Pages from 357-Mohaddis

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

زیر نظر مضمون میں فلم کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ میں بیان کردہ موقف کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ عالمی میڈیا صہیونیت اور اسلام مخالف رجحانات کا پرچارک ہے، اس بنا پر ان خبری حقائق کو کافی یا مستند سمجھ لینا محتاط رویہ نہیں تاہم مسلم ذرائع ابلاغ نہ ہونے کی بنا پر ہمارے پاس اِن سے ہی استفادہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان خبروں سے بھی بعض ایسے حقائق برآمد ہورہے ہیں جو اُمتِ مسلمہ کے موقف کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فراست مؤمنانہ سے دنیا کے مسائل وحقائق کو سمجھنے کی توفیق دے۔ کامران طاہر
اِنّوسینس آف مُسلمز(Innocence of Muslims) ایک اسلام مخالف اور توہین آمیز فلم ہے جسے سام بسائل کے فرضی نام سے معروف نکولاباسلی نامی ملعون یہودی نے لکھا اور پروڈیوس کیا ہے۔
جولائی 2012ء میں یوٹیوب پر The real life of Muhammadکے نام سے ویڈیو خاکےچلائے گئے۔ عربی زبان میں ڈَب کی گئی ویڈیو اوائل ستمبر 2012ء میں مورس سادک کی ای میل کے ذریعے 'نیشنل امریکن کوپٹک اسمبلی' کے بلاگ پر چلائی گئی۔
9؍ستمبر 2012ء میں ایک مصری اسلامی ٹی وی سٹیشن'الناس'نے یوٹیوب کے خاکوں کا کچھ حصہ نشر کیا،اس کے خلاف ردّعمل کے طور پر 11؍ستمبر کومصر او رلیبیا میں مظاہرے اور پرتشدد احتجاج سامنےآئے جوکہ جلد ہی دوسرے عرب ممالک تك پھیل گئے۔
اس منصوبے کے خود ساختہ ماہر؍پیش کنندہ کے مطابق یہ ٹریلر (خاکے) ایک مکمل فلم سے لیےگئے اور مختصر حاضرین جن کی تعداد 10(دَس)تھی کو ہالی وڈ ،کیلیفورنیا کے ایک تھیٹر میں ایک بار دکھائے گئے۔ فلم کی تشہیر کے لیے بنائے گئے پوسٹر پر اس فلم کا نامInnocence of Bin Ladin (اِنو سینس آف بن لادن) استعمال کیا گیا تھا۔ جبکہ مسودے پر اس کا نام Desert Warrior (قبائلی جنگجو) تھا۔ یہ ایک قبائلی جنگ کی کہانی ہے۔ اگرچہ اصل کہانی میں کوئی مذہبی حوالہ یا کوئی اسلام مخالف تذکرہ نہ تھا، تاہم بعد میں اداکاروں کے علم میں لائے بغیر ڈبنگ میں اپنے مذموم مقاصد کو شامل کردیا گیا۔
27 ستمبر 2012ء کویو ایس فیڈرل اتھارٹیز نےلاس اینجلس میں شک کی بنیاد پر نکولا کو حراست میں لے لیا۔ عدالتی ذرائع کا کہنا تھاکہ اُس پر فرضی؍جعلی نام استعمال کرنے اور فلم میں کرداروں کے بارے میں غلط بیانی کرنے کا الزام ہے۔
پلاٹ کی وضاحت
یکم جولائی 2012ء میں جاری ہونے والی ویڈیو جس کا عنوان ' رئیل لائف آف محمدﷺ' تھا، کا دورانیہ 13 منٹ 30 سیکنڈ،480P فارمیٹ میں تھا۔ اگلے دن 'محمد مووی ٹریلر' کے نام سے اَپ لوڈ ہونے والی ویڈیو کا دورانیہ 13 منٹ اور 51 سیکنڈ تھا۔
دونوں کا مواد یکساں تھا او راسلام کے متعلق بولے جانے والے مکالمے اور ڈَب کئے گئے 80؍ افراد پر مشتمل فلم کے اداکاروں اور دیگر ممبران نے اس سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے اور ایسے بیانات جاری کیے ہیں کہ پروڈیوسر نے اُن کی صلاحیتوں کا غلط استعمال کیا ہے۔ مزید اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سانحات پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔1
