November Small

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تہذیب و ثقافت، محض چند رسوم و رواج اور افکار وخیالات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ تہذیب و تمدن میں حقیقی طور پر مذہبی عنصر غالب ہے۔ کسی بھی تہذیب میں پائے جانے والے نظریات و خیالات او راس میں موجود رسوم ورواج کا سلسلہ، کسی نہ کسی طرح مذہب سے ضرور ملتا ہے۔اس بحث سے قطع نظر کہ وہ رسوم و رواج مذہب کی نظر میں صحیح ہیں یا غلط، ہمارے ارد گرد ہونے والے رسوم ورواج نسل در نسل چلے آرہے ہیں۔ رواجوں کو دوام عطا کرنے کے لئے انہیں بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، اس لیے کسی بھی دین کا سچّا متبع بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اس دین کی ثقافت اور کلچر کو بھی اپنائے اور اپنی زندگی میں کسی دوسری قوم کی ثقافت کو بسنے کا موقع نہ دے۔
گزشتہ چند سالوں سے گلوبلائزیشن کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ، دوسری دو اصطلاحوں کوبھی بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے :
تہذیبوں کاتصادم                 اور                تہذیبوں کے درمیان مذاکرات
عالمگیریت کے کچھ مؤیدین کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا جائے، ہر تہذیب کے ماننے والے، دوسری تہذیبوں سےبھی اچھی باتیں اخذ کریں اور اُنہیں اپنی زندگی میں جگہ دیں، اس کے لیے مختلف تہذیبوں کے نمائندے، باہمی مذاکرات کی راہ اپنائیں اور ہر تہذیب کی قابل قبول باتوں پر اتفاق کرلیں، اس طرح ایک عالمی تہذیب او ریکساں ثقافت کا وجود ہوسکتا ہے۔
لیکن اگراس نظریے کو مذہبی تناظر کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتِ حال کی روشنی میں دیکھا جائے، تو یہ ناممکن نظر آتا ہے۔ اس لیے تہذیب و تمدن کا ترک کرنا، دراصل اس مذہب کو ترک کرنے کے مترادف ہے، علاوہ ازیں گزشتہ چند سالوں میں دنیا کے مختلف گوشوں میں، تہذیبوں کو قریب لانے سے متعلق جو کانفرنسیں ہوئیں، ان میں اسلامی تہذیب ہی کو نشانہ بنایا گیا اور اسلامی ثقافت کے بڑے حصّے کو پس پشت ڈال دینے کی ترغیب دی گئی۔ نیز اس کی جگہ مغربی تہذیب و تمدن کو اپنانے پر زور دیا گیا ، اس لیے 'تہذیبوں کو قریب لانے' کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے، بلکہ یہ محض فریب اور دھوکہ ہے!!
موجودہ دور میں جس کو حقیقت کہا جاسکتا ہے ، وہ یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے ٹھیکے داروں کی یہ کوشش رہی ہے اور مستقبل میں بھی یہی رہے گی کہ ہر قوم کی تہذیب، ثقافت اور اس کے تمدن کو ختم کردیا جائے او رپوری دنیا میں ایک ہی طرح کی تہذیب رائج کردی جائے، جو مغربی بلکہ امریکی اقدار پر مبنی ہو، تاکہ دنیا اس تہذیب کو اپنا کر اس طرح زندگی گزارے کہ مغربی مفادات میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو او رعالمگیریت اپنے تمام مقاصد میں کامیابی سے ہم کنار ہوجائے، اس لیے کہ جب سطح زمین پر پائی جانے والی قومیں، امریکی ثقافت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیں گی، تو اُنہیں امریکہ کی سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں کو اپنانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ثقافتی عالمگیریت پوری دنیا میں کس طرح فروغ پارہی ہے؟ اس کے کیا اسباب و عوامل ہیں؟ کیا اہداف و مقاصد ہیں؟ اور کیا آثار و نتائج ہیں؟
Michel Bugnon Mordant(مائیکل بگنن) اپنی کتاب أمریکا المستبدة (عربی ترجمہ) میں لکھتے ہیں:
''کسی بھی قوم کا تہذیبی ورثہ اس کی زبان، تاریخ، مہارت و لیاقت، فنی ادبی اورعلمی صلاحیتیں رسوم و رواج او راس کے اقدار ہوتے ہیں، جس طرح یہ مذکورہ چیزیں تمدن کا ایک حصہ ہیں، اسی طرح كسی قوم کا لباس ، کھانے پینے کی اشیا، اُسلوبِِ عمل، کھیل کودکے طریقے، محبت و مسرت اور خوشی و غم کا انداز اور اس کے احساسات وجذبات بھی ثقافت میں شامل ہیں، اگر ہم کسی قوم سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ اپنی مذکورہ صفات سے کنارہ کش ہوجائے، اپنے اندازِ فکر اور احساسات و نظریات سے عہدہ برآ ہوجائے اوراپنی زبان و لباس کو تبدیل کردے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس قوم سے اس کی ثقافت کو سلب کررہے ہیں او راس کے تمدن کو چھین کر ، دوسری تہذیب اس پر مسلط کررہے ہیں۔''1
اب اگر وہ قوم ان تبدیلیوں کو قبول کرلے او راپنی ثقافت سے منہ موڑ لے، تو گویا اس نے پنے تشخص کا خاتمہ کردیا او راپنے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
گلوبلائزیشن جہاں سیاسی اور اقتصادی سطح پر اپنے آپ کو نافذ کرناچاہتا ہے، وہیں تہذیب و ثقافت کو بھی اپنے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے۔ سیاست اور معیشت کے بعد، اس کا مقصد یہ ہے کہ ثقافت کی بھی عالم کاری کردی جائے او رپوری دنیا پر ایک ہی طرح کا تمدن مسلط کردیا جائے۔لوگوں میں رنگ و نسل کا اختلاف تو پایا جائے(جو قدرتی او ریقینی ہے)، لیکن زبان، مزاج و مذاق، رہن سہن اور معیارِ زندگی، حتیٰ کہ فکر و نظر میں بھی مماثلت اور یگانگت قائم ہوجائے۔ لوگوں کی زبان ایک ہو، جبکہ بقیہ زبانیں تاریخ کے حوالے کردی جائیں، ان کے احساسات و نظریات ایک طرح کے ہوں، تاکہ نظریات کے اختلاف کی وجہ سے، کسی کے مفادات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی ہوسکے او ران کا طرزِ زندگی بھی ایک ہو، تاکہ زندگی میں پرتعیش اشیا کو بنانے اور فروخت کرنے والی کمپنیوں کو کبھی کساد بازاری کی شکایت نہ ہوسکے۔
اب تک عالمگیریت کے دیگر شعبوں میں مغربی اور امریکی اقدار کا غلبہ رہا ہے، بلکہ دیگر رجحانات کی طرف نظر التفات بھی نہ کی گئی، سیاست کو امریکی مفاد کے مطابق ڈھالا گیا، اقتصادیات کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی خواہشات کے مطابق تشکیل دیا گیا، لہٰذا جب ثقافتی عالم گیریت کی باری آئی تو فطری طور پر مغربی اور امریکی ثقافت ہی کو اقوام عالم پر مسلط کرنے کے لیے منتخب کیا گیا، اسی کو یہ حق دیا گیاکہ وہ پوری دنیا کی مشترکہ تہذیب بنے، اسی کو اس لائق سمجھا گیا کہ وہ عالمی تمدن کی شکل اختیارکرلے۔
ثقافتی عالمگیریت کو اگرچہ بعض لوگ کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے، لیکن درحقیقت عالمگیریت کا سب سے خطرناک پہلو'ثقافتی عالمگیریت' ہی ہے، کیونکہ سیاست اور اقتصادیات کی عالم کاری مادیت کے پیش نظر کی جارہی ہے جبکہ ثقافت کا تعلق مذہب سے ہے، خصوصاً اسلامی تہذیب و تمدن، مذہبِ اسلام کی اساس ہے،اس لیے دنیا کی تمام تہذیبوں بشمول اسلامی تہذیب کو ختم کرکے صرف مغربی تہذیب کو مسلط کرنا ، براہِ راست مذہب پر حملہ ہے، بنا بریں ثقافتی عالمگیریت کو سہل پسندی کے ساتھ نہیں لیا جاسکتا۔
عالمگیریت کے پالیسی ساز ادارے، تہذیب و تمدن کی عالم کاری اس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ رسوم و رواج ،عادات و اطوار اور معیارِ زندگی میں مماثلت کی وجہ سے انسانیت دو طبقوں میں تقسیم ہوجائے، ایک طبقہ جس کے افراد زیادہ ہوں، ان کی حیثیت عالمی بازار کے ایک صارف کی ہو، ان کا کام ٹیکس ادا کرنا اور عالمی ثروت کے حق دار طبقے کی خدمت کرنا ہو ، جبکہ دوسرا طبقہ کم افراد پر مشتمل ہو، جو سب کے سب تاجر، صنعت کار اور سرمایہ کار ہوں، ان کا کام اپنی تجارت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہو۔
ثقافتی عالمگیریت کایہی مقصد ہےکہ مغربی ثقافت کےرواج پانے سے جہاں سیاسی مفادات پورے ہوں، وہیں اقتصادی منصوبوں میں بھی کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو او رروئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ بچے، جس کے ذہن میں مغربی پالیسیوں کے بارے میں سوالات کھڑے ہوں، جس کی زبان سے صہیونی مفادات کے خلاف کوئی حرف نکلے او رجس کی سوچ اور نظریے سے دوسرے لوگ بھی راہ پائیں اور عالمگیریت کے راستے میں حائل ہوجائیں۔
