زنا سے حرمت کا ثبوت؟ طلاق کے بعض مسائل
برتن میں پھونک مارنا؟ کونسے تعویذ شرک ہیں ؟



کیا سجدئہ عبادت اور سجدئہ تعظیمی کے حکم میں کوئی فرق ہے؟
مندرجہ ذیل مسائل میں قرآن و حدیث اور فہم سلف کے مطابق آپکی رہنمائی مطلوب ہے :
(1) سجدہ لغیراﷲکو ہمارے ہاں بالاتفاق حرام سمجھا جاتا ہے لیکن بعض لوگ 'سجدۂ تعظیمی' اور 'سجدۂ عبادت' میں فرق کرتے ہیں ۔ اوّل الذکر کو حرام اور ثانی الذکر کو شرک وکفر اور مُخرج عن الملة قرار(i)دیتے ہیں ۔ کیا ان کا یہ موقف کتاب و سنت اور فہم سلف کے مطابق ہے؟ نیز کیااس میں فاعل کی نیت اور اعتقاد کا کوئی دخل ہے یا نہیں ؟
(2) کیا تعظیمی سجدہ، تعظیمی رکوع، تعظیمی قیام، تعظیمی قعود، تعظیمی طواف، یہ سب شرک ہیں یا صرف تعظیمی سجدہ ہی شرک ہے؟ اور کیا مندرجہ بالامظاہر عبودیت زندہ و مردہ (یعنی قبر والوں اور حکام و اساتذہ یا قومی ترانے وغیرہ) کے لئے یکساں حکم رکھتے ہیں ، یا ان میں کوئی فرق ہے ؟
(3) اگر یہ شرک ہے تو شرک کس درجے کا؟ اس کا مرتکب خارج عن الملة ہے یا نہیں ؟ اس کا ذبیحہ کھانا اور اس سے رشتہ کرنا کیسا ہے؟

نوٹ:علمائے سلف میں سے مذکورہ بالا پہلوؤں پر جن علماے کرام نے جس پہلو پر بھی گفتگو کی ہو، براہِ کرم اس کا حوالہ بھی درج کردیجئے۔ جزاکم اللہ
(ابوعبدالرب عبدالقدوس سلفی، اسلام آباد)

الجواب بعون الوہاب: سجدۂ تعظیمی اور سجدئہ عبادت میں کوئی فرق نہیں ، دونوں شرک ہیں جو لوگ سجدئہ تعظیمی کو شرک قرار نہیں دیتے، ان کا اشکال یہ ہے کہ سجدئہ تعظیمی پہلی اُمتوں میں چلا آرہا تھا اور صرف اسلام نے اسے ممنوع اور حرام قرار دیا ہے، ورنہ سجدئہ عبادت تو غیراللہ کے لئے شرک ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بلا شبہ شرک جملہ شرائع میں سے کسی شریعت میں جائز نہیں رہا، تاہم اس کے مظاہر کی شکلیں بدلتی رہیں ، اس طرح وہ شریعت کی جزئیات بن جاتی ہیں ۔جس طرح آدم علیہ السلام کے عہد میں صلبی اولاد کا آپس میں نکاح جائز تھا جو بعد میں حرام ہوگیا اور اگر آج کوئی اس کے جواز کا دعویدار ہو تو وہ کافر ہے ،کیونکہ اس نے خواہش پرستی کو معبود بنالیا۔ قرآنِ کریم میں ہے :

أَفَرَ‌ءَيْتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَـٰهَهُۥ هَوَىٰهُ...﴿٢٣﴾...سورۃ الجاثیہ
''بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے۔''

یہی کیفیت سجدئہ تعظیمی ہو یاعبادت، ہردو کی ہے۔ اگر وہ اللہ کے حکم سے ہے تو وہ غیر کی عبادت میں شامل نہیں اور اگر وہ اپنی مرضی سے ہے تو وہ غیر کی عبادت ہے جو شرک کے زمرہ میں داخل ہے، کیونکہ حکم صرف اللہ کا چلتا ہے، کسی کو اس میں دخل نہیں اور دخل اندازی کرنے والا مشرک ہے۔ مثلاً کعبہ مشرفہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا عین اللہ کی عبادت ہے اور اس کے ماسوا کسی اور مکان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا عین شرک ہے، کیونکہ طریقۂ عبادت مقرر کرنا صرف اللہ کا اختیار ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
 أَمْ لَهُمْ شُرَ‌كَـٰٓؤُا شَرَ‌عُوا لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ ۚ...﴿٢١﴾...سورۃ الشوری
''کیا اُن کے وہ شریک ہیں جنہوں نے اُن کے لئے ایسا دین مقرر کیاہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔''