Desert Warrior (قبائلی جنگجو) کے عنوان سے فلم کی اصل کہانی دوہزار سال قبل مصری زندگی کے بارے میں ہے۔اس میں مرکزی کردار'ماسٹر جارج' کا ہے۔ فلم کی پروڈکشن کے بعد بیشتر اداکاروں کو اصل مکالموں پر دوبارہ سے مکالمے بولنےکے لیےبلایا گیا اور چند مخصوص الفاظ کا اضافہ بھی کیا گیا جس میں 'محمدﷺ' کے اسم گرامی کو واضح طور پر شامل کیا گیا۔فلم کے خاکےمصری زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔مسلم سیکورٹی فورسزکومسلم کرداروں کےہجوم کےطور پر پیش کیا گیا ہے اور اُنہیں مصری عیسائیوں کی املاک اور گھروں کوتباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔2
ان حملوں سےبچنے کے لیے ایک ڈاکٹر اپنےخاندان کے ساتھ اپنے گھر میں محصور ہوجاتا ہے اور وائٹ بورڈ پر Man+x = BTاور پھر BT-x = Man تحریر کرتا ہے۔ BTسےمراد اسلامی دہشت گردی لیا گیا ہے۔ ایک نوجوان خاتون اس سےX کے بارے میں استفسار کرتی ہے تو اُسے جواب دیتا ہے کہ اُسے خود اسکےبارے میں دریافت کرنا ہوگا۔
مزید چند مناظر میں مرکزی کردار کو'محمدﷺ'کے نام سے اوور ڈب(Over Dub) کیا گیا ہے۔ ایک منظر میں اس کی بیوی توریت اورانجیل کے صحیفوں کو اکٹھا کرنےکی تجویز دیتی ہے۔ایک منظر میں اُسے گدھے سے باتیں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
Wnycsکےپروگرام'آن دی میڈیا' کی پروڈیوسر سارہ عبدالرحمٰن نے ٹریلر دیکھنے کے بعد یہی تبصرہ کیا کہ تمام مذہبی مناظر فلمائے جانے کے بعد ہی اَوور ڈب کئے گئے ہیں۔
پروڈکشن
جولائی2011ء میں فلمDesert Worrior قبائلی جنگجو کے لئے اداکاروں کو کاسٹ کرنا شروع کیا گیا۔اس مقصد کے لئے کی جانے والی کالز میں اس کو ایلن رائٹ کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ فلم کی عکس بندی کاپرمٹ اگست 2011ء میں 'امریکن نان پرافٹ میڈیا فارکرائسٹ' سےحاصل کیا گیا۔ فلم کی سین بندی کے لیےنکولا نے اپنے گھر کو ہی سیٹ کےطور پر استعمال کیا۔ کمپنی کے صدر جوزف نصراللہ عبدالمسیح نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کمپنی کا نام ان کے علم میں لائے بغیر استعمال کیا گیا ہے اور فلم کی ایڈیٹنگ بھی میڈیا کی شمولیت کےبغیر کی گئی ہے۔
13؍ستمبر 2012ء میں سام بیسلی کو ایک 55 سالہ بنیاد پرست عیسائی بنام بیسلی نکولا سے شناخت کیا گیا جس کا تعلق مصر سے تھا اور وہ لا س اینجلس کیلفورنیا کا رہائشی تھا۔ ایک سے زیادہ ناموں سے جانا جاتا تھا۔ 1990ء کی دہائی میں اُسے Mathamphelamine نامی ممنوعہ دوا بنانےکے جرم میں جیل کی ہوا کھانی پڑی۔3
2010ء میں بنک فراڈ کے کیس میں اکیس مہینے جیل میں گزارے اور جون 2011ء میں ضمانت پر رہا ہوا۔نکولا کادعویٰ ہے کہ اُس نےاس فلم کاسکرپٹ جیل میں لکھا اور مصر میں اپنی بیوی کے خاندان کی طرف سے ملنے والے 50،60 ہزار ڈالر فلم بنانے میں استعمال کئے۔ FBIنے دھمکیوں کے خطرات کے پیش نظر اس سے رابطہ کیا اور یہ واضح کردیا کہ وہ زیر تفتیش نہیں ہے۔29 ستمبر 2012ء کو یو ایس فیڈرل اتھارٹیز نےضمانت کےقواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کےشک میں لاس اینجلس میں اُسے بلا ضمانت حراست میں لےکر جیل بھیج دیا ۔
