Pages from 357-Mohaddis

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گستاخانِ رسولﷺ اور ناموسِ رسالت پر کیچڑ اُچھالنے والوں کو قرآنِ کریم ، سنتِ رسول ﷺ، اجماعِ صحابہ ، اجماعِ اُمت اور قیاسِ صحیح کی رو سے کافر قرار دیا گیا ہے اور نبیﷺکو اذیت پہنچانے ، آپ ﷺ کا مذاق اُڑانے اور استہزا کرنے والوں کی سزا قتل طے پائی ہے۔ آیئے ان تمام دلائل پر باری باری سرسری نظر ڈالیں کیونکہ دورِ حاضر کے بعض بزعم خود 'روشن خیال' و'اعتدال پسند' لوگ شاتم و گستاخِ رسولﷺ کی اس سزا کو غلو و تشدد باور کروانے پر تلے ہوئے ہیں لہٰذا جب شریعت اسلامیہ کے واضح دلائل آپ کے سامنے آجائیں گے تو ان لوگوں کی باتوں کا وزن آپ خود بھی کرسکیں گے ۔
شاتم و گستاخِ رسول ﷺ کا کفر :قرآنِ کریم کی نظر میں
قرآنِ کریم کے متعدد مقامات شاتم و گستاخِ رسول ﷺکے کفر و ارتداد پر دلالت کرتے ہیں جن میں سے چند مقامات درجِ ذیل ہیں:
1.  توہین رسالت کا اِرتکاب کرنے والے کے کافر و مرتد ہونے کی پہلی دلیل سورة التوبۃ کی یہ آیات ہیں جن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَحلِفونَ بِاللَّهِ إِنَّهُم لَمِنكُم وَما هُم مِنكُم وَلـٰكِنَّهُم قَومٌ يَفرَ‌قونَ ٥٦ لَو يَجِدونَ مَلجَـًٔا أَو مَغـٰر‌ٰ‌تٍ أَو مُدَّخَلًا لَوَلَّوا إِلَيهِ وَهُم يَجمَحونَ ٥٧ وَمِنهُم مَن يَلمِزُكَ فِى الصَّدَقـٰتِ فَإِن أُعطوا مِنها رَ‌ضوا وَإِن لَم يُعطَوا مِنها إِذا هُم يَسخَطونَ ٥٨ ﴾..... سورة التوبة
'' اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ بزدل لوگ ہیں ۔ اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یاغار یا (زمین کے اندر) گھسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرح رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں۔ اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ(تقسیم) صدقات میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ حصہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں۔''
یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کی تقسیمِ غنائم و صدقات میں 'لمز و طعن' اور عیب جوئی و نکتہ چینی کرنے اور نبیﷺکو غیر منصف باور کروانے والے شخص کو بھی مسلمانوں کی جماعت سے خارج قرار دیا ہے جیسے کہ پہلے قسمیں کھانے والے منافقین کو نبیﷺ کی جماعت کے لوگوں سے خارج قرار دیا ہے۔ لمز و طعن والی یہ آیت اگرچہ بعض خاص لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺمالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ بنی تمیم کے ایک شخص ذو الخویصرۃ نے کہا: یَا رَسُوْلَ الله ! اِعْدِل
'' اے اللہ کے رسول ﷺ!عدل و انصاف کریں۔''اس پر نبیﷺ نے فرمایا:
«وَیْلَكَ، وَ مَنْ یَّعْدِلُ اِذَا لَمْ أَعْدَلْ؟ قَدْ خِبْتُ وَ خَسِرْتُ اِنْ لَّمْ أَکُنْ أَعْدَلْ»1
'' افسوس ہے تجھ پر، اگر میں نے بھی انصاف نہ کیا تو پھر اور کون کرے گا؟ اگر میں نے انصاف نہ کیا تو میں خائب و خاسر اور نقصان اُٹھانے والا ہو گیا۔''
اسی حدیث میں ہے کہ حضرت عمرِ فاروق نے عرض کیا:
'' اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس گستاخ کی گردن اُڑادوں۔'' مگر نبی ﷺنے فرمایا: ''جانے دو۔'' ساتھ ہی نبیﷺنے اس شخص کی جماعت کی نشانیاں بتائیں کہ اس کی نسل سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ
٭ تم اپنی نماز ان کی نماز کے سامنے حقیر و معمولی سمجھوگے۔
٭ تم اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر و معمولی محسوس کروگے۔
٭ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر وہ ان کی ہنسلیوں(گلے)سے نیچے نہیں اُترے گا بس حلق تک ہی رہے گا۔اور آخر میں فرمایا:
«يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمْيةِ»
'' وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔''
اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:
«لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُوْدٍ»2
''اگر میں نے ان کو پالیا تو میں انہیں قومِ ثمود کی طرح قتل کروں گا ۔''
2.  قرآنِ کریم کے ایک دوسرے مقام پر سورة التوبۃ ہی میں ارشادِ الٰہی ہے :
﴿وَمِنهُمُ الَّذينَ يُؤذونَ النَّبِىَّ وَيَقولونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُل أُذُنُ خَيرٍ‌ لَكُم يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤمِنُ لِلمُؤمِنينَ وَرَ‌حمَةٌ لِلَّذينَ ءامَنوا مِنكُم ۚ وَالَّذينَ يُؤذونَ رَ‌سولَ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ ٦١﴾..... سورة التوبة
'' اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کوایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کان (کا کچا)ہے۔ (ان سے) کہہ دیں کہ (وہ) کان (کا کچا)ہے تو تمہاری بھلائی کے لئے، وہ اللہ کااور مؤمنوں (کی بات) کایقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ رسول اللہ کو رنج پہنچاتے ہیں۔ ان کے لئے عذابِِ الیم تیار ہے۔''
اور اسی سورة التوبہ کی اگلی آیت میں ارشاد فرمایا:
﴿أَلَم يَعلَموا أَنَّهُ مَن يُحادِدِ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ فَأَنَّ لَهُ نارَ‌ جَهَنَّمَ خـٰلِدًا فيها ۚ ذ‌ٰلِكَ الخِزىُ العَظيمُ ٦٣﴾.... سورة التوبة
'' کیا ان لوگوں کومعلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کیلئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ(جلتا) رہے گا، یہ بڑی رسوائی ہے۔''
اس آیت میں وارد الفاظ ﴿مَن يُحادِدِ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ﴾ '' جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے۔'' بتا رہے ہیں کہ نبی اکرمﷺکو اذیت پہنچانے والا اللہ و رسول ﷺکا محادّ و دشمن ہے اور اللہ و رسولﷺ کا محاد و محارب اور اذیت رساں کافر ہوتا ہے، کیونکہ یہاں اس کے لئے یہ سزا طے پائی ہے :
﴿فَأَنَّ لَهُ نارَ‌ جَهَنَّمَ خـٰلِدًا فيها ۚ ذ‌ٰلِكَ الخِزىُ العَظيمُ ٦٣﴾..... سورة التوبة
'' اس کیلئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے۔''
3.  شاتمِ رسول اور گستاخِ مصطفیٰﷺکے کفر کی تیسری دلیل سورة التوبۃ ہی میں ہے جن میں ارشادِ الٰہی ہے:
﴿يَحذَرُ‌ المُنـٰفِقونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيهِم سورَ‌ةٌ تُنَبِّئُهُم بِما فى قُلوبِهِم ۚ قُلِ استَهزِءوا إِنَّ اللَّهَ مُخرِ‌جٌ ما تَحذَر‌ونَ ٦٤ وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ ۚ قُل أَبِاللَّهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ٦٥ لا تَعتَذِر‌وا قَد كَفَر‌تُم بَعدَ إيمـٰنِكُم ۚ إِن نَعفُ عَن طائِفَةٍ مِنكُم نُعَذِّب طائِفَةً بِأَنَّهُم كانوا مُجرِ‌مينَ ٦٦ ﴾..... سورة التوبة
''منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت(نہ)اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دیں کہ مذاق کئے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اس کو ضرور ظاہر کر دے گا۔ اور اگر آپ ان سے (اس بارے میں) دریافت کریں تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہیں: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے؟ بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو، اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کر دیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے،کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔''
یہ اس بات پر صریح نصّ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسولﷺ کا اِستہزا و مذاق اُڑانا کفر ہے اور سبّ و شتم تو مذاق اُڑانے سے بھی بدترین فعل ہے لہٰذا سنجیدگی سے ہو یا ازراہِ مزاح، نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور ناموسِ رسالت پر اُنگلی اٹھانے والا کافر ہوجاتا ہے۔
غرض یہ آیت نازل تو بعض خاص لوگوں کے بارے میں ہوئی ہے، لیکن اس کا حکم عام ہے کہ جو بھی نبیﷺپر طعن اور شانِ رسالت میں گستاخی کرے گا، وہی اس آیت کا مصداق ٹھہرے گا، جیسا کہ اہلِ علم نے کہاہے۔3
4.  سبّ و شتم اور استہزا و مذاق یا کسی بھی انداز سے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں، مقامِ نبوت پر اُنگلی اٹھانے والوں اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کے کفر کی چوتھی دلیل سورة الاحزاب کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
﴿إِنَّ الَّذينَ يُؤذونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَ‌ةِ وَأَعَدَّ لَهُم عَذابًا مُهينًا ٥٧ وَالَّذينَ يُؤذونَ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ بِغَيرِ‌ مَا اكتَسَبوا فَقَدِ احتَمَلوا بُهتـٰنًا وَإِثمًا مُبينًا ٥٨ ﴾..... سورة الاحزاب
'' جو لوگ اللہ اور اُس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں،اُن پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کےلئے اُس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور جولوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت) سے جو اُنہوں نے نہ کیا ہو اِیذا دیں تو اُنہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا ۔''
اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول ﷺکواپنی اطاعت سے اور اذیّتِ رسول ﷺکو اپنی اذیت سے ملاکر بیان فرمایا ہے اور جو شحص نبی اکرم ﷺ کو اذیت دے، اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی وہ کافر حلال الدم ہے۔
دوسرے یہ کہ ناموسِ رسالت پر حرف گیری کرنے والے کے لئے دنیا و آخرت کی لعنت اور ذلّت ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے جو ایسے شخص کے کفر کی واضح دلیل ہے، کیونکہ ذلت ناک عذاب قرآنِ کریم میں صرف کفار کے لئے ہی آیا ہے۔4
یہی سزا ان لوگوں کے لئے بھی ذکر کی گئی ہے جو واقعۂ افک کے بعد بھی نبی اکرمﷺاور خصوصاً اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگائیں کیونکہ یہ بھی نبیﷺ کےلئے طعن و عیب اور اذیّت کا باعث ہے۔ چنانچہ سورة النورمیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الَّذينَ يَر‌مونَ المُحصَنـٰتِ الغـٰفِلـٰتِ المُؤمِنـٰتِ لُعِنوا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَ‌ةِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ ٢٣ ﴾.... سورة النور
'' جو لوگ پرہیزگار اور بُرے کاموں سے بے خبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہو گا۔''
البتہ عام مؤمن عورتوں پر تہمت اور وعید و سزا کا ذکر سورة النور کی ہی آیت میں ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے :
﴿وَالَّذينَ يَر‌مونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَر‌بَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً وَلا تَقبَلوا لَهُم شَهـٰدَةً أَبَدًا ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ٤ إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن بَعدِ ذ‌ٰلِكَ وَأَصلَحوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ٥ ﴾..... سورة النور
''اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسّی دُرے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بدکردار ہیں۔ ہاں جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''
اُمّہات المؤمنین پر تہمت لگانے والے کےلئے توبہ کاذکر نہیں ہے جبکہ عام مؤمنات پر بہتان تراشی کرنے والے کےلئے توبہ کا ذکر آیا ہے اور یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔5
5.  نبی اکرمﷺکی شان میں بے ادبی و گستاخی ،ناموسِ رسالت پر کیچڑ اُچھالنے اور کوئی اہانت آمیز انداز اختیار کرنے والے کے کفر و ارتداد کی پانچویں دلیل سورة النور میں ہے جس میں ارشادِ الٰہی ہے :
﴿لا تَجعَلوا دُعاءَ الرَّ‌سولِ بَينَكُم كَدُعاءِ بَعضِكُم بَعضًا ۚ قَد يَعلَمُ اللَّهُ الَّذينَ يَتَسَلَّلونَ مِنكُم لِواذًا ۚ فَليَحذَرِ‌ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِ‌هِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ ٦٣ ﴾...... سورة النور
'' مؤمنو! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک اللہ کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان(پیغمبر) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، ان کو ڈرنا چاہیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو ۔''
اس آیت میں وارد لفظ فِتْنةکی تفسیر کفر و ارتداد سے بھی کی گئی ہے ۔6
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫نے قرآنِ کریم کے ان پانچ مقامات کے علاوہ بھی تین مقامات و آیات جملہ آٹھ مقامات سے توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے کے کفر پر استدلال اور وجہ و طریقہ استدلال ذکر کیا ہے، تفصیل کے لئے اُن کی معروف کتاب 'الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسولﷺ'(صفحہ21تا60)ملاحظہ کریں۔
توہینِ رسالت کے مرتکب کا قتل؛ احادیثِ شریفہ کی روشنی میں
تحفظِ ناموسِ رسالت کے لئے جس طرح قرآنِ کریم کی متعدد آیات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے آدمی کو قتل کردینا ضروری ہے، اسی طرح نبی اکرمﷺکی شان میں بے ادبی و گستاخی کرنے، نبیﷺ کا مذاق اُڑانے اور آپﷺ سے استہزا کرنے والوں کے واجب القتل ہونے اور ان کے خون کے رائیگاں جانے کا پتہ بکثرت احادیثِ رسول ﷺسے بھی چلتا ہے۔
1.  پہلی حدیث تو سنن ابو داؤد میں اس نابینا شخص والی ہے جس نے نبیﷺ کو گالیاں دینے والی ایک یہودی عورت کو گلا دبا کر قتل کردیاتھا اور صبح جب معاملہ نبیﷺ کے سامنے آیا تو آپ ﷺنے اُس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔7
امام ابن تیمیہ﷫ نے یہ حدیث ذکر کرکے لکھا ہے کہ یہ اس عورت کے قتل میں نصّ ہے کیونکہ وہ نبیﷺکو گالیاں دیا کرتی تھی۔ اور یہ حدیث کسی ایسے مسلمان مردوزن یا ذمّی کے واجب القتل ہونے کی بھی بالاولیٰ دلیل ہے جو نبیﷺ کو سبّ و شتم کرے،کیونکہ وہ یہودی عورت اہلِ ذمّہ و معاہدین میں سے تھی۔8
