2003ء میں وطن ِعزیز کو جہاں آئین اور جمہوریت کے حوالے سے گونا گوں صدمات برداشت کرنا پڑے، وہاں پاکستان میں 1980ء کی دہائی میں نافذ ہونے والے اسلامی قوانین پر بھی مغرب نواز حلقوں کی جانب سے حکومتی سطح پر نفوذ کرنے اور ان قوانین کو ختم کروانے کی مؤثر کوششیں کی گئیں ۔ ان کوششوں اور دباؤ کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے 'نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن' کی چیئرپرسن جسٹس (ر) واجدہ رضوی کو حدود قوانین کا جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کا فریضہ سونپا۔ اس کمیشن کے ارکان کو نامزد کرنے کا اختیار بھی جنرل پرویز مشرف کو حاصل تھا۔
کمیشن نے حدود قوانین کااپنے طور پر جائزہ لیا اور حکومت کو سفارش کی کہ ان قوانین میں تبدیلیوں یا ترمیمات سے عورتوں کے حقوق پر پڑنے والے اثرات ختم نہیں ہوسکتے، اس لئے ان قوانین کو سرے سے ختم کردینا مناسب ہے۔ کمیشن کے صرف دو ارکان نے اس سفارش کی مخالفت کی اور اس میں مناسب ترامیم کو ممکن قرار دیا۔ ویمن کمیشن کی سفارشات پریس میں آتے ہی ملک بھر میں ان سفارشات کے خلاف ردّعمل ظاہر ہونا شروع ہوا اور اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ جسٹس (ر) واجدہ رضوی اس ردّعمل پر اپنا جوابی ردّ عمل نہایت سخت الفاظ میں ظاہر رہی ہیں اور اسی بات پر مصر ہیں کہ حدود قوانین سراسر غیر اسلامی ہیں اور انہیں کوئی وقت ضائع کئے بغیر قلم زد کردینا چاہئے۔ (روزنامہ 'نیشن': 16؍اکتوبر 2003ئ)

بلوچستان سے صوبہ سرحد تک کمیشن سفارشات کی مخالفت کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بعض حکومتی حلقے حدود قوانین کو ختم کرنے کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی ایک رکن قومی اسمبلی شیری رحمن نے Protection & Empowerment of Women Act, 2003 کے نام سے ایک قانونی بل قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں داخل کیا، جس میں دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ حدود قوانین کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے۔ دیگر باتوں میں مندرجہ ذیل اُمور شامل ہیں :

1۔   فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور صوبائی سروس کمیشنوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ ملازمتوں میں خواتین کی 3؍1 نمائندگی کو یقینی بنائیں اور یہ قانون یکم جنوری 2005ء سے مؤثر اور نافذ کیا جائے۔

2۔   ایک جیسی ملازمت میں جنس کی بنیاد پر تنخواہ کا فرق ختم کیا جائے کیونکہ یہ عمل عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

3۔   خواتین پر گھریلو تشدد اور جسمانی ایذا رسانی کو تعزیراتِ پاکستان کے تحت قابل سزا قرار دیا جائے اور جو شوہر اپنی بیوی سے ایسا سلوک روا رکھیں ، انہیں تین سال قید اور پانچ لاکھ تک جرمانہ کی سزائیں دی جاسکیں ۔

4۔   قتل ِغیرت کو عام قانون کے مطابق قتل عمد تصور کیا جائے اور یہ جرم کرنے والوں کو سزاے موت کی سزا دی جائے۔

5۔   ہر عورت کو اپنی مرضی کی شادی کرنے کا حق تسلیم کیا جائے، اور اگر کوئی شخص ایسی شادی میں رکاوٹ بن رہا ہو، دباؤ ڈال رہا ہو یا زبردستی کررہا ہو تو اسے مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال تک کی سزائے قید دی جائے اور جرمانہ عائد کیا جائے۔

6۔   اگر کوئی عورت چولہے سے آگ لگنے کے سبب فوت ہوجائے تو اس کے خاوند کے خلاف اسے جان سے مارنے کا مقدمہ درج کیا جائے۔ اگر حادثے کے وقت خاوند گھر میں موجود نہ ہو تواس خاندان کے مرد سربراہ پر یہ مقدمہ چلایا جائے اور اسے وہی سزا دی جائے جو قتل کے جرم پر دی جاتی ہے۔