ماہر قانون پروفیسر سٹیفن ایل کارٹر اور آئینی قوانین کے ماہر فلوئڈ ابرمزکے مطابق فلم کے مواد کی بنا پر اس کے پروڈیوسر کے خلاف امریکی دستورکی پہلی ترمیم جو آزادی اظہارِ رائے کو تحفظ فراہم کرتی ہے، کے تحت حکومت کوئی ایکشن نہیں لےسکتی۔4
نشر ہونا او رانٹرنیٹ پر اَپ لوڈ
فلم 'اِنوسینس بن لادن' کی تشہیر عرب وَرڈ نامی اخبار میں مئی اور جون کےمہینوں میں تین بار تین سو ڈالر کی لاگت سے کی گئی۔ معاوضہ انفرادی طور پر جو زف نامی شخص نےادا کیا۔اینٹی ڈیفرمیشن لیگ نے ان اشتہارات کا نوٹس لیا۔ ان کےاسلامی معاملات کے ڈائریکٹر کاکہنا ہے کہ اُنہوں نے جب اخبارات میں اس فلم کےاشتہارات دیکھے تو ان کو یہ تجسّس ہواکہ کہیں یہ جہاد کی ترغیب دلانے والی فلم تو نہیں۔
فلم کی پہلی تشہیرعربی میں تھی اور حاضرین کی تعداد بھی قلیل تھی، لہٰذا یہ کوئی خاطرخواہ تاثر نہ چھوڑ سکی۔ 30؍جون 2012ء کو اسے دوسری باردکھانے کا ارادہ کیاگیا ۔ہالی وڈ کے بلاگر جون واش نے 29جون کو لاس اینجلس سٹی کونسل کی میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے اس فلم کے عنوان سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہفتہ کو ہالی وڈ میں ایک تشویشناک واقعہ 'اِنوسینس بن لادن' نامی فلم دکھانے سے پیش آنے والا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وائن سٹریٹ تھیٹر کوکرائے پر لیا گیا ہے ۔ جو لوگ اس فلم کو دکھانا چاہتے ہیں، ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ بعدازاں اس فلم کی دوسری تشہیر کو منسوخ کردیا گیا۔
ایک ٹی وی پروڈیوسر نے اس فلم کی اشتہاری تصویر کھینچی تاکہ وہ اس کو اپنے ٹاک شو The Young Turks میں دکھا سکے۔ADL کی جانب سےکئے گئے ترجمے کے مطابق پوسٹر میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس فلم میں فلسطین، عراق اور افغانستان میں ہلاکتوں کا سبب بننے والے دہشت گردوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس فلم کو پادری آفیری جونز کی حمایت حاصل تھی جو قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کرنے کے حوالے سے مشہور ہے او ریہ ہی عالمی سطح پر مظاہروں میں تیزی کا سبب بھی بنا۔ملعون جونز کا کہنا تھا کہ 11 ؍ستمبر 2012ء کو اس کا یہ فلم اپنے چرچ میں بھی دکھانے کا ارادہ تھا۔
ذرائع کے مطابق 14؍ستمبر 2012ء کو ٹورنٹو کی ایک ہندو تنظیم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس کو نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔5 لیکن سیکورٹی خدشات کے پیش نظرانتظامیہ نے کسی بھی پبلک مقام پر اُس کو دکھانے کی حامی نہیں بھری۔6
'دی گارڈین' کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی ایک اسلام مخالف تنظیم Pro German Citizens Movement اپنی ویب سائٹ پر فلم کے ٹریلر اَپ لوڈ کرنے اورمکمل فلم چلانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے لیکن گورنمنٹ سے اس کی اجازت نہیں ملی۔
'یوٹیوب' ویڈیوویب سائٹ کابند ہونا
