میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم پر توہین آمیزظلم
بیت اللہ الحرام کا وہ خطبہ جمعہ جس سے تحریک ناموسِ رسالت نے جنم لیا !!



خطبہ مسنونہ کے بعد ...
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿٤٥﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا ﴿٤٦﴾ وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّـهِ فَضْلًا كَبِيرً‌ا ﴿٤٧﴾ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِ‌ينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿٤٨...سورۃ الاحزاب
''اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والابناکر، اس کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بناکر۔ آپ ان لوگوں کو بشارت دیں جوآپ پر ایمان لائے ہیں کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے اور آپ کفار و منافقین سے ہرگز نہ دبیں اور ان کی اذیت رسائی کی کوئی پرواہ نہ کریں ، اور اللہ پر ہی بھروسہ کریں، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ربّ کی رحمتیں ہوں اور ان کی آل اور صحابہ پرجن کو اللہ تعالیٰ نے شاہد اور مبشرو نذیر بناکربھیجا ۔ شاہد ہمیشہ انصاف کرتا ہے ، مبشر ہمیشہ خیر کا پیغام ہی لاتا ہے اور نذیر ہمیشہ محبت و شفقت کے ساتھ ہلاکت و تباہی سے ڈراتا ہے، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَ‌سُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِ‌يصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٢٨...سورۃ التوبہ

''دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا مشقت میں پڑنا، اس پر سخت گراں گزرتا ہے۔ تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے ایمان لانے والوں کے لئے وہ شفیق اور رحیم ہے۔''


اے لوگو! دنیاے کائنات پر اس دن صبح ِحق طلوع ہوئی اور انسانی زندگی کی نشاة ِثانیہ کا آغاز ہوا جب سب سے پہلے محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی کشتی کا پتوار اپنے ہاتھ میں لیا، ان پر میرے پروردگار کی طرف سے بے شمار درود و سلام ہو۔

اللہ کی قسم! اگر آج اس عظیم ترین انسان کا دفاع نہ کیا گیا تو روے زمین کی رونقوں اور بھلائیوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور دنیا ویران ہوجائے گی ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پرجلوہ گر ہوتے تو وہ کانپنے لگتا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لئے منبر پر چڑھتے تو آواز بلند ہوجاتی ، چہرہ سرخ ہوجاتا،یوں محسوس ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حملہ آور لشکر کی اطلاع دینے والے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبودیت کی سیڑھی پر سوار ہوکر سدرة المنتہیٰ تک پہنچے، اس روز جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد ِحرام سے بیت المقدس تک سیر کروائی :

 


أسریٰ بك اﷲ لیلًا إذ ملائکه
والرسل في المسجد الأقصٰی علی قدم

لما رأوك به استسقوا بسیدھم
کالشھب في البدر أو کالجُند بالعَلَم

صلی وراء ك منھم کل ذي خَطَر
ومن یخز بحبیب اﷲ یأتمِم

یُؤتي السماوات أوما فوقَھن دُجی
علی منوَّرَة دُرِّیَة النُّجُم

رکوبة لك من عِزٍّ ومن شَرَفٍ
لافي الجیاد ولافي العین کالرُّسُم

مشیئة الخالق الباري وصَنعته
وقدرة اﷲ فوق الشك والتُّھَم

اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی، جیساکہ فرمانِ الٰہی ہے:

لَعَمْرُ‌كَ إِنَّهُمْ لَفِى سَكْرَ‌تِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿٧٢...سورۃ الحجر
''تیری جان کی قسم! اے نبی، اس وقت اِن پر نشہ چڑھا ہوا تھا، جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے۔''

حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے : ''ما خلق اﷲ وما ذرع نفسًا أکرم من محمد ﷺ وما سمعتُ اﷲ أقسم بحیاة أحد غیرہ'' 1
''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عزت والاکوئی ذی نفس پیدا نہیں کیا۔ اور میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور انسان کی زندگی کی قسم کھائی ہو ۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پربے شمار درودوسلام ہوں۔ وہ اولاد ِآدم کے سرداراور اس میں کوئی فخر کی بات نہیں، وہ سب سے پہلے قبر سے اُٹھیں گے، وہ سب سے پہلے سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔ حمد کا جھنڈا روزِقیامت ان کے ہاتھ میں ہوگا اور اس میں کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام 'محمد 'جو ' حمد 'سے مشتق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کائنات میں سے سب سے بڑھ کر اللہ کی تعریف و شکر کرنے والے تھے۔

اور آپ کے والد کا نام عبداللہ تھاجواللہ تعالیٰ کی عبودیت سے ماخوذ ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اﷲ ورسولہ کہہ کر پکارا جائے کیونکہ وہی اللہ کی اطاعت و بندگی پر مبنی دین ِ خالص کولے کر اُٹھے تھے۔

آپ کی والدہ کا نام آمنہ تھا جو امن و امان کا آئینہ دار ہے اور یقینا آپ کی شریعت امن کا پیغام تھی، اسی دین اور وحی کی بدولت کائنات کو پھر سے امن و امان کی دولت نصیب ہوئی۔

اور آپ کی پرورش کرنے والی کا نام اُمّ ایمن تھا جو خیروبرکت کامظہر ہے۔

اور آپ کو دودھ پلانے والی کا نام حلیمہ تھا جو حلم و بردباری کا نشان ہے۔

یہ اور اس جیسی تمام صفاتِ حسنہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی میں جمع ہوگئیں تھیں!!

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر تھے تو اس کا تقاضا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہرلحاظ سے کامل ہو اور تمام انبیا و رسل کی تمام اعلیٰ صفات کا آپ بے مثل نمونہ ہوں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب ایک قول ہے :
''ما أوتي نبي من معجزة ولا فضیلة إلا لنبینا ﷺ نظیرها''
''انبیا کے تمام معجزات وفضائل کی نظیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھی۔''

یاخاتم الرسل المبارك والعلو صلیّ علیــك مُنــزل القــرآن
''اے خاتم الرسل جس کی ذات بابرکت اور شان بلند ہے۔ قرآن کا نازل کرنے والا تجھ پر رحمتیں نازل فرمائے۔''

پاک ہے وہ ذات جس نے آپ کی سمع و بصارت کو تزکیہ کا اعلیٰ نمونہ بنا دیا اور آپ کو کائنات پر فضیلت بخشی۔ اس نے انسانیت کی تمام صفاتِ کمال اور کمال اخلاق آپ کی ذات میں رکھ دیے۔ آپ کی شان کتنی عظیم ہے کہ خود پروردگار نے آپ کو {إنك لعلى خلق عظيم}کا خطاب دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا :
ٍ(أدبني ربي فأحسن تأدیبي) 2
''میرے ربّ نے مجھے آداب سکھائے اور بہترین آداب سکھائے۔''

حسان بن ثابت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا :

وأحسن منك لم تر قط عیني وأجمل منك لم تلد النساء
خلقت مبرأ من کــل عیـب کـأنك قد خلقت کما تشاء


''آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر خوبصورت آج تک میری آنکھ نے نہیں دیکھا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین و جمیل کسی ماں نے نہیں جنا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نقص و عیب سے پاک پیدا ہوئے، گویا ایسے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔ ''

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفاتِ حمیدہ کا شدید دشمنوں نے بھی اعتراف کیا، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شہادتوں اور تزکیوں کے چنداں محتاج نہیں ہیں!!

ہم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ عالیہ اور اعلیٰ محاسن کو یاد کرنے جمع نہیں ہوئے،ہم ان میں کبھی شک نہیںکرسکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ اولادِ بنی آدم کے سردار، تقویٰ و طہارت کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ لوگو! آج جھوٹے اور سچے کی تمیز کا وقت آگیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم صدیوں سے مسلط ذلت و رسوائی کے اسباب کا جائزہ لیں۔ ہر جگہ مسلمانوں کی آہ و بکا سنائی دے رہی ہے لیکن کوئی اس پر کان دھرنے والا نہیں۔ آج چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی ہماری چیخ و پکار کی بازگشت بھی ہمیں سنائی نہیں دیتی۔ ہم کب تک نفرت و حقارت کی تصویر بنے رہیں گے ۔کیا آج ہم سے بھی بڑھ کر کوئی رسوا اس دنیا میں موجود ہے؟ ایساسب کچھ کیوں...؟

اس لئے کہ جب ہم نے اپنے پروردگار کے اوامر کا احترام چھوڑ دیا تو اللہ نے لوگوں کے دلوں سے ہمارا رعبختم کردیا۔اگر ہم اپنے ربّ کا حکم مانتے تو آج ہمیںان ذلتوں سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ اگر ہم سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رستے کا چراغ بناتے تو آج خوف وسراسیمگی کی یہ خوفناک حالت ہم پر طاری نہ ہوتی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے مرض کی تشخیص چودہ سو سال پہلے کرکے اس کا علاج بھی بتا دیاتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :
(إذا تبایعتم بالعینة وأخذتم أذناب البقر ورضیتم بالزرع وترکتم الجھاد سلَّط اﷲ علیکم ذلا،لا ینزعه حتی ترجعوا إلیٰ دینکم) 3
جب تم کاروبار میں بیع عینہi(سود کی ایک قسم ) کا معاملہ کرنے لگو گے اور بیل کی دمیں پکڑے کھیتی باڑی میں مگن ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ذلت و رسوائی میں گرفتار کردے گا اور تم ذلت و رسوائی کی اس اتھاہ وادی اس وقت تک نکل نہیں سکو گے جب تک دین کی طرف پلٹ نہیں آؤ گے۔''

اپنے ماضی ٔرفتہ کو یاد کرو جب مسلمان عزت دار تھے، جب ایک مظلوم عورت کی آواز : وا إسلاماہ'' پر معتصم نے اس کی مدد کے لئے لشکر روانہ کیا ۔ اس عظمت ِرفتہ کو یاد کرو جب حضرت معاویہ ؓنے شاہِ روم کو خط لکھتے ہوئے اسے ''اے روم کے کتے!''کے الفاظ سے مخاطب کیا تھا۔آج ہم ذلت کے گھونٹ پی رہے ہیں۔ ہمارے احساسات مردہ ہوگئے، ہمارے جذبات سرد پڑگئے۔ گائے کے بیوپاریآج ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور ہم بائیکاٹ کے پمفلٹ ہاتھ میں لئے ان سے معذرت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

کون سی معذرت؟ اس سے بڑھ کر کوئی بے بسی ہوگی کہ ہم ظلم پر ان سے معذرت کے خواستگار ہیں،کیوں؟ اس لئے کہ ہم نے ذلت کا لباس پہن لیا ہے... !!

لوگو! اب مسئلہ ڈیری مصنوعات کے بائیکاٹ کا نہیں، یہ تو ہماری موت اور زندگی کا سوال ہے۔ اب ہمیں موت و حیات میں سے کسی ایک کے انتخاب کافیصلہ کرنا ہوگا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، بتاؤ!تاریخ ہمارے بارے میں کیا رائے قائم کرے گی۔ مستقبل کا مؤرخ ہمارے بارے میں لکھے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کی تھی۔

ہمیں جائزہ لینا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور عظمت کیا ہے اور ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے پس پردہ کیا محرکات اور مقاصد کار فرما ہیں اور محبینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کردار ہونا چاہئے...؟

رحمتہ للعالمین پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے متعلق فرماتے ہیں:{وَمَآ أَرْ‌سَلْنَـٰكَ إِلَّا رَ‌حْمَةً لِّلْعَـٰلَمِينَ ﴿١٠٧...سورۃ الاحزاب} جس نے اس رحمت کو قبول کیا اور اس نعمت پراللہ کا شکر ادا کیا، وہ دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوا اور جس نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا، اس نے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کیا۔

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے حدیث ہے، کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے خلاف بددعا کیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إني لم أُبعث لعّانًا وإنما بعثتُ رحمة) 4
''مجھے بددعا دینے والانہیں بلکہ رحمت بنا کربھیجا گیا ہے۔''

ایک حدیث میں ہے :
(أنا رحمة مھداة) 5
''مجھے رحمت کا تحفہ دے کر بھیجا گیا ہے۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت صرف انسانوں پر محدود نہیں تھی، بلکہ حیوان بھی اس ابر ِرحمت سے محروم نہ رہے ۔سنن ابی داؤد میں عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میںتھے۔ ہم ایک درخت کے قریب سے گزرے، وہاں پر ایک چڑیا کو اپنے بچوں کے ساتھ گھونسلے میں دیکھا۔ ہم نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا۔ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم چڑیا پر اس ظلم کو برداشت نہ کرسکے اور بچوں کو واپس رکھنے کا حکم دیا ۔اس لئے کہ وہ دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کرنے آئے تھے۔افسوس ! ایسے خوبصورت مناظر سے ظالموں کی آنکھیں اندھی ہوگئیں۔ سید الابرار کی زندگی کے یہ بے مثل واقعات ان کی نظروں سے کیوں اوجھل ہوگئے!!

زید بن ارقم ؓکابیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے۔کسی دیہاتی نے ایک ہرنی کوجنگل سے پکڑ کر باندھ رکھا تھا ۔ جب ہم وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ ایک ہرنی وہاں بندھی ہوئی ہے۔ ہرنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو شکوہ کناں ہوئی کہ یہ دیہاتی مجھے جنگل سے شکار کرکے لے آیاہے ۔ میرے تھنوں کا دودھ مجھ پر گراں ہوگیاہے۔ مجھے آزاد کردیں کہ میں اپنے بچوں کے پاس چلی جاؤں اور میرے دودھ سے مجھے آرام مل جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تجھے چھوڑ دوں تو کیاتو اکیلی چلی جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں چلی جاؤں گی۔ اسی دوران وہ دیہاتی بھی آگیا، جس نے اسے باندھ رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیااس ہرنی کو بیچو گے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہرنی کو آزاد کردیا۔ حضرت زید بن ارقم ؓکابیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے صحرا میں اس کو آواز لگاتے ہوئے سنا۔ وہ کہہ رہی تھی:
لا إلــــہ إلا اﷲ محمـــد رســـــول اﷲ

حضرت اُمّ سلمہ اور دیگر صحابہؓ سے اس کے اور طرق بھی ہیں۔

یہ نبی ٔرحمت کہ انسان تو انسان، حیوان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت سے فیض یاب ہوئے، ایسے پیغمبر کی ایسی فحش تصاویر اور خاکے بنانا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ یہآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسین و جمیل سراپا کے ساتھ انتہائی بھونڈا مذاق ہے۔

حضرت جابر بن سمرہ ؓکا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چودہویں کی ایک خوبصورت رات کو سرخ لباس میں ملبوس دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی چمک کے سامنے چاند کی روشنی بھی ماند پڑگئی تھی۔
'' جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک اُٹھتا اور یوں محسوس ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔ (حضرت کعبؓ )

ربیع بن معوذ نے محمد بن عمار بن یاسرؓ سے کہا:'' اگر آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے تو پکار اٹھتے کہ سورج اپنے برجوں سے طلوع ہورہا ہے۔''
قد نہ زیادہ لمبا تھا ، نہ پست ( انسؓ)
رنگ سفید سرخی مائل اور آنکھیں سیاہ، پلکیں دراز (حضرت علیؓ)
سفید حصے میں سرخ ڈورے، آنکھوں کا خانہلمبا، قدرتی سرمگیں اور چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح گولائی مائل تھا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے زیبا کتنا خوبصورت اور حسین و جمیل تھا ...!!


اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ کو اگر دنیا کی آدھی خوبصورت دی گئی تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری دنیا کا حسن عطا کیا گیا۔ اُردو کا شاعر کہتا ہے :

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری      آنچہ خوباں وہ ہمہ دارند تو تنہا داری


حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کشادہ، ابرو خمدار، باریک اور گنجان، دونوں جدا جدا، دونوں کے درمیان ایک رگ کا اُبھار جو غصہ آنے پر نمایاں ہوجاتا۔ ناک بلندی مائل، اس پرنورانی چمک۔ دندان مبارک باریک، آبدار، سامنے کے دو دانتوں میں خوشنما ریخیں، جب تکلم فرماتے تو دانتوں سے چمک سی مہکتی۔(ابن عباسؓ، حضرت انسؓ)

سر اور ریش کے بال گھنے اور گنجان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی داڑھی نہیں منڈائی اور داڑھی چھوڑنے کا حکم دیا اور اسے منڈانے سے منع فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
''(یہود نصاریٰ )کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو۔ '' 6

لیکن افسوس ! آج ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت اچھی نہیں لگتی...!!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قدرے خمدار، نہ گھنگریالے اور نہ بالکل تنے ہوئے ۔ (انسؓ)
گنجان، کبھی کبھی کانوں کی لو تک لمبے، کبھی شانوں تک ۔ (براء بن عازبؓ)
سر اور ریش مبارک میں سفید بال 20 سے زیادہ نہیں تھے۔ صحابہ کرامؓ آپ کا حسین سراپا دیکھتے اور دیکھتے ہی رہ جاتے۔

صحابہ کرام کی نبی ٔرحمت سے محبت
صحابہؓ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اشتیاق کااندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے صحابہؓ کے پاس تشریف لائے۔ایک صحابی کو سخت پریشان اور غمزدہ دیکھا تو اس کا سبب پوچھا، اس نے جواب دیا: مجھے ایک بات نے پریشان کررکھا کہ آج آپ ہمارے ساتھ موجود ہیں اور ہمیں آپ کی صحبت حاصل ہے اور آپ سے ملنے کا شوق فراواں ہے۔ لیکن جب ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوجائیں، ہم جنت میں ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے سب سے اعلیٰ درجہ میں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے دیکھ سکیں۔اور اگر ہم جہنم میں چلے گئے تو پھرکیا بنے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس محبت کرنے والے کو خوش خبری سنائی کہ) المرء مع من أحب(کہ ''آدمی روزِ قیامت اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔ ''

ہمیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت ہے، کیونکہ حب ِرسول ؐ ہی ایمان کا حصہ ہے:
(لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیه من والدہ وولدہ والناس أجمعین) 7
'' تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کی اولاد ، والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں۔''

واﷲ ماطـلعت الشمس ومـا غربت إلا وحبك مقرون بأنفاسي
ولا جلست بقوم أحدثھم إلا وأنت حـدیثی بیـن جُلَّاسي

''اللہ کی قسم! سورج کے طلوع و غروب میں ہر پل آپ کی محبت میرے سانسوں میں رواں ہے اور جب بھی میں کسی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی میری گفتگو کا موضوع ہوتے ہیں۔''

صحیح مسلم کی حدیث ہے؛ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ
'' آپ کی رنگت چمکدار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو پسینہ مبارک ایسے گرتا جیسے سرخ موتی گر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد حریر و ریشم سے زیادہ نرم تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کی خوشبو عنبر اور کستوری سے بھی زیادہ پیاری تھی۔''

ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور قیلولہ کے لئے لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قدرے زیادہ پسینہ آتا تھا۔ میری ماں اُمّ سلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ایک شیشی میں ڈالنے لگیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو پوچھا: اُمّ سلیم کیا کررہی ہو؟ کہنے لگیں، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے ہم اسے بطورِ خوشبو استعمال کریں گے۔ صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت کا اندازہ اس واقعہ سے کیاجاسکتا ہے۔

جنگ ِبدر میںصفوں کی درستگی کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تیر تھا، جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف سیدھی فرما رہے تھے کہ سواد بن غزیہ کے پیٹ پر،جو صف سے کچھ آگے نکلے ہوئے تھے، ہلکا دباؤ ڈالتے ہوئے فرمایا: سواد برابر ہوجاؤ۔ سواد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، بدلہ دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ کھول دیا اور فرمایا: بدلہ لے لو۔ سوادؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کو چومنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سواد! تجھے ایسا کرنے پر کس بات نے آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ درپیش ہے، آپ دیکھ ہی رہے ہیں، شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہو تو میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری ملاقات اس طرح ہو کہ میری جلد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد سے چھو جائے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی۔دیکھئے! کائنات کا سپہ سالار اپنے آپ کو پورے لشکر کے سامنے قصاص کے لئے ایک سپاہی کے حوالے کررہا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کا تذکر کئے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت مکمل نہیں ہوسکتی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان تھی، بالکل ایسے جیسے کبوتر کا اَنڈہ۔ یہ جسم مبارک کے مشابہ تھی اور اس پر مسوں کی طرح تلوں کا جمگھٹ تھا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور نبوت کا نشان تھا جس کاتذکرہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں کیا ہے۔

اور بعض نے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا تو اس پر یوں مہر لگا دی گئی جس طرح کہ کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کو بند کرکے اس پرمہر لگا دی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے ہادی اور معلم تھے، اللہ کی حدود کے معاملے میں انتہائی عادل اور سخت تھے لیکن اپنی ذات کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ نرم اور رحم دل تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادارتھے۔

ایسے رحمت وشفقت کے مجسمہ اور حیا دارپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی حیا باختہ تصاویر اور خاکے بناتے ہوئے ان لوگوں کوشرم آنی چاہیے تھی۔ قاتلہم اﷲ أنیٰ یؤفکون!جو تمام اعلیٰ انسانی کمالات کا حسین مرقع تھے اور دنیا کا کوئی انسان آپ کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔آپ ؐنے اپنی قوم کے ظلم وستم کا جواب ایسی عظیم الشان دعوت سے دیا کہ کفر وشرک اور سرکشی کی تمام آندھیاں چھٹ گئیں اور دنیا کووہ درس دیا کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکا۔

عیسائی بادشاہ ہرقل نے ابو سفیان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ سننے کے بعد اس سے یہ کہا تھا کہ جو کچھ تم نے بتایا ہے ، اگر وہ سچ ہے تو یہ شخص جلد میری ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک بن جائے گا، اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش اور جزیرئہ عرب کی طرف رسول بناکر نہیں بھیجے گئے،بلکہ پوری کائناتِ ارضی کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیے گئے۔ بچپن سے چالیس سال تک آپ کی زندگی تقویٰ اور عفت کی اعلیٰ مثال اور چالیس سال سے وفات تک دعوت وجہاد کا عملی نمونہ، گویا بچپن سے وفات تک آپؐ کی زندگی ایک کھلی ہوئی کتاب کی مانند تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس داعی ٔ برحق کے نقشہ زندگی کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا:
فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرً‌ا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿١٦...سورۃ یونس

وہ شخص جس نے چالیس سال تک کسی سے جھوٹ نہیں بولا،ساری کسوٹیوں پر اپنے آپ کو کھرا ثابت کیا۔کیا عقل اس بات کوتسلیم کرتی ہے کہ اس کے بعد وہ اللہ پر جھوٹ باندھے گا؟ نہیں نہیں، بلکہ کفارِ مکہ خود ہی اپنی عقل کے دشمن بن گئے تھے۔مفاد اور تعصبات نے ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا تھا۔

اور پھر جب نبوت کا بھاری بوجھ آپؐ کے کندھوں پر ڈال دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید خوف کی حالت میں حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو تو اس وقت آپ کی زندگی اور کردار سے واقف وہ خاتون پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتی ہے:
'' بخدا ! اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا،آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، در ماندوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، تہی دستوں کابندوبست کرتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصائب پر مدد کرتے ہیں۔'' 8

پورا واقعہ معلوم کرنے کے بعد حضرت خدیجہ ؓ آپؐ کو اپنے اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو دورِ جاہلیت میں عیسائی مذہب قبول کر چکے تھے اور انجیل کے عالم تھے۔حضرت خدیجہؓ سے پوری بات سننے کے بعد سنئے کہ وہ بوڑھا اورآنکھوں سے نابینا انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتا ہے: ''یقینا یہ اِس اُمت کا نبی ہے۔'' اور پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا: ''اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تو وہی ناموس ہے جو موسیٰ ؑ کے پاس آیا کرتا تھا۔''
پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پکڑ کر اسے بوسا دیا اور کہا کاش! میں اس وقت توانا اور زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔

رسول اللہ نے فرمایا: اچھا تو کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا: ہاں! جب بھی کوئی آدمی اس طرح کا پیغام لایا، جیسا آپ لائے ہیں تو اس سے ضروردشمنی کی گئی اور اگر میں نے آپ کا زمانہ پا لیا تو آپ کی زبردست مدد کروں گا۔اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہوگئے۔ 9

پھر جب {يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ‌ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ‌ ﴿٢﴾ وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ ﴿٣﴾ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ﴿٤...سورۃ المدثر}آیات نازل ہوئیں اور قوم کا یہ چمکتا ہوا ہیرا اور صادق وامین کا لقب پانے والا اللہ کا یہ پیغمبر دین الٰہی کی دعوت لے کر کھڑا ہوا توزمانہ کی آنکھوں کا رنگ ڈھنگ بدل گیا۔ مخالفتوں کے طوفان اُٹھے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐکے ساتھیوں کو سنگین عذابوں سے گزرنا پڑا۔ آلِ یاسر پر جو بیتی تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔

یہ سب کچھ اس لیے برداشت کیا گیا کہ انسانیت شرک کی وادی سے نکل آئے۔حتیٰ کہ جب کفارِ مکہ کی سختیاںاور تشدد حد سے گزر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم دینا پڑا۔

لیکن آپؐ مکہ میں کفار کے ظلم وستم کے مقابلے میں پہاڑ بن کر کھڑے ہوگئے۔ظلم وستم کی آندھیاں اُٹھیں اور گزر گئیں لیکن آپؐ کے قدموں میں ہلکی سے لغزش بھی پیدا نہ کر سکیں اور آپؐ نے{وَجَـٰهِدْهُم بِهِۦ جِهَادًا كَبِيرً‌ا ﴿٥٢...سورۃ الفرقان} کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

جب کفار کی تمام تدابیر ناکام ہو گئیں تو اُنہوں نے آپؐ کو عرب کی حسین وجمیل عورت، بادشاہت اور مال وزر کا لالچ دیا۔جب یہ سازش بھی ناکام ہو گئی تو اُنہوں نے دھمکیاں دیں لیکن آپؐ نے عزیمت ِمجاہدانہ سے سرشار ہو کر یہ جواب دیا :
''خدا کی قسم! یہ لوگ اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پرچاند رکھ کر چاہیں کہ اس مشن کو چھوڑ دوں تو میں اس سے باز نہیں آ سکتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس مشن کو غالب کر دے یا میں اس جدوجہد میں کام آ جاؤں۔''

پھر ابو طالب اور مونس وغمگساربیوی حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کا سالِ اندوہ اور اس کے بعد طائف میں آپ پر جو گزری وہ بقولِ عائشہ ؓ صدیقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اندوہناک دن تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے سرداروں کو دعوت دی تو ایک بدبخت نے کہا: اگر واقعی اللہ نے ہی آپ کو بھیجا ہے توپس وہ کعبہ کا غلاف نچوانا چاہتا ہے ۔دوسرے نے تمسخر اُڑاتے ہوئے کہا :کیا ربّ کو تمہارے علاوہ رسالت کے لیے کوئی اور موزوں آدمی نہیں ملا اور تیسرے نے کہا :اللہ کی قسم! میں تجھ سے بات تک نہیں کرنا چاہتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر وثبات اور تحمل سے یہ سارے تیر برداشت کیے۔

پھر اُنہوں نے بازاری لونڈوں اور غلاموں کو آپؐ کے پیچھے لگا دیا، وہ آپ کو گالیاں دیتے، ٹخنے کی ہڈیوں پر پتھر مارتے، آپ ؐ نڈھال ہو جاتے تو بیٹھ جاتے ۔جوتیاں خون سے بھرگئیں تو آپؐ نے بالکل بے دم ہو کر ایک باغ میں پناہ لی۔

اِسی عالم میں قرنِ منازل کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور عرض کیا :پہاڑوں کا نگران فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہے، اگر آپ چاہیں تو وہ اس ظالم قوم کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل دے۔اس وقت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو الفاظ ارشاد فرمائے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یگانہ روز شخصیت کی ایک جھلک اور آپ کے اخلاقِ عظیم کا جلوہ دیکھا جا سکتا ہے۔فرمایا:
''نہیں،بلکہ مجھے اُمید ہے کہ اللہ عزوجل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔''

اے پیغمبر کی توہین کرنے والو!مکہ اور اس کے باشندوں سے پوچھو،طائف اوراس کےپہاڑوں سےسوال کروکہ اس محسن انسانیت ﷺ نبی کی عظمت کیا ہے؟

اللہ کی قسم! زبان وقلم کی وسعتیں، مدتوں کی زمزمہ خوانیاں اور دفتروں کے دفتر بھی آپ کی عظمت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

کوئی بڑے سے بڑا سیرت نگار، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نگاری کاحق ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، کوئی بڑے سے بڑا زور آور قلم بھی اس ہستی کے تذکر ہ کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کایارا نہیں رکھتا...!!

چنانچہ جب کفارِ مکہ کی اذیت ناکیاں او رتوہین آمیزیاں حد سے بڑھ گئیں تو حق تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان ہوا:

وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُ‌سُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُ‌وا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴿١٠...سورۃ الانعام
''اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اُڑایا جاچکا ہے، مگر ان مذاق اُڑانے والوں کو اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔''


وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُ‌سُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُ‌وا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمْ نَصْرُ‌نَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِ ٱللَّهِ...﴿٣٤﴾..سورۃ الانعام
''تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، اُنہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی، اللہ تعالیٰ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔''

اور آج اس توہین آمیزی کے مرتکب افراد خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور وہ اپنے انجامِ بد سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور یہ اللہ کی طرف سے ہمارے ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری محبت کا امتحان ہے کہ ہم نے اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ میں کیاکردار ادا کیا ...!!


حوالہ جات
1. تفسیرطبری: 14؍44
2. جامع الصغیر :249
3. ابوداود:3462
4. مسلم :2599
5. مستدرک حاکم :1؍91
6. ابوداؤد :4031
7. صحیح بخاری:15
8. صحیح بخاری :3
9. صحیح بخاری: 3

 


 

i.  بیع کی ایسی قسم جس میں کوئی شے ایک خاص وقت تک اُدھار بیچی جائے،پھر وہ شے کسی بہانے کم قیمت پر خریدی جائے ۔