عیدالاضحی، عشرہ ذو الحجہ ، عید الفطراور دیگر اوقات و ایام کی خصوصیت ِ عبادات
اسرارِ اوقات
جس طرح کسی قوم کی ملی سیاست اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے تمام انتظامی اُمور کے لئے اوقات مخصوص اور معین نہ کردیے جائیں ۔ اسی طرح سیاست ِشرعیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کی عبادات اور اطاعات کے لئے اوقات و ایام مخصوص نہ کرلئے جائیں ۔ جیسا کہ شریعت ِاسلامیہ میں رات دن میں کئی بار، پھر ہفتہ میں ایک بار اور دو سال میں دوچار اور ایسے ہی اور کئی ایک اوقات ہیں جن کو بزبانِ رسالتؐ مخصوص کر دیا گیا ہے۔ اس کے مصالح و حکم مکمل طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، لیکن جہاں تک کتاب و سنت کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے تین اُصول ہیں :
اصل اوّل: متعدد آیات و احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات میں اپنے بندوں کو قرب فرماتا ہے اور بعض اوقاتِ مخصوصہ میں بندوں کے اعمال اس پر پیش کئے جاتے ہیں ۔ ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ ''جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔''1
ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ''افضل نماز نصف رات کی ہے، لیکن اس وقت میں پڑھنے والے بہت کم ہوتے ہیں ۔2
اور آپؐ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ''آدھی رات گذر جانے کے بعد۔''3
جمعہ کے دن کے متعلق آپ نے فرمایا کہ اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔4
سورج ڈھل جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔میں پسند کرتا ہوں کہ اس ساعت میں میرا کوئی عمل صالح بارگاہ الٰہی میں پیش کیا جائے۔

شام کی نماز کے وقت دن کے فرشتے چلے جاتے ہیں ۔ اور رات کے فرشتے آجاتے ہیں ۔ اور اسی کے متعلق طرف قرآن میں ارشاد ہے :
فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُ‌ونَ ﴿١٨...سورۃ الروم
''صبح و شام خدا کی پاکی بیان کرو اور اسی طرح تیسرے پہر (عشا) اور جس وقت دوپہر کرو۔ کیونکہ تمام آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد و ثنا ہے۔''

غرض ایسی بہت سی نصوص ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے بعض اوقات کو عبادت، ذکر الٰہی اور دعا کے لئے مخصوص کردیاہے اور ان اوقات میں تجلیاتِ انوارِ الٰہیہ اور فیوضاتِ ربانیہ کا زمین پر اس طرح انتشار اور پھیلاؤ ہوتا ہے کہ تھوڑی سی توجہ اور ادنیٰ کوشش سے قلب پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملائِ اعلیٰ سے انوار وفیوضات کا ایک بہت بڑا دروازہ کھل گیا ہے۔ انسان کے جسم پر خشوع و خضوع کی ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ قلب کی طہارت اور پاکیزگی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انسان محسوس کرتا ہے کہ میں بارگاہِ الٰہی میں پہنچا ہوا ہوں اور اس کے لطف و کرم عنایات کا ایک بحر مواج ہے جو قلب کی تمام ظلمتوں اور کدورتوں کو پاک و صاف کئے ہوئے، بہائے لئے چلا جارہا ہے۔
اس وقت جب کہ قلب حاضر، روح بیدار اور جسم خاشع اور متواضع ہوتا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و عنایات کا دروازہ کھلا ہوا ہوتا ہے تو کیوں نہ عبادات مقبول اور دعائیں مستجاب ہوں ...!!

اصل دوم
نصوصِ کتاب و سنت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لئے اور اس کی عبادت میں مصروف ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان تمام تشویشاتِ طبعیہ سے خالی ہو، مثلاً حد سے بڑھی ہوئی بھوک اور اسی طرح بہت زیادہ سیری یا نیند کاغلبہ، تھکان کی شدت وغیرہ اور اسی طری تمام تشویشاتِ خیالیہ سے بھی اس وقت پاک ہو مثلاً، کان شوروغل سے، آنکھیں ایسے نقوش و صور اور مناظر سے جو اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوں وغیرہ... جو اختلاف عادات اور اختلاف احوال و ظروف سے بدلتی رہتی ہیں ۔

