میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

انسانی تاریخ کا یہ دور مغرب (یورپ اور امریکہ) کی برتری، تحکم، تسلط اور حکومت و اِقتدار سے عبارت ہے۔ یہ امر ایک مسلمہ حقیقت ہے اور مستقبل کا مؤرخ جب بھی موجودہ دور کی تاریخ لکھے گا تو وہ بھی یہی رائے دینے پر مجبور ہوگا۔ بالخصوص عالم اسلام بڑی شدت سے اسی صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔ اس منظرنامے کی وجہ جہاں مسلمانوں کی کوتاہی، بدعملی اور نااتفاقی میں پوشیدہ ہے، وہاں مغربی قوتوں کا باہمی اتحاد واشتراک اور غیروں کے لئے ان کی متفقہ حکمت ِعملی اس کی اہم ترین وجہ ہے۔ مغربی اقوام اپنے لائو لشکراور تدبیر وعمل کی تمام صورتوں سمیت عالم اسلام پر چڑھ دوڑی ہیں ، صلاحیتوں کو بامقصد رخ دینے کے لئے اُنہوں نے متعین اہداف اور مشترکہ دشمن کو نیچا دکھانے پر اپنی قوم کی صلاحیتیں کھپا دی ہیں ۔ بظاہر اپنے موقف کو علم واستدلال اور حقائق کا نمائندہ قراردیا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس دعوے کے پس پردہ سوفیصد جبر وتسلط اور قوت کا اُصول کارفرما ہوتاہے۔اس دور کا المیہ اور نوحہ یہ ہے کہ بے خدا قوتوں نے زمینی اور طبعی بنیادوں پر اپنی قوموں کی اس نہج پر تعمیر کر لی ہے، غیروں کو قابو میں کرنے کے وسائل اور تدابیر پر لگاتار محنت کے بعد اُنہوں نے بظاہر ایک جال اس طرح تان دیا ہے کہ اس میں دوسروں کے لئے سانس لینے اور پرمارنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی !

مغرب کا یہ تسلط جہاں بظاہر سائنس اور ظاہری وسائلِ اقتدار پر قبضہ کا نتیجہ ہے، وہاں داخلی طورپر مغربی تہذیب نے ایسے غلط انسانی رویوں کی تسکین سے مدد لی ہے جو خیر و شر میں کشمکش پیدا کرنے کے لئے خالقِ کائنات نے روزِ اوّل سے انسان کی سرشت میں رکھ چھوڑے ہیں ۔ مغرب کی بے خدا تہذیب انسان کے وقتی، ظاہری اور شیطانی مفادات کی تکمیل پر قائم ہے جس کے ذریعے دراصل الہٰیت اور شیطانیت کا معرکہ زوروں پر ہے۔ مغرب کا رویہ اور تمام تر ترقی انسانیت اور کائنات کے حقیقی فطری اُصولوں سے متصادم ہے لیکن عالم الأسباب اور عالم الابتلاء کو متوازن بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جواُصول اس دنیا میں جاری کردیے ہیں ، ان کے گہرے مطالعے اورعمیق مشاہدے کے بعد وہ اُن کا بری طرح استحصال کررہا ہے۔

اِن سطور میں ذکر کردہ ایک ایک دعوے میں مفہوم ومعانی کا ایک جہاں مخفی ہے، لیکن وہ لوگ جنہیں اللہ نے بصیرت دی ہے، وہ اس نقطہ نظر اور تجزیے کے بارے میں تفصیلی شواہد کے محتاج نہیں ۔ اس دور کی تاریخ، قوموں کے رویوں اور رُجحانات اور موجودہ حالات پر ناقدانہ نظر رکھنے والا ہر شخص اِن نتائج تک بآسانی پہنچ سکتا ہے !!

اِن تاثرات کا پس منظر وطن عزیز کے وہ تکلیف دہ حالات ہیں جس کا سامنا ہم بالخصوص سال بھر سے کررہے ہیں ۔پرویز مشرف کے بطورِ صدر منتخب ہوجانے کے مراحل اور انتخاب کے مقاصد پر نظر رکھتے ہوئے اہلیانِ وطن کی بے چارگی کا شدید تکلیف دہ احساس اُبھرتا ہے۔ عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت کے انتہائی حساس معاملات میں جس طرح عالمی سامراج مؤثر دکھائی دیتا ہے، اس سے پوری قوم کی خودی پر ایک ضربِ کاری لگتی ہے۔ اس امر سے مجالِ انکار نہیں کہ غیروں کی یہ بے مہابا دخل اندازی ہماری قومی سیاست کی کمزوری اور اجتماعی کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے، وگرنہ سامراج کو اپنے شدید ترین مخالف ممالک مثلاً چین و ایران یا انڈیا میں من مانے تصرف کے اختیارات سرے سے حاصل نہیں ہیں ۔

