میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مسلمان دنیا بھر میں ان دنوں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پرزور احتجاج کررہے ہیں اور اس سلسلے میں میڈیا پر ہرطرح کی خبریں، مظاہرے ومباحثے، مضامین اور مقالات شائع ہو رہے ہیں اورعملاً یہ احتجاج روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔اس کے بالمقابل اس ظلم کا ارتکاب کرنے والے اپنی زیادتی پر بھی اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

توہین آمیز خاکوں میں کئی چیزیں ایسی ہیں جن سے مسلمانوں کا اشتعال میں آنا لابدی امر ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس بارے میں جواتفاقِ رائے سامنے آیا ہے، اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ پھر ان خاکوں کی مذمت کرنے والوں میں صرف مسلمان ہی پیش پیش نہیں،بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بھی ان کے ہم آواز ہیں، حتیٰ کہ دین ومذہب سے بالا ہو کر آزاد خیال لیکن سنجیدہ فکر لوگ بھی ان خاکوں کی مذمت کررہے ہیں۔

توہین آمیز خاکے اوراسلام
جہاں تک اس احتجاج کا تعلق ہے تو یہ اس ظلم وزیادتی کا رد عمل ہے، لیکن ان خاکوں یا کارٹونوں میں کونسی چیزیں ایسی پائی جاتی ہیں، جن پر اعتراض کیا جارہا ہے؟ اکثر مضامین میں اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی، ذیل میں ہم ان وجوہات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی بنا پر یہ کارٹون دنیا بھر کے سلیم الفکر لوگوں کی دلآزاری کا سبب بنے ہیں ، مثلاً
دیگر مذاہب کے ماننے والے تو اپنی مقدس شخصیات کی تصاویر بنانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جیساکہ عیسائی حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑکی تصاویر اکثر وبیشتر اپنے چرچوں یا گھروں میں آویزاں کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے مجسمات بنانے میں کوئی حرج بھی محسوس نہیں کیا جاتا،بلکہ بعض مذاہب میں تو انہی مجسّموں کی ہی عبادت کی جاتی ہے مثلاً ہندو اور بدھ مت وغیرہ۔ البتہ اسلام جو الہامی مذاہب کی آخری اور مکمل ترین شکل ہے، اس کی رو سے مقدس شخصیات کی تصویر کشی کرنا یا ان کے مجسّمے بنانا بذاتِ خود خلافِ شرع ہے جب کہ اس تصویر یا مجسّمے میں اہانت یا رسوائی کا کوئی پہلو بھی نہ پایا جاتا ہو!!

اسلام کی رو سے تصویر بنانا ناجائز او رمجسمہ سازی حرام ہے۔ اور تصویر سازوں کے لئے زبانِ رسالتؐ سے مختلف وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ ایسے ہی مجسمہ سازی بھی حرام ہے اور آج تک مسلم معاشروں کی تاریخ اس تصور سے یکسر خالی رہی ہے۔ تصویر بنانے کی اس حرمت کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں بطورِ خاص شرک کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔

چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مقدس شخصیات کی تصاویر میں 'شرک کے نکتہ آغاز بننے کا یہ امکان' قوی تر ہوجاتا ہے، اس لئے عام آدمی کی تصاویر پر تو کوئی بحث مباحثہ ہو سکتا ہے لیکن متبرک شخصیات کی تصاویر کی اسلام میں کلیتاًکوئی گنجائش نہیں نکل سکتی۔

تصویر سازی کے عنصر کے علاوہ مقدس شخصیات کی تصاویر میں ایک پہلو ان پر تہمت طرازی کا بھی ہے۔ کیونکہ جب ان کی تصویر کے بارے میں کوئی یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ فلاں نبی ؑ کی تصویر ہے بلکہ وہ تصویر یا مجسمہمحض مصور کے ذ ہنی تخیل پر مبنی اور اس شخصیت کے بارے میں اس کے ذاتی احساسات وتصورات کا عکاس ہے جو ظاہر ہے کہ محض اس کے ذاتی تصور سے زیادہ کوئی واقعاتی یا مستند حیثیت نہیں رکھتا۔اگر یہی مصور اس تصویر کو کسی اور شخصیت سے منسوب کردے تو ناظرین کے پاس اس کو تسلیم کرنے کے سوا بھی کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

علاوہ ازیں اسلام کا معمولی علم رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مسلمانوں کے ایمان کا جز ہے، اور آپ کا ہرقول وفعل ایک شرعی حیثیت رکھتا ہے، ایسے ہی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بھی آپ پر ایمان رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ومحور اور ان کے لئے اُسوئہ حسنہ ہے۔ اس سیرت کی اتباع کرنا، ان کے تصورِایمان میں داخل ہے۔ ایک تصویر یا مجسمہ ایک شخصیت کا عکاس ہوتا ہے، جس میں اس شخصیت کی سیرت کے کئی پہلو جھلکتے ہیں۔ آپ کی ایسیصورت وسیرت سے محبت جو مبنی برحقیقت نہیں بلکہ محض کسی انسان کے تخیل کی پرواز کا نتیجہ ہے، اسلامی احکام اور اُسوئہ حسنہ کے تصور میں خلل کا باعث بنے گی۔

انبیا کرام ؑ کی مبارک صورتوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص وقار عطا کیا ہے۔ اور شیطان کو بھی اس امر پر قدرت نہیں دی کہ وہ انبیاکی صورت اختیار کرسکے۔ جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن موجود ہے: ''جو شخص خواب میں میری زیارت سے مشرف ہوا، اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار کرنے پر قادر نہیں۔'' 1

اہانت ِانبیا پر مسلم اداروں کا مشہور موقف: ہمارا یہ موقف نیا نہیں کہ غیر مسلموں کو لاعلمی کی رعایت مل سکے۔ بلکہ نہ صرف انبیاء کرام بلکہ صحابہ کرامؓ کی تصاویر اور فلموں میں اداکاری کے حوالے سے بھی عالم اسلام کے مسلمہ دینی اداروں کا موقف بھی اہل علم میں مشہور ومعروف ہے۔ اس سلسلے کی ایک تفصیلی بحث 31 برس قبل سعودی عرب کی وزارت مذہبی اُمور کے ایک تفصیلی فتویٰ میں شائع کی جا چکی ہے۔

یوں تو اس فتویٰ میں براہِ راست اس موضوع کو زیر بحث بنایا گیا ہے کہ کیا صحابہ کرامؓ کے کردار کو فلمایا جاسکتا ہے، لیکن اسی ضمن میں انبیا کرامؑ کی تصاویر اور ان کے مجسمات پر بھی سیر حاصل بحث موجود ہے۔ اس بحث میں رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ، المنظمات الإسلامیة العالمیة، ازہر کی فتویٰ کونسل اور سعودی عرب کی کبار علما کونسل کے فتاویٰ کو بنیاد بناتے ہوئے سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی نے شیخ محمد بن ابراہیم رحمة اللہ علیہ آلِ شیخ کی سربراہی میں ان تمام چیزوں کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے اور اسے ان مقدس شخصیات کی اہانت سے تعبیر کیا ہے۔ اس مضمون میں حرمت کی بنیاد بننے والے نقصانات اور مفاسد کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی آیات اور احادیث ِنبویہؐ سے بھی استدلال کیا گیا ہے، تفصیل کے شائقین کے لئے 25 فل سکیپ صفحات پر پھیلے ہوئے اس فتویٰ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ 2

