میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

فضائل و برکاتِ حج و عمرہ
نماز وروزہ صرف بدنی عبادات ہیں اور زکوٰة صرف مالی، جبکہ حج وعمرہ ،مالی وبدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے۔
اسلام کے پانچ ارکان میں سے حج ایک اہم رکن ہے۔1
ایمان و جہاد کے بعد حجِ مبرور ومقبول افضل ترین عمل ہے۔2
دورانِ حج اگر کسی سے کوئی شہوانی فعل اور کسی گناہ کا ارتکاب نہ ہو تو حاجی گناہوں سے یوں پاک ہو کر لوٹتا ہے ، جیسے آج ہی وہ پیدا ہوا ہے۔3
حجِ مبرور کی جزا جنت ہے۔ 4
حج عورتوں کا جہاد ہے۔ 5جس میں کوئی قتال بھی نہیں ۔ 6
عورتوں کی طرح بوڑھوں اور ضعیفوں کا جہاد بھی حج وعمرہ ہے۔ 7
حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں ۔8
حاجی کی زندگی قابلِ رَشک اور وفات قابلِ فخر ہوتی ہے کہ اگر وہ احرام کی حالت میں فوت ہوجائے تو قیامت کے دن وہ لَبَّیْکَ پکارتا اُٹھا یا جائے گا۔9
رمضان میں کئے گئے عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے۔10
ایک عمرہ دوسرے عمرے تک گناہوں کا کفارہ ہے۔ 11

فرضیت ِ حج اور تارکِ حج کے لئے وعید
فِيهِ ءَايَـٰتٌۢ بَيِّنَـٰتٌ مَّقَامُ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ‌ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿٩٧...سورۃ آل عمران
لوگوں پر اللہ کا یہ حق (فرض) ہے کہ جو اس کے گھر (بیت اللہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ، وہ اس کا حج کریں اور جو کوئی اس کے حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے لہٰذا تم حج کرو۔ایک صحابی (اقرع بن حابس ؓ) نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال حج کریں ؟ اُنھوں نے تین بار یہ سوال دہرایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور بالآخر فرمایا:اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ پاتے۔12

حج کی استطاعت حاصل ہوجائے تو اس کی ادائیگی میں جلدی کرنا ضروری ہے۔13

اگر توفیق ہو تو پانچ سال میں ایک مرتبہ حج کرلینا چاہیے۔14

جو استطاعت حاصل ہوجانے کے باوجود مشاغلِ دنیا میں مصروف رہے اور اسی حالت میں حج کئے بغیر ہی موت آ جائے تو ان کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ'' میرا جی چاہتا ہے کہ طاقت کے باوجود جن لوگوں نے حج نہیں کیا ،میں ان پر غیر مسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس(جزیہ) نافذ کردوں ۔ اللہ کی قسم! وہ مسلمان نہیں ہیں ۔''15

مفہومِ استطاعت
استطاعت کے مفہوم میں زادِراہ (16) اور سواری ( یا مکہ آنے جانے کے لئے اس کے اخراجات) شامل ہیں ۔17

اسی طرح اہل علم نے راستوں کے پر امن ہونے کی شرط بھی عائد کی ہے۔(18) اور عورتوں کے لئے ساتھ ہی کسی محرم کا ہونا بھی شرط ہے جو حج اور کسی بھی سفر (19)خصوصاً ایک دن اور ایک رات (20) یا زیادہ سے زیادہ تین دنوں اور تین راتوں کے ہر سفر کے لئے شرط ہے۔21

استطاعت کے مفہوم میں ہی جسمانی استطاعت بھی شامل ہے،اگر کوئی شخص پیدل تو کجا، سواری پر بھی نہ بیٹھا رہ سکتا ہو تو اس کا حج کے سفر پر نکلنا واجب نہیں ۔ 22

حجِ بدل
ضعیف العمر یا لاغر و مریض شخص اپنی طرف سے کسی کو'حجِ بدل'کرواسکتا ہے۔23
حجِ بدل عورت، مرد کی طرف سے (24) مرد، عورت کی طرف سے (25) عورت، عورت کی طرف سے(26) اور مرد مرد کی طرف سے کرسکتے ہیں ۔ 27
حجِ بدل کرنے والے کے لئے شرط ہے کہ وہ پہلے اپنی طرف سے فریضۂ حج اداکرچکا ہو۔ 28

سفرِحج وعمرہ پر روانگی
تقویٰ وپرہیزگاری کو اختیار کریں کہ یہی بہترین زاد ِراہ ہے۔29
پورے سفرِ حج کے دوران بیہودہ وشہوانی افعال واقوال، لڑائی جھگڑے اور فسق و فجور سے بچیں ۔ 30
روانگی سے قبل خلوصِ نیت سے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کرلیں ۔31
اس طرح سابقہ تمام گناہوں سے پلوپاک ہوجائے گا۔32
اگر آپ کے ذمے کسی کا کوئی حق یا امانت ہو تو وہ ادا کردیں ۔33
خلوص وللہیت اختیار کریں کہ یہ قبولیت ِ عمل کی بنیادی شرط ہے۔ 34
مالِ حلال سے حج وعمرہ کریں ، ورنہ قبولیت ناممکن ہے۔35
سفرِ حج وعمرہ کے دوران خصوصاً اور عام حالات میں عموماً ممنوع زیب وزینت مثلاً داڑھی منڈوانا(36) اور مردوں کا سونے کی انگوٹھی یا چین وغیرہ کا استعمال کرنا (37) حرام و فسق ہے۔
زندگی بھر عموماً اور سفرِ حج وعمرہ میں خصوصاً اپنے آپ کو اعمال کے برباد کردینے والے شرک (38) اور فتنہ و دردناک عذاب کا باعث بننے اور جہنم لے جانے والی بدعات(39) کی تمام الائشوں سے پاک رکھیں ۔
سفرِ حج وعمرہ پر کسی بھی دن نکل سکتے ہیں ،البتہ مسنون ومستحب دن جمعرات(40) اور صبح کا وقت(41) یا پھر کم از کم دوپہر وزوالِ آفتاب کا وقت ہے۔ 42
کسی موحد،متبع سنت اور با اخلاق انسان کو اپنا رفیقِ سفر بنالینا چاہئے۔43
آغازِ سفر پہ گھر میں دورکعتیں پڑھنے کا صحیح احادیث سے ثبوت نہیں ملتا۔مصنف ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر وغیرہ والی مرفوع حدیث ضعیف ہے۔ 44
البتہ حضرت ابن عمرؓ والا موقوف اثر سنداً صحیح ہے،جس میں ان کا سفر پر نکلنے سے پہلے مسجد میں جاکر دورکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔45
سفر سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں دورکعتیں پڑھ کر گھر میں داخل ہونا ثابت ہے۔46
سفر سے واپس آکر گھر میں دن کے وقت یا سر شام داخل ہونا چاہیے۔47
طویل سفر سے واپسی پر اطلاع کئے بغیر رات کو اپنے گھر آنے سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔48
اس میں بہت سیحکمتیں اور مصلحتیں ہیں ۔49
گھر سے نکلتے وقت یہ دعا کریں :
(بِسْمِ اﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلیٰ اﷲِ،وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّة اِلَّابِاﷲِ)
''اللہ کا نام لے کر اور اس پر توکل کرکے (گھر سے نکل رہاہوں ) اور اس کی توفیق کے بغیر نہ نیکی کرنے کی ہمت ہے،نہ برائی سے بچنے کی طاقت۔'' 50

مسافر کواِلوداع کرنے والے یہ کہیں :
(اَسْتَوْدِعُ اﷲَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ)51
''میں تیرے دین و امانت اور خاتمۂ عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔''

مسافر جو ابی دعا یوں کرے:

(اَسْتَوْدِعُکُمُ اﷲَ الَّذِیْ لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُه)
''میں تمہیں اس ذات ِ الٰہی کے سپرد کرتا ہوں ،جس کے سپرد کی گئی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔''52

سواری پر بیٹھتے وقت یہ دعا پڑھیں :
(اَﷲُ اَکْبَرُ،اَﷲُ اَکْبَرُ،اَﷲُ اَکْبَرُ،سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى سَخَّرَ‌ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقْرِ‌نِينَ ﴿١٣﴾ وَإِنَّآ إِلَىٰ رَ‌بِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ﴿١٤)
''اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کیا ،ورنہ ہم میں اس کی طاقت نہ تھی اور ہم سب اپنے ربّ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں ۔''53