ثقافتی بالادستی ؛ایک قدیم روش
ہرباشعور اور زندہ قوم ، اپنی تہذیب و تمدن کو اپنے لیے مایۂ افتخار سمجھتی ہے ، اس کے نزدیک ثقافت سےبڑھ کر کوئی اجتماعی دولت نہیں ہوتی، اس لیے قدیم زمانے ہی سے تہذیب و ثقافت کی نشرواشاعت کا سلسلہ قائم ہے، ہر قوم نے اپنے تمدن کودوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، فرق یہ ہے کہ کسی نے امن کی راہ اختیار کی ، تو کسی نے پرتشدد طریقے سے یہ کام انجام دیا۔
چنانچہ قدیم مصری تاریخ میں بھی یہ بات ملتی ہے کہ اس زمانے کی مصری تہذیب ہی دیگر اقوام کے لیے نمونہ سمجھی جاتی تھی، بقیہ تہذیبیں اپنے اپنے علاقوں تک محدود تھیں یا ان کا ٹمٹاتا ہواچراغ بجھا چاہتا تھا، مصری تہذیب کے بعد یہ مقام و مرتبہ کنعانی ثقافت کو حاصل ہوا، قدیم ہندوستان کی ثقافت کوبھی یہ مرکزیت حاصل رہ چکی ہے۔
چین کا تمدن بھی اپنے زمانےمیں لوگوں کے لیے باعثِ تقلید بنا ہے، اسکندر اعظم کی فتوحات کےساتھ ، یونانی تہذیب نےدنیا کے مختلف علاقوں میں اپنے جھنڈے گاڑے ہیں اور اس کو مغرب سے لے کر مشرق تک، مرکزی تہذیب ہونے کا شرف حاصل رہا ہے، پھر رومی اور فارسی تہذیبوں کے بعد اسلامی تہذیب و تمدن کو یہ مقام حاصل رہا، جو شمال مغرب میں'اندلس' کوعبور کرکے یورپ تک پہنچی، شمال مشرق میں وسط ایشیا تک اور جنوب مشرق میں فارس، ہندوستان ، حتیٰ کہ چین تک اس کی روشنی پھیلی ہوئی تھی، لیکن اسلامی تہذیب اور اسلام سے ماقبل کی ثقافتوں میں فرق یہی رہا ہے کہ جس طرح اسلام، اخلاق و مساوات اور بلند اقدار جیسی تابندہ تعلیمات کے نتیجے میں چار دانگ عالم میں پھیلا ہے، اسی طرح اسلامی تہذیب نے بھی اپنی امتیازی خصوصیات کی بنا پر لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہے اور اقوامِ عالم نے رنگ و نسل کے اختلاف کے باوجود اس میں کشش محسوس کی ہے جبکہ سابقہ اقوام نے اپنی ثقافت کو رائج کرنے کے لیے طاقت و قوت اور تشدد کی راہ اختیار کی او رزبردستی لوگوں کواپنی تہذیب کا ہم نوا بنایا۔2
آج جب تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ہے اور تقدیر نے مغرب کو مشرق پر فوقیت عطا کی ہے تو مغربی تہذیب و تمدن کے ماننے والوں کی یہی کوشش ہے کہ وہ اپنی تہذیب کو اطراف عالم میں رائج کردیں۔ وہ لوگ اپنی ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہیں، اس لیے کہ مغربی تہذیب اگرچہ اعلیٰ اخلاقی اقدار سے یکسر عاری ہے، لیکن اس کی نشرواشاعت میں تشدد کا زیادہ حصہ نہیں رہا ہے بلکہ اس مرتبہ مغربی تہذیب کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے نئے طریقے ایجادکیے گئے اوراُن پر بڑی چالاکی کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے عمل درآمد کیا گیا، اسی طرح انفارمیشن اورٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتی ہوئی ترقی نے مزیدکام آسان کردیا اور مغربی تہذیب کو اس کے کھوکھلا ہونے کے باوجود دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیا۔
آج ہم جس تہذیب کو مغرب کی جانب منسوب کرتے ہیں وہ دراصل امریکی تہذیب ہے، اس لیے کہ یورپ کے پاس، جو ماضی میں ایک منفرد تہذیب کا حامل تھا، اب کچھ بچا ہی نہیں، جس کو وہ تہذیب کا نام دے۔ چند ممالک نےبہت دیر میں غفلتوں سے بیدار ہونے کے بعد اپنی زبان کو ثقافتی ورثے کی حیثیت سے بچانے کی کوشش شروع کی ہے ، ورنہ زبان کے علاوہ اب یورپ کے پاس اپنا کچھ نہیں رہ گیا، بلکہ سب کچھ امریکی رنگ میں رنگ چکا ہے، اس لیے زبان کے استثنا کے ساتھ مغربی تہذیب دراصل امریکی تہذیب ہی کہلاتی ہے ، جسے امریکہ نے یورپ سمیت پوری دنیا میں مواصلات کے ذریعے عام کیا او راس میدان میں ترقی کی رفتار کے ساتھ ساتھ امریکی تہذیب کے پھیلاؤ میں تیزی آتی گئی۔
مواصلات؛ مغربی ثقافت کا ہتھیار
عالم گیریوں کو اس بات کا اندازا تھا کہ مستقبل میں اگر سیاسی اور اقتصادی میدان میں اپنی بالادستی قائم رکھنی ہے تو امریکی ثقافت کی بھی عالم کاری کرنی ہوگی، اس مقصد کے لیے اُنہوں نے 'مواصلات' کو، بہ الفاظ دیگر ذرائع ابلاغ کو ذریعہ بنایا۔ انہیں یہ معلوم تھا کہ اگر پورے عالم کی امریکہ کاری کرنی ہے تو امریکی طرزِ زندگی کو مثالی اور قابل تقلید بنانا ہوگا ، لوگوں کی عقلوں پرکمند ڈال کر ان کو اپنے قابوں میں لینا ہوگا۔ لوگوں کے افکار و خیالات پر شب خون مارنے کے لیے اُنہوں نےذرائع ابلاغ کا انتخاب کیا اور اس راہ سے پوری دنیا میں امریکی ثقافت کو قابل تقلید بنانے کی کامیاب کوشش کی۔
درحقیقت عالم گیریوں نے یہ طریقہ کار یونانیوں سے اخذ کیا تھا، 'سقراط' کے زمانے میں ہی یونان کے فرماں رواؤں کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ محض سیاست کے گلیاروں پر قبضہ کرکے اپنے اقتدار کودوام نہیں بخشا جاسکتا، اس کے لیے عوام کی ذہن سازی کرنی ہوگی ۔انہیں اپنے تیار کردہ نقشہ راہ پر چلانا ہوگا، اپنے رسوم و رواج کو ان کے نزدیک پرکشش بنانا ہوگا اور اُن کی سوچ کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالنا ہوگا، یہی طریقہ عالم گیریوں نے اپنی تحریک کو دوام بخشنے کے لیے اختیار کیا اور اس طریقے کو ہمہ گیر بنانے کے لیے ذرائع ابلاغ کا انتخاب کیا۔3
مواصلات دراصل ایسے افعال کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے لوگ آپس میں جذبات ، احساسات ، تاثرات ، افکار، خیالات او رمعلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، یہ تبادلہ ایسے وسائل کے ذریعے ہوتا ہے جن کو دو الگ الگ قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
1.  ایسے محدود وسائل، جو محدود افراد کو باہم مربوط کریں، ان وسائل میں ٹیلی فون، فیکس وغیرہ کے ساتھ ساتھ جلسے، کانفرنسیں او رسیمینار بھی شامل ہیں چونکہ یہ بھی چند افراد کے باہمی رابطے کا ذریعہ ہیں۔
2.  ایسے وسائل جو غیر محدود افراد تک بات پہنچانے کا ذریعہ ہوں ،ان میں اخبار، ٹی وی، سنیما، فلمیں ، ٹی وی کے اشتہارات اور انٹرنیٹ وغیرہ داخل ہیں۔
امریکی ثقافت کے فروغ میں، دوسری قسم کے وسائل نےاہم کردار ادا کیا، جس پر امریکہ نے آغاز ہی سے اپنا کنٹرول قائم کرلیا تھا او رامریکہ کے واسطے سے یہودیوں نے ذرائع ابلاغ کو اپنے قبضے میں کررکھا تھا جو آج تک اُنہی کے زیر اثر ہے او ربدقسمتی سے جمہوریت کا چوتھا ستون کہلاتا ہے۔
امریکی میڈیا؛ خبر رساں ایجنسیاں
یوں تو امریکی ذرائع ابلاغ کو 'امریکی میڈیا' کہا جاسکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ خالص یہودی میڈیا ہے جو ارب پتی یہودی تاجروں کے زیر اثر ہے او ریہودی کمیونٹی کا سب سے بڑا ہتھیار سمجھا جاتا ہے ، حتیٰ کہ امریکی سیاست پر بھی اس کی اتنی گہری چھاپ ہےکہ انتخابات میں کھڑا ہونے والا ہر اُمیدوار، اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے یہودی میڈیا کی خوشامد کرتا نظر آتا ہے، دراصل یہودیوں نےاپنے دانشوروں کے 'پرٹوکولز' کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ 'یہودی پروٹوکولز'کے بارہویں باب میں درج ہے کہ
''ہماری منظوری کے بغیر کوئی ادنیٰ سےادنیٰ خبر کسی سماج تک نہیں پہنچ سکتی، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہم یہودیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ خبررساں ایجنسیاں قائم کریں، جن کا بنیادی کام ساری دنیا کے گوشے گوشے سے خبروں کاجمع کرنا ہو، اس صورت میں ہم اس بات کی ضمانت حاصل کرسکتے ہیں کہ ہماری مرضی او راجازت کے بغیر کوئی خبر شائع نہ ہوسکے۔''