پرویز مشرف کے بطورِ جنرل اقتدار کا آخری سال حادثوں ، ہنگاموں ، ہلاکتوں اور بحرانوں کا سال ہے۔ان تمام مراحل میں جو چیز سب سے نمایاں ہے، وہ امریکی مفادات کے لئے دیوانہ وار کوشش اور اس کی حمایت حاصل کرنے کی لگاتار جدوجہد ہے، لیکن اس تمام تر کاوش کے باوجود 'صاحب بہادر' کی عنایتوں سے محرومی ہی ہمارے ریٹائرڈ جنرل کا مقدر ٹھہرتی ہے!

گذشتہ برس کے یہی مہینے حدود قوانین کے خلاف شدید مہم میں صرف ہوئے اور 15؍ نومبر 2006ء کو ایسا قانون پاس کردیا گیا جو اسلام کے بجائے مغربی معاشرت کو تحفظ بلکہ فروغ دینے والا تھا۔ اس کے چند ہی دنوں بعد لال مسجد کے سانحے کا آغاز ہوگیا، قوم پورے 5 ماہ اس صورتحال سے دوچار رہی اور 10 جولائی کی اذیت ناک صبح سے اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک میں ایک نئے دورِ بربریت کا آغاز ہوگیا۔ حدود قوانین اورسانحۂ لال مسجد کے مقاصد بھی 'آقاے ولی نعمت' کی تائید حاصل کرنے کی دیوانہ وار کوشش تھی جس کا تختۂ مشق اسلام اور مسلم عوام کو بننا پڑا۔ اسی دوران ایجنسیوں کی مہربانی سے ہزاروں با عمل مسلمان لاپتہ قراردے دیے گئے جس پر عدالت ِعظمیٰ نے از خود نوٹس لیا۔ اسلام کے نام لیوائوں کو اذیت پہنچانے کی یہ مشقِ ستم سال بھر جاری رہی جس میں وزیر ستان، سوات وغیرہ کے علاقوں میں محبانِ اسلام کو بے دردی سے ہلاکت کا نشانہ بھی بنایا گیا، ان تمام تر ہلاکتوں اور مہم کے پس پردہ بھی سامراج کی عنایتوں کے حصول اور آنکھوں کا تارا بننے کی خواہش موجود تھی۔

جب اللہ کے قوانین اور اللہ کے گھروں (مساجد) کو کھلے عام طنز واستہزا اور تضحیک وتمسخر کا نشانہ بنایا جائے تو آخر کار اللہ کی پکڑ آہی جاتی ہے۔نومبر 2006ء میں بڑی کامیابی سے قانونِ الٰہی کو چیلنج کرنے والا نظام کتنا مضبوط دکھائی دیتا تھا، لیکن وقت نے بتایا کہ 9 مارچ2007ء کا واقعۂ چیف جسٹس اور20 جولائی کا فیصلۂ سپریم کورٹ تو اللہ کی گرفت کے مراحل تھے جن کو 12؍ مئی (کراچی میں سانحۂ ایم کیو ایم) اور 28؍ اکتوبر (کراچی میں بے نظیر کی آمد پر دھماکہ)کے ہلاکت خیز واقعات کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کوششیں اور تدبیریں اُلٹی گلے پڑتی گئیں ۔ لال مسجد کے خون آشام سانحے کے بعد تو فوجی اقتدار سنبھل نہ سکا اور اس کے بعد کا ہر دن ہنگاموں اور بے چینیوں کا شکار نظر آیا۔ بعد میں نواز شریف کی واپسی اور بے نظیر کی آمد کے مراحل، ایمرجنسی کے واقعات اور نت نئے آرڈیننسز کو ذہن میں رکھیں تو یہ سب اپنی گرفت کو مضبوط کرنے اور 'مکافاتِ عمل' سے چھٹکارا پانے کی ناکام کوششیں تھیں لیکن ہر تدبیر اُلٹی پڑتی گئی اور 28؍ نومبر کو جنرل کو اپنے مضبوط اقتدار کی علامت (چھڑی) امریکہ کے ایک اورگریجویٹ جنرل کے ہاتھ میں تھمانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