محض زیادہ ثواب کی نیت سے طویل سفرپیدل کرکے حج وعمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جانا بعض وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔سواری اللہ کی نعمت ہے۔استطاعت ہو تو اسے استعمال کرلینا چاہیے اور یہی افضل ہے، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔54

مواقیت ِ حج وعمرہ
عمرہ کے لیے سال کے کسی بھی ماہ اور کسی بھی وقت اِحرام باندھا جاسکتا ہے۔55

البتہ حج کے احرام کے لیے مہینے مقرر ہیں ۔ 56

جو کہ شوال،ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں ۔57

حج وعمرہ کے لیے جانے والوں کے اِحرام باندھنے کے مقامات یہ ہیں :مدینہ سے ہوتے ہوئے آنے والوں کے لیے ذوالحلیفة (بئر علی)،اہلِ شام اور اس راہ (اندلس، الجزائر،لیبیا، روم،مراکش وغیرہ ) سے آنے والوں کے لیے جُحفه (رابغ)، اہلِ نجد اور براستہ ریاض۔ طائف گزرنے والوں کے لیے قرن المنازل (السیل الکبیر یا وادیٔ محرم)، اہل یمن اور اس راستے سے (جنوبِ سعودیہ،انڈونیشیا،چین،جاوہ،انڈیا اور پاکستان سے)آنے والوں کے لیے یَلَمْلَمْ (سعدیہ) اور ان مقامات سے اندرونی جانب رہنے والوں کے لیے ان کے اپنے گھر ہی میقات ہیں ۔58

اہل ِ عراق اور اس راستہ سے (ایران اور براستہ حائل) آنے والوں کا میقات ذات ِعرق نامی مقام ہے۔59

مصر کے لیے بھی شام والوں کا ہی میقات ہے۔ 60

حج وعمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے والا اگر اِحرام باندھے بغیر میقات سے گزر جائے تو واپس لوٹ کر میقات سے احرام باندھ کر جائے یا پھر اندرہی کہیں سے احرام باندھ لے تو دَم(فدیہ کا بکرا) دے اور اس کا حج و عمرہ صحیح ہوگا۔ 61

کسی ذاتی غرض،تجارت،تعلیم،علاج وغیرہ سے جائے اور حج وعمرہ کا ارادہ نہ ہو تو بلا احرام حدود ِ حرم میں داخل ہوسکتا ہے۔

پاک وہند سے ہوائی جہاز سے آنے والے لوگ اِحرام کی چادریں اور خواتین احرام کے کپڑے پہن کر چلیں اور جہاز کے عملے کے یہ بتانے پر کہ میقات سے گزرنے لگے ہیں ، وہاں سے لَبَّـیْکَ پکارنا شروع کردیں ۔ ہوائی مسافروں کا جہاز میقات سے گزر کر جدہ آتا ہے، لہٰذا ان کے لئے جدہ میقات نہیں ہے۔ 62

اِحرام باندھنے کا طریقہ
غسل کرکے اِحرام باندھنا سنت ہے۔(63)حیض والی عورتیں بھی غسل کر لیں اور اِحرام باندھ لیں ۔(64)کسی وجہ سے غسل نہ کر سکیں تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ 65

غسل یا وضو کرکے اِحرام کی نیت کرنے سے پہلے مردوں کا بدن پر خوشبو لگانا جائز ہے، چاہے اس کا اثر بعد میں دیر تک ہی کیوں نہ رہے۔66

مرد،دوسفید چادریں لے لیں ۔ عورتیں معمول کا صاف ستھرا اور موٹا و ساتر لباس ہی بطور ِ احرام استعمال کرلیں ۔ مرد سر کو ننگا رکھیں اور ایسا جوتا پہنیں جو ٹخنوں کو نہ ڈھانپے۔۔عورتیں دستانے نہ پہنیں اور نہ ہی منہ پر نقاب باندھیں ،البتہ غیر محرم لوگوں کی موجودگی میں سر سے کپڑا لٹکا کر پردہ کریں ۔ 67

اِحرام کے لیے کوئی مخصوص نماز نہیں ۔فرض،اشراق،ضحی،تحیة الوضو یا تحیة المسجد کی رکعتیں پڑھ لیں تو وہی کافی ہیں ۔68

بعض احادیث کی رو سے جمہور علما کے نزدیک یہ دو رکعتیں مستحب ہیں اور ان کا وقت اِحرام باندھنے کے بعد اورلَبَّیْک پکارنا شروع کرنے سے پہلے ہے۔ 69

صرف عمرہ یا افضل ترین حج تمتع کا عمرہ کرنے والا دل میں نیت کرلے اور یہ الفاظ کہنا بھی ثابت ہے:(اَللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَة) ''اے اللہ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔'' اور اگر حجِ قران کرنا ہو تو یہ کہیں :(اَللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ حَجَّاً وَ عُمْرَة)
''اے اللہ! میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔''

صرف حج ِ مفرد(بلا عمرہ)کرنا ہو تو یوں کہیں : (اَللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ حَجًّا)
''اے اللہ! میں حج کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔''
اور اس کے بعد تلبیہ کہنا شروع کردیں جو یہ ہے:(لَبَّیْکَ اَللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ،لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ،اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَة لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ)
''میں حاضر ہوں ،اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں ،میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ۔ بیشک ہر قسم کی تعریف،تمام نعمتیں اور ساری بادشاہی تیرے ہی لئے ہیں ۔تیرا کوئی شریک نہیں ۔''70
یا ساتھ ہی یہ کہتے جائیں :(لَبَّیْکَ اِله الْحَقِّ لَبَّیْکَ) 71
''میں حاضر ہوں ، اے معبود ِ برحق!میں حاضر ہوں ۔''

تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہیے،حتیٰ کہ خواتین بھی اتنی آواز سے کہیں کہ ان کی ساتھی خواتین سن سکیں ۔دوسرے مردوں تک ان کی آواز نہ جائے۔ 72

میقات سے عمرہ کا احرام باندھیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں اور معمول کے لباس میں رہیں اور 8 ذوالحجہ (یومِ ترویہ) کو پھر اپنی رہائش گاہ سے حج کا اِحرام باندھیں اور دس ذوالحجہ کو قربانی کے بعد کھول دیں ۔یہ حج ِتمتع ہے جو کہ افضل ترین حج ہے۔73

میقات سے حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھیں اور عمرہ کرکے اِحرام نہ کھولیں اور اسی حالت میں پھر 8؍ ذوالحجہ کو منیٰ چلے جائیں اور 10؍ ذوالحجہ کو قربانی کے بعد احرام کھول دیں ۔یہ حجِ قران ہے۔اگر قربانی کا جانور ساتھ لے لیا ہو تو پھرحج قران کرناہی سنت ہے۔

میقات سے حج کا احرام باندھیں ، مکہ پہنچ کر طواف ِ قدوم و سعی کریں اور احرام کھولے بغیرمنیٰ چلے جائیں اور تمام مناسک ِ حج پورے کرکے احرام کھول دیں ۔اس حج کے ساتھ قربانی واجب نہیں ۔

