وطنِ عزیز کے حالیہ المناک حالات بلاشبہ بداعمالیوں اور کوتاہیوں کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ جن دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے اپنوں کو بے دردی سے ہلاکت وبربادی کی بھینٹ چڑھایا گیا، آج وہی عراق وافغانستان کی طرح اُسامہ بن لادن کی یہاں موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے ہم پر حملہ کے لئے پر تول رہے ہیں ۔ قوم کے سرکردہ افراد نے بالخصوص کچھ عرصے سے جس طرح اللہ کو ناراض کرنے اور مغربی آقائوں کو خوش کرنے کی روش اپنا رکھی ہے،زیر نظر مضمون میں اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔نئے آلام ومصائب میں ہم اس شرمناک ماضی قریب کو بھی بھولتے جارہے ہیں جب اللہ کے قانون کو چیلنج کرکے ہم نے اپنے اوپر اللہ کی ناراضگی مسلط کر لی تھی۔ خوفناک اندیشے اور مہیب سائے ہمیں اپنے ربّ کی طرف رجوع کی دعوت دیتے ہیں کہ مہلت کے لمحے ابھی باقی ہیں ۔یہ رجوع انفرادی بھی ہے، لیکن اجتماعی سطح پر ندامت، غلطیوں سے توبہ، اللہ سے مغفرت اور اس سے کئے وعدوں کو ایفا کئے بنا کوئی چارہ نہیں ۔ بقولِ شاعر
فطرت افرادسے اِغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف! (ح م)
 


مغرب زدہ اور لادین عناصر کی 27 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر حدود آرڈیننس (1979ء)کا تیاپانچہ کرکے 13؍ نومبر 2006ء کو تحفظ ِنسواں بل قومی اسمبلی اور بعد ازاں سینٹ سے پاس ہوکرصدر ِمملکت کے دستخط کے بعدایکٹ (قانون) کی صورت میں نافذ کردیا گیا۔

اس بل کا پاس ہوجانا اور پھر قانون بن کرنافذ ہوجانا، اُن اسلامیانِ پاکستان کے لئے جو پاکستان کامقصد ِقیام اسلام کانفاذ سمجھتے تھے اوراسی لئے اُنہوں نے جان و مال کی گراں قدر قربانیاں پیش کی تھیں ، ایک عظیم صدمے سے کم نہیں ۔ اس لئے اس پرقرآنِ کریم کے الفاظ میں إنا ﷲ وإنا الیہ راجعون ہی پڑھا جاسکتا اور پڑھا جاناچاہئے۔ قرآن نے کہا ہے :
ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَـٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوٓا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَ‌ٰ‌جِعُونَ ﴿١٥٦...سورة البقرة
''صابر مؤمنین کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ إنا ﷲ ... پڑھتے ہیں ۔''

جمہوریت، اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خطرہ
حدود آرڈیننس تقریباً 27 سال نافذ رہا، لیکن حکومتوں کی بدنیتی، مغرب سے مرعوبیت اور غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے عملاً غیر مؤثر رہا اور کسی ایک شخص کو بھی اس کے تحت صحیح معنوں میں سزا نہیں مل سکی، صرف داروگیر اور قید و بند تک معاملہ رہا اور ججوں سمیت عدالتی اہل کاروں ، وکیلوں اور پولیس کی چاندی رہی اوراس طویل عرصے میں کسی ایک حد کا بھی نفاذ نہیں ہوسکا۔ یہ تاریخ انسانی کا ایک عجوبہ قانون ہے جس کے تحت ابھی تک کسی کوسزا نہیں ملی، حالانکہ چوری کی وارداتیں اتنی کثرت سے ہوتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ اسی طرح زنا کاری کاجرم بھی کثیرالوقوع ہے اور شراب نوشی بھی عام ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے خلاف اتنا شوروغوغابلند رہا، سیکولر گروہ اس کے خلاف مسلسل سرگرم اور متحرک رہے اورمغربی لابیاں اور این جی اوز اس کو ایک چیلنج سمجھتی رہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں جب تک کہ اس کے بالکل برعکس ایک سراسر غیر اسلامی قانون اُنہوں نے منظور نہیں کروا لیا۔

یہ سب مغربی جمہوریت کاشاخسانہ اوراس کی 'برکات' ہیں ۔ مغربی استعمار اور اس کے گماشتے اسلامی ملکوں میں جمہوریت کے نفاذ پر جوزور دیتے ہیں ، اس کا مقصد یہی ہے کہ اس کے ذریعے سے اسلامی ملکوں اور اسلامی معاشروں کو ان کی اسلامی خصوصیات اور اسلامی تہذیب واقدار سے دور کردیا جائے۔ یہ مقصد جمہوریت ہی سے حاصل ہوسکتاہے، کیونکہ جمہوریت ہی میں آزادئ رائے کی مکمل اجازت ہے اور اس اجازت کامطلب یہی ہے کہ ہرشخص کو اپنی رائے کے اظہار اور اس کی طرف لوگوں کوبلانے کاحق حاصل ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ نظریہ یا رائے اسلام کے خلاف ہے یا اس کے مطابق؟ علاوہ ازیں اسمبلیاں مطلقاً قانون سازی کا حق رکھتی ہیں ، اس کے ممبر عوام کے منتخب نمائندے ہیں ، وہ اکثریتی رائے سے جو چاہیں قانون بنا سکتے اور نافذ کرسکتے ہیں ، ان کواللہ اور رسول کی رائے اوران کی باتوں کاپابند نہیں کیا جا سکتا۔