سام بیسلی نے یکم جولائی کو یوٹیوب پر خاکے جاری کئے اور ستمبر میں اسے عربی میں ڈب کیا گیا اور مورس سادک کے ذریعے عرب دنیا کی توجہ حاصل کی گئی۔ عربی میں دو منٹ کی عربی ڈبنگ مصری ٹی وی'الناس' پر خالد عبداللہ نامی شخص نےنشر کی۔
یوٹیوب نے رضاکارانہ طورپرمصر اور لیبیا میں ویڈیو کوبند کردیا ۔ انڈونیشیا، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈیا، سنگاپور میں بھی مقامی قوانین کی وجہ سے اُسے بند کردیا گیا۔ ترکی، برازیل او رروس نے ویڈیو بند کروانےکا ابتدائی قدم اُٹھایا۔مزید برآں یوٹیوب کے مالک نے پاکستان اور مصر میں بھی اس ویڈیو کو بند کردیا،کیونکہ ان ممالک میں حالات کافی پیچیدہ ہوتے جارہے تھے۔ستمبر2012ء میں افغانستان ،بنگلہ دیش ، سوڈان او رپاکستان کی حکومتوں نے بھی یوٹیوب کو بلاک کردیا او ریہ ویب سائٹ اُس وقت تک بند رہے گی جب تک کہ فلم ویب سے ہٹا نہیں دی جاتی۔
چیچنیا اورداغستان میں انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرنے والوں کو یوٹیوب بند کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ایران نے تو یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ گوگل Googleاور جی میل Gmailکو بھی بند کردیں گے۔ اب گوگل نےاسلام دشمن ویڈیو کو بند کرنےپر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ مزید اُردن میں بھی بند کرنے پر اتفاق ہے۔
اوباما حکومت نے یوٹیوب سے استفسار کیا ہے کہ آیا وہ یوٹیوب کی پالیسی کے مطابق اس فلم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یوٹیوب کا جواب تھا: ''یہ فلم اسلام کے خلاف ہے، مسلمانوں کے خلاف نہیں، اس کو قابل نفرت خطابHate Speech کے زمرے میں نہیں لایا جاسکتا، اس لیے یہ کمپنی کی پالیسی کے مطابق جاری رہے گی۔''
احتجاج
بحرین میں احتجاج کرنے والوں نے فلم کی اعلانیہ مذمت کی ہے۔مصری ٹی وی'الناس' کےمیزبان نے اپنی 8 ستمبر کی نشریات میں محمدکریم ﷺ پر کی گئی اظہارِ رائے پرتنقید کی ہے۔مصری صدر محمد موسیٰ نے امریکی حکومت پر زور دیا ہےکہ وہ اس فلم کے پروڈیوسر (جسے انہوں نے'پاگل آدمی' کا خطاب دیا ہے) کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے۔
فلم کے خاکوں کے خلاف دنیابھر کے شہروں میں پرہجوم اور پرتشدد احتجاج ہوا جس کے نتیجے میں کئی اَموات ہوئیں او رسینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ پاکستانی حکومت نے ملکی سطح پر تعطیل کا اعلان کیا اور اپیل کی کہ محمدﷺ کی تعظیم میں پُرامن احتجاج کیا جائے۔
17ستمبر کو تقریباً 50 ہزار لبنانیوں نے بیروت میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جہاں 'حزب اللہ' کے لیڈر حسن نصر اللہ نے عوام کو احتجاج جاری رکھنے کا کہا۔ اُن کا کہنا تھاکہ پیغمبرﷺ کے دفاع کے لیے سنجیدگی سے احتجاج کو شروع کیا جائے۔ عوامی رد عمل کو دیکھتے ہوئے امریکی سیاست دانوں نےبیروت میں امریکی سفارت خانے سے حفاظتی نقطہ نظر سے اشتہاری مواد ضائع کردیا۔7