محرمات ِ احرام (وہ اُمورجو احرام کی حالت میں منع ہیں )
اِحرام کی حالت میں بال کٹوانا، کاٹنا یا نوچنا حرام ہے۔ (74)کسی عذر کی وجہ سے بال کٹوانے پڑیں تو اس پر فدیہ ہے جو کہ چھ مسکینوں کا کھانا یعنی تین صاع (ساڑھے چھ کلو) غلہ بانٹنا یا تین روزے رکھنا یا پھر ایک بکرا ذبح کرنا ہے۔75
ناخن کاٹنا (مرد وزَن)،سلے ہوئے کپڑے پہن لینا،جرابیں پہن لینا، سر ڈھانپنا (مردوں ) اور خوشبو لگانا عورتوں اور مردوں کے لیے حرام ہے۔76
عورتوں کا دستانے پہننا اور نقاب( ڈھاٹا)باندھنا بھی منع ہے۔(77)لیکن وہ سر کے کپڑے سے غیر محرم لوگوں سے پردہ کریں ،جیساکہ اُمہات المؤمنین اور صحابیات رضی اللہ عنہن نے کیا تھا۔ 78
نکاح و منگنی کرنا بھی منع ہے۔79
جنگلی جانوروں کا شکار کرنا(80)بھی منع ہے۔اگر غلطی سے شکار کر بیٹھے تو فدیہ دے(81)نیل گائے کے بدلے پالتو گائے اورہرن کے بدلے بکری ذبح کرے اور اگر مالی استطاعت نہ ہو تو ایسے جانوروں کی قیمت لگا کر اس کے برابر غلہ بنایا جائے اور پھر ہر ایک صاع(دوکلو)کے بدلے ایک روزہ رکھیں ۔82
بجّوکے شکار کے بدلے مینڈھا ہے۔83
خرگوش کے شکار پر بکری کا ایک سال سے چھوٹا بچہ84
جنگلی گدھے کے شکار پر گائے85
کبوتر پر بکری 86
لومڑی اور گوہ پر بھی بکری کا ایک سال کا بچہ فدیہ ہے۔87
جماع(ہم بستری)،بوس وکنار، بدکاری ومعصیت اور لڑائی جھگڑا بھی منع وحرام ہے۔ 88
جماع سے حج باطل ہوجاتا ہے اور بوس و کنار سے حج باطل تو نہیں ہوتا مگر اس پر دَم ہے۔89
بلاکسی اہم ضرورت کے کنگھا کرنا مکروہ ہے۔ 90
اور اگر کوئی واقعی ضرورت پیش آجائے تو پھر جائز ہے۔91

آدابِ حرمین شریفین
حدود ِحرمین میں اُگے ہوئے درخت،گھاس اور نباتات کاٹنا ہر حال میں منع ہے۔البتہ اِذخر نامی گھاس،خود اُگائی ہوئی سبزیات اور سوکھے ہوئے درختوں یا گھاس پھوس کو کاٹنے کی اجازت ہے۔92
اِحرام کی حالت کی طرح حدود ِ حرم میں بھی شکار کرنا منع ہے۔البتہ مرغی و بکری وغیرہ ذبح کرسکتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھا سکتا ہے۔
حدود ِ حرم میں گری پڑی چیزوں کا اُٹھانا بھی منع ہے، سواے اس کے جو اعلان کروانا (یا 'دفتر گم شدہ اشیا'میں جمع کروانا) چاہتا ہو۔ 93

مباحات ِ احرام (وہ اُمور جو اِحرام کی حالت میں جائز ہیں )
غسل جنابت کے جواز پر تو تمام علماے اُمت کا اجماع ہے۔(94)اور محض ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے بھی جائز ہے۔95
سر کو دونوں ہاتوں سے مل کر دھوسکتے ہیں ۔96
دورانِ غسل اگر سر یا بدن کا کوئی بال خود بخود ٹوٹ کر گر جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔97
اس کے لئے کوئی بھی صابن استعمال کر سکتے ہیں ،البتہ احناف کے نزدیک اُس صابن کاخوشبودار نہ ہونا ضروری ہے۔ 98
سر دھوتے یانہاتے یا پانی میں غوطہ لگاتے ہوئے سر ڈھک جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ 99
بوقت ِضرورت احرام کا کوئی کپڑا بدلایا دھویا جاسکتا ہے۔100
چھتری،کپڑے،خیمے،درخت یا گاڑی کے چھت وغیرہ کے نیچے سائے میں بیٹھنا جائز ہے۔ 101
بوقت ِ ضرورت آنکھوں میں سرمہ یا کوئی دوا لگانا بھی گوارا ہے۔102
محض زینت کے لیے سرمہ لگانا مناسب تو نہیں ،لیکن اس پر کوئی فدیہ بھی نہیں ۔ 103
مچھلی وغیرہ کا سمندری شکار کرنا اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔104
بلا قصد واِرادہ عورت سے چھوجانے میں کوئی مؤاخذہ نہیں ۔(105)البتہ شہوت کے ساتھ چھونا اور بوس و کنار کرنا حرام ہے جس کی تفصیل محرمات ِ احرام میں گزری ہے۔
موذی جانوروں ،سیاہ و سفید کوے،چیل،بچھو،چوہے اور کاٹنے والے پاگل کتے کو (احرام کی حالت اور حرم میں بھی) مارنا جائزہے۔106
شیر،چیتا،بھیڑیابھی مارسکتے ہیں ۔107
عام گھریلو کالا کوا اس حکم سے خارج ہے۔108
مکھی،مچھر،کھٹمل،چیچڑی،چیونٹی اور جوئیں نکال کر پھینک سکتا ہے اور مار دے تو بھی کوئی حرج نہیں ،البتہ مارنے سے پھینکنا اچھا ہے۔109
اِحرام کی حالت میں سر کا ڈھانپنا تو منع ہے،جیسا کہ محرمات میں ذکر ہوا ہے،البتہ منہ ڈھانپ سکتے ہیں ۔110
پَچھنے اور سینگی لگوانا یا فصد کروانا جائز ہے۔111
سر یا جسم کے کسی حصے کو احتیاط کے ساتھ خراش سکتا ہے۔112
اس کے باوجود اگر کوئی بال گر جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں ۔ 113
بیلٹ،گھڑی،عینک لگانا،پرس باندھنا اور آئینہ دیکھنا، چادر کو گرہ لگانا،عورت کا کوئی بھی زیورپہننا اور مرد کا چاندی کی انگوٹھی پہن لینا جائز ہے۔114
پھول یا کسی بوٹی کی خوشبو سونگھنا،دانت داڑھ نکلوانا،مرہم پٹی کروانا،ٹوٹے ہوئے ناخن کو اُتار کر پھینکنا قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔115
بوقت ِضرورت سر پر کچھ اُٹھا لینے سے سر ڈھک جائے تو کوئی حرج نہیں ۔116

آدابِ دخول مکہ و مسجد ِحرم
ممکن ہو تو دخولِ مکہ سے قبل کہیں غسل کریں ،دن کو شہرمکہ میں داخل ہوں ،اس دن سے پہلی رات مقامِ ذی طویٰ(آبار ِ زاہد)پر گزاریں ۔(117)مکہ میں بالائی جانب (ثنیہ کداء یا ثنیہ علیائ)سے داخل ہوں اور مکہ کی زیریں جانب سے نکلیں ۔(118) اگر ممکن نہ ہو تو کسی بھی راستہ سے داخل ہوسکتے ہیں ۔119

باب السلام سے ہوتے ہوئے باب بنی شیبہ کے راستے مسجد ِحرام میں داخل ہوں ۔ (120) مسجد ِحرام میں داخلے کے وقت بھی دایاں قدم پہلے اندر رکھیں ۔ (121) اور یہ دعا کریں :
(اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ،اَللّٰهُمَّ افْتَحَ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِک) 122
''اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ورحمتیں نازل فرما۔اے اللہ ! میرے لئے رحمتوں کے دروازے کھول دے۔''

بیت اللہ شریف (کعبہ معظمہ) پر نظر پڑے تو اس وقت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کوئی دعا ثابت نہیں اورجو مشہور ہے، وہ ضعیف ہے۔البتہ حضرت عمر فاروق اور سعد بن مسیب رضی اللہ عنہما یہ دعا کیا کرتے تھے: ''اَللّٰهُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ فَحَیِّنَا رَبَّـنَا بِالسَّلَام''''اے اللہ! تو سلام ہے اور تجھی سے سلامتی ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ۔''123

کعبہ شریف کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دونوں ہاتھوں کو اُٹھانا تو صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔ البتہ مصنف ابن ابی شیبہ میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند سے مروی ہے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ اُٹھایا کرتے تھے۔124

مسائل واحکام اور طریقۂ طواف
مسجد ِحرام کا تحیہ طواف ہے، لہٰذا یہاں داخل ہوتے ہی تحیة المسجد کی دورکعتیں نہ پڑھیں بلکہ طواف شروع کردیں ۔ ہاں اگر کوئی فرض نماز رہتی ہے تو وہ پہلے پڑھ لیں ۔125