ہم گذشتہ سال کے واقعات کو دو مختلف تناظر میں دیکھتے ہیں :
ایک اللہ کے نظام کو چیلنج کرنا، اللہ کے گھر کی حرمت وتقدس کو پامال کرنا، اللہ کے دین پر عمل پیراہونے کے خواہش مندوں کو انتہاپسند قرار دے کر سرحدی علاقہ جات میں مسلم فوج کے ذریعے بڑے پیمانے پر ہلاک کرنا۔ ان تینوں مراحل میں امریکہ نوازی اور اس کی خوشنودی یا آنکھوں کا تارا بننے کی خواہش شدت سے کارفرما نظر آتی ہے۔

اس سال کے باقی واقعات مکافاتِ عمل اور قدرت کی طرف سے گرفت کی قبیل سے ہیں ۔ واقعہ ۹ مارچ اس کا نکتہ آغاز بنتا ہے۔10ستمبر کو نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی اور 3 نومبر کی ایمرجنسی اس فطری انجام کو ٹالنے کی دیوانہ وارکاوشیں ہے، 12؍ مئی اور28؍ اکتوبر کے کراچی کے سانحے قوت کے اظہار اور خو ف و دہشت کے سائے پھیلانے کی کوششیں ہیں ۔ لیکن 20؍جولائی کا فیصلۂ سپریم کورٹ اور 28؍ نومبر کو وردی کا خاتمہ اللہ کا کوڑا حرکت میں آنے کی علامتیں اور اس امرکی محکم دلیل ہیں کہ اللہ کی تدبیر غالب ہے لیکن وہ مہلت دیتا ہی رہتا ہے!

ان تمام مراحل میں ایک قدرِ مشترک امریکہ کا حد سے بڑھتا ہوا عمل دخل اورپاکستان کے مستقبل کی منصوبہ بندی میں غیرمعمولی انہماک ومداخلت ہے۔ یہی بنیادی تاثر اس تحریرکا سبب ہے۔ پہلے تناظر کے واقعات تو واضح طورپر امریکہ نوازی کی کوششیں ہیں ، جبکہ دوسرے تناظر میں نواز شریف کی جبری واپسی اوربے نظیر کا والہانہ استقبال عالمی امریکی اثر و رسوخ اور حکمت ِعملی کا منہ بولتا اِظہار ہیں ۔

یاد رہے کہ فی زمانہ کسی قوم پر بیرونی حکمران کا حکومت کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ اس لئے عراق وافغانستان کی ہلاکت خیز جنگوں اور بربادیوں کا واحد حاصل ایسا حکمران ہے جو آئندہ سامراج کے مفادات کے بھرپور تحفظ اور اس کو من مانی کی مکمل ضمانت دے۔ افغانستان میں حامد کرزئی اورعراق میں نور المالکی یہی مفاد پورا کررہے ہیں ۔ پاکستان میں بغیر جنگ کے اگر ایسے ہی مفادات پورے کرنے کی کوئی شکل بن جائے توکتنے بڑے اخراجات کے بغیر اپنے مذموم مقاصد تک بآسانی پہنچنا جاسکتا ہے۔ یہ ہے وہ وجہ جو اس والہانہ امریکی مداخلت وتحکم کا سبب ہے!

ہم ماضی کے اپنے مضامین میں مختلف شواہد کے ذریعے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ صدرمشرف سے بہتر امریکہ کے لئے کوئی موزوں 'وائسرائے' نہیں ہے۔ لیکن صدر مشرف کی بھرپور مالی اِمداد او رتائید وسرپرستی کے باوجود حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ اس قدر بڑھتا گیا، ساتھ ہی اُنہوں نے عدلیہ سے بھی مفت کا اختلاف مو ل لے لیا اور ملک بھر کے قانونی حلقے ان کی مخالفت میں کمربستہ ہوگئے، نئے انتخابات کا وقت بھی سرپر آگیا، عدلیہ سے بے احتیاط معاملت نے جو دراصل ایک داخلی ملکی معاملہ تھا، جنر ل کے لئے ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا، اور اس ایمرجنسی نے جو دراصل آرمی چیف کے لگائے مارشل لا کا ہی دوسرا نام تھا، شدید عالمی رد عمل کے بعد امریکی حکومت کے لئے انتہائی مشکل پیدا کردی کہ وہ اپنے پسندیدہ حکمران کی برملا تائید برقرار رکھ سکے۔یہ ہیں وہ حالات جن میں اسے ایک مزید متبادل ومعاون منتخب کرنے کی اشد ضرورت پیش آتی ہے! i

