مولانا عبدالغفار حسن صاحب کو ہم نے بہت قریب سے تو نہیں ، البتہ قریب قریب سے بہت دیکھا ہے۔ ان کی علمی صحبتیں اُٹھانے کی سعادت بھی ملی۔ ان کی نشست و برخاست کا مشاہدہ بھی کیا۔ بہت سے علمی اجلاسوں میں ان کی گفتگو کو سنا اور ان کے علم سے بہت کچھ حاصل کیا۔

رنگ پختہ، میانہ قد، درمیانی داڑھی، موٹی آنکھیں جن میں عالمانہ وجاہت کے ساتھ مؤمنانہ رُعب بھی جھلکتا تھا۔ ماتھے پر بارگاہِ الٰہی میں دیے گئے سجدوں کے نشان نے چہرے کو مزید نورانی کردیا تھا۔ پہلی نظر دیکھتے ہی لگتا کہ اسلام کے صدرِ اوّل کے اکابرین میں سے ہیں ، البتہ قدرت نے پیدا اَب کیا ہے۔ شعر کی زبان میں بات کریں تو علامہ اقبال کا یہ مصرعہ عنگہ بلند ، سخن دل نواز جاں پُرسوز ان پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ حقیقت میں وہ مردِ خود آگاہ تھے اور مقولہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَف رَبَّه کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔

عموماً قمیص کے ساتھ کھلے پائینچوں کا پاجامہ زیب ِتن کرتے۔ اپنی چال میں {ٱلَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى ٱلْأَرْ‌ضِ هَوْنًا} کا خاص خیال رکھتے۔ بات نپی تلی اور با مقصد ہوتی تھی۔ ترکِ لایعنی زندگی کا اُصول تھا۔ آپ1913ء میں ہندوستان کے ضلع مظفر نگر میں پیداہوئے۔ یہ وہی ضلع ہے جس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ جیسی شخصیت نے تین سو برس قبل جنم لیا تھا۔ جن کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر ہندوستان میں خاندانِ ولی اللہ نہ ہوتا تو برصغیر میں مسلمان ناپید ہوجاتے۔

مولانا عبدالغفار حسن رحمة اللہ علیہ کا خمیر بھی اسی سرزمین سے اُٹھا۔ اُنہوں نے بھی اپنی زندگی کا ہدف ولی اللّٰہی افکار ہی کو ٹھہرایا۔ بوقت ِوفات آپ کی عمر 94 برس کے لگ بھگ تھی۔ اگر ماہ و سال کو قمری حوالے سے ماپیں تو عمر 96 برس سے متجاوز ہوتی ہے۔ گویا آپ کا زمانۂ حیات ایک صدی پر محیط ہے۔ اس سارے عرصہ میں دینِ متین کو غالب دیکھنے کی تڑپ آخر دم تک قائم رہی اور بساط کے مطابق جذبۂ عمل بھی متحرک رہا۔

آپ نے تقسیم ہند اور تشکیلِ پاکستان سے قبل دارالحدیث، دہلی سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور اور لکھنؤ یونیورسٹی بھارت سے مولوی فاضل اور ادیب فاضل کی اَسناد حاصل کیں ۔ اس طرح اپنے علم کوجدید وقدیم طرز ِ تعلیم سے دو آتشہ کیا۔

کچھ عرصہ جامعہ رحمانیہ بنارس مںن تدریسی فرائض سرانجام دیے۔ لائل پور میں جامعہ سلفیہ کا قیام عمل میں آیا تو انتظامیہ آپ کی خدمات اس ادارے کے لئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ پھر کئی برس یہاں خدمات سرانجام دیں ۔ مولانا عبدالرحیم رحمة اللہ علیہ اشرف علم اور اہل علم کے شناور تھے۔ اُنہوں نے وسیع رقبہ پر جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ قائم کیا تو مولانا عبدالغفار حسن کو دینی اور فکری ہم آہنگی اور اشتراکِ ہدف کے سبب اپنے ادارے میں لے آئے۔ آپ کو 18 برس تک جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تدریسی فرائض سرانجام دینے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ آپ کو یہ سعادت عربی زبان پر عبور اور حب ِ قیام مدینہ کے سبب حاصل ہوئی۔