1.  یہودی اپنے 'پروٹوکولز' کو تشکیل دینے سے پہلے ہی امریکہ میں 1848ء میں ایک خبر رساں ایجنسی قائم کرچکے ہیں، اس ایجنسی کو امریکہ کے پانچ بڑے روزناموں نے مل کر 'ایسوسی ایٹیڈ پریس' کے نام سے قائم کیا۔ نصف صدی گزر جانے کے بعد 1900ء میں یہ ایجنسی عالمی سطح پر کام کرنے لگی اورامریکہ میں شائع ہونےوالے تمام اخبارات و رسائل سمیت، دنیا کے دیگر علاقوں کے ذرائع ابلاغ کو خبریں فراہم کرنے لگی، 1984ء کے اعداد وشمار کے مطابق اس ایجنسی سےامریکہ میں تیرہ سو (1300) روزنامے او رتین ہزار سات سو اٹھاسی (3788) ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن وابستہ ہیں، امریکہ سے باہر ، گیارہ ہزار نو سو ستائیس (11927) روزنامے، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن وابستہ ہیں ، سٹیلائٹ اور دیگر ذرائع سے روزانہ 17 ملین (ایک کروڑ ستر لاکھ) الفاظ پر مشتمل مضامین میڈیا کو فراہم کیے جاتے ہیں۔
اقتصادی اور مالی خبروں کے خاص شعبے ہیں، جہاں سے پوری دنیا کے 8 ہزار مرکزی بنکوں کو،تازہ ترین خبریں فراہم کی جاتی ہیں، ان خبروں کا معاوضہ غیر معمولی حد تک گراں ہوتا ہے۔اس نیوز ایجنسی کے، امریکہ میں ایک سو سترہ(117) دفاتر اور غیر ملکوں میں81 اخباری مراکز ہیں، جہاں پانچ سو انسٹھ (559) نامہ نگار متعین ہیں، ایجنسی میں کام کرنے والے ایڈیٹروں اور صحافیوں کی تعداد جو صدر دفتر میں متعین ہیں، ڈھائی ہزار (2500) ہے، یہ ایجنسی صد فی صد یہودی سرمایے سے چلتی ہے، اس کے علاوہ 95 فیصد کارکن یہودی ہیں ، اس لیے اس کو 'یہودی نیوز ایجنسی' سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔4
b 1907ء میں امریکہ کے دو یہودی سرمایہ کاروں نے 'یونائٹیڈ پریس' کے نام سے ایک نیوز ایجنسی کی بنیاد ڈالی، اس کے دو سال بعد 1909ء میں 'انٹرنیشنل نیوز سروس' کے نام سے کمپنی قائم ہوئی، جس نے بعد میں ایسے عالمگیر اشاعتی ادارے کی حیثیت اختیار کرلی جس کی شاخیں دنیابھر میں پھیل گئیں، یہ دونوں نیوز ایجنسیاں بھی صد فی صد یہودیوں کی تھیں۔ پھر 1958ء میں 'یونائٹیڈ پریس'اور 'انٹرنیشنل نیوز سروس' آپس میں ضم ہوگئیں اور 'نیویارک ٹائمز' کی ملکیت میں آگئیں جو ایک یہودی کے ماتحت ہے۔1984ء میں ان کو 'میڈیا نیوز کارپوریشن'میں ضم کردیا گیا۔اس نیوز ایجنسی کے خریداروں کی تعداد سات ہزار اناسی (7079) ہے، جن میں سے دو ہزار دو سا چھیالیس (2246) خریدار:اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن، امریکہ سے باہر کے ہیں۔اس مرکزی خبررساں ایجنسی کے ماتحت 30 خبر رساں ایجنسیاں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔
4.  'یونائٹیڈ پریس انٹرنیشنل'سے امریکہ میں گیارہ سو چونتیس (1134) اخبارات، پبلشنگ ادارے اور تین ہزار چھ سو ننانوے (3699) ریڈیو اسٹیشن وابستہ ہیں، پوری دنیا میں اس ایجنسی کے ایک سو ستتر (177) مراکز ہیں، صرف امریکہ میں اس کے چھیانوے (96) دفاتر ہیں ، روزانہ 18 ملین الفاظ پر مشتمل مضامین اور خبریں خریداروں کوبھیجی جاتی ہیں جب کہ روزانہ بیاسی (82) تصاویر بھیجنے کا اوسط ہے۔5
4.  عالمی نیوز ایجنسیوں کا جب تذکرہ آتا ہے تو مشہور خبررساں ایجنسی 'رائٹر' کا نام سرفہرست آتا ہے۔یہ ایجنسی برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ذرائع ابلاغ کو سب سے زیادہ خبریں فراہم کرتی ہے، لیکن خود اس ایجنسی کا حال یہ ہے کہ اس کی اکثر خبریں، امریکی خبررساں اداروں سے ماخوذ ہوتی ہیں، اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کے پاس خبررساں ایجنسیوں کا ایسا 'بلاک' ہے جو دنیا میں شائع ہونے والی 90 فیصد خبروں کا واحد ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ امریکی خباروں میں 1851ء سے مسلسل شائع ہونے والے اخبارات میں'نیویارک ٹائمز'، 'ہیرالڈ ٹربیون'، رسائل و مجلّات میں 'ریڈر' ڈائجسٹ، 'نیشنل جیوگرافک'میگزین، ٹائم اور 'نیوز ویک'، ٹی وی چینلوں میں N.B.C، A.B.C اور 1980ء سے عالمی سطح پر مشہور ہونے والے چینل CNN کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جوبلا مبالغہ پوری دنیا میں امریکی پالیسی کے لیے ماحول سازگار کرنے میں سب سے زیادہ ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ امریکہ اپنے مضبوط ترین ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہی ، کروڑوں لوگوں کے افکار و خیالات کو ہم آہنگ بنانے میں کامیاب ہوسکا ہے۔اس وسیع ترین میڈیائی جال ہی کی بدولت امریکی ثقافت و رسوم و رواج پوری دنیا میں پھیلے ہیں، حتیٰ کہ امریکی میڈیا نے اس بات پر بھی اپنی توجہ مرکوز کی ہے کہ لوگ خواہ دنیا کے کسی بھی خطّے سے تعلق رکھتے ہوں، امریکن انداز ہی پر انگلش زبان لکھیں اور امریکی طریقے کے مطابق ہی انگلش لفظ کے ہجے'اسپیلنگ' کریں۔
امریکی میڈیا کی قوت کا اندازا عمومی سطح پر پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر ہوا، جبکہ عراق میں پوری طرح امریکی ذرائع ابلاغ کا کنٹرول تھا۔امریکی نیوز ایجنسیوں اور ٹی وی چینلوں نے حقیقت بیانی سے کام نہیں لیا، بلکہ امریکی حکومت کی منشا کے مطابق خبریں نشر کیں، نیز جنگ سے پہلے پوری دنیا میں امریکہ کے حق میں فضا ساز گار کی اور عراق کو ایک دہشت گرد ملک کی صورت میں پیش کیا۔6
مواصلاتی دنیا پر امریکی سایہ
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ سیاسی اور اقتصادی میدان کے ساتھ ساتھ، عقلوں کو فتح کرنے اور اپنی ثقافت کو پوری دنیا میں رائج کرنے کے لیے امریکہ نے ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی نظام کا سہارا لیا او راپنی اقدار و روایات کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا دیا۔ امریکہ کے نزدیک عالمی مواصلاتی نظام کتنی اہمیت رکھتا ہے، اس کا اندازا یوں لگایا جاسکتا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور نائب صدر ایل گور نے ایک انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے لیے بنیادی جنگوں میں سے ایک جنگ ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھتی ہے، اس موقع پر ایل گور نے یہ بھی اعتراف کیا کہ امریکہ گزشتہ 10 سالوں میں اس جنگ کو جیتنے کے لیے 100؍ارب ڈالر سے زائد خرچ کرچکا ہے۔
امریکی دفاعی ادارے 'پنٹاگن' کے سابق رکن اور مشہور امریکی یونیورسٹی 'ہارورڈ' میں 'کینیڈی کالج' کے موجودہ سربراہ 'جوز ایس نائی' کا کہنا ہے کہ
''امریکہ اپنی بے مثال صلاحتوں کی بنا پر مستقبل قریب میں عالمی ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی نظام کا تنہا مالک ہوگا۔''
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کےلیے امریکہ کے پاس وسائل ہیں؟ کیا مواصلاتی دنیا پر واقعی امریکہ کا مہیب سایہ مسلط ہے؟
جہاں تک اخبارات، ریڈیو اسٹیشن، ٹی وی اور نیوز ایجنسیوں کا تعلق ہے، ہم گزشتہ صفحات میں ذکر کرچکے ہیں کہ میڈیا کے ان تمام ذریعوں پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے، اس کے علاوہ مواصلات کے آلات بھی امریکی کمپنیوں کے زیر اثر ہیں، جو پوری دنیا میں اپنے آلات بنا کر سپلائی کررہی ہیں۔کمپیوٹر، ٹیلی فون، ٹی وی سیٹ، وی سی آر، سی ڈی اور سٹیلائٹ وغیرہ کے میدان میں امریکہ کی ملٹی نیشنل کمپنیاں چھائی ہوئی ہیں، چنانچہ دنیا کے سب سے دولت مند شخص بل گیٹس کی کمپنی 'مائیکرو سوفٹ' نے IBMکے ساتھ کمپیوٹر کے عالمی بازار پر غلبہ حاصل کرنے کے مقصد سے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا ہے۔
