میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

کائنات کے سربستہ رازوں کی تہیں جوں جوں کھلتی جارہی ہیں، توں توں انسان کی حیرتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ نہ صر ف یہ، بلکہ سائنسی انکشافات انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و مطلق العنانی کا بھی قائل کرتے جا رہے ہیں اور ان سے قرآنی پیش گوئیوں کی تصدیق بھی ہوتی جارہی ہے۔ نیز اس طرح دین اسلام کی صداقت اور ہمہ گیریت بھی ثابت ہورہی ہے۔ مگر سب سے زیادہ مبہوت کردینے والی حقیقت یہ ہے کہ ذہن انسانی کی رسائی کی کوئی حد نہیں، تحقیق و جستجو سے ذہنِ انسانی نے وہ کمالات دکھائے ہیں کہ دنیا ورطۂ حیرت میں مبتلاہے، ہر نیا انکشاف انسان کو اور زیادہ مبہوت کردیتا ہے اور اپنی ہمہ دانی پر فخر کرنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اُسے توکچھ بھی معلوم نہیں __بقول حالی ؎

محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نا محرم
کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا


مغربی دُنیا اپنے جن سائنسی کمالات پر فخر کررہی ہے، اس کی بنیاد دراصل مسلمان سائنس دانوں اور علما کی تحقیق و جستجو پر ہے۔ ہیئت دانی میں مسلمان کسی طرح بھی پیچھے نہیں تھے۔ اگر تحقیق و جستجو کا ذوق و شوق مسلمانوں میں ختم نہ ہوتا اور وہ اپنے اسلاف کی سائنسی و علمی میراث کو سنبھال کر رکھتے تو آج سائنسی دنیا میں بھی سربلند و سرخرو ہوتے۔ جبھی تو علامہ اقبال نے کہا ہے کہ ؎

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارہ


مغرب کے جن کارناموں سے دُنیا آج سخت مرعوب اور متاثر ہے، ان کے اُصولوں کو مرتب و منضبط کرنے اور ان کی بنیادی تحقیق اور دریافت کا سہرا ان مسلم علما ، سائنسدانوں اور ماہرین کیمیا کے سر ہے جنہوں نے خداداد ذہانت اور تحقیق و تجسس سے کام لے کر زندگی کے مختلف میدانوں اور علم کے مختلف شعبوں میں ترقی کی نئی راہیں کھولیں۔

یورپ نے اندلس (موجودہ اسپین) میں مسلمانوں کے زوال اور عیسائیت کے غلبے کے نتیجے میں نہایت بیش قیمت علمی تحقیقات و تصنیفات کے ذخیرے حاصل کئے۔ پھر ان کے انگریزی، فرانسیسی، جرمنی اور اطالوی زبانوں میں تراجم کئے اور اُنہیں تحقیقات کو بنیاد بناکر سائنس کے میدان میںپیش قدمی کی اور کیمیا، ریاضی اور طبعیات کے میدان میں وہ ترقی کی کہ ساری دُنیا کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ انتہا تو یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی سائنسی تحقیقات، اکتشافات اور ایجادات سے بالکل لاعلم اور بے خبر ہیں۔

آج کی ایک بڑی ضرورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اس مرعوبیت اور احساسِ کمتری کو دور کیا جائے اوراُ نہیں بتایا جائے کہ طب، سائنس ، ریاضی، علم الافلاک اور علم نجوم میں مسلمان علماو محققین ہی نے مختلف حقائق دریافت کئے۔ بے بہا اکتشافات کے لئے مسلمان علما و حکما نے بجلی، وائرلیس، جوہری توانائی اور فضا میں پرواز کے لئے ذہنوں کے دروازے کھولے اور جدید ترین ایجادات کی راہیں ہموار کیں۔

