دنیا میں بسنے والے تمام لوگ اپنے اپنے مذہب، تہذیب و تمدن اور اَطوار و اخلاق کی بنا پر ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات کا اظہار مختلف انداز میں کرتے ہیں ، اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب پر عمل پیرا افرادسے Good Morning،نمستے، ست سری اَکال،How are you? ، Hello اور Hye وغیرہ کے اَلفاظ سننے کو ملتے ہیں ۔
دین اسلام کی تعلیمات انتہائی اعلیٰ اور ممتاز ہیں ، اسلام نے ملاقات کے وقت السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اور جواباً وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ الفاظ اتنے پیارے اور اہم ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

''ایک مسلمان کا دوسرے پر حق ہے کہ وہ اس کے سلام کا جواب دے۔'' (صحیح بخاری؛1240)

یہ الفاظ جہاں اللہ جل شانہ کی رحمت طلب کرنے کے لئے دعائیہ کلمات ہیں ، وہاں آپس میں محبت و اُخوت بڑھانے کا ذریعہ اور اجنبیت کو ختم کرنے کا بھی باعث ہیں ۔ یہی وہ الفاظ ہیں کہ اگر ان کو سنت کے مطابق پورا پورا ادا کیا جائے تو سلام و جواب کے بدلہ میں دونوں مسلمان کم از کم تیس نیکیوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں اور اگر ان کلمات کے ساتھ مصافحہ کا مسنون عمل وقوع پذیر ہوجائے تو دونوں کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیاتِ درخشاں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ سلام اور مصافحہ کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے حتیٰ کہ کتب ِاحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اگر ان کے درمیان درخت بھی حائل ہوجاتا تو وہ ایک دوسرے کو سلام کہتے۔

مختلف دلائل کے تناظر میں یہ با ت کہی جاسکتی ہے کہ سلام اور مصافحہ انتہائی فضیلت والا عمل ہے اور یہ مسلمان معاشرے کی علامت ہے۔ ہم پر یہ لازم ہے کہ اس کے مسنون طریقہ کو مدنظر رکھیں ۔

اس موضوع پر قلم اٹھانے کا مقصد یہ نہیں کہ اختلافی مسائل کی فہرست میں اضافہ کردیا جائے یا پھر کسی خاص طبقہ فکر کو نشانہ بنا کر کیچڑ اُچھالا جائے بلکہ اس پر لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ لاتعداد مسلمان بھائی جہالت، تعصب یا ادب کے نام پر مصافحہ کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں ،جبکہ اس موضوع پر بعض علما نے قابل تحسین رہنمائی بھی کی ہے۔ علامہ عبد الرحمن مبارکپوریؒ نے ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی میں اس موضوع پر بہت خوبصورت بحث کی ہے۔

ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم ہر مسئلہ کو قرآن و سنت کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کریں ، لہٰذا مصافحہ کا مسنون طریقہ دلائل کی روشنی میں پیش خدمت ہے۔

مصافحہ کی کیفیت

ایک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو السلام علیکم ورحمة اﷲ وبرکاته کر اس کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی رکھ کر اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر تھوڑی سی حرکت دے۔ اس کی طرف متوجہ ہوکر، مسکراتے ہوئے پوری گرم جوشی کا مظاہرہ کرے اور جب تک دوسرا بھائی اپنا ہاتھ نہیں کھینچتا، یہ بھی نہ کھینچے۔
افسوس کہ اس سادہ سے عمل کو بھی اپنی اصل شکل پر قائم نہیں رہنے دیا گیا۔ بعض بھائیوں کا کہنا ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کیا جانا چاہئے اور بڑے سکون کے ساتھ حرکت دیے بغیر اسی طرح ہاتھ جدا کرلینے چاہئیں ۔ اس دعویٰ کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے، اس کا جائزہ آئندہ سطور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ممتاز علما کے علم و عمل کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے :

کیفیت ِمصافحہ کے متعلق احادیث کا بیان

(1) عن أنس بن مالك قال قال رجل یا رسولَ اﷲ! الرجلُ منا یلقی أخاہ أوصدیقه أَیَنْحَنِي له؟ قال: ((لا ))، قال: فیلزمه وَیُقَبِّلُه قال: ((لا ))، قال فیأخذُ بیَدہِ ویُصَافِحه، قال: ((نعم )) (جامع ترمذی؛۸۲۸۲)
''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ جب ہم سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو کیا ا س کے لئے تھوڑا سا جھک جایا کرے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں ۔ پھر اس نے کہا کہ کیا اس سے لپٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! اس نے پھر عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ''
 
(2) عن سلمان الفارسي رضی اللہ عنه عن النبي ! قال: ((إن المسلم إذا لقي أخاہ فأخَذَ بِیَدِہ تَحَاتَت عنھما ذنوبھما کما یتحاتُ الورق عن الشجر الیابس في یوم ریح عاصف )) (ترغیب و ترہیب؛3/433)
''حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بے شک جب ایک مسلمان اپنے بھائی سے ملتا ہے، اس کا ہاتھ پکڑتا ہے تو ان دونوں کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے انتہائی تیز طوفان میں درخت کے خشک پتے جھڑتے ہیں ۔''

(3) عن عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنه عن النبي !قال: ((من تُمام التحیة الأَخْذُ بِالْیَدِ )) (جامع ترمذی2873، جامع الاصول:6/714)
''حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''مکمل سلام تو یہ ہے کہ (دوسرے) کا ہاتھ پکڑا جائے۔''

اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے مگر اس کا مفہوم صحیح ہے اور اس کی تائید اسی باب میں موجود دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔

(4) عن أنس کان النبي ! إذا لقي الرجل لا ینزع یدہ حتی یکون ھو الذي یَنْزِعُ یَدہ ولا یصرف وجھه عن وجھه حتی یکون ھو الذي یصرفه (فتح الباری14/66)
''حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی سے ملتے تو اس وقت تک اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچتے تھے جب تک وہ خود نہ کھینچ لیتا اور اس وقت تک اس کی طرف سے چہرہ مبارک نہیں پھیرتے تھے، جب تک وہ خود چہرہ نہ پھیر لیتا۔''

(5) عن براء بن عازب قال لقیت رسول اﷲ! فأخذ بِیَدِيْ فقلت یارسول اﷲ إن کنت لأحسب أن المصافحة للأعاجم فقال: ((نحن أحق بالمصافحة عنھم، ما من مسلمین یلتقیان فیأخذ أحدھما بید صاحبه مودة بینھما ونصیحة إلا ألقیت ذنوبھما بینھما (جامع احکام القرآن:9/266)
''حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تو یہ خیال کرتا تھا کہ یہ مصافحہ عجمی لوگوں کا طریقہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہم ان سے زیادہ مصافحہ کے حق دار ہیں ، جب بھی دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں ، ایک (بھائی) دوسرے کا ہاتھ محبت اور خیرخواہی کی بنیاد پر پکڑتا ہے تو ان دونوں کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔''

(6) عن انس انتهى إلینا النبي! وأنا غلام في الغلمان فسلم علینا وأخذ بیدي فأرسلني برسالة وقعد في ظل جدار أوقال إلی الجدار حتی رجعت إلیه (ابوداود:4527)
''حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا پھر مجھے ایک خط دے کر بھیجا اور خود دیوار کے سائے میں یا سائے کی طرف بیٹھ گئے اور میرے واپس آنے تک وہیں بیٹھے رہے۔''

(7) عن أبي داود لقیت البراء بن عازب فسلم علي وأخذ بیدي وضحك في وجھي قال: أتدري لم فعلت ھذا بك؟ قال: قلت، لا أدري ولکن لا أراك فعلته إلا الخیر قال إنه لقیني رسول اﷲ! ففعل بي مثل الذي فعلت بك فسألني فقلت مثل الذي قلت لي، فقال ((ما من مسلمین یلتقیان فیسلم أحدھما علی صاحبه ویأخذ بیدہ لا یأخذ إلا ﷲ عزوجل، لا یتفرقان حتی یغفر لھما )) (مسنداحمد:14/208)
''حضرت ابوداود کہتے ہیں کہ میری حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے السلام علیکم کہہ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا، اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگ گئے، پھر پوچھنے لگے کہ کیا تمہیں علم ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا : اگرچہ مجھے معلوم تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ آپ نے کسی بھلائی کی خاطر ہی ایسا کیا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ بے شک ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ تو انہوں نے ایسا ہی کرنے کے بعد مجھ سے پوچھا کہ کیا تو جانتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ تو میں نے ان کو یہی جواب دیا جو تونے مجھے دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب بھی دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔ ان میں سے ایک سلام کہہ کر رضائے الٰہی کے لئے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے تو ان کے ہاتھ جدا ہونے سے قبل دونوں کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔''