دوسرے مقام پر فرمایا:

لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ‌ وَٱسْجُدُوا لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ﴿٣٧...سورۃ فصلت
''تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے ، اگر تمہیں اس کی عبادت منظور ہے۔''

اس آیت ِکریمہ میں مطلقاً غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے استاذ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ
''اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم سورج، چاند پرہی موقوف نہیں بلکہ سجدہ محض خالق کا حق ہے، مخلوق کا نہیں ؛ خواہ سورج، چاند ہو یا کوئی اور مخلوق ہو اور{إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ} سے مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سجدہ غیر کوہوگیا تو پھر خاص اللہ کے عابد نہیں رہو گے، بلکہ مشرک ہوجاؤ گے۔ اس کی مثال ایسی ہے، جیسے قرآنِ مجید میں ہے:
فَٱتَّبِعُونِى...﴿٣١﴾...سورۃ آل عمران
'' کہہ دیں کہ اگر تم مجھ ؐسے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔''

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے مقابلہ میں کسی اور کی اتباع کرو گے، خواہ کسی طرح سے ہو تو پھر اللہ کی محبت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ ٹھیک اسی طرح آیت ِبالا کا مطلب سمجھ لینا چاہئے کہ جب غیر کو سجدہ ہوا(خواہ اس کا نام سجدئہ تعظیمی رکھو یا کچھ اور) تم خاص اللہ کے عابد نہیں رہ سکتے بلکہ مشرک ہوجاؤ گے۔ گویا ہماری شریعت میں سجدہ مطلقاً حرام کردیا گیا ہے خواہ اس کا نام کوئی کچھ بھی رکھے اور اس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ میں ہے:
أما تقبیل الأرض ووضع الرأس ونحو ذلك مما فیه السجود،مما یفعل قدام بعض الشیوخ وبعض الملوك فلا یجوز،بل لایجوز الانحناء کالرکوع أیضا کما قالوا للنبي ﷺ:الرجل منا یلقی أخاہ أینحني له؟ قال: )لا( ولما رجع معاذ من الشام سجد للنبي ﷺ فقال: ) ما هذا یا معاذ؟( قال: یا رسول اﷲ ! رأیتهم في الشام یسجدون لأساقفتهم ویذکرون ذلك عن أنبیائھم فقال: )کذبوا علیهم لوکنت آمرًا أحدا أن یسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجھا من أجل حقه علیھا۔ یا معاذ ! إنه لا ینبغي السجود إلا ﷲ( وأما فعل ذلك تدینا وتقربا فھٰذا من أعظم المنکرات،ومن اعتقد مثل ھذا قربة وتدینا فھو ضالّ مفتر،بل یبین له أن ھٰذا لیس بدین ولا قربة فإن أصرعلی ذلك اُستِیب فإن تاب وإلا قتل 1
''زمین کو بوسہ دینا اور سر زمین پر رکھنا اور ایسی ہی وہ صورتیں جس میں بعض مشائخ اور بعض بادشاہوں کے سامنے سجدہ کیا جاتا ہے تو یہ کچھ جائز نہیں بلکہ جھکنا مثل رکوع کے بھی جائز نہیں ۔ چنانچہ صحابہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملتا ہے تو کیا اس کے لئے جھکے ؟تو فرمایا :نہیں اور جب حضرت معاذؓ سفر شام سے واپس آئے توانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا آپؐ نے فرمایا: اے معاذ! یہ کیا؟ کہا: میں نے اہل کتاب کو دیکھا کہ وہ اپنے علما کو ایسے ہی سجدہ کرتے ہیں ۔ فرمایا: یہ جھوٹ ہے۔ اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا ، اس کے شوہر کے اس پر حق کی وجہ سے۔ اے معاذؓ! سواے اللہ کے کسی کے لئے سجدہ لائق نہیں ۔'' اور دین اور ثواب سمجھ کر سجدہ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے (البتہ قتل وغیرہ کے ڈر سے ایسا کیا جائے تو وہ کبیرہ گناہ میں شامل نہیں بلکہ بعض کے نزدیک جائز ہے) جو اس کا اعتقاد رکھے، وہ گمراہ مفتری ہے۔ اس کو سمجھایا جائے کہ یہ دین اور ثواب نہیں ، پھر بھی اصرار کرے تو اس سے توبہ طلب کی جائے اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کردیاجائے۔''