7۔   ہر جیل میں عورتوں کے لئے بالکل علیحدہ حصہ بنایا جائے۔ جس کا انتظام و انصرام بھی مکمل طور پر عورتوں کے ہاتھ میں ہو اور عورتوں کے معاملات کو چلانے کے لئے علیحدہ خاتون انسپکٹر جنرل پولیس مقرر کی جائے۔ جسے وہی اختیارات حاصل ہوں جو مرد انسپکٹر جنرل پولیس کو حاصل ہوتے ہیں ۔

8۔   اسلامی نظریاتی کونسل،پلاننگ کمیشن، بورڈ آف ڈائریکٹرز، پی آئی اے اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن میں عورتوں کو ایک تہائی نمائندگی دی جائے۔

حکومت اور ویمن کمیشن اس بل کو کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں ،اس کا اندازہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس سے لگایاجاسکتا ہے۔ یہ پریس کانفرنس پیپلزپارٹی، پٹریاٹ کی جانب سے بلائی گئی تھی اور اس میں محترمہ شیری رحمن نے حدود آرڈیننس کی تنسیخ اور پاکستانی خواتین کو قانونی طور پر طاقتور بنانے کے لئے اپنے پیش کردہ بل کو ذرائع ابلاغ میں متعارف کروایا۔ اس موقع پر ویمن کمیشن کی چیئرپرسن جسٹس (ر) واجدہ رضوی بھی موجود تھیں ۔ لیکن جب صحافیوں نے ان کی موجودگی کو ریکارڈ پر لانے کے لئے ان سے حدود آرڈیننس پر اُن کی سفارشات کے بارے میں سوالات کا سلسلہ شروع کیا اور اسلامی تاریخ سے ان قوانین پر عمل درآمد کے بارے میں مثالیں دیں تو انہوں نے فرمایا کہ ایسی معدودے چند مثالیں مستثنیات کا درجہ رکھتی ہیں اور انہیں باقاعدہ قانونی روایت سمجھنا درست نہیں ہے۔
اس مرحلے پر مناسب محسوس ہوتا ہے کہ ویمن کمیشن کی سفارشات پر عوامی ردّعمل اور محسوسات کا ایک اجمالی جائزہ لے لیا جائے تاکہ پاکستان کے عوام کے خیالات، احساسات اور حدود قوانین سے متعلق ان کے تاثرات کا ایک عکس قارئین کے سامنے آسکے ...
حدود آرڈیننس کی تنسیخ سے متعلق قومی کمیشن برائے خواتین کی سفارشات کے خلا ف اسلام آباد میں 5 ستمبر کومتحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے مظاہرہ کیا۔ مجلس عمل کی بڑی جماعتوں میں جمعیت علماے پاکستان، جمعیت علماے اسلام اور جماعت ِاسلامی شامل ہیں ۔ مجلس عمل پارلیمنٹ میں حکومتی جماعت کے بعد سب سے بڑی پارٹی ہے۔ مجلس عمل کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے خواتین کی سفارشات کو قرآن و سنت اور پاکستان کے آئین کے منافی اور ناقابل عمل قرار دیا۔ ان ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ حدود آرڈیننس کے خاتمے کے بجائے اس میں موجود ابہام کو ختم کیا جائے۔ اس موقع پر جماعت ِاسلامی، حلقہ خواتین کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے برابر ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اسی روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی پارٹی کے رکن اسمبلی کنور خالد یونس نے حدود آرڈیننس سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد کے لئے ایک 'توجہ دلاؤ' نوٹس پیش کیا جس پر مجلس عمل کی خواتین نے ڈیسک بجا کر اس نوٹس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے بعد لابی میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی محترمہ سمیعہ راحیل قاضی نے کہا کہ مجلس عمل کی تمام خاتون ارکانِ اسمبلی کنور خالد یونس کے اِقدام پر شدید احتجاج کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس نوٹس کے ذریعے اللہ کے بنائے ہوئے قانون کو کالے قانون سے تشبیہ دی گئی ہے۔کنور خالد یونس کو چاہئے کہ وہ استغفار کریں اور تجدید ِایمان کا طریقہ اپنائیں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قوانین سے روگردانی کرنے والوں پر اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل کی طرح عذاب نازل ہوگا۔
جماعت ِاسلامی حلقہ خواتین کی ارکان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان خواتین کے مسائل اور مصائب کا حل اسلامی تعلیمات میں پنہاں ہے، لہٰذا مغرب زدہ روایات کو قوم پر مسلط کرنا اسلامی قوانین سے زیادتی کے مترادف ہے۔ اس سے مسائل اور ناانصافیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور خواتین کے خلاف ظلم اور استحصال کو مزید تقویت ملے گی۔