مغربی جمہوریت کی انہی دو کمزوریوں یا بقول اُن کے دو'خوبیوں ' سے مذکورہ عناصر نے فائدہ اُٹھایا۔ پہلے ۲۷ سالہ یکطرفہ جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے یہ باور کرایاگیا کہ حدود آرڈیننس کی وجہ سے عورت پربڑا ظلم ہورہاہے، اس لئے اس کو ختم کرکے عورت کی دادرسی کا اہتمام ضروری ہے۔دوسرے نمبر پرقومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے بل پرمتنازعہ اور خلافِ اسلام بل پاس کروالیا۔

یہ اُن حضرات کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو کہتے ہیں کہ جمہوری نظام اسلام کے خلاف نہیں ہے بلکہ اسلام کے مطابق ہے، جس طرح پہلے سوشلسٹ اور کمیونسٹ کہتے تھے کہ سوشلزم عین اسلام ہے، اس میں کوئی بات خلافِ اسلام نہیں ۔ حالات اور واقعات نے ثابت کردیا کہ جس طرح سوشلزم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، اسی طرح جمہوریت بھی سراسر غیر اسلامی نظام ہے اور اس کے ذریعے سے کبھی اسلام نہیں آسکتا؛ ہاں ! اسلام سے دُوری ضرور پیدا ہوسکتی ہے۔ دیکھ لیجئے، قومی اسمبلی اور سینٹ میں اسلامی ذہن رکھنے والے حضرات ایک معقول تعداد میں موجود ہیں ،لیکن وہ زیر بحث بل کو رکوانے میں ناکام رہے اور خدانخواستہ یہ قانون اگر چند سال نافذ رہ گیاتو اسلام کے تصورِ عفت وحیا کی دھجیاں بکھر جائیں گی اور حیاباختگی کا وہ طوفان آئے گا کہ جس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ لا قدّره  اﷲ

قانون کا نام 'تحفظ ِنسواں 'کیوں ؟
اس قانون کو 'تحفظ ِنسواں 'کا نام دیاگیاہے۔حالانکہ اس قانون کا تعلق زنا اور قذف کی سزاؤں سے ہے جس میں مردوں کی طرح عورتیں بھی ملوث ہوسکتی ہیں ۔ مردوں کی طرح عورتیں بھی ورغلا کر مردوں کو زناکاری پر آمادہ یا مجبور کرسکتی ہیں جیسے قرآن مجید میں امرأة العزیزاور حضرت یوسف ؑکا واقعہ اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اسی طرح زنا کی جھوٹی تہمت بھی مردوں کی طرح عورت بھی لگا سکتی ہے بلکہ عام مشاہدہ تو یہ ہے کہ عورتیں دوسری عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے میں بڑی بے باک ہوتی ہیں ۔ جب واقعہ یہ ہے کہ زنا اور قذف (زنا کی جھوٹی تہمت) کا ارتکاب مردوں کی طرح عورتوں سے بھی ہو سکتا ہے اورہوتا بھی ہے تو پھر اسے تحفظ ِنسواں کا نام کس طرح دیا جاسکتاہے؟ کیا دنیامیں کوئی قانون ایسا بھی ہے جسے 'تحفظ ِمرداں ' یا 'تحفظ ِحقوقِ مرداں ' کے نام سے موسوم کیا جاتاہو۔ تنظیمیں اور وزارتیں تو مخصوص اَغراض ومقاصد کے لئے بنتی ہیں ، تو ان کے نام بھی ان کے مخصوص اغراض و مقاصد کے مطابق رکھ لئے جاتے ہیں ۔ اگر حکومت بھی ایک پرائیویٹ تنظیم یا اس کا تعلق کسی ایک وزارت سے ہے، تو وہ صرف حقوقِ نسواں کے تحفظ کو اپنا مقصد ِ وحید قرار دے سکتی ہے، لیکن اگر حکومت کا مقصد تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت تو پھر حکومت کے فرائض میں مردوعورت دونوں کے حقوق کا تحفظ، یکساں طور پر داخل ہے۔وہ کسی ایک صنف کو نظر انداز کرکے دوسری صنف ہی کواپنا مطمح نظر قرار نہیں دے سکتی۔ بالخصوص ایسے معاملات مں جن میں دونوں صنفیں برابر کے حقوق رکھتی ہوں ،کسی ایسے جرم کے ارتکاب کی سزا کے لئے قانون بنایا جائے جس کا ارتکاب مرد اور عورت دونوں میں سے کوئی بھی کرسکتا ہے تو اس قانون کا نام ایسا تجویز کیا جائے گا جو اس جرم کے انسداد اور اس کی سزا کا مظہر ہو، نہ کہ کسی ایک صنف کے نام پر اسے موسوم کردیاجائے گا۔ مثلاً، رشوت کے انسداد اور اس کی سزا کے لئے کوئی قانون بنایا جائے تو کیااس کا نام تحفظ حقوقِ مرداں یا نسواں یا تحفظ ِعوام رکھا جاسکتاہے؟ قانون تو سب کے لئے یکساں ہوتاہے، جو بھی اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا، مرد ہویا عورت؛ اس کا مؤاخذہ و احتساب ہوگا، اس کو قانون کی گرفت میں لایاجائے گا، اس قانون کو کسی ایک صنف کے حقوق کے تحفظ کا مظہر کیونکرقرار دیا جاسکتا ہے؟

بنابریں زیربحث قانون جس کا تعلق زنااور قذف کے جرم سے ہے، اس کا نام 'خواتین ایکٹ 'یا'تحفظ ِنسواں 'رکھنا ہی بنیادی طور پر غلط ہے اور اس صنفی امتیاز کامظہر ہے جس کو ختم کرنے کا حکومت مسلسل اعلان اور دعویٰ کرتی آ رہی ہے۔

