314-Sep 2007

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

یوں تو تقویم (کیلنڈر) اور رؤیت ِہلال ایک مستقل نوعیت کا عالمی اور ملی موضوع ہے لیکن رمضان المبارک کے موقع پر یہ مسئلہ مسلم معاشروں اور غیرمسلم ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں کے لئے بڑی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اخبارات و رسائل میں اس پر مضامین لکھے جاتے ہیں اور بالفرض کہیں اختلافِ رائے ہوجائے تو پھر اس واقعہ کو مثال بنا کر ہجری تقویم اور اسلام کو خوب نشانہ بنایا جاتا ہے۔

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ایک بار پھر اپنی تمام رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ مسلم اُمہ پر سایہ فگن ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہِ فضیل سے اُمت کو پوری طرح فیض یاب ہونے کی توفیق دے۔ ذیل میں اسلامی تقویم اور رؤیت ِہلال کے حوالہ سے عام طور پر اُٹھائے جانے والے سوالات ، اعتراضات اور تصورات کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے :
عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ پوری مسلم اُمہ ایک ہی دن عید اور اپنے قومی تہوار کیوں نہیں مناتی، اُن کی مقدس عبادات دنیا بھر میں اکٹھی کیوں نہیں ہوتیں ...؟

یہ شبہ ایک مخصوص طرزِ فکر کا نتیجہ ہے جبکہ فی الواقع ایسا نہیں کیونکہ پوری اُمت ِمسلمہ عیدین اور رمضان وحج ایک ہی دن ادا کرتی ہے، دنیا بھر میں عید الفطر یکم شوال کو ہی منائی جاتی ہے۔ جس جگہ عید منائی جائے گی اور جہاں بھی پہلا روزہ رکھا جائے گا، وہاں بالترتیب یکم شوال اور یکم رمضان المبارک ہی ہوں گے۔ یہ شبہ دراصل عیسوی تقویم کو برتری دینے اور اس کو میزان قرار دینے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے جس کو غیرمسلم ہی زیادہ اُجاگر کرتے ہیں ۔ کیونکہ عیسوی تقویم کی رو سے بعض جگہ یکم دسمبر کو پہلا روزہ ہوتا ہے تو دوسرے مقام پردو دسمبر کو پہلا روزہ ہوتاہے جبکہ حقیقی، فطری اور الٰہی تقویم کے مطابق ہردو مقام پر روزہ یکم رمضان کو ہی ہوتا ہے۔ ایک مستند، فطری اور الٰہی تقویم کو انسانوں کے خود ساختہ اُصولوں پر مبنی تاریخوں سے پرکھنا کہاں کا انصاف ہے؟

یہ اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا کہ کرسمس کو ایک ہی تاریخ پر منانا چاہئے جیسا کہ اس سال کرسمس کا دن بعض ممالک میں ۱۴ ذو الحجہ کو منایا جائے گا توبعض میں ۱۵ ذوالحجہ کو۔ ظاہر ہے جس طرح یہ اعتراض درست نہیں ، اس طرح ہجری تقویم پر اعتراض کرنا بھی درست نہیں !!

یوں بھی یہ تقاضا عملاً درست نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ روز و شب کی تبدیلی کے پس پردہ محرک قدرتی عوامل یعنی زمین، سورج اور چاند وغیرہ کی حرکت کا نتیجہ دنیا بھر میں یکساں سامنے نہیں آتا۔ دنیا بھر میں نہ توایک ہی وقت پر دن طلوع ہوتا ہے اور نہ ہی رات چھاتی ہے۔ یہ بات بچے بچے کو معلوم ہے کہ دنیا کے ہر خطے کا وقت باقی دنیا سے مختلف ہے، یہی صورتحال تاریخوں کے بارے میں بھی ہے کہ پوری دنیا میں ایک ہی روز چاند کی رؤیت بھی ناممکن ہے۔

ایسا تقاضا کرنے والے لوگ اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معمولات اور تہوار ایک ہی وقت پرشروع کرتے ہیں جبکہ اس تصور کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ ایسا ہونا عملاً نا ممکن ہے۔ البتہ انسان اپنے خودساختہ اُصولوں کے ذریعے مصنوعی اشتراک ضرور پیدا کرلیتا ہے جو ظاہراً تو ہوتا ہے، حقیقتاً نہیں ۔ چنانچہ واضح رہنا چاہئے کہ نہ تووہ تاریخیں کوئی زمینی حقیقت رکھتی ہیں اور نہ ہی وہ یومیہ اوقات (ٹائم) جنہیں انسانوں نے وضع کرکے اشتراک کا مصنوعی تصور قائم کررکھا ہے۔دنیا کے مختلف خطوں کو مختلف اوقات میں بانٹا گیا ہے جنہیں سٹینڈرڈ ٹائم (GMT)کہا جاتا ہے،اور یہ اوقات حقیقی نہیں بلکہ انسانوں کے خود ساختہ ہیں ۔رئیل ٹائم اور سٹینڈرڈ ٹائم میں بڑا فرق ہے جس میں لند ن کے ایک علاقے گرینچ Greenwichکو مرکز قرار دے کر،دنیا کے مختلف ممالک کی سرحدوں یا زمینی حدود میں وقت کو بانٹ کر وہاں ایک مصنوعی وقت کا فرضی معیار قائم کر دیا گیا ہے۔اسکی سادہ مثال یہ ہے کہ لاہور اورامرتسر میں زمینی فاصلہ تو سوکلومیٹر کے لگ بھگ ہےلیکن دونوں کے سٹینڈرڈ ٹائم میں نصف گھنٹے کا فرق ہےجبکہ لاہور اور کراچی میں ۱۲۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہےلیکن دونوں کا سٹینڈرڈ ٹائم ایک ہی ہے۔یہی صورتحال تاریخوں کےبارے میں بھی ہےکہ'بین الاقوامی خط ِتاریخ' International Date Line پرپہنچ کرمصنوعی طورپر لازماً عیسوی تاریخ کوتبدیل کرلیا جاتا ہےتاکہ تاریخوں میں مصنوعی اشتراک برقرار رہ سکے۔ i

اس بنا پر جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے تہوار ایک دن شروع نہیں ہوتے، ان کے تہوار بھی دنیا بھر میں ایک وقت اور ایک دن میں منعقد نہیں ہوپاتے۔ دنیا بھر میں کسی تقریب کو مشترکہ طورپر دن کے ۱۰ بجے تو شروع کیا جاسکتا ہے لیکن کیا دنیا میں ایک ہی وقت پر ۱۰ بج جاتے ہیں ، ظاہر ہے ایسا نہیں ۔اسی طرح چونکہ عیسوی تقویم میں تاریخیں خود ساختہ ہیں ، اس لئے ان تاریخوں کو بھی مصنوعی طورپر ایک قرار دیا جاتا ہے، جبکہ درحقیقت دنیا بھر میں ایک ہی تاریخ تو کجا، دن اوررات کاایک وقت پر شروع یا ختم ہونا ہی سرے سے ممکن نہیں !

