زیرنظر مضمون میں 'شرعی قانون' کا لفظ استعمال کیا گیاہے جس کے بارے میں زیادہ محتاط لفظ 'شریعت ِاسلامیہ' ہی ہے۔ کیونکہ شریعت کو 'مسلمان اہل علم انسانوں' کے ذریعے قانونی ضابطہ بندیوں کی شکل دینے میں بھی بعض وہی مسائل درآتے ہیں جو وضعی یا انسانی قانون کیلئے عیب ٹھہرتے ہیں۔ دراصل شریعت ِاسلامیہ ہی اپنے اصل الفاظ میں وحی ہونے کے ناطے یہ منفردمقام اورحیثیت رکھتی ہے کہ اللہ کی مخلوق میں عدل وانصاف کی دائمی ضمانت بن سکے۔ اس بنا پر زیر نظر مضمون میں شرعی قانون کو شریعت ِاسلامیہ کے معنی میں سمجھنا چاہئے۔ (ح م)



ذہنی مغلوبیت کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ کوئی انسان اپنے مذہب یا قوم کی تہذیب کے متعلق احساسِ کمتری میں مبتلا ہوکر غیروں کی تہذیب و معاشرت کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگے او راس کی ایک ایک جزئی کے اپنانے کو اپنی روشن خیالی اور وسعت ِ ظرفی تصور کرے۔ جب کسی قوم میں یہ صورت ِحال پیداہوجائے تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی مغلوب الذہن اَقوام کبھی بھی زمانے میں اپنے وجود کو مستقل حیثیت سے برقرار نہیں رکھ سکیں اور رفتہ رفتہ ماضی کا اِک قصۂ پارینہ بن کر رہ گئیں۔

بدقسمتی سے کچھ اسی طرح کی حالت اس وقت اسلام کے ماننے والے جدید تعلیم یافتہ حضرات کی ہے جو اسلامی نظامِ حدود و تعزیرات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہ سمجھتے ہوئے وضعی قوانین کے نفاذ کو کامیابی اور ترقی کا معیار قرار دیتے ہیں، إلامن رحم ربي

حالانکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اسلامی نظامِ حدود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ قرار دینے والے انہی حضرات کے نزدیک زمانۂ سابقہ میں اسلام کے تابناک اور روشن دور کا سبب یہی اسلامی قوانین اور ان پر عمل درآمد تھا۔ گویا کہ خالقِ ارض و سما کے بنائے ہوئے نظام کے متعلق بھی ان حضرات کا یہی فیصلہ ہے کہ تھا جو 'خوب' بتدریج وہی 'ناخوب' ہوا !!

اگر بات صرف اسی قدر ہو کہ دورِحاضرمیں وضعکئے جانے والے اُصول وقوانین، صدیوں قبل تشکیل شدہ قوانین سے اس لئے بہتر ہیں کہ وہ جدیدحالات و واقعات کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں تو ہم بھی 'جدت پسند' حضرات کی فہرست میں نام لکھوانے کو اپنی خوش بختی تصور کرتے، لیکن اگر قدیم قوانین کو عطاکرنے والا خود ربّ الناس ہو اور وہ ان قوانین کو مقرر کرنے کے بعد یہ کہہ کر ان کے دائمی نافذ العمل ہونے کی طرف اشارہ کردے :
ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًا...﴿٣﴾...سورۃ المائدہ
''آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند کرلیا۔''

لہٰذاجدید کو قدیم کے مقابلے میں افضل و برتر قرار دینا تو درکنار، ا ن کو موازنہ کے لئے دو پلڑوں میںرکھنا ہی ایسے ہے جیسے آسمان کے مقابلے میں زمین کو لانے کی ناکام کوشش کی جائے : چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک!

لیکن مذکورہ بالا ساری بحث بھی اسی وقت پیدا ہوگی جب ہم یہ فرض کریں کہ وضعی قوانین کے مقابلے میں شرعی قوانین قدیم ہیں جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ کے بیشتر ضوابط و قوانین کے بالمقابل شریعت کے قوانین بھی قدیم نہیں بلکہ جدید ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ کے قوانین کی بنا 'رومن لا' پر رکھی گئی ہے۔ ان کی اُٹھان رومن قانون کے نصوص و قواعد اور حدود اربعہ میں ہوئی ہے، اِلا یہ کہ کسی شدید ضرورت کی بنا پر اس راستے سے ہٹنا پڑے؛ اس بنا پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ یورپی قوانین کے مقابلے میں اسلامی قوانین جدید تر ہیں نہ کہ قدیم۔ کیونکہ رومن لاء کی تشکیل 'نزولِ قرآن و سنت' سے صدیوں قبل ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ جو حضرات اس وقت الٰہی قوانین کے متعلق بظاہر انتہائی خوبصورت انداز میں یہ راگ اَلاپ رہے ہیں کہ چودہ سو سال قبل کا فرسودہ نظام موجودہ دور کے تقاضوں سے مناسبت نہیں رکھتا تو ایسے لوگوں کی دو اقسام ہیں: ایک گروہ تو ایسے حضرات کا ہے جنہیں نہ تو شریعت ِاسلامیہ کی مہارت حاصل ہے اور نہ ہی قوانینِ وضعی پر جبکہ دوسرے گروہ میں ایسے تعلیم یافتہ حضرات شامل ہیں جو اگرچہ قوانینِوضعی پر تومکمل مہارت رکھتے ہیں، لیکن شریعت کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ اب چونکہ دونوں فریق قوانینِ شرعیہ سے نابلد ہیں لہٰذا شریعت ِاسلامیہ کے متعلق ان کا یہ دعویٰ کہ 'یہ موجودہ دور سے مناسبت نہیں رکھتی' بالکل بے وزن ہوکر رہ جاتا ہے !!

شرعی قوانین اور قرآن
ہر وہ قانون جو شریعت ِاسلامیہ، اس کے اُصول و مبادی اور اس کی روح کے خلاف ہو وہ مطلقاً باطل اور کالعدم ہے۔ بلکہ اسلام تو ہم پر یہ بھی ضروری قرار دیتا ہے کہ ہمیں اپنے الفاظ میں قانون سازی کی بجائے اللہ اور رسول کے فرامین کو ان کی اصل شکل میں ہی قانون سمجھنا چاہئے، جیساکہ قرآن جابجا ہمیں ما أنزل اﷲ کی پابندی اور قانون باور کرنے کی تلقین کرتا ہے اور ایسا نہ کرنے والوں کو ظالم ، فاسق اور کافر گردانتا ہے۔ اور یہ امر واضح ہے کہ ما أنزل اﷲ تو صرف قرآنِ کریم اور احادیث نبویہ ہیں، نہ کہ اس سے ماخوذ ایسے قوانین جنہیں مسلم اہل علم نے اپنے الفاظ میں قانونی ڈھنگپر ترتیب دے دیا ہے۔

ذیل میں اسی مفہوم کی قرآنی نصوص ایسے لوگوں کے لئے درج کی جارہی ہیں جو کسی طور پر بھی قرآن سے لگاؤ رکھتے اور اسلام کو مانتے ہوں خواہ بطورِ ایک آبائی مذہب کے ہی۔ کیونکہ وہ ہیں تو بہرحال مسلمان اور کلمہ طیبہ کا اقرار کرنے کے بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا طوق اپنے گلے میں ڈال چکے ہیں۔ اب دور کے ڈھول اُنہیں کتنے ہی سہانے سنائی کیوں نہ دیں جو ڈھول ان کے اپنے گلے میں پڑا ہوا ہے، اس کی آواز کو تو بہرحال اُنہیں سننا اور برداشت کرنا ہوگا، خواہ اس کی بھاری بھر کم اور رعب دار آواز ان کے ذوقِ حسن سماعت پر کتنی ہی گراںکیوں نہ گزرے اور خواہ ان کی نزاکت لاکھ اس کا انکار کرے۔

مخلوق پر صرف خالق کا نظام
قرآن انبیاے کرام علیہم السلام کی بعثت کا اہم مقصد ہی یہ بتاتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کو جاری و ساری کریں اور انسانوں کے درمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی روشنی میں انصاف کریں او ریہ کہ اسلام مغلوب ہوکر نہیں بلکہ وہ تو غالب اور کارفرما ہونے کے لئے آیا ہے۔ چنانچہ ربّ العالمین کا ارشاد ہے :
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْ‌سَلَ رَ‌سُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَ‌هُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِ‌هَ ٱلْمُشْرِ‌كُونَ ﴿٩...سورۃ الصف
''وہی تو ہے جس نے پنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سارے دینوں پر غالب کردے اگرچہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔''

نیز فرمایا:

لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلْقِسْطِ...﴿٢٥﴾...سورۃ الحدید
''ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔''

اسلام کی نگاہ میں قانون کا اصل مرجع ومصدر صرف اللہ کی ذات ہے کیونکہ وہی اس ساری کائنات کا خالق ہے۔ لہٰذا اس کائنات کو پیش آنے والی اچھائیوں اور بُرائیوں کی تمام باریکیوں سے وہی واقف ہوسکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مخلوق پر حکم بھی صرف اسی کا تسلیم کیا جائے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق اور لیل ونہار پر اپنے مکمل تصرف اور یہ کہ سورج، چاند اور تارے اسی کے آگے مسخر اور مطیع ہیں اور پھر ان ساری باتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:
أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ‌...﴿٥٤﴾...سورہ الاعراف
''یاد رکھو! اسی نے پیدا کیا ہے اور اسی کو حکم کرنے کا حق حاصل ہے۔''

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ...﴿٤٠﴾...سورۃ یوسف
''فرماں روائی کا اختیار اللہ کے سوا کسی کے لئے نہیں ہے۔''

ایسے لوگ جو اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مقابلے میں انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، اللہ نے ان کو کافر، ظالم اور فاسق قرار دیا ہے :
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٤٤...فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿٤٥...فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ﴿٤٧...سورۃ المائدہ
''جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں پس وہی کافر ہیں ... وہی ظالم ہیں... وہی فاسق ہیں۔''

اللہ نے تحاکم إلی غیر اﷲ (اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف فیصلہ لے جانا) کو حرام قرار دیا ہے اور کسی مؤمن کو قطعاً یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے حکم پر اطمینان کا اظہار کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے دور کی گمراہی اور طاغوت و شیطان کی پیروی سے تعبیر کیا ہے۔ لہٰذا ارشاد فرمایا:
أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِ‌يدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاإِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُ‌وٓا أَن يَكْفُرُ‌وابِهِۦ وَيُرِ‌يدُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًا ﴿٦٠...سورۃ النساء
''(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں لیکن چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ طاغوت سے کروائیں حالانکہ اُنہیں طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انہیں راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔''

مزید برآں، ربّ العالمین نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ کسی مؤمن مرد یا عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے معاملے میں اپنے لئے آزادی استعمال کرے جس میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی فیصلہ صادر کردیا ہو اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ایمان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو محض ظاہری صورت میں ہی مان لینا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ پوری خوشدلی اور آمادگی ٔ نفس کے ساتھ یہ کام انجام دے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥...سورۃ النساء
''تیرے پروردگار کی قسم! یہ لوگ کبھی مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے تمام جھگڑوں میں تجھے حاکم نہ بنائیں او رپھر (صرف اتنا ہی نہیں بلکہ) ان کے دلوں کی حالت بھی ایسی ہوجائے کہ جو کچھ تم فیصلہ کردو، اس کے خلاف اپنے اندر کسی طرح کی کھٹک محسوس نہ کریں اور پوری طرح اس کو تسلیم کرلیں۔''

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا ﴿٣٦...سورۃ الاحزاب
''اور کسی مؤمن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور ا س کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملے کا فیصلہ کردے تو پھر اسے پنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جوکوئی کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔''

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس آیت کی حسب ِذیل تفسیر کی ہے:
''یہ آیت اگرچہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی ہے مگر جو حکم اس میں بیان کیا گیا ہے، وہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے اسلامی نظامِ زندگی پر ہوتا ہے۔ اس کی رو سے کسی مسلمان فرد، یا قوم، یا ادارے، یا عدالت، یا پارلیمنٹ یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو تو اس میں وہ خود اپنی آزادئ رائے استعمال کرے۔ مسلمان ہونے کے معنی ہی خدا اور رسول کے آگے اپنے آزادانہ اختیار سے دستبردار ہوجانے کے ہیں۔ کسی شخص یا قوم کا مسلمان بھی ہونا اور اپنے لئے اس اختیار کو محفوظ بھی رکھنا دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ کوئی ذی عقل انسان ان دونوں رویوں کو جمع کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ جسے مسلمان رہنا ہے، اسے لازماً خدا اور رسولؐ کے آگے جھک جانا ہوگا اور جسے نہ جھکنا ہو، اسے سیدھی طرح ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ نہ مانے گا تو اپنے مسلمان ہونے کا وہ کتنا ہی ڈھول پیٹے، خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں وہ منافق ہی قرار پائے گا۔''1

اس کے علاوہ اللہ ربّ العالمین نے واضح الفاظ میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ اگر اس کے فیصلے کو چھوڑ کر کسی اور کو جائز و ناجائز کی حدود مقر رکرنے کا اختیار دیا گیا تو ایسا کرنے والا شخص ربّ العالمین کی توحید میں شرک کا مرتکب ہورہا ہے۔ کیونکہ اللہ کے مقابلے میںاس نے شریعت سازی کا حق کسی اور کو دے کر اس کو اپنے لئے 'ربّ' اور 'الٰہ' بنا لیا ہے۔ چنانچہ اللہ ربّ العالمین قرآنِ مجید میں یہودیوں اور عیسائیوں کی اسی بُری خصلت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ٱتَّخَذُوٓاأَحْبَارَ‌هُمْ وَرُ‌هْبَـٰنَهُمْ أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْ‌يَمَ وَمَآ أُمِرُ‌وٓا إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا إِلَـٰهًا وَ‌ٰحِدًا...﴿٣١﴾...سورۃ التوبہ
''اُنہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا ربّ بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ ان کو صرف ایک ہی معبود کی پرستش کا حکم دیا گیاتھا۔''

مندرجہ بالا آیت کی وضاحت کے لئے اس حدیث ِمبارکہ پر غور کیجئے کہ
''حضرت عدی بن حاتم ؓ جب عیسائیت کو چھوڑ کر مشرف بہ اسلام ہوئے تو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے من جملہ اور سوالات کے ایک سوال یہ بھی کیا تھا کہ اس آیت ِمبارکہ میں ہم پر اپنے علما اور درویشوں کو ربّ بنانے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے، اس کی اصلیت کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں کہ جو کچھ یہ لوگ حلال کردیتے تم اس کو حلال سمجھنے لگتے اور جس چیز کو حرام قرار دیتے، تم اسے حرام کرلیتے۔ حضرت عدی ؓ نے کہا: ایسا تو ضرور ہے۔ فرمایا بس یہی ان کو خدا بنا لینا ہے۔''2

مذکورہ نصوص کے علاوہ بھی قرآنِ مجید میں کئی ایک ایسی آیات ہیںجو اپنے اس مفہوم پر دلالت کرنے میں بالکل واضح ہیں کہ شریعت اور قانون سازی کا حق صرف خالق حقیقی کے پاس ہے۔ اس کا قانون اور اسی کی شریعت ہی فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، اس کی شریعت سے انحراف دنیا میں ہلاکت اور بربادی کا سبب تو ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ ایمان سے ہاتھ دھونے اور گمراہی کی گہری کھائی میں جاگرنے کے بھی مترادف ہے۔

شریعت ِاسلامیہ ابدی اور عالمگیر ہے!
اسلامی قانون زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ یہ کسی مخصوص علاقے یا زمانے کے لئے مقرر نہیں کیا گیاتھا بلکہ ربّ العالمین نے شروع ہی سے اس کے متعلق واضح کردیا تھا :
تَبَارَ‌كَ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْفُرْ‌قَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِۦ لِيَكُونَ لِلْعَـٰلَمِينَ نَذِيرً‌ا ﴿١...سورۃ الفرقان
'' بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا (ضابطہ حیات) نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا بن جائے۔''

بعض غیر مسلم مؤرّخین اور مستشرقین اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شریعت ِاسلامیہ وقتی اورہنگامی حالات کے لئے وجود میں آئی تھی، لیکن بعد میں جب فتوحات کا سلسلہ وسیع ہوا تو وہ عالمی بن گئی۔ لیکن مذکورہ بالا آیت ایسے لوگوں کی واضح تردید کررہی ہے، کیونکہ یہ آیت بالاتفاق مکی ہے اور مکہ مکرمہ میںاس وقت نازل ہوئی جب اسلامی تحریک انتہائی کسمپرسی کے عالم میں اپنا آغاز کررہی تھی۔ چنانچہ اسلام کے دورِ ابتدا ہی میں اس آیت کا نزول اس بات کی دلیل ہے کہ اسلا م کی بنیاد ہی اس تصور پر استوار کی گئی تھی کہ یہ ساری دنیا کے لئے دستور اور آئین بنے اور تمام لوگ اس کے پاکیزہ اور ہمہ گیر اُصولوں کے تحت ایک پرامن زندگی بسر کرسکیں۔

بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ہی تمام انبیا کرام علیہم السلام سے اس با ت کا عہد لیا جاچکاتھا کہ تمہاری رسالت کے دور میں اگر نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوجائے تو تم پر اپنی شریعت و رسالت سے دستبردار ہوکر اس کی شریعت پر ایمان لانا اور پھر 'یہی نہیں بلکہ' اس کے معاون و مددگار بننا لازم ہے۔ چنانچہ ربّ العالمین کا ارشاد ہے :
وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٰقَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـٰبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَ‌سُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُ‌نَّهُۥ ۚ قَالَ ءَأَقْرَ‌رْ‌تُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَ‌ٰلِكُمْ إِصْرِ‌ى ۖ قَالُوٓا أَقْرَ‌رْ‌نَا ۚ قَالَ فَٱشْهَدُوا وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ﴿٨١...سورۃ آل عمران
''جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو اسی تعلیم کی تصدیق کرنے والا جو تمہارے پاس ہے تو تمہیں لازماًاس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی تصدیق کرنا ہوگی۔ پھر کہا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو او راس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ (ہاں) ہم اقرار کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔''