طواف کے لیے طہارت و وضو شرط ہے۔126

حیض و نفاس کی حالت میں طواف نہ کیا جائے۔127

سب سے پہلے حجر اسود کے سامنے آئیں اور بِسْمِ اﷲِ وَاﷲ اَکْبَرُ کہتے ہوئے اسے بوسہ دیں اور طواف شروع کردیں (128) اور اگر بوسہ نہ دے سکیں تو ہاتھ یا چھڑی لگا کر اسے بوسہ دے لیں (129) اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دور سے ہی تکبیر کہتے ہوئے اشارہ کریں اور طواف شروع کر دیں ۔(130) صرف اشارے کی شکل میں ہاتھ کو بوسہ دینا ثابت نہیں ہے۔یہ عمل طواف کے ساتوں چکروں میں سات مرتبہ دہرائیں ۔ (131) یہاں دھکم پیل اور زور آزمائی جائز نہیں اور بوسہ دینے کے لیے کمزوروں کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔132

طواف میں ہر چکر میں رکنِ یمانی کو بوسہ دیناثابت نہیں نہ اشارہ کرنا۔اگر ممکن ہو تو صرف ہاتھ سے چھونا روا ہے۔133

صرف پہلے طواف کے ساتوں ہی چکروں میں مردوں کے لیے اضطباع (دایاں کندھا ننگا کرنا)اور ان میں سے صرف پہلے تین چکروں میں رَمَل چال (آہستہ آہستہ دوڑنا) ضروری ہے۔134

رَمَل سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔(135) مگر عموماً اس میں لاپرواہی کی جاتی ہے۔

حجر اسود اور بابِ کعبہ کی درمیانی دیوار'ملتزم' کے ساتھ چمٹنا،اس پر چہرہ،سینہ،ہاتھ اور بازو لگانا اور دعائیں کرنا بھی مسنون عمل ہے۔136

اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ، البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دخولِ مکہ کے وقت یعنی طواف کے ساتھ ہی کسی وقت کرلیتے تھے۔137

طوافِ حطیم (حجرِاسماعیل علیہ السلام کا نیم دائرہ) کے باہر سے گزر کر کرنا چاہیے۔ (138) تاکہ پورے بیت اللہ کا طواف ہوجس کا حکم ہے۔139

حجر اسود، رکنِ یمانی اور ملتزم کے سوا پورے بیت اللہ (کعبہ معظمہ) کے کسی بھی حصہ کو بوسہ دینا، چھونا یا اشارہ کرناثابت نہیں ہے۔140

دورانِ طواف بلا ضرورت لا یعنی گفتگو سے احتراز کریں کیونکہ طواف بھی نماز ہی ہے،البتہ اس میں جائزگفتگو گوارا ہے۔ 141

رکنِ یمانی اور حجر ِ اسود کے درمیانی حصہ میں یہ دعا کریں :
رَ‌بَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ‌ ﴿٢٠١...سورۃ البقرۃ
''اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔'' 142

باقی سارے چکر اور ساتوں ہی چکروں میں قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے ثابت شدہ کوئی بھی دعا کریں ،چاہے اپنی اپنی زبان میں دعائیں مانگیں ، کوئی حرج نہیں ۔(143) اور سات چکروں کے لیے الگ الگ جو سات دعائیں تجویز کی گئی ہیں ،ان کے'چکر' میں نہیں پڑناچاہیے، کیونکہ ان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

بیت اللہ کے جتنا قریب ہو کر طواف کریں ، اتنا ہی افضل ہے،البتہ بھیڑ کی وجہ سے جہاں بھی ممکن ہو کر لیں ،پوری مسجد ِحرام(اور اس کی سب منزلوں ) میں طواف صحیح و جائز ہے۔ 144
اگر طواف کے چکروں میں شک ہو جائے تو تھوڑی تعداد پر اعتماد کر کے باقی تعداد کو پورا کرلیں ۔ 145
پیدل طواف افضل ہے، مگر کسی ضرورت و مجبوری کے تحت سوارہو کر بھی جائز ہے۔146
طواف کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور نہ ہی طواف والی دورکعتوں کا کوئی وقت ِکراہت ہے، وہ بھی ہر وقت پڑھی جاسکتی ہیں ۔ 147
استحاضہ (عورت کو خون کے قطرے آتے رہنا) بواسیر،سلسلِ بول اور سلسلِ ریح (ہوا) کی بیماری والے طواف و نماز ادا کرسکتے ہیں ۔148
دورانِ طواف نماز کا وقت ہو جائے یا بول و براز کی حاجت ہو جائے تو اپنی نمازسے فارغ ہو کر جہاں سے طواف چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرلیں ۔149

طواف کے سات چکروں سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم پر آجائیں اور یہ پڑھیں :
وَٱتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌ٰ‌هِـۧمَ مُصَلًّى...﴿١٢٥﴾...سورۃ البقرۃ
''اور مقامِ ابراہیم کو جاے نماز بناؤ۔''

مقامِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھ کر150
دو رکعت نماز پڑھیں ۔151
اگر اژدہام کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو پھر سارے حرم میں کہیں بھی یہ دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں ۔اگر بھول جائیں تو حرم یا خارج ازحرم کہیں بھی ان کی قضا بھی ممکن ہے۔ 152
پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورة الکافرون اور دوسری میں سورة الاحد پڑھنا مسنون ہے۔153
ایک حدیث میں پہلی رکعت میں الاخلاص اور دوسری میں الکافرون آیا ہے۔ (154) مگر قرآنی ترتیب کے مطابق پہلی حدیث ہی ہے۔یہ دو رکعتیں پڑھ کر وہیں بیٹھے بیٹھے خوب دعا کریں ۔
اَب آب ِ زمزم پئیں ، بشرطیکہ روزہ نہ ہو اور اپنے سر پر بھی پانی ڈالیں ۔155

ایک حدیث میں چہرہ دھونے کا بھی ذکر ہے،مگر وہ روایت ضعیف ہے۔(156)پورا وضو کرنے بلکہ نہانے اور اس میں کفن و نقدی بھگونے والے اپنے طرزِ عمل پہ نظر ثانی کریں ۔آب ِ زمزم مریضوں کو پلانا اور ان پر چھڑکنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔157

زمزم پی کر پھر حجر اسود کا استلام (حسب ِموقع بوسہ،چھونا یا اشارہ) کریں تاکہ طواف کا اوّل وآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح استلام پر ہی ہو اور پھر باب ِ صفا کے راستے صفا کی طرف نکل جائیں ۔158

مسائل و احکام اور طریقۂ سعی
سعی کا آغاز کرنے کے لیے صفا پہاڑی کے اوپر تک چلے جانا مسنون و افضل ہے۔ وہاں یہ آیت پڑھیں : {إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْ‌وَةَ مِن شَعَآئِرِ‌ ٱللَّهِ...﴿١٥٨﴾...سورۃ البقرۃ}
''بے شک صفا و مروہ اللہ کے شعائر و نشانیوں میں سے ہیں ۔''
اور ساتھ ہی یہ کہیں : (اَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اﷲُ بِه) 159
''میں بھی وہیں سے سعی شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ نے(تذکرہ) شروع فرمایا ہے۔''

صفا پر قبلہ رو کھڑے ہوکر تین مرتبہ اَﷲُ اَکْبَرُ،اﷲُ اَکْبَرُ،اﷲُ اَکْبَرُ کہیں اورپھر تین مرتبہ ہی یہ ذکر ِالٰہی دہرائیں : (لَااِلهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَه لَه الْمُلْکُ وَلَه الْحَمْدُ یُحْيٖ وَیُمِیْتُ وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيء قَدِیْرٌ) ... (لَااِلهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ) ''اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ،اس کا کوئی شریک نہیں ۔ بادشاہی اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔'' ...''اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ،اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے نے تمام سرکش جماعتوں کو شکست دی۔''160

اب یہاں اپنے لئے خوب دعائیں کریں اور صفا سے نیچے مروہ کی جانب اُترنا شروع کردیں اور جب سبز ستونوں کے وسط میں پہنچیں تو آہستہ آہستہ دوڑیں یہاں تک کہ اگلے سبز ستون آجائیں ، پھر آہستہ چلنے لگیں اور مروہ تک پہنچ جائیں ۔161

صفا ومروہ کی سعی کے دوران بھی طواف کی طرح صرف ایک دعا ہی مرفوعاً ضعیف مگر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے صحیح سند سے ثابت ہے،جو یہ ہے:

(رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ) 162
''اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، تو غالب اور صاحب ِ کرم ہے۔''