مواصلاتی دنیا کو زیر اثر کرنےکی اس خفیہ جنگ میں امریکہ کے ساتھ اس کے طاقتور حلیف بھی شامل ہیں، جو صنعتی او رمالیاتی اداروں کی شکل میں پوری دنیا میں سرگرم ہیں، ان اداروں میں TCI، ٹائم وارنر(Time Warner) یو ایس ویسٹ(US West) اور 'فیکوم' کمپنی قابل ذکر ہیں، جس نے 'ہالی وڈ' کی سنیما کمپنی 'پرمونٹ' کو 100 ملین ڈالر میں خریدا ہے۔ مذکورہ کمپنی کو خریدنے کے بعد 'فیکوم' دنیا میں سب سے زیادہ ویڈیو کیسٹ فروخت کرنے والی کمپنی بن گئی۔جبکہ 'بلاک بسٹر انٹرٹینمنٹ'، جو مشہو رموسیقی چینل MTVکے ساتھ مربوط ہے اور پوری دنیا میں 230 ملین افراد کو اپنے پروگرام دکھاتا ہے، دوسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح 'ہاکرز' نامی ایک مواصلاتی کمپنی 'ڈائرکٹ ٹی وی' (Direct TV) کے نام سے ایک سٹیلائٹ نظام کا تجربہ کرنے جارہی ہے جس کے ذریعے وہ ڈیڑھ سو سے زائد چینل پوری دنیا میں نشر کرسکے، دوسری طرف مشہور عالمی کمپنی At&T(اے ٹی اینڈ ٹی) 'سلیکان گرافکس' (Silicon Graphics) اور'ٹائم وارنر' کے نمایندوں پر مشتمل ایک گروپ ایسا نیٹ ورک تیار کررہا ہے جن پر پوری دنیا میں کہیں بھی ہمہ وقت 500 سے زائد امریکی فلمیں دستیاب ہوسکیں گی۔
مذکورہ بالا کمپنیاں عالمی مواصلاتی نظام کو امریکہ کے زیر نگیں کرنےکے لیے اس کی پوری طرح معاونت کررہی ہیں، موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ خفیہ اور غیراعلانیہ جنگ اپنے اختتام پر ہے اور اس جنگ میں بھی دیگر جنگوں کی طرح فتح کا سہرا امریکہ ہی کے سر ہے۔
'پروپیگنڈا' ایک مؤثر ہتھیار
'فرانسوبرون' کا کہنا ہے کہ
''پروپیگنڈا، ذہین لوگوں پر احمقانہ تاثرات ڈالنے کا نام ہے۔''
بہ الفاظ دیگر پروپیگنڈا محض جھوٹ اور فریب ہے، جسے امریکیوں نے اگرچہ ایجاد نہیں کیا، لیکن ایک مؤثر ہتھیار کی شکل ضرور دی ہے۔ اس کا استعمال دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا، بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جب برطانوی فوج نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا تھا تو امریکی ذرائع ابلاغ نے فتح کا سہرا برطانوی فوج کے سر باندھنے کے بجائے امریکی افواج کے سر باندھا۔ امریکیوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ ''انہی کی بدولت یورپ ، نازیوں سے محفوظ رہ سکا ہے۔''یہ پروپیگنڈا اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یورپی عوام کو یہ یقین ہوگیا کہ امریکہ ان کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں ہے۔ اس وقت سے لے کر آج تک ذرائع ابلاغ اس مؤثر ہتھیار کو کسی نہ کسی شکل میں مستقل استعمال کرتا چلا آرہا ہے۔
ان سطور کا مقصد صرف یہ بتلانا ہے کہ آج امریکی میڈیا، اس پوزیشن میں ہے کہ وہ پوری دنیا کو جس نہج پر اور جس سمت میں لے جانا چاہے، لے جاسکتا ہے ،لوگ غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی باتوں کو بسر و چشم قبول کرلیتے ہیں، مشہور امریکی نیوز چینل CNNکے ایڈیٹر کا کہنا ہے :
''جب ناظرین ٹی وی اسکرین کے ایک کونے میں LIVE (براہ راست) لکھا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ تھوڑی دیر کے لیےچینل بدلنا روک دیتے او رغور سے ہمارے چینل پر پیش کی جانے والی رپورٹ دیکھنے لگتے ہیں، قبل اس کے کہ ان میں سستی در آئے ہم دوسری براہِ راست رپورٹ پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ٹی وی چینلوں کے اس عمل سے ٹی وی دیکھنے والا شخص ان کے سحر میں گرفتار ہوجاتا ہے اور ان کی جانب سے پیش کردہ بات کوتدریجاً قبول کرنے لگتا ہے۔''7
امریکی فلمیں: امریکی ثقافت کا نقیب'ہالی وڈ'
سنیما کا آغاز اگرچہ یورپ میں ہوا او رامریکہ نے اپنے آپ کو اس کا مُوجد ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن جب سنیما نے ترقی کی او رحرکت کرتی ہوئی تصویروں سے آوازبھی آنے لگی تو امریکیوں نے بڑے بڑے یورپی فن کاروں کو اپنے یہاں مدعو کیا اور اُن کے ذریعے فلمیں بنائیں، پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے درمیان بنائی جانے والی جن فلموں نے شہرت پائی، ان میں 80 فیصد امریکی فلم نگری 'ہالی وڈ' کی بنائی ہوئی تھیں، جن میں یورپی فن کاروں نے کام کیا تھا۔
ان فلموں کی شہرت او ران کے اثرات سے امریکیوں کو اندازا ہوگیا کہ عقلوں کو سحر زدہ کرنے اور امریکی طرزِ زندگی کو مثبت انداز میں پیش کرنے کے لیے 'فلم' ایک مؤثر ہتھیار ہے، چنانچہ اُنہوں نے اپنے ثقافت اور تمدن کو فروغ دینے او ر اپنی اقدار و روایات کو رواج دینے کے لیے 'فلموں' کا سہارا لیا اور جس طرح صنعت و تجارت کے میدان میں اپنی بالادستی اوراجارہ داری قائم کی، اسی طرح فلموں کے میدان میں بھی غلبہ حاصل کیا، مختلف معاہدوں اورحیلوں کی آڑ لے کر امریکی فلموں کو عالمی سطح پر پھیلایا گیا۔ چنانچہ 1947ء میں اس وقت کے فرانسیسی صدر لیون بلوم سے خصوصی مالی امداد کے بدلے امریکی سنیما کو مراعات دینے کا مطالبہ کیا گیا، فرانسیسی صدر نے اس مطالبے کو تسلیم کرلیا، جس کی بنا پر فرانس میں امریکی فلموں کا سیلاب آگیا، فرانس خود بھی'فلم سازی' کے میدان میں قدم رکھ چکا تھا اور اس کی فلمی صنعت اٹلی اور جرمنی سے زیادہ بہتر تھی۔ لیکن اس کے باوجود فرانسیسی ٹی وی پر 70 سے 80 فیصد امریکی فلمیں دکھلائی جانے لگیں ، سنیما گھروں میں امریکی فلموں کا قبضہ ہوگیا، حتیٰ کہ یورپ میں فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والی پانچ سب سے بڑی کمپنیاں بھی امریکیوں ہی کے زیر اثر آگئیں۔ اس فلمی سیلاب کا اثریہ ہوا کہ فرانسیسی تہذیب نے امریکی تمدن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے،فرانسیسی قوم کے باشعور قائدین کی بدولت وہاں کی زبان تو محفوظ رہ گئی، لیکن فرانس اپنی زبان کے علاوہ کچھ نہ بچا سکا۔
'ہالی وڈ'نے تو امریکی ثقافت کی نشرواشاعت دنیا کے گوشے گوشے میں کی ، لیکن امریکہ نے غیر ملکی فلموں کے لیے ایسی پالیسی وضع کردی کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے ملک کی ثقافت امریکہ میں رائج نہ کرسکیں۔ چنانچہ 1992ء میں امریکی ٹی وی چینلوں پر 492؍امریکی فلمیں دکھلائی گئیں جبکہ کل 27 غیر ملکی فلمیں ہی امریکی سنیما گھروں میں دکھلائی جاسکیں، اعداد و شمار کے مطابق 1983ء میں پوری دنیا کے سنیما گھروں میں صرف امریکی فلمیں دیکھنے کے لیے 35 فیصد ٹکٹ فروخت ہوئے، یہ تناسب 1993ء میں 57 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ اسی سال صرف یورپ میں امریکی فلموں کے لیے ٹکٹ فروخت ہونےکا تناسب 71 فیصد رہا، جو 1996ء میں 80 فیصد ہوگیا، اس کے مقابلے میں امریکہ میں یورپی فلموں کا تناسب ایک سے تین فیصد تک ہی رہا، ان اعداد و شمار سے اندازا ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ثقافت کو پوری دنیا میں رواج دینے اور دیگر ملکوں کی تہذیب سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں کتنا حساس ہے، ان منصوبوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے کہ امریکی ثقافت جو عالمگیر ہونے کے لیے سالہا سال پہلے منتخب ہوچکی ہے، نہایت برق رفتاری سے مشرق و مغرب کی مسافتیں طے کررہی ہے اور جغرافیائی و قومی حدود سے بے پرواہ ہوکر ہر ملک کے ہر طبقے کو اپنی سحر طرازیوں کا اسیر بنا رہی ہے۔
امریکی فلمی صنعت کے اس سیلاب کا اثر ہر ملک میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جرمنی ان یورپی ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو اپنی زبان کے سلسلے میں بہت حساس ہیں، لیکن اس کے باوجود جرمنی کی فلمی صنعت پر85 فیصد امریکی سینما کا غلبہ ہے۔ 'برلن'کے بڑے بڑے 'اسٹوڈیوز' میں امریکی فلمیں بنائی جارہی ہیں اور عالمی سطح پر ان فلموں کی تشہیر کے ذریعے امریکی ثقافت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ حال ہی میں امریکی فلمیں تقسیم کرنے والے ایک ادارے AMC نے اس ارادے کا اظہار کیا کہ وہ ہر ملک میں ایسے کمپلیکس تعمیر کرے گا جن میں سے ہر ایک میں کم از کم 20 سنیما گھر ہوں گے۔ اس ادارے کے نمایندوں نے فرانس کی 'اونیفرنس' کمپنی کے ساتھ پیرس میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں ۔ نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فرانسیسی فلموں کی حوصلہ افزائی ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے فرانسیسی بازاروں میں امریکی فلموں کو مزید آزادی حاصل ہوگی اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کا موقع ہاتھ آئے گا۔
