لغت میں 'علم' جہالت کی ضد ہے، اور اس سے مراد 'کسی چیز کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر پالینا' ہے۔اصطلاح میں بعض علما کے نزدیک 'علم' سے مراد وہ معرفت ہے جو جہالت کی ضد ہے۔جبکہ دیگر اہل علم کا کہنا ہے کہ 'علم' اس بات سے بالاترہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ مطلب یہ کہ لفظ 'علم' خود اتنا واضح ہے کہ اس کی تعریف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

شرعی علم کی فضیلت
'علم' سے ہماری مراد وہ شرعی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے روشن دلائل اور واضح ہدایت کی صورت میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا ہے۔ لہٰذا وہ علم جو قابل ستائش و تعریف ہے، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ 'وحی کا علم' ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(من یرد اﷲ به خیرایفقھه في الدین)1
'' جس شخص سے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین میں سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔''

اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے:
(إن الانبیاء لم یورّثوا دینارا ولا درهما وإنما ورّثوا العلم فمن أخذه به  فقد أخذ بحظ وافر)2
'' بے شک انبیاء علیہم السلام نے کسی کو درہم و دینار کا وارث نہیں بنایا، بلکہ اُنہوں نے تو علم (نبوت) کی وراثت چھوڑی ہے، تو جس شخص نے بھی اس (علم نبوت) کو لیا تو اُس نے گویا (دنیا و آخرت کا) وافر حصہ پالیا۔''

اور یہ بات طے شدہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام نے دوسروں کو اللہ عزوجل کی شریعت ِطاہرہ کے علم کا ہی وارث بنایا ہے نہ کہ کسی اور کا۔ ایسے ہی ان انبیاء علیہم السلام نے لوگوں کو صنعت اور اس سے متعلقہ دیگر فنون کے علم کا ہرگز وارث نہیں ٹھہرایا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے موقع پر جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ نزولِ اجلال فرمایا، تو وہاں کے لوگوں کو کھجوروں کی تأبیر(پیوندکاری) کرتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ سے، اُن کو مشقت میں دیکھتے ہوئے، اس بارے میں بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ماحصل یہ تھا کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ تو اُن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر ایسا ہی کیا اور تلقیح (i)کرنے سے رُک گئے، مگر کھجوروں پر پھل کم آیا۔ اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أنتم أعلم بأمر دنیاکم) ii

'' تم اپنی دنیا کے معاملات کو بہتر جانتے ہو۔''
لہٰذا اگر دنیوی معاملات کے بارے میں جاننا، تعریف و توصیف کے لائق ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو تمام لوگوں سے بڑھ کر جاننے والے ہوتے۔ اس لئے کہ اس دنیا میں علم و عمل کی بابت سب سے زیادہ قابل تعریف اور ثنا کے لائق ہستی اللہ کے نبی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ۔

دیگر علوم کی اِفادیت
تو واضح ہوا کہ شرعی اور دینی علم ہی قابل تعریف ہے اور اسے حاصل کرنے والایقیناستائش و ثنا کا مستحق ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمیں دیگر علوم و فنون کے فوائد سے قطعی انکار نہیں اور وہ ذات کی حد تک اس اعتبارسے منفعت بخش ہوں گے کہ ایک تو وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کے دین کی نصرت پرمددگار و معاون ثابت ہوں اور دوسرے یہ کہ اللہ کے بندے اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوں ، اسی لحاظ سے یہ علوم بھلائی، خیرخواہی اور مصلحت کا سرچشمہ ہوں گے۔ حتیٰ کہ بعض حالات میں ان علوم میں مہارت اور آگاہی حاصل کرنا تو واجب ہوجاتا ہے بالخصوص جب وہ اللہ جل شانہ کے اس فرمان کے تحت داخل ہوں :
وَأَعِدُّوالَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّ‌بَاطِ ٱلْخَيْلِ...﴿٦٠﴾...سورة الانفال
''اور جہاں تک ممکن ہوسکے، کافروں کے مقابلہ کے لئے قوت اور جنگی گھوڑے تیار رکھو۔''

اور بہت سے علما نے کہا ہے کہ صنعت و حرفت سے متعلقہ علوم کو جاننا فرضِ کفایہ(iii) ہے۔ اور یہ اس لئے کہ کھانے، پینے کے برتن اور دیگر ضرورت کا سامان لوگوں کی ان بنیادی اشیا سے تعلق رکھتا ہے جن پر ان کی زندگی کا انحصار ہے۔ اگر کوئی شخص بھی ان چیزوں کی تیاری کے لئے کارخانہ وغیرہ نہ لگائے، تو ایسی صورت میں ان کا سیکھنا 'فرض عین' بھی ہوجاتا ہے،اگرچہ یہ مسئلہ اہل علم کے ما بین مختلف فیہ ہے۔