مذکورہ بالا دو نکات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصاویر بنانا بذاتِ خود اسلامی احکامات سے متصادم ہے گو کہ ان میں اہانت کا کوئی پہلو بھی نہ پایا جائے۔ایسی تصاویر شرک کا پیش خیمہ، صریح فرامین ِرسالتؐ کی مخالفت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت وسیرت پر اتہام کی قبیل سے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری روایات میں مقدس شخصیات کی تصاویر کا کوئی وجود نہیں پایا جاتا۔ البتہ حالیہ واقعات میں جب ان تصاویر میں اہانت او راسلامی تعلیمات کے مذاق کا پہلو بھی بطورِ خاص شامل کرلیا جائے تو یہ مکروہ فعل شرعی گناہ سے بڑھ کر ایک عظیم جسارت کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ جس کا مرتکب اگر مسلمان ہو تو وہ دائرئہ اسلام سے خارج ہوکر مرتد ہو جاتا ہے اوراگر غیر مسلم ہو تو تب بھی اس کو کسی طو رپر گوارا نہیں کیا جاسکتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم رہتی دنیا تک تمام انسانیت کے نبیؐ ہیں، جملہ مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں تو آپ کاتذکرہ کسی نہ کسی صورت میں پایا جاتا ہی ہے جبکہ باقی انسانیت کی فطرتِ سلیم میں قرآن کی رو سے ربّ کی توحید کا اقرار اور اسلام کی حقانیت کا اثبات موجود ہے۔ آج اگر بعض کم نصیبوں کو آپؐ کی رسالت قبول کرنے کا شرف حاصل نہیں ہوا اور وہ آپ کی اُمت ِاجابت میں شامل ہونے سے محروم ہیں تو پھر بھی وہ آپؐ کی اُمت ِدعوت میں ضرور شامل ہیں۔ اور یہ بات کئی فرامین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے۔

آپ نے دیگر انبیا کرام ؑ سے اپنے امتیازات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس امتیاز کا بھی تذکرہ فرمایا کہ ''پہلے انبیا ایک مخصوص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام انسانیت کے لئے بھیجا گیا ہوں۔''(بخاری: 438) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت انسانوں سے بڑھ کر جانوروں کو بھی شامل ہے اور آپ کا لقب رحمتہ للعالمین ہے۔آپ شرفِ انسانیت اور اللہ عزوجل کے محبوب ِگرامی ہیں، اس لئے آپ کی توہین انسانیت کی توہین کے مترادف ہے، جس کی کسی غیر مسلم کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دور نبویؐ کے متعدد واقعات اس پر شاہد ہیں کہ توہین کے مرتکب یہودیوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے جانثاروں کو بھیج کر قتل کروایا۔ یہ شانِ رسالتؐ کا تقاضا ہے کہ کل انسانیت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا تحفظ کی جائے۔ حضرت ابو بکرؓ کا فرمان ہے :
لا واﷲ ما کانت لبشر بعد محمد ﷺ 3 مختصراً
''اپنی توہین کرنیوالے کو قتل کروا دینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لئے روا نہیں ہے۔''

اسلام نے یہ اعزاز صرف نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص نہیں کیا بلکہ ناموسِ رسالت کے اس تحفظ میں تمام انبیاے کرام کو بھی شامل کیا۔ ایک طرف مسلمانوں کو ہر قوم کی مقدس شخصیات اور شعائر کے احترام کا درس دیا اور دوسری طرف تمام انبیاکا یہ حق بنا دیا کہ ان کی شان میں توہین کرنے والوں کو زندگی کے حق سے محروم کردیا جائے۔اس سلسلے میں امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے حضرت موسیٰ کے ایک قصے پر اپنی کتاب الصارم المسلول میں تفصیلی بحث کرتے ہوئے بڑا بلیغ استدلال کیا ہے :
حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ان کے عم زاد بھائی قارون نے سازش تیار کی اور ایک فاحشہ عورت کو مال وزر کے لالچ سے اس بات پر آمادہ کرلیا کہ جب میں اپنے حواریوں میں بیٹھا ہوں تو میرے پاس آکر فریاد کرنا کہ موسیٰ نے میری عزت پرہاتھ ڈالا ہے۔ اس عورت نے ایسے ہی کیا اور حضرت موسیٰ کو برسرمجمع رسوا کیا۔ رسوائی کی یہ خبر جب حضرت موسیٰ کو پہنچی تو اُنہوں سے ربّ تعالیٰ سے سجدے میں گر کر فریا د کی اور اپنی عزت کے دفاع کے لئے اس کی مدد طلب کی۔ اس دعا کے بعد آپ ؑ قارون کی مجلس میں گئے اور اس کے حواریوں کی موجودگی میں کہا کہ تو نے میرے بارے میں فلاں فلاں سازش کی، اے زمین! اس کو پکڑ لے۔ حضرت موسیٰ کی اس بددعا کا یہ اثر تھا کہ زمین نے ان سب کو اپنے اندر دھنسانا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اُنہیں گھٹنوں، کمر اور سینے تک اندر کھینچ لیا۔ ان کی چیخ وپکار کے باوجود حضرت موسیٰ نے اپنی دعا جاری رکھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قارون اور اس کے سب ساتھی زمین میں دھنس گئے۔'' 4
مختصراً

قارون اور اس کی جماعت کے دھنسنے کا یہ واقعہ قرآن میں بھی ذکر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ قیامت تک دھنستے رہیں گے اور قارون کا خزانہ ان کے سر پربوجھ بن کر ان کے ساتھ ہوگا۔ یہ اوراس جیسے کئی واقعات اسلامی شریعت کے اس تصور کی تائید کرتے ہیں کہ ناموسِ رسالتؐ کی حفاظت کا یہ حق دیگر انبیا کو بھی حاصل ہے۔ جو شخص ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرے گا، اس کو بھی شدید سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من سبَّ نبیا قُـتِل ومن سبَّ أصحابه جُلِدَ) 5
''جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی، اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو گالی دی تو اسے کوڑے مارے جائیں۔''

حضرت عمرؓکے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا:
من سبّ اﷲ أو سبّ أحدا من الأنبیاء فاقتلوہ 6
''جس نے اللہ کویا انبیا کرام میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کردیا جائے۔''

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں نافذ العمل توہین رسالت کی سزا تمام انبیا کی توہین کرنے والوں کے لئے عام ہے۔ 7

دیگر مذاہب کے ماننے والے اپنی مقدس شخصیات سے جو بھی سلوک کریں لیکن مسلمانوں نے ماضی میں بھی کبھی اہل کتاب کو بھی اس امر کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے انبیا کی تصویر کشی یا ان کو کسی ڈرامہ کی منظر کشی میں پیش کرسکیں۔ خلافت ِعثمانیہ کے آخری سالوں میں شام کے بعض ممالک میں بعض عیسائیوں نے حضرت یوسف ؑ کے کردار کو کسی ڈرامہ میں پیش کرنا چاہا تو اس وقت اس مسئلہ پر اہل علم کے ہاں بہت لے دے ہوئی اور بالآخر سلطان عبد الحمید نے عیسائیوں کو بلادِ اسلامیہ میں انبیا کی اس اہانت سے حکما ًروک دیا۔ 8

ایسے ہی بیسیویں صدی کے آغاز میں ہی لندن میں ایک ڈرامے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت بعض دیگر انبیا کے کردار کو بھی پیش کئے جانے کی خبر ملی، اس موقع پر بھی اسی خلیفہ نے پہلے سفارتکاری اور بعد ازاں یہ دھمکی دے کر اس مذموم فعل کو رو بہ عمل آنے سے روک دیا کہ وہ بحیثیت ِخلیفہ ''پوری اُمت ِمسلمہ کو برطانیہ کے خلاف جنگ کا حکم جاری کریں گے۔''

ان توہین آمیز خاکوں کے ذریعے جہاں ناموسِ رسالت پر حرف آیا ہے، وہاں اللہ کے آخری دین اور اکمل شریعت کی بے حرمتی کا بھی ارتکاب کیا گیا ہے۔ ان کارٹونوں کے بارے میں جو تفصیلات بعض ذرائع ابلاغ میں چھپی ہیں، ان سے پتہ چلتاہے کہ باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے ذریعے قرآنِ کریم، فرامین ِنبویہؐ اور شریعت ِمطہرہ کا تمسخر اُڑانے کے لئے یہ ساری سازش عمل میں لائی گئی۔ اوراس تمسخر کو کارٹون یا خاکوں کی ذو معنی شکل میں پوری دنیا میں پھیلایا گیا ہے۔ فرامین نبویؐ اور آیاتِ قرآنی کی اس تضحیک کے علاوہ اسلام سے دیگر مذاہب کو بدترین تعصب میں مبتلا کرنے کے لئے یہودیوں کے بارے میں بعض واقعات کی مضحکہ خیز منظر کشی بھی کی گئی، تاکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اسلام سے بدظن کیاجائے۔