مذکورہ بالا عہد اگرچہ انبیا کرام علیہم السلام سے لیا گیا تھا، لیکن جو عہد انبیا سے لیا گیا ہو وہ لامحالہ ان کے پیروؤں پر بھی عائد ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ شریعت ِاسلامیہ کے مقابلے میں سابقہ کسی شریعت کا سکہ بھی نہیں چل سکتا، چہ جائیکہ یہ کہتے ہوئے اسلامی قانون ہی کی تنسیخ کا فتویٰ جاری کردیا جائے کہ موجودہ حالات و ضروریات کے مطابق نہیں او رپھر اسی کو بنیاد بناتے ہوئے قوانینِ وضعیہ کے نفاذ کو کامیابی کا شاخسانہ قرا ردیا جائے۔ ایسے لوگوں پر قرآن کریم کا یہ فرمان صادق آتا ہے :
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ‌ ٱلْإِسْلَـٰمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِ‌ينَ ﴿٨٥...سورۃ آل عمران
''جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے تو اس سے وہ طریقہ قطعاً قبول نہیں کیا جائے گااور وہ آخرت میں بھی خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔''

قرآنِ مجید کے علاوہ احادیث ِمبارکہ سے بھی جا بجا اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اسلامی قانون کو ربّ العالمین نے صرف اس دور کے لوگوں کے لئے مرتب نہیں کیا تھا کہ بعد میں آنے والی نسلیں اپنے حالات اور تقاضوں کے مطابق اپنا آئین اور دستور خود مرتب کرلیا کریں گی بلکہ اس کو قیامت تک کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو احادیث مروی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں خبر دی ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئیں گے بلکہ شریعت ِاسلامیہ کی بنا پر ہی لوگوں سے قتال کریں گے۔ حتیٰ کہ اسلام کے علاوہ تمام ملل و اَدیان کا خاتمہ ہوجائے گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں:
(فیقاتل الناس علی الإسلام)کہ ''وہ اسلام کی بنیاد پر لوگوں سے قتال کریں گے۔''

اور اسی حدیث میں آگے جاکر ارشاد فرمایا:
(ویھلك اﷲ في زمانه الملل کلھا إلا الإسلام)3
'' اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ تمام ملتوں کو مٹا ڈالیں گے۔''

اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:
(والذي نفسي بیدہ لیوشکن أن ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر)4
''یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ضرور اُتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم ؑ (عیسیٰ ؑ) حاکم، عادل بن کر ... پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔''

مذکورہ حدیث کے الفاظ (لَیُوْشِکَنَّ أن یَّنْزِل فیکم ابنُ مریم حَکَمًا) پر تبصرہ کرتے ہوئے امام نووی لکھتے ہیں:
أي ینزل حاکمًا بھذہ الشریعة لا ینزل برسالة مستقلة وشریعة ناسخة
'' وہ(حضرت عیسیٰ ؑ) اسی شریعت ِ(اسلامیہ) کے مطابق فیصلہ کرنے والے حاکم بن کر نازل ہوں گے۔ مستقل رسالت اور ایسی شریعت جو شریعت ِاسلامیہ کو منسوخ کرنے والی ہو، لے کر نہیں آئیں گے۔ ''5

اسی طرح سیدابوالاعلیٰ مودودی مذکورہ بالا حدیث ہی کے الفاظ (فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر) پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کردینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہوجائے گی۔'' 6

چنانچہ مذکورہ بحث سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بطورِ فیصل کوئی نیا قانون یا ضابطہ لے کر نہیں آئیں گے بلکہ شریعت ِاسلامیہ کے مطابق ہی فیصلہ کرنے والے ایک حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہیں اس با ت کا بھی پتہ چلا کہ ربّ العالمین نے قیامت تک ہر زمان و مکان کے لئے اسلامی قانون ہی کو حتمی اور فیصلہ کن ضابطۂ حیات بنا کر نازل کیا ہے۔ اسی لئے اس خالق نے اپنی حکمت ِتامہ او رہمہ دانی کے تقاضے کے عین مطابق اس قانون میں ایسی لچک اور نرمی رکھی ہے کہ جو اس کو تمام اَدوار اور جگہوں پر نافذ العمل ہونے کے قابل بناتی ہے۔

وضعی قوانین کے مقابلے میں شرعی قوانین کی خصوصیات و امتیازات
وضعی اور شرعی قوانین کے درمیان ادنیٰ درجے کی بھی مساوات اور برابری نہیں ہے۔ ایک صحیح العقیدہ اور سلیم الفکر مسلمان کو، جو قرآن و سنت ہی کو اپنا دستور ِ حیات اور معیارِ نجات مانتا ہو، اس بات پر مطمئن کرنے کے لئے اگرچہ قرآن و سنت کی واضح نصوص ہی کافی ہیں اور اس کو منوانے کے لئے مزیدکسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن چونکہ اس کے باوجود بعض 'جدت پسند' مسلمانوں کو اس بات پر اطمینان نہیںکہ صدیوں قبل تشکیل میں آنے والا نظامِ زندگی جدید دور پر منطبق ہوسکتا ہے، لہٰذا آئندہ سطور میں وضعی قوانین کے مقابلے میں شرعی قوانین کی چند بنیادی خصوصیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات!