بہرصورت ہم یہی کہیں گے کہ قابل ستائش اور افضل ترین'شرعی علم' ہی ہے جو اللہ کی کتاب (قرآن) اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سیکھنا ہے اور اس کے علاوہ دیگر علوم وہ یا تو خیروبرکت اور بھلائی کے کاموں کا ذریعہ ہیں اور یاپھر شروفساد کو جنم دینے کا 'وسیلہ' ۔ سو اُن کا حکم اُن اُمور کے مطابق ہوگا جنہیں اُٹھانے اور ظاہر کرنے کا یہ ذریعہ بنے ہیں ۔

علم کے فضائل
اللہ جل شانہ نے علم اور اہل علم دونوں کی تعریف فرمائی ہے اور اپنے بندوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بعینہٖ سنت ِطاہرہ میں بھی طلب ِعلم کی جابجا تلقین کی گئی ہے۔ لہٰذا علم کا حصول، نیک اعمال میں سے افضل ترین عمل اور نفلی عبادات میں افضل ترین عبادت ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور اس لئے بھی کہ اللہ عزوجل کے دین کو قائم اور نافذ کرنے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں :

  1. علم اور دلیل
  2. لڑائی اور اسلحہ

اقامت ِدین کے لئے یہ دونوں چیزیں از بس ضروری ہیں ۔ ان دونوں کے سوا دین کاغلبہ ناممکن ہے، اوران دونوں میں سے پہلی چیز دوسری پر مقدم ہے اوریہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قوم پر ان کواللہ عزوجل کے دین کی طرف دعوت دیے بغیرشب خون نہیں مارا۔ گویا اس اعتبار سے علم قتال (اللہ کی خاطر لڑائی لڑنے) پر سبقت لے گیاہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًا وَقَآئِمًا يَحْذَرُ‌ ٱلْءَاخِرَ‌ةَ وَيَرْ‌جُوارَ‌حْمَةَ رَ‌بِّهِۦ...﴿٩﴾...سورة الزمر
''کیا (ایسا شخص بہتر ہے) یا وہ شخص جو مطیع فرمان ہے، رات کے اوقات کو قیام اور سجدہ میں عبادت کرتے گزارتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا اُمیدوار ہے۔''

اس آیت میں مذکور'استفہام' کے مدمقابل ایک'استفہام' کا ہوناضروری ہے، تب آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص جورات کے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے حضور قیام اور سجدہ میں گزارتا، آخرت سے ڈرتا اور اپنے ربّ کی رحمت کی اُمید رکھتا ہو اور وہ شخص جو کبرونخوت سے بھرا ہوا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی کرنے والا ہو، کیا دونوں برابرہوسکتے ہیں ؟

تواستفہامِ مذکور کا جواب یہ ہے کہ یہ کبھی برابر نہیں ہوسکتے، لہٰذا قرآنی سیاق و سباق میں مدمقابل کا استفہام معلوم ہونے کی بنا پر اسے ذکر نہیں کیا گیا...

یہاں سوال یہ ہے کہ یہ مذکورہ عبادت گزار شخص جو رات کے اوقات کو قیام اور سجدے میں گزارتا، آخرت کے حساب و کتاب سے ڈرتا، اور ساتھ ہی اللہ عزوجل سے اجروثواب کی اُمید بھی رکھتا ہے، تو آیا اس کا یہ سارا عمل علم کی بنیاد پر ہے یا جہالت پر؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ وہ علم اور بصیرت کی بنیاد پرایسا کرتا ہے، اسی لئے تو آگے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ‌ أُولُوا ٱلْأَلْبَـٰبِ ﴿٩...سورة الزمر
''اے پیغمبر ؐ! آپ ان سے پوچھئے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟'' مگر ان باتوں سے سبق تو وہی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل عقل و خرد ہوں ۔''

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے بالکل ایسے، جیسے زندہ اور مُردہ، سننے والا اور بہرہ، دیکھنے والا اور اندھا، کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ علم ایک روشنی ہے جس سے انسان سیدھی راہ پاتا اور کفرو شرک کے اندھیروں سے نکل کر نورِایمان کی طرف گامزن ہوتا ہے، اس علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے، سربلند کردیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَرْ‌فَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا ٱلْعِلْمَ دَرَ‌جَـٰتٍ...﴿١١﴾...سورة المجادلہ
''تم میں جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جو علم دیے گئے،اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند کرے گا۔''