یہ تمام خاکے اس امر کا بھی واضح ثبوت ہیں کہ اسلام کو قبو ل کرنے کی جو روایت امریکہ اوریورپ میں جڑ پکڑ رہی ہے، اس سے اسلام دشمن بری طرح خائف ہیں اور وہ ہر حیلے بہانے سے اسلام کی بڑھتی مقبولیت کے آگے بند باندھنا چاہتے ہیں اور اسی لئے وہ اسلام کو دہشت گردی، تنگ نظری اورتعصب وجبر کا دین ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ قرآن کہتا ہے :
يُرِ‌يدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ‌ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِ‌هِ وَلَوْ كَرِ‌هَ الْكَافِرُ‌ونَ ﴿٨...سورۃ الصف
''یہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کی شمع گل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اللہ نے اپنے نور کو تمام کرکے ہی رہنا ہے، چاہے کافر اسے لاکھ ناپسند کریں۔''

اللہ کے کامل واکمل دین کے ساتھ کفار کا یہ رویہ شدید ہٹ دھرمی اور بدترین تعصب کی نشاندہی کرتا ہے اور قرآنِ کریم کی زبانی اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت ِمطہرہ کا مذاق اُڑانے والوں پر لعنت کی اور اُنہیں عذابِ الیم کا وعدہ دیا ہے :
ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُ‌وا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُ‌سُلِي هُزُوًا ﴿١٠٦...سورۃ الکہف
''ان کی سزا جہنم اس لئے ہے کیونکہ اُنہوں نے اسلام سے کفر کیا اور اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کا مذاق اُڑایا۔''


وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُ‌سُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ﴿٣٢...سورۃ الرعد
''رسولوں کا اس سے پہلے بھی مذاق اُڑایا جاتا رہا۔ تو میں کافروں کو ڈھیل دیتا رہا، پھر میں نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا ... پھر کیسا رہا میرا عذاب!!''

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جابجا کفار کی اس قبیح عادت کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے ہیں(المائدة: 57) پھر ان سے یہ سوال کیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی تمہیں اس تمسخر کے لئے ملتے ہیں، تم فکر نہ کرو، تمہارا انجام عنقریب اس ربّ کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔ ( التوبہ: 65) نبی کریمؐ کا یہ مؤثر اندازِ دعوت ملاحظہ فرمائیں :
يَا حَسْرَ‌ةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّ‌سُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٣٠...سورۃ یس
''ان بندوں (کی نامرادی ) پر افسوس و حسرت! ان کے پاس جو رسول بھی آتا ہے ، تو یہ اس کا تمسخر اُڑانے سے نہیں چوکتے۔''

الغرض اللہ کے دین کا تمسخر اُڑانا اور اس کی آیات سے ہنسی مذاق کرنا ایک مسلمان کو لمحہ بھر میں دائرئہ اسلام سے خارج کرکے مرتد بنادیتا ہے اور کفار کے لیے یہ قبیح حرکت اللہ کو چیلنج کرنے اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

یہ ہیں بالاختصار وہ چار وجوہات جن کی وجہ سے مسلمان ان توہین آمیز خاکوں پر دنیا بھر میں اپنا ردّ عمل ظاہر کررہے ہیں۔ اور یہ ردّ عمل اس ظلم وزیادتی کے بالمقابل بڑا ہی ادنیٰ گویا مجبور و مظلوم کی فریاد کے مصداق ہے۔ اسلام اورنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ توہین مسلمانوں کے حکمرانوں کی اس کیفیت کا برملا اظہار ہیں کہ جس نبی کی اطاعت کا دم بھر کر اسلام کے تمغے وہ سینوں پر سجائے بیٹھے ہیں، اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے تحفظ کے لئے مخلصانہ جذبات سے ان کے دل ودماغ عاری ہیں اور اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے وہ شانِ نبوتؐ اور اسلام سے ہر طرح کی مضحکہ خیزی گوارا کرنے کے لئے آمادہ ہیں، وگرنہ ایسے نازک لمحات پر ان کی اسلامیت جوش میں آتی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی پاسداری کرتے ہوئے وہ ہرممکن ایسا اُسلوب اختیار کرتے کہ نبی کریمؐ فداہ اَبی واُمی کی ناموس کی طرف بڑھنے والے ہاتھ توڑ دیے جاتے۔

یہ تصاویر اور توہین آمیز خاکے مسلم حکمرانوں کی اسلام سے عدم وابستگی کا نوحہ ہیں، جس کا ادراک کرنے کے بعدہی غیرمسلموں کو اس مکروہ حرکت کی جسارت ہوئی !!

توہین آمیز خاکے اور عصر حاضرکے قوانین
توہین کے ان واقعات پر غیر مسلم حکومتوں کا رویہ بھی ہٹ دھرمی، تکبر وتمسخر اور انانیت کا مظہرہے۔ اس نوعیت کے واقعات پر ان کی پیش کردہ بعض معذرت آرائیاں بھی منافقت کے پردے میں لپٹی ہوئی ہیں۔ان اخبارات کے سابقہ رویے، ان ممالک کے اپنے قوانین اور اقوامِ متحدہ ودیگر عالمی قوانین ان کے اس دوہرے معیار کی کسی طو رحمایت نہیں کرتے، لیکن اس کے باوجود میڈیا کے بل بوتے پر ان کی تکرار جاری وساری ہے۔

جہاں تک توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کاتعلق ہے ... جس کی پیشانی پر یہودیوں کا عالمی نشان 'سٹار آف ڈیوڈ' اس کے متعصب یہودی ہونے کابرملا اظہار ہے ... تو اسی اخبار نے 2 برس قبل حضرت عیسیٰ کے بارے میں بعض متنازعہ خاکے شائع کرنے سے انکار کیا تھا، کیونکہ ان کی نظر میں اس سے ان کے بعض قارئین کے جذبات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ وہ خاکے کرسٹوفرزیلر نامی کارٹونسٹ نے بنائے تھے۔ مذکورہ خاکوں کی اشاعت کے عمل کا بھی اگر جائزہ لیا جائے تو حادثہ کی بجائے ایک منظم سازش کا پتہ چلتا ہے۔ 9

لمحہ بہ لمحہ اس سازش کو جس طرح پروان چڑھایا گیا، اور جن جن مراحل سے اسے گزارا گیا، اس کا تفصیلی تذکرہ ہفت روزہ 'ندائے خلافت' کے یکم مارچ 2006ء کے شمارے میں ایک مستقل مضمون میں کیا گیا ہے۔ یوں بھی یہ ڈنمارک سکنڈے نیوین ممالک میں سب سے زیادہ یہودیت نواز ملک ہے، کیونکہ تاریخی طور پر یورپ سے نکالے جانے کے بعد سب سے زیادہ یہودی ڈنمارک میں ہی رہائش پذیر ہوئے تھے۔ اس لئے اسی ملک میں اس سازش کا بیج ڈالا گیا ہے۔ اس سازش کا مختصر تذکرہ اپنے الفاظ میں حسب ِذیل ہے:
''ان خاکوں کی اشاعت کے دو بنیادی کردار ہیں: پہلا ڈینیل پائبس نامی امریکی عیسائی جو صدر بش کے ساتھ گہرے سیاسی وتجارتی مراسم رکھنے کے علاوہ بعض کمیٹیوں کا بھی رکن ہے اور امریکی اخبار اسے 'اسلام فوبیا کا مریض' اورمغربی دانشور 'اسلام دشمن' قرار دیتے ہیں۔ اسلام کے نام پر دنیا بھر میں جہاں کوئی سرگرمی ہو تووہ اس کے لئے ہرقسم کی مدد دینے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔ دوسرا اہم کردار جیلانڈ پوسٹن نامی اخبار کا یہودی کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز۔ مسلمانوں کے خلاف یہ دہشت گردی عیسائیوں اور یہودیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایڈیٹر کافی عرصہ سے توہین رسالتؐ کے موقع کی تلاش میں تھا کہ کرے بلوٹکن نامی ایک ڈینش مصنف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مختصر کتاب میں شائع کرنے کے لئے اس سے آپؐ کا کوئی خاکہ طلب کیا۔ اس تقاضے پر فلیمنگ نے ڈینیل کی حمایت اور تعاون کے بل بوتے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنانے کیلئے اپنے اخبار میں اشتہار شائع کرا دیا۔ 40 میں سے 12 بدبخت کارٹونسٹ اس مذموم حرکت کے لئے آمادہ ہوئے اور ان میں سے ویسٹر گارڈ نامی ملعون کارٹونسٹ نے توہین آمیز خاکے تیار کئے۔ اپنے قتل کا فتویٰ ملنے کے بعد سے یہ شخص روپوش یا ڈینش پولیس کی حفاظت میں ہے جبکہ فلیمنگ میامی(امریکہ) میں اپنے دوست ڈینیل کی میزبانی اور تحفظ سے محظوظ ہورہا ہے۔'' 10