2.  نبیﷺکو دشنام طرازی کرنے والے گستاخ کے واجب القتل ہونے کی دوسری دلیل حضرت ابن عباس سے مروی ابو داؤد اور نسائی کی وہ حدیث ہے جس میں ایک صحابی نے اپنے دو لعل و جواہر جیسے خوبصورت بچوں کی ماں(کنیز؍ اُمِّ ولد)کو اس کے نبیﷺ کو گالیاں دینے کی وجہ سے قتل کردیا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا:
«أَلَا اِشْهَدُوْا أَنَّ دَمَهَا هَدَر»9
'' خبردار ہوجاؤ اور گواہ بن جاؤ کہ اس کا خون ضائع و رائیگاں گیا ہے ۔''10
3.  نبیﷺکو کسی بھی طرح اذیت پہنچانے والے کے لئے سزائے موت و قتل کی تیسری دلیل بخاری و مسلم میں وارد کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا مشہور واقعہ ہے ۔11
یہ مدینہ منورہ میں رہتا تھا اور ذمّی و معاہد تھا۔ نبیﷺ کی ہجو اور مسلمان عورتوں کے بارے میں بدتمیزیاں کرکے نبیﷺاور مسلمانوں کو اذیت پہنچایا کرتا تھا۔ اس کے اس جرم کی بنا پر نبیﷺ نے اس کے قتل کا باقاعدہ حکم فرمایا تھا۔
4.  نبیﷺ کی توہین کرنے، آپ ﷺکو سبّ وشتم کرنے اور غیظ و غضب دلانے والے شخص کے واجب القتل ہونے کی چوتھی دلیل وہ حدیث ہے جو سنن ابی داؤد میں صحیح سند کے ساتھ اور اس کے علاوہ سنن نسائی و غیرہ میں بھی ہے جس میں حضرت ابو برزہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو بکر صدیق کو برا بھلا کہا اور بہت ہی غضبناک کردیا تو میں نے عرض کیا:
«اِئْذَنْ لِي یَا خَلِیْفَةَ رَسُوْلِ اللهﷺ! أَضْرِبُ عُنُقَه»
'' اے خلیفہ ٔ رسول ﷺ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن ماردوں۔''
میری یہ بات سن کر اُن کا غصہ کافور ہوگیا۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھے اور اندر چلے گئے۔ پھرایک آدمی بھیج کر مجھے بلایا اور فرمایا:
'' ابھی ابھی تم نے کیا کہا؟'' میں نے عرض کیا: '' مجھے اجازت دیجیےکہ میں اس کی گردن ماردوں۔''اُنہوں نے پوچھا: '' اگر میں حکم دے دیتا تو کیا تم ایسا کر گزرتے ؟ ''میں نے عرض کیا: '' جی ہاں! '' تب اُنہوں نے فرمایا:
«لَا وَ اللهِ! مَا کَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللهِﷺ»12
'' نہیں، اللہ کی قسم! نبیﷺ کے بعد یہ مقام دوسرے کے لئے نہیں ہے ۔''
امام ابن تیمیہ﷫ اس حدیث کو ذکر کرکے لکھتے ہیں کہ امام ابو داؤد، اسماعیل القاضی اور قاضی ابو یعلیٰ﷭و غیرہ علما کی ایک جماعت نے اس حدیث سے نبیﷺ کو گالیاں دینے والے مسلم و کافر ہر شخص کے قتل کے جواز کی دلیل اخذ کی ہے جو کہ حضرت ابو بکر صدیق کے الفاظ سے واضح طور پر سمجھ میں آرہی ہے اور لکھا ہے کہ نبیﷺ کو گالیاں دینے والے کے قتل کا حکم آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی باقی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ تاکید ہے، کیونکہ آپﷺ کی ناموس و حرمت وفات کے بعد تو زندگی سے بھی بڑھ کرہے ۔13
5.  اہلِ علم نے شاتم و گستاخِ رسول ﷺ اور ناموسِ رسالت کے درپے ہونے والے بدنصیب کی سزائے قتل کی پانچویں دلیل کے طور پر وہ حدیث ذکر کی ہے جو کہ سنن ابی داؤد میں صحیح سند کے ساتھ ،اسی طرح سنن نسائی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے کہ فتح مکہ کے دن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان کے پاس چھپ گئے۔ عثمان اسے لے کر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا:
''اے اللہ کے رسول ﷺ !عبد اللہ سے بیعت لے لیں۔''
نبیﷺنے تین مرتبہ نگاہیں اُٹھاکر اُسے دیکھا اور بیعت کرنے سے انکار ظاہر فرمایا۔ اور پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس سے بیعت لے لی۔ اور اس کے چلے جانے کے بعد نبی اکرمﷺ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
«أَمَا کَانَ فِیْکُمْ رَجُل رَشِیْد» یَقُوْلُ إِلٰى هَذَا «حَیْثُ رَآنِيْ کَفَفْتُ یَدِْ عَنْ بَیْعَتِه فَیَقْتُلُه؟»14
'' تم میں سے کوئی بھی اتنا صاحبِ عقل و دانش نہ ہوا کہ جب وہ دیکھتا کہ میں نے اس شخص سے بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک لیا ہے تو وہ اٹھتا اور اسے قتل کردیتا؟''
صحابہ کرام میں سے بعض نے عرض کیا: '' اے اللہ کے رسول ﷺ!ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ ﷺکے دل میں کیا ہے ؟ آپ ﷺ ہی نے ہمیں اشارہ کردیا ہوتا۔''
یہ بات کہنے والا کون تھا؟ اس سلسلہ میں تین نام ملتے ہیں:
٭ حضرت عبّاد بن بشر ، حضرت ابو الیسر ، حضرت عمرِ فاروق15
اس پر نبیﷺنے فرمایا :
«اِنَّه لَا یَنْبَغِيْ لِنَبِي أَنْ تَکُوْنَ لَه خَائِنَةُ الْأَعْیُنِ»16
''کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ چور نگاہوں یا کنکھیوں سے دیکھے۔''
جبکہ ابو داؤد و مسند احمد میں ہے:
«إِنَّه لَیْسَ لِنَبِي أَنْ یُوْمِضَ»17
'' کسی نبی کے لئے روا نہیں کہ وہ مخفی اشارے کرے۔''
سنن ابو داؤد میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ ابن ابی سرح نبی اکرمﷺ کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا اور شیطان کے بہکاوے میں آکر مرتد ہوگیا اور کفار سے جا ملاتھا۔امامِ سیرت ابن اسحٰق کی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ابن ابی سرح مسلمان ہوا اور کاتبِ وحی بن گیا اور پھر مرتد ہوا اورمکہ جا نکلا اور اس نے یہ گستاخیاں شروع کردیں کہ
میں جدھر اور جیسا چاہتا تھا، اُنہیں (نبیﷺکو)پھیر لیتا، وہ مجھے کچھ لکھنے کو کہتے اور میں کہتا کہ یا ایسے ایسے لکھوں تو وہ اُسی پر موافقت کردیتے۔ آپﷺعلیم حلیم لکھواتے اور میں کہتا کہ عزیز حکیم لکھ لوں تو آپﷺ فرمادیتے کہ دونوں طرح سے ایک ہی بات ہے اور اہلِ مکہ کو یہ تک کہہ دیا کہ اللہ کی قسم! میں چاہوں تو میں بھی ایسی باتیں کہہ سکتا ہوں جیسی محمد کہتا ہے ،میں بھی ویسی ہی وحی پیش کرسکتا ہوں جیسی وہ پیش کرتا ہے ۔یعنی یہ کہ اس پر بھی وحی نازل ہوتی ہے اور وحی میں جو کمی بیشی ہوتی ہے، اسے میں ہی پورا اور صحیح کرتا ہوں۔
ابن اسحٰق نے شرجیل بن سعد کے حوالے سے لکھا ہے کہ سورة الانعام کی یہ آیت اسی ابن ابی سرح کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے جس میں ارشادِ الٰہی ہے:
﴿وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَر‌ىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو قالَ أوحِىَ إِلَىَّ وَلَم يوحَ إِلَيهِ شَىءٌ وَمَن قالَ سَأُنزِلُ مِثلَ ما أَنزَلَ اللَّهُ ۗ وَلَو تَر‌ىٰ إِذِ الظّـٰلِمونَ فى غَمَر‌ٰ‌تِ المَوتِ وَالمَلـٰئِكَةُ باسِطوا أَيديهِم أَخرِ‌جوا أَنفُسَكُمُ ۖ اليَومَ تُجزَونَ عَذابَ الهونِ بِما كُنتُم تَقولونَ عَلَى اللَّهِ غَيرَ‌ الحَقِّ وَكُنتُم عَن ءايـٰتِهِ تَستَكبِر‌ونَ ٩٣ ﴾.....سورة الانعام
'' اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ افتراء کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب اللہ نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ او رکاش تم ان ظالم لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں ،آج تمہیں ذلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لیے کہ تم اللہ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے ۔''