یورپ کے ایک دوسرے ملک سوئٹز لینڈ میں بھی کچھ یہی صورتِ حال ہے، جہاں سنیما گھروں میں روزانہ 10 فلمیں دکھلائی جاتی ہیں، جن میں 9 امریکی فلمیں ہوتی ہیں، جب کہ دسویں فلم بھی ضروری نہیں کہ یورپ یا خود سوئٹزر لینڈ کی بنی ہوئی ہو۔ پولینڈ میں صرف ایک فی صد سينما گھروں میں مقامی فلمیں دکھلائی جاتی ہیں، جب کہ باقی سنیما گھر امریکی فلموں کے لیے مخصوص ہیں، ہنگری میں 3 فیصد سنیما گھر مقامی فلموں کے لیے اور 97 فیصد سنیما گھر امریکی فلموں کے لیے خاص ہیں۔
امریکی ثقافت کو فروغ دینے کا کام کتنے منظّم انداز سے چل رہا ہے، اس کا اندازا یوں لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی 6 بڑی کمپنیاں جو عالمی بازار پر حاوی ہیں، جب کسی ملک کے ساتھ کوئی بڑا سودا کرتی ہیں تو ساتھ ہی ان کی یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے یہاں اُن امریکی فلموں کو آزادی کے ساتھ دکھائے جانے کی اجازت دیں جوکسی وجہ سے امریکہ اور یورپ میں نہیں چل سکیں اور پٹ گئیں۔8
امریکی فلموں کی عالمی سطح پر تشہیر کی وجہ سے آج کوئی ملک باقی نہیں بچا، جہاں امریکی ثقافت اور تمدن نے اپنے پنجے نہ گاڑدیے ہوں، نوجوان نسل سب سے زیادہ اس سیلاب سے متاثر ہوئی۔ ہر ملک میں نوجوانوں کی اکثریت نے اپنی ملکی اور قومی تہذیب سے رُخ موڑ لیا اور امریکی تہذیب کی دل دادہ بن گئی۔ یہی عالمگیریت کا مقصد بھی ہے کہ قومی تہذیبوں اور ثقافتوں کا خاتمہ کردیا جائے او رامریکی تہذیب کوپوری دنیا میں رائج کردیا جائے۔
عالمی لباس
ہر قوم کا مخصوص لباس اس کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے، لباس ہی سے قوموں کی تاریخ اُجاگر ہوتی ہے او ران کے رہن سہن کا پتہ چلتا ہے، یہ تمدن کی روح اور تہذیب کی بنیاد ہے۔ زبان و ادب کو تمدن میں جو مقام حاصل ہے، وہی مقام لباس کو بھی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ زبانوں میں جس قدر تنوع پایا جاتا ہے ، کم وبیش اتنا ہی تنوع لباس میں بھی پایا جاتا ہے۔ثقافتی انسائیکلو پیڈیا کےاوراق و صفحات، مختلف قوموں کے لباس اور پوشاک پر روشنی ڈالتے ہیں اور ہر قوم کے مخصوص لباس کی نشان دہی کرتے ہیں، کیونکہ لباس ہی دراصل کسی بھی قوم کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
گلوبلائزیشن کے سیل رواں نے جہاں سیاسی جغرافیے میں تبدیلی کی، اقتصادی صور ت حال کو بدلا، پوری دنیا میں امریکی ثقافت کو پھیلایا، وہیں امریکی لباس کو بھی عام کیا اور قومی لباس کا خاتمہ کردیا، 'ہالی وڈ' کی فلموں کا اثر یہ ہوا کہ امریکی لباس پہننا ترقی کا شعار بن گیا اوربلندمعیارِ زندگی کی علامت قرار پایا، جبکہ قومی لباس پہننا دقیانوسی او ر پستی کی دلیل سمجھا گیا۔
یورپ بھی قدیم زمانے میں مال دار ثقافت کا مالک رہا ہے اسی وجہ سے یورپی اقوام کے بھی مخصوص لباس ہوا کرتے تھے ، لیکن اُنیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکی تجارتی کمپنیوں نے یورپ میں قدم رکھا تو تدریجی طور پر قومی لباس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی گئی، پہلی جنگِ عظیم کے بعد مقبولیت کے تناسب میں مزید کمی آئی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب آزادانہ عالمی تجارت کا باضابطہ آغاز ہوا اور صنعتی میدانوں میں امریکی اجارہ داری قائم ہوئی تو یورپی اقوام کے قومی ورثے کا بالکل خاتمہ ہوگیا ، امریکی لباس ، جینز اور ٹی شرٹ وغیرہ ہی کو لوگوں نے اپنا لیا او ریوں امریکی لباس مغربی لباس کہلانے لگا۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک یہی لباس عام ہوگیا حتیٰ کہ اسکول میں لڑکے لڑکیاں اسی لباس میں نظر آتے ہیں، جسے اقوامِ عالم اورنئی نسل پر ٹی وی اور فلموں کے ذریعہ مسلط کردیا گیا۔نوجوان نسل کی یہ خواہش رہتی ہے کہ کسی طرح کیلی فورنیا کی شرٹ اور امریکی صوبے ٹکساس کےہیٹ اسے حاصل ہوجائیں اور وہ بھی ٹکساس کے چرواہوں کی طرح نظر آئے، اس کے جسم پر بھی بیس بال اور باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کی طرح کا لباس ہو، اس کے پاس بھی ایسی ٹی شرٹ ہو جس پر کسی امریکی یونیورسٹی کا یا فلوریڈا صوبے میں واقع برموڈا کی تصویر بنی ہوئی ہو اور اس کے پیروں میں فلمی فنکاروں کی طرح بھاری بھر کم کالے جوتے ہوں۔ جس سے وہ بظاہر امریکی نظر آئے او راس کو لوگ ترقی پسند اور روشن خیال سمجھیں ۔ یہ صورتِ حال موجودہ دور میں تقریباً ساری دنیا میں دیکھنے کو مل رہی ہے، لڑکیوں نے اپنے قومی لباس کو ترک کرکے امریکی فحش لباس اپنا لیا ہے اور قومی لباس جس کو ثقافت کی پہچان کہا جاتا ہے ، تقریباً ختم ہورہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں او رامریکی فلموں نے ہی اس نئے عالمی لباس کو پھیلانے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔9
ماکولات و مشروبات میں اندھی تقلید
امریکہ نے محض اپنے لباس کو ہی سارے عالم میں نہیں پھیلایا بلکہ اس کے ساتھ امریکی ماکولات و مشروبات کو بھی پوری دنیا میں رواج دیا، دنیا کی قدیم قومیں جہاں لباس اور زبان وغیرہ کے سلسلے میں مال دار سمجھی جاتی ہیں ، وہیں ماکولات و مشروبات کے سلسلے میں بھی ان کا امتیاز ہے۔اٹلی جہاں کھانے پینے کی ہزار ہا اقسام پائی جاتی تھیں، فرانسیسی دیہاتوں میں روایتی کھانوں کی بے شمار انواع و اقسام تھیں، اسپینی طرح طرح کے کھانے نہایت مہارت کے ساتھ بنایا کرتے تھے، یونان، برازیل، چین، ہندوستان اور عالم اسلام میں بھی انواع واقسام کے کھانوں کی کمی نہیں رہی، لیکن ثقافتی سیلاب کے نتیجے میں چند بے ذائقہ کھانے ہی فیشن اور ترقی کی علامت بن گئے، جن کو فاسٹ فوڈکے نام سے جانا جاتاہے،'ہاٹ ڈوگ'،'ہیمبرگر'اور 'پیزا'کھانا لوگوں کی پہلی پسند بن گیا ہے۔ امریکی کلچر کی نمائندگی کرنے والے 'مکڈانلڈ'،'برگر کنگ'اور 'پیزاہٹ'نامی ریسٹورینٹ ہر ملک او رہر شہر میں کھل چکے ہیں ، جہاں لمبی لمبی قطاروں میں لوگ دوڑے ہوئے آرہے ہیں۔10
ماکولات و مشروبات کی ثقافت کو سارے عالم میں رواج دینےکے سلسلے میں امریکہ کی سنجیدگی کس قدر ہے، اس کا اندازا یوں لگایا جاسکتا ہے کہ 'اوک بروکس' نامی شہر میں ایک 'ہیمبرگر' نامی یونیورسٹی قائم ہے، اس یونیورسٹی میں درس گاہوں کےساتھ ساتھ بڑے بڑے لیکچر ہال بھی ہیں، جبکہ 26 زبانوں میں ترجمہ کرنے والے مترجمین اور 25 پروفیسر اس جامعہ میں تعلیم و تربیت پر مامور ہیں، یہاں سے اب تک 65 ہزا ر افراد کو 'ہیمبرگر' سازی میں 'بی اے' کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔اس یونیورسٹی سے ہر سال 7 ہزار افراد تیار ہوتے ہیں، یورپ میں اس کی 15 شاخیں اور 100 تربیتی مراکز ہیں، پوری دنیا میں 'ہیمبرگر' فروخت کرنے والے ہر ریسٹورنٹ کا اس یونیورسٹی یا اس کی کسی شاخ سے رابطہ رہتا ہے۔ 'مکڈانلڈ' نامی ریسٹورنٹ میں اچھی ملازمت حاصل کرنے کے لیے ان مراکز سے ٹریننگ لینا ضروری ہے ، 'ہیمبرگر' یونیورسٹی میں اکثر اسباق روزانہ کے کاموں سے متعلق پڑھائے جاتے ہیں، اس یونیورسٹی کی زیادہ تر توجہ تعلیم کے بجائے تربیت پر ہے کہ 'مکڈانلڈ' میں کام کرنے والے افراد کیسے عام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریں اور کس طرح لوگوں کے ساتھ پیش آئیں۔11
اس حیرت انگیز انکشاف سے اندازا ہوتا ہے کہ 'مکڈانلڈ' (جو محض ایک ریسٹورنٹ ہے) پر امریکہ اور وہاں کی ثقافت کے علمبرداروں کی کس قدر توجہ ہے، یہ انکشاف اس بات کا غماز ہے کہ یہ ریسٹورنٹ جو امریکی ثقافت کی ترجمانی پوری دنیا میں کرتا ہے، امریکن قوم کے نزدیک کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
