ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
2005
عطاء اللہ صدیقی
”ہميں انتہا پسند مولويوں كے اسلام كى ضرورت نہيں ہے، اگر كسى كو برقعہ اور داڑهى پسند ہے تو اسے اپنے گهر تك محدود ركهے- ہم انہيں برقعہ /داڑهى ملك پر مسلط نہيں كرنے ديں گے-“    
”بعض شدت پسند مذہبى تنظيميں ہميں كئى صدياں پیچھے لے جانا چاہتى ہيں- ہميں زمانے كے ساتھ چلنا ہوگا-
  • جنوری
2005
محمد اسماعیل قریشی
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے۔
  • جنوری
2005
عطاء اللہ صدیقی
زير نظر مضمون ان رپورٹوں كے ايك مختصر تعار ف پرمبنى ہے جو امريكى تهنك ٹینكس اپنى حكومت كو گاہے بگاہے پيش كرتے رہتے ہيں-ان تحقيقى اداروں ميں ’رينڈ كارپوريشن‘ نامى ادارہ بہت متحرك اور فعال ہے، خصوصاً نائن اليون كے بعد اس كى تحقیقى سرگرميوں ميں غيرمعمولى تيزى آئى ہے- ’نائن اليون كے بعد كى مسلم دنيا‘ كے نام سے 567صفحات پر مبنى ايك طويل اور جامع رپورٹ گذشتہ سال اس ادارہ كى طرف سے پيش كى گئى ہے جس ميں عالم اسلام كے كليدى مسائل اور اہم ممالك كے بارے ميں امريكى پاليسى سازوں كے لئے رہنما ہدايات وسفارشات شامل ہيں-
  • جنوری
2005
عبداللہ دامانوی
(1) عن ابن عباس عن النبیﷺ أنه قال: (ما العمل في أيام (العشر) أفضل منها في هذا) قالوا: ولا الجهاد؟ قال: (ولا الجهاد ، إلا رجل خرج يخاطر وبنفسه وماله فلم يرجع بشيئ)
“جناب عبداللہ بن عباس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی دن میں عمل ان دس دنوں میں عمل کرنے سے بڑھ کر نہیں ہے، لوگوں نے عرض کیا: جہاد بھی نہیں۔
  • جنوری
2005
نامعلوم
انسان اللہ تعالىٰ كى نافرمانى كرتے ہوئے اس بات كو بهول جاتا ہيں كہ اللہ تعالىٰ رحيم وكريم ہونے كے ساتھ سب سے بڑا عدل وانصاف كرنے والا اور اپنے وعدوں كو سب سے زيادہ پورا كرنے والا بهى ہے- چنانچہ وہ اپنے نافرمانوں اور اطاعت كرنے والوں كے ما بين بهى پورا پورا انصاف كرے گا اور حسب ِوعدہ بھلائى اور برائى كے ايك ايك ذرّے كا اللہ تعالى حساب لے گا اور اس كا بدلہ عطا كرے گا۔
  • جنوری
2005
عبدالکبیر محسن
مشہور انگریز دانشور اور مترجم قرآن مارما ڈیوک پِکھتال جنہوں نے سالہا سال عرب ممالک کی سیاحت کرکے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھا اور پھر اسلام قبول کرکے اس کی قابل قدر خدمت کی، اپنے مقالات میں لکھتے ہیں کہ انگریزی زبان کے قواعد کی مثال عربی زبان کی وسعت کے مقابلے میں ایسی ہے گویا انگریزی کے قواعد کا وجود ہی نہ ہو۔
  • جنوری
2005
ادارہ
’قتل غيرت كى سزا‘ كے حوالے سے آپ كى نگارشات اور اس سلسلے ميں محدث كى كاوشيں نہايت قابل ستائش ہے-فتنہ پرداز اور الحاد پسند طبائع جس دهيمے انداز سے دائرئہ عمل ميں ہيں، اسے عموماً سادہ لوح حضرات سمجهنے سے قاصر ہيں-آپ نے جو اُن كو بے نقاب كيا، اس پر آپ كے ليے اللہ تعالىٰ سے دعا گو ہوں كہ اس محنت كو قبول فرمائے اور فتنوں كے سامنے سد ِسكندرى بنانے كے ليے آپ كو سكندر بنا دے!!