مجلس عمل کی ارکانِ پارلیمنٹ کے مظاہرہ 5؍ ستمبر کا جواب حدود مخالف خواتین این جی اوز نے 8؍ ستمبر کو دیا۔ اس روز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (عاصمہ جہانگیرفیم) عورت فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں نے جن کی تعداد ان کے اپنے دعوے کے مطابق 30 بنتی ہے، پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ ترتیب دیا اور حدود آرڈیننس کی فوری تنسیخ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرہ کی قیادت حنا جیلانی، شہلا ضیا، فرزانہ باری اور شہناز بخاری نے کی۔ مظاہرے میں عیسائی خواتین نے بھی بڑی تعداد میں جوش و خروش سے حصہ لیا۔ یہ خواتین بڑھ چڑھ کر 'حدود آرڈیننس منسوخ کرو' اور 'حدود آرڈیننس نامنظور' کے نعرے لگا رہی تھیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے مرد و زَن کارکن بھی مظاہرے میں بطورِ کمک شریک ہوئے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن ِاسمبلی کنور خالد یونس بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ انہی رکن اسمبلی نے قومی اسمبلی میں 'توجہ دلاؤ نوٹس' پیش کیا تھا جس میں حدود آرڈیننس پر ویمن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے بعد اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس مظاہرے کے دوران وزیراعظم میرظفر اللہ خان جمالی جو ادھر سے کار پر گزر رہے تھے 'اتفاق سے' رک گئے۔ انہوں نے پرجوش مظاہرین کو حرفِ تسلی دیتے ہوئے کہا کہ حکومت حدود آرڈیننس میں تجویز کردہ ترامیم کے بارے میں نیشنل کمیشن برائے اُمورِ خواتین کی سفارشات کو دیکھے گی اور ضروری اقدامات کرے گی۔ خواتین کے ہر جائز مطالبے کو پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت حقوقِ نسواں پر پورا یقین رکھتی ہے۔ موجودہ حکومت کی سوچ مثبت ہے، منفی نہیں ۔ اس موقع پر مظاہرہ زن خواتین نے 'عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کرو' کے نعرے لگائے۔
اس واقعہ کے تقریباً 5 ہفتے بعد اسلام آباد میں اعلیٰ درجے کے دفاتر رکھنے والی این جی او 'سنگی' کے ایک اجلاس میں اخبار نویسوں کے سامنے حدود آرڈیننس کی تنسیخ سے متعلق اپنی رپورٹ کے خلاف اسلام پسند خواتین کے وسیع ردِعمل پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی قانون جو انسانوں یا معاشرے کے کسی طبقے یا حصے کے ساتھ ناانصافی کی اجازت دیتا ہو، ہرگز اسلامی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے ایک موقع پر کہاکہ 5 ستمبر کو جتنی خواتین نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا تھا، اس سے کہیں زیادہ خواتین نے 8 ستمبر کو حدود آرڈیننس کے خلاف میری تجاویز کی حمایت میں مظاہرے کئے تھے۔
8 ستمبر کو جب مغربی قوانین کی دلدادہ خواتین اسلام آباد میں وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی کے سامنے 'حدود آرڈیننس منسوخ کرو' کے نعرے لگا رہی تھیں ۔ تقریباً عین اسی وقت چنیوٹ میں عالمی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہورہا تھا۔ اس کانفرنس کے اختتام پر جہاں یہ قرارداد پیش گئی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اسمبلی میں پیش کرکے نفاذِ اسلام کی جانب مزید پیش قدمی کو ممکن بنایا جائے، وہیں ایک اور قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں خواتین کمیشن کی ان سفارشات کی پُرزور مذمت کی گئی جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نافذ شدہ حدود قوانین کو ختم کردیا جائے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ خواتین کمیشن کی مذکورہ سفارش پاکستان کی نظریاتی حیثیت اور دستورِ پاکستان کی اساس کے منافی ہے، لہٰذا اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے۔ قرار داد میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے شرعی قوانین کی منسوخی کے لئے کوئی قدم اُٹھایا تو پاکستان کے غیور مسلمان اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اس کانفرنس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی، قاری شیر احمد عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمداحمدلدھیانوی، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، حافظ ادریس احمد، مولانا عبدالروؤف فاروقی اور مولانا محمد قادری کے علاوہ مکہ مکرمہ سے مولانا عبدالحفیظ مکی اور مدینہ منورہ سے تشریف لائے ہوئے مولانا شیخ خلیل احمد سراغ جیسے نمایاں علما شامل تھے۔