(1) خالد بن یزید (85ھ؍ 704ء)
سائنسی تحقیقات اور ایجادات کی بنیاد پہلی صدی ہجری کے اَواخر میں سیدنا امیرمعاویہؓ کے پوتے اور یزید کے فرزند خالد بن یزید نے رکھی جو کہ بنو اُمیہ کے ایک مسلمان شہزادے تھے۔ سائنس کی کتاب میں پہلا نام اِنہی کا نظر آئے گا لیکن مغربی سائنسدانوں نے انتہائی تنگ ظرفی اور بددیانتی کرتے ہوئے ان سے خوشہ چینی تو کی مگر اعتراف نہ کیا۔
دل و دماغ پرشاہانہ تکلّفات کی وجہ سے خلافت سے محروم رہے۔ لیکن علمی دنیا میں اپنے کاموں کے سبب مشہور ہوئے۔ خالد کو علم ہیئت سے اتنا لگاؤ تھا، کہ وہ کائناتِ فلک کا ایک 'کرہ' تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

(2) ابواسحق ابراہیم بن جندب (157ھ ؍ 776ء)
اجرامِ فلکی کے مشاہدے میں مہارت رکھنے والے اس سائنس دان کا نام ابراہیم بن جندب ہے جنہوں نے دوسری صدی ہجری میں ذہن اور دماغ سے ایک آلہ 'اِصطرلاب' (Telescope) ایجاد کیا جس کے ذریعہ فاصلے کی پیمائش کی جاسکتی تھی۔
گلیلو (اٹلی 1574ء تا 1642ئ) جس کو دوربین کا موجد کہا جاتا ہے، اُس نے اسی تصور کو لیا اور اصطرلاب کو ترقی دے کر ایک ایسا آلہ بنایا جس میں دیگر سہولتیں بھی پیدا کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دوربین کے موجد ابراہیم بن جندب ہی تھے۔

(3) جابر بن حیان (198ھ ؍ 817ء)
جابر، شیرخوارگی ہی میں یتیم ہوگئے تھے۔ ان کے والد حکومت کے مغضوب تھے اور بغاوت کے جرم میں قتل ہوئے۔ ان کی تربیت عرب کے ایک دور افتادہ علاقے کے ایک بدوی قبیلے میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے ایام گزارے۔ یہ تینوں اُمور ایسے تھے، جن کے باعث اس زمانے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا کوئی موقع اُنہیں میسر نہیں آسکتا تھا۔ لیکن ان ناسازگار حالات کے باوجود انہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور ذہانت سے سائنس میں اپنے لئے اتنا اونچا مقام حاصل کرلیا جو اس زمانے میں کسی اور کو حاصل نہ ہوا تھا۔
جابر بن حیان کیمیا (Chemistry) کے باوا آدم تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یورپ کے تمام محقق اس بات پر متفق ہیں کہ تاریخ میں پہلا کیمیا دان جس پر یہ نام صادق آتا ہے، جابر بن حیان ہے۔ اہل یورپ میں جیبر(Geber) کے نام سے مشہور ہیں جو کہ جابر کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جابر بن حیان نے کیمیاوی تجربے میں کمال پیدا کرکے اس کے نکات بیان کئے، اصول اور قواعد مرتب کئے جو آج بھی مستعمل ہیں:
(1) عمل تصعید: دواؤں کا جوہر اُڑانا(Sublimation) اس طریقے کو سب سے پہلے جابر نے اختیار کیا تاکہ دواؤں کو مزید موثر بنایا جاسکے اور محفوظ رکھا جاسکے۔
(2) فلٹر کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
(3) لوہے کو زنگ سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟
(4) موم جامہ (وہ کپڑا جس پر پانی کا اثر نہ ہو) بنایا۔
(5) چمڑے کو رنگنے کا طریقہ دریافت کیا۔
(6) بالوں کو کلر کرنے کے لئے خضاب کا نسخہ تیار کیا۔
(7) عبدالمالک اصمعی (213ھ ؍ 831ء)

علم حیاتیات (Biology) سے کمالِ دلچسپی رکھتے تھے۔ یہ پہلے سائنسدان ہیں جنہوں نے علم الحیوانات (Zology) پر پانچ کتابیں تصنیف کرکے معلومات کا خزانہ ہمارے سامنے بکھیر دیا۔ جانوروں کی خصوصیات کامل ماہرانہ انداز میں اُنہوں نے بیان کرکے جنگل کی زندگی کا پورا نقشہ پیش کردیا۔ اصمعی جانوروں کی زبان میں واقعاتِ عالم بیان کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی کتابیں یورپ میں بہت مقبول ہوئیں اور ان کے ترجمے کئے گئے۔