اسلام جس حقیقی اور فطری تقویم کا داعی ہے، انہی فطری اُصولوں کے پیش نظر یہاں اُصولاً یہ امر ناممکن ہے کہ تمام دنیا ایک ہی وقت اور دن میں کوئی تہوار منعقد کر سکے۔ مثلاً ہجری تقویم کے مطابق نئے ماہ کا آغاز مغرب کے بعد رؤیت ِہلال سے ہوتا ہے۔ جس وقت دنیاکے ایک خطے (لاہور) میں چاند نظر آتا ہے یعنی مغرب کے وقت تو اسی وقت دنیا کے ایک دوسرے خطے (شہر میکسیکو) میں صبح کے ۹ بج رہے ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کو اگر چاند نظر آنے کی اطلاع بھی دے دی جائے تو صبح کے ۹بجے عید کی نماز کا مستحب وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ کسی مقام پر صبح نو بجے نہ تو روزہ کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بلا عذر عید کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔اس لئے زمینی حقائق کی بنا پر دنیا بھر میں ایک ہی دن روزہ رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک جگہ رمضان کی ابتدا جمعہ کی شام سے اور دوسری جگہ ہفتہ کی صبح سے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس بے جا تکلف کو نظر انداز کرکے زمینی حقائق اور اُصولِ فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے مصنوعی اشتراک قائم کرنے کی بجائے حقیقی تاریخ کا اشتراک برقرار رکھا ہے اور وہ یہ کہ جن عوامل کی بنا پر رات دن میں تبدیلی ہوتی ہے، تاریخ کی تبدیلی کو بھی اُنہی پر منحصر سمجھا جائے اور ہردن کو وہی تاریخ دی جائے جواس کی حقیقی اور فطری تاریخ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یکم رمضان المبارک کو ہی دنیا بھر میں پہلا روزہ ہوتا ہے اور جہاں پہلے روزہ کا چاند نظر آجائے، وہاں رمضان کا آغاز سمجھ لیا جائے۔ عیسوی تقویم کو بلاوجہ ہجری تقویم پر برتر سمجھتے ہوئے اس کی خودساختہ تاریخ میں اشتراک پراصرار کرنا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا !!

شبہ: عیسوی تقویم مستند اور قابل عمل ہے، اس میں بظاہر کوئی خرابی اور پیچیدگی نظر نہیں آتی۔ مسلمان اس کو کیوں اختیار نہیں کرلیتے، کیوں بلاوجہ ہجری تقویم پر اصرار کرتے ہیں جس کی بنا پر اختلافات رونما ہوتے ہیں ؟

مسلمان اللہ کو ماننے والے اور شریعت ِمحمدیہؐ کے پیروکارہیں ۔اللہ جو کائنات کا خالق ومالک ہے، اس نے دنیا کو چلانے کے لئے جواُصول مقرر کردیے ہیں ، ان کو نظر انداز کردینا جہاں از روئے ایمان درست نہیں ، وہاں یہ نظامِ فطرت سے بھی کھلی بغاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دن کے داخلی اوقات کا حساب سورج پر اور تاریخوں اورمہینوں کاحساب چاند پر منحصر رکھا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے:

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَ‌ٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ...﴿١٨٩﴾...سورة البقرة
''یہ آپ سے 'نئے چاندوں ' کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ آپ بتادیجئے کہ نئے چاند لوگوں کے لئے مدت کے شمار اور حج کے ایام معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں ۔''

ایک اور مقام پر اسی بات کوقرآنِ کریم میں اللہ نے اپنی نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا :
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءً وَٱلْقَمَرَ‌ نُورً‌ا وَقَدَّرَ‌هُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَ‌ٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٥...سورة یونس
''اللہ تو وہ ذات ہے جس نے سورج کو تیز روشنی والا اور چاند کو نوربنایا۔ اور اس نے چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم اس سے سالوں اور روزمرہ کا حساب لگائو۔ اللہ نے یہ چیزیں بے کار ہی پیدا نہیں کردیں ۔ وہ اپنی نشانیاں عقل مندوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔''

جہاں تک سورج کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دن کے اوقات کے لئے معیار اورپیمانہ بنایا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں نمازوں کے اوقات کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورج کو معیار مقرر فرمایا اور نمازِفجر، نمازِ عید، اشراق، ظہر، عصر اور مغرب وعشا کے اوقات کو سورج سے ہی مربوط کیا گیاہے۔ قرآن میں ہے :
أَقِمِ ٱلصَّلَو‌ٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيْلِ وَقُرْ‌ءَانَ ٱلْفَجْرِ‌...﴿٧٨﴾...سورة بنی اسرائیل
''سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز قائم کیجئے۔ اور فجر کے وقت قرآن کی تلاوت کریں ۔''

ایسے ہی نمازوں کے اوقات کو سائے سے منسلک کرنے کا تذکرہ کئی احادیث ِنبویہؐ میں موجود ہے۔ روزہ کی سحری اور افطاری بھی چونکہ ایک روز مرہ معاملہ ہے، اس لئے اس کو بھی سورج کے طلوع وغروب سے ہی منسلک کیا گیا ہے۔ چنانچہ عیسوی تقویم جس میں تاریخ کی تبدیلی کا انحصار سورج پر ہے، نظامِ فطرت سے تجاوز اور اللہ سے بغاوت ہے کیونکہ اللہ نے سورج کو اس مقصد کے لئے پیدا ہی نہیں کیا۔ انسانوں نے سورج کو اس بنا پر یہ حیثیت دی ہے کہ موسموں کی مناسبت سے پیدا ہونے والے فوائد ونقصانات پر اپنے معمولات کو ترتیب دیا جاسکے۔

البتہ ماضی میں تمام اَقوام کے ہاں چاند کو ہی تاریخ میں بنیادی حیثیت دی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف زبانوں میں مہینہ کا نام چاند سے ہی ماخوذ ہے مثلاً انگریزی میں Month، مون سے، فارسی میں مہینہ، ماہ سے اور ہندی میں ماس، اَماوس سے نکلا ہوا ہے۔ آج بھی غیر مسلم اقوام کے کئی تہوار شمسی تاریخوں کی بجائے چاند کی تاریخوں پر ہی منحصر ہیں مثلاً عیسائیوں کے ہاں ایسٹر، یہودیوں کے ہاں عاشور اور ہندووں کے ہاں دیپاولی کے تہوار چاندکی تاریخوں کی بنا پر ہوتے ہیں ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ چاند ہی تقویم کا اصل مرکز رہا ہے۔

آج کل چونکہ لوگوں کا نظامِ فطرت کا مشاہدہ بڑا کمزور ہوچکا ہے، اس لئے اس بات کی نشاندہی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چانداللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کی پیشانی پر روزانہ کاایک نمایاں کیلنڈر ہے جس کے ذریعے مہینے کی ہر تاریخ کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔ چاند کی اٹھائیس منزلیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ہرتاریخ کا کھلا اعلان ہیں ۔ پہلے ۱۴ روز میں چاند کا تدریجا ًمکمل ہونا اور اگلے چودہ روز میں تدریجا ًچاند کا گھٹنا ایک ایک تاریخ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہرشام چاند کا نئے مقام پر طلوع ہونا بھی اس کی تاریخ معلوم کرنے میں مددگار ٹھہرتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں کوئی انسان تبدیلی نہیں کرسکتا، اور جو کسی نگہداشت کا محتاج نہیں ہے۔ دوسری طرف انسانوں کا خودساختہ عیسوی کیلنڈر ہے جس کو تمام تر تحفظ صرف ایک تسلسل اور ریگولیٹری اتھارٹی نے دے رکھا ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی انسان کا یہ تسلسل منقطع ہوجائے مثلاً وہ کسی جزیرے میں جا پہنچے جہاں ذرائع مواصلات و علم اس کو آگاہ نہ کرسکیں تو وہ تاریخ کا اِدراک کبھی نہیں کرسکتا جبکہ اللہ کے بنائے ہوے نظام کا ہر رات چاند کے مشاہدے سے ہی علم حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر کہیں پہلی تاریخ کے تعین میں کوئی غلطی بھی ہوجائے تو ۱۴، ۱۵ تاریخ کا روشن چاند اس کی اصلاح کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

چاند کا یہ نظام ان قطبی علاقوں میں بھی کارآمد ہے، جہاں سورج چھ چھ ماہ طلوع یا غروب ہی نہیں ہوتا، کیونکہ ان علاقوں میں سورج کے برعکس چاند باقاعدگی سے نظر آتا رہتا ہے۔ سمندروں کے مدوجزر بھی اسی چاند کی تاریخوں سے منسلک ہیں جس سے انسانوں کے سفر اور تجارت کے اُمور کا گہرا تعلق ہے۔ خواتین کے ایام بھی اس سے ایک اِرتباط رکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کرچاند کی بنا پر تاریخوں کو سمجھنے سے ہر قسم کے موسم میں اسلامی عبادات بجا لانا ممکن ٹھہرتا ہے۔ نہ تو رمضان یا حج کا موسم ہمیشہ سردیوں میں آئے اور نہ ہی ہمیشہ گرمیوں میں !