ڈینش اخبار کا یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ذہنیت ہے جیساکہ واشنگٹن پوسٹ نے بھی یہی قرارد یا ہے۔ اور خود فلیمنگ روز سے جب اپنے طرزِ عمل پر افسوس کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیاکہ ایسی کوئی بات نہیں، ان خاکوں کی اشاعت کے پس پردہ ایک جذبہ کار فرما ہے او روہ ہے 'دہشت گردی ' جسے اسلام سے روحانی اسلحہ فراہم ہوتا ہے۔ 11

جہاں تک ڈنمارک کے قوانین کا تعلق ہے تو اس حرکت میں اس کے اپنے طے شدہ کئی قوانین کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ مثلاً ڈنمارک کے کریمنل کوڈ کے سیکشن 140 کے مطابق
''ہر وہ شخص جوملک میں قانونی طورپر مقیم کسی فرد یا کمیونٹی کے مذہب یا عبادات اور دیگر مقدس علامات کی تضحیک کرے گا، اسے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی قید یا جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی۔''

غور طلب امر یہ ہے کہ جیلانڈ پوسٹن نامی اخبار اوراس کے ایڈیٹر کو اس قانون سے کیوں بالاتر رکھا جارہا ہے؟ جبکہ ڈنمارک کی سرکاری ویب سائٹ پر خود اس اخبار پر اس قانون کے تحت کاروائی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، لیکن ابھی تک کسی قانونی اقدام سے گریز کا رویہ زیر عمل ہے۔

ایسے ہی ڈنمارک ہی کے پینل کوڈ کے سیکشن 266 بی کے مطابق '' ایسا کوئی بھی بیان یا سرگرمیاں جرم ہیں، جو کسی بھی کمیونٹی کے افراد کے لئے رنگ ، نسل، قومیت، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہوں۔'' ڈنمارک کے یہ اخبارات وجرائد اس دفعہ کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے ہیں لیکن یہاں بھی قانون کو حرکت میں نہیں لایا جارہا۔

مزید برآں ڈنمارک کے آئین میں آزادیٔ اظہار کے حوالے سے سیکشن 77 کی رو سے
''ہر شخص کواپنے خیالات کے اظہار اور اُنہیں چھاپنے کی مکمل آزادی ہے لیکن وہ اپنے خیالات کے حوالے سے 'کورٹ آف جسٹس' کو ضرور جواب دہ ہے۔''

اگر ان اخبارات کی اس حرکت کو آزادیٔ اظہار کے زمرے میں لانے کو بھی بفرضِ محال تسلیم کرلیاجائے تب بھی اس 'کورٹ آف جسٹس' نے دنیا بھر کے مظاہروں کے بعد ان اخبارات سے کسی جواب طلبی سے تاوقت کیوں گریز کیا ہے ؟

ڈینش اخبارات وجرائد کے بعد جب یہ کارٹون مغربی میڈیا میں شائع ہوئے ہیں تو اس امر کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کیا عالمی قوانین اور مغر ب کے مسلمہ تصورات مغربی میڈیا کو بھی انہیں شائع کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟

اس سلسلے میں میڈیا ہر جگہ آزادیٔ اظہار کے حق کا تذکرہ کر رہا ہے ، یوں بھی مغرب میں اس فلسفے کو بعض وجوہ سے ایک مسلمہ کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ باوجود اس امر کہ اسلام آزادیٔ اظہار کے مغربی تصور کا قائل نہیں لیکن حالیہ خاکے مغرب کے اپنے پیش کردہ تصور پر بھی پورا نہیں اُترتے کیونکہ ہر انسان کو اس حد تک ہی آزادیٔ اظہار حاصل ہوتا ہے جب تک یہ اظہار دوسرے کی حدود میں داخل نہ ہوجائے۔ آزادیٔ اظہار کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ دوسروں کی حدود میں دخل اندازی کی جائے۔ ایک انسان جب آزادیٔ اظہار کے ذریعے دوسروں کے مقدس تصورات و نظریات اور رہنما شخصیات پر تنقید کرے گا تو یہ آزادی کے بجائے کھلم کھلا جارحیت کا ارتکاب کہلائے گا۔ دوسرے کے جذبات سے کھیلنا آزادیٔ اظہار کے بجائے 'دہشت گردی کا ارتکاب' ہے۔ جرمن مفکر ایمانویل کانٹ کا مشہور مقولہ ہے کہ
''میں اپنے ہاتھ کو حرکت دینے میں آزاد ہوں، لیکن جہاں سے تمہاری ناک شروع ہوتی ہے ، میرے ہاتھ کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔'' ایسے ہی
''ہر انسان کی آزادی وہاں جا کر ختم ہوجاتی ہے ، جہاں دوسرے کی شروع ہوتی ہے۔''

اس لحاظ سے بھی ان اخبارات کا یہ رویہ آزادیٔ اظہار کے مغربی تصور کے استحصال اور کھلی مخالفت پر مبنی ہے۔آزادیٔ اظہار کی یہ حد بندی صرف ایک مسلمہ حقیقت نہیں بلکہ یورپی کنونشن کا چارٹر (مجریہ 1950، روم) اس کو قانونی حیثیت بھی عطا کرتاہے۔ جس کی رو سے
'' آزادیٔ خیالات کے ان حقوق پر معاشرے میں موجود قوانین کے دائرہ کار کے اندر ہی عمل کرنا ہوگا، تاکہ یہ آزادیاں کسی دوسرے فرد یاکمیونٹی کے تحفظ ، امن وامان او ردیگر افراد یا کمیونٹی کے حقوق اور آزادیوں کو سلب کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔ ''

مزید برآں اسی چارٹر کے سیکشن 1، آرٹیکل 10 کی شق اول ودوم میں یہ بھی درج ہے کہ
'' آزادیٔ اظہار کے حوالے سے ملکی قوانین پامال نہیں کئے جائیں گے، تاکہ جمہوری روایات علاقائی سلامتی، قومی مفادات، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور باہمی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔''
''آزادی اظہار کا یہ تصور فرض شناسی اور ذمہ دارانہ رویے سے مشروط ہے۔''
''آزادیٔ اظہار کا حق نہایت حزم واحتیاط او رذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہئے، اس کے ذریعے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک میں معاشرے کی اخلاقی اقدار، دوسروں کی عزتِ نفس، اور ان کے بنیادی حقوق کو گزندپہنچائے۔ ''

آزادیٔ اظہار کا یہ حق 'انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس' ICCPRکے ذریعے بھی محدود کردیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے حسب ِذیل مضمون دیکھیں : روزنامہ پاکستان، لاہور'نسلی ومذہبی منافرت اور عالمی قوانین' از آغا شاہی