11؍ستمبر کو بن غازی لیبیا میں ہتھیاروں سے پوری طرح مسلح افراد نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کرکے امریکی سفیر کرسٹوفرسیٹون اور تین دیگر افراد کو ہلاک کردیا۔ کچھ امریکی افسروں کاکہنا ہےکہ'' بن غازی کا منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کا فلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ القاعدہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ بیان دیا ہے کہ امریکی ڈرون حملے کا انتقام ہے جس میں القاعدہ کےلیڈر ابویحییٰ لیبی شہید ہوئے تھے۔''
12؍ستمبر کو یوٹیوب نے اعلان کیا کہ وہ عارضی طور پر لیبیا او رمصر میں فلم تک رسائی کو محدود کررہے ہیں۔افغانستان او رایران نے یوٹیوب کو سنسر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہناتھا: ''فلم ساز کی یہ حرکت ایک شیطانی حرکت ہے۔''8
دیگر اخباری ذرائع کی اطلاعات کے مطابق بیسلی خوف کی وجہ سے روپوش ہوگیا ہے، لیکن اس نے فلم کے دفاع کو جاری رکھا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ اسے لیبیا میں امریکی سفیر سیٹون کی موت کا دُکھ ہے۔ اس سلسلے میں اس نے سفارت خانے کے حفاظتی انتظامات کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔9
18؍ستمبر کو ایک خاتون خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ایک منی بس کےساتھ ٹکرا دی جس میں افغانستان میں غیر ملکی ہوا بازی کا عملہ سوار تھا، اس میں کم از کم 9؍افراد ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کےمطابق اس میں آٹھ جنوبی افریقہ کے افراد اور ایک برطانوی خاتون بھی شامل ہے۔ عین ممکن ہے کہ کچھ تعداد افغانیوں کی بھی ہو۔ اسلامی جہادی تنظیم 'حزبِِ اسلامی' نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس ملک میں خاتون کی طرف سے یہ پہلا خود کش بم دھماکہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ گستاخانہ فلم کےردّعمل میں تھا۔10
طالبان کاکہنا ہے کہ فلم کے جواب میں بیشن میں قائم 'برٹش ملٹری بیس کیمپ' پر اُنہوں نے 14 ستمبر کو حملہ کیا جس میں 2؍ امریکی فوجی مارے گئے۔ پھر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ اس لیےکیا گیا، کیونکہ برطانوی پرنس ہیری وہاں آیا ہوا تھا۔
'کوپٹک ارتھوڈوکس کرسچین چرچ' نےبھی اس فلم کی مذمت کی ہے۔بشپ سراپین آف 'کوپٹک آرتھوڈوکس ڈاوسز آف لاس اینجلس' نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ
"It rejects gragging the respectable copts of the diaspora in the about the Prophet of Islam. The name of our blessed parishioners should not be associated with the efforts of individuals who have ulterior motives."
علاوہ ازیں 'ورلڈ کونسل آف چرچز ' کا کہنا ہے کہ یہ فلم مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتی ہے۔ تمام مذہبی لوگوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے عقیدہ کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔11
ایران کےپریس ٹی وی نے اس فلم کی ابتدائی رپورٹ دکھائی جس میں ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ علی خامنائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ فلم یہودیوں کو فلسطین میں دوبارہ آباد کروانے والے شیطانی ذہنوں او رامریکہ نے بنوائی ہے۔