وضعی قانون، انسان کی صنعت گری کا نتیجہ ہے۔ بالفرض اگر اس قانون میں اس کے علاوہ اور کوئی خامی نہ بھی ہو کہ اس کو مرتب کرنے والی خالق کے مقابلے میں مخلوق ہے۔ اس بنا پر اہل عقل و دانش کے نزدیک بھی لوگوں کے بنائے ہوئے قانون کو ان کے خالق کے قانون کے مقابلے میں پیش کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ٹھہرتا بالخصوص جبکہ خود خالق کا اپنی اس مخلوق کے بارے میں اعلان ہے :
وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٨٥...سورہ بنی اسرائیل
کہ ''تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے۔''

اور
وَخُلِقَ ٱلْإِنسَـٰنُ ضَعِيفًا ﴿٢٨...سورۃ النساء
''انسان کوپیدا ہی کمزور کیا گیا ہے۔''

اس کے مقابلے میں اسلامی قانون کا من عنداللہ ہونا ہی بذاتِ خود ایک ایسی خوبی ہے جو اس کو بلندی اور عظمت کے ایک ایسے مقام پر لے جاتی ہے جہاں تک پہنچنا اس ضعیف انسان کی استطاعت اور طاقت سے ماورا ہے۔

اسلامی قانون کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی قوانین کے ساتھ احترام اور تقدس کا ایک روحانی عنصر وابستہ ہے۔ اسلام جب کسی کام کو حرام قرار دے کر اس پر کسی سزا کا اعلان کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنے ماننے والوں کو اچھی طرح یہ بات ذہن نشین کرواتا ہے کہ ان اَحکام کو مقرر کرنے والی وہ ذات ہے جو تیری جلوت اور خلوت کی تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تو اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تو ممکن ہے کہ تو اپنے جرم پر پردہ ڈال کر دنیوی سزا سے بچ جائے، لیکن بالآخر ایک نہ ایک دن تجھے اپنے اسی آقا و مولا کی طرف لوٹنا اور اپنی زیست کے تمام لمحات کا حساب دینا ہے۔ لہٰذا یہ تصور اور اللہ کا خوف ایک مسلمان کے دل پر ہر وقت ایک پہرے دار کی مانند چھایا رہتا ہے جو اس کو شرعی قوانین کے احترام پر مجبور کرتاہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ماعزاسلمی (دیکھئے صحیح بخاری: 6824، صحیح مسلم: 1694) اور غامدیہ عورت (مسلم: 1695) کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اعترافِ جرم اسی خوف اور ڈر کا نتیجہ تھا۔ لیکن اس کے بالمقابل انسانوں کے وضع کردہ کسی مجموعہ قانون کے ساتھ ایسی کسی خارجی قوت کا تصور موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اس کے احترام پر اُبھارے او رتنہائی میں بھی ان کو جرم سے روکے اور خلاف ورزی کی صورت میں خود کو قانون کے حوالے کرنے پر مجبور کرے۔