صفا کی طرح ہی مروہ کے بھی اوپر چڑھ جائیں اور وہاں بھی صفا والا ذکر اور دعائیں کریں ۔(163)صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دو اور اسی طرح سات چکر مروہ پر مکمل ہونگے۔طواف اور سعی کے چکروں میں یہ فرق ہے۔164

صفا و مروہ کی موجودہ صورتِ حال میں حیض و نفاس والی عورت کا سعی کرنا مناسب نہیں لگتا، کیونکہ یہ ساری جگہ ہی حرم میں شامل لگتی ہے۔ بہر حال اصل مسئلہ یہ ہے کہ صفا و مروہ کی سعی کے لیے طہارت و وضو شرط نہیں ہے۔(165) گویا باوضو افضل ہے،مگربلا وضو بھی جائز ہے۔

طواف کی طرح ہی سعی بھی پیدل ہی افضل ہے ،مگر بوقت ِ ضرورت سواری کا استعمال بھی جائز ہے۔ 166

سعی مکمل کرکے مروہ سے باہر نکل جائیں اور صرف عمرہ یا حج تمتع کا عمرہ کرنے والے سر منڈوالیں یا سارے سر کے بال ہلکے کروالیں ۔صرف چند جگہوں سے قینچی سے بال کاٹ لینا جائز نہیں ہے۔ عورتیں چوٹی کے بال پکڑ کر اُنگلی کے پورے کے برابر کاٹ لیں ۔ اس کے ساتھ ہی اِحرام کھول دیں ،آپ کا عمرہ مکمل ہوا۔

اگر کوئی قربانی ساتھ لایا ہے اور حجِ قران کر رہا ہے تو وہ عمرہ مکمل کرلے بال نہ کٹوائے، نہ اِحرام کھولے،بلکہ بدستور احرام میں ہی رہے۔ وہ یومِ نحر کو ہی قربانی کے بعد اِحرام کھولیں گے۔(167) البتہ اگر کوئی قربانی ساتھ نہ لایا ہو اور قِران کی نیت کرلی ہو تو اسے عمرہ کرکے قربانی کی نیت فسخ کردینی اور تمتع کی نیت کرلینی چاہئے اور بال کٹواکر اِحرام کھول دینا چاہئے، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو حکم فرما یاتھا۔168

اگر کسی عورت نے عمرہ کا احرام باندھا اور طواف سے پہلے ہی حیض آگیا یا زچگی ہوگئی تو وہ پاک ہونے تک طواف و سعی نہ کرے۔خون بند ہونے کے بعد غسل کرکے طواف وغیرہ کرے اور اگر 8 ؍ذوالحج تک بھی پاک نہ ہو تو منیٰ چلی جائے۔ اس طرح اس کا یہ'حج قِران'ہو جائے گا۔ (169)ایسی عورت اور ہر قارِن کے لیے صرف ایک ہی طواف و سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے۔(170) اور اگر ایسی کوئی عورت حضرت عائشہ ؓ کی طرح تَنْعِیم سے عمرہ بھی کر لیتی ہے تو اس کے لئے مثال موجود ہے۔ (171) یہ صرف ایسے لوگوں کے لیے ہے۔ اس سے 'چھوٹا عمرہ' کی لائنیں لگا دینا ثابت نہیں ہوتا۔اور نہ ایک ہی سفر میں بکثرت عمرے سلف اُمت سے ثابت ہیں ۔ 172

مسائل واَحکام اور طریقۂ حج
احرامِ حج اور منیٰ کو روانگی

8؍ ذوالحج(یومِ ترویہ)کو اپنی رہائش گاہ سے غسل کرکے بدن کو خوشبو لگا کر (لَبَّیْکَ حَجَّاًاور پھر تلبیہ کہتے ہوئے) حج کا احرام باندھیں اور منیٰ کو روانہ ہوجائیں ۔ 173

اور نمازِ ظہر و عصر،مغرب وعشاء اور اگلے دن کی فجر وہیں پڑھیں ۔ 174

یہاں ظہر وعصر اور عشاء قصر کرکے پڑھنا سنت ہے اور اس میں مقامی و آفاقی حجاج میں کوئی فرق نہیں ۔175

اگر کثرتِ حجاج اور اژدہام کی وجہ سے کسی کو منیٰ میں جگہ نہیں ملتی اور وہ منیٰ کے آخری حصے کے ساتھ ہی، مگر منیٰ سے باہر خیمہ لگا لیتا ہے تو اس کا حج صحیح ہے کیونکہ عذر کی وجہ سے منیٰ میں نہ رہ سکنے کی،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں چرانے والوں اور اپنے چچا حضرت عباس ؓ کو پانی پلانے کی وجہ سے رخصت دے دی تھی۔176

9؍ ذوالحج(یومِ عرفہ)کو سورج نکلنے کے بعد میدان ِ عرفات کی طرف روانہ ہوں ۔(177) ممکن ہو تو منیٰ سے پہلے وادیٔ نمرہ میں جائیں اور زوال ِ آفتاب تک وہیں رہیں ۔ (178) اور زوال کے بعد ساتھ ہی اگلی وادیٔ عرنہ میں چلے جائیں ،جہاں آج کل مسجد نمرہ بنائی گئی ہے۔وہاں نمازِ ظہر وعصر کی دودو رکعتیں (قصر) ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر کے وقت میں جمع تقدیم سے پڑھیں اور پھر عرفات چلے جائیں ۔(179) اوراگریہ ممکن نہ ہو تو سیدھے عرفات ہی چلے جائیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبلِ رحمت کے دامن میں وقوف فرمایا۔اس کے اوپر نہیں چڑھے۔(180) اور فرمایا کہ''میں نے یہاں وقوف کیا ہے۔البتہ سارامیدانِ عرفات ہی جاے وقوف ہے۔''181

حاجیوں کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ جائز نہیں ۔ 182
البتہ99؍ ذوالحج کا روزہ عام مسلمانوں کے لیے دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔183
میدانِ عرفات میں یہ دن ذکر اور دعائیں کرنے میں گزاریں ۔ دعاؤں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ سینے تک (بیہقی ،مسند احمد،اخبارِ مکہ از فاکہی)اُٹھائے تھے۔ 184
''کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے رہائی دے۔''185
''اس دن اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پرنازل ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اہلِ عرفات پر فخر کرتا ہے۔اور فرشتوں کو گواہ بنا کرکہتا ہے: میں نے اِن سب کو بخش دیا۔''186

ایک دعا کو یومِ عرفہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتخب فرمایا ہے، جو یہ ہے:
(لَااِله اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَه،لَه الْمُلْکُ وَلَه الْحَمْدُوَھُوَعَلیٰ کُلِّ شَيء قَدِیْرٌ) ''اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ،تمام بادشاہی اور ہر طرح کی حمد وثنا اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔'' 187
غرض یہ سارادن قرآن وسنت سے ثابت شدہ مسنون اذکار ودعاؤں اور اللہ سے اپنی حاجتیں طلب کرنے میں گزارنا چاہیے۔

مزدلفہ کو روانگی
غروبِ آفتاب کے بعدمید انِ عرفات سے (مغرب کی نماز پڑھے بغیر)تلبیہ وتکبیرات کہتے ہوئے مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیں ،اور مزدلفہ میں مغرب وعشا جمع تاخیر اور قصر سے پڑھیں ،ایک اذان اور دونوں کے لیے الگ الگ اِقامت کہیں ۔(188) اور دونوں نمازوں کی پانچ فرض رکعتوں کے سوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں کچھ بھی پڑھنا ثابت نہیں ۔(189) علامہ ابن قیم کی تحقیق کے مطابق اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِتہجد بھی نہیں پڑھی190

صبح نمازِ فجر کے بعد مَشْعَرالحَرَام کے پاس یا مزدلفہ میں کہیں بھی ذکر ودعا میں مشغول رہیں اور روشنی خوب پھیل جانے مگر طلوعِ آفتاب سے تھوڑا پہلے منیٰ کو روانہ ہوجائیں ۔(191) روانگی سے قبل اور فجر کے بعد جمرہ عقبہ پر رمی کے لیے سات یا کم وبیش کنکریاں چن سکتے ہیں ۔(192)اور اگلے دنوں میں روزانہ اکیس کنکریاں منیٰ سے لے کر رمی کرلینا بھی جائز ہے۔193

صرف خواتین اور ضعیف لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ جا سکتے ہیں ۔ 194

