اللہ تعالیٰ کے متعلق بغیر علم کے بات کرنے کی چھٹی صورت


یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ جب کوئی کام لوگوں میں عام رواج پا جاتاہے اوران کی زندگی کا لازمی جز بن جاتاہے تو یہ انسانی فطرت ہے کہ ایسے کام کو حرام یا ناجائز کہنا اس کے لئے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ چنانچہ جب وہ خود ایسی صورتِ حال سے دو چار ہوتا ہے تو پھر ان حیلوں کو تلاش کرتا ہے جن سے حرام کو حلال کیا جاسکتاہے تاکہ اسے اس کسک اور کھٹک سے نجات مل سکے جس کو وہ اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا۔ ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ دلوں پر واقعی حالات کاغلبہ ہوتاہے، کیونکہ بعض دلوں کے لئے ایک حالت کو بدل کر کسی ایسی حالت کی طرف تحویل کرنا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کا باعث ہو، انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

پھر ستم یہ کہ بعض لوگ اس کو نظریۂ ضرورت قرار دے لیتے اور یہ کہتے نظر آتے ہیں : بھائی یہ تو ضرورت کا تقاضا ہے۔ لیکن ان سے پوچھئے کہ'ضروریات'کی حدود کیا ہیں ؟ہم مانتے ہیں کہ''الضرورات تُبیح المحظورات'' (ضرورات ناجائز کو جائز کردیتی ہیں ) اور یہ بھی مانتے ہیں کہ' ضرورت' کے اپنے احکام ہیں ، لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ اس کے لئے کچھ ضابطے اور قوانین بھی ہیں ۔ ایسے تو نہیں ہے کہ انسان جس چیز کے بارے میں سمجھے کہ وہ اس کا محتاج ہے، اس کو ضرورت اور مجبوری قرار دے لے، بلکہضرورة کے لئے کچھ شرائط اور ضابطے ہیں جن کا ہونا بہرطور ضروری ہے۔

جب یہ ثابت ہوجائے کہ یہ واقعی ضرورت ( مجبوری) ہے، پھر بھی ایک خاص زاویہ کے اندرہی اس کا اعتبار کیا جائے گا اور اسے خاص ان لوگوں تک ہی محدود رکھا جائے گا جو اس ضرورت (مجبوری)سے دو چار ہیں ۔ ایسانہیں ہوگا کہ اس زاویہ کو وسعت دے کر تمام لوگوں تک متعدی کردیا جائے۔

اس میں شک نہیں کہ انسان بسا اوقات معصیت کا ارتکاب کرلیتا ہے لیکن عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان فوراً اس گناہ سے توبہ کرلے اور کثرت کے ساتھ اللہ سے استغفار کرے، نہ کہ اپنے گناہ کا جواز تلاش کرتا پھرے۔ فرق ملاحظہ کیجئے کہ ایک طرف وہ شخص ہے جو گناہ کرتا ہے لیکن فوراً خدا سے معافی کاطلبگار ہوتا ہے اور یقینا اللہ اسے معاف بھی کردیتا ہے،کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے ۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جوگناہ بھی کرتا ہے پھر کتابوں کے بطن سے نص کی تاویل تلاش کرتاہے تاکہ اس گناہ کاجواز تلاش نکالاجاسکے۔ کیا وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے؟ نہیں یہ اس کی خام خیالی ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ بالفرض اس کو کسی کتاب میں اپنے گناہ کا کوئی جواز مل بھی جائے یا کسی عالم کا قول مل جائے جو اس کے معاملہ کوحلال اورجائز قرار دیتاہے تو بتائو کیا اللہ اس سے روزِ قیامت اس کے متعلق سوال نہیں کرے گا؟ یقینا اللہ اس سے محاسبہ کرے گا کیونکہ کتا ب اللہ کی محکم آیات اور صحیح و ثابت شدہ احادیث اس کام کو ناجائز قرار دے رہی تھیں ۔ فرمانِ الٰہی ہے:
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿٦٥...سورۃ القصص
''اور جس دن اللہ انہیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟''

