پاکستانی معاشرے میں جوں جوں دین سے تعلق کمزور پڑتا جارہا ہے، توں توں لوگوں کے رجحانات میں بعض غیرمعمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ ہم اپنے گرد وپیش ایک نئی چیز کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اندر ہی اندر اس کو عجیب سمجھتے ہوئے اجنبیت محسوس کرتے ہیں ۔ لگتا ہے کہ یہ نیارویہ درست نہیں ، اس میں کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ضرور پائی جاتی ہے اور یہ ہماری صدیوں سے چلی آنے والی روایات اور کلچر سے میل نہیں کھاتا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ یہ احساس بھی کمزور پڑتا چلا جاتا ہے اوریوں ایک نئی چیز معاشرے میں اپنے وجود کو مستحکم کرلیتی ہے۔ یہ جدت طرازی اگر تو انفرادی سطح پر ہو تو اس کو پھیلنے میں وقت لگتا ہے لیکن اگر اسے میڈیا کے جدید ترین ذرائع کے ذریعے متعارف کرایا جائے تو پھر برسوں کیا، مہینوں میں یہ نئی چیز اپنی جگہ پیدا کرلیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے ذمہ دار عناصر اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے معاشرے کی نبض پڑھ کر لوگوں کو درست سمت رہنمائی دیں تاکہ ہمارا معاشرہ ایسی کیفیت کا شکار نہ ہوجائے کہ جس کا جی چاہے، محض اِبلاغ کے بل بوتے پر عوام کو اپنے پیچھے لئے پھرے...!!

ان دنوں رمضان المبارک اپنی برکتوں کے ساتھ اُمت ِاسلامیہ پر سایہ فگن ہے۔ چند سالوں سے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ایک نئے رجحان نے جنم لیا ہے جو جدید شہروں سے دیگر علاقوں کی طرف بڑی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ رمضان المبار ک سے ہفتہ عشرہ پہلے لاہور، کراچی اوراسلام آباد جیسے شہروں کی شاہراہیں زکوٰة حاصل کرنے کی مہمات کا مرکز بن جاتی ہیں ۔ اور مختلف خوبصورت نعروں ،دیدہ زیب بینروں اور بورڈوں کے ذریعے کئی ایک گروہ مسلمانوں کی زکوٰة سمیٹنے کے لئے میدان میں اُتر آتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تعداد تو ہسپتالوں کی ہے جس کے ساتھ ساتھ اب تعلیم اور رفاہِ عامہ کے دیگر کاموں کے لئے بھی اشتہاری سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ آج سے صرف چند برس پہلے دیکھیں تو زکوٰة کے حوالے سے اس رجحان اور سرگرمی کا کوئی وجود نہیں ملتا۔

ایک طرف اسلام کے ایک اہم ترین فریضے کے حوالے سے قوم میں پروان چڑھایا جانے والا یہ ایک نیا رجحان ہے، جو شاہراہوں سے بڑھ کر اب اخباروں ، ویب سائٹوں اور متعدد ٹی وی چینلوں تک پھیلتا جارہا ہے۔ دوسری طرف سوے اتفاق سے یہی وہ سال ہیں جن میں اسلام کی خدمت کرنے والے اداروں پر عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے عرصۂ حیات تنگ کرنے کی جنونی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ عالم اسلام میں دین کے حوالے سے عظیم خدمات انجام دینے والے اداروں کو نہ صرف بلیک لسٹ ؍ 'بین' کردیا گیا بلکہ بینکوں میں ان کے حسابات بھی منجمد کئے گئے۔ ان کے معاونین کو طرح طرح سے دھمکایا گیا اور ان کے حسابات کی جانچ پڑتال کے نام پر اُن میں دخل اندازی کو پروان چڑھایا گیا۔ بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ دینی اداروں کی سرگرمیوں کو محدود کرکے اور اُنہیں ڈرا دھمکا کر عوام کے جذبۂ خیر واِنفاق کا رخ محض انسانی مصالح کی طرف موڑا جارہا ہے۔ اس کوشش میں حکومت کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی شامل ہیں جو سیکولراداروں کے لئے بھاری بھرکم اشتہاری مہم کو سپانسر کرتی ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ وہی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو معاشرے میں فسق وفجور اور اِلحاد واباحیت کو پروان چڑھانے والے میلوں اور تہواروں کو بھی ہائی جیک کرکے مسلم عوام کی اپنی ذہنیت کے مطابق رجحان سازی کا مکروہ کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہوتی ہیں ۔

قابل توجہ امر ہے کہ آخری ایک دوسالوں سے یہ رجحان زکوٰة سے بڑھ کر دیگر صدقات تک بھی وسیع ہوتا جارہا ہے جیسا کہ گذشتہ برس عید الاضحی کے موقع پر سندھ میں قربانی کی کھالوں کو جمع کرنے والے لوگوں میں ایم کیو ایم کافی متحرک نظر آئی۔ جو جماعت اپنے پھیلائے ہوئے خوف ودہشت کی بنا پر لوگوں سے بھتے لینے میں مشہور ہو، اگر وہ لوگوں سے قربانی کی کھالیں بھی جمع کرنا شروع کردے تو کسی کو کیا مجالِ انکار ہے! اس پر طرہ یہ کہ بعض مقامات پر پیپلز پارٹی نے بھی قربانی کی کھالوں کو جمع کرنے میں دلچسپی دکھائی...!

ہماری نظر میں اس سارے عمل کے پیچھے بنیادی مسئلہ لوگوں کی دین سے وابستگی میں کمی، تصورِ دین میں تبدیلی، بے عملی اور اسلامی اَحکامات سے لاعلمی ہے۔اوّل تو عام لوگوں کو زکوٰة دینے کی توفیق ہی خال خال ہوتی ہے، اس کے بعد جو لوگ کسی وعظ وتلقین کی بنا پر زکوٰة دینے پرآمادہ ہوجاتے ہیں تو اُنہیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ اسلام کی رو سے ان کے مصارف کیا ہیں ؟ یہ بات بڑے باعمل مسلمانوں کے لئے ایک اچھنبے کی حیثیت رکھتی ہے کہ اسلام کی رو سے زکوٰة کے مصارف میں 'مریض' یا 'تعلیم' سرے سے شامل ہی نہیں ہے۔ غالباً ایم کیوایم یا پیپلز پارٹی ایسی سیکولر جماعتوں کو صدقہ، زکوٰة حاصل کرنے میں اس بناپر کامیابی حاصل ہوجاتی ہے کہ لوگ زکوٰة کو کسی بھی کارِ خیر بلکہ عوامی کام کا مناسب مصرف سمجھتے ہیں ، جبکہ اسلام کا تصورِ صدقہ وخیرات ایک غیرمسلم کے 'ڈونیشن' کے تصور سے کافی مختلف ہے۔

زیر نظر تحریر میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ زکوٰة وصدقات کے حوالے سے اسلامی مصارف کو کتاب وسنت سے پیش کیا جائے تاکہ جو لوگ اللہ کو راضی کرنے اور اپنا شرعی فرض ادا کرنے کے لئے اپنے مال کو خرچ کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ، وہ محض لاعلمی کی بنا پر اس کو درست جگہ پر صر ف نہ کرکے اپنے فریضے کی ادائیگی سے محروم نہ رہ جائیں ۔

اسلام نے نماز کی طرح ہرصاحب ِنصاب مسلمان پر زکوٰة کو فرض قرارد یا ہے، اوریہ فریضہ نہ صرف اسلام کے بنیادی پانچ ارکان سے ہے بلکہ ہمیشہ سے اللہ کے فرستادہ پیغمبروں میں جاری وساری رہا ہے۔ اسلامی تقاضوں کے مطابق اس کی ادائیگی کے بڑے فضائل اور اس کو نظر انداز کرنے والوں کے بارے میں بڑی سنگین وعیدیں زبانِ رسالتؐ سے ادا ہوئی ہیں ۔ حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰة ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کلمۂ طیبہ کے اقرار کے باوجود کبار صحابہؓ کی معیت میں جنگ جیسا سنگین اقدام کیا۔مسلمان رمضان المبارک میں زکوٰة اس لئے ادا کرتے ہیں کہ زکوٰة کے لئے ضرورت سے زائد مال پر ایک سال گزرنا ضروری ہے، چنانچہ آسانی اور حصولِ برکت کے لئے رمضان کے مہینے میں اس فریضے کا پورا کیا جانا مسلم معاشروں کی روایت بن چکا ہے۔ رمضان المبارک میں ثواب کا کئی گنا بڑھ جانا بھی اس مہینے میں ادائیگی زکوٰة کا ایک سبب ٹھہرتا ہے۔

اگر زکوٰة کے نصاب اور اَحکام پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے نصف سے زائد لوگ زکوٰة ادا کرنے کے قابل ہیں ، لیکن دینی احکامات سے لاعلمی، مادیت پرستی اور بے عملی کے باعث ۵ فیصد سے بھی کم لوگ بہ مشکل زکوٰة ادا کرتے ہیں اور ان میں بھی اسلامی احکامات کی مکمل پاسداری کرنے اور پوری طرح زکوٰ ة ادا کرنے والوں کی تعداد بلامبالغہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ جیسا کہ آئندہ صفحات میں اس حوالے سے بعض حیلوں اور شبہات کا تذکرہ بھی کیا جارہا ہے جن کا متدین مسلمان بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔اگر کسی مسلم معاشرے میں زکوٰة کو صحیح طور سے ادا کیا جائے تو اس معاشرے سے غربت اور محتاجی کا یقینی خاتمہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں اس کا تجربہ کئی بار ہوچکا ہے۔

فریضۂ زکوة کی اس قدر اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے زکوٰة کے مصارف کو قرآنِ کریم میں واضح طورپر بیان کردیا ہے۔ زکوٰة محض ایک صدقہ نہیں ہے جس کو ہر خیر کے کام پر صرف کیا جاسکے بلکہ اس کے مصارف میں متعینہ افراد اور محدود مدات ہی شاملہیں ۔ اگر ان مصارف کو پیش نظر نہ رکھا جائے تو فریضۂ زکوٰة سے عہدہ برآ نہیں ہوا جاسکتا۔ ان مصارف کی تفصیل فقہ کی کتب میں بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے، سردست جو سوال پاکستانی معاشرے میں درپیش ہے، اس حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش خدمت ہے ...