مگر جمرئہ عقبہ کی رمی طلوعِ آفتاب کے بعد ہی کرنا ہوگی۔ 195

مزدلفہ ومنیٰ کے مابین وادي مُحَسَّر بھی آتی ہے،جو منیٰ کا ہی حصہ ہے جہاں اَبرہہ اور اس کے لشکر کو اللہ نے اَبابیلوں سے تباہ کروایا تھا ۔وہاں سے گزرتے وقت تیز تیز نکل جائیں ۔(196) تعجب ہے کہ بعض لوگ وہاں سوئے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں ۔

یومِ نحر وقربانی اور اِحرام اتارنا
10؍ذوالحج(یومِ نحر) کو سب سے پہلے جمرۂ عُقبہ( بڑے جمرہ) پر رَمی کریں ،جو موٹے چنے سے ذرا بڑی سات کنکریوں سے ہوگی۔کنکریاں ایک ایک کر کے ماریں اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہیں ۔197
جمرات پر بڑے بڑے کنکر وپتھر اور جوتے مارنا رَوا نہیں ہے۔ اس جمرہ کے پاس کھڑے ہوکر دعا کرنا ثابت نہیں 198
اس جمرہ ٔعقبہ پر رَمی کرنے کے ساتھ ہی تلبیہ کہنا بند کردیں ۔199
منیٰ میں موجود حجاج کو نمازِ عید پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کی رَمی ہی عید کے قائم مقام ہوتی ہے۔200
رمی ٔ جمرہ کے بعد قربانی کریں ۔201
یہ حجِ تمتع(البقرة:196)اور حجِ قران والوں کے لیے واجب ہے اور حجِ مفرد والوں پر قربانی واجب تو نہیں ، لیکن کرلیں توکارِ ثواب ہے۔ 202
اُونٹ اور گائے میں سات سات حاجی شریک ہوسکتے ہیں ۔203
البتہ عام مسلمان جب منیٰ کے علاوہ عید الاضحی پر قربانی کریں تو اُونٹ میں دس گھرشرکت کرسکتے ہیں ۔204
قربانی کا مسنون وقت جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چاردنوں یوم نحر وایامِ تشریق(10،11،12،13) تک رہتا ہے۔ 205
قربانی کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کو قبلہ رو کرکے (بائیں پہلو پر) لٹائیں اور اس کے دائیں پہلو پر اپنا پاؤں رکھیں ۔(206) اور چھری چلادیں ۔
اُونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا اگلا بایاں پاؤں اس کے گھٹنے سے باندھ کر اسے تین ٹانگوں پر کھڑا رہنے دیں ۔207
اور اسے قبلہ رو کرلیں ۔ (208) اور اس کی گردن کو پیچھے کی طرف موڑ کر اس کی رَسی اس کی دُم سے باندھ دیں اور ذبح ونحر کی دعائیں کرتے ہوئے اس کے ٹانگوں کی جڑوں اور گردن کے آغاز میں موجود گڑھے میں خنجر یا برچھا ماردیں ۔وہ جلد ہی گرجائے گا۔قرآنِ کریم میں ان کے اسی طرح زمین پر لگ جانے کا ذکر ہے۔209
مستحب تو یہی طریقۂ نحر ہے۔البتہ اسے بیٹھے بیٹھے ذبح کرنا بھی جائز ہے۔ 210
قربان کو نحر یا ذبح کرتے وقت یہ اَذکار و دعائیں پڑھیں :
(بِسْمِ اﷲِِ وَاﷲُ اَکْبَرُ) ''اللہ کے نام سے،اور اللہ سب سے بڑا ہے۔''211
(اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھَذَا مِنْکَ وَلَکَ) 212
''اے اللہ! یہ تیری توفیق سے ملا اور تیری رضا کے لیے ہے۔''
(اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّيْ)''اے اللہ! اسے قبول فرما۔''213
قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے۔ 214
یہ نبی ؐ کی سنت ہے۔ 215
اگر قربانی دینے کی طاقت نہ ہو تو تین روزے ایامِ حج(ایامِ تشریق میں (216)یا اس کے بعد مکہ )میں اور سات روزے واپس اپنے گھر جاکر رکھ لیں ۔217
قربانی کے بعد سر منڈوالیں یا بال چھوٹے کروالیں 218
البتہ سر منڈوانا افضل ہے۔ 219
عورتوں کے لیے سر منڈوانا نہیں ہے۔220
وہ اپنی چوٹی کے بالوں کو اکٹھا کرکے آخر سے تمام بالوں کو اُنگلی کے پورے کے برابر(تقریباً پون انچ) کاٹ لیں ۔221
ناخن بھی کاٹ لیں تو بہتر ہے۔ 222
بال کٹوانے کے بعد اِحرام کھول دیں اور خوشبو وغیرہ لگائیں ۔223
یہ تَحَلُّل اَوّل ہے۔اب میاں بیوی کے تعلقات کے سوا تمام پابندیاں ختم ہوگئیں ۔
جو لوگ قربانی کے لیے کوپن لئے ہوئے ہوں ، وہ جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد بال کٹوائیں اور اِحرام کھول لیں ۔
10 ؍ذوالحج کو ہی سب سے اہم کام اور حج کا رکنِ اعظم'طوافِ افاضہ' (طوافِ حج یا طوافِ زیارت) کرلیں تو یہی مسنون ہے۔224
اگر بیماری یا حیض وغیرہ کے عذر کی وجہ سے 10 ذوالحج کو ممکن نہ ہو تو ایامِ تشریق(11،12،13) میں کرلیں ۔ورنہ جب مجبوری زائل ہو تب ہی سہی اور اس تا خیر پر کوئی فدیہ وکفارہ بھی نہیں ۔225
اس طواف میں اِحرام، رمل اور اضطباع نہیں ہے۔226
حجِ تمتع کرنے والوں کے لیے اس طواف کے بعد صفا ومروہ کے مابین سعی بھی ضروری ہے اور قِران ومفرد والوں کے لیے طوافِ قدوم یا طوافِ عمرہ کے ساتھ کی گئی سعی ہی کافی ہے۔227
طواف سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم پر دورکعتیں پڑھیں ۔228
اس طواف و سعی کے بعد حاجی کو 'تحللِ ثانی' یا 'تحللِ کلی' حاصل ہوجاتا ہے اور میاں بیوی کے تعلقات سمیت تمام پا بندیاں ختم ہوجاتی ہیں ۔ 229

ایامِ تشریق اور قیامِ منیٰ
طوافِ افاضہ کے بعد واپس منیٰ لوٹ جائیں اور ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں ہی گزاریں ۔ 230
ان ایام کے دوران مکہ جانا اور زیارت وطوافِ کعبہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔231
ان دنوں میں تمام نمازیں ان کے اوقات پر مگر قصر کر کے باجماعت ادا کریں ۔232
11،12 اور 13 ؍ذوالحج کو زوالِ آفتاب کے بعد تینوں جمرات کو سات سات کنکریوں سے رمی کرنا مسنون ہے۔233
صحابہ کا عمل بھی یہی تھا۔234
پہلے چھوٹے پر رمی کریں اور فارغ ہوکر ایک طرف ہو جائیں اور قبلہ رو ہو کر دعا مانگیں ، ایسے ہی درمیانے پر کریں ، البتہ بڑے کے پاس دعا ثابت نہیں ۔ 235
اگر کوئی صرف 11،12 کی رمی کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہے تو اس کے لئے یہ جائز ہے۔236
12 ذوالحج کی رمی کرکے مغرب سے پہلے پہلے اپنی جگہ سے روانہ ہوجائیں اور اگر وہیں مغرب ہوگئی تو پھر اگلے دن 13؍ ذوالحج کی رمی کرنا ضروری ہوجائے گا۔237
احناف اور جمہور علما کا یہی مسلک ہے۔238
بچوں ،بوڑھوں ،بیماروں اور عورتوں کے لیے اگرخود جاکررمی کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ اپنا وکیل مقرر کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں بعض ضعیف احادیث بھی ترمذی،ابن ماجہ،مسنداحمد، مصنف ابن ابی شیبہ،معجم طبرانی اوسط میں ہیں ۔239
وکیل پہلے خود اپنی سات کنکریاں ایک ایک کرکے مارے ،پھر مؤکلین کی بھی اسی طرح مارے، مٹھی بھر کر کنکریاں پھینک دیں تو یہ رمی شمار نہیں ہوگی۔240
ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے۔241
البتہ بکریاں اور اُونٹ چرانے والوں 242
اور حجاج کو پانی پلانے کی ذمہ داری نبھانے والوں (حضرت عباسؓ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راتیں منیٰ میں نہ گزارنے کی رخصت دے دی تھی۔ 243
اگر کسی نے اس واجب کو بلا عذرِ شرعی ترک کردیا تو اسے بعض ائمہ (مالک،شافعی، اور ایک روایت میں امام احمد)کے نزدیک دَم دینا پڑے گا جبکہ امام احمد کی مشہور روایت اور اَحناف کے نزدیک ترک ِقیامِ منیٰ پر فدیہ نہیں ہے۔244
لیکن اُنہیں رمی کرنا ہوگی،ایسے لوگ ایک دن بکریاں چرائیں اور ایک دن میں دونوں کی اکٹھی کنکریاں مارلیں ۔245

