November Small

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

٭ عدت کے دوران منتقلی ٭ بیوی کی ملازمت کا خرچ
٭سردی ومرض کی بنا پر تیمّم ٭ مساجد میں نکاح کا مسئلہ
٭ کافر عدالت کی دی گئی طلاق کا معتبر ہونا؟
عدم تحفظ کے احساس کی بنا پر عدت والى عورت كا میكے منتقل ہونا
سوال: ایك عورت كا خاوند فوت ہوگیا اور وہ اپنے فوت شدہ شوہر کے ساتھ كرایہ كے گھر میں رہتى تھی، اس كے میكے والے بھى اسى علاقے میں رہتے ہیں، لیكن گھر ان سے دور ہے، اور اس كا بھائى بھى كام كاج كى بنا پر اس كے گھر آ كر نہیں رہ سكتا، اور عورت مكان كا كرایہ بھى ادا نہیں كر سكتى، كیا یہ عورت عدت گزارنے كے لیے میكے منتقل ہو سكتى ہے ؟
جواب: بیوہ عورت كے لیے اپنے اسى گھر میں عدت گزارنا واجب ہے جس گھر میں رہائش ركھے ہوئے اسے خاوند کی وفات كى اطلاع ملى تھى؛ كیونكہ رسول كریم ﷺ نے یہى حكم دیا ہے۔كتبِ سنن میں نبى كریم ﷺ كى درج ذیل حدیث مروى ہے كہ آپﷺ نے فریعۃ بنت مالك ؓ كو فرمایا تھا:
''تم اسى گھر میں رہو جس گھر میں تمہیں خاوند فوت ہونے كى اطلاع ملى تھى، حتى كہ عدت ختم ہو جائے۔فریعۃؓ كہتى ہیں:چنانچہ میں نے اسى گھر میں چار ماہ دس دن عدت بسر كى تھى ۔''1
اس حدیث پر عمل كرتے ہوئے اكثر اہل علم كا بھى یہى مسلك ہے، لیكن اُنہوں نے یہ اجازت دى ہے كہ اگر كسى عورت كو اپنى جان كا خطرہ ہو یا پھر اس كے پاس اپنى ضروریات پورى كرنے كے لیے كوئى دوسرا شخص نہ ہو اور وہ خود بھى اپنى ضروریات پورى نہ كر سكتى ہو تو كہیں اور عدت گزار سكتى ہے۔
علامہ ابن قدامہ﷫ كہتے ہیں:
''بیوہ كے لیے اپنے گھر میں ہى عدت گزارنے كو ضرورى قرار دینے والوں میں عمر اور عثمان شامل ہیں، اور ابن عمر اور ابن مسعود اور امّ سلمہ سے بھى مروى ہے، اور امام مالك ،امام ثورى، امام اوزاعى ،امام ابوحنیفہ، امام شافعى اور امام اسحٰق﷭ كا بھى یہى قول ہے۔''
ابن عبد البر﷫كہتے ہیں :
''حجاز، شام اور عراق كے فقہاے كرام كى جماعت كا بھى یہى قول ہے ۔''
اس كے بعد لكھتے ہیں:
''چنانچہ اگر بیوہ كو گھر منہدم ہونے یا غرق ہونے یا دشمن وغیرہ كا خطرہ ہوتو اس كے لیے وہاں سے دوسرى جگہ منتقل ہونا جائز ہے؛ كیونكہ یہ عذر كى حالت ہے۔اور اسے وہاں سے منتقل2 ہو كر كہیں بھى رہنے كا حق حاصل ہے ۔'' (مختصرًا)
سعودی عرب کی مستقل فتوى ٰكونسل كے علماے كرام سے درج ذیل سوال كیا گیا کہ ایك عورت كا خاوند فوت ہو گیا ہے اور جس علاقے میں اس كا خاوند فوت ہوا ہے، وہاں اس عورت كى ضرورت پورى كرنے والا كوئى نہیں، كیا وہ دوسرے شہر جا كر عدت گزار سكتى ہے ؟
كونسل كے علماے كرام كا جواب تھا:
'' اگر واقعتاً ایسا ہے كہ جس شہر اور علاقے میں خاوند فوت ہوا ہے، وہاں اس بیوہ كى ضروریات پورى كرنے والا كوئى نہیں، اور وہ خود بھى اپنى ضروریات پورى نہیں كر سكتى تو اس كے لیے وہاں سے كسى دوسرے علاقے میں جہاں وہ محفوظ ہو اور اس كى ضروریات پورى كرنے والا ہو، منتقل ہونا شرعاً جائز ہے ۔''3
اور اُن فتاوىٰ جات میں ساتھ ہی یہ بھى درج ہے:
'' اگر آپ كى بیوہ بہن كو دورانِ عدت اپنے خاوند كے گھر سے كسى دوسرے گھر میں ضرورت كى بنا پر منتقل ہونا پڑے ،مثلاً وہاں اسے اكیلے رہنے میں جان كا خطرہ ہو تو اس میں كوئى حرج نہیں، وہ دوسرے گھر میں منتقل ہو كر عدت پورى كر لے۔''
اس بنا پر اگر یہ عورت اكیلے رہنے سے ڈرتى ہے، یا پھر گھر كا كرایہ نہیں ادا كر سكتى تو اپنے میكے جا كر اُسے عدت گزارنے میں كوئى حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم
بیوى كے ملازمت پر آنے جانے كے اخراجات كون ادا كرے گا؟
سوال: اگر بیوى ٹیچر ہو اور شہر سے باہر پڑھاتى ہو تو كیا وہاں آنے جانے اور ٹكٹ وغیرہ كے اخراجات خاوند كے واجبات میں شامل ہوتے ہیں، اور كیا باقى دوسرے واجبات بیوى كے ذمہ ہوں گے، كیونكہ خاوند كى آمدنى تو محدود سى ہے یعنى وہ صرف تنخواہ پر گزارہ كرتا ہے ؟