علم کسی کی میراث نہیں ! یہ مسلمانوں کا اجتماعی ورثہ ہے جو محنت کے سبب اپنا مقام ومحل تبدیل کرتا ہے۔ مولانا عبدالغفار حسنؔ لباس سے عجمی لیکن تکلم کے ناطے عرب لگتے تھے۔ بے تکان عربی بولتے، کسی کو عجمی ہونے کا گمان تک نہ ہوتا اور مخاطب عرب نژاد ہی خیال کرتا۔ حقیقت کھلتی تو حیران ہوتا اور پریشانی کا اظہارکرتا تھا۔ اسی حوالے سے ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ جب میرا تقرر مدینہ یونیورسٹی میں ہوا تو ایک عرب شیخ سے علیک سلیک ہوئی۔ ظاہری بودوباش سے اس نے غالباً آپ کو جامعہ کے عملہ صفائی وغیرہ کا خادم خیال کیا۔ تو پوچھا کہ تم کون ہو اور یہاں کیا کرتے ہو؟ مولانا نے فرمایا: میرا یہاں تقرر بطورِ استاد کے ہوا ہے۔ عرب شیخ یہ سن کر سٹپٹا اُٹھا۔ بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا :

یا أسفا یا عجبا ! اب عربوں کو عربی بھی عجمی پڑھائیں گے۔

آپ مسلکاً اہل حدیث تھے لیکن جذبہ محرکہ دین کا غلبہ اور دین کی آبیاری ہر شے پہ غالب تھا۔ اس ہدف کے حصول کے لئے آپ ہر مسلک کے لوگوں سے بھرپور تعاون کرتے۔ موجودہ قومی اسمبلی میں حزب ِ اختلا ف کے قائدمولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود وزیراعلیٰ سرحد ہوئے تو خوشی کا اظہار کیا۔ جب مفتی صاحب کا انتقال ہوا تو مولانا بہت مغموم تھے۔ کبھی کبھی فیصل آباد کے منشی محلہ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے۔ مفتی محمود کے انتقال کے بعد غالباً پہلا جمعہ آپ نے اسی مسجد میں پڑھایا تو پوری تقریر میں مفتی محمود کے سانحۂ ارتحال کا تذکرہ بہت تاسف کے ساتھ کیا۔ آپ کی یہ تقریر راقم نے خود سنی۔

پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کا دور اسلامی خدمات کے حوالے سے بہت معروف ہے۔ آپ مرحوم ضیاء الحق کی کوششوں کو سراہتے اور برملا اظہارِ تحسین بھی فرماتے تھے۔ ضیاء الحق کی شہادت کے بعد تعزیتی اجلاس میں آپ نے مرحوم کے محاسن کا مفصل ذکر کیا اور فرمایا: میں نے ان کی شہادت سے چند روز قبل خواب دیکھا کہ میں سر پر ٹوپی اوڑھے ہوئے ہوں کہ اچانک میری ٹوپی سر سے اُتر گئی۔ بیدار ہوا تو بے چینی محسوس کی۔ دل نے کہا: کوئی بڑا سانحہ پیش آنے والا ہے۔ شاید مسلمان کسی بڑی شخصیت کی سرپرستی سے محروم ہونے والے ہیں کہ اچانک جنرل محمدضیاء الحق کی حادثاتی موت کی خبر آگئی۔

پاکستان میں شہیدمحمد ضیاء الحق کا زمانہ آیا تو ان کی نظر بھی مولانا پر پڑی۔ ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے حوالے سے آپ کو اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت پیش کی جسے آپ نے جذبۂ خدمت ِدین کے حوالے سے قبول کیا اور 9 برس تک اس ادارے کی خدمت کرتے رہے۔ دین کو 'غالب علیٰ کل غالب' دیکھنے کا جذبہ ان کو مولانا مودودی کی قربت میں لے گیا۔ کیونکہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے اجتماعی جدوجہد زیادہ بارآور ہوتی ہے۔ آپ جماعت اسلامی کے رُکن ہوئے۔ کام کی لگن، ذوقِ محنت اور جہد ِمسلسل کو سب نے سراہا۔ حتیٰ کہ آپ مولانا مودودی کے انتہائی بااعتماد ساتھیوں میں شامل ہوگئے۔