ماضی میں کیلنڈر بادشادہ یا مذہبی رہنما جاری کیا کرتے تھے اور وہ اپنی پسند کے مطابق اس میں تبدیلیاں کرتے رہتے۔ یہی صورتحال عیسوی کیلنڈر کی بھی ہیجو کئی تبدیلیوں کا نشانہ بنتا رہا۔ عیسوی تقویم جس پوپ گریگوری کے نام سے منسوب ہے، اُس نے ماضی کی متعدد غلطیوں کی اصلاح کے لئے 1582ء میں اس سے 13 دن کم کردیے، پھر پوپ بینڈکٹ چہارم نے 1752ء میں مزید 11 دن کم کیا۔ آئندہ بھی ہر 128 سال بعد اس کیلنڈر سے ایک دن کو مصنوعی طورپر کم کرنے کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ جبکہ اسلامی تقویم میں یہ اختیار کسی انسان کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ سے اس کی تاریخوں کا از خود تعین ہوتا رہتا ہے۔ اگر کہیں انسان غلطی بھی کرجائیں تو اگلے ماہ کا چاند ازخود اس کی اصلاح کردیتا ہے۔

اسلام کی رو سے دنوں اور تاریخوں کو خودساختہ تقسیم اور ترتیب دینا (لیپ یا کبیسہ،نسی ٔ کاعمل) جائز نہیں کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرماتے ہوئے اسے 'کفر' قرار دیا ہے :
إِنَّمَا ٱلنَّسِىٓءُ زِيَادَةٌ فِى ٱلْكُفْرِ‌ ۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُ‌وا يُحِلُّونَهُۥ عَامًا وَيُحَرِّ‌مُونَهُۥ عَامًا لِّيُوَاطِـُٔوا  عِدَّةَ مَا حَرَّ‌مَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّ‌مَ ٱللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوٓءُ أَعْمَـٰلِهِمْ...﴿٣٧﴾...سورة التوبہ
''مہینوں میں کمی بیشی کرنا کفر میں ایسا آگے بڑھ جانا ہے جس سے کافر لوگ گمراہ کئے جاتے ہیں ۔ ایک سال ایک ماہ کو وہ حرمت والا بنا لیتے ہیں اور دوسرے سال اس کو حلت عطا کردیتے ہیں تاکہ اللہ کی عطا کردہ حرمتوں کو پامال کرتے ہوئے اللہ کی حرام کردہ شے کو وہ حلال قرار دے لیں ۔ اِن کے لئے برے اعمال بڑے ہی خوبصورت بنا دیے گئے ہیں !!''

عرب میں بھی یہ رسم پائی جاتی تھی کہ وہ مہینوں اور تاریخوں میں از خود اپنے مفادات مثلاً ؔؔآسان موسم میں حج کے لئے کمی بیشی کردیا کرتے تھے، عرب میں قَلْمَس نامی ایک شخص ہرسال حج کے اجتماع میں آئندہ حج کی تاریخوں کا اعلان کیا کرتا تھا، بعد میں اس کی اولاد یہی کام کرتی رہی جو قلامسہ کہلائے، اس سے ایک مستقل کیلنڈر وجود میں آیا جو مکی کیلنڈر کہلاتا تھا کیونکہ وہ مکہ مکرمہ سے باہر رواج نہ پاسکا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود اس رسم بد کا خاتمہ کرتے ہوئے خطبہ حجة الوداع کے موقع پر ایک تاریخ کا تعین فرماتے ہوئے قرار دیا :
(إن الزمان قد استدار کهیئته یوم خلق اﷲ السموات والأرض۔السَّنَة اثنا عشر شهرًا منها أربعة حرم۔۔۔ ذوالقعدة  ذو الحجة)...الخ1
''آج زمانہ اپنی اس اصل ہیئت پر لوٹ آیا ہے جس پر اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں : ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب''

تاریخوں اور مہینوں کی یہ غیرمعمولی اہمیت کیوں ہے کہ ان میں تبدیلی کرنا انتہائی ناپسندیدہ بلکہ ممنوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے بعض مخصوص برکات کو بعض مخصوص تاریخوں کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ جو فضیلت روزِ جمعہ یا یومِ عرفہ کی ہے، وہ دیگر ایام کو حاصل نہیں ۔ ایسے ہی رمضان کے مہینے کو جو تقدس اللہ نے عطا کیا ہے، وہ تقدس اس کے سوا دیگر ایام کو نہیں مل سکتا۔ شب ِقدر کی شریعت ِاسلامیہ میں جو غیرمعمولی اہمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے، اگر رمضان کی ایک تاریخ کو بھی اپنی مرضی سے تبدیل کردیا جائے تو اس سے آخری تمام عشرہ کی طاق راتیں اپنے اصل مقام سے ہٹ جائیں گی۔ اور طاق راتوں میں عبادت نہ کرنے کا نتیجہ اس رات کی فضیلت سے محرومی کے سوا اور کیا ہوگا؟ اس لئے مختلف ایام سے منسوب مختلف فضائل وبرکات کو پانے کے لئے عین انہی ایام کو اُن کے اصل وقت پر حاصل کرنا اور انہیں تلاش کرنا ہی ضروری ٹھہرتا ہے۔

ایسے ہی اسلام میں دنوں کی تعداد کو بھی قمری مہینوں پر ہی منحصر کیا گیا ہے چنانچہ عدت کے ایام، زکوٰةکا سال اور ایامِ رضاعت وغیرہ میں ہجری مہینوں کو ہی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

شبہ:بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہجری نظام قابل عمل نہیں ، اس سے ماہِ رمضان کے تعین میں اس قدر دشواری پیش آتی ہے تو پوراسال کس طرح اس پر انحصارکیا جاسکتا ہے ؟

کسی بھی نظام کے قابل عمل ہونے کا فیصلہ اس کو جاری کرنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ اگر عملی طورپر ایک نظام جاری وساری ہو اور اس میں کہیں کہیں دوسرے نظام کے پیوند لگائے جائیں تو وہ عملی پیچیدگیوں کے علاوہ کسی بھی انسان پر خوش کن تاثر نہیں چھوڑے گا۔ ہجری تقویم ہی وہ اصل نظامِ تاریخ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے وضع کرکے اُنہیں اس کا پابند کیا ہے، اور اللہ کے دیے نظام میں کوئی خرابی ہونا ممکن نہیں ۔ اگر اس میں کسی مقام پر کوئی خرابی ہے تو یہ سب ہماری کوتاہی یا بد تدبیری کا کیا دھرا ہے...!

اسلامی مہینوں پر انحصار تو دورِ نبوتؐ سے جاری ہے، جسے حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ کے اجماع کے بعد سالِ ہجرت سے سالوں میں بھی شمار کرنے کا اقدام کردیا تھا۔ اس کے بعد سے ۱۳ صدیاں ، جب تک مسلمان سیاسی مغلوبیت سے دوچار نہیں ہوئے، اس وقت تک یہ نظام بخیر وخوبی مسلمانوں کی تمام ضروریات کو پورا کرتا رہا۔ آج بھی مسلم ہند میں اسلامی حکومت کے اقدامات کا تذکرہ ہجری تقویم کے مطابق ہی تاریخ کے اَوراق میں محفوظ ملتا ہے۔

عیسوی تقویم دراصل مغربی استعمار کا شاخسانہ ہے۔ 1926ء میں مصطفی کمال اتاترک نے استبدادی حکم کے ذریعے عین اس طرح ہجری تقویم کو کالعدم قرار دیا تھا، جس طرح اس نے ترکی کو عربی رسم الخط میں لکھنے، ہیٹ کو لازمی کرنے اور عربی میں اذان کو ممنوع ٹھہرایا تھا، تاکہ مسلمانوں کا اپنے سنہرے ماضی اور روایات و اَسلاف سے تعلق منقطع ہوجائے۔ آج عالم اسلام کا اکثر وبیشتر حصہ مغربی معاشرت کے اُصولوں پر قائم ہے۔ ان حالات میں واحداسلامی ریاست سعودی عرب میں ہجری تقویم زیرعمل ہے۔ یہی وہ واحد ریاست ہے جہاں اسلام کا عدالتی، معاشرتی اور تعلیمی نظام بھی اکثر وبیشتر اسلامی خطوط پر استوار ہے۔سعودی عرب میں ہجری تقویم نے کوئی عملی مسئلہ پیدا نہیں کیا اور اس سے ان کے روزمرہ معمولات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ (سعودی عرب میں جاری تقویم کے سلسلے میں مزید تفصیل آگے ملاحظہ کریں )

سوال: کیا تقویم کی کوئی متبادل اساس ہوسکتی ہے ؟
تقویم کے سلسلے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تاریخوں اور مہینوں کو اُصولِ فطرت پر منحصر ہونا چاہئے یا اس کی کوئی متبادل اساس مثلاًکسی شاہ کا حکم، کسی پارلیمنٹ کا فیصلہ ،کسی مذہبی رہنما کی ہدایت یا کسی خودساختہ نظام کا تسلسل بھی ہوسکتا ہے؟ اس سلسلے میں اسلامی شریعت کا موقف یہ ہے کہ زمانہ اللہ سے منسوب ہے، روز وشب کا مالک وہی ذاتِ یکتا ہے، ان ایام سے مخصوص برکات وفضائل کو اُسی نے وابستہ کیا ہے، اس لئے تاریخوں اور مہینوں کا تعین اس کے پیدا کردہ نظامِ فطرت پر ہی منحصر ہونا چاہئے۔یہ نظامِ فطرت زمین کے جس حصے میں جس دن کو جس تاریخ سے منسوب قرار دے، اسی کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ اس نظامِ فطرت میں تغیر و تبدل رونما ہونے سے انسان کے مستقبل کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے، اس بنا پر ایک متبادل نظام وضع کرنا ضروری ہے تو یہ کوئی مناسب حل نہیں ۔ اوّل تو قرآنِ کریم کی آیات کی رو سے سورج اور چاند ایک مقررہ اندازے کے مطابق چل رہے ہیں اور وہ اس سے سرمو اِنحراف نہیں کرتے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس مقررہ نظام کو سمجھنے اور اس تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ قرآنِ کریم میں ہے :
ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ‌ بِحُسْبَانٍ ﴿٥...سورة الرحمن
''سورج اور چاند ایک مقررہ اندازے کے مطابق چل رہے ہیں ۔''


وَٱلْقَمَرَ‌ قَدَّرْ‌نَـٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلْعُرْ‌جُونِ ٱلْقَدِيمِ ﴿٣٩﴾ لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَهَآ أَن تُدْرِ‌كَ ٱلْقَمَرَ‌ وَلَا ٱلَّيْلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِ‌ ۚ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ﴿٤٠...سورة یس
''ہم نے چاند کی منازل مقرر کی ہیں حتیٰ کہ وہ باریک ٹہنی کی مانند ہوجاتا ہے۔ نہ تو سورج کی یہ ہمت ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے اور نہ ہی رات دن سے سبقت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہرچیز اپنے اپنے مدار میں تیر رہی ہے۔''
ان آیات سے بخوبی علم ہوتا ہے کہ جس طرح سورج کا ایک واضح نظام مقرر ہے، عین اسی طرح چاند کا بھی ایک واضح نظام موجود ہے۔ سورج اور چاند کے بارے میں سائنسی تحقیقات کافی ترقی کرچکی ہیں اور برطانیہ کے ایک قصبے گرینیچ میں اس حوالے سے باقاعدہ مراکز تحقیق موجود ہیں جہاں سے سورج اور سائنس کی معیاری تفصیلات حاصل ہوتی ہیں ۔

جس طرح سورج کے بارے میں ایک نظام وضع کرلیا گیا ہے، گو کہ وہ مصنوعی ہے اور دینی ادارے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر ملک کے سٹینڈرڈ ٹائم پر نمازوں کے اوقات کی اضافی ہدایات والے چارٹ شائع کرتے ہیں ، کیونکہ نمازوں کے اوقات حقیقی وقت پر ہی منحصر ہوتے ہیں ؛ اسی طرح اس امر کی ضرورت ہے کہ چاند کے بارے میں بھی ایسی ہی تحقیقات مکمل کی جائیں ۔ دراصل چاند کے بارے میں ہونے والی تحقیق اور اسلام کے تقاضوں میں ہم آہنگی اور امتزاج پیدا نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ سائنس دان قمری مہینے کی جو تفصیل پیش کرتے ہیں ، وہ اسلامی اُصولوں سے میل نہیں کھاتی۔ مثال کے طورپر اسلام کا تقاضا رئویتِ ہلال کا ہے جومختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔ جبکہ سائنس رؤیت ِہلال کی بجائے چاند کی پیدائش کے حساب کو پیش نظر رکھتی ہے۔ چاند کی پیدائش اور اس کی رؤیت میں 30 سے لے کر 96 گھنٹوں تک فرق ہوتا ہے جس کی بنا پر نتائج مختلف ہوجاتے ہیں ۔یعنی چاند اپنی پیدائش (جسے اجتماعِ نیرین، قِران، عربی میں محاق اور انگریزی میں Conjunctionکہا جاتا ہے)کے کم از کم 30 گھنٹوں تک قابل رئویت نہیں ہوتا جب تک چاند اور سورج کے درمیان 15 درجے کا زاویہ نہیں بن جاتا۔ المختصر سائنس کو اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس سے شریعت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آسان الفاظ میں سائنس دانوں کے ہاں ہر قمری مہینہ 29 دن، بارہ گھنٹے اور 44 منٹ کا ہوتا ہے، اور تمام مہینے برابر ہوتے ہیں جبکہ اسلام کی روسے قمری ماہ کبھی 29 دن کا ہوتا ہے تو کبھی 30 دن کا۔ یہسائنسی ضابطہ سیدھا سیدھا اسلام کے خلاف ہے۔ یعنی سائنس دانوں نے قمری ماہ کو عملی مسئلہ کی بجائے اسے ایک سائنسی پیمائش بنا دیا ہے، جبکہ اسلام نے اسے ایک سادہ روزمرہ حقیقت بنایا ہے جس سے جاہل شخص بھیچاند کو دیکھ کر ہی فائدہ اُٹھاسکتا ہے۔