(8) مسنداحمد میں ہی اس سے ملتی جلتی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جب دو مسلمان ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو سننا اپنے لئے واجب کرلیتا ہے اور ابھی ان کے ہاتھ جدا نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔'' (3/142)

(9) حضرت عبداللہ بن بسرہؒ لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایاکرتے تھے :

''میری اس ہتھیلی کو غورسے دیکھو میں اس کو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پررکھا کرتا تھا۔'' (مسند امام احمد:4/189)


(10) عن أنس بن مالك قال صافحت بکفي ھذہ کف رسول اﷲ! فما مست خزًا وحریرًا ألین من کفه (اتحاف:6281)
''حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اس ہتھیلی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ پس میں نے ریشم و حریر کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و ملائم نہیں پایا ہے۔''

(11) عن أبي هریرة وقف نبي اﷲ علی حذیفة فقال یا حذیفة هلّم یدك فکف حذیفة فقال الثانیة، فکفها حذیفة، ثم قال الثالثة فقال حذیفة یا رسول اﷲ! إني جنب وإني أکرہ أتمس یدي یدك قال هلمها أما علمت یا حذیفة أن المرء المسلم إذا لقي أخاہ فسلم علیه وصافحه تحاتت أو قال تحاطت الخطایا والذنوب بینهما کما یتحات الورق من الشجر ))(شعب الایمان للبیہقی: 8951)
''حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے حذیفہ اپنا ہاتھ آگے کرو۔پس حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ کہا مگر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ آگے نہیں کیا،پھر آپ نے تیسری دفعہ کہا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جنبی ہوں اور میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ میرا ہاتھ آپ کے دست ِمبارک کو لگے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: اے حذیفہ کیا تجھے علم نہیں ہے کہ بے شک مؤمن جب کسی مؤمن سے ملتا ہے اس کو سلام کرتا ہے، اس کا ہاتھ مصافحہ کے لئے پکڑتا ہے تو ان دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے خشک درخت کے پتے گرتے ہیں ۔ ''

(12) حضرت ابو ذرّ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی ملتے تو مصافحہ کے لیے اس کا ہاتھ پکڑتے تھے ؟انہوں نے جواب دیا

''مجھے جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملتے تومیرا ہاتھ پکڑ لیتے تھے۔'' (ایضا :8960)

مذکورہ احادیث کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہی سنت ہے۔ کیونکہ تمام احادیث میں لفظ 'ید' (ہاتھ) واحد استعمال ہوا ہے جس طرح خط کشیدہ الفاظ پر غور کرنے سے پتہ چل جاتا ہے۔ اگر مصافحہ دو ہاتھ سے ہوتا تو لفظ 'ید' کی بجائے (یدین، دو ہاتھ) استعمال ہوتا مگر ایسا نہیں ہے۔

سرورِ کائناتﷺکی بیعت اور مصافحہ

آپ ان احادیث کا مطالعہ کرچکے ہیں جن میں ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کی وضاحت ہے۔ یہاں چند ان احادیث کا ذکر بھی قابل مطالعہ ہے جن میں بیعت کی غرض سے مصافحہ کرنے کا ذکر ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لیتے وقت بھی داہنا ہاتھ ہی مصافحہ کے لئے بڑھاتے تھے۔ معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیعت کے لئے مصافحہ کا لفظ استعمال کیا ہے گویا کہ بیعت اور مصافحہ کی کیفیت تقریباً ایک جیسی تھی، اگرچہ یہ احادیث مصافحہ کے باب سے نہیں ہیں :

(1)عن أمیمة بنت رقیقة أنھا دخلت في نسوة تبایع فقلن: یارسول اﷲ أبسط یدك نصافحك، فقال: إني لا أصافح النساء ))(فتح الباری، تفسیر سورۃ الممتحنہ:10/822)
''حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ دیگرعورتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئیں ۔ ان کا بیان ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا ہاتھ آگے کیجئے تاکہ ہم آپ سے مصافحہ کرسکیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بے شک میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیاکرتا۔''