قریب قریب اس قسم کی روایتیں مشکوٰة کے باب عشرة النساء وغیرہ میں موجود ہیں کہ غیراللہ کو سجدہ جائز نہیں ، اگر جائز ہوتا تو عورت کو خاوند کے لئے سجدہ کاحکم ہوتا اور مشکوٰة کے اسی باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ کرنے کی ممانعت بھی مذکور ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یا آپؐ کی قبر کو سجدہ کی اجازت نہیں تو غیر کے لئے کس طرح اجاز ت ہوگی بلکہ مشکوٰة باب القیام میں قیامِ تعظیمی سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے تو سجدہ کس طرح جائز ہوگا؟ خلاصہ یہ ہے کہ نماز کی مشابہت کسی غیر کے لئے جائز نہیں ، نہ قیام نہ رکوع نہ سجدہ۔ یہی وجہ ہے کہ قبروں میں ممانعت ہے، تاکہ عبادِ قبور سے مشابہت نہ ہو اور جب مشابہت منع ہے تو حقیقة قیام یا رکوع یا سجدہ غیر کے لئے کیونکر جائز ہوگا ۔'' 2

سعودی عرب کی 'دائمی کمیٹی برائے فتاویٰ و بحوثِ علمیہ 'کا فتویٰ ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا شرک ہے، اس طرح غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا بھی شرک ہے۔ اس کے شرعی حکم کی وضاحت کے باوجود اگر کوئی غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے یا غیر اللہ کے لئے جانور ذبح کرتا ہے تو اس کی فرض اور نفلی عبادت قبول نہیں ہوتی، اگرچہ وہ نماز، روزہ کرے۔

مشرک جب شرک پر مرجائے تو اس کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔ ہاں البتہ موت سے پہلے خالص توبہ کی صورت میں اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ 3

اور فتویٰ نمبر 9868 میں یہ سوال کیا گیا ہے :
کیا والدین جیسی معزز ہستی کے لئے رکوع کرنا جائز ہے؟

جواب: جائز نہیں بلکہ یہ شرک ہے کیونکہ رکوع عبادت اورسجدے کی طرح اللہ کے لئے ہے،ان دونوں فعلوں کو غیراللہ کے لئے کرنا جائز نہیں ۔4
جو اہل علم سجدئہ تعظیمی کو شرک قرار نہیں دیتے، سابقہ دلائل کی بنا پر ان کا موقف درست نہیں ۔ فاعل جب جملہ وضاحتوں کے حکم سے واقف ہو تو فیصلہ صرف ظاہرکی بنا پرہوگا، فاعل کی نیت اور اعتقاد کا اس میں کوئی دخل نہیں ۔

(2) سوال میں اشارہ کردہ جملہ اُمور شرک ہیں ۔ البتہ قومی ترانے وغیرہ کے بارے میں فتویٰ نمبر 2123 میں ہے کہ قومی جھنڈا یا قومی سلام کی خاطر کھڑا ہونا منکر بدعات سے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے عہد میں یہ شے موجود نہ تھی اور یہ کمالِ توحید کے وجوب کے منافی ہے اور مسلمانوں پر صر ف اللہ وحدہ لا شریک کی تعظیم واجب ہے ، اس لحاظ سے بھی یہ اس تعظیم کے منافی ہے۔ مزید برآں یہ شرک کی طرف بھی ایک ذریعہ ہے اور اس میں کفار کی مشابہت ہے۔ اور یہ قبیح عادات میں ان کی تقلید ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت یا ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔5

اساتذہ یا بڑے لوگوں کی خاطر قیام کرنا یا سلوٹ مارنا بھی ممنوع ہے، کیونکہ
خیرالھدي ھدي محمد ﷺ وشرالأمور محدثاتھا
'' بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور دین میں اختراعات بد ترین اُمور ہیں ـ۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو صحابہ کرامؓ آپ کے لئے اُٹھتے نہ تھے، کیونکہ آپؐ اس کو ناپسند فرماتے ہیں ۔ کسی مدرّس کو یہ لائق نہیں کہ طلبہ کو اپنی تعظیم کی خاطر قیام کا حکم دے اور طلبہ کے لئے بھی یہ لائق نہیں کہ جب اساتذہ کھڑا ہونے کا حکم کریں تو اس میں ان کی تعمیل کریں ۔ کیونکہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ۔6