بچوں کا حج وعمرہ
بچوں کا حج صحیح ہے اور اس کا ثواب بچوں کے علاوہ اُنہیں حج کروانے والوں (والدین) کو بھی ہوتا ہے۔246
عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دورِ خلفا رضی اللہ عنہم میں سات سال اور کم وبیش عمر کے نابالغ بچوں کو حج کروانے کے کئی واقعات کتب ِ حدیث میں موجود ہیں ۔ 247
ان کا یہ حج نفلی شمار ہوگا اور بالغ ہونے پر اگر اللہ نے توفیق دے کر حج فرض کردیا تو وہ فرض ادا کرنا ہوگا۔248
میقات پر اِحرام سے لے کر تمام مناسک اُنھیں اپنے ساتھ ساتھ پورے کروائیں ، سواے رمی کے،یہ آپ خود ان کی طرف سے کردیں ۔ ناسمجھ بچوں سے احرام کے آداب پورے کروائیں ۔اُنھیں خوشبو نہ لگائیں ،ان کے بال یا ناخن نہ کاٹیں اور اگر وہ کسی معاملہ میں کوئی کمی بیشی کردیتے ہیں تو ان پر کوئی دم یا گناہ نہیں ہے۔249
سمجھدار بچے کواحرام باندھیں اور ناسمجھ بچے کو معمول کے لباس میں رکھ کر اُنھیں (خواتین کی طرح) احرام کے حکم میں داخل کردیا جائے لیکن افضل واَحوط احرام باندھنا ہی ہے۔ 250
حج تمتع اور حجِ قِران کرنے والے بچوں کی طرف سے بھی قربانی واجب ہے۔251

طواف ِ وداع
مکہ مکرمہ سے اپنے شہر یا ملک جانے سے پہلے طواف ِ وداع کرنا واجب ہے۔ البتہ حیض والی عورت یہ طواف کئے بغیر مکہ سے روانہ ہوسکتی ہے۔ 252
طواف ِوداع میں نہ رمل ہے نہ اِحرام،نہ ا ضطباع اور نہ ہی اس کے ساتھ سعی ہے۔طواف کریں ، دورکعتیں پڑھیں اور روانہ ہوجائیں ۔حرم شریف سے اُلٹے پاؤں باہر نکلنا سراسر خانہ ساز فعل ہے، جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ 253

اَحکام و آداب ِ زیارت ِ مدینہ منورہ
مسجد ِنبوی میں نماز کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کیا جائے تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی خلاف ورزی نہ ہو جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِحرام،مسجد ِنبوی اور مسجد ِاقصیٰ کے سوا کسی طرف بغرضِ ثواب رخت ِ سفر باندھنے سے منع فرمایا ہے۔254
مدینہ منورہ پہنچ کر مسجد ِنبوی میں جائیں ،جہاں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے۔255
جبکہ پچاس ہزار نماز کا ثواب والی حدیث ِ(ابن ماجہ) ضعیف وناقابلِ حجت ہے۔
مسجد ِنبوی میں داخل ہوتے ہی دعاے دخول اورپھر تحیة المسجد پڑھیں اور اگر ممکن ہو تو روضة الجنة میں پڑھیں جو قبرِ شریف کے ساتھ ہی سفید ستونوں والی جگہ ہے اور جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'جنت کا باغیچہ ' قراردیا ہے۔256
اگر کسی فرض نماز کا وقت ہے تو باجماعت نماز ادا کرلیں ۔
فرض نماز یا تحیة المسجد کی دورکعتوں کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مقدس کے پاس جائیں اور یوں سلام کریں :

(اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ)
''اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام ہو۔''

پھر ساتھ ہی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی قبر پر اُنھیں یوں سلام کریں :
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَابَکْر'' ''اے ابوبکر ؓ! آپ پر سلام ہو۔''


اور پھر حضرت عمر ِفاروق ؓ کی قبر پر، اُنھیں یوں سلام کہیں :
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عُمَرُ'' ''اے عمرؓ! آپ پر سلام ہو۔''257