اب اس امر میں کسی کو کوئی شبہ نہیں رہا کہ ایمرجنسی دراصل پریشان کن قومی حالات کی بجائے ناقابل گرفت پریشان کن ذاتی حالات کا نتیجہ تھی۔ ماضی میں ہمارے حکمران جس طرح اپنی ذات کو عوام کا مصداق قرار دیتے رہے، یہی آزمودہ حکمت ِ عملی اب بھی دہرائی گئی ۔ اس ایمرجنسی کا واحد حاصل صدر مشرف کی معزولی کی بجائے ان کا بطورِ صدر انتخاب ہے۔ ایمر جنسی سے قبل قومی مفاہمتی آرڈیننس کے نام پر قوم کے 95 بلین روپے لوٹنے والے سیاستدانوں کو صرف اس بنا پر آئینی معافی دینے کی ناروا کوشش کی گئی تاکہ آئندہ کے سیاسی سیٹ اپ میں صدر مشرف کے لئے موزوں مقام کی ضمانت حاصل ہوسکے۔ ایمرجنسی کے فور ی بعد امریکی نائب وزیر خارجہ نیگرو پونٹے کا ہنگامی دورہ نئے سیٹ اَپ کی تشکیل کے لئے تھا جس کے بعدعدلیہ سے بطورِ صدرانتخاب قانونی شکل اختیار کرگیا۔سعودی عرب سے نواز شریف کی آمد کو بھی راہ دے دی گئی تاکہ ایک طرف ایمر جنسی کے دبائو کو عالمی سطح پر کم کیا جاسکے اور دوسری طرف درپیش انتخابات میں مسلم لیگ باہم اختلاف کی صورتِ حال میں منتشرووٹ لے کر واضح کامیابی بھی حاصل نہ کرسکے۔ مزید برآں لبرل قوتوں کے درمیان ایک درمیانی حل پر اتفاق کو پروان چڑھایا گیاکہ مستقبل میں مشرف بطورِ صدر برقرار رہیں اور اُنہیں ایسا وزیر اعظم مل جائے جو امریکی مفادات کاتحفظ یقینی بنا سکے۔ یہ موجودہ حالات اور مفاہمت یوں تو صدر مشرف کے لئے کسی طور سازگار نہیں تاہم اس سے امریکہ نوازی کے عالمی ایجنڈے کی تکمیل پر کوئی زد پڑنے کی بجائے اس میں شدید تیزی پیدا ہوگی، کیونکہ پرویز مشرف کا عہدئہ صدارت پر براجمان رہنا ہی 8 سالہ 'امریکی کارناموں ' کے تسلسل کی اطمینان بخش ضمانت ہے!

علاوہ ازیں امریکہ کے پاکستان میں مفادات اَن گنت ہیں ۔ جہاں پاکستان عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف مزاحمت کو کنٹرول میں کرنے کے لئے ایٹمی قوت ہونے کے ناطے ایک بنیادی مہرہ ہے، وہاں افغانستان میں امریکہ کی موجودگی پاکستان ہی کے مرہونِ منت ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے پاکستان میں تعلیمی اور قانونی ومعاشرتی 'اصلاحات' کے لئے بلین ڈالروں کی جو امداد کررکھی ہے، ان کے تسلسل کے ساتھ ان کے ذریعے قوم کو آخر کار ہلاکت وبربادی کی طرف لے جانا بھی ضروری ہے۔ امریکہ کے ساتھ حکومت ِپاکستان کے تزویراتی اشتراک نے آج 8 سال میں پاکستان کو جس قدر غیر مستحکم کردیا ہے، اگر مستقبل میں یہ 'افیر' مزید چلتا رہا تو وہ پاکستان کو خاکم بدہن بے وقعت ہونے اور ٹوٹنے کی منزل تک پہنچا کرہی چھوڑے گا۔ درحقیقت چند بلین ڈالروں کی مدد کے ذریعے اور اپنے اثرورسوخ کو بہتر طورپر استعمال کرکے امریکہ عظیم اور طاقتور ترین اسلامی مملکت کونکیل ڈال کر رکھنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے بغیر ہی وہ تمام تر مقاصد حاصل ہوجائیں ۔ مزید برآں مسلم اُمہ میں اتحاد واشتراک کا کوئی خواب پورا ہونا یا کوئی تحریک پیدا ہونا ہی ممکن نہ ہوسکے کیونکہ مسلم اُمہ پاکستان کے بغیر کوئی بھی عالمی مہم چلانے کی پوزیشن میں قطعاً نہیں ہے اور پاکستان اس کوایک رخ دینے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے!