یہی مضمون موطأ امام مالک، سنن نسائی (باب بیعت) میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

امام عبدالبر ؒ اپنی کتاب 'تمہید' میں اسی حدیث کی تشریح میں رقم طراز ہیں ((إني لا أصافح النساء )) اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں سے بیعت کے وقت مصافحہ کرتے تھے۔

(2) "حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہونے کے لئے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپﷺ کی بیعت کرسکوں تو آپﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ آگے کیا۔" ( صحیح مسلم؛317)

(3) "حضرت ابوغادیہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ہاتھ پر بیعت کی۔" (مسنداحمد؛2054)

(4) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں شہید کئے جانے کی خبر سنی تو صحابہ کرام سے بیعت لی تھی کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ آپ ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ آپ اپنے دائیں ہاتھ پر بیعت لے رہے تھے حتیٰ کہ آپ نے اپنا دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا تھا کہ ''یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔''

الغرض بیعت کے لئے ایک ہاتھ سے مصافحہ کی احادیث کثرت سے پائی جاتی ہیں مگر ان پر ہی اکتفا مناسب ہے...ان احادیث سے مصافحہ کرنے کے آداب کی بھی وضاحت ہوتی ہے جو بالاختصار درج ذیل ہیں :

(1)  ملاقات کے وقت السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته کہا جائے۔
(2)  ان الفاظ کا جواب وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته کے ساتھ دیا جائے۔
(3)  اپنا دایاں ہاتھ مسلمان بھائی کے دائیں ہاتھ میں دیاجائے۔
(4)  مسلمان بھائی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا جائے۔
(5)  ہاتھوں کو تھوڑی سے حرکت دی جائے۔
(6)  اس کی طرف متوجہ ہوا جائے اور خوشی کا اظہار کیا جائے۔
(7)  اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ کھنچا جائے جب تک دوسرا نہ کھینچ لے۔

معزز قارئین! صافحہ کے متعلق احادیث ِمبارکہ سے بات واضح ہورہی ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہی کیا جائے۔ مگر بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں حتی کہ کچھ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا بدعت ہے۔ (نعوذ باللہ)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل

ہم نے دلائل کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کردی ہے۔ اگرچہ ثبوت کے لئے تو ایک حدیث بھی کافی ہوتی ہے مگر احادیث ِمبارکہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ ہم بالاختصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماء کرام کی وضاحت پیش کررہے ہیں ، اُمید ہے کہ یہ وضاحت قارئین کے لئے مزید تشفی کا باعث ہوگی۔ ان شاء اللہ !

(1) أن أنسا کان إذا أصبح دَهَنَ یَدَہُ بدھن طیب لمصافحة إخوانه
''بے شک حضرت انس رضی اللہ عنہ صبح کے وقت اپنے ہاتھ کو خوشبو لگا لیتے تھے کیونکہ اس ہاتھ سے وہ اپنے رفقا سے مصافحہ کیا کرتے تھے۔'' (أدب المفرد للبخاریص 365 وصححہ الألبانی)

(2) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا عمل آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ انہوں نے ابوداودؒ کا ایک ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا اور مسکرانے لگے۔(حدیث 5)
(3) حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ اپنی ہتھیلی لوگوں کو دکھایا کرتے تھے کہ اس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا کرتے تھے۔ (حدیث9)

مصافحہ کے متعلق علماے کرام کی وضاحت

(1) فتح الباری جیسی عظیم کتاب کے مصنف حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں :

'' مصافحہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی سے ملایا جائے۔'' (فتح الباری:14/64)


(2) ابن اثیرؒ فرماتے ہیں کہ حدیث میں مصافحہ کا ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی کے ساتھ ملایا جائے ۔ (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر:3/24)