غرض انسان، ضعیف الخلقت انسان،اردگرد کے حالات سے بہت جلد متاثر ہوجانے والا انسان، دنیا کے کاروبار میں مبتلا انسان اورمعاصی و خطاؤں میں اُلجھے ہوئے انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے زنگ آلود قلب کی طہارت و پاکیزگی اور انجلا کے لئے ذکر و عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو، کیونکہ {أَلَا بِذِكْرِ‌ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴿٢٨...سورۃ الرعد} ''خبردار!دلوں کو اطمینان اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔'' پس اسی توجہ الیٰ اللہ کے لئے ضروری ہے کہ تمام طبعی اور خیالی تشویش انگیزیوں سے پاک ہو اور رات دن میں پانچ نمازوں کیلئے اوقاتِ مخصوصہ کی تعیین بھی انہی اُمور کی بنا پر ہے۔ واﷲ أعلم وعلمہ أتم

اصل سوم
بعض ایام کواللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے اس لئے مخصوص و معین کردیا کہ اُمت مسلمہ کی تاریخی روایات کاان کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور ان ایام میں اللہ تعالی نے اُمت ِمسلمہ پر کوئی بہت بڑا انعام کیاتھا۔ پس ان تاریخی روایات کو زندہ رکھنے، ان احساناتِ الٰہی اور انعاماتِ ربانی کی یاد تازہ کرنے اور ان کے لئے شکر بجا لانے کے لئے ضروری ہوا کہ ان ایام و اوقاتِ مخصوصہ کو عبادت کے لئے مقرر کردیاجائے۔ جیسا کہ احادیث ِنبویہؐ سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی نصرت و اعانت فرمائی اوران کو اور ان کی قوم کو اس دن فرعون پر فتح و غلبہ عطا فرمایا۔ اور اس کی غلامی سے نجات دلائی تو یہ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کا 'یومِ نجات' تھا۔ پس سلسلہ انبیاء کرام میں سے ایک الوالعزم نبی اور اُمت ِمسلمہ (جس کا بدو و ظہور نوح علیہ السلام کے وقت سے ہوا۔ اور جس کا عہد ِکمال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد مبارک تھا) کی اس عظیم الشان کامیابی اور حق کے اس غلبہ عظیمہ اور طاغوتی طاقتوں کی شکست و ہزیمت کی یاد زندہ رکھنے اور اللہ تعالیٰ کا اس پر شکریہ ادا کرنے کے لئے آپؐ نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کو فرمایا۔

رمضان المبارک
رمضان المبارک کا سارا مہینہ عبادت کے لئے مخصوص کردیا... کیوں ؟
اس لئے کہ سعادتِ انسانی کا وہ مبارک پیغام جس کی تبلیغ صادق و مصدوق محمد عربی علیہ الصلوٰة والسلام کے سپرد ہوئی۔ وحی الٰہی کا وہ دروازہ جو غارِ حرا کے گوشہ نشین پرکھلا، خداکا وہ مقدس کلام جو نبی اُمی لقب پرنازل ہوا، سب سے پہلے جس رات میں اس کا ظہور ہوا، وہ ليلة القدرتھی اور ليلة القدرجس مہینہ میں آئی، وہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا جو فی الحقیقت اس سعادتِ انسانیہ اور ہدایت ِاقوام و ملل کے ظہور کی یادگار ہے جس کا دروازہ قرآن حکیم کے نزول سے دنیا پر کھلا :
شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْ‌آنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْ‌قَانِ...﴿١٨٥﴾...سورۃ الفرقان
''رمضان کا مہینہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن حکیم نازل ہوا۔ جو انسانوں کے لئے موجب ِہدایت اور جس کی تعلیم میں ہدایت و ضلالت اور حق و باطل کی تمیز کے لئے کھلے نشان موجود ہیں ۔''

پس وہ مہینہ جو خدا کی سب سے بڑی رحمت و برکت کے نزول کا ذریعہ بنا اور وہ مہینہ جو اپنے ساتھ خدا کی رحمتوں کی ایک ایسی بارش لایا جس نے دنیا کی وہ سب سے بڑی خشک سالی دور کردی جو صدیوں سے بنی نوع انسان کے روح و قلب پر چھائی ہوئی تھی اور وہ مبارک ایام جو تعلیماتِ الٰہیہ کے مظہر بنے؛ ان ایام کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے اپنی برکتوں اور رحمتوں کے نزول کے لئے ایک ممتاز خصوصیت عطا فرمائی تاکہ نزولِ قرآن کی یادگار دنیا میں زندہ رہے اور اُمت ِمسلمہ کو حکم دیا کہ اس عظیم الشان انعام کے صلہ میں شکریہ بجا لائیں ۔ اور دن رات اس کی عبادت میں مصروف و مشغول رہیں ، دن بھر روزہ رکھیں ، ذکر الٰہی اور تلاوتِ قرآن ہو اور راتوں کو جاگیں ، نوافل اذکار ہوں اور خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ ربّ العزت میں دعائیں کی جائیں ۔