آپ 1941ء میں جماعت ِاسلامی میں شریک ہوئے۔ آپ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مولانا مودودی نے آپ کو سیالکوٹ میں جماعت ِاسلامی کا امیرمقرر کیا۔ 1953ء میں چلنے والی تحریک ِختم نبوت میں بھی حصہ لیا اور تقریباً گیارہ ماہ جیل میں بھی رہے اور ناموسِ رسالت کے لئے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔

سارقانِ ختم نبوت کے خلاف چلنے والی تحریک کے سربراہ برصغیر کے نامور خطیب، تحریک آزادی کے نڈر سپاہی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ تھے۔ چونکہ مسئلہ ختم نبوت کا تھا، قائد ِتحریک کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود مولانا مودودی نے تحریک میں حصہ ڈالا اور 'مسئلہ قادیانیت' کے نام سے کتاب لکھی۔ بس اس کتاب کے لکھنے کی پاداش میں دھر لئے گئے۔ پنجاب کے علاقہ (لاہور) میں جزوی مارشل لاء لگا، فوجی عدالت قائم ہوئی۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی پر فردِ جرم عائد کی گئی :
''یہ شخص ملک کا باغی ہے۔ باغی ہی نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں سے لے کر بڑے بوڑھوں کو بغاوت پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کی لکھی کتاب'مسئلہ قادیانیت' بغاوت کا سب سے بڑا دستاویزی ثبوت ہے۔''

کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے۔ ممکن ہے، یہ کہاوت درست ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ مارشل لائی قانون تو بالکل اندھا ہوتا ہے۔ اپنے اندھے پن کی تعبیر روشن خیالی اور اعتدال پسندی سے کرتا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ۔ مولانا مودودی کومارشل لاء کی عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی۔ آپ کو پابچولاں کرکے کراچی جیل بھجوایا گیا جہاں آپ کو کوٹھی اَلاٹ ہوئی۔ کوٹھی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک کوٹھی وہ جسے مالدار لوگ بڑی محبت سے خوبصورت انداز میں تعمیر کراتے ہیں ۔ آسائش کی سہولتیں اس میں مہیا کرتے اور آرام سے رہتے ہیں ۔ دوسری کوٹھی جیل میں ہوتی ہے۔ یہ ایسے انسانوں کو اَلاٹ ہوتی تھی جنہیں مارنا مقصود ہوتا۔ مولانا کو یہی دوسری کوٹھی اَلاٹ ہوئی۔ اسے اصطلاح میں کوٹھی لگانا کہتے ہیں ۔ اس طرح مولانا مودودی جیل میں کوٹھی لگا دیے گئے جو بعد میں بین الاقوامی دباؤ کے تحت باعزت رہائی میں بدل گئی۔

مولانا مودودی کی عدمِ موجودگی میں جماعت کی امارت مولانا عبدالغفار حسن رحمة اللہ علیہ کے سپرد ہوئی۔ یہ اِعزاز، یہ منصب آ پ کی عظمت اور علو ِمرتبت کی دلیل ہے۔ اس ہیجانی دور میں جماعت کی اِمارت آسان کام نہ تھا مگر مولانا عبدالغفار حسن نے یہ مشکل کام نہایت احسن طریقہ سے نبھایا۔ جماعت کے جوان اور بپھرے خون کو کنٹرول کیا اور حکمت و موعظۂ حسنہ کے ساتھ ساتھ جدالِ اَحسن کی مثالیں قائم کیں ۔ پھر بعض معلوم اور نامعلوم اسباب کی وجہ سے آپ نے 1957ء میں جماعت ِاسلامی سے تو علیحدگی اختیار کرلی لیکن مختلف انداز سے دین کی خدمت میں مصروف رہے۔ جماعت میں شمولیت اور جماعت سے علیحدگی کے حوالے سے ایک اہم واقعہ کا تذکرہ اس جگہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

