محترمی جناب حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمة اﷲ وبرکاته
آپ کا خط ملا، یاد آوری کے لئے تہہ دل سے شکرگزار ہوں ۔ آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا ہے :
''محترم حافظ صلاح الدین یوسف نے محدث جنوری 2005ء میں آپ کے شائع شدہ مضمون میں ایک امر کی نشاندہی فرمائی ہے ،جس کی وضاحت میں بھی ضروری سمجھتا ہوں :
محدث میں صفحہ 45 پر، 13 نمبر نکتہ کے تحت آپ نے جس حدیث کو ذکر فرمایا ہے، اس کے ترجمہ میں آپ نے دو اضافے ایسے فرمائے ہیں ، جن کا اصل عربی عبارت میں کوئی وجود نہیں ۔ آپ کے ترجمہ میں بریکٹ میں اضافہ '(ہر نما زکے بعد)' اور بریکٹوں کے بغیر ترجمہ کے آخر میں 'ہر نماز کے بعد' کا ترجمہ یا اس کا مفہوم عربی عبارت میں موجود نہیں ۔

مزید برآں محترم حافظ صاحب کے خیال میں ان تکبیرات کو فرض نمازوں کے بعد پڑھنے پر توکوئی مستند دلیل موجود نہیں البتہ اُنہیں بالعموم ان دنوں میں ہروقت پڑھتے رہنا چاہئے۔ محترم حافظ صاحب کے بقول نمازوں کے بعد تکبیرات کا پڑھنا دارقطنی کی ایک روایت میں پایا تو جاتا ہے لیکن وہ روایت انتہائی ضعیف ہے، اس لئے اِس سے استدلال محل نظر ہے۔ اُمید ہے آپ جلد وضاحت فرمائیں گے تاکہ محدث میں شائع کرکے اس سہو کی وضاحت کی جاسکے۔''

محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کا میں شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے مضمون کا گہری نظر سے مطالعہ فرمایا ہے، لیکن موصوف کا اعتراض درست نہیں ہے۔ اگر وہ اصل کتابوں کی طرف مراجعت فرماتے تو اُنہیں یہ غلط فہمی نہ ہوتی، صحابہ کرامؓ کے آثار سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ ان تکبیرات کو عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعد سے تیرہ تاریخ کی عصر کی نمازکے بعد تک پڑھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس سلسلہ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں :
حدثنا أبوبکر قال حدثنا حسین بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقیق وعن علي بن عبد الأعلیٰ عن أبي عبد الرحمن عن علي أنه کان یکبر بعد صلاة الفجر یوم عرفة إلی صلاة العصر من آخر أیام التشریق ویکبر بعد العصر 1
''جناب شقیق رحمۃ اللہ علیہ اور ابوعبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ''جناب علیؓ عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعدتکبیر کہتے، ایامِ تشریق کے آخر تک نماز عصر تک اورعصر کے بعد تکبیر کہتے۔''

یہ ابوعبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے الفاظ ہیں اور جناب شقیق رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :
کان علي یکبر بعد صلوٰة الفجر غداة عرفة ثم لا یقطع حتی یصلي الإمام من آخر أیام التشریق ثم یکبر بعد العصر 2
''حضرت علی ؓ عرفہ کی صبح، فجر کی نماز کے بعد تکبیر کہتے، پھر وہ برابر کہتے رہتے تھے یہاں تک کہ امام ایام تشریق کے آخر ی دن عصر کی نماز پڑھاتا، پھر وہ عصر کے بعد تکبیر پکارتے۔''

یہ روایت اپنے مفہوم پر بالکل واضح ہے اور اس میں یکبّر بعد صلوٰة الفجر یعنی ''وہ نمازِ فجر کے بعد تکبیر پکارتے تھے۔'' اور یہ سلسلہ جاری رہتا یہاں تک کہ وہ عصر کی نما زکے بعد تک تکبیرات پکارتے تھے (ایامِ تشریق کے اختتام تک)۔ اس روایت میں کوئی ابہام نہیں ہے اور اِسے بغور پڑھا جائے تو اُمید ہے کہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے میں طالب ِحق کو دشواری پیش نہ آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

فحدثني أبوبکر محمد بن أحمد بن بالویہ ثنا عبد اﷲ بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا یحیی بن سعید ثنا الحکم بن فروخ عن ابن عباس أنه کان یکبر عن غداة عرفة إلی صلوة العصر من آخر أیام التشریق 3
''جناب حکم بن فروخ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباسؓ عرفہ کی صبح سے ایام تشریق کے آخر تک، عصر کی نماز تک تکبیر پکارتے تھے۔''

فحدثنا أبوالعباس محمد بن یعقوب أنبأ العباس بن الولید بن مزید ثنا أبي قال سمعت الأوزاعي وسئل عن التکبیر یوم عرفة فقال: یکبر من غداة عرفة إلیٰ آخر أیام التشریق کما کبر علي وعبداﷲ 4
''جناب ولید بن مزید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ سے یومِ عرفہ کی تکبیر کے متعلق سوال کیا گیاتو میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (عرفہ کی) صبح سے ایامِ تشریق کے آخر تک تکبیرات پکاری جائیں گی، جیسا کہ علی ؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ تکبیر کہا کرتے تھے۔''

