ واشنگٹن ميں لينڈ كرگئے ہيں اور ماسكو كى جگہ واشنگٹن كى ايجنٹى كرتے ہيں- معلوم ہوتا ہے كہ ڈالر روبل سے كہيں زيادہ خوش نما اور ذائقہ دار ہے- ان لوگوں كى قسمت ميں كسى نہ كسى كى ايجنٹى لكھ دى گئى ہے-“12

جناب عبدالقادر حسن نے روشن خيالوں كا جو كچھ چٹھہ بيان كيا ہے، وہ بالكل حقائق كے مطابق ہے- جنرل مشرف كا اُنہوں نے نام نہيں ليا، مگر ان كا روئے سخن كس كى طرف ہے قارئين كو ٹامك ٹومياں مارنے كى ضرورت نہيں پڑتى، وہ فوراً اصل مخاطب تك پہنچ جاتے ہيں-

جاويد چودہرى بے حد ذہين اور مقبول كالم نگار ہيں- روزنامہ جنگ ميں’زيرو پوائنٹ‘ كے عنوان سے مستقل كالم لكھتے ہيں- پاكستان كے عام شہرى كى طرح وہ بهى ’روشن خيالى‘ كے بڑهتے ہوئے سائے سے پريشان لگتے ہيں- ’روشن خيال اور اعتدال پسند معاشرہ‘ كے عنوان سے اُنہوں نے ايك بے حد فكر انگيز كالم تحرير كيا جس ميں يورپ ميں مروّجہ ’روشن خيالى‘ كے بهيانك چہرے كو بے نقاب كرتے ہوئے اہل وطن كو اس فكرى وبا كے مہلك مضمرات سے متنبہ كيا ہے- وہ كہتے ہيں:

”پيرس شہر ميں پچهلے دس برس ميں نكاح كا كوئى ’سانحہ‘ پيش نہيں آيا- ابهى چند روز پہلے جب ايك جوڑے نے چرچ پہنچ كر باقاعدہ نكاح كى خواہش ظاہر كى تو اس واقعہ پر سخت حيرت كا اظہار كيا گيا- جس وقت يہ شادى وقوع پذير ہورہى تهى، اسى وقت يہ انكشاف ہوا كہ پيرس شہر ميں پچهلے دس سال ميں طلاق كا كوئى كيس رجسٹر نہيں ہوا- كسى عدالت، كسى كونسل ميں كوئى ايسا جوڑا نہيں آيا جس نے طلاق كا مطالبہ كيا ہو- لوگوں نے پوچها ”كيوں؟“ جواب ملا: ”جب دس برس ميں كوئى شادى ہى نہيں ہوئى تو طلاق كيسے ہوگى؟“

يورپى معاشرے كى وہ تصوير كشى اس طرح كرتے ہيں:
”يہ ايك روشن خيال اور اعتدال پسند معاشرے كى تصوير ہے-وہ معاشرہ جس ميں بچياں بلوغت سے پہلے حاملہ ہوجاتى ہيں، زندگى ميں كئى بار اسقاط سے گزرتى ہيں، نابالغ ہونے كے بعد ہر ہفتے بوائے فرينڈ بدلتى ہيں، كسى كى پارٹنر بن كر سال دو سال اس كے فليٹ ميں گزارتى ہيں، شراب خانوں اور كلبوں كى دلدل ميں اُترتى ہيں- زندگى كے اس سفر كے دوران اگر قدرت ان كى گود هرى كردے اور وہ اس ہريالى كو سنبهال ليں تو انہيں يہ تك معلوم نہيں ہوتا يہ بچہ ان كى كون سى بهول، كون سى محبت كى نشانى ہے- يہ بچے بهى دس سے چودہ برس تك ان كے ساتھ رہتے ہيں- اس كے بعد كسى روز آنكھ كھلتى ہے تو انہيں معلوم ہوتا ہے كہ ان كى اولاد بهى معاشرے كى اعتدال پسندى اور روشن خيالى ميں تحليل ہوچكى ہے- پيرس شہر كے اندر ايسى بے شمار اعتدال پسند اور روشن خيال سڑكيں ہيں جو شام ہوتے ہى ہم جنس پرستوں كى منڈياں بن جاتى ہيں جہاں روشن خيال مرد روشن خيال مردوں كے پيچھے پيچھے پهرتے ہيں اور اعتدال پسند عورتيں اعتدال پسند عورتوں كو دعوت ديتى ہيں-يہ سلسلہ صرف فرانس تك محدود نہيں اس وقت پورا يورپ،امريكہ اور مشرقِ بعيد اس روشن خيالى اور اعتدال پسندى كے ہاتهوں تباہ ہوچكا ہے-“

كتنى دردمندى اور جگر سوزى كے تحت جاويد چودہرى نے اس بات پر افسوس كا اظہار كيا ہے كہ مغرب جس روشن خيالى سے تنگ آكر دوبارہ مذہب كى گودميں پناہ لے رہا ہے، ہم اس كى طرف دوڑ رہے ہيں:

”آپ يورپ اور امريكہ كے معاشروں كا بغور مطالعہ كريں، گہرائى سے ان كا تجزيہ كريں آپ كو معلوم ہوگا كہ وہ معاشرے روشن خيالى اور اعتدال پسندى كى دلدل ميں دھنس چكے ہيں اور وہاں كى حكومتيں اور دانشور اُنہيں اسى دلدل سے نكالنے كى كوشش كررہے ہيں- وہ وقت كے پھئے كو واپس دهكيلنے كى سعى كررہے ہيں،ليكن ان كے مقابلے ميں ہم لوگ روايت، مذہب اور ثقافت سے بهرپور معاشرے كو اعتدال پسندى اور روشن خيالى كى صليب پر چڑها رہے ہيں- ہم لوگ اپنے پاك صاف جسم كو لنڈے كے كپڑے پہنا رہے ہيں- اپنے چمكدار چہرے پر مغرب كى گندگى مل رہے ہيں اور يورپ اور امريكہ كى گندى جرابوں كى ٹوپى سى كر سر پر پہن رہے ہيں- يہ ہم كيا كررہے ہيں؟“ 13

جناب عرفان صديقى صاحب جنہوں نے امريكى استعمار كى وحشيانہ غارت گرى كے خلاف پاكستانى عوام ہى نہيں، ملت ِاسلاميہ كے جذبات كى مسلسل ترجمانى كا بے حد تابناك فريضہ انجام ديا ہے، نے اپنے كالموں ميں مشرف حكومت كى نام نہاد روشن خيالى كا بے حد موٴثر انداز ميں پوسٹ مارٹم كيا ہے- اپنے ايك كالم ’انتہا پسندى اور روشن خيالى‘ ميں صد رپرويز مشرف كے بيان پر عالمانہ تبصرہ كرتے ہوئے تحرير كيا :

”نائن اليون كے تناظر ميں ہمارا مقدر بن جانے والا ذہنى، نفسياتى اور اعصابى دباوٴ وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ نہ صرف شديد ہوتا جارہا ہے بلكہ اب اس كى حديں ہمارے مسلمہ عقائد اور نظرياتى و تہذيبى تشخص سے بهى چهيڑ چهاڑ كرنے لگتى ہيں- اب ہم روشن خيال اعتدال پسندى كے فلسفے كى عملى تعبير كے لئے ايسے نازك اور حساس معاملات كو تختہٴ مشق بنانے لگے ہيں جن كا تقدس صديوں سے چلا آرہا ہے- عفت و حيا ہمارى خواتين كا سرمايہٴ اعزاز ہيں، ہمارے ہاں پردے كا مسئلہ محض رواج نہيں، ٹهوس مذہبى حوالہ ركهتا ہے- جس طرح ہم مغرب كو نہيں كہہ سكتے كہ وہ اپنى عورتوں كو بے لباس، عرياں اور بے حيا نہ بنائے كہ اس سے ذوقِ لطيف مجروح ہوتا اور نسوانيت كى توہين ہوتى ہے،اسى طرح مغرب كو بهى يہ حق نہيں ديا جاسكتا كہ وہ ہمارى باپردہ اور حيادار خواتين كو پسماندگى اور تنگ نظرى كا نمونہ قرار دے-يہ تجزيہ كسى طور درست نہيں كہ نقاب ميں چهپى خواتين نظريہٴ اسلام كى پسماندہ تصوير پيش كرتى ہيں- ’دہشت گردى‘ كى طرح پسماندگى اور روشن خيالى كے معنى ميں خلط ملط كرديئے گئے ہيں- نيلگوں ساحلوں كے كنارے، مگرمچهوں كى طرح ريت پر پہلو بدلتى عرياں عورتيں، ترقى وروشن خيالى كا نمونہ ہيں اور نقاب و حجاب ميں لپٹى وہ عفت مآب خواتين پسماندہ اور قدامت پرست ہيں جن كى چادروں سے فرشتوں كے پروں كى خوشبو آتى ہے اور جن سے سورج كى كرنيں بهى نگاہيں جهكا كر ملتى ہيں-“ 14

ايك اور كالم ميں وہ ’روشن خيال اعتدال پسندى‘ كو طنزاً ’جہاد اكبر ‘ كا نام ديتے ہوئے تبصرہ كرتے ہيں:
” گزشتہ دوتين سالوں سے پاكستان كو عالمى سطح پر ايك مہذب، روشن خيال اور اعتدال پسند رياست كے طور پر پيش كرنے كى كوششيں ’جہادِ اكبر‘ كى شكل اختيار كر گئى ہيں- پاكستان كے بارے ميں عمومى بين الاقوامى تاثر كے خراب ہونے كے اسباب ميں انتہا پسندى، بنياد پرستى، مذہبى جنون،كشمير اورافغانستان ميں دراندازى، دينى مدارس،فرسودہ نصابِ تعليم،ناموسِ رسالت اور حدود آرڈيننس جيسے ضابطوں ،برقعوں اور داڑھيوں وغيرہ كى نشاندہى كى گئى- مرض كى تشخيص اور اسباب كے تعين كے ساتھ ساتھ شافى علاج كے ليے ’روشن خيال اعتدال پسندى‘ كا مجرب نسخہ بهى تجويز كيا گيا ہے-“15

صدر پرويز مشرف كى طرف سے نيا فلسفہ پيش ہوتے ہى ہمارے سيكولر دانشوروں ميں سے بعض نے ’روشن خيال اسلام‘ كا راگ دربارى الاپنا شرو ع كرديا ہے- ان مذہب بيزار دانشوروں كى اس منافقانہ روش پر طنز كرتے ہوئے معروف دانشور ڈاكٹر اے آر خالد، جو پنجاب يونيورسٹى ميں شعبہٴ ابلاغياتِ عامہ كے پروفيسر ہيں، لكھتے ہيں:

”صدر كے اسلام كى روشن خيالى كے تصور پر وہ سارے دانشور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے جو پہلے اسلام كے خلاف تهے جو اسلام كے نظام كو چودہ سال پرانا كہہ كر اس ميں من پسند تبديلياں كرنا چاہتے تهے- جن كو تكليف ہوتى تهى، جب كوئى يہ كہتا كہ پاكستان اسلام كے نام پر معرضِ وجود ميں آيا ہے- جو اسلام كو مولوى كى ميراث سمجھ كر اس كى مخالفت كرتے رہے، جو اسلام كے نام ليواوٴں كى مخالفت كرنے كو اپنا دہرم سمجهتے رہے، جو اسلامى شعائر كا مذاق اُڑاتے رہے، جو كبهى روس كى، كبهى بهارت كى ايجنٹى كرتے رہے، جو آج بهى كسى كے ايجنٹ ہيں، وہ سارے اسلام كى روشن خيالى كے مبلغ ہيں-“

وہ لكھتے ہيں: ”امريكى قونصل جنرل كے گهر مفت كى شراب پى كر وہاں سجدہ ريزى كرنے والوں كو بهى ميں نے نظريہٴ پاكستان كى نفى كرتے، اسلام كا تمسخر اُڑاتے اور روشن خيالى اسلام كى تشريح كرتے ديكها ہے-“

پرويز مشرف صاحب كى توجہ اسلام كے روشن خيالى كے صحيح تصور كى طرف مبذول كرتے ہوئے ڈاكٹر اے آر خالد نے اُنہيں صحيح نصيحت كى ہے :
”جنابِ صدر! اسلام كى روشن خيالى يہ ہے كہ خدا كے بتائے ہوئے راستے كو اختيار كيا جائے- اس كے نسخہ ميں اچها ہونے كے لئے يہود و ہنود سے دوستى بے فائدہ ہے- اس كے نسخہ ميں ايسا ہونے كيلئے اسے رازق اور مددگار ماننا ہے، كسى اور كو مددگار ماننے والے شرك كا ارتكاب كرتے ہيں-“16