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مخالفت ان متعدد فیصلہ جات سے بھی ہوتی ہے جو ماضی میں مغرب کی مختلف عدالتیں سنا چکی ہیں۔ اس کے باوجود ڈینشحکمرانوں کا یہ عذر 'عذرِ گناہ بدتر از گناہ' کا مصداق اور دیگر حکمرانوں کی ان سے ہم نوائی دراصل اسلام سے دشمنی کا برملا اظہار ہے۔ میڈیا کے بل بوتے پر اسلام کے بارے میں پیدا کیا جانے والا تعصب مختلف مراحل پر اپنا رنگ دکھا رہا ہے اور اس کو اپنے لبرل قوانین کا تحفظ پہنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔

یورپی یونین کی ہیومن رائٹس کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے سال 1996ء میں برطانیہ کے ہائوس آف لارڈز کے توہین مسیح کے مقدمہ میں فیصلہ پر اوپر درج شدہ آرٹیکل 10 کے تحت اپیل کی سماعت کے بعد ایک اہم اور دلچسپ مقدمہ 'ونگرو بنام مملکت ِبرطانیہ 'میں بڑا معرکہ آرا فیصلہ صادر کیاہے جو یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک پر لاگو ہے۔

یہ کیس ایک ایسی فلم کے بارے میں تھا جس سے حضرت عیسیٰ کی توہین کا تاثر اُبھرتا ہے اور اس کو برطانوی سنسر بورڈ نے اس بنا پر نمائش سے روک دیا کہ اس سے عیسائی شہریوں کے جذبات مشتعل ہونے کا اندیشہ تھا۔ سنسربورڈ کے اس فیصلہ کے خلاف فلمساز نے برطانیہ کی سب سے بڑی عدالت 'ہائوس آف لارڈز' میں اپیل کی، جہاں اس عدالت ِعظمی کے ایک لبرل جج اسکارمین نے یہ قرار دیا کہ ''توہین ِمسیح کا قانون برطانیہ کے لئے ناگزیر ہے۔'' اس ہائوس نے بھی فلم کو نمائش سے روکنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ فلمساز نے پھر اس فیصلہ کے خلاف حکومت برطانیہ کو فریق بناتے ہوئے حقوقِ انسانی کی اعلیٰ ترین عدالت میں اس فیصلہ کو اوپر درج شدہ آرٹیکل 10 کی رو سے چیلنج کردیا۔ یورپی یونین کی اس اعلیٰ ترین عدالت نے اس آرٹیکل کی تشریح کرتے ہوئے یہ قرارد یا کہ ''توہین ِمسیح کے قانون کی بدولت حقوقِ انسانی کا تحفظ برقرار رہتا ہے۔'' اور سابقہ فیصلوں کو برقرار ررکھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک مشہور کیس Faurisson VS Franceکا عدالتی فیصلہ ملاحظہ ہو:
''ایسے بیانات پرجو یہودیت دشمن جذبات کو ابھاریںیا انہیں تقویت دیں، پابندیوں کی اجازت ہوگی، تاکہ یہودی آبادیوں کے مذہبی منافرت سے تحفظ کے حق کو بالادست بنایا جاسکے۔''

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں شائع ہونے والے مضمون 'یورپ اور توہین انبیا' میں مجاہد ناموسِ رسالتؐ جناب محمد اسمٰعیل قریشی لکھتے ہیں :
''یورپ کی عیسائی اور نام نہاد سیکولر حکومتوں کا شروع سے یہ عجیب وغریب دوہرا معیار رہاہے کہ اپنے ملکوں میں تو توہین مسیح کے جرم کی سنگین سزا، سزاے موت نافذ رہی ہے جو اب بھی عمر قید کی صورت میں موجود ہے لیکن وہ چاہتے ہیںکہ پاکستان یا دوسرے مسلمان ملکوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی سزا کا سرے سے وجود ہی نہ رہے کیونکہ اس سے عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق مجروح ہوتے ہیں۔''

مغرب کی منافقانہ روش: ان خاکوں کی اشاعت کے لئے بہت سے اخبارات نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ سیکولر معاشرے کے نمائندہ ہونے کی وجہ سے وہ مذہبی نظریات کے تحفظ کے پابند نہیں۔ دوسری طرف ان ممالک کے آئین اس امر کی ضمانت بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے ہاں بسنے والوںمیں کسی مذہبی امتیاز کو جگہ نہیں دیں گے، لیکن ان ممالک کا عملی رویہ اس دعویٰ کے برعکس ہے۔ ان ممالک میں عیسائیت اور یہودیت کو جوتحفظ حاصل ہے اور قوانین میں ان کی جو ترجیحی حیثیت موجودہے، اسلام کو یہ تحفظ کسی مرحلہ میں بھی میسر نہیں۔

ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں یہودیوں کے جرمنی میں قتل عام کی خود ساختہ تاریخ اور ان کی مظلومیت کو پورا تحفظ دیا گیاہے۔ اس مزعومہ قتل ِعام(ہولوکاسٹ) میں مقتولین کی تعداد کو 50 لاکھ سے کم بیان کرنا کسی کے مجرم بننے کے لئے کافی ہے۔حتیٰ کہ اس کہانی کے کسی جز کا بھی انکار کرنا 20 سال تک قید کی سزا کا مستوجب ہے۔ ان ممالک کا یہ قانون مذہبی امتیاز پر واضح دلیل اور آزادیٔ اظہار پر صاف قدغن ہے۔ لیکن چونکہ اس سے یہودیوں کی دل شکنی ہوتی ہے، اس لئے اس کو تو قانونی تحفظ عطا کیا گیا ہے، لیکن مسلمانوں کی دنیا بھر میں او رخود ڈنمارک میں دل شکنی کوئی جرم نہیں۔ یہ تضاد مغربی لبرل ازم کا پورا پول کھولتا ہے...!

برطانیہ میں حضرت عیسیٰ کی توہین پر موت کی سزا موجود ہے اور اس سزا کو عالمی عدالت ِانصاف بھی مختلف موقعوں پر تسلیم کرچکی ہے گویا وہ برطانیہ کے اس تصورِ قانون کی مؤید ہے جیساکہ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کو آزادیٔ اظہار کے دائرے میں لانا کیوں برطانوی حکومت کو گوارا نہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ کے اس قانون کا دائرہ صرف چرچ کے تحفظ تک ہی کیوں محدود ہے؟ یہ قوانین شہریوں میں عدم مساوات اور مذہبی امتیاز پر واضح دلیل ہیں۔

حضرت عیسیٰ کی توہین کا ایک کیس آسٹریا میں بھی 1990ء میں زیر سماعت لایا گیا ہے، جس سے پتہ چلتاہے کہ یہ قانون دیگر مغربی ممالک میں بھی موجود ہے۔اس کیس 'اوٹو پریمنگر انسٹیٹیوٹ بنام آسٹریا' کے فیصلہ میں عدالت نے تحریر کیا کہ
''دفعہ 9 کے تحت مذہبی جذبات کے احترام کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے ، اس کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو بدنیتی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جمہوری معاشرے کے اوصاف میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ اس نوعیت کے بیانات ، اقوال یا افعال کو تحمل ، بردباری اور برداشت کی روح کے منافی خیال کیا جائے اور دوسروں کے مذہبی عقائد کے احترام کو صد فی صد یقینی بنایا جائے۔''

1989ء میں ایک فلم Visions of Ecstasy کو برطانوی سنسر بورڈ نے اس بنیاد پر نمائش سے روک دیا کیونکہ اس میں چرچ کی توہین پائی جاتی تھی۔ حالانکہ بعدازاں وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ اس میں توہین آمیز اور قابل اعتراض چیزیں کہاں پائی جاتی ہیں ؟

اس واقعہ میں 'ہمہ قسم کے نسلی امتیاز (یا تعصبات) کے خاتمے پر عالمی کنونشن' ICERD کی بھی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس کی رو سے نسلی برتری، نفرت انگیز تقاریر اور نسلی تعصب کو ابھارنے کے عمل کوغیر قانونی قراردیا گیا ہے۔ اور اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ اس قسم کے قابل تعزیر اقدامات کے ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دے۔