حوالہ جات
1. صحیح بخاری :8
2. صحیح بخاری:26
3. صحیح بخاری:2521
4. صحیح بخاری:1773
5. بخاری:1861
6. مسند احمد:1566
7. مسند احمد:4212
8. نسائی:2626
9. صحیح بخاری :1265
10. صحیح بخاری :1782
11. صحیح بخاری :1773
12. صحیح مسلم:1237
13. مسند احمد:2141
14. ابن حبان:960،بیہقی:2625
15. تلخیص الحبیر: 2 ؍ 223
16. البقرة:197
17. سنن ابن ماجہ:2896
18. الفتح الربانی 11؍ 42،43
19. بخاری:3006
20. بخاری:1088
21. صحیح مسلم
22. بخاری :1512
23. صحیح بخاری:1513
24. صحیح بخاری:1513
25. صحیح بخاری: 6699
26. صحیح مسلم: 1149
27. سنن ابوداؤد:1811
28. سنن ابوداؤد: 1811
29. البقرة:197
30. البقرة:197
31. النور:31
32. سنن ابن ماجہ:4250
33. النساء:58
34. البینة:5
35. البقرة:172، المؤمنون:51
36. بخاری:5892،5893
37. بخاری:5864
38. الانعام:89،الزمر:65
39. النور:63 وصحیح مسلم
40. صحیح بخاری: 2949
41. ابوداؤد:2606
42. صحیح بخاری :1089
43. صحیح بخاری:2998
44. 'سوے حرم' از مؤلف:ص 110،112
45. مصنف ِابن ابی شیبہ
46. صحیح بخاری:443
47. بخاری:1800
48. صحیح بخاری:5246
49. فتح الباری 9؍339 تا341
50. سنن ابو داؤد:5095
51. سنن ابو داود: 2600
52. سنن ابن ماجہ2825
53. صحیح مسلم: 1342
54. صحیح بخاری1865
55. الفتح الربانی ترتیب و شرح مسند احمد 11؍51تا58
56. البقرة: 189،197
57. صحیح بخاري تعلیقاً، مسند شافعي، مستدرك حاکم،دارقطني،بیهقي،معجم طبراني أوسط و صغیر
58. صحیح بخاری ومسلم
59. صحیح مسلم
60. نسائی، دارقطنی، بیہقی، نیزفتح الباری 3843 تا391 الفتح الربانی11؍105 وما بعد،المرعاة شرح مشکوٰة 6؍232 ومابعد،فقہ السنة
61. الفتح الربانی والمرعاة
62. تنبیهات علیٰ أنَّ جدة لیست میقاتًا للشیخ ابن حمید والمرعاة 6؍235تا238
63. جامع ترمذی830
64. صحیح مسلم: 1209
65. شرح مسلم از نووی،الفتح الربانی: 11؍123
66. صحیح بخاری :5829
67. سنن ابوداؤد:1833
68. مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ26/108،109
69. صحیح بخاری :1554
70. صحیح بخاری:1549
71. سنن ابن ماجہ:2920
72. منسك ابن تیمیة بحوالہ مناسك الحج والعمرة از شیخ ألباني: رحمة اللہ علیه ص18
73. بخاری و مسلم نیز دیکھئے نیل الاوطار 2؍4؍310تا314،الفتح الربانی 11؍95،96
74. البقرة:196
75. صحیح مسلم:8؍119،120
76. صحیح بخاری:1542
77. صحیح بخاری:1838
78. سنن ابوداؤد:1833
79. صحیح مسلم:9؍193
80. المائدة:95،96
81. المائدة:95
82. تفسیر ابن کثیر مترجم اردو 2؍22تا27
83. أبوداود،ترمذي،نسائي،ابن ماجه،ابن حبان،ابن خزیمة، دارقطني،بیهقي،مستدرك حاکم،مسند أحمد،أبو یعلی
84. موطا مالک،مسند شافعی،بیہقی
85. بیہقی
86. مسند شافعی
87. مسند شافعی، تلخیص الحبیر: 1؍281،288
88. البقرة:197
89. المغنی 3؍310،الفتح الربانی 11؍233،236
90. شرح مسلم نووی 4؍8؍140
91. بخاری :316،317،319،1556
92. بخاری :1834، نیز دیکھئے المغنی 3؍315،316
93. بخاری :1834
94. فتح الباری 4؍55،56،الفتح الربانی 11؍210،213
95. بخاری:1840
96. بخاری :1840
97. الفتح الربانی 11؍213،فتاویٰ ابن تیمیہ 26؍116
98. الفقہ علی المذاہب الاربعہ 1؍650۔651، فقہ السنہ 1؍666
99. مسند شافعی:117
100 دارقطنی،بیہقی،المحلی ابن حزم
101 مسلم :8؍170،196،نیز دیکھئے فتاویٰ ابن تیمیہ 26؍112،فقہ السنہ 1؍667تا669
102 صحیح مسلم:8؍124
103 المغنی 3؍295
104 سورةالمائدة:96
105 الفتح الربانی 11؍236
106 بخاری :1836
107 دیکھئے فتح الباری 4؍36تا39
108 فتح الباری 4؍38،فقہ السنہ 1؍671
109 المحلّی ابن حزم 7؍245، فتاویٰ ابن تیمیہ 26؍118،فقہ السنہ 1؍670
110 فتح الباری 4؍54،55،شرح مسلم نووی 8؍126تا129،فقہ السنہ 1؍666
111 بخاری :1835
112 موطأ مالک:1؍385
113 مجموعہ رسائل کبریٰ ابن تیمیہ 2؍368 بحوالہ حجة النبي صلی اللہ علیه وسلم للألباني ص27
114 فقہ السنہ 1؍668
115 بخاری،مؤطامالک،بیہقی، محلّیٰ نیز دیکھئے فقہ السنہ 1؍667
116 فقہ السنہ 1؍666
117 بخاری:1553،1573
118 بخاری:1577
119 ابوداؤد:1937
120 ابن خزیمہ:2713
121 بیہقی:2؍442
122 صحیح مسلم:5؍225
123 مصنف ابن ابی شیبہ:4؍97
124 مناسك الحج والعمرة للألباني ص20
125 المغنی 3؍333،فقہ السنہ 1؍693
126 بخاری :1641،1614
127 بخاری:394،305
128 بخاری ومسلم
129 مسلم:9؍17
130 صحیح بخاری:1613
131 ابوداؤد:1876
132 مسند احمد:1؍28
133 نیل الاوطار شوکانی 3؍5؍42،43،مناسك الحج والعمرة للألباني ص22
134 سنن ابوداؤد:1884
135 صحیح بخاری :1602
136 سنن ابوداؤد:1899
137 مناسک الحج والعمرة: ص23
138 صحیح بخاری:1583،1584
139 الحج:29
140 صحیح بخاری :1609
141 سنن ترمذی:960
142 سنن ابوداؤد:1892
143 ابن تیمیہ بحوالہ مناسک الحج والعمرة، ص23
144 التحقیق والإیضاح از شیخ ابن باز ص31
145 حوالہ سابقہ
146 صحیح مسلم :9؍18،19
147 ابوداؤد:1894
148 صحیح بخاری :306
149 بخاری مع فتح الباری 3؍484
150 صحیح مسلم
151 صحیح مسلم:8؍170
152 فتح الباری 3؍487
153 سنن ابن ماجہ:3074
154 مسلم: 8؍ 170،196
155 مسند احمد:3؍394
156 أخبار مکة فاکهي، تخریج سوے حرم: ص289
157 تاریخ کبیر از امام بخاری:3؍189
158 صحیح مسلم:8؍170،196
159 صحیح مسلم:8؍170،196
160 صحیح مسلم:8؍170،196
161 صحیح مسلم:8؍170،196
162 مصنف ابن ابی شیبہ:4؍68،69
163 صحیح مسلم:8؍196،170
164 مسلم:170،196
165 صحیح مسلم:8؍146
166 مسلم:9؍10،11
167 بخاری ومسلم
168 صحیح بخاری :1556
169 التحقیق والإیضاح ص34
170 بخاری ومسلم
171 بخاری ومسلم
172 زادالمعاد: 2؍170
173 بخاری:3؍506
174 صحیح مسلم:8؍170،196
175 التحقیق والإیضاح: ص27
176 فتویٰ شیخ عثیمین،مجلة الدعوة الریاض شمارہ 1828، 24؍ذوالقعدہ 1422ھ،7فروری 2002ء
177 مسلم:9؍40
178 صحیح مسلم:8؍170،196
179 صحیح مسلم:8؍170،196
180 صحیح مسلم:8؍170،196
181 صحیح مسلم:8؍195
182 بخاری:1661
183 صحیح مسلم:8؍50،51
184 نسائی:5؍251،251
185 صحیح مسلم:9؍117
186 شرح السنہ از بغوی:1931
187 ترمذی:3585
188 صحیح مسلم: 8؍170،196
189 صحیح بخاری:1674
190 حجة النبي صلی اللہ علیه وسلم للألباني: ص76
191 صحیح مسلم:9؍27
192 صحیح مسلم:9؍27
193 التحقیق والإیضاح: ص42
194 مسلم:8؍170،196
195 ابوداؤد:1940
196 صحیح مسلم:8؍170،196،ترمذی:885
197 صحیح مسلم:8؍170،196
198 مؤطا امام مالک:1؍407
199 بخاری :1523
200 فتاویٰ ابن تیمیہ: 26؍170۔171
201 صحیح مسلم:8؍170:196
202 صحیح بخاری:1691
203 صحیح مسلم:9؍66،67
204 سنن ترمذی:905،1501
205 صحیح ابن حبان:1008
206 صحیح بخاری:3؍542 مع الفتح
207 بخاری :1713
208 بخاری تعلیقاً:3؍542
209 الحج:36
210 نزھة الطالبین وعمدة المُفتین للنووي 3؍307
211 صحیح مسلم
212 صحیح مسلم
213 صحیح مسلم
214 الحج:36
215 صحیح مسلم:8؍170،196
216 صحیح بخاری:1691
217 البقرة:196
218 الفتح:27
219 مسلم:9؍53،54
220 ابوداؤد:1985،1984
221 المغنی لابن قدامہ 3؍395
222 زادالمعاد 2؍270
223 صحیح بخاری:1539
224 بخاری:1561
225 المغنی 3؍396
226 ابوداؤد:2001
227 ترمذی:948
228 صحیح بخاری: 3؍484
229 صحیح بخاری : 1691، 1692
230 ابوداؤد:1973
231 اُنظر سلسلة الأحادیث الصحیحة:2؍456
232 صحیح بخاری :1084،1657
233 ابوداود:1973
234 بخاری:1746
235 صحیح مسلم:9؍47،48
236 البقرة: 203
237 مؤطا امام مالک:1؍407
238 موطأ امام محمدمع التعلیق المُمجد ص233،المجموع للنووي 8؍283، المغنی3؍407
239 نیل الاوطار: حوالہ سابقہ،فقہ السنہ 1؍735
240 المغنی 3؍286
241 ابوداؤد:1973
242 ابن حبان:2975
243 بخاری:1635
244 نیل الاوطار: 3؍5؍80
245 ابن حبان:2975
246 صحیح مسلم:9؍99،100
247 صحیح بخاری :1858
248 المُحلّٰی از ابن حزم7؍276
249 المحلّی 7؍276۔277
250 فتح الباری4؍71تا73
251 الشرح الصغیر للدردیر 2؍8
252 مسلم:9؍78،79
253 مناسك الحج والعمرة للألباني ص43
254 بخاری:1189
255 بخاری :1190
256 صحیح بخاری :1196،1888
257 مؤطا امام مالک:1؍166