(3) ایسا شخص شرکِ اکبر کا مرتکب ہے اوراس کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں ہمیں اختلاف کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ سلف اسی بات کے قائل تھے۔ عرصہ ہوا مرکزی جمعیت اہلحدیث کی سرگودھا میں منعقد آل پاکستان کانفرنس میں یہ مسئلہ(ii) اُٹھا تھا اور علما کرام کا اختلاف طول پکڑ گیا تھا ، اسکے پیش نظر محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ نے اوپر درج شدہ فتویٰ تحریر فرمایا تھا۔

زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے یا نہیں ؟
سوال : کیا زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے یا نہیں ؟
جواب:بالا صورت میں مزنیہ کی بیٹی سے نکاح ہوسکتا ہے اور راجح مسلک کے مطابق زنا سے حرمت ِمصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔سنن ابن ما جہ میں ابن عمرؓ کی حدیث میں ہے:
لا یحرم الحرام الحلال 7
''حرام کے ارتکاب سے حلال چیز حرام نہیں ہوتی۔''

عکرمہ نے ابن عباس ؓسے بیان کیا ہے کہ إذا زنی بأخت امرأتہ لم تحرم علیہ امرأتہ ''جب کوئی اپنی سالی سے زنا کرلے تو اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی۔'' 8

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جمہور زنا سے حرمت کے قائل نہیں ، ان کی دلیل یہ ہے:
وحجتهم أن النکاح في الشرع إنما یطلق علی المعقود علیها لا علی مجرد الوطء وأیضا فالزنا لاصداق فیه ولاعدة ولا میراث۔قال ابن عبد البر: وقد أجمع أھل الفتوٰی من الأمصار علی أنه لا یحرم علی الزاني تزوج من زنی بها فنکاح أمھا وابنتها أجوز 9
''ان کی دلیل یہ ہے کہ شرع میں نکاح کا اطلاق وہاں ہوتا ہے،جہاں باقاعدہ عقد کیا گیا ہو۔ مجرد وطی پر نکاح کا اطلاق نہیں کیاجا سکتا۔ نیز زنا میں حق مہر، عدت اور وراثت کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔ حافظ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : تمام بلاد کے اہل فتویٰ کا اس بات پر اجماع ہے کہ زانی کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا حرام نہیں ہے جس سے وہ زنا کر چکا ہے،جب مزنیہ سے نکاح جائز ہے تو اس کی ماں یا بیٹی سے بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔''

طلاق کے بعض مسائل
سوال :ایک طلاق دے کر اگر رجوع کرلیا جائے اور پھر ایک یا دو ماہ بعد دوبارہ طلاق دے دی جائے تو کیا پہلی طلاق بھی شمار ہوگی یا نہیں ؟
جواب:جس طلاق سے رجوع ہوچکا ہے، وہ بھی شمار ہوگی۔

سوال :کیا ایک وقت میں تین طلاق دے کر 30 یوم کے اندر اندر بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے؟
جواب:ایک وقت کی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓسے مروی ہے: ''کان الطلاق علی عهد رسول اﷲ ﷺ وأبي بکر وسنتین من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة'' 10
'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکرؓ کے ادوارمیں اور حضرت عمرؓ کے دور خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ایک وقت میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھی۔''

ایسی صورت میں عدت کے اندر صرف رجوع ہی کافی ہے، دوبارہ نکاح کی ضرو رت نہیں ، ہاں البتہ اگر عدت گزر جائے تو دوبارہ نکاح ضروری ہے۔ واضح ہوکہ جس عورت کو حیض آتا ہے، اس کی عدت تین حیض ہے۔ بصورتِ دیگر عدت تین ماہ ہے۔

سوال :کیا طلاق دیتے وقت بیوی کا نام لینا ضروری ہے۔
جواب: صرف نیت ہی کافی ہے بوقت ِضرورت نام بھی لیاجاسکتا ہے۔ 11

سوال :کیا بالجبر طلاق لکھوانے سے طلاق مؤثر ہوگی یا نہیں ؟
جواب:زبردستی طلاق واقع نہیں ہوتی بشرطیکہ اِکراہ کی شرطیں پائی جائیں اور وہ تین ہیں :
(1) فاعل نے جس چیزکی دھمکی دی ہے، اس کے وہ وقوع پر قادر ہو۔ اور دھمکی دیا جانے والا دفاع سے عاجز ہو، اگرچہ وہ دفاع دوڑنے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
(2) ظن غالب ہو کہ اگر اس نے یہ کام نہ کیا تو فاعل جو چاہتا ہے کر گزرے گا۔
(3) فاعل نے جس چیز کی دھمکی دی، اس کو فوراً کرے۔ 12