وطنِ عزیز میں زکوٰة کے حوالے سے اس نئے رجحان کا آغاز عمران خاں کے شوکت خانم ہسپتال سے ہوا اور اُنہوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تعاون سے صدقات وزکوٰة وصول کرنے کے کام کو پیشہ وارانہ بنیادوں پر ترقی دی۔عمران خان کا قومی کردار تو قابل قدر ہے، البتہ ذاتی طورپر سیتاوائٹ سکینڈل اور ایک یہودی خاندان کی لڑکی سے ان کی شادی اور پھر جدائی نے ان کے اپنے کردار اور شخصی ترجیحات پر بہت سے سوالیہ نشان پیدا کئے ہیں ۔

اس کے بعد، اُن کی دیکھا دیکھی ایک بدنام گلوکار ابرار الحق نے 'سہارا ٹرسٹ' کے نام سے نارووال میں ایک ہسپتال قائم کرکے زکوٰة جمع کرنے کا کام شروع کیا۔ اُن کے گانے لچر پن اور بیہودگی میں اپنی مثال آپ ہیں جو اسی خاصیت کی بنا پر نہ صرف کئی گلی محلوں میں جھگڑوں کا باعث بن چکے ہیں بلکہ عدالتوں نے بھی اُنہیں عورت کی توہین پر مبنی قرار دیا ہے۔اُنہوں نے اسلام کے تصورِ صدقہ وزکوٰة کو مجروح کرنے سے بڑھ کر اُن سے سنگین مذاق کا ارتکاب کیا ہے۔ مثلاًان کا نعرہ ہے کہ ''قربانی اللہ کے لئے، تفریح آپ کے لئے۔'' کھال کی رسید دکھا کر ابرار الحق کا شومفت دیکھیں ۔یہ آفر اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کے مترادف ہے!

اسی طرح فلمی اداکارہ اور رقاصہ میرا کی 'شفقت' نامی این جی او ہے، جن کا کہنا ہے کہ
''پاکستان میں ڈانس کلب ہونا بہت ضروری ہیں ، کیونکہ لوگ ڈیپریشن کا شکار ہیں او ران کے لئے تفریح بہت ضروری ہے۔''

گلوکار اور ڈانسر جواد احمد کی تنظیم 'ایجوکیشن فار آل' اور شہزاد رائے کی 'شیلٹر' نامی این جی او ہے۔ یہ لوگ بدنام پاپ سنگر ہیں جو گاتے ہوئے پورے ہال میں موجود لڑکے اور لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے کر ناچنے او رگانے پر مجبور کرتے ہیں ۔

اِنہی لوگوں کی دیکھا دیکھی بے شمار شہری ہسپتال بھی اس میدان میں کود پڑے ہیں ـــ۔ بعض تعلیم کے نام پر مثلاً 'رِیڈ فائونڈیشن'، بعض ٹی وی میزبان مثلاً عامر لیاقت حسین اپنی والدہ محمودہ سلطانہ فائونڈیشن کے نام پر رفاہی خدمات کے لئے ادارے بنائے بیٹھے اور اس کے لئے میڈیا کے تمام ذرائع بے دریغ استعمال کرتے ہیں ۔ اسی نوعیت کے اداروں میں فاطمید اور سندس فاؤنڈیشن وغیرہ جیسے بیسیوں ادارے ہیں جو زکوٰة حاصل کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں ۔ آئیے ان ہسپتالوں اور اداروں کے بارے میں اسلام سے رہنمائی لیتے ہیں کہ کیا ان پر زکوٰة کو صرف کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

قرآنِ کریم میں سورة التوبہ کی آیت نمبر۶۰مصارفِ زکوٰة کے بارے میں ہے :
إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَ‌آءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّ‌قَابِ وَٱلْغَـٰرِ‌مِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ...﴿٦٠﴾...سورة التوبہ

''بلاشبہ صدقات توفقرا اورمساکین کے لئے ہیں ، او ران کے لئے جوزکوٰة جمع کرنے کے کام پر مامور ہو، جن کی تالیف ِقلب مطلوب ہو، نیز یہ گردنوں کو چھڑانے اور قرضداروں کی مددکرنے اور فی سبیل اللہ میں ، اور مسافروں کے لئے ہیں ۔ یہ اللہ کی طرف سے عائد کیا ہوا فریضہ ہے۔''

اس آیت میں زکوٰة کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں جن میں 1 تا 4 اور آٹھواں مصرف زکوٰة کے ایسے مصارف ہیں جن میں زکوٰة افراد کو دی جاتی ہے۔ یعنی فقیر، مسکین،زکوٰة جمع کرنے والے، جن کی تالیف ِقلب مقصود ہو اور مسافر ... ان متعین افراد کو قرآن کریم نے لِـ کے ذریعے بیان کیا ہے جس کا لفظی ترجمہ 'ان کے واسطے' ہے۔

جبکہ 5 تا 7، تین مصارف وہ ہیں جو افراد کی بجائے مدات ہیں ۔ان کو قرآن نے لِـ کی بجائے فِي سے ذکر کیا ہے۔یعنی گردن آزاد کرنے میں ، چٹی پڑنے میں اور فی سبیل اللہ میں ۔

یہی وجہ ہے کہ زکوٰة غلام کو نہیں دی جاتی بلکہ اس کے مالک کو ادا کی جاتی ہے، ایسے ہی مقروض کو مال ادا کرنے کے بجائے زکوٰة کا مال دراصل قرض دینے والے کو ملتا ہے۔ یہی صورتِ حال فی سبیل اللہ کے بارے میں بھی ہے۔

''یہاں اس حنفی فقیہ کا قول شامل کریں جس نے قرض کو مقروض کی بجائے قرضدار کو دینے کا قول اختیار کیا ہے؟؟؟؟؟''

ان آٹھ مصارف میں شامل افراد یہ ہیں :

  • فقیر سے مراد تو ایسا مسلمان ہے جس کے پاس اپنی حاجت وضرورت کا نصف بھی موجود نہ ہو...
  • اور جس کے پاس کچھ مال تو موجود ہو لیکن اس کی ضروری حاجت پوری نہ ہوتی ہو تو وہ مسکین ہے...
  • تیسرا مصرف وہ افراد جو زکوٰة کو جمع کرنے والے ہیں ، یعنی وصول کرنے والا، حساب لکھنے اور حفاظت وغیرہ کرنے والا...
  • تالیف ِقلب سے مراد کنبہ ؍ قبیلہ کا ایسا بڑا شخص ہے جس کی بات سنی جاتی ہو، اس تعاون سے اس کے شروضرر میں کمی کا امکان ہو، یا اس صدقہ کے ذریعہ عملاًاس کے اسلام لانے کا قوی امکان ہو...
  • گردن آزاد کرنے سے مراد کسی غلام کو آزادی دلانے میں مالی ادائیگی سے مدد کرنا، یا مسلمان قیدیوں کو کفار سے آزاد کرانا وغیرہ...
  • غارم سے مراد ایسا مقروض شخص ہے جس نے اجتماعی یا ذاتی مفاد کے لئے قرضہ لیا لیکن تنگ دستی کی بنا پر وہ اسے ادا کرنے پر قادر نہیں رہا۔ وغیرہ وغیرہ


قرآنِ کریم نے صدقات کی تقسیم کی جو ترتیب بیان کی ہے، اس کی تقسیم میں بھی یہی ترتیب پیش نظر رکھنی چاہئے یعنی پہلے فقرا، پھر مساکین، پھر اس پر کام کرنیوالے وغیرہ، آخر تک

جو بات یہاں خصوصیت سے قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰة کو صرف انہی مصارف پر خرچ کیا جاسکتا ہے، جن کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں مصارفِ زکوٰة کی آیت کے شروع میں موجود لفظ إِنَّمَاسے ...جو کلمۂ حصرہے... یہی علم ہوتا ہے۔ دورِ نبویؐ کا ایک واقعہ اس سلسلے میں بڑا واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیاد بن حارث صدائی نامی ایک صحابی نے آکر زکوٰة میں سے کچھ دینے کا مطالبہ کیا تو آپؐ نے فرمایا:
(إن اﷲ لم یرضَ بحکم نبي ولا غیرہ في الصدقات حتی حَکَمَ هوفیها  فجَزَّأها  ثمانیة أجزاء فإن کنتَ من تلك الأجزاء أَعطیتُك)1
''اللہ تعالیٰ نے زکوٰة کے مصارف کے بارے میں کسی نبی وغیرہ کے رجحان (حکم) پر اعتماد نہیں کیابلکہ اس کی تفصیل بذاتِ خود نازل فرمائی۔ چنانچہ اس کو 8 مصارف میں بانٹ دیا۔ اگر تو اِن 8 مصارف میں سے کوئی ایک ہے تو پھر میں تجھے بھی دے دیتا ہوں (ورنہ نہیں )۔''

اس فرمانِ نبویؐ سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰة کے مصارف سلسلے میں کوئی اُمتی تو کجا،نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم بھی تصرف کرنے کے مجاز نہیں ۔ چنانچہ زکوٰة صرف انہی مصارف میں خرچ کی جاسکتی ہے جن کا تذکرہ اس آیت میں بیان ہوا ہے، اس کے ماسوا نہیں ۔

اگر کوئی شخص لاعلمی میں کسی ایسے شخص کو زکوٰة دے دے جو اس کا حقیقی مصرف نہیں ہے تو متعدد علما کرام کا فتویٰ یہ ہے کہ ایسے شخص کو چاہئے کہ نفع سمیت وہ مالِ زکوٰة اس شخص سے واپس لے کیونکہ ایسی صورت میں اس کی زکوٰة ادا نہیں ہوتی اور اسے دوبارہ ادا کرنا ہوگی، البتہ فقیر شخص کے سلسلے میں غلطی کھانے پر دوبارہ ادا نہ کرنے کی گنجائش ہے۔2

آئیے؛ مذکورہ بالا بنیادی تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے پیش نظر مسئلہ کا جائزہ لیں ۔ اسلام کی رو سے مذکورہ بالا ادارے اوراس نوعیت کی دیگر این جی اوز زکوٰة حاصل کرنے کی مجاز نہیں ہیں جس کی وجوہات اور شرعی ممانعات حسب ِذیل ہیں :
غیرمسلم پر زکوٰة نہیں لگتی!
اسلام کی رو سے زکوٰة صرف مسلمان پر ہی صرف کی جاسکتی ہے، غیرمسلم کو زکوٰة نہیں دی جاسکتی۔ جیسا کہ مشہور ارشاد ِنبویؐ ہے، جو آپؐ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا:
(أن اﷲ افترض علیهم  صدقة في أموالهم  تؤخذ من أغنیائهم  وتردُّ علی فقرائهم )3
''اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مالوں میں صدقہ (زکوٰة) فرض کیا ہے جو ان کے اُمرا سے لے کر اُن کے فقرا پر صرف کیا جائے گا۔''

چنانچہ ایسا غیرمسلم جس کی مال زکوٰة سے تالیف ِقلب کرکے اس کے اسلام لے آنے کی قوی اُمید نہ ہو تو ایسے کافر کو زکوٰة کا مال نہںو دیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں ہر کافر اور اس کافر میں فرق کرنا ضرور ی ہے جس کے مسلمان ہونے کی توقع ہو۔ 4

علامہ ابن منذر رحمة اللہ علیہ نے اس بات پر مسلم علما کا اجماع ذکر کیا ہے کہ
أجمعوا علی أن الذمي لا یُعطٰی من الزکوة ... ولا یُعطی الکافر والمملوك ولا نعلم فیه خلافًا5
''اس امر پر مسلمانوں کا اجماع واتفاق ہے کہ ذِمی (ایسا غیر مسلم جو مسلمانوں کے علاقہ میں رہتا ہو) کو زکوٰة نہیں دی جائے گی ... کافر چاہے غلام ہو یا آزاد ، اس کو زکوٰة نہیں دی جاسکتی ۔ اس مسئلہ میں جملہ مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔''

معلوم ہوا کہ کافر پر زکوٰة کا ما ل صرف کرنا درست نہیں ۔ جبکہ ہمارے پیش نظر سرکاری وپرائیویٹ ہسپتال اور دیگر رفاہی این جی اوز میں اس حوالے سے کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا کہ وہاں مالِ زکوٰة سے غیرمسلم فائدہ اُٹھا رہا ہے یا صرف مسلمان۔ البتہ زکوٰة کے برعکس نفلی صدقات بعض صورتوں میں غیرمسلم کو بھی دیے جاسکتے ہیں ۔

'مریض شخص' زکوٰة کے مصارف میں شامل نہیں !
اوپر قرآنِ کریم سے مصارفِ زکوٰة کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس کا مطالعہ توجہ سے کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ ان مصارف میں مریض شخص شامل نہیں ۔ہمارے ہاں عام طورپر مریض کو بھی زکوٰة کا مستحق سمجھا جاتا ہے، جبکہ مرض کی بناپر زکوٰة کا کوئی استحقاق نہیں ۔ چنانچہ ایسا مریض شخص جوصاحب ِاستطاعت ہو، اس پر زکوٰة کو صرف کرنا جائز نہیں اور اس امر پر تمام علما میں اتفاق ہے۔6
جس کی بنیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے :
(لا حظ فیها لغني ولا لقوي مُکتسب)7
''زکوٰة میں مال دار شخص کا کوئی حق نہیں ،نہ ہی کسی قوی، کمانے کی صلاحیت والے کے لئے۔''

یہاں کوئی فتویٰ وغیرہ کا تذکرہ کیا جائے یا فقہ الزکوٰة سے اس پر بحث نکالی جائے؟؟؟؟

مذکورہ بالا ہسپتالوں میں زکوٰة کو غریب لوگوں کے علاج تک محدود رکھنے کی بجائے اس سے کئے جانے والے مفت یا بارعایت علاج سے زیادہ تر وہی لوگ فائدہ اُٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو خود با اثر یا قوی روابط کے حامل ہوں ۔ چونکہ یہاں زکوٰة امیر وغریب کے امتیاز کے بغیر، ہر مریض پر صرف کی جاتی ہے، اس بنا پر بھی ان اداروں میں زکوٰة جمع کرانا درست نہیں ہے۔

زکوٰة سے ہسپتالوں کی عمارت یا مشینری نہیں خریدی جاسکتی!
زکوٰة کا اوّلین مستحق فقیر یا مسکین شخص ہے کیونکہ یہ بنیادی طورپر مالی عدمِ توازن اور غربت کا ایک مؤثر علاج ہے۔ ایسے ہسپتال جو صرف فقراکے علاج ومعالجے کے لئے ہی مخصوص ہوں یا ان میں زکوٰة کو صرف فقراء ومساکین کے لئے مخصوص رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہو، وہاں بھی زکوٰة کو ادا کرنے میں بعض احتیاطوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ زکوٰة کا مصرف کسی غریب کا براہِ راست مفاد ہے، بالواسطہ مفاد اس میں شامل نہیں ۔ جیسا کہ آغاز میں ہم ذکر کرآئے ہیں کہ 8 میں پانچ مصارف اَفراد کے لئے مخصوص ہیں اور غریب ومسکین شخص ان میں سرفہرست ہے۔چنانچہ بعض ہسپتالوں میں زکوٰة کی رقم سے مہنگی مشینری خریدی جاتی یا اسے عملے کی تنخواہوں ، تعمیراور دیگر مدات میں صرف کیا جاتا ہے تو یہ بھی زکوٰة کے مصارف مںس شامل نہیں ہے۔بلکہ اس مشینری یا عمارت اورانتظام وانصرام سے امیروغریب یکساں طورپر، اور اکثر اوقات اُمرا ترجیحی طورپر فائدہ اٹھاتے ہیں ، اس لئے ہسپتالوں اور این جی اوز کو زکوٰة دیتے ہوئے شریعت کے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

زکوٰة کے سلسلے میں حنفی فقہا نے تملیک یعنی فقیر یا مسکین وغیرہ کو بلاعوض مال کا مالک بنا دینا کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

زکوٰة کی رقم مارکیٹنگ اور تعیشات ونمائش پر صرف نہیں کی جاسکتی
چند سالوں سے جن ہسپتالوں نے زکوٰة جمع کرنے کے کام کو پیشہ وارانہ بنیادوں پر شروع کیا ہے، ان کے ہاں زیادہ سے زیادہ زکوٰة جمع کرنے کے لئے بھاری اخراجات پرمشتمل مارکیٹنگ مہم شروع کی جاتی ہے۔ ان کی کامیابی کا سارا انحصار زیادہ سے زیادہ اور ہمہ جہتی ایڈورٹائزنگ پر ہوتا ہے۔ ایسے ہی ان اداروں کے 'زکوٰة وصدقات سیکشن' کے عملے کے بھاری اخراجات اور لاکھوں روپے کی تنخواہیں ہوتی ہیں ۔ جبکہ اسلام میں نہ تو تنخواہوں کے نام پر مالِ زکوٰة پر اس تعیش کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی مارکیٹنگ مہم کی کوئی ضرورت۔ مارکیٹنگ کے ان غیرمعمولی اخراجات کو مالِ زکوٰة کی مد سے صرف کرنا شریعت کے منشا سے تجاوز ہے۔ انسانی صحت کے ان اداروں کا یہ لادین کلچر روحانی ومذہبی صدقات کے موزوں استعمال کے لئے نا مناسب ہے۔

یہ جدید پرائیویٹ ہسپتال جس طرح اشتہاری مہم چلاتے ہیں ، اور اس سلسلے میں میڈیا کے ہرذریعے کو استعمال کرتے ہیں ، اس پر اُٹھنے والے اخراجات کا اندازہ کسی ایسے ادارے کے مارکیٹنگ بجٹ کو دیکھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے۔مالِ زکوٰة کے ذریعے پرآسائش سہولیات اور لمبی تنخواہیں لینے کا بھی کوئی جواز نہیں ۔زکوٰة کا یہ مال نمود ونمائش اور اسراف وآسائش کی بجائے سادگی اور متانت سے شریعت کے متعین کردہ مصارف میں ہی خرچ ہونا چاہئے۔

جدید ہسپتالوں کا ذریعۂ آمدنی اسلام سے متصادم ہے
اس وقت جس نوعیت کے ادارے زکوٰة جمع کرنے کی مہم میں زیادہ سرگرم ہیں ، نہ تو ان کے ہاں یہتصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ شریعت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے زکوٰة کو شرعی مصالح کے پیش نظرہی صرف کریں گے۔ جہاں تک ان کے ذمہ داران کا تعلق ہے تو وہ معاشرے میں متانت اور دینداری کی عام سطح سے بھی نیچے نظر آتے ہیں ۔ مثال کے طورپر ابرار الحق کے 'سہارا ٹرسٹ' کو زکوٰة ادا کرناگویا اس کے برے کام میں مدد اور اس کو اخلاقی تائید فراہم کرنا ہے۔عمران خاں اور ابرار الحق کے ہسپتالوں کی ڈونیشن جمع کرنے کی مہم میں بدنام فاحشہ اور رقاصہ عورتیں اورفلم انڈسٹری کے فاسق مرد شرکت کرکے لوگوں کو آمادہ کرتے ہیں ۔یہ ہسپتال چندہ جمع کرنے کے لئے ہالی وڈ اور انڈین اداکاروں کی سرپرستی حاصل کرتے ہیں ۔ ان میوزیکل پروگراموں کا ایک نقشہ اور شرکت و سرپرستی کرنے والے افراد کا تعارف ان اداروں کی ویب سائٹس پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ دیکھئے
www.saharaforlife.org; www.shaukatkhanum.org.pk

ایسے لوگ زکوٰة وصدقات کے تصور کو بگاڑ کر اس کو موج مستی کلچر سے خلط ملط کرکے شرعی تصورات کا استحصال کررہے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ان کھلاڑیوں ، اداکاروں اور کلوگاروں کے انسانی خدمت کے منصوبوں میں تعاون گویا ان کے برے پیشے میں تعاون کی ہی ایک صورت ہے۔ اور اس امر میں توکوئی شبہ نہیں کہ ایسے اداروں سے تعاون میں کم ازکم فحاشی وبے حیائی اور اسلامی اقدار کو بے توقیر کرنے میں مدد ضرور ملتی ہے اور اگر ان کے منصوبے نیک بھی ہوں تو ان کے یہ ذرائع جو اُن کے تعارف کا وسیلہ بنے ہیں ، ضرور ناجائز ہیں ۔ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے اداروں سے صدقات وزکوٰة کے ذریعے تعاون کرنے کا مقصد اگر نیک بھی ہے تو ان کا ذریعہ ضرور ناجائز ہے جس سے وہ نیکی بھی متاثرہو کر رہے گی۔

زکوٰة میں باعمل مسلمان کو فاسق وفاجر پر ترجیح دینا شریعت کا منشا ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس فرامین کی بنیادپر فروغ پانے والے ان صدقات کا فائدہ بھی انہی لوگوں کو ملنا چاہئے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر فرامین پر بہتر طور پر عمل پیرا ہیں ۔ صدقات وزکوٰة کا مال کسی فاسق مسلمان پر صرف کرنے کی بجائے کہیں بہتر ہے کہ اس کو ایسے دین دار مسلمانوں پر صرف کیا جائے جو ا س کے شرعاً مستحق ہوں ۔ بالخصوص اس وقت جب ایک باعمل مسلمان اور ایک فاسق مسلمان دونوں فقیر اور مسکین موجود ہوں تو الحب في اﷲ والبغض في اﷲکا تقاضا یہ ہے کہ دین دار مسلمان کو مالی تعاون میں ترجیح دی جائے۔

مسائل زکوٰة پر مایہ ناز کتاب فقہ الزکوٰة کے مؤلف ڈاکٹر علامہ یوسف قرضاوی نے یہی موقف اختیا رکیا ہے ، لکھتے ہیں :
''جو شخص اپنے فسق وفجور کو ظاہر کرنے والا ہو، اباحیت پر قائم رہنے والا ہو ، اسے اس وقت زکوٰة کا مال دینا جائز نہیں جب تک وہ سرکشی نہ چھوڑدے اور توبہ کااعلان نہ کرے۔ ''8

علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ سے بدعتی اور بے نماز شخص کو زکوٰة دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
''ایسے مستحق فقیر، مسکین اور مقروض کو زکوٰة دینی چاہئے جو دین دار اور پابند ِشرع ہو۔بدعات اور فسق وفجور کو ظاہر کرنے والا تو سزا کامستحق ہے، اس سے تعاون کرنے کی بجائے اس سے قطع تعلقی کرنا اور اس کو توبہ کی طرف راغب کر نا چاہئے۔بے نما زشخص سے نماز پڑھنے کا وعدہ لیا جائے، اگر وہ نماز کی پابندی کا وعدہ کرے تو اسے زکوٰة دی جائے، ورنہ نہیں ۔ جب تک بے نماز شخص توبہ نہیں کرتا، اسے زکوٰة سے کچھ نہیں دیا جائے گا۔'' 9

سعودی عرب کی دائمی فتویٰ کونسل کے مطابق بھی جو ضرورت مندشخص نماز نہں پڑھتا، اسے زکوٰة دینا جائز نہیں ۔ 10

شیخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمة اللہ علیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ فاسق ونافرمان کے بالمقابل باعمل مسلمان کو زکوٰة دینا کہیں زیادہ افضل ہے۔ 11

اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مستند فرمان بھی پیش کیا جاتا ہے:
(لا تصحب إلا مؤمنا ولا یأکل طعامك إلا تقي)12
''تجھے مؤمن کی صحبت ہی اختیار کرنا چاہئے او رتیرا کھانا(مال) کوئی متقی شخص ہی کھائے۔''

مذکورہ بالا ہسپتالوں میں یہ سوال ہی خارج از بحث ہے کہ وہاں باعمل مسلمانوں کو کوئی ترجیح دی جائے کیونکہ ان کو چلانے والے بھی اِلا ماشاء اللہ دینی احکام اور اقدار سے کافی دور ہیں ۔ قرآنِ کریم تومسلمانوں کویہ کہتا ہے :
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُۥنَ ﴿١٨...سورة السجدة
''کیا ایمان دارشخص اور فاسق وفاجر دونوں ایک جیسے ہیں ، یہ برابر نہیں ہوسکتے۔''

اس کے بالمقابل ماضی میں جن دینی اداروں کو زکوٰة دی جاتی رہی ہے، یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ عملاً شریعت پر عمل پیرا ہونے میں باقی معاشرے سے کافی ممتاز ہیں ۔ کیونکہ یہی وہ دینی ادارے ہیں جہاں فلم و موسیقی سے احتراز کیا جاتا ہے، معاشرے میں اسلامی شعائر مثلاً داڑھی اور پردہ وغیرہ پر دینی مدارس اور تنظیموں سے وابستہ لوگ ہی سب سے زیادہ کاربند ہیں اور یہاں قرآن و سنت کو پڑھا پڑھایا جاتا ہے جن کے بارے میں فرامین نبویؐ ہیں :
''تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو قرآن کو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں ۔''
''اللہ جس سے خیرکا ارادہ فرماتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔''
''قرآنِ کریم کے حامل میری اُمت کے سب سے بلند مرتبت افراد ہیں ۔''
(تینوں کے حوالے بالترتیب)

سیکولر حکومتیں اپنے دینی فرائض سے غافل ہیں
فی زمانہ دینی اداروں کو زکوٰة دینے کی ضرورت اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ مسلم حکومتیں دینی تعلیم اور اپنے دینی فرائض سے نہ صرف غافل ہیں بلکہ اس اجتماعی فرض کو ادا کرنے والے دینی اداروں اور تنظیموں کو بہانے بہانے سے پریشان کرکے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔

جسمانی صحت کے لئے نہ صرف سرکاری سطح پر کئی ایک ہسپتال کام کررہے ہیں بلکہ پرائیویٹ طبی مراکز بھی...جن میں بعض فلاحی مقاصد کے لئے ہیں ... ہر شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں ۔ دوسری طرف روحانی صحت کے منابع سے حکومت اور عوام آہستہ آہستہ لاتعلق ہوتے جارہے ہیں ۔مزید برآں مصارفِ زکوٰة میں ایک توازن ہونا بھی ضروری ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تمام زکوٰة ایک ہی مصرف میں صرف ہوکر دیگر مصارف بالکل تہی دامن رہ جائیں ۔

فی زمانہ مسلم حکومتیں دراصل ریاست کے سیکولر تصورپر کاربند ہیں جس میں دین کے حوالے سے کسی بھی سرگرمی کو ریاستی ذمہ داری سے نکال کر فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نام نہاد مسلم حکومتیں بھی صحت اور تعلیم کو تو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں اور اس میدان میں عوام الناس کو تشویق و ترغیب دیتی ہیں ، جبکہ دین کے کسی بھی کام مثلاً اشاعت وتبلیغ یا تعلیم دین کو ریاست اپنا فرض ہی تصور نہیں کرتی۔ان الحاد پرور حالات میں مسلم عوام کو اپنی دینی ذمہ داری کو زیادہ توجہ اور یک سوئی سے ادا کرنی چاہئے۔

علاوہ ازیں قرآنِ کریم کی رو سے فلاحی اور دینی سرگرمیوں کی حیثیت بھی برابر نہیں ہے اور قرآن میں رفاہی کاموں کے بالمقابل دینی اُمور کو ایک نمایاں ترجیح دی گئی ہے :
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ ٱلْحَآجِّ وَعِمَارَ‌ةَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَ‌امِ كَمَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَجَـٰهَدَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِ...﴿١٩﴾...سورة التوبہ
''کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد ِحرام کی دیکھ بھال کو اس شخص کے برابر سمجھ لیا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہو اور اعلاے کلمہ اللہ کے لئے جہاد کرتا ہو۔ اللہ کے ہاں یہ دونوں کام برابر نہیں ہوسکتے۔''

اس آیت ِکریمہ میں عام رفاہی اور فلاحی کاموں سے بڑھ کربیت اللہ اور حاجیوں سے متعلقہ فلاحی کاموں کا اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لئے محنت کرنے والوں سے ایک تقابل پیش کیا گیا ہے اور اللہ نے ایسے فلاحی کام کو بھی خالص نیکی کے کام کے مساوی قرار نہیں دیا۔ الغرض مصارفِ زکوٰة کے بارے میں اس کوتاہی کا ہمیں خود بھی اِدراک کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی بتانا چاہئے کہ اسلام اس سلسلے میں ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ فی زمانہ گلوکاروں کے یہ ہسپتال زکوٰة کا صحیح مصرف نہیں ہیں کیونکہ
ان میں غیرمسلم اور بے نماز وفاسق لوگوں پر مالِ زکوٰة صرف کیا جاتا ہے۔
یہاں زکوٰة کو غریب کی بجائے امیر وغریب کے مشترکہ مصالح مثلاً عمارت ومشینری پر بلادریغ خرچ کیا جاتاہے۔
اس مالِ زکوٰة کو اشتہاری مہمات اور لمبے چوڑے انتظامی اخراجات پر لگایا جاتا ہے۔
ان اداروں کا مقصد اگر غلط نہیں تو ان کا ذریعہ او روسیلہ ضرور گناہ پر مبنی ہے، جس کے بد اثرات سے ان کے اچھے کام بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔

ملک بھر کے معتمد دینی مدارس کا فتویٰ
مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر ملک کے معتمد دینی مدارس کے ادارہ ہائے افتاء نے یہی فتویٰ دیا ہے کہ اس نوعیت کی این جی اوز کی سرگرمیاں زکوٰة کا صحیح مصرف نہیں ہیں ، اس لئے ان پر زکوٰة کو صرف کرنا درست نہیں ۔ چنانچہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے مفتی حمید اللہ جان لکھتے ہیں :
''بے دین لوگ جن کو مذہب سے حقیقی واسطہ نہیں اور بے دینی پھیلانا، بے حیائی کی اشاعت ہی ان کا پیشہ ہے، ان کی کسی قسم کی امداد جائز نہیں ہے۔ انسانی ہمدردی اور ہسپتالوں کے نام پر آج کل جو لوٹ کھسوٹ شروع کرکے زکوٰة کو جمع کیا جارہا ہے، جبکہ ان کے ہاں شرعی طریقہ سے صرف کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، یہ امر نہایت افسوسناک او رعوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔''

بریلوی مکتب ِفکر کی مرکزی درسگاہ جامعہ نعیمیہ، لاہور کے مفتی ڈاکٹر سرفراز نعیمی لکھتے ہیں :
''پاکستان کے اندر فحاشی، عریانی، بے حیائی ، غیرمہذب اخلاقی اقدار کو فروغ دینے والے اداروں نے زکوٰة وصدقات وخیرات کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی واضح ہدایات کی روشنی میں یہ امر کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ اہل ایمان ان اداروں پر اپنی زکوٰة وغیرہ ادا کرکے نہ صرف ضائع کررہے ہیں بلکہ برائیوں اور گمراہیوں کے پھیلانے میں ممد ومعاون بھی بن رہے ہیں ۔ اُمت ِمسلمہ کو ان جیسے اداروں کو زکوٰة کی مد میں کسی قسم کا تعاون کرنا جائز نہیں ہے، آئندہ اس سے مکمل پرہیز کیا جائے اور زکوٰة جیسی مقدس عبادت کو گناہ میں تبدیل نہ کیاجائے۔''

اسی سے ملتے جلتے مفہوم کے فتاویٰ جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور، جامعہ خیرالمدارس ملتان، جامعہ قاسم العلوم ملتان،جامعہ محمدیہ اسلام آباد وغیرہ کے ہیں ۔ جامعہ دار الحدیث رحمانیہ ملتان کے مفتی محمد ابراہیم خان بن مولانا شمس الحق کے فتویٰ کے الفاظ یہ ہیں :
''صدقاتِ واجبہ زکوٰة ہو یا صدقات نفلی، چرم ہائے قربانی وغیرہ غیرشرعی اداروں کو دینا ناجائز ہے۔ مذکورہ ادارے غیرشرعی زمرے میں آتے ہیں ، لہٰذا مستحق اداروں کو چھوڑ کر ان غیرشرعی اداروں کو صدقات وغیرہ دینا بالکل ناجائز ہے۔''

زکوٰة اور تعلیمی ادارے
جس طرح زکوٰة کے مصارف میں مریض شامل نہیں ، اسی طرح تعلیم کا فروغ بھی گو کہ ایک مبارک کام ہے لیکن یہ بھی زکوٰة کے مصارف میں شامل نہیں ہے۔اس بنا پر پاکستان میں ایسے تعلیمی ادارے جو محض تعلیم کے فروغ کے لئے سرگرم ہیں ، ان پر زکوٰة نہیں لگتی۔ مثال کے طورپر گلوکار جواد احمد کی 'ایجوکیشن فار آل' نامی تنظیم، اداکارہ زیبا اور محمد علی کی 'علی زیب فائونڈیشن'، 'ریڈ فائونڈیشن'، 'تعمیر ملت فائونڈیشن' وغیرہ۔ یاد رہے کہ یہ تمام این جی اوز یوں بھی سیکولر اور لادین نظریات کی پرچارک ہیں ، اور اُنہیں اسلامی احکام کے فروغ سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہاں شریعت ِاسلامیہ کے متعدد احکامات مثلاً مردوزن کا اختلاط، موسیقی، اور حجاب وغیرہ کو پامال کیا جاتا ہے۔ پھر ان میں زکوٰة کو استعمال کرتے ہوئے وہی کوتاہیاں کی جاتی ہیں جن کا تذکرہ اوپر نکات وار کیا گیا ہے۔ اس بنا پر ان اداروں کو بھی زکوٰة دینے سے فرض کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ان اداروں کے تشخص اور رجحانات کے لئے ان کی ویب سائٹس کا ایک بار مطالعہ ہی کافی ہے :
www.educatepakistan.com; www.read.org.pk; www.alizaibfoundation.org

دینی اداروں کو زکوٰة دینا
چونکہ دینی ادارے بنیادی طورپر دین کے فروغ کے لئے کام کرتے ہیں ، اس لئے ان اداروں میں شریعت کے احکام کی پاسداری کی زیادہ سے زیادہ کوشش کی جاتی ہے۔ پھر ان اداروں کے ذمہ داران شریعت کے احکامات سے واقف اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، اس لئے یہاں زکوٰة کو شرعی مصارف میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں بعض دینی مدارس تو اس دعویٰ کے ساتھ ہی زکوٰة وصول کرتے ہیں کہ ان کے ہاں غریب،یتیم، نادار یا مسافر طلبہ پر زکوٰة صرف کی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ فقیر ومسکین اور مسافر لوگ زکوٰة کے مصارف میں ہی شامل ہیں ۔ بعض دینی مدارس ان طلبہ کی طرف سے نیابتا ً زکوٰة وصول کرکے ان کے مصارف پر خرچ کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے کا موقف رکھتے ہیں ۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اس زکوٰة کو اساتذہ کے مشاہروں ، تعمیر اور دیگر انتظامی اخراجات پر استعمال نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ مدارس کی رسیدوں میں بھی عموماً صدقہ کی نوعیت کا تذکرہ کرنے کے بعد ہرنوعیت کے حسابات (اکائونٹ) جدا گانہ ہوتے ہیں ۔

لیکن ہمارے خیال میں دینی اداروں کو اس تکلف میں پڑنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ زکوٰة کے مصارف میں 'فی سبیل اللہ' کی مد ایسی ہے جو غلبہ اسلام کے لئے بروے کار لائے جانے والے تمام پہلوؤں کو شامل ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ فی سبیل اللہ کسی فرد کے حق کی بجائے ایک مکمل مد کی حیثیت رکھتی ہے جس پر 'فی' کا لفظ واضح دلالت کررہا ہے۔

'فی سبیل اللہ' کا مفہوم ومدعا
موضوع کے اس دوسرے پہلو کو مکمل کرنے کے لئے 'فی سبیل اللہ' کا مفہوم اور اس حوالے سے بعض اہم تصورات کو مختصراً جاننا ضروری ہے۔ فی سبیل اللہ سے مراد 'جہاد فی سبیل اللہ ' ہے جیسا کہ اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :
(لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة: لِغاز في سبیل اﷲ أو لعامل علیها أو لغارم أو لرجل اشتراها بماله أو لرجل کان له  جار مسکین فتصدق علی المسکین فأهداها  المسکین للغني )13
''زکوٰة مالدار شخص کے لئے حلال نہیں ہے ماسوائے پانچ افراد کے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، زکوٰة کو جمع کرنے والا، مقروض شخص، مالِ زکوٰة کو خریدکر استعمال کرنے والا یا ایسا شخص جس کا ہمسایہ مسکین آدمی ہو، اسے مال زکوٰة سے ملے تو وہ ہمسایہ اس مال زکوٰة سے اپنے مال دار ہم سائے کو تحفہ دے دے، یعنی تحفہ کی شکل میں ملنے والا مالِ زکوٰة۔''

چنانچہ حضرت عمرؓ، حضرت ابن عباسؓ، امام مالک رحمة اللہ علیہ ، امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ ، شافعیہ رحمة اللہ علیہ ، حنابلہ رحمة اللہ علیہ ، علامہ طبری رحمة اللہ علیہ ، علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ ، حافظ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ ، حافظ ابن حزم رحمة اللہ علیہ ، ابن قدامہ رحمة اللہ علیہ ، امام شوکانی رحمة اللہ علیہ ، ابو عبید قاسم رحمة اللہ علیہ ، علامہ قرضاوی، ڈاکٹر وہبہ زحیلی اور سعودی مجلس افتاء کے نزدیک اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ (i)ہی ہے۔ 14

اس موضوع کی لمبی چوڑی تفصیلات کا خلاصہ یہی ہے جسے اوپر مختلف علما کے حوالے بیان کردیا گیا ہے، مکمل تفصیلات کے لئے دیکھئے فقہ الزکوٰة:ج2؍ص125 تا 166

امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ ، امام شافعی رحمة اللہ علیہ ، امام مالک رحمة اللہ علیہ ، امام احمد رحمة اللہ علیہ اور ائمہ رحمة اللہ علیہ سلف کی عظیم اکثریت کی رائے یہی ہے کہ مصارف زکوٰة سے متعلق آیت میں فی سبیل اللہ سے مرادوہ مجاہدین ہیں جو رضاکارانہ طورپر کفر کے خلاف لڑتے ہیں ۔ سرکاری خزانے سے ان کو باقاعدہ تنخواہیں نہ ملتی ہوں ۔'' 15

جن فوجیوں کو باقاعدہ تنخواہ ملتی ہو، ان کا زکوٰة میں کوئی حصہ نہیں ، البتہ شافعیہ کا دوسرا قول یہ بھی ہے کہ بیت المال میں رقم نہ ہونے کے سبب اگر اُنہیں کچھ نہ مل رہا ہو تو اس صورت میں جائز ہے۔16

یہ امر واضح ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ سے مراد محض عملی جنگ (قتال) نہیں ۔ اوّل تو اس سے مراد ایسی جنگ ہے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے ہو یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک عورت کا مال زکوٰة ان ٹولیوں کو دینے سے انکار کردیا جو الٰہی مقاصد کی بجائے لسانی وقومی عصبیات یا لوٹ مار کے لئے جنگ وجدل کیا کرتے تھے۔ 17

علاوہ ازیں جہاد کا لفظ جہاں قتال کی تیاریوں کو شامل ہے، وہاں یہ اصطلاح غلبہ دین کے لئے بروئے کار لائی جانے والی تمام سرگرمیوں کو بھی حاوی ہے جیسا کہ ارشادِ نبویؐ ہے:
(أفضل الجهاد کلمة عدل عند سلطان جائر)18
''ظالم وجابرسلطان کے سامنے عدل وانصاف کا کلمہ کہنا بہترین جہاد ہے۔''
اور فرمایا
(جاهدوا المشرکین بأموالکم وأنفسکم وألسنتکم)19
''اپنے مال، جان اور زبان کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے بے عمل لوگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ
(فمن جاھدھم بیدہ فھو مؤمن ومن جاھدھم بلسانه فھو مؤمن ومن جاھدھم بقلبه فھومؤمن ولیس وراء ذلك من الإیمان حبة خردل)
''جو آدمی ان سے ہاتھ سے جہاد کرے، وہ مؤمن ہے، جو اپنی زبان سے جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور جو دل سے ان کے ساتھ جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے۔ البتہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہے۔''20

ان احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ کو زبان، ہاتھ، مال اور دل تمام اعضا سے منسوب ومتعلق فعل قرار دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد غلبہ دین کے لئے ہر نوعیت کی ایسی کوشش کو شامل ہے جس میں دو طرفہ شرکت پائی جائے۔ جیساکہ انسان کا نفس امارہ اس کو برائی کی طرف راغب کرتا ہے تو ا س کو نظر انداز کرکے اللہ کے احکام کی پاسداری کرنا بھی جہاد ہے:
سمعت رسول اﷲ ﷺ المجاھد من جاھد نفسه 21
''میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔''

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے:
فَلَا تُطِعِ ٱلْكَـٰفِرِ‌ينَ وَجَـٰهِدْهُم بِهِۦ جِهَادًا كَبِيرً‌ا ﴿٥٢...سورةالفرقان
''کافروں کے پیچھے لگنے کی بجائے ان سے قرآن کے ساتھ عظیم جہاد کیجئے۔''

جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں 'ہ' کی ضمیر سے مراد قرآنِ مجید ہے۔اور یہ مکی سورة کی ایک آیت ہے جبکہ قتال کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
الجهاد المکي بالعِلْم والبیان والجھاد المدني مع المکي بالید والحدید قال اﷲ تعالی {فلا تطع الکافرین وجاھدھم به جھادا کبیرا} وسورة الفرقان مکیة وإنما جاھدھم باللسان والبیان22
''مکی جہاد علم اور بیان کے ساتھ تھاجبکہ مدنی جہاد،مکی جہادکے ساتھ ساتھ ہاتھ اور تلوار کا جہاد بھی تھا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کی بات نہ مانیں اور ان کے ساتھ اس کے ذریعے بڑا جہاد کریں اور سورئہ فرقان مکی ہے اور آپ ؐ نے مکہ میں مشرکین کے ساتھ زبان اور بیان کا جہاد کیا۔ ''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک فرمان میں طلب ِعلم کو دوٹوک الفاظ میں فی سبیل اللہ قرار دیا ہے:
(من خرج في طلب العلم کان في سبیل اﷲ حتی یرجع)23
''جو شخص طلب علم کے لئے نکلتا ہے، وہ جہاد فی سبیل اللہ میں ہی ہے جب تک وہ لوٹ آئے۔''

'فی سبیل اللہ' کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دے کر اسے زکوٰة کی ایک مد قرار دینے کا موقف مختلف علمانے اختیار کیا ہے چنانچہ امام طبری رحمة اللہ علیہ اپنی تفسیر میں 'فی سبیل اللہ' کے تحت لکھتے ہیں کہ
''اس سے مراد اللہ کے دین کی تائید، اسلامی شریعت کی تاسیس پر صرف کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دشمنان اسلام سے جہاد اور قتال اور کفار سے جنگ اسی جد وجہد کا ایک حصہ ہے۔ کیونکہ کبھی اللہ کے دین کی تائید ونصرت کے لئے قتال او رجنگ کی ضرورت بھی پیش آجاتی ہے۔ بلکہ بعض حالات میں یہی ایک ناگزیر طریقہ رہ جاتا ہے جس سے نصرتِ دین ہوسکتی ہے۔لیکن ایسے بھی ادوار آتے ہیں کہ جن میں نظریاتی جدوجہد ، جنگی اور مادّی جدوجہد سے کہیں زیادہ مؤثر ،گہری اور عمیق ثابت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے دور میں ہے۔ ''

رابطہ عالم اسلامی کے زیر نگرانی مجمع الفقہ الاسلامي نے اپنے اجلاس میں جو شیخ عبد العزیز بن باز رحمة اللہ علیہ کے زیر نگرانی 28؍ربیع الآخر 1405ھ ؍1985ء کو منعقد ہوا، مصارف زکوٰة میں فی سبیل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے یہ قرار دیا کہ
'' فی سبیل اللہ کے مفہوم میں وسعت ہے، جس پر سورة البقرة کی آیت 262 اورسنن ابو داود کی حدیث (ii) وغیرہ دلالت کرتی ہیں ۔ مسلح جہاد سے اللہ کا کلمہ بلند کرنا مقصود ہوتا ہے اوریہی مقصد دعوت الیٰ اللہ اور اشاعت ِدین کے کاموں سے بھی پورا ہوتا ہے، چنانچہ یہ دونوں باتیں فی سبیل اللہ کے مصداق میں شامل ہیں جیسا کہ جہاد کے مفہوم میں وسعت پر کئی احادیث دلالت کرتی ہیں ۔

حکومتیں اپنے تحفظ کے لئے بھاری بجٹ منظور کرتی ہیں لیکن دعوتی جہاد کے لئے اکثر ممالک کے بجٹ میں کوئی رقم تجویز نہیں کی جاتی، ان وجوہات کی بنا پر یہ اجلاس کثرتِ رائے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ دعوت الیٰ اللہ، اس کو تقویت دینے اور اس میں معاون بننے والے جملہ کام آیت میں مذکور فی سبیل اللہ کے معنی میں شامل ہیں ۔'' مختصراً24

علامہ یوسف القرضاوی اس موقف کے متعدد دلائل دینے کے بعد لکھتے ہیں :
''یہ تمام قرائن اس اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ آیت ِمصارف میں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہی ہے جیسا کہ جمہور کی رائے ہے۔ان دلائل کے پیش نظر میں اس رائے کو ترجیح دیتا ہوں کہ فی سبیل اللہ کا لفظ نہ تو تمام مصالح اور نیک کاموں کو شامل ہو، اور اس میں اس قدر وسعت نہیں ہے اورنہ ہی اس میں اس قدر زیادہ تنگی ہے کہ یہ صرف جنگی جہاد (قتال) کے مفہوم میں محصور سمجھا جائے۔ جہاد تو قلم سے بھی ہوتا ہے اور زبان سے بھی، فکری بھی ہوتا ہے اور تربیتی بھی، اجتماعی بھی اور اقتصادی بھی،سیاسی اور عسکری بھی۔ اور جہاد کی ان جملہ اقسام کے لئے مال اور امداد کی ضرورت ہے۔البتہ اس میں ایک اساسی شرط پایا جانا ضروری ہے کہ جہاد کی ہرنوع میں تائید اور اعلاے کلمة اللہ مقصود ہو۔ اس طرح کی ہرجدوجہد 'جہاد فی سبیل اللہ' ہے خواہ اس کی کوئی بھی قسم ہو اور خواہ اس میں ہتھیار استعمال کئے جائیں یا نہیں کئے جائیں"
آج ہمارے اس دور میں ہم ایک اور نوعیت کے غازی تیار کرتے ہیں اور ایک اور قسم کے حفاظتی دستے ترتیب دیتے ہیں تاکہ وہ اسلامی تعلیمات کو علمی اور فکری انداز میں پیش کرکے نظریاتی فتوحات حاصل کرسکیں اور اسلام پر کئے جانے والے حملوں کی بہترین مدافعت کرسکیں ۔''25

کیا فی سبیل اللہ میں تمام کارِ خیر شامل ہیں ؟
'فی سبیل اللہ' زکوٰة کی ایک اہم مد ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مد ہمہ نوعیت کے کارِ خیر، رفاہی اور فلاحی کاموں تک وسیع ہے لیکن یہ موقف درست نہیں کیونکہ قرآنِ کریم اوراحادیث سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ قرآن میں مصارف ِزکوٰة سے قبل کلمہ حصر إِنَّمَا کا یہی تقاضا ہے اور احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض لوگوں کو زکوٰة سے روکنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ پھر زکوة کو آٹھ مصارف میں محدود کرنا بے مقصد ٹھہرتا ہے،کیونکہ اس طرح یہ مد اس قدر وسیع ہو جاتی ہے کہ ہر قسم کے کارِ خیراس میں شامل ہوجاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مختلف علما نے اس موقف کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ چنانچہ علامہ ناصر الدین البانی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :

''آیت ِمصارف کی یہ تفسیر کہ اس سے جملہ اعمالِ خیر مراد ہوں ، سلف میں سے کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔اگر معاملہ اس طرح ہوتا تو پہر آیت کریمہ میں زکوٰة کو صرف آٹھ مصارف میں محدود کرنے کی کیا ضرورت تھی۔''26

امام ابو عبید قاسم رحمة اللہ علیہ بن سلام اپنی کتاب 'الاموال' لکھتے ہیں :
''میت کا قرض ادا کرنے، کفن خرچ مہیا کرنے، مساجد کی تعمیر، نہروں کی کھدائی، اور ان کے مشابہ نیکی کے کاموں میں زکوٰة کا مال صرف کرنا، امام سفیان اور اہل عراق ودیگر علما کا اس پر اتفاق ہے کہ کفایت نہیں کرتاکیونکہ یہ اُمور آٹھ مصارف میں شامل نہیں ہیں ۔''27

علامہ قرضاوی نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ زکوٰة کو مفادِ عامہ اور رفاہی سرگرمیوں کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا جس کے بعد انہوں نے موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے دلائل کا موازنہ پیش کرکے اسی رائے کوترجیح دی ہے کہ فی سبیل اللہ کی مد میں بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ کام اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے ہو۔28

مذکورہ بالا دلائل اور علما کرام کے اقتباسات سے یہ امر بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ فی سبیل اللہ کی مد میں نہ تو ہر خیر کا کام شامل ہے اورنہ ہی یہ صرف جنگی جہاد کے لئے مخصوص ہے، بلکہ اس مد میں جہاد کی تمام صورتیں شامل ہیں ، جن کی مزید صراحت علامہ قرضاوی نے اس اساسی شرط کے ساتھ کردی ہے کہ ان میں اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی کوئی صورت پائی جاتی ہو۔

اس بنا پر مدارسِ دینیہ اوراسلامی تحریکیں توفی سبیل اللہ کی مد کی وجہ سے مالِ زکوٰة کی مستحق ٹھہرتی ہیں ۔ اور ان کے اس استحقاق کی بناپر اس پیچیدگی کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ مدارس میں یہ زکوٰة صرف غریب اور فقیر طلبہ پر ہی صرف کی جائے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہی مدارس میں صاحب ِنصاب شخصیات کے کئی بچے بھی مفت تعلیم حاصل کرتے اور بعض اوقات وہاں قیام وطعام کی سہولتوں سے بھی مفت فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ اگر وہ زکوٰة کا مصرف نہیں ہیں تو پھر اس مال زکوٰة کا استعمال ان کے لئے حرام ٹھہرتا ہے۔

اگر بعض متمول لوگ مالِ زکوٰة کے سلسلے میں یہ احتیاط کرتے ہیں کہ وہ وہاں سے کسی قسم کا فائدہ نہ اُٹھائیں ، یا اس مال کو مدارس کی تعمیر میں نہ لگایا جائے تو یہ ان کی تقویٰ پر مبنی ذاتی احتیاط ہے،(iii) وگرنہ جہاد فی سبیل اللہ... جو ایک مد ہے، محض کسی فرد کا مفاد نہیں ... میں شامل ہونے کی بنا پر اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

ایسے ہی اگر فی سبیل اللہ کا یہی مفہوم ہے کہ یہ اعلاے کلمہ اللہ کی تمام مساعی کو حاوی ہے تو مدارس کے اساتذہ کے مشاہرے بھی اس سے ادا کیے جاسکتے ہیں ، البتہ مساجد کا مسئلہ بعض دیگر وجوہ کی بناپر مال زکوٰة سے مستثنیٰ ہے۔فی سبیل اللہ کے مفہوم میں وسعت و نظر ثانی کی ضرورت ممتاز حنفی علما بھی محسوس کرتے رہے ہیں ، چنانچہ مفتی کفایت اللہ رحمة اللہ علیہ نے مدرسہ کے اساتذہ کی تنخواہیں کے سلسلے میں ایک فتویٰ دیتے ہوئے لکھا ہے:
''چونکہ حنفیہ کے نزدیک زکوٰة کی ادائیگی کے لئے تملیک ِبلاعوض ضروری ہے اور اس اصل سے عاملین کے سواکوئی مستثنیٰ نہیں ہے، اس لئے حنفی اُصول کے مطابق مدرسین کی تنخواہ زکوٰة سے نہیں دی جاسکتی۔ البتہ دیگر ائمہ رحمة اللہ علیہ کے مسلک کے موافق جو تملیک کو ضروری نہیں سمجھتے اُمورِ خیر میں زکوٰة کا روپیہ صرف خرچ کرنے کی اجازت دیتے ہیں ، اس کی گنجائش ہے کہ مدرسین کی تنخواہیں زکوٰةسے ادا کردی جائیں ۔ اس میں شک نہیں کہ دینی تعلیم کی وجود وبقا اسلامی عربی مدارس پر ہی موقوف ہے، ان مدارس کی زندگی کا دارومدار آج کل زکوٰة پر ہی رہ گیا ہے۔ معاملہ اہم ہے، مگر اس کا فیصلہ حنفیہ کے علماے متدین وموقعہ شناس اجتماعی رائے دے کر ہی دے سکتے ہیں ۔''29

مشہور حنفی عالم مولانا گوہر رحمن نے مدارس کے عام مصارف پر زکوٰة لگنے کا یہ جواب دیا:
''حنفی مسلک کے مطابق تو زکوٰة کی ادائیگی کے لئے تملیک شرط ہے، اور زکوٰة لینے والے کا فقیر ہونا بھی شرط ہے، سوائے عاملین کے۔ اس لئے نادار طلبہ کے علاوہ مدرسے کے دوسرے اخراجات زکوٰة سے پورے نہیں کئے جاسکتے۔ لیکن اس موقف کی مجھے حنفی مسلک میں کوئی قوی دلیل معلوم نہیں ہوسکی۔

مصارف زکوٰة میں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے، او ردینی تعلیم بھی جہاد کے مفہوم میں شامل ہے بلکہ امام جصاص نے تو جہاد بالعلم کو جہاد بالسیف سے افضل قرار دیا ہے۔(iv) چنانچہ تملیک کی شرط فقرا ومساکین کی مد میں تو تسلیم کی جاسکتی ہے، لیکن جہاد کی مد میں اس کے شرط ہونے کی کوئی قوی دلیل موجود نہیں ۔میری ناقص رائے میں دینی مدارس اور دعوتی وتبلیغی تنظیموں کے تمام اخراجات زکوٰة سے پوری کئے جاسکتے ہیں ۔''30


أحکام القرآن از جصاص 3؍118 اور زاد المعاد از حافظ ابن قیم: 2؍39،40

آج اگر بعض ادارے تعلیم کے فروغ کے نام پر سرگرم ہیں تو محض ایک کارِ خیر ہونے کی بنا پر وہ مالِ زکوٰة کے مستحق نہیں بنتے، جب تک کہ ان کے پیش نظر تعلیم اس اساسی شرط کی حامل ہو کہ وہ تعلیم اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی نوعیت سے ہو۔ دوسرے لفظوں میں قرآن وسنت کی تعلیم تو اس میں شامل ہے، ایسے ہی قرآن وسنت کے علما کو جدید علوم (سائنس وکمپیوٹر وغیرہ) سے مزین کرنا بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ ان علوم کو سیکھنے کا مقصد اللہ کے دین کو بلند کرنے کی بہتر صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ البتہ اگر کسی تعلیم کا مقصد معاش کمانا یا اپنے اہل وعیال کا حلال روزی سے فرض ادا کرنا ہو تو یہ ایک کارِ خیر تو ہے لیکن جہاد فی سبیل اللہ نہیں ۔ اس بنا پر آغاز میں ذکر کردہ متعدد وجوہ کے علاوہ سیکولر تعلیم اور دیگر مقاصد کیلئے حاصل کئے جانے والے علم کو فی سبیل اللہ شمار کرکے ان پر زکوٰة صرف نہیں کی جاسکتی۔ واللہ اعلم

علامہ یوسف قرضاوی دینی تعلیم کی اسی اہمیت کے پیش نظر لکھتے ہیں :
''اگر کسی مقام پر حالات کا نقشہ یہ ہو کہ تمام تعلیمی ادارے مشنریوں کے قبضے میں ہوں یا اشتراکی تسلط میں ہویا سیکولر تعلیم کے ادارے بن چکے ہوں تو ایک دینی اصلاحی درسگاہ کا قیام ایک عظیم جہاد ہوگا۔ اور اس درسگاہ سے نژادِ نو کو اسلامی فکری تعلیم سے آراستہ کرکے اُنہیں دشمنانِ اسلام کی فکری اور نظریاتی یلغار کے بالمقابل کھڑا کیا جائے گا۔اور اُنہیں اس نہج پر تیار کیاجائے گاکہ وہ مختلف نظاموں ،کتابوں اور لٹریچر میں پھیلے ہوئے زہر کا تریاق دریافت کریں اور اُمت ِمسلمہ کوا س زہر سے محفوظ رکھنے کی سعی کریں ۔ ''31


حوالہ جات
1. سنن ابوداود: 1630
2. السیل الجرار : 1؍816
3. صحیح بخاری: 1308
4. المغنی: 6؍427 تا 429، حاشیہ دسوقی: 1؍495
5. المُغني:2؍517
6. کویتی فقہی انسائیکلو پیڈیا: 23؍313
7. سنن ابو داود: 1391'صحیح'
8. 2؍709
9. فتاویٰ ابن تیمیہ: 25؍87، الاختیارات الفقهية:ص61
10. فتاوٰی اللجنة الدائمة: 10؍31
11. مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین: 18؍433
12. ترمذی، ابو داود، احمد:10909
13. صحیح سنن ابو داود: 1441
14. فقہ الزکوٰة:1؍641،2؍257؛الفقه الإسلامي وأدلته: 2؍874، بدایہ:1؍325، نیل الاوطار3؍131
15. تفہیم المسائل از مولانا گوہر رحمن:2؍115
16. المغنی: 6/436، حاشیہ ابن عابدین: 2/61، فتح القدیر: 2/17، الشرح الکبیر مع الدسوقي: 1/497، المجموع: 6/212، 213،موسوعة فقهية:23/323
17. تفسیر قرطبی: 8؍185
18. سنن ابو داود:4344
19. سنن ابو داود:2504
20. صحیح مسلم:50
21. سنن ترمذی:1621
22. مجموع الفتاویٰ:28/38
23. سنن ترمذی:2647
24. کتاب 'مصرفِ زکوٰة فی سبیل اللہ': ص 203 تا 206
25. فقہ الزکوٰة مترجم: ج2؍153، 154
26. تمام المنة:382
27. فقرہ: 1979
28. مزیدتفصیل کے لئے فقہ الزکوٰة: 135 تا 156
29. کتاب 'مصر ف زکوٰة فی سبیل اللہ': ص 162
30. تفہیم المسائل: 2؍107
31. فقہ الزکوٰة: 2؍156

 


 

i. امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد اور ائمہ سلف کی عظیم اکثریت کی رائے یہی ہے کہ مصارف زکوٰة سے متعلق آیت میں فی سبیل اللہ سے مرادوہ مجاہدین ہیں جو رضاکارانہ طورپر کفر کے خلاف لڑتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے ان کو باقاعدہ تنخواہیں نہ ملتی ہوں۔'' (تفہیم المسائل از مولانا گوہر رحمن:115/2)جن فوجیوں کو باقاعدہ تنخواہ ملتی ہو، ان کا زکوٰة میں کوئی حصہ نہیں، البتہ شافعیہ کا دوسرا قول یہ بھی ہے کہ بیت المال میں رقم نہ ہونے کے سبب اگر اُنہیں کچھ نہ مل رہا ہو تو اس صورت میں جائز ہے۔(المغنی: 436/6، حاشیہ ابن عابدین: 61/2، فتح القدیر: 17/2، الشرح الکبیر مع الدسوقی: 497/1، المجموع: 212/6، 213،موسوعہ فقہیہ:323/23)
ii. اُمّ معقل اسدیہ کو نبی کریم نے اس اونٹ پر حج کرنے کا حکم دیا جسے ان کے شوہر نے (زکوٰة میں ادا کرتے ہوئے) فی سبیل اللہ وقف کردیا تھا، اور فرمایا کہ حج بھی فی سبیل اللہ ہی ہے۔ مختصراً (سنن ابو داود:1989 ) علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے (صحیح سنن ابو داود:1752) جبکہ امام شوکانی نے اس حدیث کو اضطراب اور سند میں متکلم فیہ راوی کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے۔ (نیل الاوطار: 1814)
iii. فی سبیل اللہ کو عام مراد لینے کی بجائے بہتر یہی ہے کہ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کو مراد لیا جائے جیسا کہ جہاد مراد ہونے پر اتفاق ہے۔ مدرسین کی تنخواہیں، مناظرین اور مبلغین کا کرایہ وغیرہ وغیرہ زکوٰة سے ادا ہوسکتے ہیں۔ البتہ غنی طلبہ کو اس سے اس بنا پر احتراز کرنا چاہئے کیونکہ تعلیم وتعلّم یہ جہاد کی ایک مجازی قسم ہے، غنی کواس سے احتراز کرنا بہتر ہے۔ (فتاویٰ اہل حدیث: 4942تا 496،504)
iv. أحکام القرآن ازامام جصاص 1183 اور زاد المعاد از حافظ ابن قیم: 392،40