رمضان المبارک کے کام
اپنے آپ اور اپنے ماحول کو عبادت کے لئے تیار کرنا، توبہ و استغفار کی طرف جلدی کرنا، رمضان کے آنے پر خوشی منانا اور پورے ادب کے ساتھ روزے رکھنا، تراویح میں دل جمعی اور خشوع کا خیال رکھنا، سستی سے باز رہنا، خصوصاً آخری دس دن میں شب ِقدر کی تلاش میں لگے رہنا، تدبر و تفکرکے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اوراسے ایک سے زائد بار مکمل کرنے کی کوشش کرنا رمضان المبارک کے اہم کام ہیں ۔ پھر رمضان کاعمرہ بھی حج کے برابر ہے، اس ماہ میں صدقہ کا اجر دوبالا ہوجاتا ہے اور اعتکاف کرنے کی بھی خاص تاکید آئی ہے۔

اس ماہ کی آمد پرمبارکباد دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو رمضان کی آمد کی بشارت دیتے تھے اور اس کے اہتمام پر اُبھارتے تھے، چنانچہ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أتاکم رمضان شھر مبارك، فرض اﷲ عزوجل علیکم صیامه، تفتح فیه أبواب السماء، وتغلق فیه أبواب الجحیم، وتغل فیه مردة الشیاطین، فیه لیلة خیر من ألف شھر من حرم خیرھا فقد حرم)
''تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آیا ہے، اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کئے ہیں ، جن میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور بدمعاش شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جو شخص اس کی خیر سے محروم رہا وہ حقیقی محروم ہے۔'' 1

روزے کے احکام
بعض روزوں میں تسلسل ضروری ہے جیسے رمضان کے روزے،قتل خطا کے کفارہ کے روزے، کفارئہ ظہار کے روزے، رمضان کے دن میں جماع کرنے کے کفارہ کے روزے۔ اسی طرح جس نے مسلسل روزے رکھنے کی نذر مانی ہو،اس پر بھی تسلسل سے روزہ رکھنا ضروری ہے۔

جبکہ بعض روزوں میں تسلسل کی شرط نہیں ہے جیسے رمضان کے روزوں کی قضا، حج میں قربانی نہ کرنے والے کے دس روزے، قسم توڑنے والے پر کفارہ کے روزے (جمہور علماء کے نزدیک)، اور (صحیح قول کے مطابق) احرام کی حالت میں کسی ممنوع چیز کے ارتکاب پر فدیہ کے روزے، اس میں بھی تسلسل ضروری نہیں اور مطلقاً نذر کے روزے جس شخص نے تسلسل کی شرط نہ رکھی ہو۔

نفل روزے، فرض روزوں کی کمی کی تلافی کرتے ہیں جیسے عاشورا، عرفہ، ایامِ بیض (یعنی ہر قمری ماہ کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ) کے روزے، پیر اور جمعرات کا روزہ اور شوال کے چھ روزے، محرم اور شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا وغیرہ۔

فرض کے علاوہ صرف جمعہ کو یا صرف ہفتہ کو خصوصاً روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے، سارا زمانہ روزہ رکھنا اور صوم و صال یعنی بغیر افطار کے دو یا اس سے زیادہ دنوں تک روزہ رکھنا بھی ممنوع ہے۔

عیدین او رایامِ تشریق (یعنی گیارہ، بارہ، تیرہ ذو الحجہ کے دن) روزہ رکھنا حرام ہے، یہ دن کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں ۔ جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ منیٰ میں ان دنوں میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔

مہینہ کے شروع ہونے کا ثبوت
ماہِ رمضان کا چاند دیکھنے سے رمضان شروع ہوجاتا ہے یا پھر شعبان کے تیس دن مکمل ہوجانے کے بعد رمضان داخل ہوجاتا ہے۔ جس کسی نے خود چاند دیکھا ہو یا کسی قابل اعتماد آدمی سے اس کی خبر ملی ہو تو پھر اس پر روزہ رکھنا واجب ہوجاتا ہے۔

رؤیت کے بغیر صرف حساب کے ذریعہ مہینہ کی شروعات ثابت کرنا بدعت ہے کیونکہ حدیث میں صاف وضاحت ہے:

(صوموا لرؤیته وأفطروا لرؤیته)2
''چاند دیکھ کر روزہ شروع کرو اور چاند دیکھ کرروزہ چھوڑ دو۔''
لہٰذا اگر بالغ، عاقل اور امانتدار مسلمان جس کی سچائی اور نگاہ پر بھروسہ ہو اور اس نے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہو تو ا س کی بات پر عمل کیا جائے گا۔

روزہ کس پر واجب ہے اور کس پر نہیں ؟
ہر بالغ، عاقل، مقیم اور روزہ کی طاقت رکھنے والے مسلمان پر روزہ واجب ہے بشرطیکہ کوئی مانع نہ جیسے حیض، نفاس وغیرہ۔

تین علامتوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ بلوغت ثابت ہوجاتی ہے:
خروجِ منی، احتلام کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے ،شرمگاہ کے قریب سخت بالوں کا اُگنا یا 15 سال مکمل ہونا، عورت ہو تو مزید ایک اور علامت کا اعتبار ہوگا یعنی حیض کا آنا، جب بھی حیض شروع ہوجائے تو وہ لڑکی بالغ شمار ہوگی اور اس پر روزہ واجب ہوگا خواہ وہ دس سال سے قبل ہی کیوں نہ ہو۔
بچہ سات سال کی عمر میں روزہ کی طاقت رکھتا ہو تواسے روزہ کا حکم دیا جائے گا۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اگر دس سال کی عمر میں روزہ نہ رکھے تو اُسے مارا جائے گا جس طرح نماز ترک کرنے پر مارا جاتا ہے۔
روزہ کا اجر بچے کو اور والدین کو تربیت و تعلیم کا اجر ملے گا، ربیع بنت معوذؓ کہتی ہیں :
''جب عاشورا کے روزے فرض ہوئے تو ہم اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے تھے اور روئی کے کھلونے بناتے۔ جب وہ کھانے کے لئے روتے تو ان کھلونوں سے بہلاتے یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا۔'' 3

بعض لوگ اپنے بچوں کے روزہ کے سلسلہ میں غفلت برتتے ہیں ، بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کبھی بچہ جوش و جذبہ کے تحت روزہ رکھتا ہے تو اس کے ماں باپ روزہ توڑنے کا حکم دے دیتے ہیں اور اِسے وہ اپنے گمان کے مطابق بچے پر شفقت سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ نہیں خیال کرتے کہ حقیقی شفقت تو روزہ رکھوانے میں ہے، اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا قُوٓا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارً‌ا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَ‌ةُ عَلَيْهَا مَلَـٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَ‌هُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُ‌ونَ ﴿٦...سورة التحریم
''اے ایمان والو! تم اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ، جس پرسخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں ۔ اُنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہںم کرتے بلکہ جو کچھ حکم دیا جائے، بجا لاتے ہیں ۔''

بچی کے روزے کے بارے میں اس کی بلوغت کے اوّل مرحلے میں اہتمام ضروری ہے، ممکن ہے کہ ایامِ حیض میں بھی وہ شرم کی وجہ سے روزہ رکھ لے اور پھر اس کی قضا نہ کرے۔

کافر اگر مسلمان ہوجائے یا بچہ بالغ ہوجائے یا مجنون کو افاقہ ہوجائے تو بقیہ دن ان پر کھانے پینے سے بچے رہنا ضروری ہے، اس لئے کہ عذر ختم ہوتے ہی ان پر روزہ واجب ہوگیا۔ رمضان کے جو روزے پہلے گذر چکے ہیں ، اس کی قضا ضروری نہیں ، کیونکہ اس وقت ان پر روزے واجب نہیں تھے۔

پاگل پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، اگر کبھی پاگل ہوجاتا ہو اورکبھی ہوش میں آجائے تو صرف ہوش و حواس کی حالت میں اس پر روزہ واجب ہوگا۔ روزہ کی حالت میں دن کے کسی وقت اگر اس پر جنون طاری ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا، جس طرح کسی بیماری کی وجہ سے اس پر بے ہوشی چھا جائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا، کیونکہ نیت کرتے وقت وہ صاحب ِعقل تھا، لہٰذا اس قسم کے لوگ غشی طاری ہونے والے کے حکم میں ہوں گے۔

رمضان کے دوران جس کا انتقال ہوجائے، اس پر یا اس کے وارثین پر بقیہ ماہ کے روزوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

جسے رمضان کے روزے فرض ہونے کا علم نہ ہو، یا روزے مںو کھانے اور جماع کرنے کی حرمت کا علم نہ ہو تو اکثر علما اسے معذور سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس طرح کے لوگ واقعتا قابل عذر والے ہوں مثلاً نو مسلم ہو، یا ایسا مسلمان جو دارالحرب میں رہتا ہو، یا کافروں کے درمیان پروان چڑھا ہو۔ لیکن جو مسلمانوں کے درمیان پروان چڑھا ہو اور مسئلہ معلوم کرنا اس کے لئے ممکن ہو تو ایسی صورت میں وہ معذور نہیں ہے۔

سفر میں روزہ کا رکھنا یا چھوڑنا؟
سفر میں روزہ چھوڑنے کے لئے یہ شرط ہے کہ اس پر مسافت کے اعتبار سے سفر کا اطلاق ہو یا عرفِ عام میں سفر کہلائے۔ شہر اور اس کی حدود سے باہر چلا جائے لیکن( جمہور علما کے نزدیک) یہ سفر کسی معصیت کی غرض سے نہ ہو اور روزہ چھوڑنے کے لئے حیلہ نہ ہو۔

ساری اُمت کا اتفاق ہے کہ مسافر کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے خواہ وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو یا نہیں ، روزہ رکھنا اس کے لئے آسان ہو یا مشکل، (یعنی اگرچہ سفر آسان ہو اور ساری سہولتیں میسر ہوں ) اگرچہ سائے اور پانی میں سفر کررہا ہو، اس کے ساتھ خادم بھی ہو، پھر بھی اس کے لئے روزہ چھوڑنا اور قصر کرنا جائز ہے۔

رمضان میں اگر کوئی شخص سفر کا پختہ ارادہ رکھتا ہو تو سفر شرو ع کرنے سے پہلے اس کے لئے افطار کرنا جائز نہیں ، کیونکہ ممکن ہے اس کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کی وجہ سے وہ سفر نہ کرسکے۔ 4

مسافر اپنی بستی کی عمارتوں سے باہر نکلنے کے بعد ہی روزہ چھوڑ سکتا ہے، اسی طرح جہاز اُڑ جائے اور شہر سے باہر چلا جائے تو افطار کرسکتا ہے۔ اگر ہوائی اڈہ شہر سے باہر ہو تو وہاں سے روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ اگر ہوائی اڈہ شہر میں یا شہر سے ملحق ہو تو افطار نہ کرے ،کیونکہ وہ ابھی شہر ہی میں ہے۔

زمین پر سورج غروب ہونے کے بعد اگرافطار کرلیا، پھر جہاز پرواز کرنے کے بعد سورج نظر آئے تو اس پر کسی چیز سے اجتناب کرنا ضروری نہیں ۔ کیونکہ اس نے پورے دن کا روزہ مکمل کرلیا، اس لئے کہ کوئی عبادت مکمل کرلینے کے بعد اس کا اِعادہ نہیں ہے۔

اور اگر غروبِ آفتاب سے پہلے جہاز اُڑا اور سفر میں اپنے اس روزے کے مکمل کرنے کی نیت رکھتا ہو تو فضا میں جس جگہ وہ ہے جب تک سورج غروب نہ ہوجائے، افطار نہ کرے اور پائلٹ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ افطار کی غرض سے جہاز اتنا نیچا کرکے لے جائے جہاں سے سورج نظر نہ آئے کیونکہ یہ حیلہ ہے۔ البتہ اُڑان کی مصلحت کے پیش نظر ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں سورج چھپ جائے تو افطار کرسکتا ہے۔

جو شخص کسی شہر میں پہنچ جائے اور وہاں چار دن سے زیادہ رکنے کی نیت رکھے تو جمہور علما کے نزدیک روزہ رکھنا ضروری ہے، ا س لئے جو شخص تعلیم وغیرہ کے لئے سفر کرتا ہے جہاں پہنچ کر وہ کئی ماہ یا کئی سال قیام کرے گا تو جمہور علما اور ائمہ اربعہ کے نزدیک وہ مقیم کے حکم میں ہے، وہ مکمل نماز پڑھے گا اورروزہ بھی رکھے گا۔

اگر مسافر اپنے شہر کے علاوہ کسی دوسرے شہر سے گزرے تو اس پر روزہ رکھنا ضروری نہیں مگر یہ کہ وہ وہاں چار دن (i) سے زیادہ رکنے کی نیت رکھتا ہو تو ایسی صورت میں وہ مقیم کے حکم میں ہوگا۔ 5

اگر کسی نے حالت ِاقامت میں روزہ شروع کیا پھر دن کے کسی وقت وہ سفر پر نکل گیا تو وہ روزہ توڑ سکتا ہے۔ ا س لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مطلق سفر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت کا سبب قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَن كَانَ مَرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌...﴿١٨٥﴾...سورة البقرة
''اور جو بیمار ہو یا مسافر تواسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی چاہئے۔''

جس شخص کی عادت ہی سفر ہو (یعنی مسلسل سفر میں رہتا ہو) جیسے ڈاک کا منشی جو مسلمانوں کی خدمت میں لگا رہتا ہے، یا ٹیکسی ڈرائیور، جہاز کا پائلٹ، اور جہاز میں نوکری کرنے والا تو اُنہیں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، خواہ ان کا سفر دن بھر کا ہی رہتا ہو، ہاں ان پر قضا ضروری ہے اور یہی حکم ملاح کا بھی ہے جس کی خشکی پر کوئی قیام گاہ ہو۔

دن میں مسافر اگر اپنے گھر پہنچ جائے تو کیا وہ بقیہ دن روزہ کی طرح گزارے گا یا نہیں ؟ اس میں علما کا اختلاف ہے مگر بہتر ہے کہ وہ اس مبارک مہینے کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے کھانے پینے سے رکا رَہے، مگر اس پر قضا ضروری ہے خواہ وہ کھانے پینے سے رُکے یا نہ رُکے۔

کسی ملک میں روزہ شروع کرے پھر دوسرے ملک سفر کرجائے، جہاں لوگوں نے اس سے پہلے یا بعد میں روزہ شروع کیا ہو تو اس پر اُنہی لوگوں کا حکم منطبق ہوگا جن کے پاس اس نے سفر کیا ہے۔ انہی لوگوں کے ساتھ روزہ چھوڑے، اگرچہ تیس سے زائد(ii) ہی کیوں نہ ہو جائے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''جس دن تم سب لوگ روزہ رکھو، وہ روزہ کا دن ہے اورجس دن تم روزہ چھوڑ دو، وہی افطار کا دن ہوگا۔' '

اور اگر اس کے روزے اُنتیس سے کم ہوں تو اسے عید کے بعد اُنتیس روزے مکمل کرنے چاہئیں ، کیونکہ ہجری ماہ اُنتیس دن سے کم نہیں ہوتا۔ (iii)

مرض کی بنا پر روزہ رکھنا یا چھوڑنا
ہر وہ مرض جس کی وجہ سے انسان مریض سمجھا جائے، اس کی وجہ سے وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے، دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَن كَانَ مَرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌...﴿١٨٥﴾...سورة البقرة
''اور جو بیمار ہو یا مسافر تواسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی چاہئے۔''

معمولی عوارض جیسے کھانسی یا سردرد کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ اگر طبی طور سے ثابت ہو یا عادت اور تجربہ سے آدمی کو معلوم ہو یا گمان غالب ہو کہ روزہ سے نقصان ہوگا یامرض میں زیادتی ہوگی یا شفا میں تاخیر ہوگی تو ایسے شخص کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے بلکہ اس کے لئے روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ مریض کے لئے روزہ کی نیت کرنا جائز نہیں ۔

کسی شخص کے لئے روزہ اگر غشی کا سبب بنتا ہو تو اس کے لئے افطار کرنا جائز ہے مگر بعد میں اس پر قضا ضروری ہے۔ دن کے کسی حصہ میں اگر اس پر بے ہوشی طاری ہوجائے، پھر غروبِ آفتاب سے پہلے یا اس کے بعد اسے افاقہ ہوجائے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا، کیونکہ اس نے روزہ کی حالت میں صبح کی تھی، لیکن اگر فجر سے لے کر مغرب تک بے ہوشی طاری رہے تو جمہور علما کا خیال ہے کہ اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔

جہاں تک ایسے شخص کے روزوں کی قضا کا معاملہ ہے تو اکثر علما کے نزدیک واجب ہے، خواہ بے ہوشی کی مدت کتنی طویل ہی کیوں نہ ہو، اور بعض علما کا فتویٰ ہے کہ جس پر بے ہوشی طاری ہوجائے یا عقل کھو جائے، یا کسی مصلحت کے پیش نظر سکون یا خواب آور دوا دی گئی ہو جس سے ہوش و حواس ختم ہوگئے ہوں تو اگر یہ صورت حال تین دن یا اس سے کم رہے تو وہ سونے والے پر قیاس کرتے ہوئے روزے کی قضا کرے گا، اور اگر یہ مدت اس سے زیادہ ہو تو پاگل پر قیاس کرتے ہوئے روزوں کی قضا نہیں ۔

جس شخص کو شدید بھوک یا پیاس لاحق ہوجائے جس سے ہلاکت کا اندیشہ ہو، یا غالب گمان کے مطابق بعض حواس ضائع ہونے کا ڈر ہو تو روزہ چھوڑ سکتا ہے بعد میں اس کی قضا دے دے کیونکہ جان کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ البتہ قابل برداشت شدت یا تھکاوٹ یا مرض کے وہم کی بنیاد پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ، اسی طرح مشقت کا کام کرنے والوں کے لئے بھی روزہ چھوڑنا جائز نہیں ، بلکہ ان کے لئے رات ہی سے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے، روزہ کی حالت میں کام چھوڑنے سے نقصان ہو یا دن کے کسی وقت میں جسمانی نقصان کا ڈر ہو تو روزہ چھوڑ دیں اور بعد میں قضا کریں ۔ طالب علم کے لئے امتحانات روزہ چھوڑنے کے لئے عذر نہیں ہیں ۔

جس مریض کو شفا کی اُمید ہو وہ روزہ چھوڑ دے اور شفا کا انتظار کرے اور بعد میں قضا کرے، کھانا کھلانا کافی نہیں ہے۔ البتہ ایسا مریض جسے شفا کی اُمیدنہ ہو، اسی طرح عمر رسیدہ شخص جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے ، یا آدھا صاع اناج دے جو عام طور پر اس شہرکی خوراک ہو (یعنی تقریباً ڈیڑھ کلو اناج) اس فدیہ کو آخر ماہ میں جمع بھی کرسکتا ہے۔ ایک ساتھ تیس مسکینوں کو کھانا کھلا دے، اسی طرح روزانہ ایک مسکین کو بھی کھلا سکتا ہے۔

وہ مریض جس نے روزہ چھوڑا اور اس کی قضا کے لئے شفا کی اُمید لگائے ہوئے ہے، پھرپتہ چلا کہ یہ مرض دائمی ہے تو اس پر واجب ہے کہ ہردن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے، اور جو مریض شفا کے انتظار میں ہو، پھر انتقال ہوجائے تو اس پر یا اس کے اَولیا پر کوئی چیز نہیں ۔

اگر کوئی ایسا شخص ہوجو مریض تھا، پھر شفایاب ہوگیا اور قضا کی طاقت رکھتے ہوئے بھی قضا نہیں کیااور اسی حالت میں اس کی موت آگئی تو اس کے مال سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے گا، اور اگر کوئی رشتہ دار اس کی طرف سے روزہ رکھناچاہے تو جائز ہے۔ کیونکہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من مات وعلیه صیام صام عنه  ولیه)
''جو شخص فوت ہوجائے اور اس پر روزے فرض باقی رہ گئے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔''6

عمر رسیدہ، عاجز اور بہت زیادہ بوڑھا شخص
عمر رسیدہ بڑھیا اور بہت زیادہ بوڑھا مرد جس کی قوت ختم ہوچکی ہو اور روز بہ روز مزید کمی واقع ہو رہی ہو، ان پر روزہ رکھنا ضروری نہیں ۔ اگر روزہ ان کے لئے مشکل ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں :
وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ...﴿١٨٤﴾...سورہ البقرة
''اور اُس کی طاقت رکھنے والے فدیہ کے طور پر ایک مسکین کو کھانا دیں ۔''

کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ بوڑھے مرد اور عورتیں ہیں جو روزہ نہیں رکھ سکتے تو وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔اور جو شخص اتنا بوڑھا ہوچکا ہو کہ اس کے حواس بحال نہ رہے ہوں تو اس پر یا اس کے اہل خانہ پر کوئی چیز بھی واجب نہیں ،کیونکہ وہ اب مکلف نہیں ۔ اور اگر کبھی اچھے بُرے کی تمیز ہو اور کبھی ہذیان بکنے لگے تو حالت ِتمیزمیں تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے، لیکن حالت ِہذیان میں نہیں ۔ ( مجالس شہر رمضان لابن عثیمین ص28)

دشمن سے لڑائی ہو، یا دشمن کے شہر کا محاصرہ ہو اور روزہ قتال میں کمزوری کا سبب بن رہا ہو تو ایسی صورت میں بغیر سفر کے بھی افطار جائز ہے، اسی طرح اگر قتال سے پہلے افطار کی ضرورت محسوس ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام ؓ سے لڑائی شروع ہونے سے پہلے فرمایا:

نکم مصبحوا عدوکم والفطر أقوی لکم فأفطروا)
''تم لوگ صبح کو دشمن سے ملاقات کرنے والے ہو، اور افطار تمہارے لئے باعث ِتقویت ہے لہٰذا روزہ توڑ دو۔'' 7

جس شخص کے روزہ توڑنے کا سبب ظاہر ہو جیسے مریض تو وہ کھلے طور پراِفطار کرسکتا ہے، اور جس کے روزہ چھوڑنے کا سبب پوشیدہ ہو جیسے حیض تو بہتر ہے کہ وہ پوشیدہ طور پر ہی روزہ چھوڑے، کھلے طور پرنہ کھائے پئے، تاکہ اس پرکسی قسم کی تہمت نہ آسکے۔

روزہ کی نیت
ہر واجب روزہ میں نیت ضروری ہے جیسے قضا یا کفارہ کے روزے۔ حدیث میں ہے: (iv)
(من لم یبیت الصیام من اللیل فلا صیام له)8
''اس شخص کا روزہ نہیں جس نے رات ہی سے روزہ کی نیت نہ کی ہو۔''

رات میں کسی بھی وقت نیت کی جاسکتی ہے خواہ فجر سے ایک منٹ پہلے ہی کیوں نہ ہو۔ نیت کسی کام کے کرنے کے لئے دل کے عزم کا نام ہے، نیت کا زبان سے کہنا بدعت ہے۔

جسے علم ہو کہ کل رمضان ہے اور اس نے روزہ کا ارادہ کرلیا تو یہ اس کی نیت ہوگئی، اور جس نے دن میں روزہ چھوڑنے کی نیت کی اور روزہ نہ چھوڑا، تو راجح قول کے مطابق اس کا روزہ صحیح ہے، جیسے کسی نے نما زمیں بات کرنے کا ارادہ کیا اوربات نہیں کی۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ صرف روزہ توڑنے کی نیت کی بنیاد پر ہی وہ مُفْطرمانا جائے گا لہٰذا اس روزہ کی قضا کرلے تو بہتر ہے۔ مرتد ہوجانے سے نیت باطل ہوجاتی ہے اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ۔

رمضان میں روزے رکھنے والا روزانہ تجدید ِنیت کا پابند نہیں ، بلکہ مہینہ کے شروع میں نیت کرلے تو کافی ہے۔ سفر یامرض کی وجہ سے روزہ کی نیت چھوڑ کر افطار کرلے، تو پھر عذر ختم ہوجانے کے بعد تجدید ِنیت ضروری ہے۔

مطلق نفلی روزہ کے لئے رات سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے، حضرت عائشہؓ کی حدیث ہے، فرماتی ہیں :

دخل علي رسول اﷲ ! ذات یوم فقال: (ھل عندکم شيء؟) فقلنا: لا، قال: (فإني إذًا صائم)9
''ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز تشریف لائے اور فرمایا: کیا کھانے کے لئے کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا نہیں ۔ تو آپؐ نے فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں ۔''

اگر کوئی خاص نفلی روزہ جیسے عرفہ یا عاشورا کا روزہ ہو تو رات ہی سے نیت کرلینا بہتر ہے۔

جس شخص نے واجب روزہ رکھا جیسے قضا، نذر یا کفارہ کا روزہ تو اسے چاہئے کہ اسے پورا کرے۔ بغیر عذر کے روزہ توڑنا جائز نہیں البتہ نفلی روزے کے بارے میں حکم رسول ؐ ہے:
(الصائم المتطوع أمیر نفسه إن شاء صام وإن شاء أفطر)10
''نفلی روزہ رکھنے والے والا خود مختار ہے، چاہے تو پورا کرے یا روزہ توڑ دے۔''

خواہ یہ عمل بلا عذر ہی ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ،لیکن بغیر عذر روزہ توڑنے والے کو کیا اس کے روزہ کی حالت میں گزرے ہوئے اوقات کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟ اس سلسلے میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اسے ثواب نہیں ملے گا، البتہ نفلی روزہ رکھنے والے کے لئے جب تک روز چھوڑنے کی کوئی شرعی مصلحت نہ ہو تو روزہ مکمل کرلینا افضل ہے۔

اگر کسی شخص کو طلوعِ فجر کے بعد رمضان داخل ہونے کا علم ہوا ہو تو ایسے شخص کو چاہئے کہ بقیہ دن کھانے پینے سے رُکا رہے ، اور جمہور علما کے نزدیک اس کے بدلے ایک دن کی قضا کرے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(من لم یبیت الصیام من اللیل فلا صیام له)11
''اس شخص کا روزہ نہیں جس نے رات ہی سے نیت نہ کیا ہو۔''

قیدی شخص نے اگر خود رمضان کا چاند دیکھا ہو یا کسی قابل اعتماد شخص کی خبر سے رمضان کے داخل ہونے کا علم ہوا ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے، ورنہ وہ بذاتِ خود اجتہاد کرے گا اور اپنے غالب گمان کے مطابق عمل کرے گا۔ بعد میں اگر اسے معلوم ہوا کہ اس کا روزہ رمضان کے موافق ہے تو جمہور علما کے نزدیک اس کے لئے یہ کافی ہوگا، اور اگر اس کا روزہ رمضان کی ابتدا کے بعد پڑگیا، تب بھی جمہور فقہاء کے نزدیک کافی ہوگا۔ اور اگر رمضان کی شروعات سے پہلے اس کا روزہ پڑگیا تو کافی نہیں ہوگا بلکہ اس پر (اتنے دنوں کی) قضا واجب ہوگی۔ اگر قیدی شخص کے بعض روزے رمضان کے موافق ہوئے اور بعض نہیں تو جو رمضان یا اس کے بعد شوال کے موافق ہوں گے، وہ کافی ہوں گے، لیکن جو رمضان سے پہلے ہوں گے، وہ کافی نہ ہوں گے اور اگر یہ اشکال مسلسل باقی رہے اور معاملہ کی وضاحت نہ ہوسکے تو اس کے روزے کفایت کرجائیں گے، کیونکہ اس نے معلومات کے لئے بھرپور کوشش کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی طاقت کے مطابق ہی پابند کرتا ہے۔

اِفطار اور اِمساک
جب سورج پوری طرح غائب ہوجائے تو افطار کیا جائے۔ اُفق میں باقی گہری سرخی کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إذا أقبل اللیل من ھٰھنا وأدبر النھار من ھٰھنا۔۔۔ فقد أفطر الصائم)
''جب رات مشرق سے نمودار ہونے لگے اور دن مغرب میں چھپ جائے تو روزہ دار افطار کرلے گا۔'' 12

اِفطار میں جلدی کرنا سنت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے بعد ہی مغرب کی نماز پڑھتے تھے، خواہ پانی کے چند گھونٹ ہی اِفطار کے لئے ملیں ۔ اگر روزہ دار افطار کے لئے کوئی چیز نہ پائے تو دل سے ہی افطار کی نیت کرلے اور اپنی اُنگلی نہ چوسے جیساکہ بعض عوام کرتے ہیں ۔ وقت سے پہلے افطار سے بچنا چاہئے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو دیکھا جو اُلٹے لٹکے ہوئے تھے اور اُن کے جبڑوں سے خون بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق پوچھا تو بتایا گیاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے افطار کرلیا کرتے تھے۔

جب فجر طلوع ہوجائے (فجر سے مراد مشرق کی طرف سے اُفق میں پھیلنے والی سفیدی ہے) تو روزہ دار کو فوراً کھانے پینے سے رُک جانا ضروری ہے۔ اذان سنے یا نہ سنے، اور اگر یہ معلوم ہو کہ مؤذّن طلوعِ فجر کے وقت ہی اذان دیتا ہے تو اذان کے ساتھ ہی کھانے پینے سے رُک جانا ضروری ہے، لیکن اگر مؤذن فجرسے پہلے اذان دیتا ہو تو کھانے پینے سے رکنا ضروری نہیں ۔ اور اگر مؤذن کی حالت کا علم نہ ہو، یا کئی مؤذنوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور خود طلوعِ فجر کا اندازہ نہ لگا سکے (جیسا کہ عام طور پر شہروں میں اونچی بلڈنگوں اور روشنی کے سبب ہوتا ہے) تو ایسی صورت میں احتیاطی طور پر کسی معتمد کیلنڈر یا جنتری وغیرہ پر عمل کرے۔

طلوعِ فجر سے دس پندرہ منٹ پہلے بطورِ احتیاط کھانے پینے سے رُک جانا بدعت ہے، بعض جنتریوں میں فجر اور سحری کا جو الگ الگ وقت دیا جاتا ہے، وہ شریعت کے منافی ہے۔

وہ ملک جہاں رات اور دن چوبیس گھنٹے کے ہوتے ہیں ، اگر وہاں رات اور دن کا امتیاز ممکن ہو تو مسلمانوں پر روزہ رکھنا ضروری ہے۔ اور وہ ممالک جہاں رات دن کی تمیز ممکن نہ ہو تو وہ اپنے پڑوسی مماک کے اعتبار سے روزہ رکھیں گے، جہاں رات اور دن کی تمیز ہوسکتی ہے۔

روزہ توڑنے والی چیزیں
حیض و نفاس کے علاوہ روزہ توڑنے والی چیزوں سے تین شرطوں کی بنا پر روزہ توڑا جاسکتا ہے :

  1.  اس کا علم ہو۔
  2. اسے یاد ہو، بھولا نہ ہو۔
  3. اپنے اختیار سے کیا ہو، اس پر مجبور نہ کیا گیا ہو۔


روزہ توڑنے والی بعض چیزیں آدمی کے جسم سے باہر آنے والی اور بعض باہر سے اندر جانے والی ہوتی ہیں ، جو یہ ہیں : جماع کرنا، عمداً قے کرنا، حیض، پچھنا لگوانا، کھانا او رپینا

بعض روزہ توڑنے والی چیزیں کھانے پینے کے حکم میں ہیں ، جیسے منہ کے ذریعہ دوائیں اور گولیاں وغیرہ کھانا، غذائی انجکشن لینا، اسی طرح خون چڑھانا یا منتقل کرنا۔

ایسے انجکشن جو کھانے پینے کا بدل نہ بن سکتے ہوں بلکہ علاج کے طور پر ہوں جیسے پنسلین، انسولین یانشاط آور دوائیں یا کوئی ٹیکہ ہو تواس کا روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا خواہ وہ پٹھے (انٹرا مسکولر) پر لگائے جائیں یا رگوں میں (انٹرا وینس) مگر بہتر یہ ہے کہ ایسے انجکشن بھی رات ہی میں لئے جائیں ۔

گردوں کی صفائی کے لئے خون نکال کرپھر دوبارہ اسے اپنی جگہ پر لوٹانے (ڈیا لسسز) سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حقنہ لگانا (انیما) صحیح بات یہ ہے کہ آنکھ یا ناک میں دوا ڈالنے ، دانت نکالنے اور زخموں پر مرہم لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ تنفس کے لئے استعمال کئے جانے والے اسپرے سے بھی روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ وہ صرف گیس ہے جو پھیپھڑے تک جاتی ہے، غذا نہیں ہے۔ اور وہ شخص رمضان ہو یا غیر رمضان ہمیشہ اس کا محتاج ہے۔ ٹیسٹ کے لئے خون نکالنے سے بھی روزہ پر اثر نہیں پڑتا،کیونکہ یہ ضرورت کی چیز ہے۔ vi

غرغرہ کی دوا کے استعمال سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا بشرطیکہ پیٹ میں نہ جائے، اسی طرح دانت میں کوئی دوا بھرنے سے جس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو، روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

جس نے جان بوجھ کر روزہ میں بلا عذر کھاپی لیا، اس نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا، اس پر توبہ اور اِس روزے کی قضا واجب ہے۔ اور اگر اس نے کسی حرام چیز سے روزہ توڑا ہو ، جیسے کوئی نشہ آور چیز تو اس کا یہ عمل حد درجہ قبیح ترین ہے۔ ایسے شخص پر توبہ واجب ہے۔ اسے کثرت سے نفلی نماز اور روزے وغیرہ کی ادائیگی کرنی چاہئے تاکہ فریضہ کی کمی پوری ہوسکے اور ممکن ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے۔

''اگر کوئی بھول کر کھا پی لے تو اسے چاہئے کہ روزہ پورا کرے کیونکہ اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔''vii

ایک روایت میں ہے: ''اس پر کوئی قضا ہے نہ کفارہ۔''viii

اگر کسی کو بھول کر کھاتے پیتے دیکھ لے تو اسے یاد دلائے کیونکہ اللہ کا ارشاد:
وَتَعَاوَنُواعَلَى ٱلْبِرِّ‌ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ...﴿٢﴾...سورة المائدہ
''نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کا تعاون کرو۔''

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی عام ہے: (فإذا نسیتُ فذَکِّرُوني)''اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلاؤ۔''13

اور درحقیقت بھولنا ایک نارواعمل ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔

اگر کسی کی جان بچانے کے لئے روزہ توڑنے کی ضرورت پڑے تو روزہ توڑا جاسکتا ہے، مگر قضا واجب ہوگی جیسے ڈوبنے یا جلنے والوں کوبچانا۔

جس پر روزہ فرض ہو اور وہ جان بوجھ کر اپنے اختیار سے دن میں جماع کرلے تو اس کا روزہ فاسد ہوجائے گا خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ وہ دن بغیرکھائے پیئے گزارے اور اس پر توبہ، قضا اور کفارئہ مغلظہ ضروری ہے، جیسا کہ ابوہریرہؓ کی حدیث میں ہے:
بینما نحن جلوس عند النبي ! إذا جاءہ  رجل فقال: یا رسول اﷲ ھلکت، قال: (ما لك؟) قال: وقعتُ علی امرأتي وأنا صائم، فقال رسول اﷲ !: (ھل تجد رقبة تعتقھا؟) قال لا، قال:(فھل تستطیع أن تصوم شھرین متتابعین) قال: لا، قال:(فھل تجد إطعام ستین مسکینا؟) قال لا... الحدیث)14
''ہم نبی اکرم ﷺکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسولؐ میں ہلاک ہوگیا، آپؐ نے کہا: کیا ہوگیا تمہیں ؟ اس نے کہا: میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرلیا، آپ نے کہا: کیا تم غلام آزاد کرسکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں ، آپؐ نے کہا : کیا تم مسلسل دوماہ روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ، آپؐ نے کہا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں ... الحدیث''

علاوہ ازیں ، زناکاری، لواطت اور جانوروں کے ساتھ بدفعلی کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔

َ اگر کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں جماع کاارادہ کیا اور پہلے کوئی چیز کھا پی کر اِفطار کرلیا تو اس کا جرم مزید سخت ہے، کیونکہ اس نے رمضان کی حرمت کی دو مرتبہ پامالی کی، ایک مرتبہ کھانا کھا کر، دوسری مرتبہ جماع کرکے، کفارئہ مغلظہ اس پر اور زیادہ ضروری ہے، اس کا یہ حیلہ اس کے لئے وبالِ جان ہے اور اس پر خلوصِ دل سے توبہ ضروری ہے۔ 15

روزہ دار کا اپنی بیوی یا لونڈی کا بوسہ لینا، جسم سے جسم ملانا، گلے ملنا، چھونا اور بار بار دیکھنا جائز ہے بشرطیکہ اپنے نفس پر قابو ہو۔ صحیحین میں عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے اور جسم سے جسم ملاتے تھے، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنے آپ پر قابو رکھنے والے تھے۔''16

لیکن اگر کوئی شخص تیز شہوت والا ہو، اپنے آپ پر قابو نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے روزہ فاسد ہونے کی نوبت آسکتی ہے، اور جماع کا وقوع یا اِنزال وغیرہ ہوسکتا ہے، شریعت کا قاعدہ یہ ہے:
''جو چیز حرام کا ذریعہ ہو، وہ بھی حرام ہے۔''

اگر کسی نے جماع شروع کیا اور فجر طلوع ہوگئی، تو اس پر بیوی سے الگ ہوجانا ضروری ہے، اس کا روزہ صحیح ہے خواہ بیوی سے الگ ہونے کے بعد منی کیوں نہ خارج ہو، اور اگر طلوعِ فجر کے بعد بھی جماع میں لگا رہا تو وہ مُفطر (روزہ توڑنے والا) شمار ہوگا، اس پر توبہ، روزہ کی قضا اور کفارئہ مغلظہ واجب ہے۔

جنابت کی حالت میں صبح کرنے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ غسل جنابت، حیض اور نفاس کا غسل طلوعِ فجر (صادق) کے بعد تک مؤخر کیا جاسکتاہے، مگر نماز کی خاطر جلدی کرنی چاہئے۔

اگر روزہ دار کو نیند کی حالت میں احتلام ہوجائے تو روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ایسا شخص اپنا روزہ مکمل کرلے۔ اس بات پر سب کا اجماع و اتفاق ہے۔

اگر کسی نے روزہ کی حالت میں جان بوجھ کر کسی ایسے طریقے سے منی نکالی ہو جس سے اجتناب ممکن تھا، جیسے چھونے یابار بار دیکھنے کی وجہ سے تواس پرتوبہ ضروری ہے۔ وہ بقیہ دن کھانے پینے سے رُکا رہے اور بعد میں اس روزے کی قضا کرے۔ اگر ہاتھ رگڑنا شروع کیا لیکن خروجِ منی سے پہلے باز آگیا تو اس پر صرف توبہ ضروری ہے، روزہ کی قضا نہیں ۔ روزہ دار کو شہوت اُبھارنے والی ہر چیز سے دور رہنا چاہئے، اور گندے خیالات کو دل سے دور رکھنا چاہئے، البتہ خروجِ مذی کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

اگر کسی شخص کو خود بخود قے ہوجائے تو اس پر قضا نہیں ، اور جس نے عمداً قے کی، وہ قضادے گا۔ جس نے جان بوجھ کر منہ میں اُنگلی ڈال کر یا پیٹ دبا دبا کر ، یاناپسندیدہ بُو سونگھ کر یا کسی ایسی چیز کو لگاتار دیکھ کر جس سے اس کو قے آجاتی ہے، قے کردی تو اس پر قضا واجب ہے اور اگر قے کا غلبہ ہوا مگر کچھ باہر آئے بغیر اندر واپس چلا گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ اس میں اس کے ارادہ کا دخل نہیں ، اور اگر دوبارہ اُس نے خود سے باہر کیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا۔

اور اگر معدہ سے اُبکائی اٹھے تو اس پر قے کا روکنا ضروری نہیں ، کیونکہ یہ اس کے لئے مضر ہوسکتا ہے۔ دانتوں کے درمیان کوئی معمولی سی چیز پھنسی ہوئی تھی، جس کی تمیز نہ ہوسکی اور اس کو نگل لیا تو وہ تھوک کے تابع ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، اور اگر زیادہ ہو جس کا تھوکنا ممکن ہو تو اگر تھوک دیا تو اس پر کوئی چیز نہیں اور جان بوجھ کر نگل لیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔

کُلّی کے بعد منہ میں جو تری ہوتی ہے، اس سے روزہ پرکوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس سے بچنا ناممکن ہے۔ اگر مسوڑھے میں زخم ہو یا مسواک کی وجہ سے خون نکل آئے تو اس کا نگلنا جائز نہیں ۔ بلکہ تھوک دینا ضروری ہے، ہاں اگر حلق میں بلا قصد وارادہ چلا جائے تو کوئی قباحت نہیں ۔

کھانسی یا کسی اور سبب سے نکلے ہوئے بلغم کو منہ تک پہنچنے سے پہلے اگر نگل لیا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، کیونکہ ایسا عام طور پر ہوتا ہے۔ لیکن اگر منہ میں آجانے کے بعد نگل لیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا، اگر بلا قصد اندر چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بلا ضرورت کھانا چکھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے روزہ فاسد ہونے کا خطرہ ہے، بطورِ ضرورت جیسے بچے کو کھلانے کے لئے لقمہ چبانا جبکہ اس کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہ ہو، یا خریدنے کے وقت اورپکاتے وقت ذائقہ چکھنے میں کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ ابن عباسؓ سے مروی ہے فرمایا:
''سرکہ وغیرہ خریدنے کے وقت چکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔''

روزہ دار کے لئے دن کے کسی بھی حصے میں مسواک کرنا سنت ہے خواہ مسواک تازہ ہی کیوں نہ ہو۔ روزہ کی حالت میں مسواک کرنے سے تلخی یا کوئی لذت محسوس ہوئی او راسے نگل لیا، یامسواک منہ سے نکالنے کے بعد دوبارہ کرنا شروع کیا اور اس پر لگا ہوا تھوک نگل لیا تو روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 17

روزہ دار کو کسی قسم کا زخم؍ نکسیر لاحق ہوجائے یا پانی یا پٹرول بلا ارادہ حلق میں چلا جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر پیٹ میں غبار یا دھواں یا مکھی بلا قصد و ارادہ دخل ہوجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

حلق میں آنسو اُترنے، سر میں تیل، مہندی لگانے سے جس کا مزہ حلق میں محسوس ہو اور سرمہ و کریم وغیرہ لگانے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اسی طرح عطر اور عود کی خوشبو سونگھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن دھواں حلق میں پہنچنے سے بچنا چاہئے۔ دن میں ٹوتھ پیسٹ نہ ہی استعمال کرے تو بہتر ہے کیونکہ اس کی تاثیر قوی ہوتی ہے۔ 18

پچھنا لگوانے کے سلسلے میں بڑا اختلاف ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ روزہ دار پچھنا نہ لگوائے۔

سگریٹ نوشی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر روزہ چھوڑنے کے لئے وہ عذر نہیں ہے، اللہ کی معصیت عذر کیسے ہوسکتی ہے؟

پانی میں ڈبکی (غوطہ) لگانا، یا تَر کپڑے کو ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے لپیٹنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، گرمی یا پیاس کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ۔(v) تیراکی سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے روزہ فاسد ہوسکتا ہے۔ جس شخص کا کام غوطہ خوری ہو، یا اسکا کام بغیر غوطہ لگائے نہ چل سکے اورپانی اندر جانے کا امکان نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں ہے۔

رات کے باقی ہونے کا گمان ہو، اسی حالت میں کھایا پیااو رجماع کیا، پھر پتہ چلا کہ صبح ہوچکی ہے تو روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ قرآن کریم کی آیت :{حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلْخَيْطُ...﴿١٨٧﴾...سورة البقرة}معلوم ہونے تک کھانے وغیرہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے، عبدالرزاق نے ابن عباس ؓ سے صحیح سند سے روایت ذکر کی ہے، اُنہوں نے کہا:
(أحل اﷲ لك الأکل والشرب ما شککت)19
''اللہ نے تمہارے لئے کھانا پیناحلال کیا جب تک تم شک میں رہو۔''

اگر فجر طلوع ہونے کے وقت کسی کے منہ میں کھانا یا پانی ہو تو فقہا کا اتفاق ہے کہ اسے تھوک دے اور اس کا روزہ صحیح ہوگا۔ اسی طرح بھول کر کھانے پینے والے کا بھی حکم ہے اس کا روزہ بھی صحیح ہے بشرطیکہ یاد آنے پر جو کچھ اُس کے منہ میں ہے تو فوراً تھوک دے۔

عورت کے لئے روزے کے احکام
جو لڑکی بالغ ہوجائے مگر حیا کی وجہ سے اظہار نہ کرسکے اور روزہ چھوڑتی رہے تو اس پر توبہ اور چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا لازم ہے، اور اگردوسرا رمضان آنے سے پہلے قضا نہیں دی تو قضا کے ساتھ ہی ہر دن کے بدلے میں مسکین کو بطورِ کفارہ کھانا کھلائے۔ یہی حکم اس لڑکی کابھی ہے جو اپنے حیض کے ایام میں شرم کی وجہ سے روزہ رکھتی گئی ہو اور بعد میں قضا نہ کیاہو۔

شوہر کی موجودگی میں عورت رمضان کے علاوہ دوسرے روزے بغیر اس کی اجازت کے نہیں رکھ سکتی، ہاں اگر شوہر سفر پر ہو تو کوئی حرج نہیں ۔

حائضہ اگر پاکی دیکھے (یعنی وہ سفید رطوبت جو حیض ختم ہونے پر رحم سے باہر نکلتی ہے) جس سے عورت کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اب وہ پاک ہوچکی ہے تو رات ہی سے روزے کی نیت کرے اور روزہ رکھے، اور اگر پاکی کا اندازہ نہ ہو تو روئی اندر لگا کر دیکھے، اگر صاف رہی تو روزہ رکھے لے اور اگر حیض کا خون دوبارہ آجائے تو روزہ توڑ دے۔ اگر کسی عورت نے رات سے روزہ رکھا ہو اور مغرب ہونے تک خون نہ آیا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہوگا۔ اسی طرح جس عورت نے خون آنے کا احساس کیا ہو، لیکن خون مغرب کے بعد ہی باہر نکلا تو اس دن کا روزہ صحیح سمجھا جائے گا۔

حائضہ اور نفاس والی عورت کا خون اگر رات کو ہیختم ہوگیا اور اس نے رات ہی میں روزہ کی نیت کرلی لیکن غسل فجر کے بعد کیا تو متفقہ طور پر تمام علما کے نزدیک اس کا روزہ صحیح ہوگا۔

جس عورت کو معلوم ہو کہ اس کی ماہواری کل سے شروع ہوگی پھر بھی وہ نیت کرے اور روزہ رکھے۔ اورجب تک خون نہ آجائے روزہ نہ چھوڑے۔

بہتر یہ ہے کہ حائضہ عورت اپنی فطرت پر باقی رہے، اور اللہ نے اس کے لئے جو مقدر کیا ہے، اس پر راضی رہے۔ خون روکنے والی دوائیں استعمال نہ کرے، حالت ِحیض میں روزہ چھوڑ دے اور پھر قضا کرے، اسی طرح اُمہات المؤمنین اور سلف کی بیویاں کیا کرتی تھیں لیکن اگر اس نے کوئی چیز استعمال کی جس سے خون رک گیا تو روزہ رکھ سکتی ہے اور اس کا یہ روزہ صحیح ہوگا۔

اگر عورت کا حمل بچے کی شکل و صورت کی تخلیق شروع ہونے کے بعد ساقط ہوجائے، مثلاً اعضاء کی بناوٹ، سر، ہاتھ وغیرہ ظاہر ہورہے ہوں تو وہ نفاس والی مانی جائے گی۔ ایسی عورت روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں قضا کرے، اور اگرایسا نہ ہو تو استحاضہ شمار کیا جائے گا۔ اگر وہ عورت روزہ رکھنے کی طاقت رکھتی ہو تو روزہ رکھے۔

نفاس والی عورت اگر چالیس دن سے قبل پاک ہوجائے توروزہ رکھے اور نماز کے لئے غسل بھی کرے، اور اگر چالیس دن کے بعد بھی خون جاری رہا تو روزہ کی نیت کرے گی اور غسل کرلے اور اس کا یہ خون استحاضہ شمار ہوگا، اور اگر اس کی عادت کے مطابق حیض کے دن پڑ جائیں تو حیض سمجھا جائے گا۔

استحاضہ کے خون سے روزہ پرکوئی اثر نہیں پڑتا۔
صحیح بات یہ ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو مریض پر قیاس کیا جائے گا، ان کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور بعد میں ان پر صرف قضا ہے، چاہے اُنہیں اپنے لئے ضرر کا اندیشہ ہو یا بچے کے لئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إن اﷲ تعالی وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل والمُرضع الصوم)
''اللہ نے مسافرسے روزہ اور آدھی نماز معاف کردی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں سے روزہ معاف کردیا ہے۔''20

وہ عورت جس پر روزہ فرض ہو اگر اس کے شوہر نے اس کی رضا سے روزے کی حالت میں جماع کرلیا تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو مرد کا ہے۔ ہاں اگر شوہر نے زبردستی کی تو عورت کو حتیٰ المقدور روکنے کی کوشش کرنی چاہئے، ایسی صورت میں اس پر کوئی کفارہ نہیں ۔ اس دن کی قضا کرلینا، اس کے لئے بہتر ہے۔

جس عورت کو معلوم ہو کہ اس کا شوہر اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکتا، اسے دن میں شوہر سے دور رہنا چاہئے ، اور دن میں زینت و آرائش سے پرہیز کرنا چاہئے۔

روزہ کے ان ذکر کردہ مسائل کے اختتام پر اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ذکر و شکر اور اپنی عبادت پر ہماری مدد فرمائے، او رماہِ رمضان کو ہمارے لئے مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین! وصلی اﷲ علی نبینا محمد وآله وصحبه وسلم


حوالہ جات
1. سنن نسائی :2108، صحیح الترغیب :1؍418
2. صحیح بخاری:1909
3. صحیح بخاری: رقم1960
4. تفسیر قرطبی :2؍378
5. فتاویٰ الدعوة از شیخ ابن باز : رقم977
6. فتاویٰ اللجنةالدائمة،مجلة الدعوة عدد806
7. صحیح مسلم :1120
8. سنن نسائی:2333
9. صحیح مسلم:1154،مسند احمد :6؍207
10. مسند احمد: 6؍341
11. سنن نسائی:2333
12. صحیح بخاری : 1954
13. صحیح مسلم:571
14. صحیح بخاری: 1936
15. مجموع فتاویٰ ابن تیمیه: 25؍262
16. صحیح بخاری:1927،صحیح مسلم:1106
17. المغنی لابن قدامه: 3؍106
18. المغنی:3؍33
19. فتح الباری: 4؍148
20. سنن ترمذی: 715 و قال الترمذی: حدیث حسن


 

i. صحیح بات یہ ہے کہ مدت ِسفرجس میں قصر و افطار جائز ہے 19دن ہے ۔دیکھئے صحیح بخاری :1080
ii. تیس روزے پورے ہونے پر مزید روزے رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔مترجم
iii. فتاویٰ ابن باز، فتاویٰ الصیام : ص15،16... طبع دارالوطن، ریاض
iv. امام بخاری، ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ نے اس حدیث کے موقوف ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔
v. فتح الباری: 1354... شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔ دیکھئے فتاویٰ:26329

vi. فتاویٰ الدعوة لابن باز : رقم979

vii. صحیح بخاری :1933

viii. فتح الباری :4؍156