یہ سوال کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ جس معصیت میں ہم واقع ہوچکے ہیں ، جب اسے چھوڑنے سے بے بس ہوجائیں تو ہمیں اس معصیت کے لئے جواز تلاش نہیں کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر آج معاشرہ، خصوصاً یورپ میں بے پردگی اور مردوں اور عورتوں کے مخلوط اجتماع جیسی برائیاں عا م ہیں ۔ اگر ہم ان برائیوں کا قلع قمع کرنے سے عاجز آجائیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم ان معصیات اور برائیوں کا جواز تلاش کرنا شروع کردیں ۔ بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ اگرچہ یہ فحاشی برسرعام ہے لیکن ہم اسے حرام سمجھتے ٭ہیں اور اللہ سے دست بدعا ہیں کہ اللہ ان برائیوں کو ختم کرنے کے لئے ہماری مدد فرمائے۔ فرض کریں ، ہم بالکل بے بس ہیں تو ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ اگلی نسل آئے گی جس کے ہاتھ سے اللہ ان برائیوں کا قلع قمع کرے گا۔ اگرچہ یہ کہنا بھی درست نہیں لیکن کسی برائی کو ختم کرنے سے عاجز آجانے کے بعد اس برائی کے درست ہونے کا جواز تلاش کرنا اور اپنے آپ کو مطمئن کر لینا کہ یہ حکم مباح ہے، اس سے کہیں زیادہ برا ہے۔ یہ رویہ ایک مؤمن کے شایانِ شان نہیں اوروہ قطعاً اس کو اپنے لئے پسندنہیں کرتا۔

مثال کے طور پر دیکھئے کہ یہود آج ارضِ فلسطین میں گھس بیٹھا ہے۔ حالات کچھ ایسے ہیں کہ مسلمان اسے ارضِ فلسطین سے نکالنے میں بے بس ہیں ، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بے بس ہیں ،ہماری آئندہ نسلیں آئیں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق یقینا یہود کو ارضِ فلسطین سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ لیکن اگر ہم اپنی بے بسی کی بنیاد پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرلیں اور فلسطین کے ایک حصہ پر ا ن کے قبضہ کودرست مان لیں تو یقینا یہ جرم ہوگا اور اس کا مطلب اصل حقیقت سے خیانت کے مترادف ہوگا۔ بلکہ ہںیو یہ کہنا چاہیے کہ ہم فلسطین میں یہود کے وجود سے غافل نہیں اور ہم اُنہیں نکالنے سے عاجز ہیں لیکن اس کے باوجود ہم یہود کے غاصبانہ قبضہ کو درست تسلیم نہیں کرتے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہود کایہ فعل ایک ڈاکو کے مماثل ہے جو کسی گھر میں گھس کر اس پر قابض ہوجائے اور گھر کا مالک اس کو نکالنے سے معذور ہو تو وہ مجبوراًکہے : ''میرے بیٹے آئیں گے جو تجھے نکالیں گے یاپھر پولیس تیرا بندوبست کرے گی اور یاد رکھ کہ یہ گھر ہرگز تیرے قبضہ میں نہیں رہ سکتا کیونکہ توڈاکو ہے جو اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اس گھر پر قابض ہوگیاہے۔''

ïبعض لوگ ابن قیم ؓ کی کلام سے دلیل لے کر یہ کہتے ہیں کہ حالات اور عصری تقاضوں کے پیش نظر فتویٰ تبدیل ہوجاتا ہے اور زیر بحث موضوع کا تعلق بھی فتویٰ کی تبدیلی کے باب سے ہے۔ حالانکہ اس ضمن میں امام ابن قیمؒ کی کلام سے دلیل لینا سراسر غلط ہے کیونکہ فی الحقیقت تبدیلی ٔ فتویٰ کے متعلق ابن قیمؒ کا قول ان لوگوں کے دعوے سے سرے سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا ۔ ان کے دعویٰ اور ابن قیمؓ کی کلام میں زمین و آسمان کا فرق ہے!!

امام ابن قیمؒ نے 'تغیر الفتویٰ' (فتویٰ کی تبدیلی) کے موضوع کو تو ضرور چھیڑا ہے لیکن تغیر الفتویٰ سے کیا مراد ہے ؟ اس کے لئے امام ابن قیمؒ کا قول ملاحظہ کیجئے۔ وہ فرماتے ہیں :
''إن الفتوٰی تتغیر بحسب العوائد والأحوال والأزمنة والأمکنة والنیات''
''بے شک فتویٰ حالات، عصری تقاضوں ، زمان و مکان اور نیتوں کی تبدیلی سے بدل جاتاہے۔'' 1