مولانا مودودی کے انتقال کے بعد میاں طفیل محمد امیر ہوئے۔ ان کے بعد اِمارت کا سہرا محترم قاضی حسین احمد کے سر سجا، جو اَب تک موجود ہے۔ قاضی صاحب سیاسی جدوجہد کے آدمی ہیں ۔ان کی امارت میں جماعت کے مزاج میں کافی تبدیلی آگئی۔ پرانے لوگوں کے ساتھ جوان خون بھی جماعت میں خوب خوب شامل ہوا۔ اسی جوان خون کی وجہ سے جماعت میں ہنگامہ خیزی، نعرہ بازی، ہاؤ ہو، قاضی آوے ای آوے کا غلبہ ہوگیا۔ شب بیداریاں ، آہ سحرگاہی، سسکیوں ، گریہ وزاری اور احتساب کی وہ روایت متاثر ہوئی جس کی طرح مولانا مودودی نے اپنے دور میں ڈالی تھی۔ اس کی بجائے نعرہ بازی کا کلچر پروان چڑھا جو پیپلزپارٹی اور لادین جماعتوں کے کلچر سے میل رکھتا تھا۔

مولانا عبدالغفار حسن اگرچہ جماعت سے علیحدہ ہوچکے تھے، تاہم اس صورت حال کو دیکھ کر کڑھتے تھے، چنانچہ ان سے رہا نہ گیا۔ اُنہوں نے اس دور میں درد بھرا مضمون لکھا جو مختلف جرائد میں شائع ہوا۔ آپ نے لکھا کہ جب مولانا مودودی کی سزائے موت معاف ہوئی تو مولانا کراچی سے بذریعہ ٹرین لاہور تشریف لانے والے تھے۔ امارت کی ذمہ داری چونکہ میرے سپرد تھی، جماعت کے ساتھیوں نے مولانا کے استقبال کے لئے لاہور ریلوے اسٹیشن پر جانے کا پروگرام بنایا، میں نے اجازت دے دی۔ اس دور میں جماعت کا نظم مثالی تھا۔ تمام کارکن گاڑی آنے کے وقت لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ترتیب سے قطاروں میں کھڑے ہوئے، نہ کوئی شور نہ شرابا، نہ بے ہنگم بھیڑ۔ اسی دوران ایک نوجوان قطار سے نکلا اور میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ کہنے لگا میری ایک درخواست ہے، اگر آپ قبول فرمائیں ۔ میں نے تفصیل پوچھی۔ کہنے لگا: میں مولانا کی آمد پر ایک نعرہ لگانا چاہتا ہوں ۔ میں نے جواباً کہا: ہماری جماعت عمل پسند ہے، نعروں پر یقین نہیں رکھتی اورنہ ہی ہمارے نظم میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ اس نوجوان نے بات سنی اور واپس اپنی قطار میں جاکر کھڑا ہوگیا۔

ابھی گاڑی پہنچنے میں کچھ وقت تھا۔ وہ نوجوان پھر قطار سے نکل کرمیرے سامنے آگیا اور انتہائی لجاجت سے کہنے لگا: میرا دل بہت مچل رہا ہے، میں اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔ براہِ کرم مجھے ایک نعرہ لگانے کی اجازت دے دیجئے۔ میں نے اس نوجوان کی کیفیت کو دیکھا تو پوچھا۔ کیانعرہ لگاؤ گے؟ اس نے کہا کہ بس نعرۂ تکبیر لگاناچاہتا ہوں ۔ میں نے اس نوجوان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اسے ایک نعرہ لگانے کی اجازت دے دی اور کہا : صرف ایک ہی مرتبہ نعرہ لگانے کی اجازت ہے۔ وہ بولا: حکم کی تعمیل ہوگی، بس ایک ہی مرتبہ نعرہ لگاؤں گا۔ وہ نوجوان بہت خوش ہوا اور واپس اپنی قطار میں چلا گیا۔ اتنے میں گاڑی پلیٹ فارم پر آکر رُکی۔ مولانا مودودی اپنے ڈبے میں سے اُترے۔ ان کے اُترتے ہی نوجوان نے فرط ِ جذبات میں نعرہ بلند کیا، نعرۂ تکبیر 'اللہ اکبر' کی آواز گونجی اور خاموشی چھا گئی۔