ایسے معاشرے جہاں مذاہب کی بنیاد پر تفریق ممنوع ہے، وہاں اسلام کو نظر انداز کرکے دیگر مذاہب کو یہ تقدس عطا کرنا بذاتِ خود قابل مؤاخذہ اور مذہبی امتیاز کا مظہرہے۔ یہ مغرب کی اس منافقت کا پول کھولتا ہے جو آئے روز مذہبی مساوات کا دعویٰ کرتی اور مسلم ممالک کو ا س کا درس دیتی رہتی ہے۔بالخصوص اس وقت جب جمہوری اُصولوں کی دعویدار حکومتیں اس حقیقت کے علیٰ الرغم اس زیادتی کا ارتکاب کریں کہ یہ دنیا میں پائے جانے والے ڈیڑھ ارب یعنی دنیا بھر کی چوتھائی آبادی کے مذہبی جذبات کا تمسخر اُڑانا ہے۔

اسلام کی توہین؛ ایک جرمِ مسلسل
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کوئی وقتی مسئلہ نہیں کہ اس پر مسلمان اپنے غم وغصہ کا اظہار کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرالیں اور اسے ہی کافی سمجھیں۔ بلکہ اگر صرف گذشتہ چند برس کی تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ توہین ِاسلام غیرمسلموں کا ایک مسلسل رویہ ہے ، جس کا ارتکاب غیر مسلم ایک تسلسل سے کررہے ہیں اور اس کو کافر حکومتیں لگاتار تحفظ عطا کرتی ہیں۔ ا س جرم کے مرتکبین ان کی آنکھ کا تارا اور ان کی عنایتوں کا مرکز ومحور ٹھہرتے ہیں۔

ان واقعات کے بارے میں حسب ِذیل اشارے اس مسلسل رجحان کی عکاسی کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے تدارک کے لئے اُمت ِمسلمہ کو سنجیدگی سے غور کرنا، اس کی وجوہات تلاش کرنا اور اس کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لانا ہوں گے :
80 اور 90 کی دہائیوں میں سلمان رشدی کی شیطانی آیات اور تسلیمہ نسرین کے ناولوں کی اشاعت او رمغرب میں ان کی ریکارڈ تعداد میں فروخت، بعد ازاں ان دونوں ملعون شخصیات کو مغربی حکومتوں کا سرکاری پروٹوکول پیش کرنا اور ان کے گرد حفاظتی حصار قائم کرکے مقبولِ عام شخصیتوں کا درجہ دینا۔

از حکومت کے دوسرے دور میں دو مسیحیوں کا توہین رسالت کا ارتکاب اور راتوں رات اُنہیں جرمنی کی حکومت کے تحفظ میں دینے کے لئے پاکستانی ائیرپورٹوں سے باعزت روانگی

جنوری 2000ء میں انٹرنیٹ پر ایک حیاباختہ لڑکی کے سامنے مسلمان نمازیوں کو اس حالت میں سجدہ میں گرا ہوا دکھایا گیا کہ وہ اس کی عبادت کررہے ہیں۔ اس پر ہفت روزہ 'وجود' کراچی میں توجہ دلائی گئی۔

ستمبر 2000ء میں انٹرنیٹ پر قرآن کی دو جعلی سورتیں 'دی چیلنج'کے عنوان سے شائع ہوئیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہ مظلوم سورتیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے قرآن سے نکال باہر کیا ہے۔معاذاللہ

اکتوبر 2001ء میں 'دی رئیل فیس آف اسلام' نامی ویب سائٹ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب چھ تصاویر کے ساتھ ہتک آمیز مضامین شائع کئے گئے، جس میں اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے یہ تاثر اُبھارا گیا کہ مسلمان اپنے سوا تمام دیگر انسانوں بالخصوص یہود ونصاری کوواجب القتل سمجھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تصاویر منسوب کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ آپ دنیا میں قتل وغارت اور دہشت گردی کا سبب ہیں۔نعوذباللہ

نومبر 2004ء میں ہالینڈ کے شہر ہیگ میں Submission نامی فلم میں اسلامی احکامات کا مذاق اُڑایا گیا اور برہنہ فاحشہ عورتوں کی پشت پر قرآنی آیات تحریرکی گئیں۔ قرآنی احکام کو ظالمانہ قرار دینے کی منظر کشی کرتے ہوئے مغرب میں بسنے والے انسانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اس دین سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے نتیجے میں وہاں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے۔ آخر کار ایک مراکشی نوجوان محمد بوہیری نے اس گستاخِ قرآن 'وان گوغ' کو اس کے انجام تک پہنچایا۔

یادر ہے کہ اس فلم کا سکرپٹ نائیجریا کی سیاہ فام مرتد عورت عایان ہرشی علی نے لکھا تھا، جب یہ عورت ہالینڈ میں سکونت پذیر ہوئی تو مسلمانوں نے اس کی سرگرمیوں پر احتجاج کیا، آخر کار ڈچ حکومت نے ا س عورت کے تحفظ کے لئے اسے سرکاری پروٹوکول فراہم کردیا۔

جنوری 2005ء میں فُرقان الحق نامی کتاب شائع کرکے اس کو مسلمانوں کا نیا قرآن باور کرانے کی مذموم مساعی شروع کی گئیں ۔ 364 صفحات پر مشتمل ا س کتاب میں 88آیات میں خود ساختہ نظریات داخل کئے گئے جس کی قیمت 20 ڈالر رکھی گئی۔

مارچ 2005ء میں امینہ ودود نامی عورت نے اسریٰ نعمانی کی معیت میں امامت ِزن کے فتنے کا آغاز کیا اور مغربی پریس نے اس کو خوب اُچھالا۔

مئی 2005ء میں نیوز ویک نے امریکی فوجیوں کی گوانتا ناموبے میں توہین ِقرآن کے 50 سے زائد واقعات کی رپورٹ شائع کی جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔

ستمبر 2005ء میں جیلانڈ پوسٹن نامی ڈینش اخبار میں توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا گیا۔ جس کے بعد وہاں کے کئی جرائد نے اُنہیں دوبارہ شائع کیا ۔ بعد ازاں فروری 2006ء میں کئی مغربی اخبارات نے ان توہین آمیز کارٹونوں کو اپنے صفحہ اوّل پر شائع کیا۔

نبی رحمت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا یہ سلسلہ ان چند سالوں پر محیط نہیں بلکہ دشمنانِ اسلام نے آپ کی شانِ رسالتؐ کو ہمیشہ اپنی کم ظرفی اور کمینگی کے اظہار کے لئے نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ قرونِ وسطیٰ میں جان آف دمشقی (700 تا 754ئ) وہ پہلا نامراد شخص ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرالزامات واتہامات کا طومار باندھا اور بعد ازاں اکثر وبیشتر مستشرقین نے انہی الزامات کو دہرایا۔ منٹگمری واٹ نے 'محمد ایٹ مکہ' میں لکھا ہے کہ

''مغربی مصنّفین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدترین چیز پر بھی یقین کرنے کو ہردم آمادہ رہتے ہیں۔ دوسری طرف جہاں کہیں اپنے کسی مذموم فعل کی کوئی ممکنہ توجیہ اُنہیں میسر آئے، اسے حقیقت تسلیم کرنے میں لمحہ بھر تامل نہیں کرتے۔''

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ نگار لکھتا ہے:
''بہت کم لوگ اتنے بدنام کئے گئے جتنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کیا گیا، قرونِ وسطی کے عیسائیوں نے ان کے ساتھ ہر الزام کو روا رکھا ہے۔''