سکائی نیوز کا بھی کہنا ہے کہ یہ ویڈیو مسلم مخالف ہے اور جذبات کو بھڑکانے والی ہے۔
The New Republicکے مطابق فلم کاکوئی پہلو فنی لحاظ سے قابل اصلاح نہیں ہے بلکہ پورا سیٹ ظالمانہ، خبیث اور وحشیانہ، اداکاری تاثر سے عاری آنکھوں اور مصنوعی انداز میں اداکئے گئےمکالموں پر مشتمل ہے۔12
نیویارک ڈیلی نیوز کا کہنا ہے کہ یہ فلم،فلم سازی کے اعلیٰ معیار سے بہت دور ہے۔ مسلمان فلم ساز کامران پاشا کا کہنا ہے کہ ''میرےخیال میں فنکاری کےلحاظ سے یہ فلم ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس کی پشت پناہی ایک مہلک متعصّب گروپ کررہا ہے جس کا مقصد محمدﷺ کے کردار کو داغ دار کرکے نفرت اور تشدد پر اُکسانا ہے۔13
اس فلم میں آپﷺ کی تضحیک کا اتنا بھونڈا طریقہ اپنایا گیا تھا کہ شاتم رسولﷺ سلمان رشدی سے بھی اس کی تردید کے بغیر نہ رہا گیا اس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ''اس کا فلمساز فحش ،ناگوار،بہروپیہ،اور اس کی پروڈکشن خباثت اور گندگی کا ڈھیر ہے۔''14
Counter Punch جو مشہور آن لائن رسالہ ہے، اس کے 18 ستمبر 2012ء کے شمارے میں چیف سپیرو اپنے مضمون "Islamophobia; Left and Right" میں لکھتا ہے:
''لیکن خود فلم کے بارے میں کیاکہا جائے؟ غیر پیشہ وارانہ فلم کاری کااتنا پھٹیچر نمونہ ایسا شعلہ جوالہ کیوں بن گیا؟ یہ فلم ایک ایسے وقت میں تیارکی گئی ہے جب کہ یورپ اور امریکہ میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں نےایک ایسا اسلام دشمن نظریہ اپنالیاہے جو تقریباً بالکل ٹھیک روایتی' یہود مخالف کلیدی طریقوں' کو دہراتا ہے۔''
مذکورہ بالا تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ آپﷺ پر بنائی جانے والی گستاخی پر مبنی فلم اسلام دشمن ابلاغی منصوبہ کا حصہ ہے۔ یہود کی سرپرستی اور امریکی حکومت کی اس فلم کے ذمہ داران کے بارے خاموشی بھی اُنہیں اس منصوبہ بندی میں شریک کر رہی ہے۔پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرف سے زبردست احتجاج اور رد عمل کے باوجود امریکی ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ مغربی اقوام جو بات بات پر 'سوری' کہنے کی عادی ہے، ان کی زبان سے اس فلم کے بارے میں معذرت کا کوئی لفظ برآمد نہیں ہورہا تواسے ان اقوام کے اسلام کے خلاف اجتماعی بغض اور ظالمانہ تائید کے علاوہ اور کیا سمجھا جائے؟ یہ فلم مسلسل یوٹیوب پر جاری ہے اور اسے تاحال ہٹایا نہیں گیا۔ اگرچہ اوباما حکومت اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ قرار دیتی ہے لیکن عملی طور پر فلم کے ذمہ داران کے بارے مجرمانہ خاموشی اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف جاری اس ابلاغی جنگ کا ہی حصہ قرار پاتی ہے جسے امریکہ کی قیادت میں عالم کفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ پوری دنیا کے کفر کو یہ بات شاید ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ ایک ادنیٰ مسلمان بھی حرمتِ رسول ﷺ پر اپنی جان تک قربان کرنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے، کیونکہ ایک مسلمان کے نزدیک اس کی زندگی اور ایمان کا کل اثاثہ توحید کے بعد یہی حب رسول ہے کہ جس کا ولولہ لیے وہ دنیا میں جی رہا ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ماضی میں نبی رحمتﷺ کی ذات پر کفار کی طرف سے کیے گئے رکیک حملے صہیونی اور عیسائی طاقتوں کے ایما پر ہی تھے۔ سلمان رشدی کی ہفوات سے لے کر توہین آمیز کارٹون کی اشاعت تک کا سلسلہ مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ اور ان کی روحوں کو تڑپا دینے والا اقدام تھا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلمان ممالک ناموسِ رسالت کے دفاع میں کم ازکم اتحاد کا مظاہرہ کریں اور غیرتِ دینی کا ثبوت دیتے ہوئے عالمی سطح پر پریشر گروپ منظم کیا جائے۔ اگر پوری دنیا کے مسلمان کسی ایک وقت یا ایک دن میں اس حوالے سے منظم وپرامن احتجاج کا کوئی طریقہ اختیار کریں تو اس سے بھی دنیا بھر کو اہل اسلام کی یک جہتی کا واضح پیغام مل سکتا ہے، لیکن افسوس مسلمانوں میں کوئی ایک پلیٹ فارم موجود نہیں جو دنیا کے تمام مسلمانوں کو کسی ایک نکتہ پر جمع کرسکے۔ یہی وہ مرکزِ خلافت کی اہمیت ہے جس کے تقدس اور اہمیت کو جان کر اس کو ختم کردیا گیا اور مسلمان اس عظیم سانحہ پر مطمئن بیٹھے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ماضی اور حالیہ گستاخانہ اقدامات کی پوری تحقیق کر کے ان کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے عالمی جدوجہد کی جائے اور اہل کفر کو انتباہ کر دیا جائے کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمان بستے ہوں ،وہ اپنے رسول ﷺ کے خلاف گستاخی کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔
مسلم ممالک کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت تیل ہے، اسے بطورِ ہتھیار استعمال میں لائیں اورجو ممالک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں، تیل کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اُنہیں تیل کی سپلائی روک دی جائے ۔
مسلم ممالک پر قائم امریکی فوجی اڈّوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے، موجودہ صورتِ حال دراصل مسلم حکمرانوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح ناموس رسالت اور اسلام کی سربلندی کے لئے متحد ہو کر مؤثر اور اجتماعی احتجاج کرتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران مسلم اُمہ کو ایک پلیٹ فارم پہ لا کر اسلام دشمنوں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی طے کر لیں ۔
مسلم ممالک کو کفر کی عالمی برادری پر واضح کر دینا چاہیے کہ اوباما اگر نام نہاد آزادئ اظہار کے لیے موجود قوانین کی موجودگی میں اس فلم پر پابندی نہیں لگا سکتا تو ہم گستاخِ رسول کی سزا اسلامی قوانین میں موجود پاتے ہوئےمحمد رسول اللہﷺکے گستاخ کو کیسے آزاد چھوڑ سکتے ہیں۔ وہ لوگ فکری آزادی کے نام پر اپنے جیسے افراد کے بنائے قوانین کی ایسے پاسداری کریں تو ہم اللہ کے بنائے ہوئے دائمی اور منصفانہ قوانین کو کیسے غیر اہم کردیں۔یہ سمجھوتہ غیرتِ دینی کے خلاف ہے!!