جواب: بیوى كے اخراجات معروف طریقہ سے خاوند كے ذمہ واجب ہیں؛ كیونكہ اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:
﴿وَعَلَى المَولودِ لَهُ رِ‌زقُهُنَّ وَكِسوَتُهُنَّ بِالمَعر‌وفِ........٢٣٣ ﴾..... سورة البقرة
'' اور وہ مرد جس كا بچہ ہے اس كے ذمے معروف طریقہ كے مطابق ان عورتوں كا كھانا اور ان كا كپڑا ہے ۔''
اور دوسرے مقام پر اللہ ربّ العزت كا فرمان ہے:
﴿وَإِن كُنَّ أُولـٰتِ حَملٍ فَأَنفِقوا عَلَيهِنَّ حَتّىٰ يَضَعنَ حَملَهُنَّ......٦ ﴾,,,,,,,, سورة الطلاق
''اور اگر وہ عورتیں حاملہ ہوں تو تم ان كے وضع حمل تك ان پر خرچ كرو ۔''
اور اس لیے بھى كہ نبى كریم ﷺ سے ثابت ہے :
'' ان عورتوں كا تم پر نان و نفقہ اور ان كا لباس معروف طریقہ كے مطابق واجب ہے۔''4
اور اس لیے بھى كہ نبى كریم ﷺنےسیدہ ہند ؓ سے فرمایا تھا:
'' تم اتنا مال لے لیا كرو جو تمہیں اور تمہارى اولاد كو معروف طریقہ سے كافى ہو ۔''5
اس كے علاوہ اس اُصول یعنى خاوند كا اپنى بیوى پر خرچ كرنے كےواجب ہونے كے بہت سارے شرعی دلائل ہیں، جو بیوى كے كھانے پینے اور لباس و رہائش وغیرہ كو شامل ہیں، اور اس كے ساتھ بیوى كا علاج معالجہ اور بدن كى قوت بحال كرنے كے اخراجات بھى خاوند كے ذمہ ہیں۔لیكن یہ نان و نفقہ 'معروف' یعنى بہتر طریقہ كے ساتھ مشروط كیا گیا ہے، اور یہ خاوند كى حالت كے مطابق ہوگا، اگر وہ تنگ دست ہے تو اس كے مطابق اور اگر مالدار ہے تو اس كے مطابق خرچ كرے گا۔
البتہ بیوى كى ملازمت پر جانے كے اخراجات اس كے خاوند پر واجب نہیں؛ تاہم دو صورتوں میں واجب ہوگا :
پہلى صورت:اگر خاوند نے بیوى كو یہ ملازمت كرنے كا حكم دیا ہو تو اس صورت میں اس كے آنے جانے وغیرہ كے اخراجات خاوند برداشت كرے گا۔
دوسرى صورت : عقدِنكاح میں بیوى نے یہ شرط ركھى ہو كہ ملازمت كے اخراجات خاوند برداشت كرے گا؛ تو اس شرط كو پورا كرنا ضرورى ہے؛ كیونكہ اللہ تعالىٰ كا فرمان ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَوفوا بِالعُقودِ.........١ ﴾........ سورة المائدة
''اے ایمان والو اپنے معاہدے پورا كیا كرو۔''
اور اس لیے بھى كہ نبى كریم ﷺ كا فرمان ہے:
''جن شروط كو سب سے زیادہ پورا كرنے كا تمہیں حق ہے، وہ شرطیں ہیں جن كے ساتھ تم نے شرم گاہیں حلال كى ہیں۔''6
اور ایك حدیث میں رسول كریم ﷺ كا فرمان ہے:
'' مسلمان اپنى شرطوں پر قائم رہتے ہیں ۔''7
یہاں واضح رہنا چاہئے كہ عورت كے لیے محرم كے بغیر سفر كرنا حلال نہیں۔واللہ اعلم
كیا غیرمسلم جج یا یورپى عدالت كى طلاق واقع ہوگى؟
سوال: میں اپنے خاوند كے ساتھ ایك یورپى ملك میں رہائش پذیر ہوں میرا خاوند نشئی تھا اور چھ برس كى ازدواجى زندگى مشكلات اور لڑائى جھگڑے پر مشتمل رہى جو ناقابل برداشت تھى، چنانچہ میں نے طلاق كا مطالبہ كیا، لیكن خاوند نے طلاق دینے سے انكار كر دیا۔
لہٰذا مجھے عدالت كا سہارا لینا پڑا اور بالفعل طلاق ہو گئى۔ اس معاملہ كو كئى برس بیت چكے ہیں، اب میں یہ معلوم كرنا چاہتى ہوں كہ آیا یہ طلاق صحیح تھى یا نہیں؟ اور اگر میں نئے سرے سے اُس كى بیوى بن كر واپس خاوند كے پاس جانا چاہوں تو كیا طریقہ ہے ؟
جواب: اوّل:اگر خاوند تباہى والے كام مثلاً شراب نوشى یا نشہ كرنے پر اصرار كرے تو بیوى كے لیے خاوند سے طلاق طلب كرنا جائز ہے، اور اگر خاوند طلاق دینے سے انكار كر دے تو پھر شرعى عدالت میں قاضى كے سامنے معاملہ پیش كیا جائے تا كہ وہ خاوند پر طلاق لازم كرے، یا پھر خاوندکے طلاق دینے سےانكار كرنے كى صورت میں شرعى قاضى نکاح فسخ کر دے۔