اس کی ایسی ہی مذکورہ گستاخیوں کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم فرمایا تھا۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫نے لکھا ہے:
''ہمیں اہلِ علم و فقہ اور اہلِ تجربہ نے اپنے مجرب و آپ پیتے واقعات بتائے ہیں کہ ہم نے شام کے ساحلی شہروں اور قلعوں کا محاصرہ کیا اور اندر رومی قلعہ بند تھے۔ کبھی کبھی ہم کسی شہر یا قلعہ کا مہینہ بھر یا اس سے بھی زیادہ عرصہ محاصرہ کیے رکھتے مگر کامیابی نہ ہوتی حتیٰ کہ ہم مایوس ہونے لگتے۔ اسی اثنا میں قلعہ میں محصور لوگوں کی طرف سے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی خبر ملتی کہ وہ ناموسِ رسالت کے درپے ہوئے ہیں تو ہمیں اس کے بعد دو ایک دن میں جلد ہی اور آسانی سے فتح حاصل ہوجاتی بلکہ ہم جب محصور لوگوں کی طرف سے شانِ رسالت میں گستاخیوں کی خبر سنتے تو اسے فتح کے لئے پیشگی خوشخبری شمار کرتے تھے۔ اگرچہ اس سے ہمارے دل ان کے خلاف غیظ و غضب سے بھی بھر جاتے تھے۔ اسی طرح ہمارے بعض ثقہ احباب نے ہمیں بتایا ہے کہ اہلِ مغرب مسلمانوں کے ساتھ بھی نصاریٰ کے مقابلے میں ایسی ہی صورتِ حال رونما ہوتی ہے اور یہ قانونِ قدرت ہے کہ وہ کبھی تو اپنے دشمنوں کو خود ہی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے اور کبھی اپنے مؤمن بندوں کے ہاتھوں اُنہیں سزا دلواتا ہے۔''18
اہلِ سیرت و سوانح کے یہاں معروف و مشہور واقعہ ہے کہ نبی اکرم ﷺنے عبد اللہ بن خطل کی دو گویّا کنیزوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایاتھا جو کہ نبیﷺ کی ہجو میں لکھے ہوئے ابن خطل کے شعر گایا کرتی تھیں ، ان میں سے ایک کا نام فرتنیٰ اور دوسری کا نام قرینہ یا ارنب تھا۔ اور ان میں سے ایک کو قتل کردیا گیا جبکہ فرتنیٰ ایمان لے آئی اور اسے امان دے دی گئی اور وہ عہدِ حضرت عثمان تک زندہ رہی۔19
ان دو کنیزوں کے قتل کے حکم میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ اُنہیں ان کے جرمِ توہینِ رسالت ﷺکی وجہ سے قتل کرنے کا حکم فرمایا گیا تھا۔
6.  نبیﷺکی شان میں گستاخی اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے کی سزا قتل ہونے کی ایک دلیل عبد اللہ بن خطل کا واقعہ بھی ہے جو کہ صحیح بخاری و مسلم و غیرہ کے حوالے سے ذکر ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ ﷺنےسرِ اقدس پر لوہے کا خود پہنا ہوا تھا۔ اس وقت آپﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا، البتہ چند لوگوں کے نام لے لے کر فرمایا:
«اُقْتُلُوْهُمْ وَاِنْ وَجَدْتُّمُوْهُمْ تَحْتَ أَسْتَارِ الْکَعْبَةِ»20
'' اِنہیں قتل کردو ...چاہے تم انہیں غلافِ کعبہ سے چمٹے ہوئے ہی کیوں نہ پاؤ ۔''
اور اُنہی میں سے ایک یہ ابن خطل بھی تھا۔ایک آدمی آیا اور اس نے آپﷺ کی خدمت میں یہ خبر پہنچائی کہ ابن خطل غلافِ کعبہ سے چمٹا ہوا ہے۔ نبیﷺنے حکم فرمایا کہ اسے وہیں قتل کردو۔ چنانچہ حضرت ابو برزہ گئے اور اُنہوں نے اس کا پیٹ چاک کردیا۔ اس ابن خطل کے کئی جرائم تھے:
٭ نبیﷺنے اسے صدقہ کے مال کا انچارج بنایا اور خدمت کےلئے ایک ساتھی بھی مہیّا کیا۔ یہ اپنے اس خادم ساتھی پر ناراض ہوا اور اسے قتل کردیا۔
٭ اب اسے اپنے اس جرمِ قتل کی پاداش میں پکڑے اور قتل کیے جانے کا خوف لاحق ہوا لہٰذا مرتد ہوگیا۔
٭ جاتے ہوئے صدقے کے اونٹ ہانک کرلے گیا۔
٭ یہ شاعر تھا اور اپنے اشعار میں نبی ﷺ کی ہجو اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔
٭ یہ اپنی کنیزوں سے کہا کرتا تھا کہ نبی اکرمﷺ کی ہجو پر مبنی میرے ان اشعار کو لوگوں کے سامنے گا کر سنایا کرو۔
اس کے ان جرائم میں سے قتل ، ارتداد اور نبیﷺکی توہین و ہجو تینوں ہی اسے واجب القتل بناتے تھے، لیکن اسے خصوصاً صرف توہینِ رسالت کی وجہ سے قتل کردیا گیا تھا، کیونکہ قتل میں وارث معاف بھی کرسکتے ہیں اور ارتداد کی توبہ بھی ہے مگر اس کے قتل کا یہ سخت حکم اس کے جرمِ توہین رسالت اور گستاخی ٔ رسول ﷺکی وجہ سے تھا کہ وہ اپنے شعروں میں نبیﷺ کو سبّ وشتم کیا کرتا تھا۔21
7.  جن لوگوں کو توہینِ رسالت کے جرم میں نبیﷺنے قتل کروایا تھا، انہی میں سے ابن الزِّبَعْرَیٰ بھی ہے جیسا کہ حضرت سعید بن مسیّب﷫کی مرسل روایت میں آیا ہے اور ان کی مراسیل کے انتہائی جید ہونے پر اہلِ علم کو کوئی کلام نہیں۔
اسی طرح امامِ سیرت و مغازی ابن اسحٰق نے لکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺنے مکہ مکرمہ کے تمام توہین و ہجو کرنے والوں اور ناموسِ رسالت کے درپے ہوکر نبیﷺکو اذیت پہنچانے والوں کو قتل کروادیا تھا۔تاہم یہ ابن الزِّبعریٰ اور ہبیرہ بن ابی وہب نجران کی طرف بھاگ نکلے تھے اور بالآخر یہ توبہ تائب ہوا اور مسلمان ہوکر لوٹا مگر نبیﷺنے اس کے جرمِ توہینِ رسالت کی وجہ سے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا اور ابن ہبیرہ نجران میں حالتِ کفر و شرک میں ہی مرگیا۔22
عدمِ استطاعت پر
گستاخانِ رسول ﷺمیں سے کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں ایک ایک کرکے قتل کروادیا گیا تھا اور یہ بھی قانونِ قدرت ہے کہ جسے اہلِ ایمان اس کی اہانت و گستاخی کی سزا نہ دے سکیں تو اُس سے خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺکا انتقام لیتا ہے اور وہ ہی کافی ہوجاتا ہے جیسا کہ کسریٰ ایران نے نبی اکرم ﷺکے مکتوبِ گرامی کو چاک کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے پورے خاندان کو ملیا میٹ کردیا اور اس کی حکومت تو کیا رہتی، اچھائی سے نام لیوا بھی کوئی نہ بچا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ﴿إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ‌ ٣﴾..... سورة الكوثر" کی بشارت کو ہر جگہ سچ کر دکھایا اور اپنے وعدے﴿إِنّا كَفَينـٰكَ المُستَهزِءينَ ٩٥﴾.... سورة الحجر" کو بھی پورا کیا۔
اجماعِ صحابہ اور تابعین﷭
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ نے الصارم المسلول میں لکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے شاتم و گستاخ اور دریدہ دہن کی سزا قتل ہے اور اس پر تمام صحابہ کرام کا اجماع و اتفاق ہے اور پھر متعدد واقعات سے اس اجماع کو ثابت بھی کیا ہے اور لکھا ہے کہ کسی مسئلہ میں اس سے زیادہ بلیغ اجماع کا دعویٰ ممکن ہی نہیں اور اس مسئلہ میں صحابہ کرام اور تابعین﷭کے اس اجماع کے خلاف کسی ایک بھی صحابی یا تابعی کا کوئی اختلاف قطعاً ثابت نہیں ہے ۔23 صحابہ کا اجماع اس مسئلے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ، اور اس کی صراحت قاضی عیاض ، امام ابن تیمیہ اور علامہ ابن عابدین شامی نے بھی کی ہے۔قاضی عیاض لکھتے ہیں:
«وهذا كله إجماع من الصحابة وأئمة الفتوٰى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم إلى هلمّ جرًا.... ولا نعلم خلافاً في استباحة دمه - يعني ساب الرسول ﷺ - بين علماء الأمصار وسلف الأمة، وقد ذكر غير واحد الإجماع على قتله وتكفيره»24
'' جملہ صحابہ اور فتویٰ کے ائمہ کا اِن کے کفر اور قتل پر آج تک اجماع چلا آرہا ہے۔ شاتم رسول کے خون حلال ہونے میں دورِحاضر کے علما اور اسلافِ اُمت میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا اور ایک سے زائد ائمہ نے اس شاتم کے قتل اور کافر ہوجانے پر اجماع کا تذکرہ کیا ہے۔''
مزید تفصیل کے لئے ماہ نامہ محدث کا شمارہ اگست 2011ء ملاحظہ کریں۔
اجماع ِاُمّت
1. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ نے اپنی کتاب الصارم المسلول کے شروع میں ہی المسئلة الأولىٰ کے آغاز میں لکھا ہے :
«مَنْ سَبَّ النَّبِّي ﷺ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ کَافِرٍ فَإنَّه یَجِبُ قَتْلُه، هٰذَا مَذْهَبُ أَهْلِ الْعِلْمِ»25
'' عام اہلِ علم کا مذہب یہی ہے کہ جو شخص بھی نبی اکرم ﷺ کو گالی دے، اسے قتل کرنا واجب ہے وہ چاہے مسلمان ہو یا کافر۔''
اور آگے چل کر انہوں نے مختلف ائمہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں مثلاً:
2.  امام ابن منذر﷫ فرماتے ہیں:
«أَجْمَعَ عَوَامُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلى أَنَّ حَدَّ مَنْ سَبَّ النَّبِي ﷺ الْقَتْلُ، وَ مِمَّنْ قَالَه مَالك وَ الَّلیْثُ وَ أَحْمَدُ وَ اِسْحَاقُ وَهُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ»
'' عام اہلِ علم کا اس بات پر اجتماع و اتفاق ہے کہ جو نبیﷺکو گالی دے ،اس کی حد وسزا قتل ہے۔ یہ امام مالک ، لیث، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ﷭ کا قول ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے۔''
3.  امام ابو بکر الفارس جو کہ امام شافعی کے اصحاب میں سے ہیں، کہتے ہیں:
«أَجْمَعَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلى أَنَّ حَدَّ مَنْ سَبَّ النَّبِي الْقَتْلُ»
''تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبیﷺکو گالی دینے والے کی حد وسزاقتل ہے۔''
اور اُنہوں نے جس اجماع کا ذکر کیا ہے، اس سے مراد صدر الاسلام کے مسلمانوں یعنی صحابہ اور تابعین﷭ کا اجماع ہے یا پھر ان کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺکو گالی دینے والے مسلمان کے واجب القتل ہونے پر سب کا اجماع ہے اور قاضی عیاض نے یہی قید لگائی ہے۔
4.  قاضی عیاض فرماتے ہیں:
«أَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلى قَتْلِ مُتَنَقِّصِه مِنَ الـْمُسْلِمِیْنَ وَ سَابِّه وَ کَذٰلِكَ حُكَى عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ الْاِجْمَاعُ عَلَى قَتْلِه وَ تَکْفِیْره»
''ساری اُمت اس بات پر متفق ہے کہ نبیﷺ کی شان میں گستاخی اور تحقیر وتنقیص کرنے والے اور آپ ﷺ کو گالی دینے والے مسلمان کو قتل کیا جائے اور اس کے کفر اور قتل پر متعدد اہلِ علم کی طرف سے اجماع نقل کیا گیا ہے۔''
5.  امام اسحاق بن راہویہ جو کہ کبار ائمہ میں سے ہیں، وہ فرماتے ہیں:
«أَجْمَعَ الـْمُسْلِمُوْنَ عَلى أَنَّ مَنْ سَبَّ اللهَ أَوْ سَبَّ رَسُوْلَهﷺ أَوْ دَفَعَ شَیْئاً مّمَّا أَنْزَلَ الله عَزَّوَجَلَّ أَوْ قَتَلَ نَبِیّاً مِنْ أَنْبِیَآءِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ:أَنَّه کَافِر بِذَلِكَ وَ اِنْ کَانَ مُقِرًّا بّکُلِّ مَا أَنْزَلَ اللهُ»
'' تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی یا اس کے رسول ﷺکو گالی دی یا اللہ کی نازل کردہ کسی بھی چیز و حکم کا انکار کیا یا اللہ عزوجل کے انبیا﷩میں سے کسی کو قتل کیا وہ اس سے کافر ہوگیا اگرچہ وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہر چیز کا اقرار کرنے والا ہو۔''
6.  امام محمد بن سحنون فرماتے ہیں:
«أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَی أَنَّ شَاتِمَ النَّبِي وَ الـْمُنْتَقِصِ لَه کَافِر، وَ الْوَعِیْدُ جَآءَ عَلَيهِ بِعَذَابِ اللهِ لَه وَ حُکْمُه عِنْدَ الْأُمَّةِ الْقَتْلُ ، وَ مَنْ شَكَ فِيْ کُفْرِه وَعَذَابِه کُفِّرَ»
'' علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبیﷺکو گالی دینے والا اور آپ ﷺکی تحقیر و تنقیص کرنے والا کافر ہے اور اس کےلئے اللہ کے عذاب کی وعید آئی ہے اور پوری اُمت کے نزدیک اس کا حکم و سزا قتل ہے ۔ اور جس نے اس کے کفر اور عذاب و سزا میں شک کیا، وہ بھی کافر قرار دیا جائے گا۔''
7.  امام خطابی کہتے ہیں:
«"لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الـْمُسْلِمِیْنَ اِخْتَلَفَ فِيْ وُجُوْبِ قَتْلِه. وَ لَکِنْ إذَا کَانَ السَّابُّ ذِمِّیّاً فَقَدْ اِخْتَلَفُوْا فِيْهِ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أنَسٍ: مَنْ شَتَمَ النَّبِّيﷺ مِنَ الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارٰی قُتِلَ إِلَّا أَنْ یُّسْلِمْ وَ کَذٰلِكَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: یُقْتَلُ الذِّمِّي إِذَا سَبَّ النَّبِيّ وَ تَبْرَّأُ مِنْه الذِّمَّةُ وَ احْتَجَّ فِيْ ذٰلِكَ بِخَبَرِ کَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ وَ حُکِیَ عَنْ أَبِيْ حَنِیْفَةَ أَنَّه قَالَ: لَا یُقْتَلُ الذِّمُ بِشَتْمِ النَّبِي مَا هُمْ عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ أَعْظَمُ"»
''میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے ایسے آدمی کے قتل کیے جانے میں اختلاف کیا ہو، لیکن اگر گالی دینے والا کافر و ذمّی ہو تو اس کے بارے میں اختلاف ہے ۔''
8.  امام مالک بن انس فرماتے ہیں:
''یہود و نصاریٰ میں سے جو شخص نبیﷺکو گالی دے اسے قتل کیا جائے گا، سوائے اس کے کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔اسی طرح ہی امام احمد بن حنبل﷫ نے بھی کہا ہے،جبکہ امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر کوئی ذمّی نبیﷺکو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اُنہوں نے دلیل کے طور پر کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا واقعہ ذکر کیا ہے ۔''
ان ائمہ کے اقوال نقل کرنے کے بعد خود امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں:
«وَتَحْرِیْرُ الْقَوْلِ فِیْهِ: أَنَّ السَّابَّ إِنْ کَانَ مُسْلِماً فَإنَّه یُکَفَّرُ وَ یُقْتَلُ بِغَیْرِ خِلَافٍ وَهُوَ قَوْلُ الْآئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ وَ غَیْرِهِمْ وَ قَدْ تَقَدَّمَ مِمَّنْ حَکَیٰ الْاِجْمَاعُ عَلى ذَلِكَ اِسْحَاقُ ابْنُ رَاهْويَهِْ وَ غَیْرُه، وَ إِنْ کَانَ ذِمِّیّاً فَإنَّه یُقْتَلُ أَیْضاً فِي مَذْهَبِ مَالِكٍ وَ أَهْلِ الـْمَدِیْنَةِ وَ هُوَ مَذْهَبُ أَحْمَدَ وَ فُقَهَاءِ الْحَدِیْثَ»