حوالہ جات

1. "Pentagon to review video of Libya attack – This Just In – CNN.com Blogs". News.blogs.cnn.com. September 12, 2012. http://news.blogs.cnn.com/2012/09/12/u-s-ambassador-to-libya-3-others-killed-in-rocket-attack-witness-says/. Retrieved September 14, 2012.

2. Anger Over a Film Fuels Anti-American Attacks in Libya and Egypt, New York Times. September 11, 2012. Retrieved September 14, 2012.

3. a b c d Richard Verrier (September 14, 2012). "Was 'Innocence of Muslims' directed by a porn producer?" Los Angeles Times. http://articles.latimes.com/2012/sep/14/entertainment/lat-et-ct-porn-innocence-muslims-20120914. Retrieved 22 September 2012.
Kia Makarechi (09/14/2012 7:08 pm EDT Updated: 09/14/2012 7:22 pm EDT). "Alan Roberts & 'Innocence Of Muslims': Softcore Porn Director Linked To Anti-Islam Film". The Huffington Post. http://www.huffingtonpost.com/2012/09/14/alan-roberts-innocence-of-muslims_n_1885758.html. Retrieved 22 September 2012.
a b "California Man Confirms Role in Anti-Islam Film". Time. http://nation.time.com/2012/09/12/california-man-confirms-role-in-anti-islam-film/. Retrieved September 12, 2012.

4. Joseph Burstyn, Inc. v. Wilson, 343 U.S. 495 (1952). National Socialist Party of America v. Village of Skokie, 432 U.S. 43 (1977).

5. Tom Godfrey (September 14, 2012). "Toronto Hindu group plans screening of Innocence of Muslims". QMI Agency. http://cnews.canoe.ca/CNEWS/Canada/2012/09/14/20200506.html.

6. Mona Shadia and Harriet Ryan (9-15-2012). "California Muslims hold vigil for slain ambassador". LA Times. http://articles.latimes.com/2012/sep/15/local/la-me-anti-muslim-film-20120915. Retrieved September 17, 2012.

7. Goldman, Yoel (September 17, 2012). "Nasrallah, in rare public address, hails 'start of a serious movement in defense of the prophet'". The Times of Israel; Associated Press. The Times of Israel. http://www.timesofisrael.com/nasrallah-makes-rare-appearance-at-rally-against-anti-islam-film/?utm_source=The+ Times+of+Israel+Daily+Edition&utm_campaign=c3b1f5665f-2012 _09_18&utm_medium=email. Retrieved September 18, 2012.

8. Arghandiwal, Miriam. "Afghanistan bans YouTube to censor anti-Muslim film". News.yahoo.com. http://news .yahoo .com/ afghanistan-bans-youtube-prevent-viewing-anti-muslim-film-131507907.html. Retrieved September 12, 2012.

9. a b Peralta, Eyder. "What We Know About Sam Bacile, The Man Behind The Muhammad Movie: The Two-Way". NPR. http:// www.npr.org/blogs/thetwo-way/2012/09/12/161003427/what-we-know-about-sam-bacile-the-man-behind-the-muhammad-movie. Retrieved September 12, 2012.

10. "Afghan woman's suicide bombing was revenge for anti-Islam film, says radical group". The Times of Israel. September 18, 2012. http://www.timesofisrael.com/afghan-womans-suicide-bombing-was-revenge-for-anti-islam-film-says-radical-islamist-group/?utm_ source=The+Times+of+Israel+Daily+Edition&utm_campaign=c3b1f5665f-2012_09_18&utm_medium=email. Retrieved September 18, 2012.

11. "WCC general secretary condemns making of the film offensive to Islam". World Council of Churches. http://www. oikoumene. org/en /news/news-management/eng/a/article/1634/wcc-general-secretary-con-8.html. Retrieved September 16, 2012.
"World Council of Churches condemns anti-Islam film". Bikya Masr. http://www.bikyamasr.com/77497/world-council-of-churches -condemns-anti-islam-film/. Retrieved September 16, 2012.

12. Cameron Abadi (September 13, 2012). "The Incompetent Bigotry of 'The Innocence of Muslims'". The New Republic. http://www.tnr.com/blog/plank/107219/the-incompetent-bigotry-the-innocence-muslims#.

13. Kamran Pasha (September 13, 2012). "The Mercy of Prophet Muhammad". Huffington Post. http://www. huffingtonpost. com/ kamran-pasha/the-mercy-of-prophet-muhammad_b_1879601.html.

14. "Salman Rushdie: the fatwa, Islamic fundamentalism and Joseph Anton". The Guardian. September 17, 2012., http://www. guardian. co.uk/books/2012/sep/17/salman-rushdie-blackest-period-of-my-life.