سوال :خاوند کاارادہ طلاق دینا نہ ہو،محض ڈرانا،دھمکانا مقصد ہو توکیا طلاق شمار ہوگی؟
جواب: لفظ طلاق چونکہ طلاق میں صریح ہے، اس لئے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اشارہ کنایہ والے الفاظ کی صورت میں نیت کا اعتبار ہوگا۔

سوال :ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاقِ رجعی دی پھر عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا لیکن نباہ نہ ہوسکا اور کچھ عرصہ بعد اس شخص نے دوبارہ طلاقِ رجعی دے دی پھر عدت کے اندر اندر لوگوں کے کہنے پر صلح کرلی۔ مگر شومئ قسمت کہ پھر بھی بات نہ بن سکی اور پھر اس شخص کی بیوی نے طلاق مانگ لی۔ طلاق مانگنے پراس شخص نے پھر سے طلاق دے دی۔ اس طرح تین طلاقیں مکمل ہوگئیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوچکی ہے؟
جواب:بالاصورت میں طلاق بائن (مغلظ) واقع ہوچکی ہے۔قرآنِ مجید میں ہے:
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَ‌هُۥ...﴿٢٣٠﴾...سورۃ البقرۃ
''پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے، اُس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔''

جادو کی قوت
سوال: کیا جادو کے ذریعہ کسی کوگدھا بنایا جاسکتا ہے یا نہیں اور کیا جادوگر کسی مؤمن آدمی کو ذلیل و خوار کرسکتا ہے یا نہیں ؟ (رانا محمد اسلم، مکتبہ اصحاب ج دو کجین سا بسینت جواب:بعض جادوگر اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ انسان کی صورتوں کو حیوانوں کی شکلوں میں تبدیل کرنے پرقادر ہیں جبکہ حقیقت ِحال اس کے برعکس ہے۔ اہل علم نے ایسے شخص کو کافر قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: تفسیر قرطبی (2؍45)

مؤمن کو جادو کے ذریعہ کوئی جادوگر ذلیل و خوار نہیں کرسکتا، البتہ اس کی کوتاہی کی وجہ سے بعض دفعہ ایسی صورت پیدا ہوسکتی ہے ۔

برتن میں پھونک مارنا
سوال :پانی میں پھونک مارنا اور برتن میں سانس لینا منع ہے۔مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سالن اور کھانے میں خود تھوکا تو پھر کیا بطورِ علاج پانی میں تھوک کر یا اُنگلی کے ذریعہ تھوڑی سی تھوک ڈال کر کسی مریض کو پلانا سنت ہے یا بدعت ؟
جواب: برتن میں سانس لینا اس وقت منع ہے جب آدمی کوئی شے پی رہا ہو۔ مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے :
لا یتنفس أحدکم في الإناء إذا کان یشرب منه (4؍155)
''جب کوئی شخص پانی پی رہا ہو تو برتن میں سانس نہ لے۔''

جب کہ عام حالات میں پھونک مارنا منع نہیں جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانے وغیرہ میں لب مبارک ڈالنا آپؐ کا معجزہ بھی ہو سکتا ہے۔ عامة الناس کو اس پرقیاس نہیں کیا جاسکتا۔ محدثین نے ایسے واقعات کو علاماتِ نبوت میں ذکر کیا ہے۔ ایسے ہی اُنگلی کو مٹی اور تھوک لگا کر تکلیف دہ جگہ پر لگانا بھی سنت سے ثابت ہے۔(متفق علیہ) جہاں تک تھوک کو پانی میں ڈال کر پلانے کا تعلق ہے تو یہ سنت سے ثابت نہیں ، ہاں البتہ پھونک کے ساتھ معمولی سا اثر رطوبت کا ہوتو یہ لفظ نفث کی تعریف میں شامل ہے جو منع نہیں تفصیل کے ملاحظہ ہو عون المعبود :4؍12

البتہ آدمی کو دم کی صورت میں تھوکنے کا جواز ہے۔ سنن ابوداود میں ہے :
ویتفل حتی بریٔ 13
''آپ اس کو تھتکارتے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گیا۔''

اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے :

ویجمع بزاقه ویتفل 14
'' آپ اپنی تھوک کو جمع کرتے اور اس کو تھتکارتے۔''