وضعی قانون اعلیٰ اخلاقی اقدار کو جو کہ انسانیت کا شرف اور اس کے ماتھے کا جُھومر ہیں اپنے دائرئہ عمل میں اس وقت تک شامل نہیں کرتا، جب تک اس سے عوام یا نظام حکومت کو کوئی خلل پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت تک یہ انفرادی اَعمال کو خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہتا ہے اور ایک انسان کو اس با ت کا مکمل موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتا ہوا ایسے مقام پر پہنچ جائے جب وہ برملا ایسے کام کرنے لگے جو معاشرے کے لئے نقصان دہ اور عوام کو خراب کرنے والے ہوں۔ چنانچہ اکثر وضعی قوانین میں زنا اس وقت ایک قابل گرفت جرم قرار پائے گا جب طرفین میں سے ایک، دوسرے پر جبر کرے گویا کہ اصل جرم زنا نہیں بلکہ دوسرے فریق کو بلا وجہ اس امر پر مجبور کرنا ہے۔ اسی طرح اکثر وضعی قوانین شراب نوشی کو بھی اسی وقت جرم قرار دیتے ہیں جب شراب پینے والا شخص واضح طور پر حالت ِنشہ میں کسی عام گزرگاہ پر دیکھا جائے گویا کہ اصل جرم شراب نوشی نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بننا ہے۔ لیکن اس کے برعکس شرعی قوانین کا اصل مقصود ہی اخلاقِ فاضلہ کی حمایت وحفاظت ہے۔ جس جرم کا ادنیٰ تعلق بھی اخلاقیات کی پامالی سے ہو، اس بارے میں شریعت کا قانون فوراً حرکت میں آجاتا ہے اور اس بات کا مکمل موقع فراہم کرتا ہے کہ کسی بڑے جرم تک پہنچنے کے لئے جو برائی ابتدائی زینے کا کام دے سکتی ہے، سب سے پہلے اسی کی اصلاح کی طرف توجہ دی جائے تاکہ کوئی بڑا جرم معرضِ وجود میں ہی نہ آسکے۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انسان کے اندر بشر ہونے کے ناطے خواہشاتِ نفسانیہ اور شخصی و گروہی میول و عواطف (رجحانات)کا پایا جانا ایک لا بدی امر ہے اور پھر اس کے مزاج کو بھی ایک حالت پر قرار نہیں۔ لہٰذا اس کے ہاتھوں مرتب ہونے والے مجموعہ قانون پر لامحالہ اس کے رجحانات کا عکس پڑے گا اور اس کی تلون مزاجی کے سبب قانون بھی تغیر و تبدل کا شاخسانہ بن کے رہ جائے گا۔ جو چیز آج حلال اور مباح ہوگی، کل کو وہی حرام اور ممنوع قرا ردی جائے گی۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو قانون ترتیب ہی اس بنا پر دیا جاتا ہے کہ معاشرہ اور اس کے افراد کو اعلیٰ اخلاقی اقدار پر گامزن کرکے مکمل امن و امان فراہم کیا جائے تاکہ ایک فرد دوسرے پر اور بڑا چھوٹے پر کوئی ظلم اور زیادتی نہ کرسکے، وہ خود بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائے گا اور شخصی و گروہی میلانات کا عکس پڑنے کی وجہ سے عوام کے دلوں سے بھی اس کا احترام جاتا رہے گا اور حالت وہی ہوجائے گی جس کے متعلق کسی شاعر نے کہا ہے :
بڑھتا ہے ذوقِ جرم یہاں ہر سزا کے بعد!

جبکہ اسلامی قانون ایسے تمام نقائص اور عیوب سے پاک ہے جو شخصی و گروہی تعصب ومیلانات اور خواہش پرستی کی بنا پر قانون کو لاحق ہوتے ہیں، کیونکہ یہ اس عادل و منصف ہستی کی طرف سے مقرر کردہ ہے جس سے ایک ذرے کے برابر بھی ظلم سرزد نہیں ہوتا:(إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ...﴿٤٠﴾...سورۃ النساء)''بے شک اللہ ایک ذرّے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔''

اورجس کا فضل تمام لوگوں پر بلا تفریق یکساں وسیع ہے: (وَإِنَّ رَ‌بَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ...﴿٧٣﴾...سورۃ النمل ''بے شک تیرا پروردگار تمام لوگوں پر فضل والا ہے۔''

اور جس کا فیصلہ اور قانون تغیر و تبدل سے پاک ہوا کرتا ہے: (وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًا ﴿٦٢...سورۃ الاحزاب) ''اور تو اللہ کے فیصلے میں ہرگز تبدیلی نہیں پائے گا۔''

یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی تمام ترعصمت کے باوجود اپنی طرف سے قانون بنانے کی اجازت نہیں، قرآنِ مجید کی اس آیت پر غور کیجئے :
إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَ‌ىٰكَ ٱللَّهُ...﴿١٠٥﴾...سورۃ النساء
''یقینا ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے۔''

قوانین وضعیہ کا دامن زمان ومکان ہر دو اعتبار سے تنگ ہوتا ہے، ایک قوم کے لئے بنائے گئے قوانین خود ان کے اپنے واضعین کے بقول دوسرے معاشرے اور زمانے پر منطبق ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کسی خاص گروہ اور علاقے کو پیش نگاہ رکھ کر ہی بنائے جاتے ہیں، لیکن اسلامی قانون، جیسا کہ پیچھے قدرے وضاحت کے ساتھ ذکر کیا جاچکا کہ اس علیم و خبیر ذات کا قانون ہے جس کی تینوں زمانوں ماضی، حال اور مستقبل پر گہری نظر ہے، لہٰذا اس نے اس قانون میں ایسی لچک رکھی ہے کہ جو اس کو تمام زمانوں اور پوری دنیا کے لئے نافذ العمل ہونے کے قابل بناتی ہے۔

