ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
2006
اختر حسین عزمی
انسانی فطرت ہے کہ وہ جسے ملجا و ماویٰ سمجھتا ہے، اسی کے سامنے نذرونیاز پیش کرتا ہے۔ غیر اللہ کے لئے ایسا کرنا اللہ نے 'شرک' قرار دے کر منع کیا تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اس فطری جذبے کی تسکین کا راستہ بھی بنا دیا۔ انسان اگر غیر اللہ کو سجدہ کرتا تھا تو اللہ نے جہاں غیراللہ کو سجدہ کرنا حرام ٹھہرایا، وہاں اس کے متبادل کے طور پر نماز کو فرض کردیا۔
  • جنوری
2006
شیخ سلمان بن فہد
یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔
  • جنوری
2006
محمد دین قاسمی
چوتھی مثال (واقعہ ذبح ِبقرہ اور قیاسی تفسیر)
سورة البقرة میں، ذبح ِبقرہ کے واقعہ کے ضمن میں قتل ِنفس کا واقعہ بایں الفاظ مذکور ہے :
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَ‌أْتُمْ فِيهَا ۖ وَاللَّـهُ مُخْرِ‌جٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ﴿٧٢﴾ فَقُلْنَا اضْرِ‌بُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّـهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِ‌يكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٧٣...سورۃ البقرۃ
''اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں باہم جھگڑے اور قتل کا الزام تھوپنے لگے او راللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے وہ کھول کر رکھ دے گا، اس وقت ہم نے یہ حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو، اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو، یوں اللہ لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور یوں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔''
  • جنوری
2006
عبداللہ دامانوی
محترمی جناب حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمة اﷲ وبرکاتہ
آپ کا خط ملا، یاد آوری کے لئے تہہ دل سے شکرگزار ہوں ۔ آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا ہے :
''محترم حافظ صلاح الدین یوسف نے محدث جنوری 2005ء میں آپ کے شائع شدہ مضمون میں ایک امر کی نشاندہی فرمائی ہے ،جس کی وضاحت میں بھی ضروری سمجھتا ہوں :
محدث میں صفحہ 45 پر، 13 نمبر نکتہ کے تحت آپ نے جس حدیث کو ذکر فرمایا ہے، اس کے ترجمہ میں آپ نے دو اضافے ایسے فرمائے ہیں ، جن کا اصل عربی عبارت میں کوئی وجود نہیں ۔ آپ کے ترجمہ میں بریکٹ میں اضافہ '(ہر نما زکے بعد)' اور بریکٹوں کے بغیر ترجمہ کے آخر میں 'ہر نماز کے بعد' کا ترجمہ یا اس کا مفہوم عربی عبارت میں موجود نہیں ۔
  • جنوری
2006
ثنااللہ مدنی
یہ طلاق دوسری ہے یا تیسری؟
سوال:25 سال قبل میں ملک سے باہر تھا اور میری بیوی میرے والدین کے پاس تھی۔ اس دوران میرے والد نے مجھے لکھا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ چنانچہ میں نے اپنے والد کی اطاعت کرتے ہوئے طلاق نامہ لکھ کر والد کو بھیج دیا مگر میرے والد نے وہ طلاق نامہ میری بیوی کو نہیں دیا اور نہ اسے بتایا۔ ایک سال بعد میں واپس آگیا اور بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد میرے والد اللہ کو پیارے ہوگئے، اس دوران میرا بیوی سے کوئی جھگڑا ہوا تو میں نے پھر بیوی کو طلاق دے دی۔ بعد ازاں پھر صلح صفائی ہوگئی۔ آج سے چند روز پہلے پھر ہمارا کسی بات پر تنازعہ ہوا تو جذبات میں آکرمیں نے پھر طلاق دے دی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اب میں اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہوں یا نہیں؟ اور پہلی طلاق جس کا اب تک بیوی کو علم نہیں ہے، شمار میں آئے گی یا نہیں؟
  • جنوری
2006
سید داؤد غزنوی
جس طرح کسی قوم کی ملی سیاست اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے تمام انتظامی اُمور کے لئے اوقات مخصوص اور معین نہ کردیے جائیں ۔ اسی طرح سیاست ِشرعیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کی عبادات اور اطاعات کے لئے اوقات و ایام مخصوص نہ کرلئے جائیں ۔
  • جنوری
2006
محمد اسرائیل فاروقی
سنت و حدیث کی بدولت قرآ ن کریم کی نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تفسیر و تعبیر کا کامل نمونہ ہر دور میں موجود رہا ہے۔ عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثر سے عہد ِصحابہؓ کا 'مزاج و مذاق' ایک نسل سے دوسری نسل اورایک طبقہ سے دوسرے طبقہ میں منتقل ہوتا رہا اورہر دور میں ایسے افراد موجود رہے جو 'سلف ' کے مزاج اور ذوق کے حامل کہے جا سکتے ہیں۔قرآنِ حکیم میں تقریباً چالیس مقامات پر 'اتباع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ' کا حکم مختلف انداز میں وارد ہوا ہے۔