'تحفظ ِنسواں ' نام کاپس منظر ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے!
واقعہ یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب نام بھی ایک پس منظر رکھتا ہے اور وہ یہ کہ سیکولر عناصر، مغرب زدہ حضرات اور بیرونی استعمار کی پروردہ اورایجنٹ این جی اوز مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتی چلی آرہی ہیں کہ حدودآرڈیننس کی وجہ سے عورتوں پر بڑا ظلم ہورہاہے، جو عورت بھی آکر یہ فریاد کرتی ہے کہ اس کی عصمت دری کی گئی ہے تو اس سے اپنے دعویٰ کی سچائی کے لیے چار عینی گواہوں کا مطالبہ کیاجاتاہے،جن کا پیش کرنا ناممکن ہے ۔نتیجتاً خود اس عورت کو الزامِ زنا میں دھر لیا جاتاہے اوراس کو حوالۂ زنداں کردیاجاتاہے۔یہ پروپیگنڈہ یکسر خلافِ واقعہ ہے۔ اس کی وضاحت مولاناتقی عثمانی (سابق جج وفاقی شرعی عدالت و شریعت اپیلیٹ بنچ) نے خود اپنے ایک مضمون میں کی ہے جو کم وبیش ۲۰،۲۱ سال ان مقدمات کی سماعت کرتے رہے ہیں ، ان سے زیادہ واقف ِحال کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ اُنہوں نے اس پروپیگنڈے کے غبارے کی ساری ہوا نکال دی ہے، ان کے مضمون سے متعلقہ اقتباس ملاحظہ ہو۔ تحریر فرماتے ہیں :
''قرآنِ کریم، سنت ِنبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاے راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبے کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضامندی کی صورت لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے اوریہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن و سنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے، وہ صرف رضا مندی کی صورت میں لاگوہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ پھرکس وجہ سے زنابالجبر کی شرعی سزا کو ختم کرنے پر اتنا اصرار کیاگیا ہے؟ اس کی وجہ دراصل ایک انتہائی غیر منصفانہ پروپیگنڈا ہے جو حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت سے بعض حلقے کرتے چلے آرہے ہیں ، پروپیگنڈا یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے تحت اگر کوئی مظلوم عورت کسی مرد کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرائے تو اس سے مطالبہ کیاجاتا ہے کہ وہ زنا بالجبر پر چارگواہ پیش کرے، اور جب وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکتی تو اُلٹا اسی کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو عرصۂ دراز سے بے تکان دہرائی جارہی ہے، اور اس شدت کے ساتھ دہرائی جارہی ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اسے سچ سمجھنے لگے ہیں ، اور یہی وہ بات ہے جسے صدرِ مملکت نے بھی اپنی نشری تقریر میں اس بل کی واحد وجہ ِجواز کے طور پرپیش کیا ہے۔

جب کوئی بات پروپیگنڈے کے زور پرگلی گلی اتنی مشہور کردی جائے کہ وہ بچے بچے کی زبان پر ہو تو اس کے خلاف کوئی بات کہنے والا عام نظروں میں دیوانہ معلوم ہوتاہے، لیکن جو حضرات انصاف کے ساتھ مسائل کا جائزہ لینا چاہتے ہیں ، میں اُنہیں دل سوزی کے ساتھ دعوت دیتاہوں کہ وہ براہِ کرام پروپیگنڈے سے ہٹ کر میری آئندہ معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ میں خود پہلے وفاقی شرعی عدالت کے جج کی حیثیت سے اور پھر سترہ سال تک سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ کے رکن کی حیثیت سے حدود آرڈیننس کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی براہِ راست سماعت کرتا رہاہوں ۔اتنے طویل عرصے میں میرے علم میں کوئی ایک مقدمہ بھی ایسا نہیں آیا جس میں زنا بالجبر کی کسی مظلومہ کو اس بنا پر سزا دی گئی ہو کہ وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکی، اور حدود آرڈیننس کے تحت ایسا ہونا ممکن بھی نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے تحت چار گواہوں یا ملزم کے اقرار کی شرط صرف زنا بالجبر موجب ِحد کے لئے تھی،لیکن اسی کے ساتھ دفعہ 10 (3) زنا بالجبر موجب ِتعزیر کے لئے رکھی گئی تھی جس میں چار گواہوں کی شرط نہیں تھی، بلکہ اس میں جرم کا ثبوت کسی ایک گواہ، طبی معائنے اور کیمیاوی تجزیہ کار کی رپورٹ سے بھی ہوجاتا تھا۔ چنانچہ زنا بالجبر کے بیشتر مجرم اسی دفعہ کے تحت ہمیشہ سزا یاب ہوتے رہے ہیں ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو مظلومہ چارگواہ نہیں لاسکی، اگر اُسے کبھی سزا دی گئی ہو تو حدود آرڈیننس کی کون سی دفعہ کے تحت دی گئی ہوگی؟اگر یہ کہا جائے کہ اُسے قذف (یعنی زنا کی جھوٹی تہمت لگانے) پرسزا دی گئی تو قذف آرڈیننس کی دفعہ 3 کے استثنا نمبر3 میں صاف صاف یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ جو شخص قانونی اتھارٹیز کے پاس زنا بالجبر کی شکایت لے کر جائے اُسے صرف اس بنا پر قذف میں بھی سزا نہیں دی جاسکتی کہ وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکا؍کرسکی۔ کوئی عدالت ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ایسی عورت کو سزادے ہی نہیں سکتی، دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اُسی عورت کو رضا مندی سے زنا کرنے کی سزا دی جائے، لیکن اگر کسی عدالت نے ایسا کیا ہو تو اس کی یہ وجہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خاتون چار گواہ نہیں لاسکی، بلکہ واحد ممکن وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عدالت شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ عورت کا جبر کا دعویٰ جھوٹا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت کسی مرد پر یہ الزام عائد کرے کہ اس نے زبردستی اس کے ساتھ زنا کیاہے، اور بعد میں شہادتوں سے ثابت ہو کہ اس کا جبر کا دعویٰ جھوٹا ہے، اور وہ رضا مندی کے ساتھ اس عمل میں شریک ہوئی تو اسے سزا یاب کرنا انصاف کے کسی تقاضے کے خلاف نہیں ہے، لیکن چونکہ عورت کو یقینی طور پر جھوٹا قرار دینے کے لئے کافی ثبوت عموماً موجود نہیں ہوتا، اس لئے ایسی مثالیں بھی اِکادُکا ہیں ، ورنہ99 فیصد مقدمات میں یہ ہوتا ہے کہ اگرچہ عدالت کو اس بات پراطمینان نہیں ہوتا کہ مرد کی طرف سے جبر ہوا ہے، لیکن چونکہ عورت کی رضامندی کا کافی ثبو ت بھی موجود نہیں ہوتا، اس لئے ایسی صورت میں بھی عورت کو شک کا فائدہ دے کرچھوڑ دیا جاتاہے۔