A History of Medievalکا مصنف جے جے سانڈرز لکھتا ہے:
''اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیغمبر عربی کو عیسائیوں نے کبھی ہمدردی اور توجہ کی نظر سے نہیں دیکھا، جن کے لئے حضرت عیسیٰ کی ہستی ہی شفیق و آئیڈیل رہی ہے۔ صلیبی جنگوں سے آج تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو متنازعہ حیثیت سے ہی پیش کیا جاتا رہا او ران کے متعلق بے سروپا حکایتیں او ربے ہودہ کہانیاں پھیلائی جاتی رہیں۔'' 12

عیسائیوں اور غیرمسلموں نے اسلام کی راہ روکنے کے لئے تاجدارِ رسالتؐ کی شان میں توہین کے علاوہ تنقید کا رویہ بھی اپنایا لیکن اس تنقید کا جواب ہمیشہ سے مسلم علما نے مبرہن انداز میں دیتے ہوئے ان کے اعتراضات کا خاتمہ کیا۔ مذکورہ بالا واقعات کی نشاندہی اور اقتباسات کی پیشکش کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان اسلام یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر علمی تبادلہ خیال بھی گوارا نہیں کرتے لیکن تنقید اور توہین میں بڑے بنیادی فرق ہیں۔ مسلمانوں نے مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دلائل وبراہین کے ساتھ دیا ہے لیکن توہین رسالتؐ کے مرتکبین کے خلاف ہمیشہ ہیصداے احتجاج بلندکی او راُنہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی جہدوسعی بروے کار لائے۔

مذکورہ بالا واقعات کا تسلسل جہاں مغرب کی تنگ نظری اور تعصب کا آئینہ دار ہے وہاں اس میں مسلمانوں کے لئے غور وفکر کا کافی سامان بھی موجود ہے۔کسی قوم کے مذہبی تصورات، شعائر اور مقدس شخصیات کی بے حرمتی کے لگاتار واقعات اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ اس کا جسد ِملی کھوکھلا ہوچکا ہے۔ اسلام جو کئی صدیاں دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز رہا ہے، آج ایک مظلوم مذہب میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کی روز بروز بڑھتی عددی اکثریت اور ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اسلام کی عالمی پیمانے پر قدر ووقعت روز بروز کم کیوںہوتی جارہی ہے؟ اس کی وجہ غیروں کی بجائے خود ہمارے اپنے اندر پوشیدہ ہے۔

توہین کی ایک شکل تو وہ ہے جس کا ارتکاب آئے روز غیر مسلم کر رہے ہیں اور ایک توہین وہ ہے جس کا ہم اللہ کے احکامات اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس فرامین کو رو بہ عمل نہ لا کر ، ان کی نافرمانی کرتے ہوئے ہر مرحلہ زندگی میں مرتکب ہو رہے ہیں۔ توہین کے اس مسلسل ارتکاب کی بنا پر غیروں کو یہ ہمت پیدا ہوئی کہ وہ اسلام اور اس کے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا تختہ مشق وستم بنا سکیں۔ آج دنیا میں 60 کے لگ بھگ اسلامی حکومتیں پائی جاتی ہے لیکن مقامِ عار یہ ہے کہ کسی ایک جگہ بھی اسلامی معاشرہ اپنی کامل شکل میں موجود نہیں۔ ایک آدھ جزوی استثنا کے ساتھ تمام ممالک میں غیراسلامی نظام ہائے معاشرت کی بھر مار ہے اور عملاً اسلام تاریخ کے صفحات پر نظر آتا ہے یا کتابوں کے اوراق میں مدفون ہے !!

اسلام ایک عظیم نظریۂ حیات اور طرزِ زندگی ہے، جبکہ کفر ایک کم تر معاشرت اور تہذیب وتمدن کا حامل ہے ، لیکن اس کی برتری یہ ہے کہ وہ جس امر کو درست سمجھتے ہیں، اس کو رو بہ عمل لانے سے ہچکچاتے نہیں اور ہم جس کو حق جانتے ہیں، اس کی تعریف و توصیف کرتے تو ہماری زبان تھکتی نہیں لیکن اس کو روبہ عمل لانے او راپنے اجتماع وافراد پر نافذ کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ ہم عملی منافقت کی بدترین صورت کا شکار ہیں جس میں قول وفعل میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔ اگر اسلام پر ہمارا دل وجان سے یقین ہے تو ہماری خیر وفلاح اسی پر عمل کرنے میں مضمر ہے لیکن اسلام سے محض ایک جذباتی تعلق استوار کرنے کے بعد ہم ہر تصور ونظریہ کے لئے مغرب سے بھیک مانگتے ہیں۔ قرآن کریم کے ہر ہر لفظ پر ہمیں ایمان رکھنے کا دعویٰ ہے ، لیکن اس قرآن کا یہ حکم ہماری نظروں سے کیوں اوجھل ہوچکا ہے ...
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّ‌بَاطِ الْخَيْلِ تُرْ‌هِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِ‌ينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ...﴿٦٠﴾...سورۃ الانفال
''اور تم غیرمسلموں کے لئے بقدرِ استطاعت قوت تیار رکھو ، ایسے ہی گھوڑوں کی تیاری بھی (جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ) تم اس سے اللہ کے اوراپنے دشمنوں پر اور ان پر رعب طاری کر سکو گے جن کو تم تو نہیں جانتے ، لیکن اللہ جانتا ہے۔''

اس آیت میں یہ حقیقت واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ اسلام کو دنیا کا کوئی لادین تصور ونظریہ کبھی گوارا نہیں کرسکتا اور سب لوگ ان کی مخالفت میں یکجان ہیں۔ کفار سے مبنی برانصاف رویے کی واحد بنیاد یہ ہے کہ مسلمان اپنی حربی قوت سے ان پر رعب وہیبت برقرار رکھیں وگرنہ سب غیر مسلم قومیں مل کر اسلام پر حملہ آور ہوجائیں گی۔

ہماری نظر میں توہین کے ان مسلسل واقعات کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان خلوصِ دل سے اسلام کو اپنی زندگیوں اور اپنے معاشروں پر نافذ کریں، اپنی حد تک اسلام کی پابندی کو اپنے اوپر لازمی قراردیں اور اسلام کی اس پابندی میں ہرقسم کے شرعی فرض کی تکمیل داخل ہے، جن میں علوم میں اپنی کھوئی ہوئی میراث کو حاصل کرنا اور مسلم قوم کی ہر میدان میں تعمیر کرکے ان کو ایک مضبوط قوم بنانا بھی شامل ہے۔ اگر ہم اسلام کو حرزِ جان بنائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ہماری آنکھوں کا سرمہ ہوں تو اس کے بعد غیر مسلموں کو یہ جرات ہرگز نہیں ہوسکے گی کہ وہ مسلمانوں کے مقدس شعائر اور نامور شخصیات کی بے حرمتی کا خیال بھی دل میں لائیں۔

آج آیاتِ الٰہی اور فرامین نبویہؐ کی بے حرمتی کے پس پردہ مغرب کا یہ طنز چھپا ہوا ہے کہ وہ ہمیں اپنے شعائر کی حرمت کے تحفظ پر قادر ہی نہیں خیال کرتے وگرنہ ان کو لگاتار یہ رویہ اپنانے کا موقع کیوںکر ملتا۔

مغربی میڈیا اور حکومتوں کی یہ اسلام سے یہ مضحکہ آرائی مسلم حکمرانوں کی بے حمیتی اور مفاد پرستی کا بھی نوحہ ہے !! مسلم حکمران اگر آج بھی غیروں کی کاسہ لیسی چھوڑ کر اپنے مسلمان عوام کی رائے کا احترام کریں اور عوام کو اپنی مقبوضہ جاگیر سمجھنے کی بجائے ان کی نمائندگی کا راستہ اختیار کریں تو نہ صرف اس سانحہ سے بلکہ اُمت ِمسلمہ کو درپیش متعدد مسائل سے نجات حاصل کرنے کا باعزت راستہ مل سکتا ہے۔