'' اس مسئلہ میں فیصلہ کن اور طے شدہ بات یہ ہے کہ نبیﷺ کو گالی دینے والا اگر مسلمان ہو تو اسے کافر قرار دیتے ہوئے بلا اختلاف قتل کیا جائے گا۔یہ ائمہ اربعہ و غیرہ کا قول ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ امام اسحاق بن راہویہ و غیرہ نے اس پر اجتماع نقل کیا ہے ۔ اور اگر گالی دینے والا ذمّی ہو تو وہ بھی امام مالک  اور اہلِ مدینہ کے مذہب میں قتل کیا جائے گا اور امام احمد و فقہاے حدیث کا بھی یہی مذہب ہے ۔''26
قیاس
اسی طرح علامہ موصوف نے شاتمِ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے کے دلائل میں سے قرآن و سنت کی نصوص ، اجماعِ صحابہ اور اجماعِ تابعین﷭کے تذکرہ کے علاوہ اجماعِ امت کے سلسلہ میں ائمہ کی عبارات بھی پیش کی ہیں اور آخر میں نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص کے واجب القتل ہونے پر اعتبار و قیاس سے بھی استدلال کیا ہے اور لکھا ہے کہ کئی قیاسی وجوہات بھی ناموسِ رسالت پر حرف گیری کرنے والے شخص کے قتل کی متقاضی ہیں اور پھر اُنہوں نے دس وجوہات ذکر کی ہیں اور آخر میں متعلقہ تمام شکوک و شبہات کا اِزالہ بھی فرمایا ہے اور یہ موضوع تقریبًا پچاس صفحات پر مشتمل ہے ۔27
فقہی مکاتبِ فکر
زیرِ بحث مسئلہ میں چاروں معروف فقہی مکاتبِ فکر کے ائمہ و اصحاب کی آرا و افکار کا کھوج لگائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمان شاتم رسول کے واجب القتل ہونے کے بارے میں تو حنفیہ سمیت ، تمام فقہاے کرام کا اتفاق پایا جاتا ہے ، تاہم بعض فقہا احناف عام ائمہ و فقہا کی طرح ذمّی شاتمِ رسول ﷺ کے قتل کی رائے نہیں رکھتے لیکن ان کے نزدیک بھی جس طرح کسی تعزیر والے گناہ (مثلاً جماع فی غیر القبل) کا بار بار ارتکاب کرنے والے شخص کو امام و قاضی مصلحتاً قتل کرواسکتا ہے اور اِسے شرعی حد کے طور پر قتل کروانا نہیں بلکہ سیاسۃً قتل کروانا کہا جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم ذمّی نبی اکرم ﷺ کو بار بار گالی گلوچ کرے تو اسے بھی سیاسۃً قتل کروایا جا سکتا ہے ۔28 اس مسئلہ میں حنفی فقہا کے کامل موقف کے لئے بھی محدث، اگست 2012ء میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے کی طرف ر جوع مفید ہوگا۔ جہاں تک مسلمان شاتم کا تعلق ہے توحنفی مذہب کے عالم امام ابو بکر جصاص نے مسلمان شاتمِ رسولﷺ کے بارے میں لکھا ہے :
«وَ لَا اِخْتِلَافَ بَیْنَ الـْمُسْلِمِیْنَ أَنَّ مَنْ قَصَدَ النَّبِّي ﷺ بِذٰلِكَ فَهُوَ مِمَّنْ یَّنْتَحِلُ الْاِسْلَامَ وَ أَنَّه مُرْتَدّ یَسْتَحِقُّ الْقَتْلَ»29
'' مسلمانوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ جس نے نبیﷺکو قصداً گالی دی وہ اسلام کا محض لبادہ اوڑھے ہوئے ہے اور وہ مرتد ہے اور قتل کا سزا وار و مستحق ہے ۔''
فقہ حنفی کی معتبر کتاب 'رد المحتار شرح در المختار ' المعروف فتاویٰ شامی میں لکھا ہے :
«وَ فِي الَأَشْبَاهِ: لَا تَصِحُّ رِدَّةُ السَّکْرَانِ اِلَّا الرِّدَّةَ بِسَبِّ النَّبِيّ فَإنَّه یُقْتَلُ وَ لَا یُعْفٰی عَنْهُ»30
'' اور الاشباہ میں ہے کہ نشے میں مست آدمی کے ارتداد کا اعتبار صحیح نہیں البتہ اگر کوئی آدمی نبیﷺکو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہوجاتا ہے تو اس کو (مرتد شمار کرکے)قتل کردیا جائے گا اور اس گناہ کو معاف نہیں کیا جائے گا۔''
* ائمہ و فقہا سے احناف کے بعد جہاں تک مالکیہ کا تعلق ہے تو خود امام مالک اور تمام اہلِ مدینہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ذمّی نبی اکرم ﷺکو سبّ و شتم کرے اور توہینِ رسالت کا مرتکب ہو تو اسے بھی قتل کیا جائے گا۔
«وَ إِنَّ السَّابَّ وَ اِنْ کَانَ ذِمِّیّاً فَاِنَّه یُقْتَلُ أَیْضاً فِيْ مَذْهَبِ مَالِكٍ وَ أَهْلِِ الـْمَدِیْنَةِ»31
'' اگر گالی دینے والا ذمّی ہو تو اسے بھی امام مالک اور اہلِ مدینہ کے مذہب میں قتل کیا جائے گا۔''
* جہاں تک شافعی مکتبِ فکر کے ائمہ و فقہا کی شاتمِ رسولﷺذمّی کے بارے میں رائے کی بات ہے تو خود امام شافعی کے بارے میں امام ابن منذر اور امام خطابی نے لکھا ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا، چنانچہ امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں:
«وَأَمَّا الشَّافِعِّيُ فَالْمَنْصُوْصُ عَنْهُ نَفْسُه أَنَّ عَهْدَه یَنْتَقِضُ بِسَبِّ النَّبِي وَ أَنَّه یُقْتَلُ هکَذَا حَکَاهُ ابْنُ الـْمُنْذِرِ وَ الْخَطَّابِّ وَ غَیْرُهُمَا»32
'' خود امام شافعی﷫ سے بالنص ثابت ہے کہ نبیﷺکو گالی دینے سے ذمّی کا عہد وذمّہ ختم ہوجائے گا اور اسے قتل کیا جائے گا۔ امام ابن منذر اور خطابی و غیرہ نے ان سے اسی طرح نقل کیا ہے۔''
جہاں تک عام شافعی ائمہ و فقہا کی رائے ہے تو اُن کے بارے میں تفصیلات ذکر کرنے کے بعد امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں:
«وَالَّذِيْ نَصَرُوْهُ فِيْ کُتُبِ الْخِلَافِ أَنَّ سَبَّ النَّبِيِّ ﷺ یُنْقِضُ الْعَهْدَ وَ یُوْجِبُ الْقَتْلَ کَمَا ذَکَرْنَا عَنِ الشَّافِعِِّ نَفْسُه»33
'' مسائلِ اختلافیہ پر مشتمل کتب میں جس رائے کی تائید و نصرت کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ نبیﷺکو گالی دینا عہد و معاہدہ کو توڑ دیتا ہے اور یہ فعل اس کے قتل کو واجب کر دیتا ہے جیسا کہ ہم نے خود امام شافعی﷫ سے ذکر کیا ہے ۔''
اسی طرح امام شوکانی ﷫نے شاتمِ رسول ﷺ کے بارے میں ائمہ و فقہاے شافعیہ کی رائے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :
«وَنَقَلَ أَبُوْبَکْرٍ الْفَارِسِّ أَحَدُ آئِمَّةِ الشَّافِعِیَّةِ فِيْ کِتَابِ الْاِجْمَاعِ أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِیﷺ بِمَا أَقْذَفَ صَرِیْح کُفِّرَ بِاتِّفَاقِ الْعُلَمَاءِ فَلَوْ تَابَ لَمْ یَسْقُطْ عَنْهُ الْقَتْلُ لِأَنَّ حَدَّ قَذْفِه الْقَتْلُ وَحَدَّ الْقَذْفِ لَایَسْقُطُ بِالتَّوْبَةِ»34
''ائمہ شافعیہ میں سے ابو بکر فارسی نے کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جس نے نبیﷺکو گالی دی اور صریحاً قذف و تہمت لگائی وہ تمام علما کے اتفاق سے کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اس سے سزائے قتل زائل نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے نبیﷺپر تہمت لگانے کی سزا قتل ہے اور تہمت کی سزا توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔''
امام ابن کثیر ﷫ نے سورة التوبۃ کی آیت نمبر12 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
«طَعَنُوْا... أعَابُوهُ وَ انْتَقَصُوْهُ وَ مِنْهُنَا أُخِذَ قَتْلُ مَنْ سَبَّ الرَّسُوْلَ صَلَوَاتُ اللهِ وَ سَلَامُه عَلَىْهِ أَوْ مَنْ طَعَنَ فْي دِیْنِ الْاِسْلَامِ أَوْ ذَکَرَه بِنَقْصٍ»35
''یہاں نبیﷺ پر طعن کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ اُنہوں نے آپﷺ پر عیب لگایا اور تنقیص و تحقیر کی اور اسی سے نبیﷺکو گالی دینے والے کے قتل کی سزا اخذ کی گئی ہے۔ اسی طرح جس نے دین اسلام میں طعن کیا اور اسے تحقیر و تنقیص کے ساتھ ذکر کیا اس کی سزا بھی قتل ہے۔''