حدود آرڈیننس کے تحت پچھلے 27 سال میں جو مقدمات ہوئے ہیں ، ان کا جائزہ لے کر اس بات کی تصدیق آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ میرے علاوہ جن جج صاحبان نے یہ مقدمات سنے ہیں اُن سب کا تاثر بھی میں نے ہمیشہ یہی پایا کہ اس قسم کے مقدمات میں جہاں عورت کا کردار مشکوک ہو، تب بھی عورتوں کو سزا نہیں ہوتی، صرف مرد کو سزا ہوتی ہے۔

چونکہ حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت ہی سے یہ شور بکثرت مچتا رہاہے کہ اس کے ذریعے بے گناہ عورتوں کو سزا ہورہی ہے، اس لئے ایک امریکی سکالر چارلس کینیڈی یہ شور سن کر ان مقدمات کا سروے کرنے کے لئے پاکستان آیا، اس نے حدود آرڈیننس کے مقدمات کا جائزہ لے کر اعداد وشمار جمع کئے اور اپنی تحقیق کے نتائج ایک رپورٹ میں پیش کئے جو شائع ہوچکی ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج بھی مذکور بالا حقائق کے عین مطابق ہیں ۔ لکھتا ہے:

"Women fearing conviction under section 1((2) frequently bring charges of rape under 1((3) against their alleged partners. The FSC finding no circumstantial evidence to support the latter charge, convict the male accused under section 1((2) the women is exonerated of any wrong doing due to reasonable doubt, rule." (Charles Kennedy: the status of women in Pakistan in Islamization of Laws. p74)

''جن عورتوں کو دفعہ 10 (2) کے تحت (زنابالرضا کے جرم میں ) سزا یاب ہونے کا اندیشہ ہوتاہے، وہ اپنے مبینہ شریک ِجرم کے خلاف دفعہ 10 (3) کے تحت (زنا بالجبر کا )الزام لے کر آجاتی ہیں ۔ فیڈرل شریعت کورٹ کو چونکہ کوئی ایسی قرائنی شہادت نہیں ملتی جو زنا بالجبر کے الزام کو ثابت کرسکے، اس لئے وہ مرد ملزم کو دفعہ10 (2) کے تحت (زنا بالرضا) کی سزا دے دیتا ہے... اور عورت 'شک کے فائدے' والے قاعدے کی بنا پر اپنی ہر غلط کاری کی سزا سے چھوٹ جاتی ہے۔''

یہ ایک غیر جانبدار غیر مسلم اسکالر کامشاہدہ ہے جسے حدودآرڈیننس سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، اور ان عورتوں سے متعلق ہے جنہوں نے بظاہر حالات رضامندی سے غلط کاری کا ارتکاب کیا، اور گھر والوں کے دباؤ میں آکر اپنے آشنا کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرایا، اُن سے چار گواہوں کانہیں ، قرائنی شہادت (Circumstantial evidence)کا مطالبہ کیا گیا، اور وہ قرائنی شہادت بھی ایسی پیش نہ کرسکیں جس سے جبر کا عنصر ثابت ہوسکے۔ اس کے باوجود سزا صرف مرد کو ہوئی، اور شک کے فائدے کی وجہ سے اس صورت میں بھی ان کو کوئی سزا نہیں ہوئی۔ لہٰذا واقعہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی رُو سے زنا بالجبر کا شکارہونے والی عورت کو چار گواہ پیش نہ کرنے کی بناپر اُلٹا سزایاب کیاجاسکے۔

البتہ یہ ممکن ہے اور شاید چند واقعات میں ایسا ہوا بھی ہو کہ مقدمے کے عدالت تک پہنچنے سے پہلے تفتیش کے مرحلے میں پولیس نے قانون کے خلاف کسی عورت کے ساتھ یہ زیادتی کی ہو کہ وہ زنا بالجبر کی شکایت لے کر آئی ہو، لیکن اُنہوں نے اسے زنا بالرضا میں گرفتار کرلیاہو۔ لیکن اس زیادتی کا حدود آرڈیننس کی کسی خامی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس قسم کی زیادتیاں ہمارے ملک کی پولیس ہر قانون کی تنفیذ میں کرتی رہتی ہے، اس وجہ سے قانون کو نہیں بدلا جاسکتا، ہیروئن رکھنا قانوناً جرم ہے، مگر پولیس کتنے بے گناہوں کے سر ہیروئن ڈال کر اُنہیں تنگ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ ہیروئن کی ممانعت کاقانون ہی ختم کردیا جائے۔