یہی وجہ ہے کہ ہم اہل علم کو ہی قابل ستائش پاتے ہیں ، اور جب بھی ان کا کہیں تذکرہ ہوتا ہے ، لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ۔ یہ تو ہوا اُن کا اس دنیا میں بلند مقام اور مرتبہ، جبکہ آخرت میں وہ اللہ کے دین کی طرف دعوت وارشاد اور نیک اعمال کے مطابق بلند مراتب سے بہرہ ور ہوں گے۔

یقیناً حقیقی عبادت گزار بندہ وہ ہے جو شعور رکھتے ہوئے علم و آگہی سے اس حال میں اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے کہ حق بات اس سے چہار سو پھیلتی جاتی ہے اور یہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ بندگی تھا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ هَـٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَ‌ةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ ﴿١٠٨...سورة یوسف
''(اے پیغمبرؐ) آپ ان سے کہہ دیجئے! میرا راستہ یہی ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی اس راہ کو پوری روشنی میں دیکھ رہا ہوں اور میرے پیروکار بھی (اسی راہ پر گامزن ہیں ) اللہ پاک ہے، اور مشرکوں سے ہماراکوئی واسطہ نہیں ۔''

لہٰذا وہ انسان جو جانتے بوجھتے اور یہ شعور رکھتے ہوئے پاک اور صاف ہوتا ہے کہ وہ ایک شرعی کام کو شرعی طریقے کے مطابق انجام دے رہا ہے، کیا یہ اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو یہی پاکیزگی ٔ علم وعملمحض روایتی طور پر اس لئے حاصل کرتا ہو کہ اس نے اپنے ماں باپ کو ایسا کرتے دیکھا ہے؟

ان دونوں میں کون سا شخص عبادت کا حق ادا کرنے میں آگے ہے؟ آیا وہ شخص جو اس لئے پاک صاف ہوا کہ اس نے یہ اچھی طرح جان لیا کہ طہارت حاصل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور یہی طہارت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور حکم بھی ہے۔ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِطاہرہ کی پیروی میں طہارت حاصل کرتا ہے...

یا دوسرا وہ شخص جو محض اپنے ہاں جاری رسم پوری کرنے کے لئے پاکیزگی اور صفائی پر کاربند ہے؟ تو جواب واضح ہے کہ پہلا شخص ہی اپنے عمل میں درست ہے جس نے علم وبصیرت پر اپنے ربّ کی عبادت کی۔

اگرچہ ظاہری طور پر دنوں کا عمل ایک جیسا ہے مگر دونوں حقیقت میں برابر نہیں ، کیونکہ ایک کا عمل علم و بصیرت کی بنیاد پر ہے اور وہ اپنے اس عمل کی بنا پراللہ عزوجل سے ثواب کی اُمید رکھتا اور آخرت میں حساب و کتاب سے ڈرتا بھی ہے اور ساتھ ہی وہ جانتا ہے کہ وہ اس عمل کی بجاآوری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی بھی کررہا ہے۔

اورہم اسی نکتہ پر چند لمحے ٹھہرتے ہوئے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا وضو کرتے وقت ہمیں اس بات کاادراک ہوتا ہے کہ ہم حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے حکم پرعمل پیرا ہیں ۔ جیساکہ قرآن حکیم میں اللہ پاک کا ارشاد ہے :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَو‌ٰةِ فَٱغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَ‌افِقِ وَٱمْسَحُوا بِرُ‌ءُوسِكُمْ وَأَرْ‌جُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ...﴿٦﴾...سورة المائدہ
''اے اہل ایمان! جب نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھو تو پہلے اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھوں کو دھو لو اور اپنے سروں کا بھی مسح کرلو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھولیا کرو۔''

توکیا ایک انسان وضو کرتے وقت یہ آیت ِکریمہ ذہن میں رکھتے ہوئے جانتا ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجاآوری کررہا ہے؟ کیاوہ یہ شعور رکھتا ہے کہ یہ طریقۂ وضو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور وہ یہ وضو رسول اللہؐ کی پیروی میں کررہا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی یقینا 'ہاں ' میں ہو گا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ اس بات کو اپنے سامنے رکھتے ہیں ۔ لہٰذا عبادات کی بجا آوری میں ہم پرواجب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے اُنہیں ادا کریں تاکہ ایک تو ان عبادات میں ہماری نیک نیتی اور خلوص واضح اور ثابت ہوسکے، اور دوسرے یہ کہ ہم ان عبادات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں بجالائیں ۔