جب تک اس سلسلے کی ضروری تحقیقات پوری نہیں ہو جاتیں ، حائل رکاوٹیں ختم ہوکر ایک منضبط معاون نظام حاصل نہیں ہوجاتا، اس وقت تک مسلمان عیسوی تقویم کے بجائے اس نظام کو اختیار کرسکتے ہیں جو سعودی عرب میں رائج ہے۔ سعودی عرب میں ہجری تقویم کے ہی دو ماڈل بیک وقت زیر استعمال ہیں ۔ ایک حقیقی جو رؤیت ِہلال پر منحصر ہے اور اس کی بنا پر عبادات اور رمضان وعیدین وغیرہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ ملکی معاملات کو چلانے کے لئے ہجری تقویم کا متوقع قمری کیلنڈر (تقویم اُمّ القری) جدید سائنسی تحقیقی اداروں سے حاصل کرلیا جاتا ہے، اور ان مطبوعہ تاریخوں پر پورے ملک کا نظام جاری وساری رہتا ہے۔ ii

مجھے اس امر کا ذاتی طورپر گذشتہ سال سعودی عرب کے سفر کے دوران رمضان المبارک میں تجربہ ہوا۔ جب 28 رمضان کو ریاض سے لاہور واپسی کے لئے میں ریاض ائیرپورٹ پہنچا۔ اس سال سعودی عرب میں رمضان متوقع اندازے اور مطبوعہ کیلنڈر سے ایک دن بعد شروع ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے ملک سے خروج کا اِندراج کرنے والے اہلکارکو حقیقت کے مطابق 28 رمضان کی تاریخ بتائی، لیکن اُس نے کہا کہ وہ پاسپورٹ پر 27 رمضان ہی درج کرے گا، کیونکہ سعودی نظام مطبوعہ کیلنڈر کے مطابق چلتا ہے جس کی سال کے آخر میں حقیقی تواریخ کے مطابق اصلاح بھی کرلی جاتی ہے۔ یہ وہ درمیانی طریقہ ہے جس کے ذریعے اسلامی تقاضوں کے مطابق سائنسی تحقیقات حتمی ہوجانے تک، ہجری تقویم کے اس مسئلے کا بھی قابل عمل حل نکالا جاسکتا ہے۔ اوراسی صورتحال سے ہمارے بعض مہربانوں کو سعودی حکومت کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کہ وہ رؤیت کی بجائے سائنسی نظام پر اعتماد کرتے ہیں ۔ جبکہ درحقیقت ایسا نہیں بلکہ ان کے ہاں ہجری تقویم کا ہی دوہرا نظام موجود ہے۔ اور عیدین و عبادات رؤیت ِہلال کے شرعی تقاضوں کے عین مطابق شروع کئے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں بھی رمضان المبارک یا عید کا اعلان بعض اوقات رات گئے ہوتا ہے۔ جبکہ مستقبل کے سرکاری معمولات کو متوقع ہجری کیلنڈر کے مطابق چلایا جاتا ہے۔اگر وہ رؤیت کی بجائے نظام پر انحصار کرتے ہوں تو نہ تواعلان کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی تاخیر کا کوئی مطلب۔اس امر کی سعودی عرب میں رہنے والے ہر شخص کے روزہ مرہ مشاہدے(iii) سے بآسانی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ گویا اس طریقے سے سے شرعی تقاضوں ، نظامِ فطرت ہردو کے قریب تر رہا جاسکتا ہے اور اپنے معمولات کی بھی اچھی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔

اعتراض: اس سلسلے میں سائنس پر انحصار کرنے میں کیا قباحت ہے ؟
اس کی ایک وجہ تو اوپر گزر چکی ہے کہ سائنسی ضابطوں کو اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، سائنس دان رؤیت ہلال کی بجائے چاند کی تخلیق کی تاریخوں پر اعتماد کرتے ہیں ۔ یوں بھی مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ سائنسدانوں کا یہ دعویٰ نرا دعویٰ ہی ہے کہ ان کے پاس اسلامی تقاضوں کے مطابق فول پروف نظام موجود ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال ہزاروں ڈائریاں چھپتی ہیں اوران میں قمری تاریخ کے لئے جس نظام پر اعتماد کیا جاتا ہے، وہ گرینچ یا عالمی سائنسی اداروں سے جاری شدہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا روزمرہ مشاہدہ ہے کہ وہ تاریخیں اکثر غلط ثابت ہوجاتی ہیں ، اسی سے سائنسی دعوے کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے۔

اگر ایسا ہی مثالی نظام موجود ہے تو ترقی یافتہ دنیا سے شائع ہونے والے قمری کیلنڈر اور ڈائریاں اس کا انکشاف کیوں نہیں کر دیتے اور عملاً چند سال کے مشاہدے سے ایسا ثابت کیوں نہیں ہوجاتا کہ یہ نظام قابل اعتماد کیفیت تک پہنچ گیا ہے۔انسان نے پہلے بھی اپنے مفاد کے لئے ایک متوازی نظام (عیسوی تقویم) وضع کررکھا ہے، اگر قمری نظام کے سلسلے میں بھی رؤیت کے حقیقی نظام کی بجائے حسابات پر انحصار کرلیا گیا تویہ بھی بتدریج ایک متوازی نظام کی حیثیت اختیار کرتے ہوئے حقیقی فطری تقویم سے بعید تر ہوتا جائے گا۔

رابطہ عالم اسلامی اس موضوع پر کافی مجالس منعقد کرچکی ہے، یہ مسئلہ وہاں بھی درپیش آیا کہ کیا سائنسی علم اس سلسلے میں پایۂ یقین کو پہنچ چکا ہے یا ابھی ظن وتخمین کے مرحلے میں ہے۔ اس سلسلے میں متعدد واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور ماہرین فن کے ساتھ مباحثے کے نتیجے میں دسمبر ۱۹۸۵ء میں اسی موضوع پر منعقد ہونیوالی مجلس کے سربراہ نے آخر کار یہی فیصلہ دیا کہ
''وقد سمعتم ما ذکر علی ألسنة البعض منهم  أنه ظني وقد سمعتم من یحکي شیئا من قطعیته ومنهم  من یقول أنه شبه قطعي وما جرٰی مجری ذلك2
''آپ نے یہ بھی سنا جو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ علم ابھی ظنی (غیرحتمی) ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ قطعی ہوچکا ہے جبکہ بعض نے اسے قطعی کے قریب قریب قراردیا۔ ''

بالفرض یہ نظام قابل اعتماد اور ۱۰۰ فیصد یقینی ہوبھی جائے تو ہمیں یہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام کا اس سلسلے میں مسلمانوں سے مطالبہ کیاہے؟ کیا اسلام اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ مسلمان نظام وحساب پر انحصار کرکے بیٹھ جائیں ۔

اسلام نے مسلمانوں کو مہینے کے آغاز کے لئے 'ہلال' دیکھنے کا پابند کیا ہے۔ اور اگر 30 دن پورے ہوجائیں ، تب حساب وکتاب پر اعتماد کرنے کی اجازت دی ہے۔ فرمانِ نبویؐ ہے:
(صوموا لرؤیته وأفطروا لرؤیته فإن غبي علیکم فأکملوا عدة شعبان ثلاثین)3
''چاند دیکھ کرروزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو۔ اگر تم پر مخفی ہوجائے تو پھر شعبان کے ۳۰ دن پورے کرو۔''

(إذا رأیتموہ فصوموا وإذا رأیتموہ فأفطروا)4
جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھ لو تو اِفطار کرو۔''

(لا تصوموا حتی تروا الهلال ولا تفطروا حتی تروا)5
'' جب تک نیا چاند نہ دیکھ لو، روزے رکھنا مت شروع کرو۔ اور جب تک نیا چاند نہ دیکھ لو، روزے مت چھوڑو۔ الخ ''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِمطہرہ بھی یہی تھی کہ
کان رسول اﷲ یتحفَّظ من شعبان ما لا یتحفظ من غیرہ ثم یصوم لرؤیة رمضان فإن غمَّ علیه عدَّ ثلاثین یومًا6
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاندکی بہت زیادہ حفاظت (اہتمام) کرتے۔اور 29 شعبان کو خود چاند دیکھنے کی کوشش کیا کرتے، اگر چاند آپ پر مخفی رہ جاتا تو تیس روزپورے کرتے۔''

آپؐ اپنے صحابہ کو حکم فرماتے (أحصو هلال  شعبان لرمضان)7
'' رمضان المبارک کے لئے شعبان کے چاند کی گنتی کیا کرو۔''

رمضان کے چاند کے سلسلے میں اتنی احتیاط کی وجہ دراصل یہ ہے کہ یہ ہلال (پہلی رات کا چاند) دیکھنے کا مسئلہ ہے نہ کہ قمر یا بدر کو دیکھنے کا۔اور ہلال انتہائی باریک ہوتا ہے جو چند منٹوں کے لئے مطلع پر موجود رہ کر غائب ہوجاتا ہے۔ رمضان اور عید الفطر کے سلسلے میں چونکہ پہلی تاریخوں کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، اس لئے یہی دو مہینے سب سے زیادہ توجہ کے متقاضی رہتے ہیں جبکہ سال بھر کوئی اور ایسا تہوار پہلے دن سے شروع نہیں ہوتا۔ چند روزگزر جانے کے بعد آسمان پر موجود چاند کی کیفیت سے بہت سے شبہات از خود ختم ہوجاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً عید الاضحی یا محرم الحرام وغیرہ کے سلسلے میں وہ پیچیدگی بھی پیش نہیں آتی۔

مشاہدہ رؤیت کوئی مجرد مطالبہ نہیں بلکہ دراصل یہ نظام فطرت پر انحصار ہے اور دین میں آسانی کا پہلوظاہر کرتا ہیکیونکہ محاق یا اجتماعِ نیرین کو ہرشخص کیوں کر محسوس کرسکتا ہے۔

رؤیت ِہلال کے سلسلے میں رؤیت پر انحصار کیا جائے یا حساب ، نظام فلکیات پر، اس سلسلے میں ائمہ اسلاف کا موقف کیا رہا ہے، علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''وقد أجمع المسلمون علیه ولا یعرف فیه خلاف قدیم أصلا ولا خلاف حدیث إلا أن بعض المتأخرین من المتفقهة الحادثین بعد المائة الثالثة زعم أنه إذا غم االهلال صار للحاسب أن یعمل في حق نفسه بالحساب فإن کان الحساب دلَّ علی الرؤیة صام وإلا فلا۔هذا القول وإن کان مقیَّدا بالإغمام ومختصًّا بالحاسب فهو شاذ مسبوق بالإجماع علی خلافه فأما اتباع ذلك في الصحو أو تعلیق عموم الحکم العام به فما قاله مسلم''8
''مسلمانوں کا (قمری ماہ کو رؤیت ِہلال سے شروع کرنے پر) اجماع ہے اور اس سلسلے میں قدیم وجدید مسلمانوں میں کوئی بھی اختلاف پایا نہیں جاتا۔ ماسواے اس امر کہ تیسری صدی ہجری کے بعد بعض فقہا نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر آسمان پر بادل وغیرہ ہوں تو حساب رکھنے والا اپنی حد تک حساب پر بھی عمل کرسکتا ہے۔ اگر حساب کی رو سے رؤیت ِہلال واقع ہوتی ہے تو وہ خود روزہ رکھ سکتا ہے، وگرنہ نہیں ۔ یہ قول اگرچہ بادلوں اور حساب رکھنے والے شخص کے ساتھ مخصوص ہے،پھربھی شاذ ہے اور ما قبل منعقدہ اجماع کے مخالف بھی۔ البتہ مطلع صاف ہونے کی صورت میں حسا ب کو معتبر ماننا اور اسے ایک عام حکم قرار دینا ایسا موقف ہے جس کا کبھی بھی کوئی مسلمان قائل نہیں رہا۔''

علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے جو موقف پیش کیا ہے، اسی کو حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ اور سعودی عرب کی کبار علماء کونسل نے بھی اختیار کیا ہے۔اور اس موضوع پر شیخ بکر ابو زید کا ایک طویل مقالہ بھی لائق مطالعہ ہے۔ 9

بعض علما کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ رؤیت کی بجائے نظام فلکیات پر اعتماد کے قائل تھے، لیکن اس سلسلے میں جن علما کا نام لیا جاتا، ان کا بارے میں مستند طورپر یہ بات ثابت نہیں ہوسکی۔10

سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج مسلمان جس طرح نمازوں کے لئے گھڑیوں پر انحصار کرلیتے ہیں ، اور کوئی سورج کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتا تو کیا ازروئے شریعت ایسا ہی چاند کے بارے میں نہیں کیا جاسکتا...؟

اوپر درج شدہ فرامینِ نبویؐ سے پتہ چلتا ہے کہ رئویت ِہلال شریعت کا باقاعدہ تقاضا ہے، جس کی حکمتیں بھی پیچھے گزر چکی ہیں جبکہ سورج پر مبنی اوقاتِ نماز کے مشاہدہ کا ایسا باقاعدہ تقاضا شریعت میں موجود نہیں ہے۔ یوں بھی رمضان کے دنوں کے برعکس نمازوں کے اوقات میں توسع پایا جاتا ہے۔ چاند کی روشنی لطیف (قرآنی الفاظ میں نور) ہوتی ہے جسے تلاش کرنا پڑتا ہے جبکہ سورج کی روشنی انتہائی تیز (قرآنی الفاظ میں ضیائ) جو اپنی موجودگی کا نہ صرف خود پتہ دیتی ہے بلکہ نظر کو خیرہ کردیتی ہے۔ چاند کی ساخت میں تاریخوں کے اعتبار سے کمی بیشی واقع ہوتی رہتی ہے جبکہ سورج طلوع وغروب کی ہر حالت میں اپنے پورے سائز پر برقرار رہتا ہے۔ سورج بذاتِ خود روشنی کا قوی منبع ہے، جبکہ چاندکی روشنی سورج اور زمین کے ایک مخصوص زاویے پر آنے سے ہی زمین پرپہنچتی ہے۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پرسورج اور چاند کے معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

یہ تو شریعت کا تقاضا ہے کہ رمضان کے آغاز کو رؤیت ِہلال پر ہی منحصر سمجھا جائے لیکن اسلام سائنس کا مخالف نہیں ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو سائنسدانوں سے معاندت کی بجائے ان کی مدد حاصل کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ اگر سائنسدانوں کو یقین ہے کہ چاند مغرب کے بعدفلاں فلاں زاویے پر اتنے منٹ کے لئے نمودار ہوگا تو ذمہ دار مسلمانوں کو ان کی مدد لیتے ہوئے ان سے تقاضا کرنا چاہئے کہ لائیے ہمیں اپنی آنکھ سے بھی اس کا مشاہدہ کروا دیجئے تاکہ شرعی تقاضا بھی پورا ہوجائے، اور کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

جہاں تک ہلال کے مشاہدے میں سائنسی آلات سے استفادہ کی بات ہے تو اس میں ایک حد تک کوئی حرج نہیں اور سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ محمد بن صالح العثیمین اور سعودی عرب کی دائمی فتویٰ کمیٹی اس سلسلے میں دوربین وغیرہ کے استعمال کے جواز کا فتویٰ دے چکی ivہے۔

البتہ آلات کے استعما ل کے سلسلے میں یہ بات ضرور پیش نظر رہنی چاہئے کہ چاند اپنی ولادت (سورج، چاند اور زمین کا ایک سیدھ میں آجانا) کے بعد زمین کے گردہی موجود ہوتا ہے، لیکن اس کی یہ موجودگی زمین پر قابل رؤیت مختلف اوقات میں ہوتی ہے۔ ایسے سائنسی آلات جو اسکی رؤیت میں درپیش خارجی رکاوٹوں (مثلاً روشنی، فضا میں ذرات یا نمی وغیرہ کا موجود ہونا وغیرہ) کو کم کرکے قابل رؤیت چاند کو دکھا دیں تو ان کا استعمال تو درست ہے، لیکن ایسے قوی آلات جو مختلف زاویوں اور مساوات کو استعمال کرتے ہوئے ناقابل رئویت چاند کا بھی مشاہدہ کرادیں کیونکہ چاند آخر کار کائنات سے باہر تو کہیں چلانہیں جاتا تو ایسے آلات کا استعمال ناجائز ہے۔ اُن آلات کی مدد سے تو سورج کو بھی رات کے ۱۲ بجے دیکھنا ناممکن نہیں ہے۔ غرض سائنس کے مناسب استعمال اور جائز استفادہ کو رواج دیا جانا چاہئے اور شریعت کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں تاکہ مخصوص ایام سے وابستہ برکت فی الحقیقت مسلمانوں کو حاصل ہوسکے۔

پاکستان میں عیدوں یا رؤیت کے مسئلہ پر اختلاف کیوں واقع ہوتا ہے ؟

جہاں تک پاکستان میں اس حوالہ سے اختلاف کا تعلق ہے تو اس کے عوامل کئی ہیں ، جن میں بعض غلط ہیں اور بعض صحیح، جنہیں کھلے دل سے قبول کرنے اور اصلاح کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم وجہ توفقہی نقطہ نظر کا اختلاف ہے کہ رؤیت کے لئے کتنے افراد کی شہادت ضروری ہے؟ جہاں تک شریعت ِاسلامیہ کا موقف ہے تو بعض احادیث اس بارے میں بڑی واضح ہیں مثلاً
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے آکر رؤیت ِہلال کی خبر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کلمہ شہادت پوچھا، اس کے سنا دینے پر آپ نے حضرت بلالؓ کو کل روزہ رکھنے کے اعلان کرنے کا حکم فرما دیا۔11

عکرمہؓ سے مروی ہے کہ ایک بار لوگوں کو ہلالِ رمضان کے بارے میں شک رہ گیا، اور اُنہوں نے قیام و صیام نہ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اسی اثنا میں ایک اعرابی نے 'حرہ' سے آکر رؤیت ِہلال کی شہادت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کلمہ شہادت کی تصدیق کر لینے کے بعد حضرت بلالؓ کو قیام وصیام کے اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔ 12

ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ لوگ چاند دیکھ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ کو چاند دیکھنے کی شہادت دی۔ تو آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کاحکم فرمایا۔

حضرت عمرؓ اور علیؓ کے سامنے مختلف واقعات میں ایک، ایک شخص نے رؤیت ِہلال کی گواہی دی تو اُنہوں نے لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔13

پہلی حدیث کے بارے میں امام ترمذی رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اسی پر اکثر اہل علم رحمة اللہ علیہ کا عمل ہے، امام شافعی رحمة اللہ علیہ ، امام احمد رحمة اللہ علیہ بن حنبل اور ابن مبارک رحمة اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ 14

خطابی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمة اللہ علیہ ، احمد رحمة اللہ علیہ ، ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ ،ابو یوسف رحمة اللہ علیہ اور جمہور رحمة اللہ علیہ کاموقف یہ ہے کہ رمضان کے وقوع کے سلسلے میں ایک عادل گواہ کی شہادت معتبر ہے۔15

معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کے وقوع کے بارے میں ایک شخص کی گواہی معتبر ہے، البتہ ایک حدیث میں دو گواہوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ جبکہ عید الفطر یعنی ما ہِ شوال کی آمدکے بارے میں مختلف احادیث کی بنا پر دو گواہوں کی شہادت ہی ضروری ہے۔

پاکستان کی رؤیت ِہلال کمیٹیوں میں موجود افراد کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے ہاں اکثر وبیشتر ایک یا دو افراد کی شہادت موصول ہوجاتی ہے، یعنی شرعی تقاضا پورا ہوجاتاہے لیکن بعض علما یہاں جم غفیر کی شرط کا تقاضا کرکے مسئلہ کو اُلجھا دیتے ہیں ۔ اس بنا پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلہ کو نکھار لیا جائے کہ اس سلسلے میں احادیث کی بنا پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

رؤیت ِہلال میں مشکلات کا مسئلہ آج کل تو متعدد وجوہ کی بنا پر کافی گھمبیر ہوچکا ہے، لیکن صدیوں پہلے جب فضائیں ابھی گدلی نہیں ہوئی تھیں ، مصنوعی روشنیوں کا تصور بھی نہیں تھا، لوگ نیک اور صالح تھے اور معاشرہ صداقت کا خوگر تھا، تب بھی مدینہ منورہ میں باوجود کوشش کے کسی کو چاند نظر نہ آسکا، اور حرہ سے آکر ایک دیہاتی نے چاند دیکھنے کی اطلاع دی۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تقاضا ہرگز نہیں کیا کہ اگر چاند موجود تھا تو ہمیں نظر کیوں نہیں آیا؟ اس لئے یہ شہادت غیر معتبر ہے۔ چنانچہ آج بھی مستند اور دیندار اکیلے شخص کی گواہی پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ فرمانِ نبویؐ کی بنا پر معاملات حل ہونے سے ان شاء اللہ آسانی ہی حاصل ہوگی۔

ہمارے ہاں اکثر وبیشتر صوبہ سرحد میں دوسری عید کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ کبھی گوجرانوالہ یا ملتان کے لوگوں کی دوسری عید کا سوال پیش نہیں آیا۔ اس مسئلہ کے پیچھے بعض اوقات سیاسی مصالح کارفرما ہوتی ہیں جیسا کہ گذشتہ سال 2006ء میں بعض باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبہ سرحد کی حکومت کے مابین بعض پیچیدگیاں اس کا سبب بنی تھیں ۔ سیاسی پیچیدگی تو محض وقتی ہے، دینی تقاضوں کو بہر صورت اُن سے بالاتر ہوکر پورا کرنا چاہئے۔

بعض اوقات ا س کے پس پردہ صوبہ پشاور کے عوام کے دیگرمحرکات ہوتے ہیں ، مثلاً افغانستان کے عوام سے اظہار ِقربتجن کا ان سے گہرانسلی تعلق ہے۔ بالخصوص جب سے پشاور وافغانستان میں عرب مجاہدین کی آمد ورفت میں اضافہ ہوا ہے تو ان میں سے بعض عرب مجاہدین ان علاقوں میں ہونے کے باوجود عید و رمضان کے لئے اپنے اصل علاقوں کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں ۔ بعض اس کی وجہ سعودی عرب کے نظامِ رؤیت کے قابل اعتماد ہونے کو بتاتے ہیں تو بعض اُصولاًہی اس نادر نظریہ پر عمل پیراہیں کہ مکہ مکرمہ کی رؤیت تمام دنیا کے لئے معتبر ہے اور پوری دنیا میں اسی کے مطابق ہی رمضان اور روزہ وغیرہ کا فیصلہ ہونا چاہئے۔