زنابالجبر کی مظلوم عورتوں کے ساتھ اگر پولیس نے بعض صورتوں میں ایسی زیادتی کی بھی ہے تو فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اس کا راستہ بند کیاہے، اور اگر بالفرض اب بھی ایسا کوئی خطرہ موجود ہو تو ایسا قانون بنایا جاسکتا ہے جس کی رُو سے یہ طے کردیاجائے کہ زنا بالجبر کی مستغیث کو مقدمے کا آخری فیصلہ ہونے تک حدودآرڈیننس کی کسی بھی دفعہ کے تحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا اورجو شخص ایسی مظلومہ کو گرفتار کرے، اسے قرارِ واقعی سزا دینے کا قانون بھی بنایاجاسکتا ہے، لیکن اس کی بنا پر 'زنا بالجبر' کی حد ِشرعی کوختم کردینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لہٰذا زیر نظر بل میں زنا بالجبر کی حد شرعی کو جس طرح بالکلیہ ختم کردیا گیاہے، وہ قرآن و سنت کے واضح طور پر خلاف ہے، اور اس کاخواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔''1

اسلامی تعلیمات ہی عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرسکتی ہیں !
بات تحفظ ِنسواں کی آگئی ہے تو آگے چلنے سے پہلے یہ وضاحت کردینی بھی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ خواتین کا تحفظ اگر ہوسکتا ہے تو صرف اور صرف اسلامی قوانین اور اسلامی تعلیمات پرعمل درآمد ہی سے ہوسکتا ہے، ان سے گریز اور اعراض کرکے ان کے تحفظ کا دعویٰ ع


ایں خیال است و محال است و جنوں است


ہی کے ضمن میں آتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کاتصور ِ عفت وحیا اتنا بلند ہے کہ دوسرے مذاہب و نظریات اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ 'خواتین ایکٹ 'میں یہی ظلم کیاگیا ہے کہ حدود آرڈیننس کی تمام اسلامی دفعات کا خاتمہ کرکے جو عورت کے تحفظ کی ضامن تھیں ، نئی دفعات تجویز کی گئی ہیں جن سے عورت کی مٹی پلید ہوئی ہے، اور ان کی آوارگی کا راستہ بھی آسان ہوجائے گا۔ اگر عورت کے تحفظ کا مطلب یہی ہے کہ آوارہ منش، شیطان صفت لوگوں اور ہوس کاروں کو عورت کی عفت وعصمت سے کھیلنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع مہیا کئے جائیں ، اس راستے کی رکاوٹوں کو دور کردیا جائے اور ارتکابِ فواحش کی سہولتیں عام کردی جائیں ، تو بلاشبہ اس 'خواتین ایکٹ' میں مذکورہ باتوں کا قانونی تحفظ فراہم کردیا گیاہے۔ خدانخواستہ یہ ایکٹ چند سال نافذ رہا تو دیکھ لیجئے گا کہ مغربی معاشروں میں حیاباختگی کے جو مناظر عام ہیں ، برسرِعام بوس و کنار کی جو حیا سوز صورتیں وہاں دعوتِ نظارہ دیتی ہیں اور شراب و شاہد کی ایمان شکن فتنہ انگیزیاں لوگوں کے دلوں کو لبھاتی اور گرماتی ہیں ۔یہ اخلاق سوز، ایمان شکن اور رہزنِ تمکین و ہوش مناظر یہاں بھی عام ہوں گے اور اہل ایمان ع
ٹُک ٹُک دیدم، دم نہ کشیدم
کے مصداق مہر بہ لب رہنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ 'خواتین ایکٹ' ان کی پشت پر ہوگا۔

'قانونِ الٰہی سے گریز و انحراف' سراسر تباہی کا راستہ ہے!
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ انسان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اس لئے صرف اللہ تعالیٰ ہی انسانی وجود کے اندر کارفرما مشینری کی پوری حقیقت کو جانتا ہے، اس کے علاوہ کسی کو اس کا پورا علم ہے، اور نہ ہوسکتا ہے۔ بنابریں یہ مشینری اسی وقت تک صحیح کام کرے گی جب اسے اس کے بنانے والے کی ہدایات کے مطابق استعمال کیا جائے گا اورجب بھی ان ہدایات سے انحراف کیا جائے گا، یہ مشینری انسانی معاشرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔اس مشینری کے خالق نے یہ روایات آسمانی صحیفوں اور اپنے نمائندہ رسولوں کے ذریعے سے عام انسانوں تک پہنچا دی ہیں ۔اسی لئے اس نے قرآنِ مجید کے ایک ہی مقام پرمتعدد مرتبہ یہ فرمایا:
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٤٤...فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿٤٥...فأولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ﴿٤٧...سورة المائدہ
''جو اللہ کی نازل کردہ باتوں کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے، وہ کافر ، ظالم اور فاسق ہیں ۔''

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایات سے انحراف کرنے والوں کے لئے اتنی سخت وعید کیوں ؟ اس لئے کہ انسانی مشینری کو غلط طریقے سے استعمال کرنے سے انسانوں کوفائدے کے بجائے سخت نقصان ہو گا، معاشرے میں امن و سکون قائم نہیں ہوسکے گا، انسان آرام و راحت کی نیند نہیں سو سکیں گے، انسانوں کے جان و مال اورعزت و آبرو کاتحفظ نہیں ہوسکے گا۔ بالخصوص جرائم کا قلع قمع اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی حدود کوقائم اور نافذ کئے بغیر ممکن ہی نہیں اور جرائم کی کثرت ہی انسانوں کے امن و سکون کو غارت کرتی ہے۔