9 ستمبر کو پاکستان کی کسی بھی پہلی اسمبلی میں حدود قوانین کے حق میں پُرزور آواز بلند ہوئی۔ یہ آواز بلند کرنے کا سہرا سرحداسمبلی کے سر رہا۔ سرحد اسمبلی میں 9 ستمبر کو متحدہ مجلس عمل کی رکن صوبائی اسمبلی نعیمہ اختر نے ایک باقاعدہ قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد میں نیشنل کمیشن برائے خواتین کی حدود قوانین سے متعلق تجاویز کی مذمت کی گئی تھی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف حدود قوانین کو مذکورہ تجاویز کی روشنی میں ختم کرنے سے باز رہے بلکہ ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو ممکن بنائے۔ محترمہ نعیمہ اختر نے قرارداد پیش کرتے ہوئے ایوان پر زور دیا کہ ان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جائے تاکہ وفاقی حکومت کو ایک واضح اور صاف پیغام بھیجا جاسکے اور پورے صوبے کے عوامی نمائندوں کے جذبات سے آگاہ کیا جاسکے۔ محترمہ نعیمہ اختر نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مغرب زدہ این جی اوز اور دوسری سماجی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ حدود قوانین کو منسوخ کروانے جیسے غیر اسلامی اقدام اور اس اقدام کو اسمبلی سے بالا بالا آرڈیننس کی صورت میں نافذ کروانے کے بجائے اس میں ضروری ترامیم کا بل باضابطہ طور پر ایوان میں پیش کریں اور قانون ساز اداروں کو اس سلسلے میں اپنا آئینی حق استعمال کرنے دیں ۔ محترمہ نعیمہ اختر نے کہا کہ حدود قوانین اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں اور اگر انہیں محض کمیشن کی سفارشات اور این جی اوز کے دباؤ پر منسوخ کر دیا گیا تو کل کلاں زکوٰۃ اور صبح کی نماز کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آسکتا ہے۔

بحث کا آغاز ہوا تو ایوان میں موجود حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے تمام ارکان نے بھی ویمن کمیشن کی مجوزہ سفارشات پر سخت تنقید کی۔ صوبہ سرحد کے سینئر وزیرسراج الحق نے ایوان کے سامنے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایلیٹ کلاس کی کچھ خواتین اور این جی اوز یہ مہم چلا رہی ہیں ۔ یہ 'بیگمات' اسلامی ثقافت کے ساتھ ساتھ پختون ثقافت کو بھی تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔ لیکن ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم ان بیگمات کی تمام خلافِ اسلام کاوشوں کو ناکام بنا دیں گے اور انہیں اسلام کے بنیادی اُصولوں کو مجروح کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ قومی ویمن کمیشن کی سفارشات کو مکمل طور پر نظر انداز کردے۔

سینئر وزیر سراج الحق نے اپنی پرجوش تقریر میں کہا کہ ان کا یہ پیغام صرف حکومت پاکستان کے لئے نہیں ہے،بلکہ تمام مسلم اُمہ کے لئے ہے کہ وہ اسلامی قوانین و ضوابط کو اپنائیں اور امن و تحمل کے راستے پر چلیں ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت اسلامی اُصولوں سے ایک اِنچ انحراف نہیں کرے گی اور جو عناصر ہمارے دین اور تاریخ میں نقب لگانا چاہتے ہیں ، ان سے تعاون کے بجائے ان کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو محترمہ نعیمہ اختر کی قرارداد کو منظور کرکے اپنی آواز وفاقی حکومت تک پہنچانی چاہئے۔

متحدہ مجلس عمل کے مولانا ادریس نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ویمن کمیشن کی سفارشات قابل مذمت ہیں ۔ ان سفارشات کے ذریعے ہمارے دینی اُصولوں کو چیلنج کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔ اقلیتی رکن اسمبلی فلکس انوسنٹ نے کہا کہ اگر حدود قوانین کو منسوخ کردیا گیا تو اس سے ملک میں فحاشی کو فروغ حاصل ہوگا۔ مجلس کے رکن اسمبلی شاہ راز خان نے کہا کہ صوبہ سرحد کی پشاور پولیس (سپیشل برانچ) نے ایک سروے کے نتیجے میں حدود قوانین کے خلاف رپورٹ بنا کر وفاقی حکومت کو ارسال کی ہے۔ ہم اس رپورٹ کو پرزور طریقے سے مسترد کرتے ہیں ۔ رکن اسمبلی مولانا عبدالرزاق نے کہا کہ آئین کے مطابق قرآن اور سنت اس ملک کے سپریم لاء کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لہٰذا جو لوگ حدود قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں وہ دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