مولانا مودودی نے تمام کارکنوں سے مصافحہ کیا اور کار میں بیٹھ گئے۔ آپ کے ساتھ میں اور میرا ایک اور ساتھی بھی کار میں موجود تھے۔ کار گھر پر جاکررُکی تومولانا سمیت ہم دونوں مولانا کے مہمان خانے میں بیٹھ گئے۔ مولانا نے بیٹھتے ہی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے پہلا سوال یہ پوچھا: نعرہ کس نے لگایا تھا؟ میں نے نام بتایا تو فرمانے لگے : نعرہ لگانے کی اجازت کس نے دی تھی؟ میں نے سرجھکا کر کہا کہ اجازت تو میں نے ہی دی تھی۔ اس کے بعد مولانا مودودی خاموش ہوگئے۔ مولانا نے زبان سے کچھ نہیں کہا لیکن بہت کچھ بتا گئے جس میں تنبیہ بھی تھی اورناگرفتہ احتساب بھی۔ میں شرم سے پسینہ میں ڈوب گیا۔ مولانا آگے لکھتے ہیں کہ ایک وہ جماعت تھی، ایک یہ جماعت ہے کہ جلوس میں نت نئے نعرے مارے جاتے ہیں ۔

مولانا عبدالغفار حسن سنجیدہ مزاج رکھتے تھے اور سنجیدگی کے ساتھ اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے حامی تھے۔ اگرچہ مولانا نے تحریکوں میں حصہ لیا، تاہم مولانا علمی آدمی تھے۔ تحریکی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آپ نے دین کی خدمت کے لئے قلم کا سہارا بھی لیا۔ 'عظمت ِحدیث' کے عنوان سے کتاب لکھی جو علما کے حلقوں میں معتبر ٹھہری۔ معروضی حالات سے متاثر ہوکر مختلف موضوعی مضامین بھی آپ کے قلم سے نکلے جو علمی جرائد کی زینت بنے۔ پاکستان میں سارقانِ ختم نبوت کے گریبان کو سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں نے ہاتھ ڈالا تو مولانا نے قادیانیوں پر علمی گرفت کو مضبوط کیا، اور اس فتنہ کا علمی محاسبہ کیا۔ کئی مقالات لکھے جو کتابچوں کی شکل میں شائع ہوئے اور مستقل اہمیت کے حامل ہیں ۔ آپ کے قلمی ورثہ میں ایک کتاب'انتخاب' کے عنوان سے ہے جس میں آپ نے ایسی احادیث کا انتخاب کیا جن کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی حیات کے ساتھ ہے۔ اس کتاب کو علمی حلقوں میں بہت قبولیت حاصل ہوئی اور اس کے بہت سے ایڈیشن شائع ہوئے۔ آپ کے قلم سے نکلا ایک اور کتابچہ 'دین میں غلو' کے عنوان سے بھی ہے جو مختصر ہونے کے باوجود بڑے نازک علمی مباحث پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ آپ نے جو کتب لکھیں ان کے نام ہیں :اسلام میں سنت کا مقام، معیاری خاتون، حقیقت ِ دعا 1

ان مضامین میں بصیرت بھی ہے، ندرت بھی۔ یہ جملہ مضامین آپ کا علمی ورثہ ہیں جو اہل علم کی بصیرت اور بصارت میں مستقل اضافہ کا سبب ہیں ۔ ان مضامین کی یکجائی، تدوین وترتیب ان کے صلبی ورثا کا فرض ہے۔ ورثہ صرف درہم و دینار ہی کا نام نہیں ، علمی کام بھی اس میں شامل ہے۔ اگر یہ ورثہ جمع (i)نہ ہوا تو مولانا کا قرض بذمہ اہل علم باقی رہے گا۔

علم حدیث میں آپ کی سند 33 واسطوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔ روایت حدیث کی اجازت دینے میں بہت زیادہ محتاط واقع ہوئے تھے۔ سچی طلب اور جذبۂ صادقہ دیکھتے اور طالب کو خوب پرکھ کر اِجازت مرحمت فرماتے تھے۔

مولاناعبدالغفار حسن مرحوم کا علمی مقام و مرتبہ بہت بلند تھا۔ عاجزی و اِنکساری علم کا خاصہ ہے، اس لئے یہ وصف بھی ان میں بدرجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ شہرت و ناموری سے کوسوں دور کھنچتے تھے۔ علم و علما کی مجلس ہوتی تو بندھے چلے آتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال پر آپ کو وہ قلمی خراج نہ ملا جس کے آپ مستحق تھے۔ ایک مضمون اُردو بک ریویو دہلی میں چھپا۔ دو مضامین 'محدث' لاہورنے طبع کئے، ان میں سے ایک ان کے بیٹے ڈاکٹر صہیب حسن کا، دوسرا ان کے شاگرد حافظ ثناء اللہ مدنی کا ہے۔ ان کے علاوہ دینی جرائد میں کچھ اداریہ کی شکل میں مختصر تذکرے، حالانکہ مولانا اپنی علمی جلالت کے پیش نظر اہل قلم سے بہت زیادہ خراج کے مستحق تھے۔