دو معاشرے، دو مثالیں
آج اس گئے گزرے دور میں بھی اس بات کوسمجھنے کے لئے دو مثالیں موجود ہیں ۔ ایک مثال اس معاشرے کی ہے جہاں بہت حد تک اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی اسلامی سزائیں (حدیں ) قائم و نافذ ہیں اور دوسری مثال ان معاشروں کی ہیں جہاں حدودِ الٰہی نافذ نہیں ہیں ۔ پہلی مثال سعودی معاشرے کی ہے جہاں اسلامی حدود کی برکات کا یہ نتیجہ ہے کہ وہاں جرائم برائے نام ہیں ، لوگ نہایت امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں ، کسی کو جان و مال یا عزت و آبرو کی پامالی کاخطرہ نہیں ہے۔ دوسری قسم کے معاشرے مغربی یا ان کی نقالی میں اسلامی حدود سے گریز کرنے والے مسلم ممالک کے معاشرے ہیں جہاں امن و سکون عنقا ہیں ؛ کسی امیر، غریب کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے:
إِنَّ فِى ذَ‌ٰلِكَ لَذِكْرَ‌ىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴿٣٧...سورة ق
'' بلا شبہ اس میں اس شخص کے لئے نصیحت ہے جس کا دل ہے یا وہ(دل ودماغ کی) حاضری کے ساتھ کان لگائے (اور توجہ سے سنے)''

اسلامی سزائیں انسان کی پانچ اہم اشیا کی حفاظت کی ضامن ہیں !
علما نے لکھا ہے کہ انسان کی پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کی حفاظت نہایت ضروری ہے اور وہ ہیں :

  1. دین و ایمان یا عقیدہ
  2. عقل
  3. جان
  4. مال
  5. عزت و آبرو


اسلامی حدیں بشرطیکہ اُنہیں خلوصِ دل سے نافذ کیاجائے، مذکورہ پانچوں چیزوں کی حفاظت کی ضامن ہیں ، فقہا کی اصطلاح میں انہیں مقاصد شریعت کہا جاتا ہے :
دین و ایمان یاعقیدے کے تحفظ کے لئے ارتداد کی سزا یاحد قتل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (من بدّل دینہ فاقتلوہ)2
''جو دین اسلام سے پھر جائے، اسے قتل کردو۔''

یہ سزاے قتل، ایک مسلمان کے دین و ایمان کے تحفظ کے لئے ہے۔

شراب نوشی پر کوڑوں کی سزا یا حد ہے۔ اس کا مقصد عقل کا تحفظ ہے اور اسی شراب میں ہر نشہ آور مشروب یا چیز شامل ہے، کیونکہ شراب کی طرح ہرنشہ آور چیز انسانی عقل کو ماؤف اور مختل کردیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَو‌ٰةٌ يَـٰٓأُولِى ٱلْأَلْبَـٰبِ...﴿١٧٩﴾...سورة البقرة
''اے اصحابِ دانش! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے۔''

یعنی اگر کوئی کسی کو ناجائز قتل کردے تو بدلے میں اس قاتل کو بھی قتل کردیا جائے، اسی کا نام 'قصاص' ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو انسانی زندگیوں کے لئے ضمانت قراردے رہا ہے اور یہ سو فیصد سچ ہے، اس لئے کہ اگر مجرم کویہ پتہ ہوکہ میں نے کسی کو قتل کیا تو مجھے بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے تو یہ خوف مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کے لئے بڑا اہم اور نہایت کارگر ہے۔ جس معاشرے میں یہ قانونِ قصاص صحیح معنوں میں نافذ ہو، وہ معاشرہ قتل وغارت گری کی وباے عام سے محفوظ ہوجاتاہے، یوں گویاقصاص جان کی حفاظت کا ضامن ہے۔

چوری اور ڈکیتی کی اسلامی سزائیں مال کی حفاظت کی ضامن ہیں ۔
اسی طرح عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے (جوایک ایماندار اور غیرت مند معاشرے میں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے) زنا اور تہمت ِزنا (قذف) کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں ۔ اس سے معلوم ہواکہ اسلامی سزاؤں کے نفاذ کے بغیر دنیا میں کہیں بھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

اسلامی سزائیں ہی گناہ کاکفارہ ہیں ، دوسری سزائیں نہیں
یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ ایک مؤمن کے نزدیک آخرت کی زندگی، دنیوی زندگی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا تو عارضی، فانی اور چند روزہ ہے جبکہ آخرت کی زندگی غیر فانی اور دائمی ہے۔ وہ دنیا کی چند روزہ عارضی زندگی کی خاطر آخرت کی دائمی زندگی کو خراب کرناپسند نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ماعز ؓبن مالک سے جب زنا جیسے گناہ کا صدور ہوگیا تو از خود بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر بہ اصرار سزا کے ذریعے سے پاک ہونے کا اظہار فرمایا۔ اسی طرح غامدیہ عورت نے بھی آکر خود ہی اعتراف زنا کیا۔ رسالت ِمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کی وجہ سے اسے واپس فرمادیا تو بچہ جننے کے بعد پھر سزا کے لئے حاضر ہوئی، آپؐ نے اسے پھر واپس کردیا تاکہ ابھی وہ بچے کو دودھ پلائے، جب تیسری مرتبہ حاضر ہوئی تو بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا پکڑا کر لائی تاکہ اس دفعہ آپ اسے سزا دیئے بغیر واپس نہ کریں ۔چنانچہ آپ نے اسے سنگسار کروا دیا۔