(3) حضرت سید عبد القادر جیلانی غنية الطالبین میں ، اور علامہ علقمی کوکب المنیرمیں ، علامہ علی احمد عزیز سراج المنیرمیں ، معروف حنفی عالم ملا علی قاری مرقاة المفاتیح میں ، علامہ مرتضیٰ زبیدی حنفي تاج العروس میں ، علامہ عبد الرؤفؒ آف قاہرہ روض النضیر میں اور دیگر علماء احناف اپنی معتمد کتابوں میں صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کا طریقہ نقل کر چکے ہیں ۔(تفصیل کے لیے دیکھئے :تحفۃ الاحوذی:4/430)

عربی زبان اور لفظ 'مصافحہ' کی تشریح

لغت عرب میں ید الصفحة 'ہاتھ کی ہتھیلی' کو کہتے ہیں اور لفظ مصافحہ باب مفاعلہ سے ہے جو مشارکت کا تقاضا کرتا ہے۔ گویا کہ دو ہتھیلیوں کا اس عمل میں شریک ہونا ہی مصافحہ کہلائے گا۔ اگر دو ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے تو ہر دو افراد کی ایک ایک ہتھیلی ہاتھ کی پشت سے ملتی ہے جو الصفحۃ ہتھیلی سے ہتھیلی لگنے کے زمرے میں نہیں آتی۔

(1) عربی لغت کی کتابوں سے مصافحہ کا مطلب اس طرح ہے :
لسان العرب میں ہے کہ'المصافحة: الأخذ بالید والرجل یصافح الرجل إذا وضع صفح کفه في صفح کفه (2/514)
'' مصافحہ ہاتھ پکڑنے کوکہتے ہیں ۔ جب آدمی کسی دوسرے سے مصافحہ کرتا ہے تو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو اس کے ہاتھ کی ہتھیلی میں رکھ دیتا ہے۔''

(2)معجم الوسیط میں ہے کہ مصافحہ سے مراد یہ ہے کہ اپنی ہتھیلی کو دوسرے کی ہتھیلی پر رکھے۔ (1/519)
(3) المنجد میں بھی مصافحہ کے معانی 'ہاتھ ملانا' کے ہیں نہ کہ دونوں ہاتھ ملانا۔(569)

الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین، صحابہ کرام کا عمل، علما کی تشریحات اور کتب ِلغت اس بات پر گواہ ہیں کہ مصافحہ دائیں ہاتھ سے ہونا چاہئے، یہی سنت طریقہ ہے۔ اب ہم بالاختصار ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنا پر دو ہاتھوں سے مصافحہ کرنے پر زور دیا جاتا ہے :

دو ہاتھوں سے مصافحہ کے دلائل اور جائزہ

دلیل نمبر1: دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے قائلین کے ہاں مضبوط ترین دلیل یہ حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں

علمني النبي! وکفي بین کفیه التشهد: التحیات ﷲ الصلوات والطیبات... الحدیث (14/64)

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھلایا، اس حال میں کہ میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ہتھیلیوں میں تھی:

التحیات ﷲ والصلوات والطیبات... ''

جائزہ : یہ حدیث مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر مذکورہ مسئلہ کی دلیل نہیں بن سکتی :

(1) یہ حدیث ملاقات کے وقت مصافحہ سے متعلق نہیں بلکہ یہ تعلیم کے اہتمام سے تعلق رکھتی ہے۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن مسعود کو تشہد کی تعلیم دے رہے تھے اور مزید عنایت و مہربانی کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ معروف حنفی عالم امام زیلعیؒ اورامام مر غینانی مصنف ہدایہ نے بھی یہ حدیث کتاب الصلوٰة، باب صفة التشهد میں ذکر کی ہے۔ (دیکھئے نصب الرایہ : 1/419)

' ہدایہ' کی شرح 'کفایہ' میں بھی یہ بات وضاحت کے ساتھ مذکور ہے۔
اور اس کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر علمائِ احناف نے اس بات کی صراحت کی ہے۔
(بحوالہ تحفۃ الاحوذی: 7/429)

(2) خود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ آپ ؐنے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیاہوا تھا اور تشہد کے الفاظ سکھا رہے تھے۔

(3) اگر اس حدیث کو مصافحہ کی کیفیت کے لئے بطورِ دلیل تسلیم کرلیاجائے تو یہاں جو حالت بیان ہورہی ہے اس کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھ ہیں اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ ہے۔ لہٰذا شان و مرتبہ کے لحاظ سے بڑے آدمی کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ دو ہاتھوں سے مصافحہ کرے اور چھوٹاآدمی ایک ہاتھ سے مصافحہ کرے تاکہ حدیث ِمبارکہ پر سو فیصد عمل کیا جاسکے۔

(۴) اگر اس حدیث کو مصافحہ کی دلیل بنائے جانے پر زور دیا جائے تو اسی سیاق کی حدیث مسنداحمد میں موجود ہے جس میں ایک ہاتھ کا ذکر ہے۔ حضرت ابوقتادہ اور دیگر صحابہ کا بیان ہے کہ ہم ایک شخص کے پاس آئے جو دیہات کا رہنے والا تھا۔اس نے ہمیں خبر دی کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس علم سے کچھ سکھلانے لگے جو علم اللہ جل شانہ نے ان کو عطا فرمایا تھا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:  

''اگر تو اللہ تعالیٰ کے خوف سے کوئی چیز چھوڑ دے گا، تو اللہ تعالیٰ تجھے اس سے کہیں بہتر بدلہ دے گا۔'' (مسنداحمد:۲۰۶۲۴ )

(۵) آپ پہلے احادیث میں مصافحہ کی کیفیت پڑھ آئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا کہ وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے تھے۔ یہ احادیث مستقل اسی مسئلہ کے ساتھ خاص ہیں ان کو چھوڑ کر اس حدیث کو دلیل بنانا صحیح نہیں جو اس بحث سے تعلق نہیں رکھتی ہے۔

دلیل نمبر2:  دوسری دلیل کے طور پر صحیح بخاری کی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ :

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطحا میں تشریف لائے، آپﷺنے وضو فرمایا۔ ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعت ادا کی(نمازیں جمع کیں )۔ آپﷺ کے سامنے سترہ بھی گاڑا ہوا تھا۔ نماز کے بعد لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے چہرے پر لگاتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست ِمبارک پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔ ''(صحیح بخاری:3553)

جائزہ :  یہ حدیث بھی چند وجوہات کی بنا پر دو ہاتھوں سے مصافحہ کیلئے قابل احتجاج نہیں ہے

(1) اس حدیث ِمبارکہ کا مصافحہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس حدیث میں توفقط اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت سے تبرک حاصل کرنا مشروع ہے۔ جس طرح کہ دیگر کئی احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے ۔

(2) بالفرض اس حدیث کو مصافحہ کے لئے دلیل تسلیم کربھی لیا جائے تو اس حدیث کے اندر تو راویٔ حدیث نے ایک ہاتھ سے مصافحہ کا بھی ذکر کیا ہے، پھر یہ فقط دو ہاتھ سے مصافحہ کی دلیل کیونکر بن سکتی ہے۔ چنانچہ اس حدیث کی رو سے بھی ایک ہاتھ سے مصافحہ کو غلط کہنا صحیح نہیں ہوگا۔

(3) اگر اس حدیث کو مصافحہ کے لیے دلیل تسلیم کیاجائے تو اس میں اس بات کا ذکر بھی موجود ہے کہ لوگ دست مبارک کو اپنے چہرے پر لگاتے تھے تو کیا مصافحہ کے بعد اپنے مسلمان بھائی کے ہاتھ چہرے پر لگائے جائیں ؟

دلیل نمبر۳:  تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت حمادؒ نے امام عبداللہ بن مبارکؒ سے مکہ کے اندر دو ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔

جائزہ: یہ دلیل بھی شرعی نقطہ نگاہ سے پائیدار نہیں ہے۔ ہمارا دین کتاب و سنت کی شکل میں الحمدللہ موجود ہے۔ ائمہ دین، علماء کرام، مجتہدین عظام کا مقام و مرتبہ روزِ روشن کی طرح واضح ہے مگر احادیث ِنبویہﷺ کے مقابل کسی کا عمل کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ یہی مسلمان کا ایمان ہونا چاہئے۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اورامام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کی بات کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
''ہر ایک انسان کی بات چھوڑی بھی جاسکتی ہے اور لی بھی جاسکتی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی ایسی ہستی ہے جن کی بات کو من و عن تسلیم کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے تو وہ فقط (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں )۔'' (معارج القبول :2/625)

دلیل نمبر۴:  چوتھی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔ وہ لوگ ایک ہاتھ مصافحہ کرتے ہیں لہٰذا ہمیں دو ہاتھوں سے مصافحہ کرنا ہوگا۔

جائزہ:  بے شک حکیم الامت سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا ہے مگریہ ان کاموں میں ہے جن کا ہماری شریعت نے اعتبار نہیں کیا اور ان کو ردّ کردیا ہے مگر وہ احکام جو ان کے ہاں پائے جاتے ہیں اور ہماری شریعت نے بھی ان کو باقی رکھا ہے، ان میں مخالفت کرنے کا دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :  

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿بقرة183   

''اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح پہلی اُمتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔''

نص قرآنی سے پتہ چل رہا ہے کہ ہم سے پہلی قومیں روزہ رکھا کرتی تھیں تو کیا ہم ان کی مخالفت میں روزہ ترک کردیں ؟ ہرگز نہیں ۔ ویسے بھی ہمارے اور ان کے سلام کے الفاظ مختلف ہی ہیں ۔

دلیل نمبر5:  دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے متعلق پانچویں دلیل ان الفاظ کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے: ''دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا ادب اور ایک ہاتھ سے یہ عمل گستاخی اور بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔''
جائزہ:  انتہائی قابل افسوس مقام ہے کہ اس تعریف ِگستاخی کی زد میں وہ نفوسِ زکیہ بھی آجاتے ہیں جن کی محبت وعقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس پر زیادہ سے زیادہ یہی عرض کرسکتا ہوں ،بقولِ شاعر ؎

حیران ہوں کہ رؤوں دل کو یا پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں !

علما،صلحا اور بزرگوں کا ادب ہر مسلمان پر لازمی ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم ادب کے نام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو ردّ کر دیں ۔

دلیل نمبر6:  بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کیا ہمارے علما اور بزرگ اس حقیقت کا اِدارک نہیں کر سکے اور آج یہ مسئلہ ثابت ہو گیا ہے۔ ہمیں ا ن کی بات پر اعتماد ہے ، آج نئے نئے مسائل بیان کیے جا رہے ہیں ، ایک ہاتھ سے سلام ہم تو پہلی دفعہ سن رہے ہیں ۔

جائزہ:  یہ دلیل بھی کئی اعتبار سے پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتی۔

(1) ائمہ دین، علماء کرام کی علمی خدمات اظہر من الشمس ہیں ۔ اس حقیقت کا انکار نہ تو آج تک کوئی کر سکا ہے اور نہ ہی ممکن ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کون سے ایسی شخصیت ہے جوغلطی سے مبرا ہے یقینا وہ محمد صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث کو چھوڑ کر اپنے مذہبی رہنماؤں کی بات ماننا انتہائی خطرناک ہے ۔

(2) یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ آج سے پہلے تمام علما اس بات کی صراحت کر گئے ہوں کہ مصافحہ دو ہاتھوں سے ہے اور اب اس غلطی کا اِدراک ہوا ہو، آپ نے احادیث ملاحظہ فرمالی ہیں ۔ صحابہ کرام اور علما کے اقوال وافعال بھی آپ نے پڑھ لیے ہیں کہ وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے تھے۔

(3) اگر بعض لوگ غلطی کریں تو تب ہی کچھ لوگ اس کی نشان دہی کر سکتے ہیں ۔ اگر غلطی وقوع پذیر ہی نہ ہو تو اس کا ازالہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

(4) اگر ہم اپنی کم علمی کی بنا پر کتاب وسنت کے دلائل کو'نیامسئلہ' ہونے کا عنوان دیتے ہیں تو ہماری لا علمی سے قرآن وسنت بری اور پاک ہے اور ہماری عدمِ واقفیت کسی مسئلہ کی دلیل نہیں بن سکتی۔ اس لیے ہمیں حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے ذہن صاف اور دل کھلا رکھنا چاہیے۔

ہمیں چاہئے کہ ہم تعصب اور ذاتی رائے سے بالاتر ہوکر دلائل کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔ اور اپنے اعمال کوسنت ِنبویﷺ کے مطابق ڈھالیں ۔

وما علینا إلاالبلغ المبین