مولانا عبدالغفار حسن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ہر راہی ملک ِبقا کا کچھ نہ کچھ ترکہ ہوتا ہے جسے بعد والے تقسیم کرتے ہیں ۔ وراثت درہم و دینار کے ترکہ ہی کا نام نہیں ۔ علم بھی وراثت ہی ہے۔ فرق صرف تقسیم وراثت کے طریق کار کا ہے۔ درہم و دینار کی وراثت کے حصے بخرے مقررہ تناسب سے کئے جاتے ہیں ۔ کم ظرف اس پر جھگڑا بھی کرتے ہیں جبکہ وراثت ِعلمی ہر اِک کو بقدرِ ظرف بے حساب ملتی ہے۔ علما کا اصل ورثہ ان کاعلم ہی ہوتاہے۔ ہمای دانست میں مولانا کے تربیتی اَثر نے اولاد کے علمی ظرف کو خوب پروان چڑھایا اور خوب بڑھایا۔ آپ کی اولاد، ذکورواُناث سب اس علمی وراثت کے حامل ہیں ۔ اس میدان میں حظ وافر رکھتے ہیں ۔ ان پرفرض ہے کہ وہ عظیم باپ کی وراثت کے اَمین و قسیم ثابت ہوں ۔

ہمیں اُمید ہے کہ وہ مولانا مرحوم کے علمی ترکے کی حفاظت کریں گے۔ ان کی نایاب کتب کے ذخیرے کو ضائع ہونے سے بچائیں گے۔ نہ صرف بچائیں گے بلکہ اس میں اضافہ کی سبیل پیدا کریں گے جو مولانا کے لئے صدقہ جاریہ کا سبب ہوگا۔ ہمیں یہاں یہ بات کہنے سے بھی باک نہیں کہ مولاناکے علمی ذخیرے کو ایسے لوگوں سے بچانا بھی ضروری ہے جو کتاب کو فٹ پاتھ کی زینت بنا کر دام کھرے کرتے ہیں اور بعض کو رذوق ان کتب میں ٹڈی مار پوڈر اور چوہے مار گولیاں بیچنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

مولانا کی نمازِ جنازہ کی امامت کے فرائض آپ کے صلبی وارث بڑے بیٹے ڈاکٹر صہیب حسن نے سرانجام دیے۔ آپ کے بقیہ چھ بیٹوں کے علاوہ دیگر اعزہ و اقربا اور کثیر متعلقین نے اس میں شرکت کی۔ برطانیہ کی مختلف مساجد میں آپ کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔
اللھم ارحمه واغفرہ وأدخله في رحمته

 


حوالہ جات
1. اُردو بک ریویو، انڈیا بابت مئی جون2007ء

 


 

 i.  مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام شعبۂ رسائل وجرائد ملک بھر میں دینی رسائل کا ممتازترین مرکز ہے جس میں 50 سے زائد اہم دینی جرائد کے موضوعاتی اشاریے مرتب کئے گئے ہیں۔ اس شعبہ میں ممتاز اہل علم کی تمام تحریروں کی فہرستیں بھی تیار کی جاتی ہیں۔ مولانا مرحوم کے بڑے فرزند ڈاکٹر صہیب حسن مجلس ہذا کے اراکین میں شامل ہیں چنانچہ اِمسال مولانا کی وفات کے موقع پر اُن کی تشریف آوری کے دوران اُنہیں نہ صرف دینی رسائل میں مولانا عبدالغفار حسن کے تمام مطبوعہ مقالات کی فہرست مہیا کی گئی بلکہ ان تمام مضامین کی فوٹو کاپی بھی مہیا کردی گئی جس کو ڈاکٹر موصوف ترتیب وتدوین کے بعد شائع کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے فرزندگان کو اس علمی وراثت کو جلد شائع کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔ آمین! ح م