سوال:  ہمارے ساتھ بہت سے غیر مسلم کام کرتے ہیں کیا انہیں ان کے تہواروں پر مبارک دینا یعنی میری کرسمس (Merry Christmas) یا ہیپی نیو ایئر(Happy new year)کہنا جائز ہے ؟ علاوہ ازیں کیا ان کے تہواروں ، جشن منانے کے مقامات پر ان کی دعوت پر جانا جائز ہے ؟ جبکہ یہ کام کسی اعتقاد کی بنا پر نہیں بلکہ محض مروّت کے تقاضے وغیرہ کی بنا پر کئے گئے ہوں ؟

جواب:  از شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ: غیرمسلموں کو کرسمس وغیرہ کسی بھی مذہبی و دینی تہوار پر مبارک کہنا جائز نہیں ،ایسا کرنا گویا ان کے تہوار پر اپنی رضامندی کا اظہار اور اسے سند ِجواز مہیاکرتا ہے اور ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کے کسی شعار پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سند ِجواز فراہم کرے کیونکہ یہ اللہ کی رضامندی کے سراسر منافی ہے۔چنانچہ ارشادِ ربانی ہے :

 إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ   ﴿الزمر7
''اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے غنی وبے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر پر راضی نہیں ۔''

اور فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿آل عمران 85﴾
'' اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اوردین کو اپنایا تو وہ اس سے ہرگزقبول نہیں کیا جائے گا اورآخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا۔''

علامہ ابن قیم ؒ اپنی کتاب 'احکام اہل الذمہ' میں لکھتے ہیں :
''اس بات پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ کفار کو ان کی عیدوں پر مبارک کہنا جائز نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ لوگ ہماری عیدوں پر ہمیں مبارک کہتے ہیں تو اس کا تعلق ایسے مواقع پر مبارک باد کہنے سے ہے جن پر اللہ اپنے بندوں پر راضی ہوتا ہے اور اللہ نے ان عیدوں کو جائز قرار دیا ہے۔ جبکہ ہمار ا ان کی عیدوں پر اُنہیں مبارک کہنا اس کے سراسر برعکس ہے ،کیونکہ نبی اکرمﷺ کے لائے ہوئے دین اسلام کے آجانے سے سابقہ تمام ادیان منسوخ ہوچکے ہیں ۔ اگر وہ اپنی عیدوں پر ہمیں مبارک کہیں تو ہم ان کی مبارک کا جواب نہیں دیں گے، کیونکہ وہ ہماری عیدیں نہیں ہیں او رجب ان کی عیدوں پر مبارک کہنا جائز نہیں تو ان کے ساتھ شرکت کرنا اور ان کے مقاماتِ عید پر جانا بھی جائز نہیں ۔اگرچہ وہ ان کی دعوت پر ہی کیوں نہ ہو اور ایسے امور میں کوئی مروّت جائز نہیں کیونکہ یہ دین میں کمزوری کے مترادف ہوگا۔''


(مزید تفصیل کے لئے دیکھیں : ماہنامہ محدث ، شمارہ 273، اکتوبر 2003ء : ص 29،30)

سوال:  کراچی میں ایک کمپنی میں میری ملازمت ہے جبکہ میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ رحیم یار خاں میں رہائش پذیر ہوں ۔میری ملازمت کی نوعیت یہ ہے کہ 7 روزمیری ڈیوٹی کراچی میں ہوتی ہے جبکہ 7 دن ہی میری چھٹی ہوتی ہے جو میں رحیم یار خاں گزارتا ہوں ۔اب تک میرا معمول تو یہ ہے کہ کراچی میں ، میں قصرنماز پڑھتا ہوں جبکہ رحیم یار خاں میں مکمل نماز ادا کرتا ہوں ۔ یہ قصر نماز قرآن وحدیث کی رو سے درست ہے؟ (محمد ادریس)

جواب:  آپ کو کراچی میں بھی اسی طرح پوری نماز پڑھنا ہوگی جس طرح گھر میں ، کیونکہ قصر صرف درج ذیل صورتوں میں جائز ہے :

1) حالت ِسفر میں (خواہ سفر کا دورانیہ کئی دنوں پر محیط ہو)

2) اصلی گھر کے علاوہ کسی اور گھر میں بشرطیکہ وہ گھر کم ا زکم نو میل دور ہو اور وہاں اقامت تین سے چار دن تک ہو۔

3) گھر سے باہر اقامت کا تعین مشکل ہوجائے کہ یہاں دو دن ٹھہرنا ہے یا چار دن!