ہم یہ جانتے ہیں کہ نیت (دل کا ارادہ) وضو کی شروط میں سے ہے۔ لیکن بسااوقات اس نیت سے مراد 'عمل کی نیت' ہوتی ہے اور یہی وہ قسم ہے جس کے بارے میں 'علم فقہ' میں بحث کی جاتی ہے۔ اور بسا اوقات 'نیت' سے مراد عمل کی نیت نہیں بلکہ وہ 'ہستی' ہوتی ہے جس کے لئے وہ 'عمل ' کیا جاتا ہے، اس وقت ہم پر لازم ہے کہ ہم اس بڑے اور حساس معاملے میں خبرداراور ہوشیار رہیں ، اور وہ یہ ہے کہ ہم عبادت کرتے وقت یہ بات اچھی طرح سے اپنے مدنظر رکھیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف اور صرف اسی ذات کے لئے خالص ہوکر اداکررہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو یہ باور کراتے ہوئے کہ چونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا فرمایا ہے، لہٰذا ہم آپؐ کی اتباع (اور پیروی) میں اسے سرانجام دے رہے ہیں ۔ اس لئے کہ اجروثواب کی خاطر کئے گئے عمل کے صحیح اور قبول ہونے کی شروط میں سے درج ذیل دو شرطیں قابل ذکر ہیں :

  1. اخلاصِ نیت
  2. متابعت ِرسولؐ (اطاعت و پیروی)


اور یہی وہ دو شرطیں ہیں جن کی موجودگی میں شہادَتین (أشھد أن لا إله إلا اﷲ وأن محمّدًا رسول اﷲ)''میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ بھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔''پرعمل ممکن ہے۔

یہاں سے ہم دوبارہ اپنے موضوع 'فضائل علم' کی جانب آتے ہیں ، جیساکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ علم کی بدولت انسان فہم اور بصیرت کی بنا پر اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے، ایسے میں اس کادل بندگی ٔربّ سے سرشار اور اس کے انوار سے منور ہوتا ہے اور عبادت گزار یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک عادت نہیں بلکہ علم پر مبنی عبادت کا عمل اداکررہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب انسان اس جذبے اور کیفیت میں نماز اداکرے گا، تو دورانِ عبادت اس کے دل و دماغ میں اللہ جل شانہ کا یہ فرمان موجزن ہوگا کہ
إِنَّ ٱلصَّلَو‌ٰةَ تَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ‌...﴿٤٥﴾...سورة العنکبوت
''بے شک نماز بے حیائی اور بُرائی کے کاموں سے روکتی ہے۔''

'فضائل علم ' کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں :
علم انبیا علیہم السلام کی وراثت ہے:انبیاے کرام ؑنے اپنے بعد والوں کو درہم و دینار کانہیں بلکہ علم کا وارث بنایا ہے۔ تو جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے انبیاکی وراثت سے وافر حصہ پالیا۔ اے میرے مخاطب! تو اس وقت پندرہویں صدی ہجری میں ہے، اگر تیرا شمار اہل علم میں ہے تو جان لے کہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل وارث ہے اور یہ فضائل میں سے سب سے بڑی فضیلت ہے۔

علم کو بقا اور مال کو فنا ہے: فقرا صحابہ ؓ میں سے ایک جلیل القدر صحابی رسولؐ حضرت ابوہریرہؓ ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ ؓ بھوک کی شدت سے غشی کی حالت میں نیچے گر پڑتے ہیں ۔ ذرا بتائیے! ہمارے آج کے دور میں حضرت ابوہریرہؓ کا ذکر ِخیر لوگوں کی زبانوں پر جاری وساری ہے کہ نہیں ؟ یقینا بہت زیادہ ہے، اور جو ان کی بیان کردہ احادیث سے فائدہ اُٹھائے گا، اس کا اجروثواب حضرت ابوہریرہؓ کو تاقیامت صدقۂ جاریہ کی صورت میں الگ ملے گا۔ تو معلوم ہوا کہ علم باقی رہتا ہے جبکہ مال فنا ہوجاتاہے۔ اے علم کے طالب! علم کی دولت سے وابستہ رہ، اس بارے میں صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(إذا مات الإنسان انقطع عمله  إلا من ثلاث: صدقة جاریة او عمل ینتفع به أو ولد صالح یدعوله) iv
'' جب انسان مر جاتا ہے تو تین قسم کے اعمال کے سوا اس کے سارے عمل منقطع ہو جاتے ہیں : ایک صدقۂ جاریہ کی صورت میں کوئی عمل، دوسرا کوئی ایسا علمی سرمایہ جس سے فائدہ اُٹھایا جائے اور تیسرا نیک اولاد جو اس کے لئے دعاے خیر کرے۔''

عالم کو علم کی حفاظت میں تھکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا:اور یہ اس لئے کہ جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم کی سعادت سے بہرہ ور فرما دیا تو چونکہ اس کی اصل جگہ انسان کادل و دماغ ہے۔ لہٰذا اس کے لئے کسی صندوق یا چابی وغیرہ کی ضرورت نہیں ، وہ انسان کے دل و دماغ میں پہلے سے محفوظ ہوتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ آپ کا محافظ ہے اور وہ اللہ عزوجل کے حکم سے آپ کو ہر قسم کے خطرے سے بچاتا ہے۔ علم آپ کی پاسبانی کرتا ہے جبکہ مال کی آپ کو ہر لحظہ حفاظت کرنا پڑتی ہے، آپ اُسے تالے لگے صندوقوں میں بند کرکے رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود مطمئن نہیں ہوپاتے۔ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے جبکہ علم کو جتنا سکھایا جائے یعنی صرف کیا جائے، اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

عالم کا شمار حق پر گواہی دینے والوں ہوتا ہے: جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَأُولُوا  ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ...﴿١٨﴾...سورة آل عمران
''اللہ نے خود بھی اس بات کی گواہی دی ہے کہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی راستی اور انصاف کے ساتھ یہی گواہی دی ہے۔''

تو کیا اللہ تعالیٰ نے آیت میں {اولوا المال} یعنی مال و دولت والوں کاذکر کیا ہے؟ نہیں ، بلکہ اس کے بجائے یہ الفاظ ہیں {وَأُولُوا ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ}
'' اہل علم نے بھی انصاف کے ساتھ اللہ کی واحدانیت کی گواہی دی ہے۔''

تو اے طالب ِعلم ! تیرے شرف و کمال کے لئے یہی بات کافی ہے کہ تیراشمار اُن ہستیوں میں ہوتا ہے جوفرشتوں کی رفاقت میں اللہ عزوجل کی یکتائی کی گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ۔

علماکا شمار مؤمنوں کے والیوں (ذمہ داروں ) میں ہوتا ہے:اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کواپنے والیوں (ذمہ داروں ) کی اطاعت کا ان الفاظ میں حکم دیا ہے :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا  ٱلرَّ‌سُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنكُمْ...﴿٥٩﴾...سورة النساء
''اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور اُن والیوں کی بھی جو تم میں سے ہیں ۔''

یہاں آیت ِکریمہ میں 'اہل ایمان کے والیوں ' میں ، اُمرا، حکام، علماے کرام اور علم کے طلبا سب شامل ہیں ۔ اہل علم کی ولایت (سرپرستی) یہ ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی شریعت ِطاہرہ کو بیان کریں اور لوگوں کو اس کی دعوت دیں ، جبکہ اُمرا و حکام کی ولایت (سرپرستی) سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ جل شانہ کی شریعت ِطاہرہ کو من و عن نافذ کریں اور لوگوں کو اس کاپابند بنائیں ۔

اہل علم ہی اللہ کے دین اور حکم کو قائم و دائم رکھنے والے ہیں :اور ان کا یہ عمل قیامت تک جاری و ساری رہے گا، اس کی دلیل حضرت معاویہؓ سے مروی یہ حدیث ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے :
(من یرد اﷲ به خیرا یفقھه  في الدین وإنما أنا قاسم واﷲ یعطي ولن تزال هذه الأمة قائمة علی أمر اﷲ لا یضرھم من خالفھم حتی یأتی أمراﷲ) v
''جس شخص کے ساتھ اللہ عزوجل بھلائی کاارادہ کرتے ہںة تو اُسے دین میں سمجھ دے دیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ جل شانہ عطا کرنے والے ہیں ، اور اس اُمت (کی ایک جماعت) ہمیشہ اللہ کے دین پر ثابت قدم رہے گی اور قیامت بپا ہونے تک کوئی ان کامخالف ان کو تکلیف (یا نقصان) نہیں دے سکے گا۔''

امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اس جماعت کے بارے میں کہتے ہیں کہ
''اگر یہ اہل حدیث نہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ اور کون لوگ ہیں ۔''3

قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ کا کہنا ہے: ان سے امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کی مراد اہل سنت اور وہ لوگ ہیں جو اہل حدیث کے مذہب پرہیں : ومن یعتقد مذهب أھل الحدیث 4

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے دو نعمتوں کے علاوہ کسی کو کسی شخص پررشک کرنے کی ترغیب نہیں دی اور وہ قابل رشک دو نعمتیں یہ ہیں :
علم حاصل کرنا اور اس کے مطابق اس پر عمل کرنا۔

تاجر شخص جو اپنے مال کو دین اسلام کی خدمت میں خرچ کرتا ہے۔ اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(لا حسد إلا في اثنتین رجل آتاه اﷲ مالا فسلطه علی هلكته في الحق ورجل آتاہ اﷲ الحکمة فھو یقضي بھا ویُعلِّمھا) vi
'' دو قسم کے آدمی قابل رشک ہیں ، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے نوازا اور وہ اسے حق کی راہ میں لٹاتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (دینی علم) سے بہرہ ور فرمایا اور وہ اسی کے ساتھ فیصلے کرتا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔''

امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے مروی مرفوع حدیث ذکر کی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
''جو ہدایت اور علم اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کرکے مبعوث فرمایا ہے، اس کی مثال اس بارش کی ہے جو زمین پر برسے، تو زمین اچھی اور زرخیز ہوتی ہے، وہ پانی کو پی لیتی ہے اور گھاس اور سبزہ خوب اُگاتی ہے اور جو زمین سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے پھر اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ لوگ اس کو پیتے ہیں ، اور اپنے مویشیوں کوپلاتے ہیں اور زراعت کو سیراب کرتے ہیں ۔ اور کچھ بارش زمین کے دوسرے حصے کو پہنچی کہ جو بالکل چٹیل میدان ہے، جو نہ پانی کو روکتا ہے اور نہ ہی سبزہ اُگاتا ہے۔فذلك مثل من فقه في دین اﷲ ونَفَعَه  ما بَعَثَني اﷲ به  فَعَلِمَ وَعَلَّمَ پہلی مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے دین میں فقیہ ہوجائے اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے مجھے دے کر مبعوث فرمایا ہے، وہ اس کا فائدہ پہنچائے،اسے پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے اور دوسری مثال ہے اس شخص کی ہے جس سے اس کی طرف سر تک نہ اُٹھایا اور اللہ تعالی کی اس ہدایت کو جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ، قبول نہ کیا۔'' vii

بلاشک علم کا حصول جنت کا راستہ ہے اور اس کی دلیل حضرت ابوہریرہؓ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(ومن سلك طریقا یطلب فیه علمًا سھَّل اﷲ له طریقًا إلی الجنة) viii
'' جو شخص علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے، اس کے لئے جنت کی طرف جانے کا راستہ آسان کردیتا ہے۔''

اور اسی ضمن میں حضرت معاویہؓ کی حدیث میں آیا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

(من یرد اﷲ به خیرًا یفقّھه في الدین) ix
''جس شخص سے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے دین میں سمجھ دے دیتا ہے۔''

مطلب یہ کہ اسے اپنے دین کا عالم و فقیہ بنا دیتا ہے اور یہاں دین میں فقہ سے مراد، صرف وہی 'علم فقہ' نہیں جو اہل علم کے ہاں علم فقہ میں مخصوص شرعی و عملی احکام ہیں بلکہ یہاں اس کا مفہوم وسیع تر ہے جس سے مراد علم توحید، عقائداور اللہ عزوجل کی شریعت ِطاہرہ سے متعلقہ تمام مسائل و تفصیلات ہیں ۔ علم کے فضائل کے ضمن میں کتاب و سنت کے دلائل میں اس حدیث کے سوا کوئی اور دلیل نہ بھی ہوتی تو شرعی علوم اور ان میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب کے سلسلے میں یہی حدیث کافی تھی۔

بلا شک علم ایک ایسی روشنی ہے جس کے ذریعے انسان نورِبصیرت سے بہرہ ور ہوتے ہوئے اس حقیقت سے آشنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کی کس طرح عبادت کرے، اور اس کے بندوں سے کیسے معاملات طے کرے، تو اس عملی تگ و دو میں اس کا ہر کام علم و بصیرت کی بنیاد پر طے پاتا اور پورا ہوتا ہے۔

صاحبِ علم ایک ایسا چراغ ہے کہ جس کی روشنی میں لوگ اپنے دینی و دنیوی کاموں کی انجام دہی کے لئے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ... اوراس ضمن میں ہم میں بہت سے لوگ بنی اسرائیل کے اس شخص کا قصہ جانتے ہوں گے جس نے ننانوے قتل کئے اور بعد ازاں اس نے زمین کے باسیوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک عبادت گزار شخص کے بارے میں بتایا گیا۔ اس قاتل شخص نے صالح اور عابد سے پوچھا کہ آیا اس کی توبہ ممکن ہے؟ تو اس عبادت گزار شخص نے اسے بڑا بھاری گناہگار گردانتے ہوئے کہا کہ تیری توبہ ممکن نہیں ، جس پر اُس شخص نے مایوس ہوکر اور غصے سے بپھرتے ہوئے اس عابد کو بھی قتل کردیا اور اس طرح ۱۰۰ قتل کی گنتی پوری کی۔

پھر وہ قاتل ایک صاحب ِعلم کے پاس گیا اور اس سے وہی بات پوچھی تو اس عالم شخص نے اسے بتایا کہ اس کی سچی توبہ قبول ہوگی اور دنیا کی کوئی چیز اس کے اور توبہ کے درمیان رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ پھر اس نے اس قاتل کو سچی توبہ کے بعد نیکوکار لوگوں کی بستی کی طرف فوری طور پر چلے جانے کو کہا۔ تو وہ شخص اسی وقت اس علاقے کی طرف چل پڑا جبکہ راستے ہی میں اُسے موت نے آلیا۔ (x) یہ پورا قصہ مشہور و معروف اور صحیح بخاری میں مذکور ہے۔

اللہ تعالیٰ اہل علم کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سربلند رکھتے ہیں :آخرت میں اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنے دین کی طرف دعوت و ارشاد اور علم کے مطابق عمل کے مطابق بلند درجات سے نوازے گا اور دنیا میں بھی اللہ جل شانہ اپنے بندوں میں ان کی اقامت ِدین کے سلسلے میں محنت و کاوش کا صلہ و ثمرہ دیتے ہوئے اُنہیں امتیازی شان و مقام مرحمت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَرْ‌فَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا  ٱلْعِلْمَ دَرَ‌جَـٰتٍ...﴿١١﴾...سورة المجادلہ
''تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جو علم سے نوازے گئے ہیں ، اللہ تعالیٰ (دونوں جہانوں میں ) ان کے درجے بلند کرے گا۔''

حصولِ علم کا حکم
شرعی علوم کو سیکھنا فرضِ کفایہ ہے اور جب کوئی شخص اس حد تک علم حاصل کرلے کہ وہ علاقے کے لوگوں کے لئے کافی ہو تو پھر دوسرے لوگوں کے لئے علم حاصل کرنا 'مستحب' ہے۔

البتہ بعض اوقات شرعی علم کا حصول انسان پر فرضِ عین ہوجاتا ہے، خاص طور پر جب کوئی عبادت جسے وہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کوئی معاملہ جسے وہ نمٹاناچاہتا ہو، اور ان دونوں قسم کے اعمال کا انحصار اسی ایک شخص پر ہو تو ایسے حالات میں اس پر یہ واجب ہے کہ وہ پہلے اچھی طرح سے جان لے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا یہ عمل کیسے بجالائے، اور اس معاملے کو بھی کس طرح صحیح طریقے سے سرانجام دے گااور اسکے سوا علم کی جو بھی صورت ہے وہ فرضِ کفایہ ہے۔

لہٰذا ایک طالب ِعلم کو چاہئے کہ وہ دورانِ تعلیم و تعلّم ہمہ وقت یہ بات اپنے پیش نظر رکھے کہ وہ ایک فرضِ کفایہ عمل کو ادا کررہا ہے، تاکہ وہ اس مبارک عمل، تحصیل علم کے ساتھ ساتھ ایک فرض کی ادائیگی کا اجروثواب بھی حاصل کرسکے۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ علم حاصل کرنا، افضل ترین اعمال میں سے ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی قسموں میں سے ایک قسم ہے اور خاص طور پر ہمارے آج کے اس دور میں جہاں ایک طرف اسلامی معاشرے میں بدعات و خرافات کثرت سے پھیلتی اور بڑھتی چلی جارہی ہیں تو دوسری طرف بغیرعلم کے صادر ہونے والے فتووں سے جہالت کاطوفان اُمڈتا چلا آرہا ہے اور رہی سہی کسر جہالت کے مارے ہوئے لوگوں کے درمیان کثرت سے ہونے والی بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑے نے پوری کردی ہے۔