اور اگر شرعى عدالت اور شرعى قاضى نہ ہو تو پھر اس معاملہ كو اپنے علاقے میں موجود اسلامى مركز یا اسلامك سینٹر میں اُٹھانا چاہیے تا كہ وہ خاوند كو طلاق دینے پر راضى كریں، یا پھر اُسے خلع كى دعوت دیں، اور اس شرعى طلاق كے بعد ضرورت كى بنا پر اسے غیر شرعى عدالت سے تصدیق كرانا جائز ہے۔
دوم:جب آپ نے غیر شرعى عدالت كا سہارا لیا اور عدالت نے خاوند كو طلاق دینے كا كہا تو خاوند نے طلاق كے الفاظ بولے یا پھر طلاق كى نیّت سے طلاق كے الفاظ لكھ دیے تو طلاق واقع ہو گئى ہے۔
اور اگر خاوند نے نہ تو طلاق كے الفاظ بولے اور نہ ہى طلاق كى نیت سے طلاق كے الفاظ لكھ كر دیے، بلكہ عدالت نے طلاق كا فیصلہ كر دیا تو كافر جج كى طلاق واقع نہیں ہوتى، کیونکہ فقہاے كرام كا اتفاق ہے كہ قاضى كو مسلمان ہونا چاہیے جو مسلمانوں كے فیصلے كرے۔ بایں وجہ کہ قضا ایك قسم كى ولایت ہے اور كافر شخص كسى مسلمان شخص كا ولى نہیں بن سكتا۔
ابن فرحون ﷫كہتے ہیں کہ قاضى عیاض ﷫كا قول ہے:
'' جن شروط كے بغیر قضا صحیح نہیں اور نہ ہى ولایت قائم ہو سكتى ہے، وہ دس شرطیں ہیں: اسلام،عقل، مرد، آزادى، بلوغت، عادل ہونا، علم، ایك ہونا، سماعت وبصارت والا ہونا اور گونگا نہ ہونا... پہلى آٹھ شرطیں تو ولى كے صحیح ہونے میں ہیں اور آخرى تین شرطیں صحیح ہونے كے لیے شرط نہیں، لیكن اُن كے نہ ہونے كى صورت میں اسے معزول كرنا واجب ہو جائےگا۔
اس لیے بالاتفاق كافر كى ولایت صحیح نہیں، اور نہ ہى مجنون شخص كى ۔8
فقہاے شریعت کونسل امریكہ كى دوسرى كانفرنس جو كوپن ہیگن، ڈنمارك میں رابطہ عالم اسلامی كے تحت 4تا 7 جمادى الاولیٰ 1425 ھ بمطابق22 تا 25 جون 2004ء میں منعقد ہوئى،اس كا اختتامى بیان یہ تھا:
''جب كسى ایسے ملك میں جہاں اسلامى قوانین اور شرعى عدالتیں نہ ہوں اور كسى حق كو حاصل كرنا متعین ہو جائے یا پھر اپنے سے ظلم روكنا مقصود ہو تو غیر شرعى عدالت سے رجوع كرنے كى اجازت ہے۔
لیكن اس كے لیے شرط یہ ہے كہ شرعى علماے كرام سے اس سلسلہ میں رجوع ضرور كیا جائے تا كہ اس موضوع كے بارے میں واجب كردہ شرعى حكم كو نافذ كیا جا سكے، اور دوسرى عدالتوں سے صرف تنفیذ كى سعى كى جائے۔''
اور اسى اختتامى بیان كے ساتویں بند میں اسلامى ممالك سے باہر دوسرے ممالك كى سول كورٹس میں جارى ہونے والى طلاق كے متعلق درج ہے:
''جب مرد اپنى بیوى كو شرعى طلاق دے دے تو اس كے لیے ان غیر شرعى عدالتوں سے طلاق توثیق كرانے میں كوئى حرج نہیں، لیكن جب خاوند اور بیوى كا طلاق كے متعلق آپس میں جھگڑا اور تنازع ہو تو پھر شرعى عدالت نہ ہونے كى صورت میں قانونى كاروائى پورى كرنے كے بعد اسلامى مراكز شرعى عدالت كے قائم مقام ہوں گے۔''
اور شادى كو ختم كرنے كے لیے صرف یہ قانونى كاروائى مكمل كرنے سے ہى شرعى طور پر شادى ختم نہیں ہوگى۔اس لیے جب عورت سول كورٹ سے طلاق حاصل كر لے تو وہ اسلامى مراكز جا كر اس طرح كے معاملات كا فیصلہ كرنے والے اہل علم سے رجوع كرے تا كہ شرعى طور پر اس معاملہ كو پورا كیا جا سكے۔مختلف جگہوں پر اسلامى مراكز ہونے كى وجہ سے اور ان سے رجوع كرنے میں سہولت ہونے كى بنا پر اس سے انحراف نہیں كیا جا سكتا ۔
اس بنا پر آپ كو اپنے علاقے كے اسلامى مركز یعنى اسلامك سینٹر سے رابطہ كرنا چاہیے ،وہ آپ كے اس معاملہ كو دیكھ كر فیصلہ كریں گے۔
سوم:جب عورت كو اپنے خاوند سے پہلى یا دوسرى طلاق ہو جائے اور اس كى عدت گزر جائے تو اس كے لیے اسى خاوند سے نئے مہر كے ساتھ ولى اور گواہوں كى موجودگى میں نیا نكاح كرنا جائز ہے۔لیكن اگر اسے تیسرى طلاق ہو چكى ہو تو خاوند كے لیے اپنى مطلقہ عورت كے ساتھ نكاح كرنا جائز نہیں حتىٰ كہ وہ عورت كسى دوسرے شخص سے بہ رغبت نكاح كرے اور یہ نكاحِ حلالہ نہ ہو، پھر وہ شخص اپنى مرضى سے اسے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو پہلے خاوند كے لیے اس سے نكاح كرنا جائز ہو جائے گا۔واللہ اعلم