چونکہ آپ کا معاملہ ان میں سے کسی صورت پر بھی منطبق نہیں ہوتا۔ بلکہیہ واضح ہے کہ آپ نے کراچی میں سات دن رہنا ہے۔ اگر تین سے چار دن تک رہنے کے بعد واپسی کا سفر ہوتا تو پھر آپ قصر کرسکتے تھے۔ اس سے زیادہ دن رہنے کی نیت ہوتو پھر شروع ہی سے پوری نماز پڑھنا ہوگی۔ (جواب از حافظ مبشرحسین لاہوری)

انعامی بانڈز

سوال:   پچھلے دنوں بعض بنکوں کی جانب سے مختلف ناموں سے بانڈز جاری کئے گئے ،جسے ایک آدمی متعین قیمت کے ساتھ خریدتاہے جوکہ زیادہ سے زیادہ 50؍ دینار ہوتی ہے،اور یہ بانڈزماہانہ قرعہ اندازی میں داخل کئے جاتے ہیں ، اس میں کامیاب شخص کو ملین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ دیے جاتے ہیں ۔ اس بارے میں آپ ہمیں فتویٰ دیں کہ کیا اس میں شریک ہونا جائز ہے؟

جواب:   بنکوں کے جن بانڈزکے بارے میں فتویٰ طلب کیا گیا ہے، اس کی صورت یہ بنتی ہے کہ کسی سودی بنک میں ایک خاص رقم جمع کروائی جاتی ہے تا کہ اس کے عوض انعامی سکیم میں داخل ہونے کاموقع ملے اور اس کے نتیجہ میں کوئی گاڑی یا کوئی خاص رقم بطورِ انعام ملے اور جو رقم جمع کی گئی ہے وہ بنک کے لئے بطورِ قرض ہوتی ہے جو کسی بھی وقت یا متعین وقت کے بعد جمع کرانے والے کو واپس لوٹا دی جاتی ہے ، اور اس قرض کے بدلے میں اسے انعامی سکیم کی قرعہ اندازی میں داخل ہونے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ یہ کام اس بنا پر حرام ہے کہ اس میں سود ہے نیز اس کام میں جوئے بازی کا بھی شبہ ہے جوکہ حرام ہے۔

بنک کی انعامی سکیموں کے متعلق علمائے کرام کے فتوے

(1) یہ لاٹری ہے اور یہی جوا ہے اور بلاشبہ حرام ہے۔
(شیخ عبداللہ بن منیع ، ممبرکبار علما کونسل، سعودیہ )

(2) یہ کام حرام ہے، اس لئے کہ اس میں سود ہے اور اس کے علاوہ اس میں جوے بازی کا بھی شبہ ہے، جو کہ حرام ہے۔ (فتویٰ نمبر 68، ع؍2000)
(فتویٰ کمیٹی وزارۃ الأوقاف والشؤون الإسلامیۃ، الکویت)

(3) یہ (بنکوں کے سرٹیفکیٹس) دو وجوہات کی بنا پر حرام ہیں : ایک رقم کو سودی بنک میں جمع کرنے کی وجہ سے، دوسرا اس لئے کہ یہ جوئے کی قسموں میں سے ایک قسم ہے جو حرام ہے۔

(فتویٰ کمیٹی جمعیۃ إحیاء التراث الإسلامي، کویت)


عزیز بھائیو! اہل علم کے یہمتفقہ اقوال اور فتاویٰ ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کررہے ہیں کہ آج کل بنک جو سرٹیفکیٹس جاری کررہے ہیں اور جن کے ذریعے قرعہ اندازی میں شرکت کا موقع ملتا ہے، انہیں خریدنا بالکل حرام ہے۔ اس بات کی وضاحت کے بعد کیا ہم میں اس قدر ایمانی غیرت ہے کہ ہم اس حرام کام سے رک جائیں ۔

مسلمانو! حدیث ِ مبارکہ میں آتا ہے کہ ''اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک کو ہی قبول فرماتا ہے، بے شک اللہ نے مؤمنوں کو بھی وہی حکم دیا جس کا پیغمبروں کو حکم دیا۔''

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''اے ایمان والو! ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے ان میں سے پاک چیزوں کوکھاؤ۔'' پھر آپ1 نے ایک آدمی کا تذکرہ فرمایا جو طویل سفر کررہا تھا، پریشان بال اور غبار آلود تھا، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے کہہ رہا تھا:''اے میرے پروردگار! اے میرے ربّ! جب کہ اس کا کھانا حرام کا تھا اور پینا حرام کا تھا اور لباس حرام کا تھا اور وہ خود حرام غذا سے پلا بڑھا تھا تو ا س کی دعا کہاں قبول ہوگی؟ (مسلم)

کیا آپ کو یہ اچھا لگے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے حرام کھانے،پینے اور حرام لباس میں ملیں ؟

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 
''ایمان والو! بڑھتا چڑھتا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی پاؤ۔'' (آل عمران :130)

کیا آپ نے غور کیا کہ آپ کس قدر عظیم معصیت کے مرتکب ہورہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! ''اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو اگر تم مؤمن ہو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہوجاؤ، اگر تم نے توبہ کرلی تو تمہیں اپنا اصل سرمایہ واپس ملے گا، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔ (البقرۃ:278،279) تو کیا آپ کو اللہ سے لڑنے کی طاقت ہے؟

رسول اللہﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے اور اسے لکھنے والے اور ا س کی گواہی دینے والے پر لعنت بھیجی اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں ۔ (مسلم)

آپ کو چین کہاں سے آئے گا جب کہ آپ اللہ کی رحمت سے دھتکارے ہوئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:
''سود کا ایک درہم جب کوئی شخص اس کی حرمت کو جانتے ہوئے کھا لیتا ہے تو اس کا یہ گناہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔'' (مسنداحمد)

خواتین کے لئے باہر جاتے وقت خوشبو کا استعمال

سوال:  کیا کسی عورت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ سکول،ہسپتال، رشتہ داروں یا پڑوسیوں سے ملاقات کے لئے جاتے وقت خوشبو لگا لے ؟

جواب:  اگر وہ عورتو ں کے اجتماع میں جائے تو اس کے لئے خوشبو لگانا جائز ہے، بشرطیکہ راستے میں اس کا گزر غیر مردوں کے پاس سے نہ ہوتا ہو۔البتہ خوشبو لگا کر عورت کا بازار جانا جہاں مرد بھی ہوتے ہیں جائز نہیں ہے، کیونکہ ارشادِ نبویؐ ہے :

''جس عورت نے خوشبو لگا رکھی ہو، وہ ہمارے ساتھ مسجد میں عشاء پڑھنے کیلئے نہ آئے۔''

اور اس لئے بھی کہ عورت کا خوشبو لگا کر مردوں کے راستے اور مساجد جیسے مردوں کے مقامات پر آنافتنہ و فساد کے خدشہ سے خالی نہیں ہوتا۔ ایسے ہی عورت کو چاہئے کہ پردہ میں رہے اور بے پردگی سے بچے کیونکہ ارشادِ الٰہی ہے :
''وہ اپنے گھروں میں ٹکی رہیں اور پہلی جاہلیت کے عہد جیسی بے پردگی اور سج دھج کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں ۔'' (الاحزاب:33)

خواتین کی تصاویر دیکھنا

سوال:  کاغذپربنی عورت کی تصویر، ویڈیو کیسٹ، سینماسکرین اور ٹیلیویژن پر اداکارائوں ، گلوکارائوں کے چہروں اور جسموں کو دیکھنے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:  از شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن بازؒ:ان کی طرف دیکھنا حرام ہے کیونکہ ایسا کرنے سے فتنہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور سورۂ نور کی آیات ہیں :
''مؤمنوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے، اللہ ہر اس کام کو جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔''  (النور:30)
آیت میں ممانعت کا عمومی حکم عورتوں اور ان کی تصاویر دونوں کو شامل ہے ، خواہ وہ تصاویر کاغذ پرہوں یا ٹیلیویژن پر یا کسی دوسری چیز پر۔

برقعہ سر کی بجائے کندھوں پر ڈال کر چلنا

سوال:  عورت اگر برقعہ سر کی بجائے کندھوں پر ڈال کر باہر نکلے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:  اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت کو پورا جسم چھپانے کا حکم دیا ہے تاکہ غیرمحرم مرد اس میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لے سکے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
''اِمکان ہے کہ ان کی شناخت ہوجایا کرے گی، پھر نہ ستائی جائیں گی۔'' (احزاب :59)

اس لئے کندھوں پر برقعہ ڈال کر سر اور چہرہ ننگا رکھنا جائز نہیں ہے۔ یہ عمل اس کی طرف نگاہیں اُٹھنے کا باعث ہے جس سے بعض فاسق لوگ اس میں ضرور دلچسپی لیں گے اور ایسی عورت رسول اکرم ﷺکے اس حکم میں داخل ہوگی :

''دو قسم کے لوگ جہنمی ہیں ، جن میں سے ایک ( وہ )عورتیں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ (مردوں کی طرف) مائل ہوں گی اور (مردوں کو) اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی۔ ان کے سر (چوٹیاں ) بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ہوں گی۔ وہ جنت میں داخل ہوں گی نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی۔'' (مسلم؛5547)

ویسے بھی کندھوں پر برقع ڈالنا مردوں کے لباس کے مشابہ ہے ،کیونکہ عام طور پر مردوں کا لباس کندھوں سے شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسا کرنا مردوں کے ساتھ مشابہت کی بنا پر بھی صحیح نہیں ہے۔
(جواب از فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین ،ممبر کبار علما کونسل، سعودیہ)

خواتین کے لئے پینٹ کا استعمال

سوال:  عورت کے لئے پینٹ (پتلون) پہننا کیسا ہے؟

جواب:  مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مغرب کی تقلید میں اتنے اندھے ہوجائیں کہ ان کی ہر چیز کو اپنانا شروع کردیں اور اسلامی شعار کو پس پشت ڈال دیں ۔ مسلمان عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسا مختصر یا تنگ لباس پہنے جس سے اس کے جسم کی بناوٹ واضح ہورہی ہو یا پھر جسم نظر آرہا ہو اور وہ لباس اس کے ستر کو کماحقہ نہ ڈھانپ رہا ہو۔ اس لئے عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ پینٹ زیب تن کرے یا ایسا لباس پہنے جس سے اس کے اعضا جیسے پیٹ ، سینہ اور پہلو وغیرہ واضح ہورہے ہوں ، ورنہ اس پر نبی کریم ﷺکا یہ فرمان صادق آئے گا:

''دو قسم کے لوگ جہنمی ہیں ، ایک (وہ) عورتیں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی اور وہ (مردوں ) کی طرف مائل ہوں گی اور (مردوں ) کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی۔ ان کے سر (چوٹیاں ) بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ہوں گی۔ وہ نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اورنہ ہی اس کی خوشبو پاسکیں گی، جبکہ اس کی خوشبو کئی سال کی مسافت تک پائی جائے گی۔'' (مسلم؛5547)

اسی لئے میں مسلمان عورتوں اور مردوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اللہ عزوجل سے ڈر جائیں ، اسلامی باپردہ لباس پہنیں اوراس غیر شرعی لباس کی خریداری پر اپنا پیسہ مت ضائع کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ (فضیلۃ الشیخ ابن عثیمینؒ، سعودیہ)

عورت کا ڈرائیور کے ساتھ اکیلے سفر کرنا

سوال:  کیا میں اپنے خاوند کی مصروفیت کی بنا پر ضروری کام کے لئے اپنے ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں اکیلی سفر کرسکتی ہوں ۔

جواب:  کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اجنبی ڈرائیور کے ساتھ اکیلی سفر کرے اگرچہ وہ سفر شہر کے اندرہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
''کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ علیحدگی میں نہ ملے، مگر یہ کہ (عورت) کا کوئی محرم موجود ہو'' (بخاری؛5233)

اور گاڑی میں علیحدگی ایسے ہی ہے جیسے کسی علیحدہ کمرے میں اکٹھے ہونا ہے۔ اصل میں تو علیحدگی سے منع کیا گیا ہے۔ (فضیلۃ الشیخ ابن عثیمینؒ، سعودیہ)

خوبصورت نقاب یا حجاب استعمال کرنا

سوال:  عورتوں میں رائج شدہ معروف نقاب کی شرعی حیثیت واضح کریں ؟

جواب:  مسلمان عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے پورے بدن کو سر سے لے کر پاؤں تک چھپا کر باہر نکلے تاکہ فتنہ کا سدباب ہوسکے۔ آج کل عورتیں جو فیشنی نقاب استعمال کررہی ہیں یہ بے پردگی ہی ہے بلکہ یہ بے پردگی کی ایک نمایاں قسم ہے۔ ہرمسلمان عورت کوچاہئے کہ وہ مکمل پردہ کا بندوبست کرے۔ آج کل بعض عورتوں نے اگر پردہ کو بالکل ہی ترک کردیا ہے تو بعض نے ایسا نقاب استعمال کرنا شروع کردیا ہے جو بذات خود انتہائی کشش کا باعث ہے۔ (فضیلة الشیخ صالح فوزان حفظه اللہ، سعودیة)

ایسے نقاب کے متعلق فضیلۃ الشیخ ابن عثیمین رقم طراز ہیں :
''مروّجہ مزین نقاب جائز نہیں ہے،بلکہ یہ تو ایسا پرفتن دروازہ ہے جس کو بند کرنا ناممکن ہوجائے گا۔اس لئے ایسا نقاب استعمال کرنا صحیح نہیں ہے ۔''


حجاب کا مقصد عورت کے جسم کومکمل طور پر چھپانا ہے نہ کہ کشش پیدا کرنا ہے۔ اس لئے مسلمان عورتوں کو اللہ جل شانہ سے ڈرنا چاہئے۔

نماز میں صفوں کو ملانا ... ایک مردہ سنت کا اِحیا

جس نے کسی مردہ سنت کوزندہ کیا، اسے اس کے زندہ کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور قیامت تک جو بھی اس سنت پر عمل کرے گا اس کا ثواب بھی اسے ملے گا ،لہٰذا ہمیں صفوں کو سیدھا کرنے کی سنت کا احیاء کرنا چاہیے ۔رسول اللہ ﷺنے اس پر بہت زور دیا ہے : آپ ﷺ نے ایک شخص جس نے صف سیدھی نہیں کی تھی کو حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا:

((یا عباد اﷲ ! لتسوّن صفوفکم أولیخالفن اﷲ بین وجوھکم)) (رواہ مسلم)
''اے اللہ کے بندو! اپنی صفیں سیدھی کرلوورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کو اُلٹا دے گا۔''

((ومن وصل صفا وصله اﷲ ومن قطع صفا قطعه اﷲ)) (رواہ النسائي وابن خزیمة و الحاکم وقال صحیح علیٰ شرطِ مسلم)
''جس نے صف کو ملایا، اسے اللہ ملائے گا اور جس نے صف کو منقطع کیا، اللہ اسے منقطع کرے گا۔'' 

((رصّوا صفوفکم وقاربوا بینھا))
''صفوں میں باہم مل جائو اور صفوں کو قریب قریب کرلو۔''

مگر صف کی تکمیل کس طرح کریں اور درمیان میں خالی جگہ کو پُر کیسے کریں ؟ حضرت انسؓ نے فرمایا ہے :

(( فکان أحدنا یلزق منکبه بمنکب صاحبه وقدمه بقدمه ))
''اور ہم میں سے ہر شخص اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ لگا دیتا تھا اوراپنے پائوں اپنے ساتھی کے پائوں کے ساتھ لگا دیتا تھا۔''

صف کی تکمیل ہمیشہ امام کی جانب کی جاتی ہے، مثلاً اگر آپ صف کی دائیں طرف کھڑے ہیں تو اپنا کندھا اور پائوں اپنی بائیں طرف کھڑے شخص کے کندھے او رپائوں سے لگالیں اور اسی طرح ہی بائیں طرف والے اپنی دائیں طرف والے کے ساتھ مل جائیں اور آپ اپنے پائوں کھول کر اپنے دائیں بائیں دونوں طرف والی خالی جگہ پُر کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اپنے پائوں صرف اپنے کندھوں کی چوڑائی کے برابر کھولیں ۔چند احادیث پیش خدمت ہیں جن کے کتنے ہی مسلمان غافل ہیں اوریہ تمام احادیث صحیح ہیں جو کتاب صحیح الترغیب والترہیب صفحہ 272 سے لی گئی ہیں :

(1)   ((سوّوا صفوفکم، وحاذوا بین مناکبکم، ولِینوا في أیدي إخوانکم، وسدوا الخلل فإن الشیطان یدخل فیما بینکم بمنزلة الحذف))
''صفیں درست کر لو، اپنے کندھے برابر کرلو، اپنے بھائیوں کے لئے نرم ہوجائو اور خالی جگہیں پُر کرلو کیونکہ شیطان بکری کے بچے کی طرح تمہارے مابین داخل ہوجاتا ہے۔''

(2)   ((وأقیموا الصفوف، وحاذوا بین المناکب، وسدوا الخلل، ولینوا بأیدي إخوانکم، ولا تذروا فرجات للشیطان، ومن وصل صفًّا وصله اﷲ ومن قطع صفا قطعه اﷲ))
''صفیں سیدھی کرلو، کندھے برابر کرلو، خالی جگہ پُر کرلو، اپنے بھائیوں کے لئے نرم ہوجائو، شیطان کے لئے خالی جگہ نہ چھوڑو، اور جس نے صف کو ملایا، اللہ اسے ملائے گا اور جس نے صف کو قطع کیا، اللہ اسے قطع کرے گا۔''

(3)   ((رصوا صفوفکم وقاربوا بینها، وحاذوا بالأعناق، فوالذي نفسي بیدہ إني لأریٰ الشیطان یدخل من خلال الصف کأنه الحذف))
''صفیں خوب ملالو اور قریب قریب کرلو اور گردنوں کو برابر کرلو، قسم اس ذات کی جس کے قبضے قدرت میں میری جان ہے، میں بکری کے بچے کی طرح شیطان کو تمہاری صفوں (کی خالی جگہوں ) میں گھستے دیکھتا ہوں ۔''

(4)   ((إن اللہ وملائکته یُصَلُّوْن علی الذین یَصِلُون الصفوف الأول))
''اللہ رحمتیں نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو صفوں کوملاتے ہیں ۔''

(5)   کان الرسول! یأتي الصف من ناحیة إلی ناحیة فیمسح مناکبنا أوصدورنا ویقول: ((لا تختلفوا فتختلف قلوبکم)) قال وکان یقول: ((إن اللہ وملائکته یصلون علی الذین یَصِلُون الصفوف الأول))
''نبی ﷺصف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے او رہمارے کندھوں کو چھوتے ہوئے صحیح کرتے اور فرماتے: صفیں خراب نہ کرو ورنہ اللہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا کردے گا، اور آپ ﷺفرماتے تھے: اللہ رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو پہلی صفوں کو ملاتے ہیں ۔''

(6)   ((خیارکم ألینکم مناکب في الصلاة، وما من خطوة أعظم أجرا من خطوة مشاھا رجل إلی فرجة في الصف فسدّھا))
''تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو نماز میں اپنے کندھوں کو نرم رکھتے ہیں اور اس قدم سے زیادہ ثواب والا کوئی قدم نہیں جو کہ آدمی کسی صف میں پڑی خالی جگہ کو پُر کرنے کے لئے اٹھائے اور خالی جگہ کو پُر کردے۔''

(7)   ((من سد فرجة رفعه اﷲ بها درجة وبنی له بیتا في الجنة))
''جس نے صف میں موجود خالی جگہ کو پُر کیا، اللہ اسے اس کے بدلے میں اس کے مرتبہ میں ایک درجہ بڑھا دیتا ہے اور جنت میں اسے گھر دیتا ہے۔''

(8)   ((إن اﷲ وملائکته یصلون علی الذین یَصِلون الصفوف الأول، وما من خطوة أحب إلی اﷲ من خطوة یمشیھا العبد یصل بھا صفا))
''اللہ رحمتیں نازل کرتا ہے اور فرشتے دعائِ مغفرت کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو پہلی صفوں کو ملاتے ہیں اور اللہ کو اس قدم سے محبوب دوسرا کوئی قدم نہیں جس کے ذریعے کوئی بندہ کسی صف میں پڑی خالی جگہ کو پُر کردے۔''

اسی موضوع پر ایک تفصیلی مضمون ماہنامہ محدث کے جولائی 1995ء کے شمارے میں جناب غازی عزیر مبارکپوری کے قلم سے 82 تا 127 صفحات پر ملاحظہ فرمائیں ۔ اسے مکتبہ دار السلام،لاہور نے اب ایک مستقل کتابچہ کی صورت میں بھی شائع کردیا ہے۔