مذکورہ تینوں قسم کے مسائل کی بنا پرنوجوانانِ ملت ِاسلامیہ پر یہ لازمی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ شرعی علوم کو حاصل کرنے کازیادہ سے زیادہ اہتمام کریں ۔

یہاں اہمیت و افادیت کے پیش نظر ان تین قسم کے اُمور کو بالترتیب دوبارہ ذکر کرتے ہیں :

  1. بدعات و خرافات کا ظہور جن کا شروفساد پھیلتا اور بڑھتا چلا جاتا ہے۔
  2. بغیر علم کے دیئے گئے فتوؤں کی شہرت اور ان پر کثرت سے لوگوں کا عمل پیرا ہونا۔


جہالت کے مارے ہوئے فریب خوردہ لوگوں کا ایسے شرعی مسائل میں کثرت سے بحث و تکرار اور جھگڑا و فساد جواہل علم کے ہاں بسااوقات واضح ہوتے ہیں لیکن کوئی علم سے عاری شخص آکر ان میں اختلاف کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان جھگڑے و فساد کاطوفان کھڑا کردیتا ہے۔

اسی بنا پر ہمیں آج کے پُرآشوب دور میں ایسے علماے حق کی اشد ضرورت ہے جو علم میں وسعت کے ساتھ پختگی بھی رکھتے ہوں ، اللہ کے دین کی صحیح سوجھ بوجھ کے حامل ہوں اور اللہ کے بندوں کی رہنمائی میں حد درجے کی حکمت و مصلحت کو بروئے کار لانے میں اُنہیں مہارتِ تامہ حاصل ہو۔ اس لئے کہ بہت سے لوگ اب کسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں سطحی نگاہ سے دیکھتے ہوئے دوسروں کی رہنمائی کرتے ہیں ، جبکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی اصلاح و فلاح اور صحیح تربیت کی مطلق پرواہ نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ کسی بھی معاملے میں فتویٰ دیتے ہیں تو وہ مسلم معاشرے میں اتنے بڑے شروفساد کا باعث بنتا ہے کہ جس کی انتہا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جان سکتا۔ والعیاذ باﷲ من ذلک

اس لئے صحیح اور پختہ شرعی علم جو کتاب وسنت کی بنیادپر لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے، اس کی تعلیم اور تفقہ حاصل کرنا اس دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔ فی زمانہ اسلام ایک مظلوم مذہب بن چکا ہے، اور اس کے احکام وشعائر کو طنز وتضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ان حالات میں اللہ کے دین کی نصرت کے لئے کھڑے ہوجانا اور نبوت کی وراثت کوتھام لینا دنیا کی سب سے عظیم سعادت ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل علم کو صبر واستقامت اور اپنے علم کے مطابق عمل صالح کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!
[شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمة اللہ علیہ کی عربی تالیف کتاب العلم کے پہلے باب کا ترجمہ ]


حوالہ جات
1. صحیح بخاری:71،3116،7312
2. سنن ترمذی:2682
3. صحیح سنن ابن ما جہ، زیر حدیث نمبر6
4. شرح نووی : 6؍400


 

i. تلقیح یعنی قلم لگانا، نر کھجور کا شگوفہ مادہ کھجور میں ڈال کر پیوند کاری کا عمل کرنا
ii. صحیح مسلم:2363
iii. جو شرعی حکم ایک یا چند اشخاص کے بجا لانے سے معاشرے کے دیگر افراد سے ساقط ہو جائے،فرض کفایہ کہلاتا ہے، جیسے نماز جنازہ میں شرکت وغیرہ
iv. صحیح مسلم :کتاب الوصیة،باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاته : رقم1631
v. صحیح بخاری :کتاب العلم:رقم71
vi. صحیح بخاری :کتاب العلم:73
vii. صحیح بخاری، کتاب العلم:79
viii. صحیح مسلم:كتاب الدعوات،باب فضل الاجتماع علی تلاوة القرآن:2699
ix. صحیح بخاری: باب العلم قبل القول والعمل... صحیح مسلم : رقم4867
x. صحیح بخاری :کتاب الانبیاء،رقم:3470