سوال پیدا ہوتا ہے کہ سال بھر کے اس منظر نامے، حادثات وسانحات کے رونما ہونے اور حکومتوں کے بننے ٹوٹنے میں کہیں ملت ِاسلامیہ یا پاکستان کا ذاتی مفاد بھی موجود ہے یا نہیں ؟ پاکستان جیسے عظیم ملک کے تمام مسئلے امریکی زاویۂ نظر سے آخر کیوں تشکیل پارہے ہیں ؟ امریکی مداخلت اور سرپرستی کا یہ عالم ہے کہ مشرف نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد فوری طور پردسمبر کے پہلے ہفتے میں تین رکنی وفد کو امریکہ بھیج دیا ہے تاکہ ایمرجنسی کی بنا پر پیدا ہونے والی مخالفت کو کم کرکے امریکی لابی کو اپنی حمایت پر برقرار رکھا جاسکے۔

یہ سارا منظر نامہ اہل نظر سے قطعاً مخفی نہیں ہے، اور بہت سے لوگ اس سے کہیں بہتر تجزیہ واستدلال کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں ، لیکن اس مرکزی خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ پاکستان اس وقت شدید سفارتی جنگ کا شکار اور بیرونی مداخلت کا نشانہ ہے۔ ہر اہم واقعے پر امریکی عہدیداروں کی نقل وحرکت اور مراکز ِقوت سے ملاقاتیں ان کے زاویۂ نظر کے مطابق ایک نئے سیٹ اپ کی طرف قدم بڑھا رہی ہوتی ہیں ۔ قومی مفادات اور خود داری پر یہ ایسا بد نما داغ ہے جس کوہر محب ِوطن پاکستانی بری طرح محسوس کرتا ہے!

ان حالات میں پاکستان کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس کی قوت کا مرکز پاکستان کے عوام اور قومی مفادات ہوں ۔ 8 سال کے دورِ اقتدار میں 'اصلاح' کے نام پر ہونے والے اقدامات کا خاتمہ اشد ضروری ہے جن کے تسلسل کے لئے صدر مشرف کی صدارت ہی بنیادی ضمانت ہے، اسی لئے ان کے پاس 58 بی، ٹو کی شکل میں نئی حکومت کو کنٹرول کرنے کے وسیع اختیارات بھی موجود ہیں ۔ اسلام اور وطن دوست قوتوں کا اشتراک وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، وگرنہ اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کے امکانات بظاہر کافی قوی ہیں ۔ سب سے پہلے ۲؍ نومبر والی عدلیہ کی بحالی کے بعد صدر کے متنازعہ انتخاب کا خاتمہ، قوم وملت کی اوّلین ضرورت ہے۔ اس کے بجائے سیاسی منظر نامے اور نشستوں کے جوڑ توڑ میں اُلجھا کر اصل مسئلہ کو پس پشت دھکیلا جارہا ہے۔ اس سیاسی تطہیر کے بعد ہی درست منزل کی طرف آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر مشرف کی صدارت، وطن پسند قوتوں کے اختلاف کے نتیجے میں بے نظیر کی وزارتِ عظمیٰ اور امریکہ کی سرپرستی پاکستان کے حالات کو عراق وافغانستان جیسے حالات سے بغیر جنگ کے ہی دوچار کرنے کا سبب بنے گی۔

اللہ ہمارے سیاستدانوں اور محب ِقوم وملت قوتوں کو ذاتی اور وقتی مفادات سے بالا تر ہو کر اجتماعی اور نظریاتی مفادات کے لئے جمع ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

 


 

i. اس ایمرجنسی کا اہم ترین حاصل جہاں معزولی سے بچ کر عہدہ صدارت پر براجمان ہونا ہے، وہاں یہ ایمرجنسی ٦٠ کے قریب ایسے جج حضرات کی بھی عظیم قربانی ہے جو قومی مفادات کے لئے اپنے ضمیر کا سودا نہ کرپائے۔اس ایمرجنسی نے اس میڈیا کو بھی پابند ِسلاسل کردیا جو عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے میدانِ عمل میں تھا، ایمرجنسی کے یہ دو اہداف : عدلیہ اور میڈیا کی گرفت خالصتاً ذاتی نوعیت کے تھے، جبکہ وہ میڈیا جو فحاشی اور عریانی کا سیلاب لئے آگے بڑھتا چلا آرہا ہے، اس کو روکنے اور اس طرف توجہ کرنے کی توفیق کسی کو نہ مل سکی!