كیا شدید سردى میں غسل جنابت کی جگہ تیمّم كیا جا سكتا ہے ؟
سوال :كیا میں شدید سردى كے ایام میں جنابت سے تیمم كر كے نماز ادا كر سكتا ہوں، واضح رہے کہ بعض وجوہ کی بنا پر میں طہارت کے کامل تقاضے بھی پورے نہیں کرسکتا جیسا كہ سردى میں مجھے كمر كى تكلیف بھى زیادہ ہوتى ہے اور اس كا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
جواب:جنبى شخص كے لیے نماز ادا كرنے سے قبل غسل كرنا واجب ہے؛ كیونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے: ﴿وَإِن كُنتُم جُنُبًا فَاطَّهَّر‌وا......٦ ﴾..... سورة المائدة
''اور اگر تم جنابت كى حالت میں ہو تو پاكیزگى اور طہارت اختیار كرو۔''
اور اگر پانى كى غیر موجودگى، یا پھر كسى عذر یعنى پانى استعمال كرنے میں بیمارى كو ضرر ہو، یا پھر شدید سردى میں پانى استعمال كرنے سے بیمارى میں مزید اضافہ ہونے كا خدشہ ہو، یا پانى گرم كرنے كے لیے كوئى چیز نہ ہو وغیرہ كى بنا پر انسان پانى استعمال كرنے سے عاجز ہو تو غسل كى جگہ تیمم كر سكتا ہے، كیونكہ فرمان بارى تعالىٰ ہے:
﴿وَإِن كُنتُم مَر‌ضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌ أَو جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لـٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا.......٦ ﴾..... سورة المائدة
'' اور اگر تم مریض ہو یا مسافر یا تم میں سے كوئى ایك قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو، یا پھر تم نے بیوى سے جماع كیا ہو اور تمہیں پانى نہ ملے تو پاكیزہ اور طاہر مٹى سے تیمّم كر لو۔''
اس آیت میں دلیل ہے كہ جو مریض شخص پانى استعمال نہ كرسكتا ہو یا پھر اسے غسل كرنے سے موت كا خدشہ ہو، یا مرض زیادہ ہونے كا، یا پھر مرض سے شفایابى میں تاخیر ہونے كا تو وہ تیمّم كر لے۔اللہ سبحانہ وتعالىٰ نے تیمّم كى كیفیت بیان كرتے ہوئے فرمایا:
﴿فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم مِنهُ﴾..... سورة المائدة
''تو تم اپنے چہروں اور ہاتھوں كا اس مٹى سے مسح كرو ۔''
شریعتِ اسلامیہ کے اس حكم کوبیان كرتے ہوئے فرمایا:
﴿ما يُر‌يدُ اللَّهُ لِيَجعَلَ عَلَيكُم مِن حَرَ‌جٍ وَلـٰكِن يُر‌يدُ لِيُطَهِّرَ‌كُم وَلِيُتِمَّ نِعمَتَهُ عَلَيكُم لَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ٦ ﴾.... سورة المائدة9
'' اللہ تعالىٰ تم پر كوئى تنگى نہیں كرنا چاہتا، لیكن تمہیں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتیں مكمل كرنا چاہتا ہے تا كہ تم شكر ادا كرو۔''
اورسیدنا عمرو بن عاص ؓ بیان كرتے ہیں :
''غزوہ ذاتِ سلاسل کی شدید سرد رات میں مجھے احتلام ہوگیا۔ اس لیے مجھے یہ خدشہ پیدا ہوا كہ اگر میں نے غسل كیا تو ہلاك ہو جاؤں گا۔ اس لیے میں نے تیمّم كر كے اپنے ساتھیوں كو فجر كى نماز پڑھا دى۔ چنانچہ اُنہوں نے اس واقعہ كا نبى كریمﷺ كے سامنے ذكر كیا تو رسول كریم ﷺ فرمانے لگے: اے عمرو! كیا آپ نے جنابت كى حالت میں ہى اپنے ساتھیوں كو نماز پڑھائى تھى ؟ میں نے رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم كو غسل میں مانع امركا بتایا اور كہنے لگا كہ میں نے اللہ تعالى كا فرمان سنا ہے:﴿ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُم رَ‌حيمًا ٢٩ ﴾..... سورة النساء ''اور تم اپنى جانوں كو ہلاك نہ كرو، یقینا اللہ تعالىٰ تم پر رحم كرنے والا ہے۔''چنانچہ رسول كریم ﷺ مسكرانے لگے اور كچھ بھى نہ فرمایا۔''10
حافظ ابن حجر﷫ كہتے ہیں:
'' اس حدیث میں اس كا جواز پایا جاتا ہے كہ سردى وغیرہ كى بنا پر اگر پانى استعمال كرنے سے ہلاكت كا خدشہ ہو تو تیمّم كیا جا سكتا ہے، اور اسى طرح تیمم كرنے والا شخص وضو كرنے والوں كى امامت بھى كروا سكتا ہے۔''11
اور شیخ عبد العزیز بن باز ﷫ كہتے ہیں:
''اگر تو آپ گرم پانى حاصل كرسكیں، یا پھر پانى گرم كر سكتے ہوں یا پھر اپنے پڑوسیوں وغیرہ سے گرم پانى خرید سكتے ہوں تو آپ كے لیے ایسا كرنا واجب ہے؛ كیونكہ اللہ تعالىٰ كا فرمان ہے: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا استَطَعتُم﴾یعنی'' اپنى استطاعت كے مطابق اللہ تعالىٰ كا تقوى اختیار كرو ۔''اس لیے آپ اپنى استطاعت كے مطابق عمل كریں، یا تو پانى گرم كر لیں یا پھر كسى سے خرید لیں، یا پھر اس كے علاوہ كوئى اور طریقہ جس سے آپ پانى كے ساتھ شرعى وضو كر سكیں۔لیكن اگر آپ ایسا كرنے سے عاجز ہوں، اور شدید سردى كا موسم ہو اور اس میں آپ كو خطرہ ہو، اور نہ ہى پانى گرم كرنے كى كوئى سبیل ہو اور نہ ہى اپنے ارد گرد سے گرم پانى خرید سكتے ہوں تو آپ معذور ہوں، بلكہ آپ كے لیے تیمّم كرنا ہى كافى ہے؛ كیونكہ اللہ تعالىٰ كا مذکورہ فرمان ہمیں یہی بتاتا ہے اور ایك مقام پر فرمانِ بارى ہے: ﴿فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم مِنهُ﴾''چنانچہ اگر تمہیں پانى نہ ملے تو تم پاكیزہ مٹى سے تیمّم كرو اور اپنے چہروں اور ہاتھ پر مٹى سے مسح كرو۔''
اور پانى استعمال كرنے سے عاجز شخص كا حكم بھى پانى نہ ملنے والے شخص كا ہى ہے۔''12
جہاں تک آپ کے خاص سوال کاتعلق ہے تو آپ كو چاہیے كہ جتنے جسم كا آپ غسل كر سكتے ہیں، اس كا غسل كر لیں، مثلاً اگر آپ كے لیے كسى ضرر كا اندیشہ نہ ہو تو بازوں اور ٹانگیں وغیرہ جو كچھ دھو سكتے ہیں وہ دھو لیں، اور پھر تیمّم كر لیں۔اللہ تعالى آپ کو جلد از جلد شفایاب كرے، اور آپ كى بیمارى كو آپ كے گناہوں كا كفارہ اور درجات كى بلندى كا سبب بنائے۔
مساجد میں نکاح کی شرعی حیثیت
سوال: مسجد میں شادی کی تقریبات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے مساجد کے بارے میں فرمایا:
﴿فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُر‌فَعَ وَيُذكَرَ‌ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ ٣٦ ﴾..... سورة النور
''ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔''
سیدنا ابن عباس، مجاہد ، حسن بصری ﷭ وغیرہ کے نزدیک اس آیت ِکریمہ میں بیوت سے مراد مساجد ہیں۔اہل علم کا موقف یہ ہے کہ مساجد دراصل اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اقامتِ صلوٰۃ کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ مساجد کی تعظیم کی جانی چاہئے اور ان کو نجس وگندگی جیسی چیزوں سے پاک رکھنا چاہئے جیسا کہ امام قرطبی﷫ نے اپنی تفسیر میں بھی بیان کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ''مساجد کو لہوولعب، بےکار اور ایسے اُمور سے پاک رکھنا چاہئے جو اُن کے لائق نہیں ہیں۔ '' علامہ جلال الدین سیوطی کے مطابق ''یہ آیتِ کریمہ مساجد کی عظمت اور اُنہیں ہلکی نوعیت کے کاموں سے دور رکھنے کو بیان کرتی ہے۔'' غرض ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ مساجد کے مخصوص احکام وآداب ہیں جن کا اہتمام کیا جاناضروری ہے تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں مساجد کی ہیبت واحترام اور وقار برقرار رہے۔ جیسا کہ سیدنا بریدهؓ سے مروی حدیث میں آتا ہے کہ ایک موقع پر ایک صحابی مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کررہا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا :
«لا وجدت إنما بنيت المساجد لما بينت له»13
''اللہ کرے تواپنی گمشدہ چیز نہ پائے۔ مساجد ان مقاصد کے لئے ہی ہیں جن کے لئے اُنہیں تعمیر کیا گیا ہے۔''
امام نووی فرماتے ہیں :
''اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ مساجد میں گم شدہ چیزیں ڈھونڈنا ممنوع ہیں۔ ایسے ہی مساجد میں خریدوفروخت کرنا بھی ناجائز ہے، مساجد میں آوازیں بلند کرنا بھی درست نہیں ، پھر نبی کریمﷺ کا ایسے شخص کے لئے یہ کہنا کہ تمہیں وہ اعلان کرنا چیز نہ ملے، اس سے تہدید وتوبیخ کا بھی پتہ چلتا ہے۔''14
ایک بار سیدنا عمر بن خطاب نے ایک شخص کو مسجد میں بلند آواز سے باتیں کرنا سنا تو اس سے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ''یہ بلند آواز مسجد میں کیسی؟ تمہیں معلوم نہیں کہ تم کہاں کھڑے ہو۔''15
ایسے ہی سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ ایک بار مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھے تو آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ بلند آواز سے تلاوتِ قرآن کررہے ہیں تو آپ نے پردہ ہٹا کر اُنہیں فرمایا:
«ألا إن كلكم مناجٍ ربه فلا یؤذین بعضكم بعضًا ولا یرفع بعضكم علىٰ بعض في القراءة أو قال في الصلاة»16
تم میں سے ہرشخص ربِّ کریم سے مناجات کرتا ہے۔ کوئی شخص دوسرے کے لئے باعث اذیتِ بنے اور نہ ہی تلاوتِ قرآن یا نماز میں اپنی آواز بلند کرے۔
حتیٰ کہ سیدنا عمر بن خطاب نے مساجد میں بلند آواز اختیار کرنے والوں کو تعزیر یعنی سزا دینے کا بھی ارادہ فرمایا۔
مذکورہ بالا آیات واحادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کے احکام دیگر عمارتوں سے مختلف ہیں۔ اور ایک دین دار مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ شعائر اللہ کا احترام کرے اور بلاشبہ مساجد شعائر اللہ ہی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ذ‌ٰلِكَ وَمَن يُعَظِّم شَعـٰئِرَ‌ اللَّهِ فَإِنَّها مِن تَقوَى القُلوبِ ٣٢ ﴾..... سورة الحج
''جو شعائر اللہ کا احترام کرے تو ایسا دلوں میں اللہ سے تقویٰ کی بنا پر ہے۔''
مذکورہ بالا اُمور کو پیش نظر رکھتے ہوئے واضح رہنا چاہئے کہ مساجد میں نکاح کرنا اچھا عمل ہے جیساکہ فقہاے حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور بعض حنابلہ کے ہاں مساجد میں نکاح کا انعقاد بہتر عمل ہے۔ تاہم نکاح سے مراد یہاں عقدِ نکاح ہی ہے اور عقد ایجاب وقبول کا نام ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم ودیگراہل علم کا بھی موقف یہی ہے ۔ اس سلسلے میں ان کا استدلال اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی اس حدیث سے ہے جس میں نبی کریم ﷺکا فرمانِ گرامی روایت کیا گیا ہے:
«أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد»17
نکاح کا اعلان کیا کرو اور اس کو مساجد میں منعقد کرو۔
واضح رہے کہ اس حدیث کا آخری جملہ مستند طورپر نبی کریمﷺسے ثابت شدہ نہیں ، حافظ ابن حجر نے تلخیص الحبیر 4؍201 میں اس جملہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اوراکثر محدثین کرام کا یہی موقف ہے کہ حتی کہ علامہ محمد ناصر الدین البانی نے اپنی کتاب میں اس جملہ کو 'منکر' قرار دیا ہے۔18 اس حدیث کے بعض راویوں کو حافظ ذہبی نے تلخیص العلل المتناہیہ میں اور حافظ ابن جوزی  اور امام ابو حاتم نے بھی ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کے مشہور مفتی وعالم شیخ محمد صالح عثیمین فرماتے ہیں :
''ائمہ فقہا اور سلف کا مساجد میں نکاح کو مستحب قرار دینے کی وجہ دراصل اس مبارک جگہ کی برکت سے فائدہ اُٹھانے کا نظریہ ہے۔ اگر اس بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی مل جائے تو بہت بہتر ہے تاہم میں اس بارے میں کسی صحیح حدیث کو نہیں جانتا۔''19
تاہم جمہور فقہاے کرام کا مساجد میں نکاح کا موقف صرف مذکورہ بالا حدیث کی بنا پر نہیں بلکہ اس سلسلے میں صحیح بخاری میں ایک اور مشہور حدیث بھی آتی ہے جو سہل بن سعد ساعدی سے مروی ہے:
''ایک خاتون نے کہا کہ میں اپنی ذات آپ ﷺ کو ہبہ کرنے کے لئے آئی ہوں۔ نبی کریمﷺ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا ۔ اسی اثنا میں ایک صحابی رسول کھڑے ہوئے اور نبی کریم سے مخاطب ہوئے کہ اگر آپ کو اس میں کوئی حاجت نہیں تو آپ اس خاتون کا نکاح مجھ سے فرما دیجئے۔ تو نبی مکرّمﷺ نے اس صحابی کی طرف سے اس عورت کا حق مہر قرآنِ کریم کی تعلیم کو قرار دے کر، ان دونوں کا نکاح کرا دیا۔''20
اس حدیثِ مبارکہ کے بارے میں حافظ ابن حجر صحیح بخاری کی شرح فتح البار ی میں لکھتے ہیں کہ خاتون کی آمد کا یہ واقعہ مسجد میں پیش آیاتھا جیسا کہ امام سفیان ثوری کی روایت میں اس کی تصریح موجود ہے۔21
اِس حدیثِ نبویﷺ سے معلوم ہوا کہ مساجد میں نکاح منعقد کیا جاسکتا ہے اور اس کا شریعت اسلامیہ میں جواز موجود ہے۔تاہم واضح رہنا چاہئے کہ دورِ نبوی میں آپ ﷺ کے صحابہ کے بہت سے نکاح ہوئے ، خلفاے راشدین کے اَدوار میں بھی بہت سے نکاح منعقد ہوتے رہے لیکن مساجد میں نکاح کی مستند روایت ان اَدوار میں شاذ ونادر ہی ملتی ہے۔چنانچہ مساجد میں نکاح کے لئے درج ذیل ضوابط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
1.  مساجد میں یہ نکاح روزمرّہ معمول نہیں بننے چاہئیں، اور نہ ہی اس کو مسجد میں کوئی خاص باعثِ فضیلت سمجھنا چاہئے۔
2.  مساجد کے احکام، اور اس کے شرعی آداب بہر طور ملحوظ رکھے جانے چاہئیں۔ چنانچہ مساجد میں آوازیں بلند کرنا، اور مساجد کو کھانے پینے اور حلویات سے آلودہ کردینا بالکل درست نہیں ہے، مسجد کی صفائی لازماً برقرار رہنی چاہئے۔
3.  مساجد میں آنے والے دولہا کو سادگی اور وقار اختیار کرنا چاہئے، کیونکہ مساجد تفریح کے مراکز نہیں اور ان میں وقار قائم رہنا چاہئے جیسا کہ نبی کریمﷺ کا فرمان اوپر گزرا کہ ''مساجداسی کے لئے ہیں، جس لئے انہیں بنایا گیا ہے۔''
4.  مساجد میں مردوزن کا اختلاط بالکل منع ہے۔ اسی طرح مساجد میں فیشن زدہ خواتین کا اپنے زرق برق یا شرم وحیا سے عاری ملبوسات میں آنا، مساجد میں یادگاری تصاویر وغیرہ لینا ، یہ چیزیں بالکل غیرشرعی ہیں، ان سے کلی اجتناب ہونا چاہئے۔
5.  مساجد میں موسیقی، طبلے، گانے بجانے ، گانوں اور عروسی نظموں سے بھی پرہیز ہونا چاہئے۔
الغرض یاد رہنا چاہئے کہ نکاح کی تقریبات کے ذریعے کسی طرح بھی مسجد کا وقار واحترام متاثر نہ ہونے پائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، اللہ کی عبادت کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ان کا احترام شعائر اللہ ہونے کے ناطے ہر مسلم پر فرض ہے۔ جہاں تک مساجد میں شادی کے تقریبات کا تعلق ہے تو اس کا مقصد، مساجد کے مقام ومرتبہ کو لوگوں کو ذہنوں میں راسخ کرنااور لوگوں کا مساجد سے تعلق کو پختہ کرنا وغیرہ ہے۔ یہ مقاصد نیک ہیں ، او ران مقاصد کو دیگر اچھے ذرائع سے حاصل کرنے کی بھی جدوجہد کرنا چاہئے۔
شیخ محمدصالح العثیمین سے پوچھا گیا کہ کیا مساجد میں نکاح کرنا عیسائیوں سے مشابہت رکھتا ہے کہ وہ بھی اپنے گرجاؤں میں نکاح کی تقریبات منعقد کرتے ہیں ۔
جواب: نہیں ، ایسی بات نہیں ہے۔ حتی کہ علمائے شریعت نے مساجد میں نکاح کو مستحب قرار دیا ہے اور ان کی یہ دلیل ہے: إن أحبّ البقاع إلى الله مساجدها ''روئے ارض پر سب سے مبارک قطعہ ارضی اللہ کی مساجد ہیں۔'' سو اللہ کے گھر ہونے کے ناطے مساجد میں نکاح کرناایک بابرکت فعل ہونا چاہئے۔ تاہم یہ ایک منطقی توجیہ ہی ہے، ہمیں نبی کریمﷺ کی سنتِ مبارکہ میں ایسے نہیں ملتا کہ آپ بطورِ خاص مسجد میں تشریف لے جاتے ہوں اور وہاں نکاح منعقد کرنے کی جستجو کرتے ہوں۔ جب سنتِ مطہرہ میں ایسا منقول نہیں ہے تو اس کو روزمرہ عادت بنا لینا بھی مناسب نہیں۔
شیخ عبد العزیز بن باز ﷫سے سوال کیا گیا کہ مساجد میں نکاح کے بارے میں آپ کا فتویٰ کیا ہے، ہم یہ کام اس مقصد سے کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے نئے جوڑے اور دونوں خاندانوں کو اللہ کی رحمت او ربرکت حاصل ہوگی۔
جواب: کسی مخصوص مقام پر نکاح کے انعقاد کے بارے میں ، میرے علم میں کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ مساجد یا دیگر مقامات پر نکاح میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم میرے علم میں مساجد میں نکاح کا التزام کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔
شرعی طورپر یہ امر واضح ہے کہ کتاب وسنّت میں مساجد میں نکاح منعقد کرنے کی پختہ روایت نہیں ملتی۔ تاہم فی زمانہ برصغیر پاک وہند میں نکاح کے ساتھ شان وشوکت، نمائش واسراف، بینڈ باجے اور بے جا رسومات کی جو متعدد عادات ورواجات منسلک ہوچکے ہیں تو مساجد میں نکاح منعقد کرکے ان غیرشرعی رسومات کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے، کیونکہ مساجد کا ماحول ایسی بہت سے باتوں کا اپنی پاکیزگی کی بنا پر متحمل نہیں ہوسکتا۔عقدِ نکاح سے قبل جو خطبہ ارشاد فرمایا جاتا ہے ، اس کی تاثیر کے لئے بھی مبارک اور باوقار ماحول درکار ہے، تب ہی اس کے اثرات اور اس موقع پر کی جانے والی دعا کی تاثیر پیدا ہوسکتی ہے۔ ان مقاصد کے پیش نظر، جن میں سادگی، رسوم ورواج کا خاتمہ اور ہندوانہ عادات کی بیخ کنی وغیرہ شامل ہیں، مساجد میں نکاح کو اختیارکیا جاسکتا ہے، تاہم یہ بعض نیک مقاصد کی بنا پر ہی ہے۔ اور اگر لوگ یہ طریقہ اختیار کرلیں کہ نکاح تو مسجد میں کریں اور غیر اسلامی عادات اور شان وشوکت کے لئے شادی کی مستقل تقریبات منعقد کریں تو اس سے یہ اصل مقصد ختم ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ چونکہ ان کی پرشکوہ مجالسِ شادی بیاہ کے لئے خطبہ نکاح یا کسی عالم دین کا آکر وہاں وعظ وتلقین کرنااجنبی محسوس ہوتا ہے، اس بنا پر وہ شادی کی تقریب میں اپنے دنیا دارانہ شوق پورے کرتے ہیں اور اس کے دینی پہلو کے لئے مسجد میں ایک رسمی مجلس کرکے، جس میں چند ایک رشتہ دار حاضر ہوجاتے ہیں، نکاح کے شرعی پہلو سے عہدہ برا ہوجاتے ہیں۔ جن مقاصد کے لئے مساجد میں نکاح کو فروغ دیا جارہا ہے ، اگر وہ مقاصد پورے نہیں ہورہے بلکہ اس سے اسلام اور اہل اسلام کی بے توقیری سامنے آرہی ہو تو پھر مساجد میں نکاح کے تکلف کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے مساجد میں نکاح منعقد ہوسکتا ہے اور نیک مقاصد کے لئے اس کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک صرف اِس کے مبارک مقام ہونے اور اس سے برکت لینے کا تعلق ہے تو دورِ نبویﷺ اور ادوارِصحابہ وتابعین میں مساجد سے اس تبرک کی کوئی مستند روایت موجود نہیں ہے۔
حوالہ جات

1. سنن ابو داود:2300؛سنن ابن ماجہ : 2031... علامہ البانى نے اسے صحیح ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے۔

2. المغنى : 8؍127

3. فتاوٰى اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء : 20؍473

4. صحیح مسلم: 1218

5. صحیح بخارى: 5364

6. صحیح بخارى: 2572 ؛صحیح مسلم : 1418

7. سنن ابو داود: 3594... علامہ البانى نے صحیح ابو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

8. دیكھیں تبصرۃ الحكام :1؍26،اورالموسوعة الفقهية: 33؍295

9. دیكھیں: تبصرۃ الحكام: 1؍26 اور الموسوعة الفقهية : 33؍295

10. سنن ابو داود: 334، علامہ البانى نے صحیح ابو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

11. فتح البارى :1؍454

12. مجموع فتاوىٰ ابن باز :10؍199،200

13. صحیح مسلم: 569

14. شرح النووی علی مسلم: 2؍215

15. تفسیر قرطبی: 12؍269

16. سنن ابی داؤد: 1332

17. جامع ترمذى:1089

18. سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ : 982

19. الشرح الممتع: 5؍132

20. صحیح بخاری: 5149

21. فتح الباری: 9؍206