امریکی ثقافت کا دوسرا ترجمان مشہور مشروب کوکاکولا (Coca Cola) ہے، جو آج ہر ملک کے چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی دستیاب ہے، یہ مشروب 1886ء میں جان بمبرٹن نے امریکی شہر'اٹلانٹا' میں ایجاد کیا تھا۔1892ء میں ''اساکنڑ'' نامی ایک کمپنی نے اس کا فارمولا خرید لیا اور 'کوکا کولا' نامی کمپنی قائم کی۔1889ء میں 'پیپسی' بھی ایجاد ہوچکی تھی۔ یہ دونوں مشروب انیسویں صدی کے آغاز ہی میں امریکہ سے باہر نکل چکے تھے، 1944ء میں فرانس نے کوک او رپیپسی کے خلاف ہاتھ پاؤں مارے، لیکن اس کی یہ کوشش رائیگاں گئی، آج 'کوک' اور'پیپسی' نے دنیا بھر میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اپنے کارخانے قائم کررکھے ہیں، جہاں سے یہ مشروب بن کر چپے چپے پر فروخت ہورہا ہے اور امریکی ثقافت و تمدن کی اس علامت کو لوگ ایک عام مشروب سمجھ کر پی رہے ہیں۔12
ثقافتی عالمگیریت او راس کے اثرات
عالمگیریت ...ثقافتی پہلو کے اعتبار سے دو بنیادوں پر قائم ہے:
1.  انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کا فروغ، جس میں ذرائع ابلاغ اور فلمیں وغیرہ بھی داخل ہیں۔
2.  قوموں اور معاشروں کے درمیان مشابہت اوریکسانیت کا بڑھتا ہوا تناسب
یعنی پوری دنیا میں ایک ہی طرح کی تہذیب اور ایک ہی نوعیت کا تمدن مسلط کردیا جائے اور روئے زمین پر بسنے والے لوگوں کو سٹیلائٹ ، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تاکہ ایک مخصوص طبقہ جب بھی چاہے، اپنے نظریات وخیالات کو ان آلات کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلا دے۔نتیجتاً ہر قوم کی روایات اور اقدار الگ الگ نہ رہیں، بلکہ ایک ہوجائیں۔ پوری دنیا کے سوچنے کا طریقہ ایک ہو، لوگوں کے غوروفکر کرنے کا انداز یکساں ہو، ان کی خواہشات ، ان کی دلچسپیاں، رہن سہن، آدابِ گفتگو، اُٹھنا بیٹھنا غرض یہ کہ ہر چیز میں مماثلت ہو۔13
موجودہ دور میں یہ بات آنکھوں دیکھی ہے کہ ذرائع ابلاغ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہوں، پوری طرح مغرب او ریہودیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ طبقہ ٹی وی او رانٹرنیٹ وغیرہ کی مدد سے جو مخصوص افکار و خیالات پھیلا رہا ہے، وہ ڈھکے چھپے نہیں ہیں، پوری دنیا خصوصاً وہ قومیں جنہیں اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کرنا چاہیے ، آج مغربی تقلید میں اندھی ہوئی جارہی ہیں۔پیرس وبرلن کی گلیوں سے نکلنے والا فیشن اگلے دن کی صبح سے پہلے مشرق کی حدود کو پار کرلیتا ہے اورلوگ چشم و دل فرشِ راہ کیے ہوئے اس فیشن کا استقبال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یورپ و امریکہ کے بچے چوراہوں اور سڑکوں پر بنے ہوئے جن ریسٹورینٹس کے کھانے کھانے کی ضد کرتے ہیں ، وہی کھانے کھانے کے لیے مشرق کے غیر ترقی یافتہ ممالک کی ، گلی کوچوں میں رہنے والے بچے بھی روتے بلکتے نظر آتے ہیں۔ جس 'باربی ڈول' (ایک خاص قسم کی گڑیا کا نام) کے ذریعے مغرب میں فحاشی و عریانیت کو فروغ دیا جارہا ہے ، وہی 'باربی ڈول' مشرقی لڑکیوں میں فحاشی کے رجحانات بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کررہی ہے ، حتیٰ کہ اس بے جان اور بے حرکت چھوٹے سے کھلونے نے مسلمان جیسی ماضی کی باشعور اور حال کی بے شعور قوم کے ایک طبقے کو سوچنے پر مجبور کردیا، حالانکہ ایران میں ایسی گڑیا بازار میں آگئی ہے جو اسلامی لباس زیب تن کیے ہوئے ہے، لیکن انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی سرپرستی کی وجہ سے مسلم بچیوں کے درمیان 'باربی ڈول' کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
اسی گلوبلائزیشن کا نتیجہ ہے کہ عرب اپنی قومی ، دینی اور تہذیبی لباس کو بھول چکے ہیں ، حالانکہ ان کا لباس آج بھی ان کا شعار سمجھا جاتا ہے ،حتیٰ کہ امریکن فلم نگری 'ہالی وڈ' اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہندوستانی فلم اسٹوڈیو 'بالی وڈ' میں اسی لباس کو 'اسلامی دہشت گردی' کی علامت کے طور پر دکھلایا جارہا ہے، لیکن عرب اپنے اس مرعوب کن لباس کو چھوڑ کرمغربی لباس اپنا چکے ہیں حتیٰ کہ اُردن، شام، فلسطین،مصر او رلیبیا وغیرہ نے تو مغربی اورامریکی لباس ہی کو قومی لباس قرار دے دیا ہے۔ ماضی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لئے کہیں کہیں کچھ عمر رسیدہ حضرات عربی لباس زیب تن کیے ہوئے نظر آجاتے ہیں۔
غرض یہ کہ ایسی بے شمار چیزیں ہیں جن میں آج مسلم قوم مغرب پرستی کا شکار ہوچکی ہے اگر مذکورہ بالا چیزوں کو تہذیب و ثقافت کے متعلقات میں سے مان لیا جائے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں رہ جاتی کہ مسلمانوں اور خصوصاً عربوں سے ان کا دینی ، فکری، تہذیبی اور تمدنی تشخص رخصت ہوا چاہتا ہے، موجودہ حالات کے تناظر میں، اسلامی ثقافت 'گلوبلائزیشن' کے زیر سایہ مغربی کلچر کے سامنے ہر محاذ پر شکست خوردہ نظر آتی ہے۔
تھوڑا اور گہرائی میں جاکر، اگر ثقافتی عالمگیریت کا جائزہ لیا جائے تو مندرجہ ذیل اہم انکشافات سامنے آتے ہیں:
خرید و فروخت او رمغرب پرستی
گلوبلائزیشن کے قائدین کو اس بات میں بڑی دلچسپی رہی ہے کہ پوری دنیا میں خرید وفروخت اوراس قبیل کے تمام معاملات مغربی طرز پر انجام دیے جائیں، خریدار اپنی جیب میں کرنسی کے بجائے ، کچھ 'کارڈز' رکھے جن پر اس کا نام اور دیگر ضروری معلومات درج ہوں، کارڈ کو مخصوص مشین میں ڈال کر دوکاندار مطلوبہ رقم اپنے 'بنک اکاؤنٹ' میں منتقل کردے، عالمگیریت کے ٹھیکے داروں کی اس خواہش کے مطابق آج پوری دنیا میں اس طریقۂ تجارت کا رواج بڑھتا جارہا ہے،لوگ کرنسی کے بجائے کارڈز کے ذریعے لین دین کرنے کو فوقیت دینے لگے ہیں۔
اور مغربی تقلید میں اپنی بصیرت کھو بیٹھے ہیں مشرقی ممالک میں تو اس طریقے کو ترقی کی علامت اور اعلیٰ طبقے کا شعار سمجھا جارہا ہے، مغربی طوق گلے میں ڈال کر، پھولے نہ سمانے والے اورکاغذ کے چند نوٹوں کے بوجھ سے دبےجارہے ہیں ان لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اپنے مطلوبہ سامان کی قیمت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی دولت پر قابض دو بڑی کریڈٹ کارڈ کمپنیوں (VISA)'ویزا' اور'ماسٹر کارڈ'(Master Card) کی، ان کے جاری کردہ کارڈز استعمال کرنے کی بنا پر منہ بھرائی کررہے ہیں، ان 'کریڈٹ کارڈز' کے ذریعے پوری دنیا میں جہاں بھی کسی قسم کا لین دین ہوگا، اس کا نفع ان دو بڑی کمپنیوں کو ضرور پہنچے گا۔ چنانچہ گلوبلائزیشن نے اس طریقہ تجارت کو قابل تقلید قرار دے کر ان کمپنیوں کا راستہ آسان کردیا ہے اور فطری و طبعی طریقۂ تجارت کو فرسودہ قرا ردے کر ساری دنیا کو اس جدید طریقے کے سحر میں جکڑ دیا ہے۔
نام نہاد جنسی ادب اور تشدد کی ثقافت کو فروغ
ثقافتی گلوبلائزیشن کا ایک خطرناک اثر نئی نسلوں میں جنس پرستی اور تشدد کا فروغ ہے۔ اس عالمی فتنے کے تحت پروان چڑھنے والی نئی نسلیں ، تشدد کو زندگی کے ایک طرز او ر ایک فطری اُسلوب کے طور پر اپنا رہی ہیں۔ مار دھاڑ اور لڑائی کرنا نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔فلموں میں فن کاروں کی طرح کودنا، چھلانگ لگانا اور ہاتھ پیر مارنا ہی ان کا مطمع نظر ہوگیا ہے۔14
نوجوانوں میں اسی قسم کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے نتیجے میں معاشرے کو مختلف سنگین جرائم کا سامنا ہے، ہر ملک میں قتل و غارت گری ایک عام سی بات ہوگئی ہے، جرائم پیشہ عناصر 'ہالی وڈ'اور'بالی وڈ' میں بننے والی فلموں کے ذریعے جرائم کے نئے نئے طریقے سیکھ رہے ہیں اور حقیقی زندگی میں ان کا تجربہ کررہے ہیں۔ نوجوان طبقہ اپنے قیمتی اوقات گھٹیا کاموں میں ضا ئع کرکے اپنے دین، اپنے اخلاق، اور اپنے کردار کو زبردست نقصان پہنچا رہا ہے۔ 'ٹی وی ' اور سنیما گھروں کے پردوں پر دکھلائی جانے والی فلموں نے اس طبقے کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے، جس کے نتیجے میں تشدد کے ساتھ ساتھ مغربی جنسی کلچر، انسانی زندگی ، اس کی عظمت و قار اور شرافت و کرامت کے لیے ناسور بن کر رہ گیا ہے۔یہ مغربی فلمیں اورفحش ڈرامے خطرناک حد تک تعلیم، تمدنی زندگی اور معاشرتی تعلقات پر اثر انداز ہوئے ہیں، خصوصاً عالم اسلام مغرب کے بچھائے ہوئے اس جال میں بُری طرح پھنس چکا ہے۔15