پیپلزپارٹی پٹریاٹ کے سرحد اسمبلی میں پارلیمانی قائد عبد الاکبر خان نے قرار داد کی مخالفت میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حدود قوانین کا نفاذ یا منسوخی ایک وفاقی معاملہ ہے اور سرحد کی صوبائی اسمبلی کو وفاقی حکومت کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ اس موقع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (قائداعظم) کے رکن اسمبلی قلندر لودھی نے عبد الاکبر خان کے موقف کی تائید کی۔ صوبائی وزیرقانون و پارلیمانی اُمور ملک ظفر اعظم نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ حدود قوانین کا نفاذ یا منسوخی ایک وفاقی معاملہ ہے۔ لیکن اگر وفاقی حکومت کوئی ایسا اقدام کرنے جارہی ہو جو غلط ہو تو صوبائی اسمبلی قرار داد پاس کرکے وفاقی حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کروا سکتی ہے۔ لہٰذا اس بنیاد پرقرارداد کی مخالفت میں کوئی وزن نہیں ہے۔

وزیر قانون کی تقریر کے بعد سپیکر اسمبلی بخت جہاں خان نے قرارداد کی محرک محترمہ نعیمہ اختر سے کہا کہ وہ قرارداد کا مسودہ ایوان کو پڑھ کر سنائیں ۔ سپیکر کی ہدایت پر نعیمہ اختر اور مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی نگہت اورک زئی نے قرار داد کا مسودہ ایوان میں پڑھ کر سنایا۔ جس میں ویمن کمیشن کی سفارشات کی سخت الفاظ میں مذمت کے ساتھ ساتھ اسے مکمل طور پرمسترد کردینے کا مطالبہ شامل تھا۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ حدود قوانین کو منسوخ کرنے کے بجائے ان کے مؤثر نفاذ کے لئے اقدامات کئے جائیں اور اللہ کے بنائے ہوئے قوانین میں کسی ترمیم و تبدیلی کے ہر امکان کو ختم کیا جائے۔ قرارداد کا متن سننے کے بعد صوبہ سرحد کی اسمبلی نے اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

10؍ ستمبر کو کل پاکستان اقلیتی اتحاد کی جانب سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی اتحاد کے صوبائی صدر مائیکل جاوید نے کہا کہ حدود آرڈیننس اقلیتوں کے نقطہ نگاہ سے ایک امتیازی قانون ہے اور اقلیتی بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے، اس لئے اقلیتوں پر اس قانون کا نفاذ ختم کردینا چاہئے۔ مائیکل جاوید نے قائداعظم کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ اقلیتوں سمیت تمام پاکستانی شہریوں کو یکساں سٹیٹس حاصل ہوگا اور پاکستان ایک فلاحی ریاست ہوگی۔ لیکن افسوس ہے کہ حدود قوانین کی وجہ سے ہمیں پاکستانی شہریت میں قائداعظم کا موعودہ مقام حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں اقلیت شماری کے حقیقی اَعدادوشمار جاری کئے جائیں اور تمام اقلیتوں کے مذہبی اور سماجی حقوق کی نگہداشت کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔

22؍ ستمبر 2003ء کو روزنامہ 'نوائے وقت' لاہور نے حدود آرڈیننس سے متعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق افرا دکے تاثرات ایک فیچر کی صورت میں شائع کئے۔ اس فیچر کے مطابق پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے ٹکٹ پر پنجاب صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والی خاتون رکن عظمیٰ زاہد بخاری نے کہا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے ہماری خواہش ہے کہ ملک کا ہرقانون قرآن و سنت کے مطابق ہو، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اسلام جو ایک مکمل اور جامع مذہب ہے، اسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بننے والے حدود قوانین اس کی سب سے بڑی مثال ہیں ۔ اس وقت اسمبلیوں میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے تو یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی کمیونٹی کے تحفظ کی خاطر حدود کے امتیازی قوانین کو ختم کروائیں ۔ ہم حدود آرڈیننس کی ان شقوں کے خلاف ہیں جن میں عورتوں کے حقوق سلب کئے گئے ہیں مثلاً عورت کی گواہی، عورتوں کے لئے مختلف سزائیں وغیرہ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حدود آرڈیننس کو ختم کیا جائے اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو اس کی ان شقوں کو جن میں عورتوں کے حقوق سلب کئے گئے ہیں ، ان پر نظرثانی کی جائے تاکہ کوئی مفاد پرست شخص یا پولیس اس قانون کو عو رتوں کے خلاف استعمال نہ کرسکے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عورت کی گواہی کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔

ملت پارٹی کی رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی درّ ِشہوار نیلم نے کہا کہ بحیثیت ِمسلمان میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خود زانی مرد اور عورت کے لئے ایک سزا کا تعین کردیا ہے توہمیں اس سے اختلاف کی جرأت نہیں کرنی چاہئے۔ بدقسمتی سے ہم یہ بات فراموش کررہے ہیں کہ لادین ریاستوں میں مذہب کو پس پشت ڈال کر انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے جبکہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے جہاں قرآن اور سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ زنا آرڈیننس کی مخالفت محض مفروضوں کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حدود آرڈیننس کی مخالفت اور اس کا خاتمہ کرنے کی بجائے اس قانون کی وہ شقیں جن کے حوالے سے مختلف تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے، قانون سازی کے ذریعے انہیں معاشرے کے تمام طبقوں کے لئے قابل قبول بنایا جائے۔ یہ کہنا کہ قانون ہی غلط ہے، بچگانہ سوچ ہے۔ زنا آرڈیننس کی مخالفت کرنے والے طبقے دین کے علم سے محروم ہیں ۔ زنا کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے چار گواہوں کی شرط کا مقصد عورت کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ ذاتی عناد کی بنا پر کوئی کسی عورت پر زنا کا جھوٹا الزام لگاکر اسے سزا نہ دلوا سکے۔ اگر کوئی عورت زنا بالجبر کی شکایت کرتی ہے تو یہ اس عورت کی نہیں ، استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ چارگواہ پیش کرے۔ اگر پولیس گواہ پیش نہ کرسکے لیکن مقدمہ کے دیگر حالات و واقعات عورت کی شکایت اور الزام کی تصدیق کرتے ہوں تو محض عورت کی گواہی پر بھی ملزم مرد کو سزا ہوسکتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت ایسے کئی فیصلے دے چکی ہے۔

ایم ایم اے کی رکن قومی اسمبلی بیگم عائشہ منور کا موقف ہے کہ حدود کے قوانین عورتوں کے محافظ ہیں ، ان کی زد عورتوں کی نسبت مردوں پر زیادہ پڑتی ہے۔ خوفناک سزا کا خوف مرد کو کسی عورت کی پامالی سے روکتا ہے۔ ان قوانین کی و جہ سے عورت کامستقبل اور عزت محفوظ رہتی ہے ۔ محترمہ عائشہ منور کا خیال ہے کہ قوانین کی مخالفت کرنے کے بجائے اس طریقہ کار کی مخالفت کرنی چاہئے جس کی پیچیدگی کی وجہ سے عورت کو صحیح انصاف نہیں مل پاتا۔ اور یہ کام پولیس کلچر اور عدلیہ میں اصلاحات کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ عائشہ منور نے کہا کہ حدود آرڈیننس کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کا این جی اوز نے سلسلہ شروع کررکھا ہے اورنیشنل کمیشن فارویمن کی چیئرپرسن نے حدود لاز کے خاتمہ کے لئے جو رپورٹ تیار کی ہے ،ہم اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اللہ کے قوانین کی مخالفت کرنے اور مذاق اُڑانے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کی رہنما، کالم نگار اور دانشور رکن قومی اسمبلی بیگم بشریٰ رحمن بھی اس سلسلے میں ایک واضح اور صاف موقف رکھتی ہیں ۔ آپ نے اس مسئلے پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر معاملے میں مغرب کی اندھی تقلید نے ہمیں مذہب سے دور اور بے حس کردیا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے اختلاف کرتے کرتے اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات سے بھی نہ صرف انکار کرنے لگے ہیں بلکہ ان پر تنقید کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ جہاں تک نیشنل کمیشن کی چیئرپرسن جسٹس (ر) واجدہ رضوی کی طرف سے حدود قوانین کے خاتمے کی سفارش کئے جانے کا تعلق ہے،اس مسئلے پر کمیشن کے اندر بھی اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔میری ذاتی رائے یہی ہے کہ یہ قانون ختم نہیں ہونا چاہئے ۔ این جی اوز کی جو خواتین حدود آرڈیننس کی مخالفت اور خاتمہ کے لئے متحرک ہیں ، ان سے میں کہوں گی کہ وہ عورتوں کے حقوق کی آواز ضرور بلندکریں ۔ مگر مغرب کے بجائے اسلام کی طرف دیکھیں جس نے چودہ سو سال پہلے عورت کو نہ صرف سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق بلکہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ بھی فراہم کیا۔ اسلام عورت کی حرمت سے کھیلنے والوں کے لئے عبرت ناک سزا تجویز کرتا ہے۔ حدود لاز کی زد میں عورتوں سے زیادہ مرد آتے ہیں اور عورت پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے مرد کو بھی کوڑوں کی سزا دینے کا حکم ہے۔ دراصل پولیس کی غلط تفتیش، طریقہ کار اور اختیارات کی وجہ سے حدود قوانین غیر مؤثر ہوکر بدنام ہورہے ہیں ۔ حدود آرڈیننس کسی بھی اعتبار سے عورت کی حق تلفی نہیں کرتا۔ اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ شرع نے جتنے اُصول اور ضابطے بنائے ہیں جب تک ان کا صحیح اِدراک نہ ہو، اس کی مخالفت میں کھڑے ہونا درست نہیں ہوتا۔ شعائر ِاسلام قرآن پاک سے لئے گئے ہیں اور میں نہیں سمجھتی کہ قرآن پاک میں درج شعائر اسلام پر کوئی اُنگلی اٹھا سکے۔