از خود جرم کا اقرار کرکے سزا کے لئے اتنی بے قراری کا اظہار یوں ہی بلا مقصد نہیں تھا، نہ کسی دماغی خلل اور فتور کا نتیجہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے عقیدئہ آخرت کار فرماتھا، اُنہیں یہی فکر تھی کہ کہیں ہماری آخرت برباد نہ ہوجائے۔دنیا کی یہ سزا (سنگساری) بھی اگرچہ بڑی سخت ہے لیکن آخرت کی سزا کے مقابلے میں کچھ نہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے جو سزائیں مقرر کی ہیں ، وہ ان گناہوں کا کفارہ ہیں جن کی وہ سزائیں ہیں ۔ ان سزاؤں کے بعد انسان اس گناہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ ان سزاؤں کو خوش دلی سے قبول اور گوارا کرلینا، ایسی سچی اور خالص توبہ ہے کہ اسے اگر ایک پوری بستی پر تقسیم کردیاجائے تو سب کی مغفرت کے لئے کافی ہوجائے۔ مذکورہ صحابی اور صحابیہ کا بجا طور پر یہی عقیدہ تھاکہ اگر دنیاکی یہ سزا ہم گوارا کرلیں گے تو آخرت کی سزا سے ہم محفوظ ہوجائیں گے۔ رضي اﷲعنهم  وأرضاھم

علاوہ ازیں اللہ کی کسی حد کا زمین پر نافذ کرنا اہل زمین کے لئے چالیس دن کی بارش سے زیادہ خیر وبرکت کا باعث ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے
(إقامة حد بأرض خیر لأھلھا من مطر أربعین لیلة)3
اس کا مطلب یہ ہوا کہ حدود ہی وہ بابرکت سزائیں ہیں جن سے انسان پاک بھی ہوجاتا ہے اور اُخروی زندگی میں اُس گناہ کے عذاب سے محفوظ بھی ہوجاتا ہے اور اس کا نفاذ دنیوی خیروبرکت کا باعث بھی ہے، لیکن اگر ان حدود کودوسری سزاؤں میں بدل دیاجائے تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ سزا پانے والا دنیوی عدالت میں تو سرخرو ہوجائے گا ،لیکن آخرت کی اصل عدالت میں وہ بدستور مجرم ہی رہے گا۔ علاوہ ازیں دنیوی خیروبرکت سے بھی اس علاقے کے لوگ محروم رہیں گے۔ اب زنا اور قذف کی اصلی سزائیں جو اللہ نے مقرر کی ہیں ،بدلنے والے سوچ لیں کہ وہ ان میں تخفیف کرکے مجرموں اور اہل زمین پر احسان کررہے ہیں یا ان پر ظلم کررہے ہیں ؟ ظاہر بات ہے کہ یہ سراسر اُن پر ظلم ہے کہ دنیوی سزابھگتنے کے باوجود بارگاہِ الٰہی میں وہ مجرم کے مجرم اور روسیاہ ہی رہیں گے اورپورے کا پورا ملک دنیوی خیروبرکت سے بھی محروم رہے گا۔

'خواتین ایکٹ' کے اصل اغراض ومقاصد
علاوہ ازیں سزاؤں میں تخفیف سے جرائم کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ہمارے خیال میں 'خواتین ایکٹ' سے اصل مقصود یہی ہے۔ ہمارے صدر صاحب اوّل روز سے جس 'روشن خیالی' کا اظہار کررہے ہیں ، زیربحث قانون بھی ان کی اسی 'روشن خیالی' کا ایک مظہر ہے۔ اس ترمیمی قانون کے ذریعے سے مغرب اسلامی ملکوں میں جو کچھ کرناچاہتا ہے، اس کی طرف کافی پیش رفت ہوچکی ہے اور وہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟

مغربی تہذیب اور اس کے فلسفے کے مطابق وہ چاہتا ہے کہ مغربی ملکوں کی طرح

  • اسلامی ممالک میں بھی اخلاقی جرائم عام ہوں ۔
  • زنا کاری کی سہولتیں عام ہوں ۔
  • خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے جو ابھی تک بہت حد تک محفوظ ہے۔
  • یہاں بھی بن بیاہی (کنواری) ماؤں کا طوفان آجائے۔


اسلامی ملکوں کے مغربی آقا، تہذیبی میدان میں اپنے مشرقی شاگردوں اور ایجنٹوں کے ذریعے سے مذکورہ چاروں مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اورلمحہ فکریہ یہ ہے کہ زیر بحث قانون میں ایسی ماہرانہ چابک دستی سے کام لیا گیاہے کہ اس ایک تیر سے دو نہیں ، چار شکار ہوں گے یعنی چاروں مقاصد حاصل کرنے کا بندوبست کرلیاگیاہے۔ وہ کس طرح؟

اس کی تفصیل حسب ِذیل ہے :
اخلاقی جرائم کی کثرت اور مجرمین کی حوصلہ افزائی:اخلاقی جرائم اس طرح عام ہوں گے کہ اللہ کا خوف تو ویسے ہی تقریباً مفقود ہے جو جرائم کی حوصلہ شکنی میں سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ معاشرے کی ذلت و رسوائی کا خوف کنڈوم اور اس طرح کی دیگر مانع حمل ادویات نے ختم کردیا ہے جو بدکاری کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ ہے۔ تیسرے نمبر پرسخت سزاؤں کاخوف ہے جو مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کو جرائم سے باز رکھتا ہے۔ حدود آرڈیننس اگرچہ عملی طور پر غیر مؤثر تھا، لیکن اس میں درج سخت سزاؤں (کوڑے اور سنگساری) کا خوف ہی مجرمین کی حوصلہ شکنی کے لئے بڑا اہم اور نہایت مؤثر تھا۔ زیر بحث قانون میں زنا کی وہ اصل سزائیں جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں اور چودہ سوسال سے بالاتفاق مسلّمہ چلی آرہی ہیں ، علاوہ ازیں وہ نہایت عبرتناک ہیں ؛ اُنہیں یک قلم ختم کرکے آسان سی سزائیں تجویز کی گئیں ہیں اور وہ ہیں : زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور دس ہزارروپے تک کا جرمانہ۔ اسی طرح قذف کی قرآنی سزا 80 کوڑے ختم کرکے اس کے لئے بھی مذکورہ سزا (پانچ سال تک قید اور دس ہزار روپے تک جرمانہ) ہی تجویز کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں یہ سزا بھی زنابالرضا کی ہے، زنا بالجبر کی نہیں ۔ حالانکہ اسلام میں سرے سے یہ تقسیم ہی نہیں ہے۔ ستم بالاے ستم مبادیاتِ زنا، اقدامِ زنا، سرعام فحاشی، بوس و کنار وغیرہ جرائم کی سزائیں جو حدود آرڈیننس میں تھیں ، ان کو یکسر ختم کرکے ان تمام بے حیائیوں کا دروازہ چوپٹ کھول دیا گیاہے۔