قاہرہ میں واقع خواتین و اطفال سے متعلق ریسرچ سنٹر نے چودہ سو بہتر (1472) مصری خواتین کے درمیان ایک سروے کرایا، جس کے حیرتناک نتائج سامنے آئے ہیں، ان نتائج کو دیکھ کر عقل صرف ماتم ہی کرسکتی ہے۔اس سروے کے خطرناک انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ مصر میں 85 فیصد خواتین جنسی فلمیں دیکھتی ہیں، 75 فیصد فحش مناظر دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، 85 فیصد لڑائی اور تشدد سےبھرپور فلمیں دیکھتی ہیں، 68 فیصد پرانی اور نئی بننے والی جذباتی فلموں میں رغبت رکھتی ہیں، 21 فیصد دیگر فلمیں جبکہ صرف 6 فیصد ٹی وی پر آنے والی خبریں اور ثقافتی پروگرام دیکھتی ہیں ، مزید برآں ان عورتوں میں سے کسی نےبھی معلوماتی فلم یا پروگرام دیکھنے کا تذکرہ تک نہیں کیا۔16
یہ سروے یورپ یا امریکہ میں ہوا ہوتا تو ہم یہ سوچ کر خاموش ہوجاتے کہ فحاشی اور عریانیت کے گڑھ میں یہ سب نہیں ہوگا تو کہاں ہوگا ، لیکن مذکورہ بالا نتائج مصرکی مسلم خواتین پر کیے جانے والے سروے کے بعد منظر پر آئے ہیں، اس کو پڑھ کر آنکھیں خون کے آنسو نہ روئیں تو کیا کریں؟ زبان گنگ نہ ہوجائے تو کیا کرے ؟ اور دل ماتم کناں نہ ہو تو کیا کرے؟
مصر نے اپنے روشن ماضی میں عالم اسلام کی دینی، فکری ، تہذیبی اور ثقافتی قیادت کی ہے، اس ملک کو عالم اسلام کے قلب کی حیثیت حاصل رہی ہے، اس ملک کے سینے کو چیرتے ہوئے بہنے والا دریائے نیل مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا شاہد ہے، لیکن یہ اس دریا کی بدقسمتی ہے کہ آج وہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کے ساتھ ساتھ فکری اور تہذیبی انحطاط کا بھی گواہ بن چکا ہے۔
حالیہ تحقیقات بتلاتی ہیں کہ گلوبلائزیشن کا سب سے بڑا آلہ کار 'انٹرنیٹ'، جنسیت اور فحش کاری کو سب سے زیادہ فروغ دینے والا ہے، کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے اس عالمی نیٹ ورک پر بیٹھ کر صرف ایک مرتبہ کلک (بٹن دبانا) انٹرنیٹ پر فراہم کردہ فحش سروسز اور تصویروں کی راہ میں آنے والی دو بڑی رکاوٹوں:'جہالت او رشرم' کو ختم کردیتا ہے۔ انٹرنیٹ پر لاکھوں کی تعداد میں ایسی ویب سائٹس ہیں جن پر عریاں تصویریں، فحش پروگرام اور جنسی ہیجان برپا کرنے والی فلمیں کھلے عام پیش کی جاتی ہیں، انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوئے شخص کی ان تک رسائی ممکن ہے۔17
مغرب پرستی
گلوبلائزیشن کے بدترین اثرات میں سے ایک اثر یہ بھی ہے کہ مغربی کلچر جو دراصل امریکی کلچر ہے، مکمل طور پر لوگوں کے دل و دماغ پر چھا گیا ہے ، امریکی موسیقی کار مائیکل جیکسن کا میوزک اور موسیقی ہی بہت زیادہ دلچسپی کی چیز بن گئی ہے۔ ریمبو کی فلمیں اور 'ڈیلس اسٹوڈیو' کی جانب سے بنائے جانے والے پروگرام ہی پوری دنیا میں لوگوں کے اور خصوصاً نوجوان نسل کے ذہنی دریچوں پر دستک دے رہے ہیں او ران کی طبیعت و فطرت پر بُری طرح اثر انداز ہورہے ہیں ، حتیٰ کہ امریکی تلفظ ہی میں انگلش بولنا، اس وقت کا ایک بہت بڑا فیشن بن گیا ہے۔18
عالم اسلام میں فیشن... ایک درد ناک صورت حال
اُمتِ مسلمہ کے ثقافتی تشخص کو مٹانے کی خاطر، عالمگیریت کا ایک تحفہ امریکی لباس اور اس سے متعلقہ چیزوں کا وہ سیلاب ہے جس میں پورا عالم اسلام آج غرق ہوچکا ہے، ان کپڑوں اور سامانوں پر انگلش زبان میں ایسے جملے لکھے ہوئے ہیں جو امریکی تہذیب کی ترجمانی کرتے ہیں، عالم عرب کی بڑی بڑی دکانوں اور تجارتی مراکز کے اشتہاری بورڈز، نیز ان میں فروخت ہونے والی اشیا پر عربی زبان کے بجائے انگلش میں فقرے اور جملے لکھے ہوئے ہوتے ہیں اورمقامی مصنوعات کی جگہ ان ہی مصنوعات کی سب سے زیادہ مانگ بھی ہے۔
ایک او رحیرت ناک سروے سے عجیب و غریب انکشاف ہوتا ہے کہ دل یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اسلام کے مرکز و قلب اور ارضِ وحی و قرآن میں بسنے والے ان عربوں کی عقلوں نے کام کرنا بند کردیا ہے یا انعاماتِ خداوندی کی ناشکری کی وجہ سے اللہ نے سزا کے طور پر ان کی عقلوں کو ہی سلب کرلیا ہے؟
1995ء کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک سال میں سعودی عرب کی خواتین نے 538 ٹن لپ اسٹک (سرخی)، 43 ٹن نیل پالش (ناخن رنگنے والا مادہ)، اور 41 ٹن نیل پالش ریمور (نیل پالش زائل کرنے والا مادہ)، استعمال کیا ہے، جب کہ 232 ٹن آئی لائنر (مسکارا یعنی آنکھوں کو پرکشش بنانے والا مادہ) اور 445 ٹن مختلف رنگوں کے خضاب استعمال کیے ہیں ، نیز 1200 سے 1500 ملین ریال پرفیوم پر خرچ کیے ہیں۔صرف گرمی کے موسم میں چار ہزار چار سو(4400) خواتین نے 110 ملین ریال کے مغربی طرز کی شادی کے کپڑے سلوائے ، اوسطاً 8 ہزار ریال ایک شادی کے جوڑے پر خرچ ہوتے ہیں، سعودی عرب میں عام طور پر ایک عورت شادی کے موقع پر صرف اپنے بناؤ سنگار کے لیے 25 ہزا ریال خرچ کردیتی ہے۔
مزید برآں 1997ء کے اعداد و شمار سے یہ دل سوز انکشاف ہوتا ہے کہ خلیج عرب کی خواتین نے صرف ایک سال میں 799 ملین ڈالر پرفیوم پر اور 4 ملین ڈالر خضاب پر خرچ کیے ہیں، نیز 600 ٹن لپ اسٹک اور 500 ٹن نیل پالش استعمال کی ہے جبکہ خلیج کی خواتین نے 5ء1 ارب ڈالر میک اَپ کے سامان پر خرچ کیے ہیں۔19
مغرب زدہ مسلمانوں کا اعتراض
کچھ فریب خوردہ مسلمان جو 'ماڈر ینیٹی' اور جدّت کو نعمتِ الٰہی سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں اور مغرب کے دام فریب میں آکر اس کی اندھی تقلید میں شاد کام ہیں، اپنے احساسِ کمتری (جس کی وجہ سے وہ مغرب کی اندھی تقلید میں ملوث ہیں) کا جواز پیش کرنےکے لیے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اگر یہ مغربی ریستوران، مغربی طرز کےلباس اور امریکی مصنوعات دیگر ممالک میں فروغ پاجائیں یا مسلمان اُنہیں استعمال کرلیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ان اشیا کے عام ہونے سے مسلمانوں کے وجود کو کون سا خطرہ لاحق ہے؟ اور ان کا ثقافتی تشخص آخر کس طرح متاثر ہوتا ہے؟
ایسے مغرب پرستوں کے لیے جواب میں صرف ایک فرانسیسی مثال پیش کردینا کافی ہے کہ ''آپ مجھے اپنا کھانا بتلا یئے، میں بتلاتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟'' یہ مثال حقیقت کی عکاس ہے ، کیونکہ لباس، ماکولات و مشروبات وغیرہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو اپنے ملک کے نظریات وخیالات، عادات و اقدار اور زبان بھی ساتھ لاتی ہیں۔20
بازاروں میں ایسے امریکی اور یورپی لباس عام ہیں، جن پر انگلش میں ایسی عبارتیں لکھی ہوئی ہیں جو جنسی خواہشات کے لیے محرک ہوسکتی ہیں نیز ان پر اسلامی مقدسات کے خلاف جملے بھی درج ہوتے ہیں مثلاًKiss me (میرا بوسہ لو) ،Take me (مجھے پکڑو)، I'm Jewish (میں یہودی ہوں)، Prostitute(بازاری عورت)، Adultery (زنا) اور Zion (صہیونی) جیسے غیر مہذب اور مخرب اخلاق الفاظ، ان ملبوسات پر درج رہتے ہیں ، جن کا مقصد اس مغربی تہذیب کو پھیلانا ہے جس کی بنیاد اباحیت اور بے امن آزادی پر ہے۔21
اس لیے یورپی و امریکی مصنوعات کا فروغ اپنی تہذیب و ثقافت کو مٹانے، اپنے ملّی و قومی تشّخص کو دفن کرنے اور غیروں کی تہذیب کو اپنانے کی طرف ایک قدم ہوگا، جو افسوس کہ عالم اسلام اُٹھا چکاہے، لیکن اس سے بڑھ کر باعث افسوس یہ ہےکہ اس راہ کے منفی اثرات و نتائج کا ابھی تک اس کو ادراک نہیں ہوپایا ہے۔
حوالہ جات