سماجی حالات ہر ملک کے جدا جدا ہیں ۔ چونکہ اس مسئلہ پر ایک عرصہ سے بحث جاری ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ حدود آرڈیننس کے حساس مسئلے کو محض ویمن کمیشن پر نہ چھوڑے۔ عالم اسلام کے بہترین علماے کرام کو اکٹھا کرے اور انہیں زنا آرڈیننس کی ان شقوں پر اجتہاد کی دعوت دے جن کی آڑ لے کر مغرب اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کررہا ہے اور جسے خوش کرنے کے لئے ہماری مغرب زدہ خواتین شعائر ِ اسلام کی مخالفت کرکے گناہِ کبیرہ کی مرتکب ہورہی ہیں ۔

قومی اسمبلی کی رکن ایم ایم اے، محترمہ سمیعہ راحیل قاضی کا خیال ہے کہ حدود قوانین معاشرے میں تیزی سے فحاشی اور بے راہ روی کو روکنے کے لئے وہی کام کرسکتے ہیں جو دشمن کا دست ِستم روکنے کے لئے ایٹمی طاقت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل مغرب ایک گہری سازش کے تحت ہمارے خاندانی نظام کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے اور مرد اور عورت کے درمیان اسلامی حدود اور قیود کو ختم کرکے ایک بے حیا مخلوط معاشرہ قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی اسمبلی یا حکمران کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ اسلام کو خدا کی طرف سے عطا کردہ قوانین میں ردّوبدل کرسکے۔ ڈاکٹر اُمّ کلثوم نے اس مسئلہ پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ حدود قوانین پر تنقید کرنے والوں کو مغرب کے اثر سے آزاد ہوکر یہ تجزیہ کرنا چاہئے کہ ان قوانین کا مؤثر نفاذ انسانیت کے لئے کتنا سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔

23؍اکتوبر 2003ء کو جماعت ِاسلامی کی خواتین کی جانب سے لاہور میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا عنوان تھا :

''حدود قوانین... قابل اصلاح یا قابل استرداد؟''

اس سیمینار کے اختتام پر چند ایک قراردادیں متفقہ طور پر پاس کی گئی۔ اس قرارداد کے اہم نکات حسب ِذیل ہیں :

1۔   حدود قوانین کے خلاف مہم ایک خاص لابی کی طرف سے چلائی جارہی ہے جو معاشی اور سیاسی مفادات کی خاطر عورتوں کے جذبات کو بھڑکارہی ہے۔

2۔   حدود قوانین کے بے جا استعمال کی ذمہ دار زیادہ تر پولیس ہے۔ لہٰذا ان قوانین کے بارے میں منفی تاثر ختم کرنے کے لئے ان قوانین کے نفاذ میں پولیس کا کردار اور اختیار کم کرنا چاہئے۔

3۔   حدو د قوانین کے الزام میں ملوث ہونے والی خواتین سے تفتیش اور پولیس کارروائی کی حدود مقرر کی جانی چاہئیں اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کو ملزمان سے رابطے اور پوچھ گچھ کے آداب کی باقاعدہ تربیت دی جانی چاہئے۔