غور طلب امر یہ ہے کہ مغربی طرزِ حکومت ملکی حد بندیوں اور چاردیواریوں میں مقید نظامِ حکومت کا تصور پیش کرتا ہے، جبکہ اسلام اللہ کے ماننے والے تمام مسلمانوں کو ایک ملت اسلامیہ اورجسد ِواحد کا تصور دیتا ہے۔ لیکن دنیا کی عملی صورتحال آج بالکل اس کے برعکس ہے۔ اسلام کا یہ سیاسی نظریہ آج مغرب نے اپنے حرزِ جان بنایا ہوا ہے۔ خود تو امریکہ 50 ریاستوں کے ساتھ پورے بر اعظم کو ایک حکومت میں سمیٹے بیٹھا ہے اوردوسری طرف یورپی ممالک نے یورپی یونین کے ذریعے آپس میں ایک دوسرے کو متحد کررکھا ہے۔ آپس میں آمد ورفت کی پابندیوں اور تجارتی بندشوں سے آزاد یورپی ممالک فقط انتظامی لکیروں کی حد تک متعدد ممالک ہیں جبکہ مشترکہ کرنسی، کثیرالقومی تجارتی کمپنیوں،مشترکہ عدالت ہائے انصاف اوریورپی یونین کے قوانین کے ذریعے یہ تمام ملک داخلی تشخص کے ساتھ ساتھ ایک بڑی اکائی میں متحد و یکجان ہیں۔ ان کی قوت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے!!

جبکہ دوسری طرف مسلمان ممالک اپنے جھوٹے مفادات کے لئے، اقوام متحدہ اور عالمی تنظیموں کے بل بوتے پر آپس میں تقسیم د رتقسیم ہورہے ہیں۔اور اس تمام تر تقسیمکو مغرب کے پروردہ اسلامی حکمران ہر طرح سے تحفظ فراہم کررہے ہیں۔یہاں ملکی لکیریں کو اتنا گہرا تقدس بخش دیا گیا اور وطنیت پرستی کا وہ صور پھونکا گیا ہے کہ آپس میں ملی مفادات کے لئے مل بیٹھنے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے۔ نسلی وحدت اور تہذیبی مماثلتوں کے علاوہ سب سے بڑھ کر ان مسلمانوں کا مذہبی ودینی تشخص اور نظریات وتصورات بالکل ایک ہیں، لیکن ان کے ملی مسائل حل کرنے اور اُنہیں آپس میں متحد کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات بروئے کار نہیں لا جارہے۔مسلمانوں کا سیاسی ادارہ 'خلافت' جو اسلام کی عظمت وسطوت کا نشان تھا، اس کی بساط اس طرح لپیٹی گئی ہے کہ دوبارہ اس طرف کوئی مسلم حکومت پلٹ کر بھی نہیں دیکھنا چاہتی!!

اس المناک سانحے کے مرحلے پر بھی ایک بار پھر یورپی یونین نے اپنے اتحاد واشتراک کے بل بوتے پر اُمت ِمسلمہ کو رنج والم کی کیفیت سے دوچار کر دیاہے۔ ڈنمارک کے بعد دیگر یورپی ممالک میں ان خاکوں کی اشاعت کسی حادثہ یا محض اتفاق پر مبنی نہیں بلکہ ڈینش وزیر اعظم کی دیگر یورپی ممالک سے رابطوں کا نتیجہ ہے۔ دیگر ممالک میں ان کارٹونوں کو شائع کرانے کے پس پردہ یہ ہدف کارفرما ہے کہ اُمت ِمسلمہ کسی ایک ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے پر تو قدرت رکھتی ہے لیکن ان تمام ممالک او ریورپی یونین کی مصنوعات کو ترک کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ گویا اس طرح وہ اس جرم میں بھی اپنے ساتھی کی معاونت سے پیچھے نہیں ہٹتے!

اس واقعہ پر جس طرح دنیا بھر میں مسلمانوں نے اپنے دلی جذبات کا واضح اظہار کیا ہے، اور تمام اُمت میں کلی اتفاق رائے حاصل ہوا ہے، اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر امت ِمسلمہ کو کسی ایسے مرکزی نظم میں پرویا جاسکتا ہے جس کے بعد مغربی ممالک کی اس ثقافتی جارحیت کے علاوہ ان کی سیاسی جارحیت کا توڑ بھی ہوسکے گا۔ جس طرح یورپی یونین نے یہ اعلان کیا کہ کسی ایک ملک پر حملہ تمام ممبر ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا او رسب مل کر اس کا جواب دیں گے، اسی طرح مسلمانوں کو اپنے ہی سیاسی فلسفے 'ملی وحدت' کے احیا کے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

مسلم حکمرانوں کی کاسہ لیسی، اقتدار پرستی اور مغرب نوازی اب ایک پختہ روایت بن چکی ہے، جن سے بہت سی توقعات وابستہ کرنے کی بجائے اُمت ِمسلمہ کے بین الاقوامی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے میدانِ عمل میں آنا ہوگا۔ اُمت ِمسلمہ کے بین الاقوامی ادارے اپنا مقصد ِجواز کھو دیں گے ، اگر وہ اس مرحلے پر اُمت کے اس اجتماعی موقف کو کوئی نتیجہ خیز شکل دینے پر قادر نہیں ہوتے۔

الغرض ہماری نظر میں اس مرحلہ پر مسلمانوں کا اسلام کی طرف رجوع، اجتماعی وانفرادی سطح پر اسلامی احکامات کو اپنانا، مسلم حکمرانوں کو پوری مسلم اُمہ کو سیاسی وحدت میں پرونے اور مشترکہ قوت کی طرف بڑھنے کے لئے اس موقع سے فائدہ اُٹھانا اور عالمی اسلامی تنظیموں کو اس موقع پر اُمت کے اجتماعی موقف سے مستقل نوعیت کے فوائد کی طرف پیش بندی کرنا ہی ایسا حاصل ہے، جس کے نتیجے میں مستقل نوعیت کے تحفظ کی توقع کی جاسکتی ہے۔

جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان وعظمت کا تعلق ہے تو ان کفار ملحدین کے کہنے سے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ جس نبیؐ کو کائنات کا ربّ ذو الجلال {وَرَ‌فَعْنَا لَكَ ذِكْرَ‌كَ ﴿٤...سورۃ الشرح} کی نوید سناتا ہے اور اس کے دشمنوں کو {إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ‌ ﴿٣...سورۃ الکوثر}کی وعید دیتا ہو، اس کی شان کو ایسے حقیر ہتھکنڈوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ ہے :
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ﴿٩٥﴾ الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿٩٦﴾ وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُ‌كَ بِمَا يَقُولُونَ ﴿٩٧﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ﴿٩٨﴾ وَاعْبُدْ رَ‌بَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ﴿٩٩...سورۃ الحجر
''ہم تیری توہین کرنے والوں کو خوب کافی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ بھی دوسرا الٰہ کھڑا کرتے ہیں، عنقریب اُنہیں پتہ چل جائے گا۔ ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی اس تمسخرانہ حرکتوں سے تیرا سینہ تنگ ہوتا ہے (لیکن ان کی پرواہ مت کر) اور اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر اور سجدہ کرنیوالوں میںسے ہوجا۔ پھر اپنے ربّ کی عبادت کرتا رہ تاآنکہ تجھے موت آجائے۔''


حوالہ جات
1. مسلم: 2266
2. دیکھیں: مجلة البحوث الإسلامیة: عدد اوّل، رمضان 1395ھ، ص 211 تا 236
3. سنن ابوداؤد: 4363
4. ص: 412،413
5. الصارم المسلول: ص92
6. الصارم المسلول: ص419
7. ناموسِ رسول اور قانون توہین رسالت : ص 336، طبع سوم
8. مجلة البحوث الإسلامیة سعودی عرب، عدد اوّل، مجریہ 1395ھ، ص 222
9. تفصیلات: روزنامہ 'جنگ' 16؍ فروری 'زیر وپوائنٹ' جاوید چودھری
10. ہفت روزہ فیملی میگزین: 5 مارچ2006ء'سازش کے اصل مجرم'
11. روزنامہ ڈان: 19 فروری 2006ء
12. ص 34،35، لندن 1965