روزنامہ نوائے وقت ہى كے ايك كالم نگار جناب سعيد آسى نے صدر پرويز مشرف كے بے باكانہ بيانات پر اپنے حيرت و استعجاب كا اظہار يوں كيا ہے :
”حيرت يہ ہے كہ ان كے ايسے بے باكانہ ارشادات بهى آسانى كے ساتھ ہضم كئے جارہے ہيں-كيا شعائر ِاسلام كى اس سے بڑى تضحيك ہوسكتى ہے ؟ مگر اسلامى جمہوريہ پاكستان كے صدرِ مملكت يہ سب كچھ روادارى ميں كہے جارہے ہيں، انہيں نہ كسى تعزير كا دهڑكا ہے اور نہ كسى تحريك كا خوف، خود كو عقل كل سمجھ كر وہ اپنے فرمائے ہوئے كو ہى مستند سمجھ رہے ہيں جبكہ شعائر اسلامى كے دعويدار كئى حكومتى اكابرين بهى ان كى ہاں ميں ہاں ملائے جارہے ہيں-“17

روزنامہ نوائے وقت نے حسب ِمعمول جابر سلطان كے سامنے كلمہ حق بلند كرنے كى روايت كو برقرار ركهتے ہوئے صدر مشرف كے ان بيانات كا اپنے كئى اداريوں ميں سخت نوٹس ليا ہے- اپنے اداريے ميں اس موٴقر جريدے نے صدر پرويز مشرف كو سمجھانے كى كوشش كى ہے كہ

”روشن خيالى اور اعتدال پسندى صرف پارليمانى اداروں ميں خواتين كى نمائندگى بڑهانے اور نئے ٹى وى چينلوں كوكهلى چهٹى دے كر نشريات كا موقع فراہم كرنے كا نام نہيں، حدود آرڈيننس اور توہين رسالت ايكٹ كے خاتمے اور داڑهى ، پردے كو گهروں تك محدود كرنے سے بهى معاشرے ميں روادارى، برداشت اور كشادہ نظرى كا كلچر فروغ نہيں پاسكتا- اسلام اعتدال اور ميانہ روى كا دين ہے، معاشرے ميں ’انتہا پسندى‘ جمہوريت اور جمہورى كلچر سے گريز كا شاخسانہ ہے اور اسلام كے منافى اقدامات كا ردعمل ہے، جو مختلف ادوار حكومت ميں مسلم اكثريت كے جذبات و احساسات كو بالائے طاق ركھ كر كئے جاتے رہے- روادارى اور اعتدال پسندى كا تقاضا ہے كہ اختلافى نقطہ نظر ركهنے والوں كو بهى برداشت كيا جائے-امريكى حكمرانوں اور عہديداروں كى ہر بات پر يس سر اور يس باس كہہ كر اُسے پورا كرنے پر تل جانا تقاضاے دانش مندى نہيں جو بدقسمتى سے عالم اسلام كے كئى حكمرانوں كا طرہٴ امتياز ہے-“ 18



حوالہ جات
1.      نوائے وقت: 16/ دسمبر 2004ء
2.      لندن ميں خطاب: نوائے وقت: 8/ دسمبر 2004ء
3.      بى بى سى كو انٹرويو: نوائے وقت: 8/ دسمبر 2004ء
4.      كوہاٹ ميں خطاب: نوائے وقت 11 جون 2003ء
5.      روزنامہ خبريں: 19/ دسمبر 2004ء
6.      نوائے وقت:20/دسمبر2004ء
7.      دیكھیں طلوعِ اسلام
8.      روزنامہ نوائے وقت
9.      مقالاتِ سرسيد: حصہ پنجم، صفحہ 186
10.  نوائے وقت: 18 /دسمبر 2004ء
11. روزنامہ جنگ: 25دسمبر 2004ء
12.  روزنامہ جنگ: 23 /دسمبر 2004ء
13.  روزنامہ جنگ، 6 جنورى 2005ء
14.  نوائے وقت: 9/ دسمبر 2004ء
15.  نوائے وقت:23/دسمبر2004ء
16.  ’ موجودہ حكومت كا سب سے بڑا كارنامہ‘ نوائے وقت:يكم جنورى 2005ء
17.  مضمون ’ايسى بے باكى؛ ايسى بے بسى‘ نوائے وقت: 22/ دسمبر 2004ء
18.  ’اقبال و قائد كا روشن خيال پاكستان؛ منطقى تقاضے‘ اداريہ 2/ جنورى2005ء