کونسے تعویذ شرک ہیں ؟
سوال:سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :التمائم ما علق قبل نزول البلاء وما علق بعد نزول البلاء فلیس بتمیمة 15 تو کیا اس روایت سے قرآنی تعویذ لٹکانا ثابت ہوتا ہے یا ہر قسم کی تمائم شرک ہی ہیں :
قال ﷺ : من علق تمیمة فقد أشرک 16
'' رسول اللہ کا ارشاد ہے : جس نے تعویذ لٹکایا ،اس نے شرک کیا۔''


جواب:حضرت عائشہ ؓ کے قول کے الفاظ یوں ہیں :
قالت عائشة لیس التمیمة ما یعلق بعد نزول البلاء ولکن التمیمة ما علق قبل نزول البلاء لیدفع به مقادیر اﷲ 17
''تمیمہ وہ (منع) نہیں جس کو آزمائش نازل ہونے کے بعد لٹکایا جائے لیکن وہ تمیمہ (منع) ہے جس کو بلا لاحق ہونے سے قبل لٹکایاجائے تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کی تقدیر کو ٹالے۔''
مطلب یہ ہے کہ تقدیر کے ورود سے قبل اس کے دفاع کی تدبیرکرناعاقل کو لائق نہیں جبکہ ورودِ بلا کے بعد اس سے خلاصی کی تدبیر کرنا مشروع ہے، چاہے وہ تعویذ کے ذریعہ ہی ہو۔

تعویذ کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے: ایک جماعت اس کے جواز کی قائل ہے۔ جبکہ دوسری جماعت تعویذات کے عدم جواز کی قائل ہے۔حضرت عائشہ ؓ کا شمار بھی ان لوگوں میں ہے جو تعویذوں کو جائز سمجھتے ہیں ۔میرے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ تعویذات سے مطلقاً پرہیز کیاجائے اورمذکورہ حدیث )من علق تمیمة فقد أشرک(سے مراد جاہلی تمیمہ ہے جو خلاف شرع ہے اور اسکی تعریف یہ ہے کہ وہي خرزات کا نت العرب تعلقها علی أولادھم یتقون بھا العین بزعمهم فأبطلھا الشرع 18
''یہ خرزات (گونگے سپیاں )ہیں جنہیں اہل عرب اپنے بچوں پر لٹکایاکرتے تھے اور اپنے زعم کے مطابق ان کو اس کے ذریعہ نظر بدسے بچاتے تھے۔ پس شرع نے اس کوباطل ٹھہرایا۔''

جس طرح کہ مسنداحمد میں سبب ِحدیث میں اس امر کی طرف اشارہ ہے۔پھر مجوزین کے پیش نظر یہ حدیث بھی تھی، اس کے باوجود وہ جواز کے قائل ہیں ۔ اس سے بھی میرے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ تعویذ لکھنا شرک تو نہیں تاہم اس سے احتراز کرنا چاہئے۔ واللہ أعلم

اس موضوع پر میری تفصیلی گفتگو الاعتصام میں چھپ چکی ہے اسکی طرف مراجعت بھی مفید ہے۔


حوالہ جات
1. فتاویٰ ابن تیمیہ :ج1؍ص116، طبع جدید :ج1؍372
2. فتاویٰ اہلحدیث :1؍147 تا 150
3. فتویٰ نمبر: 4360
4. فتاویٰ اللجنة الدائمة :1؍336،337
5. فتویٰ مندرجہ بر صفحہ 335
6. فتویٰ بر صفحہ:1؍234
7. رقم:2015
8. صحیح بخاری ،کتاب النکاح، باب ما یحل من النساء وما یحرم ۔ ۔ ۔ الخ
9. فتح الباری :9؍157
10. رقم:1472
11. فتح الباری :9؍356
12. فتح الباری :12؍390
13. رقم:3418
14. رقم:5726
15. بیہقی :9؍350 اور مستدرک حاکم :4؍217
16. مسند احمد:4؍156
17. شرح السنہ: 12؍158
18. شرح السنہ :12؍158

 


 

i. دیکھئے : أشرف الحواشاز مولانا محمد عبدہ : صفحہ8، درسِ بخاری از حافظ محمد گوندلوی : صفحہ403،404 اور أحکام ومسائل از حافظ عبدالمنان نورپوری: صفحہ 69
ii. اسلام آباد کے ماہنامہ دعوة التوحید میں بھی یہی موقف پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، مزید دلائل اور تفصیل کے لئے دیکھیں : 'تعظیمی سجدہ کا حکم' (شمارہ جنوری 2005ء) ص 38 تا 41 (ح م)