4۔   ملزم عورتوں کو تھانوں میں بلا کر انہیں بے توقیر کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور ان کی معاشرتی مجبوریوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔

5۔   اسلامی قوانین کے نفاذ اور ان پر عمل کے معاملات کو متنازعہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ تمام لابیاں جو اسلامی قوانین کے خلاف کام کررہی ہیں ، انہیں اس بات سے روکا جائے۔

اس سیمینار میں اسلامی قوانین کے خلاف کام کرنے والے عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی۔ جو کچھ اس طرح سے ہے :

1۔   غیر ملکی مالی امداد اور اہل مغرب کے نظریات کے مطابق ان کے مقاصد کو فروغ دینے کا ایجنڈا رکھنے والی این جی اوز: جو بیجنگ کانفرنس 1995ء اور بیجنگ پلس کانفرنس نیویارک میں طے پانے والے آزادیٔ نسواں کے چارٹر کو عملی صورت دینے کے لئے سرگرم ہیں ۔

2۔   غیر مسلم اقلیتیں : جو ملک میں اسلامی قوانین کے بجائے سیکولر قوانین کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی قوانین کے خلاف عمومی اور حدود قوانین کے خلاف خصوصی طور پر مہم چلا رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ استعمال کررہے ہیں ۔ یہ طاقتیں پاکستان سے وفاقی شرعی عدالت کا وجود ختم کرنے کے لئے بھی سرگرم ہیں اور اسلامی سزاؤں کے خلاف بھی مہم چلا رہی ہیں ۔

3۔   سیاست کے میدان میں شکست خوردہ سوشلسٹ طاقتیں جو اپنے نظریات کو عوام میں قابل قبول بنانے اور سیاسی طاقت بننے میں ناکام ہوچکی ہیں ۔ اب سماج سدھار میں یہ اسلام اور اسلامی شعائر کو بدنام کرنے اور ان کے بارے میں شکوک و شبہات ابھارنے کا کام کررہی ہیں ۔ یہ کام معاشرے کو وسیع القلب اور روشن خیال بنانے کے نام پر کیا جارہا ہے۔

حدود قوانین کا نفاذ یا استرداد قومی اسمبلی اور سینٹ کی ذمہ داری ہے۔ اور پاکستان کی پارلیمنٹ یہ ذمہ داری حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت 1981ء میں سال قبل پوری کرچکی ہے۔ جب کہ 37 دن کے طویل بحث مباحثے کے بعد متعلقہ اسلامی ضوابط کو باقاعدہ قانون کی شکل دی گئی تھی۔ لہٰذا واجدہ رضوی کا یہ کہنا کہ یہ فردِ واحد اور ڈکٹیٹر ضیاء الحق کا نافذ کردہ قانون ہے، بالکل غلط اور خلافِ حقیقت بات ہے!!
اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ نئے سال کے آغاز میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت اور دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے تعلقات میں اِفہام و تفہیم پیدا ہوچکی ہے۔ ایم ایم اے پاکستان میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کی حامی ہے اور اس میں تمام مکاتب ِفکر کی نمائندگی موجود ہے۔ موجودہ سیاسی حالات بھی کچھ ایسے ہیں کہ ایم ایم اے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں ہے۔
اس صورت حال میں ایم ایم اے کے شانوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور دینی پلیٹ فارموں سے اسلامی قوانین کے حق میں زبردست مہم چلائے اور عوام کو باور کروائے کہ حدود قوانین ان کے لئے مصیبت نہیں بلکہ باعث ِرحمت ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ آئین کے تحت اس بات کی پابند ہے کہ اسلامی طرزِ معاشرت کو فروغ دے اور حدود قوانین کو تحفظ فراہم کرے۔
حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ ویمن کمیشن کی سفارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے اسلامی ماہرین (مرد اور خواتین) پر مشتمل ایک وسیع تر کمیشن قائم کرے جو حدود قوانین پر عائد کئے جانے والے اعتراضات کی چھان پھٹک کرے اور قرآن و سنت کی روشنی میں ، جہاں ضرورت ہو، وہاں قانون سازی کے ذریعے Procedural Laws کو ترامیم تجویز کرے۔ بہرحال یہ بات مغرب نواز این جی اوز پر سرکاری طور پر واضح کردینی چاہئے کہ اسلامی قوانین کے استرداد کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (ڈاکٹر ظفر علی راجا )