میں اس موقف کی وضاحت کے لئے چند مثالیں آپ کے سامتے رکھتا ہوں :
بعض اوقات ایک مفتی کسی مسئلہ کے متعلق ایک علاقہ میں کچھ فتویٰ دیتاہے، لیکن دوسرے علاقہ میں اس سے مختلف فتویٰ دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں کی بعض عادات و اطوار ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر دینارایک علاقہ میں آٹھ درہم کا ہے تو دوسرے علاقہ میں دس درہم کا ہے اور کسی تیسرے علاقہ میں بارہ درہم کا بھی ہو سکتا ہے۔ تو اب اگر ایک شخص بیس دینار کی نذر مانتا ہے اور وہ ایسے علاقہ میں رہائش پذیر ہے ،جہاں دینار دس درہم میں فروخت ہوتاہے ، اور اس کے پاس نذر پوری کرنے کے لئے درہموں کے سوا کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ ظاہر ہے اس کے لئے یہی فتویٰ ہوگا کہ وہ بیس کو دس میں ضرب دے۔ یہ دو سو درہم ہوئے، اسے بطورِ نذر اللہ کی راہ میں خرچ کردے۔

لیکن فرض کریں کہ اگریہی سوال ہم سے کسی دوسرے علاقہ میں پوچھا جاتا ہے، جہاں دینار بارہ درہم میں فروخت ہوتاہے اور نذرماننے والے کے پاس سوائے درہم کے کوئی اور کرنسی نہیں ہے تو یقینی امرہے کہ یہاں فتویٰ بدل جائے گا، کیونکہ دو علاقوں کے دینار کی قیمت ِخرید میں اختلاف کی وجہ سے مسئلہ کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ چنانچہ ہم اسے یہ فتویٰ دیں گے کہ وہ بیس کوبارہ میں ضرب دے ۔اس لحاظ سے اسے دو سو چوبیس درہم نکالنے پڑیں گے۔

ایسے ہی طلاق کیلئے استعمال کئے جانے والے مختلف الفاظ کو ہی لیجئے۔ بعض علاقوں میں دستور ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے کہے: سامحتُکِ (میں تجھے معاف کرتاہوں ) تو اس کا معنی طلقتکِ(یعنی میں نے تجھے طلاق دی) تصور کیا جاتا ہے۔ اور ہمارے نجدی معاشرہ میں ، خصوصاًعہد ِماضی میں جب کوئی کہتا: فلان خلیّٰ امرأته (فلاں آدمی نے اپنی بیوی کو الگ کر دیا) تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔

فرض کریں اگر ہمارے ہاں نجدی معاشرہ کی کسی عورت سے اپنے خاوند کے سامنے کوئی لغزش سرزد ہوگئی تو وہ اپنے خاوند سے کہے: سامحني(مجھے معاف کیجئے) اور خاوند جواب دے سامحتکِ (کہ میں نے تجھے معاف کردیا) تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس عورت کو طلاق ہوگئی؟ تو یقینی طور پر اس کا جواب یہی ہوگا کہ نہیں اس کو طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ علاقہ نجد میں یہ لفظ طلاق کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ ایسے ہی مثلاً کسی علاقہ کے باشندے نہیں جانتے کہ خَلّٰی کالفظ طلاق کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ وہاں اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ہاتھ باندھ دے تو وہ خاوند سے کہے:خَلِّنِيْ(یعنی میرے ہاتھ کھول دیں ) جس پر خاوند اس کے ہاتھ کھول دے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے عورت کو طلاق ہوجائے گی،اس لئے کہ عرف کے پیش نظر یہاں فتویٰ بدل گیا ہے کیونکہ لوگوں کے ہاں یہ الفاظ مختلف معانی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ رہا نیتوں کا اختلاف تو طلاق اور عتاق (غلام آزاد کرنے) کے مسائل کے ضمن میں اس کی بے شمار مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں ، البتہ ایک مثال ذکر کئے دیتا ہوں :
بعض علاقوں میں عرب لوگ لفظ حلیب کودودھ اور دہی کے معنی میں یکساں استعمال کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک شخص یہ قسم اُٹھاتا ہے کہ اللہ کی قسم! میں 'حلیب' نہیں پیوں گا تو اس کے لئے دہی کے ساتھ ساتھ دودھ پینے کی بھی ممانعت ہوگی،کیونکہ اس کے معاشرہ میں حلیب کا لفظ دہی کے ساتھ دودھ کو بھی شامل ہے۔