* اب رہے ائمہ و فقہا حنابلہ، تو خود امام احمد بن حنبل شاتمِ رسولﷺ کی حد و سزاے قتل کے قائل تھے خواه وہ مسلمان ہو یا کافر و ذمّی چنانچہ حنبل کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل )سے سنا ہے :
«کُلُّ مَنْ شَتَمَ النَّبِيﷺ أَوْ تَنَقَّصَه، مُسْلِماً کَانَ أَوْ کَافِراً. فَعَلَيْهِ الْقَتْلَ، وَ أَرَیٰ أَنْ یُّقْتَلَ وَ لَا یُسْتَتَاب»
'' ہر وہ شخص جو نبیﷺکو گالی دے یا آپ ﷺ کی شان میں تنقیص و تحقیر کرے اس کی سزا قتل ہے وہ مسلمان ہو یا کافر ۔ اور میری رائے یہ ہے کہ اسے قتل کردیا جائے ،توبہ نہ کروائی جائے۔''
وہ مزید فرماتے ہیں:
'' جو کافر ذمّی عہد شکنی کرے یا اسلام میں اس طرح کی کوئی چیز ایجاد کرے تومیں سمجھتا ہوں کہ اسے قتل ہی کرنا چاہیے۔ اُنہیں عہد و ذمّہ امان اس لیے تو نہیں دیا گیا تھا کہ وہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔اور شاتم و گستاخِ رسول ﷺکے قتل کی دلیل کے طور پر اُنہوں نے عہدِ نبویﷺ وعہدِ صحابہ کے متعدد واقعات پیش کیے ہیں۔''36
نبی اکرم ﷺکی شان میں گستاخی کرنے اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والا شخص کافر اور واجب القتل ہے اور اس کی توبہ و معافی کے باوجود اس پر سزائے موت کی شرعی حد نافذ کی جائے جیسا کہ نبی اکرم ﷺنے ایسے لوگوں کو حتیٰ کہ حرم شریف میں پائے جانے کی شکل میں بھی قتل کردینے کے احکام جاری فرمائے تھے۔اور ابن خطل کو غلافِ کعبہ سے چمٹنا بھی قتل سے نہ بچا سکا تھا جیسا کہ کتبِ تاریخ و سیرت اس پر شاہد ہیں۔
اب رہا معاملہ اس کی توبہ و معافی کا تو یہ اس کے اور اس کے ربّ کے ما بین ہے ۔ہاں! اگر نبی اکرمﷺخود زندہ ہوتے تو آپﷺ کسی کو معاف کر سکتے تھے بقول امام ابن تیمیہ:
«أَنَّ النبِی کَانَ لَه أَنْ یَّعْفُوَ عَمَّنْ شَتَمَه وَ سَبَّه فِي حَیَاتِه وَ لَیْسَ لِأمَّتِه أَنْ یَّعْفُوَ عَنْ ذٰلِكَ»
''یہ حق خود نبی اکرم ﷺ کا ہے کہ اپنی زندگی میں سب و شتم کرنے والے جس شخص کو چاہیں معاف کردیں۔ آپ ﷺ کی اُمت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ آپ ﷺکے خلاف بدزبانی کرنے والے کسی شخص کو معاف کرے ۔''
اور آپﷺ نے واقعی بعض لوگوں کی توبہ و معافی کو قبول بھی فرمایا۔ لیکن آپ ﷺکے بعد کسی دوسرے کے لئے یہ روا نہیں ہے، کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺکا حق اور آپﷺ کے تخصّصات میں سے ہے اور آپ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کا یہ حق آپﷺ کی حیات سے بھی زیادہ واجب ہو گیا ہے لہٰذا توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے گستاخِ رسول ﷺپر قابو پانے کی شکل میں اس پر مقدمہ چلایا جائے اور اس پر توہینِ رسالت کی حد ثابت ہونے پر اسے قتل کیا جائے ۔ قرآن و سنت ، اجماعِ صحابہ اور علماے اُمت سب اس پر متفق ہیں۔
اب رہے بعض لا دین عناصر یا لبرل کہلوانے والے تو وہ اسے ایک جذباتی مسئلہ سمجھتے اور گستاخِ رسولﷺكے قتل کی سزا کو شدّت پسندی قرار دیتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شاتم و گستاخِ رسول ﷺ کو قتل کرنے کا مسئلہ جذباتی نہیں بلکہ خالص شرعی و علمی مسئلہ ہے، کیونکہ اسلام کا تو مزاج ہی معتدل ومتوازن ہے حتیٰ کہ اسلام تو اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اہلِ باطل کے معبودانِ باطلہ کو بھی گالی نہ دو تاکہ وہ عناد و ضد میں آکر تمہارے حقیقی معبودِ بر حق کو نہ گالی دینے لگیں ۔ چنانچہ سورة الانعام کی آیت:108 میں ارشادِ الٰہی ہے :
﴿وَلا تَسُبُّوا الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدوًا بِغَيرِ‌ عِلمٍ ۗ كَذ‌ٰلِكَ زَيَّنّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُم ثُمَّ إِلىٰ رَ‌بِّهِم مَر‌جِعُهُم فَيُنَبِّئُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ ١٠٨ ﴾..... سورة الانعام
'' اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں اُن کو بُرا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بے ادبی سے بغیر سمجھے بُرا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُن کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں پھر ان کو اپنے ربّ کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ اُن کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے ۔''
اب جو دین اپنا یہ مزاج پیش کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی اس انداز سے تربیت کرتا ہے کہ دوسروں کے باطل معبودان کو بھی گالی نہ دو تو وہ اس بات کو کیسے پسند کرے گا کہ کوئی نبی ٔ برحق حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا مذاق اُڑائے، استہزا کرے، سبّ و شتم کا رویہ اپنائے یا گستاخی اور توہین و تنقیصِ رسالت کا ارتکاب کرے؟اگر کوئی مسلمان اس فعل کا ارتکاب کرے تو وہ کافر و مرتد اور زندیق ہو جائے گا اور اگر کوئی کافر ایسا کرتا ہے تو وہ بھی اس جرمِ توہین و تنقیص کا مرتکب قرار پائے گا اور اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ ایسے شخص کو سزائے موت دے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں:
«إِنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيﷺ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ کَافِرٍ فَإنَّه یَجِبُ قَتْلُه هٰذا مَذْهَب عَلَيهِ عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ»37
'' جس نے نبیﷺکو گالی دی وہ مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل واجب ہے اور اکثر و بیشتر علما کا یہی مسلک ہے۔''
اس کا غیر مسلم ذمّی ہونا اس کی جان بخشی نہیں کروا سکتا۔ کیونکہ اپنے اس کرتوت سے وہ تحفظ کی ضمانت و ذمّہ کھو بیٹھا ہے جیسا کہ سنن نسائی کے حاشیہ پر امام سندھی لکھتے ہیں :
«اِنَّ الذمي إِذَا لَمْ یَکُفَّ لِسَانَه عَنِ اللهِ وَرَسُوْلِه فَلَا ذِمَّةَ لَه فَیَحِلُّ قَتْلَه»38
'' کوئی ذمّی شخص جب اللہ اور اس کے رسول ﷺکے خلاف زبان درازی سے بازنہ آئے تو اس کا معاہدہ و ذمّہ ختم اور اس کا قتل حلال و جائز ہو جاتا ہے۔''
انہی خیالات کا اظہار امام خطابی نے اپنی کتاب معالم السنن میں کیا ہے اور اسے ہی امام مالک و شافعی اور احمد بن حنبل﷭ کا قول بتایا ہے ۔ اور یہ بھی ذمّی کے سلسلہ میں ہے جبکہ مسلمان کے قتل پر تو اُنہوں نے اجماع نقل کیا ہے ۔
غرض گستاخِ رسول ﷺکی دنیوی عقوبت و سزا کے بارے میں بعض 'روشن خیال' لوگ جو یہ دعویٰ کرتے پھررہے ہیں کہ اس کی سزا قتل نہیں،کیونکہ اس کا آغاز ہی عباسی دور میں ہوا تھا ، اور یہ كہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ آزادیٔ صحافت کے بھی منافی ہے۔اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺتو بڑے رحم دل بلکہ رحمۃ للعالمین تھے ،اپنے خون کے پیاسوں کو بھی معاف فرمادیا کرتے تھے آپ ﷺکسی کو قتل کرنے کا کیسے حکم فرماسکتے ہیں؟یہ اور اسی قسم کے تمام اعتراضات و اشکالات پیچھے ذکر كیے گئے دلائلِ قرآن و سنت سے رفع ہوگئے۔ وَلِلهِ اْلحَمْدُ وَلَه الـْمِنَّةُ