انسانی قوانین کے مقابلے میں شرعی قوانین کے محاسن و اوصاف حیطۂ شمار ہی سے باہر ہیں جن کو صحیح طور سے وہی خالق جانتا اور سمجھتا ہے جو ان قوانین کا مقنن اور واضع ہے۔ درحقیقت شریعت کے مقابلے میں دنیا کا کوئی بھی قانون پیش کرنا مخلوق کو خالق کے مقام ومرتبہ پر کھڑا کرنے کی ناپاک جسارت ہے۔ مندرجہ بالاچندایک اوصاف کو ہی دیکھ کر ایک منصف مزاج شخص کے لئے اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ الٰہی قانون ہی حقیقت میں وہ قانون ہے جو معاشرے کو تمام برائیوں سے پاک کرکے اس کو اعلیٰ اخلاقی اقدار سے متصف کرسکتا ہے اور صحیح طور سے اس کی تعمیر و ترقی کے نقوش متعین کرسکتا ہے۔ میں یہاں اسلامی قانون کے محاسن واوصاف کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی قانون پر تبصرہ کے لئے تجدد پسند حضرات کے محبوب مفسر مولانا امین احسن اصلاحی کے الفاظ مستعار لیتا ہوں :
''اسلامی قانون اپنے روزِ اوّل ہی سے انسانی فطرت اور خدا کی دی ہوئی ہدایت پر مبنی ہے۔ اس میں خاندانوں اور قبیلوں کے رجحانات و تعصبات کو کوئی دخل نہیں۔ رسوم و رواج اس میں اگر کوئی دخل رکھتے ہیں تو صرف ایک محدود گوشہ کے اندر رکھتے ہیں اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ وہ خدا اور رسولؐ کی کسی ہدایت کے خلاف نہ ہوں۔ اس کے ماضی اور حاضر میں گہرا رَبط ہے اورمستقبل میں بھی اس کی ترقی کے خطوط بالکل معین ہیں۔ انسانی قانون عدل، مساوات اور رحم انسانیت کی جس منزل پر اب پہنچنے کی آرزو کررہا ہے، اسلامی قانون کا پہلا قدم وہیں سے اُٹھا ہے بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ اگر انسانی قانون اپنی اس معراجِ آرزو کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو جس دن اس کو یہ کامیابی حاصل ہوگی، اُسی دن وہ اسلامی قانون میں تبدیل ہوجائے گا۔''

اسلامی شریعت ؛ پاکستان کا مقدر
مذکورہ بحث میں جس اسلامی قانون کی بات کی گئی ہے، وطن عزیز پاکستان میںاس کے قیام کے لئے ایک ایسی قیادت کے برسراقتدار آنے کی ضرورت ہے جواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون پر پوری طرح مطمئن ہو اور معاشرے کی برائیوں کو اچھائیوں سے بدل دینے کا عزمِ صمیم رکھتی ہو۔ اس کے برعکس جس قیادت کو سرے سے اسلامی قانون پر اعتماد ہی نہ ہو اور ذہنی مرعوبیت کی بنا پر برسرعام اس کی حدود کا مذاق اڑاتے ہوئے اس کی مقرر کردہ سزاؤں کو وحشیانہ قرار دیا جائے؛ ایسے لوگوں سے اس قسم کی نیک توقع رکھنا ہی عبث ہے۔ اس قسم کی قیادت کو تو ویسے ہی اسلامی قانون کے نفاذ میں اپنی موت نظر آتی ہے۔

لیکن ان شاء اللہ العزیز ہمیں یقین ہے کہ اس راہ کا ہر سنگ ِگراں غبار بن کررہے گا اور مخالفتوں کے جو پہاڑ نظر آرہے ہیں، بالآخر سب ریت کے ذرات کی طرح اُڑ جائیں گے کیونکہ اصل میں اسلام ہی ہر زمانے اور ہر جگہ کا قانون ہے۔ لوگ لاکھ اس کوناپسند کریں اسے غالب آکر ہی رہنا ہے۔ بالخصوص جس ملک کی لکیریں ہی اسلام کی بنیاد پر کھینچی گئی ہوں اور جہاں کے رہنے والوں کی اکثریت اسلامی قانون کی متمنی ہو، وہاں کوئی طاقت اس کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتی۔ آخر ربّ العالمین کا وعدہ ہے :
يُرِ‌يدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا نُورَ‌ ٱللَّهِ بِأَفْوَ‌ٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَ‌هُۥ وَلَوْ كَرِ‌هَ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٣٢...سورہ التوبہ
''لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ اپنی روشنی کو مکمل کئے بغیر ماننے والا نہیں۔''

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْ‌سَلَ رَ‌سُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَ‌هُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِ‌هَ ٱلْمُشْرِ‌كُونَ ﴿٣٣...سورہ التوبہ
''وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے، اگرچہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔''


حوالہ جات

1.تفہیم القرآن: سورة الاحزاب، حاشیہ نمبر 66
2. جامع ترمذی:3095
3. ابوداؤد:4324
4. صحیح بخاری:3448، مسلم:155
5. شرح صحیح مسلم للنووی:2؍190
6. تفہیم القرآن: ج4؍ ص155، ضمیمہ سورئہ احزاب