(4) محمد بن موسیٰ خوارزمی (232ھ ؍ 850ء)
علم ریاضی کے زبردست ماہر اور الجبرے کے موجد مشہور ہیں۔ خلیفہ مامون الرشید ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بیت الحکمة (Science Academy) میں اُنہوں نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ (خوارزمی کا یہ طریقہ آج بھی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے مقرر ہے) جس کے نتیجے میں ان کو اس سائنسی ادارے کا ممبربنالیا گیا۔ علم ریاضی پر انہوں نے دو کتابیں مرتب کیں:'علم الحساب' علم ریاضی پر دُنیا میں پہلی تصنیف تھی۔ جبکہ دوسری تصنیف 'الجبر والمقابلہ' تھی۔
علم ریاضی کی کتاب'علم الحساب' چودہویں صدی میں یورپ پہنچی تو دانشورانِ یورپ کی آنکھیں کھل گئیں۔ کیونکہ یورپ میں اس جہالت کے دور میں رومن ہندسے رائج تھے جو بالکل نامکمل اور غلط اُصول پرقائم تھے۔ یورپ کے دانشوروں نے خوارزمی کی کتابیں دیکھ کر اپنی خرابیوں کو سمجھا اور اپنے حساب کتاب کے اُصول کو یکسر بدل دیا۔ اہل یورپ نے عربی ہندسوں کو فوراً قبول کرلیا۔ یہ ہندسے عریبک فیگر(Arabic Figure) کہے جاتے ہیں۔
ان کے ترجمے کو 1831ء میں 'روزن' نے لندن سے پہلی بار بڑے اہتمام سے چھاپا تھا۔

(5) ابوبکر محمد زکریا رازی (308ھ؍ 932ء)
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ علم طب کے ڈاکٹر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کو دنیا کا قابل ِ ناز طبیب، عالی دماغ محقق،مفکر اور زبردست سائنس دان تصور کیا جاتا ہے۔
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی طبی امداد (First Aid) کا طریقہ پہلی مرتبہ جاری کیا اور دواؤں کے صحیح صحیح وزن کے لئے 'میزانِ طبعی' ایجا دکیا۔ میزانِ طبعی ایسا ترازو ہے جس میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا صحیح صحیح وزن معلوم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ترازو آج کل ہر جگہ صحیح وزن کے لئے، خصوصاً سائنسی تجربہ گاہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ امام رازی کا سب سے بڑا کارنامہ مرض چیچک پر تحقیق ہے اور اس موضوع پر انہوں نے دنیا کی پہلی کتاب تصنیف کی جو کہ سینکڑوں برس تک یورپ کے میڈیکل کالجوں میں داخلِ نصاب رہی۔الکوحل کے موجد بھی امام رازی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اپنے فن کے واقعی امام تھے۔ ان کی بلندی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ بین الاقوامی طبی کانگریس کا اجلاس 1913ء میں لندن میں ہوا، جس میں آپ کو طب کا 'ڈاکٹر' تسلیم کیا گیا۔ دوسری مرتبہ 1930ء میں فرانس کے شہر (پیرس) میں ہوا، جس میں ان کو دوبارہ طب کا 'ڈاکٹر' تسلیم کیا گیا۔

(6) ابوالعباس احمد بن محمد کثیر فرغانی (343ھ ؍ 863ء)
بغداد مامون الرشید کے وقت میں علم و فنون کا مرکز بن چکا تھا۔ ہر علم و فن کے قابل ترین لوگ وہاں موجود تھے۔ مامون الرشید علمی ذہن و دماغ رکھتا تھا۔ اس کے ذہن میں آیا کہ زمین کے گھیر(Sircumfernce)کی صحیح صحیح پیمائش کی جائے۔ چنانچہ اس نے انجینئروں کی ایک جماعت مقرر کی اور اس کا صدر احمد کثیر فرغانی کو نامزد کیا۔ شہر کوفہ کے شمال کا ایک وسیع میدان جو کہ 'دشت ِسنجار' سے پہچانا جاتا ہے، موزوں قرار پایا۔ ماہرین نے پیمائش شروع کی اور حساب کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ زمین کا گھیر25009 میل ہے لیکن موجودہ زمانے کے نئے نئے آلات کی وجہ سے زمین کا گھیر 24858 میل مانا جاتا ہے۔ مسلم دور کی اس پیمائش اور آج اس نئے دور کی پیمائش میں بقدر 151میل کا فرق ہے، کل غلطی صرف 4 فی صد ہے جو کہ غلطی تصور نہیں کی جاتی۔ ابوالعباس کا دوسرا کارنامہ دھوپ گھڑی(Sun Dail) تھی جس سے دن میں وقت کا صحیح اندازہ ہوجاتا تھا۔
ابوالعباس نے کئی کتابیں مرتب کیں۔ ان کی مشہور کتاب 'جوامع علم النجوم' ہے۔ اس کتاب کا پہلا لاطینی ترجمہ بارہویں صدی عیسوی میں شائع ہوا۔ پھر دوسرا ترجمہ جرمنی میں 1537ء اور تیسرا ترجمہ فرانس کے دانشوروں نے کیا۔

(7) احمد بن موسیٰ شاکر (240ھ ؍ 858ء)
مسلم دور میں یہ پہلا میکینک(Mechanic)گزرا ہے۔ عربی زبان میں اس فن کو علم الحلیلکہتے ہیں۔ احمد بن موسیٰ نے اس فن میں ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ ہارون الرشید نے دنیا کی سب سے پہلی گھڑی فرانس کے King کو جو بطورِ تحفہ بھیجی تھی وہ اسی میکینک کی ایجاد ہے۔

(8) ابوالقاسم عمار موصلی (388ھ؍ 1005ء)
عمار موصلی امراضِ چشم میں مرض موتیا بند کے ماہر (Eye Surgeon) تھے۔ اُنہوں نے موتیا بند کے سلسلے میں تحقیق کی اور اس کا علاج آپریشن کے ذریعے دریافت کیا۔ مرض موتیا بند(Cataract) تکلیف دہ مرض ہے۔ موصلی نے اس فن پر ایک کتاب بھی مرتب کی جس میں اس مرض پر اچھی بحث کی ہے۔ اس کتاب کا نام'علاج العین' ہے۔ اس کتاب کا پہلا ترجمہ یورپ میں اور دوسرا ترجمہ 1905ء میں جرمنی سے شائع ہوا۔

(9) ابوالحسن علی بن عبدالرحمن یونس (395ھ ؍ 1009ء)
مصر میں جب فاطمی حکومت قائم ہوئی تو علوم و فنون کی ترقی اور تحقیق و جستجو کا ایک نیا دور شرو ع ہوا۔ ملک کے استحکام کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کی نشوونما کا کام بھی جاری تھا۔ 953ء میں المعز بن منصور جب خلیفہ بنے تو اُنہوں نے اس ملک میں بہت سی اصلاحات کیں۔ المعز ہی کے دور میںموجودہ مصر کے شہر قاہرہ کی بنیاد رکھی گئی جو آج تک مصر کا دارالحکومت ہے۔ لیکن المعز کا سب سے بڑا کارنامہ بیت الحکمة، بغداد کی طرز پر سائنس اکیڈمی کی تعمیر تھی تاکہ علمی تحقیق و جستجو، مطالعہ اور مشاہدہ کا کامبیت الحکمت کی سرپرستی میں باقاعدہ اور باضابطہ انجام دیا جاسکے۔ چنانچہ اس ادارے میں اہل علم و فضل ایک جگہ جمع ہوگئے اور ترقی کا نیا دور شرو ع ہوگیا۔
اس روشن دور میں جن دانشوروں نے اپنی علمی تحقیق اور فنی کاوشوں سے شہرت دوام حاصل کی، ان میں علی بن عبدالرحمن کا نام سرفہرست ہے۔ علی بن عبدالرحمن علم ہیئت کے زبردست ماہر تھے۔ اُنہوں نے مشاہداتِ فلکی سے جو حیرت انگیز نئی نئی دریافتیں کیں، اُن میں سے ایک انحراف دائرة البروج (Inclination of the Eclptic)کا اہم مسئلہ ہے۔ اُنہوں نے اپنے مشاہدے سے انحراف دائرة البروج کی قیمت 23 درجے 35 منٹ نکالی جو آج کے دور کے بالکل مطابق ہے۔

(10) ابوالفتح عمر بن ابراہیم خیام (1039ء تا1131ء)
عمر خیام نیشاپور (ایران) میں1039ء میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک عالی دماغ فلسفی اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ علم فلکیات اور ہیئت کے زبردست عالم، ماہر ریاضی دان، شمسی اور قمری تاریخوں کی تحقیق کرکے ان میںمفید اصلاحات کرنے والے، دونوں قسم کی تاریخوں میں مطابقت پیدا کرنے کا طریقہ دریافت کرنے والے ماہر موسمیات، شمسی مہینوں کے دنوں کا تعین کرکے درست کرنے والے، دینی کاموں کے لئے قمری سال اور سرکاری دفاتر میں شمسی سال کو حکومت کے ذریعے رائج کرانے والے، لیپ سال(Leap Year) کے موجد، ادیب اور مصنف تھے۔یاد رہے لیپ سال میں فروری کے 29 دن ہوتے ہیں۔
عمر خیام کا سب سے بڑا کارنامہ شمسی اور قمری سال کی پیمائش اور ان میں باہم مطابقت پیدا کرنا ہے۔ شمسی سال سے مراد وہ پوری مدت اور وقت ہے جس میں زمین سورج کے اردگرد پورا ایک چکر کاٹ لیتی ہے۔

عہد ِعتیق کے یونان حکما سال کے پورے تین سو پینسٹھ (365) دن مانتے تھے اور اسی سے مہینوں اور دنوں کا حساب لگاتے تھے۔ مسلم دنیا میں جب علم و فنون کا ہر طرف چرچا ہونے لگا اور مسلم حکما نے ہر موضوع پر کام شروع کردیا تو ہر قسم کے علوم وفنون کی ترقی کے دروازے کھل گئے۔ مسلم حکما اور سائنس دانوں نے زمین کی گردش، شمسی سال اور قمری سال کی تحقیق بھی شروع کردی۔ سب سے پہلے محمد بن جابر البنانی (المتوفی 929ئ) جو مشاہد ئہ افلاک کے ماہر تھے، اُنہوں نے شمسی سال کی تحقیق کرکے پورے ایک سال کی مقدار (365) دن، پانچ گھنٹے، چھیالیس منٹ اور چوبیس سیکنڈ متعین کی تھی۔ عمر خیام نے بھی شمسی سال کی کمال احتیاط سے تحقیق کی اور پیمائش کے بعد پورے سال کی مقدار 365 دن، 5 گھنٹے اور 49 منٹ بتائی جو آج کے دور کی تحقیق سے بہت قریب تر ہے۔ آج کے دور کے سائنس دان 365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ اور 48 سیکنڈ بتاتے ہیں۔

دنیا میں سال کی لمبائی سورج سے شمار کی جاتی ہے، لیکن سال کے بارہ مہینے چاند کے حساب سے مانے جاتے ہیں۔ کیونکہ چاند سال میں بارہ مرتبہ نکلتا ہے۔ ان اسباب کی بنا پر اقوامِ عالم میں عہد ِعتیق سے شمسی سال اور قمری سال دونوں رائج ہیں اور دونوں تقویموں سے کام لیا جاتا ہے۔ عرب میں قمری سال کا رواج تھا۔ اسلام نے اس کو باقی رکھا اور اسی کے ذریعے مہینوں کا حساب کتاب کیاجاتا ہے۔ قمری سال کا حساب حقیقت میں فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلئے اسلام کے جملہ مذہبی اُمور، مثلاً روزہ، حج بیت اللہ، عیدین اور عورتوں کے مسائل کی تاریخوں کا تعین قمری حساب سے کیا جاتا ہے۔ (بہ شکریہ ماہنامہ دعوت اہل حدیث، سندھ)