حوالہ جات

1. صحیح بخاری:3609 ،4351

2. صحیح بخاری:4351

3. الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ﷺ از شیخ الإسلام ابن تیمیة : ص33،34

4. الصارم المسلول:ص 49

5. الصارم المسلول:ص 45

6. الصارم المسلول:ص 56

7. سنن ابو دا ؤد: 4362؛ الصارم المسلول ،ص:61 ...قال ابن تیمیة : هذا الحدیث جید

8. الصارم المسلول:ص62

9. سنن ابو داؤد: 4361؛ سنن نسائی: 4075

10. الصارم المسلول،ص:67،68

11. صحیح بخاری: 4037؛ صحیح مسلم: 1801

12. سنن ابو داؤد : 4363؛ سنن نسائی : 4073؛ الصارم المسلول:ص93

13. الصارم المسلول: ص94

14. سنن ابو داؤد: 2334؛ سنن نسائی: 3999

15. الصارم المسلول:ص 115

16. سنن ابو داؤدوصحیح الجامع 2412،2426، الصحیحہ:1723، و قال ابن تیمیة : بإسنادٍ صحیح ، الصارم المسلول:ص109

17. صحیح الجامع:2412، السلسلۃ الصحیحۃ: 1723

18. الصارم المسلول :ص117

19. طبقات ابن سعد، ذکر فرتنیٰ فقط ، الصارم المسلول:ص110، 126 تا 128

20. سنن نسائی: 3999 ودیگر کتب سنن

21. الصّارم المسلول: ص135،136

22. ایضاً:ص137

23. الصارم المسلول:ص200تا 206

24. الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضي عیاض: 2؍932

25. الصارم المسلول:ص3...المسئلۃالاولیٰ

26. الصارم المسلول: ص 3،4، 253، 254

27. الصارم المسلول: ص206تا 253

28. ایضاً: ص10،11

29. احکام القرآن للجصّاص: 3؍ 86

30. فتاویٰ شامی: 4؍ 224

31. الصارم المسلول:ص4

32. الصارم المسلول:ص8

33. ایضاً:ص10

34. نیل الأوطار:4؍ 7؍ 214

35. تفسیرابن کثیر: 2؍447

36. الصارم المسلول:ص4،5

37. الصارم المسلول،ص:3 ...المسئلۃ الأولیٰ

38. حاشیۃ السندی علی سنن النسائی:4؍ 109