شریعت میں زنا کی اصل سزا کیاہے؟ وہ ہے شادی شدہ زانیوں کے لئے سنگساری اور کنورے زانیوں کے لئے سو کوڑے۔ اس کے علاوہ اس میں رضا مندی یا جبر کے حساب سے کوئی تفریق بھی نہیں ۔ البتہ عورت، جبر کی صورت میں سزا سے مستثنیٰ ہوگی، صرف مرد سزا یاب ہوگا، لیکن زیربحث قانون میں ایک تو زنا کو مغربی معاشرے کی طرح دوقسموں (بالرضا اور بالجبر) میں تقسیم کردیاگیاہے، دوسرے نمبر پراس کی اصل سزا جونہایت عبرتناک تھی، اسے ختم کردیاگیا ہے۔ تیسرے نمبر پر اس کا طریق کار بھی دنیا سے ایسا نرالا اور انوکھا تجویز کیا گیاہے کہ کسی کو سزا ملنا ہی کارے دار د ہوگا۔ چوتھے نمبر پر سزا ملی بھی تو برائے نام ہوگی جس سے کسی کو بھی عبرت نہیں مل سکتی بلکہ مجرمین کی حوصلہ افزائی ہی ہوگی۔

بدکاری کی بہتات: مجرمین کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں اخلاقی جرائم عام ہوں گے اور زنا کی اصل سزا ختم کرنے سے زنا کاری کی لعنت و باے عام کی صورت اختیارکرلے گی جس کی نظیر یورپ وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

خاندانی نظام کی تباہی: جب مرد و عورت دونوں کو قانونی طور پر زنا کی سہولتیں حاصل ہوجائیں گی تو اسی طرح خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا جیسے مغرب میں یہ نظام تباہ ہوچکا ہے۔ مغرب امداد اوراصلاح کے نام سے پاکستان کے اسلامی معاشرے کو بھی مادر پدر آزاد معاشرے میں تبدیل کرناچاہتا ہے جس سے خاندانی نظام بربادی کا شکار ہوجائے گا۔

بن بیاہی (کنواری) ماؤں کاطوفان:سولہ سال تک کی بچی زنا بالجبر کی سزا سے مستثنیٰ ہوگی تو اس کا مقصد بھی پاکیزہ معاشرے کے بجائے ایسے معاشرے کو معرضِ وجود میں لانا ہے جس میں بلوغت کے ساتھ ہی جنسی مخالطت کا نہ صرف آغاز ہوجائے بلکہ اس کی ترغیب وترویج کا بھی اہتمام ہوجیسے مغرب اور انگلستان وغیرہ میں ہے۔ وہاں سولہ سال سے کم عمر کی بیشتر لڑکیاں اپنی رضا مندی سے جنسی بدفعلی کی مرتکب ہوتی ہیں جیسے کہ لاس اینجلس ٹائمز کی 4 مارچ 2005ء کی رپورٹ میں اسی شہر کے چھٹی کلاس کے طلبا و طالبات کا ایک سروے شائع کیاگیا ہے، اس میں بتلایا گیاہے کہ 70 فیصد بچے جنسی بے راہ روی کے مرتکب پائے گئے ہیں ، ایسے ہی آئے روز سکولوں کی طالبات کے حاملہ ہونے کی خبریں وہاں کا معمول ہیں ۔ 4

اس طرح وہاں بن بیاہی (کنواری) ماؤں کا ایک طوفان آیا ہوا ہے جس کا تناسب کسی جگہ 60 فیصد اور کسی جگہ 50 فیصد اور کسی جگہ اس سے بھی زیادہ ہے۔

نئے قانون کے سربستہ رازکھلنے کی دیرہے!
ابھی تو اکثر عوام کو پتہ نہیں ہے کہ یہ نیا قانون کیاہے؟ اور زنا کاروں کو اس میں کیسی کیسی سہولتیں دی گئی ہیں اور سزا کے عمل کو کس طرح اتنا پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ کسی کو سزا ملنا ہی نہایت مشکل ہے، لیکن جب آہستہ آہستہ اس قانون کی پرتیں کھلیں گی، اس کے سربستہ اسرار واضح ہوں گے اور وکیلوں کی قانونی موشگافیاں مجرموں کی ہم نوائی اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گی تو پھر دیکھنا کہ مغربی آقاؤں کی امیدیں کس طرح برآتی ہیں اور ہمارا معاشرہ بدکاری کی راہ پر کس طرح بگٹٹ دوڑتا ہے۔ لا قدّرھا اﷲ ثم لا قدّرھا اﷲ


حوالہ جات
1. روزنامہ' نواے وقت' و'جنگ' لاہور: 21/نومبر 2007ء
2. صحیح بخاری:3017
3.سنن نسائی: رقم4909

4. بحوالہ ماہنامہ'محدث' اگست 2006ء