جناب محمد یونس طالب الہاشمی دورِ حاضرکے ان دانشور اہل قلم میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت اور اہلیت سے نوازا ہے جس کے ذریعہ موصوف اپنی بات کو قارئین کے دل ودماغ میںاُتارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو درد مند دل سے بھی نوازا ہے ، اسی درد مندی کی وجہ سے وہ ہمیشہ اُمت ِمسلمہ کی ان ممتاز شخصیات کے حالاتِ زندگی جمع کرنے میں مصروف ومشغول رہتے ہیں جو بھلائی اور خیر کا منبع وسرچشمہ ہیں جن کے حسن اخلاق وکردار کی عملی مثالیں اور نظیریں ہماری دُنیوی زندگی کو راہِ راست پر استوار کر کے اُخروی زندگی سنوار سکتی ہیں ۔

جناب طالب الہاشمی نے تاریخ اسلام کی باکمال خواتین کے معمولاتِ شب وروز کو ایسے اُسلوب اور رنگ میں پیش کیا ہے جس نے دورِ حاضر کی عورت کی ذہنی اور فکری تربیت کے در کھول دیئے ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کتابوں میں سیرت فاطمہ الزہرا ؓلخت ِجگر رسول ہاشمی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور تاریخ اسلام کی چار سو با کمال خواتین وغیرہ کتابیں مقبولیت ِعام کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔

'تذکارِ صالحات' بھی اسی سلسلہ کی ایک تازہ کاوش ہے جس میں موصوف نے اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر زمانۂ حال تک کی 175 خواتین کے زندگی کے حالات وواقعات بلا کسی امتیاز واختصاص ایسے انداز میں کتابی صورت میں محفوظ کر دیئے ہیں جسے پڑھ کر قاری داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔

ہاشمی صاحب نے اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔پہلے حصے کا عنوان 12؍برگزیدہ خواتین رکھا ہے، ان سب کا انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رشتہ داری کاتعلق ہے۔ دوسرے حصہ کو ذکر ِصحابیات کا نام دیا ہے۔ اس حصہ میں 126 صحابیات رضی اللہ عنہن کا تعارف ہے ۔تیسرے حصہ میں تابعیات کا تذکرہ ہے جن کی تعداد 13 بیان کی ہے ا ور چوتھے حصہ میںماضی قریب اور دورِ حاضر کی چند صالحات کے معمولاتِ شب وروز قلم بند کیے ہیں۔ جن میں سے کچھ وفات پا چکی ہیں او رکچھ بقید ِحیات ہیں۔مثلا علامہ محمد اقبال، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ، میاں طفیل محمد، حکیم محمد سعید اور دوسرے کئی نامور اصحاب کی ماؤں کا ذکر ہے۔

موصوف نے جہانِ فانی سے دارِ بقا کی طرف جانے والی صالحات کے جو حالاتِ زندگی قلم بند کئے ہیں وہ جدید عہد کی راہِ راست سے بھٹکی ہوئی عورت کو صراطِ مستقیم کی جانب کھینچ کر لاتی ہے ۔کتاب اللہ اور سنت ِرسول اللہ پر عمل پیرا ہونے والی خواتین کا اُسوہ راہِ فلاح کی جانب رہنمائی کرتا ہے ۔نیریہ بھی واضح کرتا ہے کہ ایک با کردار اور اعلیٰ اخلاق کی مالک خاتون کی گود سے ہی ایسے صالح افراد اور گوہر نایاب شخصیات تربیت اور پرورش پا کر پروان چڑھتی ہیں جن کے وجود سے ایک اچھا پاکیزہ اور صاف ستھرا معاشرہ معرضِ وجود میں آتا ہے۔

اس کتاب میں جن باکردار وبا اخلاق صالحات کے حالاتِ زندگی اور معمولاتِ شب وروز کو محفوظ کیا گیا ہے، ان کی عملی زندگی کے مثالی کردار کو سامنے رکھ کر آج کی خواتین اپنی اصلاح کر کے آنے والی نسلوں کے لیے اُسوہ بن سکتی ہیں۔

محدث معروف دینی اِداروں، لائبریریوں، نشریاتی وصحافتی دفاتر، تعلیمی مراکزاور کالجوں، یونیورسٹیوں کے شعبۂ اسلامیات کو اِعزازی طور پرباقاعدگی سے ارسال کیاجاتا ہے۔اگر آپ کے قریب کسی ایسے مرکز میں محدث وصول نہ ہوتا ہو تو ہمیں اس کا پتہ جلد از جلد ارسال کیجئے۔ اسی طرح اہم سماجی، قومی و دینی شخصیات اور اہل علم وقلم کو بھی محدث باقاعدگی سے ارسال کیا جاتاہے جب وہ اپنے تو سط سے کم از کم دو افراد کے نام 'محدث' جاری کرا دیں۔جبکہ طلبہ کو نصف رعایتی زرِسالانہ یعنی 100 روپے سالانہ پرمحدث جاری کیا جاتا ہے۔

اس اعتبار سے محدث اُردو دان طبقہ میں مستند فکری آرا کو متعارف کرانے کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

ان دنوں محدث کے پتہ جات کی پڑتال اورتکمیل کی جارہی ہے۔ ایسے تمام حضرات جنہیں محدث مختصر یا طویل عرصہ سے اِعزازی موصول ہو رہا ہو، ان سے گذارش ہے کہ وہ جوابی مراسلہ یا کم از کم فون کے ذریعے محدث کی باقاعدہ وصولی یا پتہ کی تبدیلی سے ہمیں مطلع کریں تاکہ آئندہ بھی انہیں محدث کی ترسیل جاری رہ سکے۔ جو حضرات محدث کی وصولی کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع نہیں دیں گے، دو ماہ بعد ایسے اعزازی حضرات کو محدث کی ترسیل منقطع کردی جائے گی۔ توثیق و اطلاع کیلئے محدث کا پتہ و فون نمبرز دیکھئے۔ ادارہ