عیدالفطر
رمضان المبارک کے ختم ہوجانے پراس سے اگلے دن کو مسلمانوں کے لئے اس لئے 'یوم عید' اور خوشی کا دن قرار دیا اور حکم دیا کہ اس دن سب مسلمان غسل کریں ۔ حسب ِاستطاعت اچھے سے اچھا کپڑا پہنیں ۔ خوشبو لگائیں ۔ صدقتہ الفطر ادا کریں کہ اس دن کوئی مسلمان بھوکا اور عید کے روز غم منانے والا نہ رہے اور خوب تزک و احتشام اور ٹھاٹھ کے ساتھ سارے شہر کے مسلمان، گلی کوچوں اور بازاروں کے شوروغل سے دور کھلے میدان میں خداکی تہلیل و تکبیر اور تسبیح و تحمید سے فضاے آسمانی میں گونج پیدا کردیں اور اس کی بارگاہ میں ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنے ، جھکنے اور بالآخر زمین پرسر اور پیشانی کے رکھ دینے سے ان نعمائِ الٰہیہ کا شکریہ ادا کریں جو رمضان میں ان پرنازل ہوئیں اور ان طاعات و عبادات کی تکمیل پر مسرت و شادمانی کا اظہارکریں جورمضان المبارک میں فرض کی گئی تھیں ۔

عیدالاضحی
اسی طرح 'عیدالاضحی' بھی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی ایک نہایت مخلصانہ عبادت کی یادگار ہے۔ یہ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلواة والسلام کے اعمالِ حیات اور وقائع زندگی کو ایک خاص عظمت وشرف اور اہمیت دی گئی ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی دعوت کو ملت ِابراہیمی اور دین حنیفی کے مترادف قرار دیا ہے: {ملة أبیکم إبراہیم} ''یہ ملت تمہارے باپ ابراہیم ہی کی ہے۔'' اور دوسری جگہ فرمایا:

قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَ‌بِّي إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا...﴿١٦١﴾...سورۃ الانعام
''کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے ربّ نے سیدھا راستہ دکھایا ہے کہ وہی ٹھیک دین ہے۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ کہ وہ ایک ہی خدا کے ہورہے تھے۔''

اور اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کو 'اُسوۂ حسنہ' کے طور پرقرآن کریم میں پیش کیا تاکہ ان کے اعمالِ حیات ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں اور اُمت مسلمہ ان کی تأسی اور اقتدا کرتی رہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بے آب و گیاہ سرزمین پر لا کر بسایا کہ خدا کی تحمیدو تقدیس اور ا س کی عبادت بجالائیں ۔ خدا نے حضرت ابراہیم ؑ سے ان کے عزیز فرزند کی قربانی طلب کی۔ باپ بیٹا دونوں نے اس قربانی کو خدا کے حضور پیش کیا۔ خداوند قدوس کو اپنے پیارے بندوں کی یہ مخلصانہ ادائیں کچھ اس طرح بھاگئیں کہ اس موقعہ کی ہر حرکت کو ہمیشہ کے لئے قائم کردیا۔ اور اس کو ہمیشہ دنیا میں زندہ رکھنے کے لئے تمام پیروانِ دین حنیفی پر فرض کردیا کہ ہر سال حج کریں تاکہ لاکھوں انسانوں کے اندر سے اُسوۂ ابراہیمی جلوہ نما ہو اور ان میں سے ہر متنفس وہ سب کچھ کرے جو آج سے کئی ہزار برس پہلے خدا کے دو مخلص بندوں نے وہاں کیا تھا۔ اور جو اس 'وادیٔ غیر ذی زرع' میں نہ پہنچ سکیں ، وہ اپنی اپنی جگہوں پر اس دن کو 'یومِ عید' منائیں اور نمازِ عید پڑھ کر سنت ِابراہیمی'قربانی' کو زندہ رکھنے کے لئے اچھی سے اچھی قربانیاں اللہ کے سامنے پیش کریں ۔ تاکہ جہاں کہیں بھی امت ِمسلمہ موجود ہو، وہاں 'اُسوۂ براہیمی ؑ' زندہ رہے اور ارشاد الٰہی صادق ہو کہ
وَوَهَبْنَا لَهُم مِّن رَّ‌حْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا ﴿٥٠...سورۃ مریم
''ہم نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کو اپنی رحمت میں سے بڑا حصہ دیا اور ان کے لئے اعلیٰ و اشرف ذکر خیر دنیا میں باقی رکھا۔''

(ہفت روزہ 'توحید'امرتسر:21؍مارچ 1928ء )


حوالہ جات
1. صحیح مسلم:758
2. مسند احمد:5؍189
3. ترمذی:3746
4. ابوداود:1048