لیکن بعض علاقوں میں عرب لوگ حلیب کو دہی کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور لَبن کو دودھ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی شخص قسم اُٹھاتا ہے کہ وہ حلیب نہیں پئے گا تو اس کے لئے 'لبن' دودھ پینے کی ممانعت نہیں ہوگی۔یہ ہیں وہ احکام جو لوگوں کے عرف، عادات، ان کی نیتوں اور حالات کے مطابق تغیر پذیر ہوتے رہے ہیں ۔

ایک مثال اور دیکھئے :
امام ابوحنیفہ کا یہ فتویٰ ہے کہ اگرایک آدمی گھر خریدنا چاہتا ہے ،وہ اس کے صرف ایک کمرہ کا معائنہ کرتا ہے، باقی کو نہیں دیکھتا تو اس کا صرف ایک کمرے کامعائنہ کرنا ہی کافی سمجھا جائے گا اور بیع نافذ ہوجائے گی کیونکہ امام ابوحنیفہؒ کے دور میں گھر کے تمام کمرے ایک سے ہوتے تھے۔ تو گویا اس کا ایک کمرے کامشاہدہ کرنا ہی کافی تصور کیا جائے گا اور اس پر باقی تمام کمروں کو محمول کیا جائے گا۔ لیکن امام صاحب کے بعد ان کے شاگردوں نے ان کے اس فتویٰ کی مخالفت کی اور کہا کہ صر ف ایک کمرہ کا مشاہدہ ہی کافی نہ ہوگا، اس لئے کہ اس وقت لوگو ں کا طریقۂ تعمیر تبدیل ہوچکا تھا۔ لہٰذا اسی کے مطابق فتویٰ کابدل جانا ایک فطری امر تھا، لیکن کیا اس سے حکم شرعی میں کوئی تبدیلی آئی؟ نہیں شریعت کا حکم بالکل نہیں بدلا، نہ کبھی بدل سکتا ہے، صرف فتویٰ تبدیل ہوا ہے، اس لئے کہ اب وہ بنیاد تبدیل ہوچکی تھی جس پر اس فتویٰ کی عمارت قائم تھی۔ یہ ہے مطلب تبدیلی ٔ فتویٰ کا!! اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ آج کے متجددین کے دعوے اور ابن قیم ؓکے موقف کے درمیان کتنابڑا فرق ہے!!

یہاں ایک اور مسئلہ ہے جسے علمِ شریعت سے بیگانہ لوگ 'تبدیلی ٔ فتویٰ 'سے خلط ملط کردیتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ وہ مسئلہ ہے، مجتہد کا اپنے اجتہاد کوبدل لینا۔ا س کی صورت یہ ہوگی: مثلاً آج ایک مفتی یہ فتویٰ دیتا ہے کہ فلاں کام حرام ہے۔ اس کے بعد وہ اس مسئلہ کے متعلق مزید بحث و تحقیق کرتا ہے تو اس کی رائے بدل جاتی ہے اور اگلے روز وہ کہتا ہے کہ میں اپنے گزشتہ قول سے رجوع کرتا ہوں ۔ جو کل میرے نزدیک حرام تھا، اب میرے لئے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وہ حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔ تو کیا اس صورت کو فتویٰ کی تبدیلی کا نام دیا جاسکتا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ علما اس کوکسی صورت بھی تبدیلی ٔ فتویٰ کا نام نہیں دیتے بلکہ اس کو مجتہد کے اجتہاد کی تبدیلی کا نام دیتے ہیں کیونکہ مجتہد کے سامنے جو حقیقت کل منکشف نہیں ہوئی تھی، وہ آج ہوگئی ہے۔ جسے وہ کل حرام سمجھتاتھا، اسے آج مباح سمجھتا ہے ۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ مجتہد کے لئے ضروری ہے کہ جب اس کے سامنے کسی مسئلہ کاکوئی نیا حکم ظاہر ہو تو مع دلیل اسے لوگوں کے سامنے واضح کرے۔

سلف صالحین حتی کہ صحابہ کرامؓ نے بھی بے شمار مسائل میں اپنے اجتہادات میں تبدیل کی ہے۔ ایک فتویٰ دیا جونہی اس کا مخالف پہلو ظاہر ہوا تو فوراً اس سے رجوع کرلیا۔ بلکہ بعض علما کے بارے تو مشہور ہے کہ جب وہ کسی فتویٰ سے رجوع کرلیتے تو آدمی بھیج کر بازاروں میں یہ اعلان کرواتے کہ
''جس شخص کو ہم نے فلاں ، فلاں فتویٰ دیا تھا، اسے چاہئے کہ ہمارے پاس آئے کیونکہ اس مسئلہ کے متعلق ہماری رائے بدل گئی ہے۔''

لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجتہد کے اجتہاد کا بدل جانا، تبدیلی فتویٰ سے بنیادی طور پر مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ بعض لوگ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ عہد ِرفتہ میں بعض لوگ عقیدہ رکھتے تھے کہ گھڑی جادو کا کرشمہ ہے لیکن آج کوئی ایسا عقیدہ رکھنے والا نہیں ہے، لہٰذا اس مسئلہ کاتعلق بھی تبدیلی ٔ فتویٰ سے ہے۔

یہ بات علمی اور تحقیقی گفتگو کے مقابلے میں تقریباً ایک مذاق ہے۔ میں ان سے پوچھناچاہتا ہوں کہ کیا کسی عالم نے یہ کہا تھاکہ گھڑی جادو کا کرشمہ ہے؟ نہیں ، یقینا ایسی بات نہ تھی۔ باقی رہے عوام الناس تو ان پر یہ معاملہ واقعی مشتبہ ہوا ،کیونکہ یہ ایک جدید ایجاد تھی۔اس کے بعدعلما نے کتابیں لکھیں اور واضح کیا کہ گھڑی ایک جدید ایجاد ہے، جادو نہیں ۔لیکن یہ کہنا کہ محققین علما جو فی الواقع محقق ہیں ، میں سے کسی نے گھڑی کو جادو قرار دیاتھا ۔ تویہ بات علما کے ساتھ ایک قسم کا مذاق ہے۔

پھربعض یہ بھی کہتے ہیں کہ غلامی کا مسئلہ بھی تبدیلی فتویٰ کی قبیل سے ہے کہ پہلے لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا، پھر علما نے یہ فتویٰ دیا کہ کسی کو غلام بنانا جائزنہیں ہے۔ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ کسی عالم نے فی الواقع غلام بنانے کی حرمت کا فتویٰ مطلقاً نہیں دیا، اس لئے کہ غلامی شریعت کا مسلمہ مسئلہ ہے جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔ لہٰذا کوئی مسلمان اس کو بدلنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اسلام میں غلامی کا تصور ہے لیکن اسلام اس کے لئے لوگوں کو اغوا کرنے کا طریقہ اختیار نہیں کرتا،بلکہ وہ اس کے لئے جہا دِشرعی کا راستہ اپناتاہے جس میں مسلمان کفار کو غلام بناسکتے ہیں ۔

یہ ہے غلامی کا صحیح اور شرعی تصور، جو کل بھی باقی تھا، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ اگر غلامی کا وجود کسی وجہ سے ناپید ہوجائے یا تمام لوگ اپنے غلاموں کو آزادی کا پروانہ دے دیں تو الگ بات ہے، لیکن اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہوگا کہ شریعت کاحکم تغیر پذیر ہوگیا ہے۔ نہیں بلکہ شریعت کا حکم اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے اور اس بارے میں قرآن مجید کی آیات محکم ہیں جن میں نسخ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شخص اس حکم کو قرآن کریم سے ختم کرنے کی جرأت کرسکتاہے۔

مذکورہ مثالوں سے آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ حالات کے دبائوکے سامنے جھک جانا اور نصوصِ شرعیہ کو انسانی مزاج اور ہوائے نفس کے تابع کردینا کتنا سنگین مسئلہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ دین الحمدللہ سہل اور آسان ہے۔ پیغمبر علیہ السلام کا فرمان ہے :
''مجھے سیدھا، آسان اور نرم دین دے کر بھیجا گیا ہے۔''

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسانی پیدا کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا، نہ کہ مشکل اور تنگی پیدا کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی دین اسلام میں کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی اور فقہا کہتے ہیں :
''جب معاملہ پیچیدہ ہو تو اس میں وسعت پیدا ہوجاتی ہی۔''

اور
'' مشقت آسانی کو جنم دیتی ہے۔ ''

بہرحال یہ ایک طویل موضوع ہے، اصل مقصود یہ ہے کہ یہ کسی صورت بھی درست نہ ہوگا کہ عصری تقاضوں اور حالات کے نام پر دین اور اس کے احکام کا جوا اپنے گلے سے اُتار پھینکا جائے۔ مانا کہ فتویٰ لوگوں کے حالات جس پر فتویٰ کی عمارت استوار کی جاتی ہے، کے پیش نظر تبدیل ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم کسی صورت بھی تبدیلی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔


حوالہ جات
1. اعلام الموقعین:3؍3