حضرت علیؓ کا عمل پیچھے مفصل گزر چکا ہے کہ وہ عرفہ کے روز صبح کی نما زکے بعد سے لے کر تیرہ تاریخ کی عصر کی نماز کے بعد تک تکبیرات پکارتے تھے۔

اور عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں :
فأخبرناہ أبویحیٰی أحمد بن محمّد السمرقندي ثنا مُحمّد بن نصر ثنا یحیٰی بن یحیٰی أنبأ هیثم عن أبي جناب عن عُمیر بن سعید قال:قدم علینا ابن مسعود فکان یکبر من صلوٰة الصبح یوم عرفة إلیٰ صلوٰة العصر من آخر أیام التـشریق 5
''جناب عمیر بن سعید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ابن مسعودؓ تشریف لائے، پس وہ یومِ عرفہ کے دن صبح کی نما زسے ایامِ تشریق کے آخر، نمازِ عصر تک تکبیرات پکارتے تھے۔''

فأخبرني أبوبکر محمد بن أحمد بن بالویہ ثنا عبداﷲ بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة بن الحجاج قال سمعت عطاء یحدث عن عبید بن عمیر قال: کان عمر بن الخطاب یکبر بعد صلوٰة الفجر من یوم عرفة إلی صلوٰة الظھر من آخر أیام التشریق 6
''جناب عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ عرفہ کے دن نمازِ فجر کے بعد سے تکبیر کہتے، یہاں تک کہ وہ ایام تشریق کے آخر تک، ظہر کی نماز تک تکبیر کہتے تھے۔''

علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تکبیرات کے سلسلہ میں مرفوع روایت کو توموضوع قرار دیا اور آگے فرماتے ہیں :

فأما مِن فعل عمر وعلي وابن مسعود فصَحیح عنھم التکبیر
''پس جو عمرؓ، علی ؓ اور ابن مسعودؓ کا فعل ہے تو ان سے صحیح سند کے ساتھ تکبیر کہنا ثابت ہے۔'' 7

استدراک از حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ
افسوس کہ ڈاکٹر ابو جابر دامانوی صاحب اصل اعتراض کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ۔ راقم کا اعتراض ایک تو ترجمہ پر تھا،جو درست نہیں ؛ اس کی کوئی وضاحت اُنہوں نے نہیں کی۔ دوسرا یہ کہ اس اضافی ترجمے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر تک ہر نماز کے بعد تکبیرات پڑھی جائیں ۔ ہر فرض نماز کے بعد خصوصی طور پرتکبیرات پڑھنے کا حکم کس حدیث سے ثابت ہوتاہے؟ ا س کا بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جب کہ زیر بحث مذکورہ مضمون میں اسی بات کا اثبات کیا گیا تھا۔

اب ڈاکٹر موصوف نے یہ آثار پیش کیے ہیں ،لیکن موصوف نے غور نہیں فرمایا کہ کسی اثر میں بھی وہ بات نہیں ہے جس کا ثبوت راقم نے طلب کیا ہے۔ ان سب آثار میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ صحابہ عرفے کی صبح سے تکبیرات کا آغاز فرماتے اور 13؍ ذوالحجہ کی عصر تک جاری رکھتے۔ ان میں کسی میں بھی فرض نمازوں کے بعد خصوصی طور پر تکبیرات بہ آواز بلند پڑھنے کا ذکر نہیں ٭ ہے۔ جہاں تک عرفے کے دن سے بلکہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے آخر ایامِ تشریق تک تکبیرات پڑھنے کا مسئلہ ہے،یہ تو نبی1 کی احادیث کے عموم سے اور صحابہ کرامؓ کے عمل سے ثابت ہے۔اس میں تو سرے سے اختلاف ہی نہیں ہے،لیکن اس میں نماز کے بعد کی تخصیص نہیں ہے، بلکہ عموم ہے کہ یہ تکبیرات ہر وقت پڑھی جائیں ، نہ کہ صرف فرض نمازوں کے بعد۔

محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی بات اس حد تک تو درست معلوم ہوتی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تکبیرات پڑھنے کے صریح الفاظ کسی صحیح روایت میں موجود نہیں ہیں ،لیکن آثار میں مذکور''یکبر بعد صلاة الفجر'' اور ''یکبر بعد العصر/ إلیٰ صلاة العصر'' کے الفاظ وغیرہ میں البتہ اس امر کا اشارہ ضرور پایا جاتاہے ۔ اور اس اشارہ کو اس بات سے بھی مزید تقویت حاصل ہوجاتی ہے کہ یوم تشریق تو مغرب کے وقت ختم ہوتا ہے لیکن آخری یوم تشریق کی عصر کی نماز کے بعد تک تکبیرات کو محدود کرنا نمازوں سے ان تکبیرات کے تعلق کا بھی ایک اہم قرینہ ہے۔ واللہ اعلم (حافظ حسن مدنی)

 


حوالہ جات
1. مصنف ابن أبي شیبة:2؍72) واللفظ له (المستدرک: 1؍299، السنن الکبریٰ للبیهقي: 3؍314
2. المستدرک :1؍299
3. المستدرک: 1؍299
4. المستدرک :1؍300
5. المُستدرَک : 1؍299،300
6. المستدرک 1؍299 و ابن أبي شیبة :2؍72
7. تلخیص المستدرک :1؍299