1. أمریکا المستبدة الولایات المتحدة... الخ: ص108

2. ما العولمة ؟ از حسن حنفی ، ص38

3. أمریکا المستبدة، ص102 و ص 108

4. مغربی میڈیا او راس کے اثرات، ص113

5. أمریکا المستبدة: ص113 و 114

6. ایضاً:ص111

7. أمریکه المستبدة: ص112 و ص122

8. أمريكا المستبدة: ص115 تا 120

9. أمريكا المستبدة: ص125

10. ایضاً: ص126

11. رسالہ البیان، عدد 170

12. أمريكه المستبدة: ص127

13. اخبار الأهرام:22؍فروری2001ء، الثقافة العربية في عصر العولمة، از ڈاکٹر عبدالفتاح احمدالفاوی

14. الثقافة العربية في مواجهة المتغیرات الدولية الراهنة، از مسعود ظاهر، رسالة الفکر العربي المعاصر: بیروت عدد 101، 1993ء

15. العولمــة از ڈاکٹر جلال امین: ص126

16. اخبار'اکتوبر' مصر، عدد216 ، 1997ء

17. الإسلام والأمة الإسلامية، از ڈاکٹر جمال المجاہدۃ، ص33

18. الثقافة العربية في عصر العولمة، از ڈاکٹر عبدالفتاح أحمد فاوي، الأ هرام 222، 2001ء، دیکھئے رسالہ المستقبل العربي ، بیروت عدد 229، مارچ 1998ء

19. رسالہ الأسرة ماہ صفر 1420ھ

20. رسالة المنار الجدید مقالة: الشباب المسلم والعولمة، از کامل الشریف

21. الإسلام والعولمة، ص136