ماضی میں اختلافِ مطالع کا مسئلہ تو اس قد رنکھر کر سامنے نہیں آیا تھا، کیونکہ دور دراز سے فوری اطلاع ملنا ہی کافی مشکل تھا، لیکن جب سے دنیا میں رابطہ ومعلومات اور نقل وحمل کی سہولیات وافر ہوگئی ہیں ، تب سے یہ مسئلہ کافی اُبھر کر سامنے آگیا ہے۔ غیرمسلم ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں میں بھی اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں ، چنانچہ برطانیہ میں بعض لوگ تو مکہ مکرمہ کے ساتھ ہی رمضان وغیرہ کا آغاز کردیتے ہیں اور بعض لوگ مراکش وغیرہ (جو قریب ترین اسلامی ملک ہے) کی رؤیت پراعتماد کرتے ہیں ۔

چاند کے طلوع ہونے کی جگہ کو مَطلَع کہتے ہیں ۔اور یہ بات اب مسلمہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ دنیا بھر میں چاندکے مطالع مختلف ہیں اور دور کے شہروں کی رؤیت معتبر نہیں ہے، جیسا کہ علامہ ابن عبد البر رحمة اللہ علیہ نے اس پر اجماع ذکر کیا ہے کہ اَندلس اور خراسان کی رؤیت ایک دوسرے کے لئے قطعاً معتبر نہیں ہے۔ (الاستذکار: 10؍30)یہی صورتحال مکہ مکرمہ کی رؤیت کی ہے کہ پاکستان میں اکثر وبیشتر سعودی عرب سے ایک روز بعد چاند طلوع ہوتا ہے اور مکہ مکرمہ کی رؤیت کو اپنے لئے معتبر خیال نہیں کیا جاتا۔ اختلافِ مطلع کا یہی مفہوم ہے۔ اس اعتبار سے امریکہ وبرطانیہ میں قیام پذیر مسلمانوں کا مکہ مکرمہ کے ساتھ عید کرنا بھی محل نظر ہے!

اس سلسلے میں دورِ خیرالقرون کے دو واقعات سے بھی رہنمائی لی جاسکتی ہے :
کریب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اُنہیں اُمّ الفضل نے شام میں حضرت معاویہؓ کے پاس کسی کام سے بھیجا۔ کام پورا کرنے کے بعد ابھی میں شام میں ہی تھا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا اور میں نے جمعہ کی رات خود چاند کا مشاہدہ کیا۔ رمضان کے آخر میں جب میں مدینہ واپس پہنچا تو حضرت عباسؓ نے مجھ سے شام میں چاند کے بارے میں دریافت کیا۔میں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جمعہ کی شام چاند دیکھا تھا۔ حضرت عباسؓ نے پھر تصدیق چاہی:کیا تم نے خود دیکھا تھا؟ تو کریب نے کہا:بالکل، بلکہ بہت سے اور لوگوں نے بھی دیکھا اور اسی کے مطابق روزے بھی رکھے، خود امیر معاویہؓ نے بھی روزہ رکھا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بولے:
''لکنا رأیناہ لیلة السبت فلا نزال نصوم حتی نُکمل ثلاثین۔فقلتُ:أو لا نکتفي برؤیة معاویة وصیامہ؟ فقال: لا هکذا أمرنا رسول اﷲ''16
''لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات ہلالِ رمضان دیکھا تھا۔ ہم تو اس وقت تک روزے رکھیں گے جب تک 30 روزے پورے نہ کرلیں ۔ میں نے کہا: کیا ہمیں معاویہؓ کی رؤیت اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ؟ تو حضرت عباسؓ بولے: نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔''

ایک بار مدینہ منورہ میں رؤیت ِہلال کا مسئلہ اُلجھ گیا، لوگوں نے کہا کہ اَستارہ میں چاند نظر آگیا ہے۔ تب قاسم رحمة اللہ علیہ او رسالم رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: ہمارا اہل اَستارہ سے کیا واسطہ؟''17

اختلافِ مطالع کا مسئلہ میں علماکا موقف کافی واضح ہے اور کتب ِاحادیث کے مؤلفین محدثین کرام رحمة اللہ علیہ نے عنوان بندی کے ذریعے اس مسئلہ میں اپنا واضح رجحان ظاہر کردیا ہے، مثلاً جامع ترمذی کا باب یہ ہے: باب ما جاء لکل أهل بلد رؤیتهم
صحیح مسلم میں باب بیان أن لکل بلد رؤیتهم  وأنهم  إذا رأوا الهلال ببلد لا یثبت حکمه لما بَعُد منهم
امام بخاری نے باب لکل بلد رؤیتهم (معروف نسخہ میں یہ باب نہیں )
امام نسائی رحمة اللہ علیہ نے باب اختلاف أهل الآفاق في الرؤیة
امام ابوداود رحمة اللہ علیہ نے باب إذا رء ي الهلال في بلد قبل الآخرین بلیلة
امام ابن خزیمہ رحمة اللہ علیہ نے باب الدلیل علی أن الواجب علی کل أهل بلد
صیام رمضان لرؤیتهم لا لرؤیة غیرهم
امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے باب الهلا ل إذا رأوہ أهل بلدهل یلزم بقیة البلادالصوم (یہ باب امام صاحب کی کتاب حدیث منتقی الاخبار کا ہے)
امام ابن الاثیر رحمة اللہ علیہ نے باب اختلاف البلد في الرؤیة ('جامع الاصول' میں )
ابن ابی شیبہ رحمة اللہ علیہ نے في القوم یرون الهلال ولا یرون الآخرون

امام ترمذی رحمة اللہ علیہ نے مذکورہ بالا باب کے تحت کریب رحمة اللہ علیہ کی روایت کردہ حدیث ِابن عباسؓ کو ذکرکرکے فرمایا ہے : ''ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔''

ان واضح دلائل اور حقائق کے باوجود پاکستان میں تاحال اختلافِ مطالع کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ بعض احناف کے ہاں اختلافِ مطالع کا تصور معتبر نہیں ہے، اسی بنا پر پاکستان کے علماے احناف پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید اور روزے کے بھی قائل رہے ہیں ۔ لیکن مزید تحقیقات ہونے پر بعض حنفی علما نے اس موقف سے اب رجوع بھی کرلیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایسا مشاہدہ ہے جس کے بعد کوئی دوسرا چارہ کار نہیں رہتا۔ مثال کے طورپر ایک علاقے میں دوسروں کے برعکس 28 روز کے بعد ہی چاند نظر آجائے تو لازمی بات ہے کہ اس کے مطلع کو مختلف ماننا ہی پڑے گا۔چنانچہ حنفی علما میں علامہ زیلعی رحمة اللہ علیہ اور علامہ عبد الحی لکھنوی رحمة اللہ علیہ نے اختلافِ مطالع کو معتبر تسلیم(v) کیاہے۔اور ندوة العلما، لکھنؤ کی مجلس تحقیقاتِ شرعیہ نے 3،4 مئی 1967ء کو اپنے فیصلہ میں اختلافِ مطالع کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ
''محققین احناف اور علماے اُمت کی تصریحات اور ان کے دلائل کی روشنی میں مجلس کی متفقہ رائے یہ ہے کہ بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطلع معتبر ہے۔'' 18

جہاں تک بلادِ بعیدہ کا مسئلہ ہے تو ا س بارے میں علما کے ہاں مختلف اقوال موجود ہیں :

بعض کے نزدیک وہ شہر جو 500 یا 600 میل کی مسافت پر ہوں ، بلادِ بعیدہ ہیں ۔

ایسے دو شہر جن کی رؤیت میں عادتاً اختلاف واقع ہوتا ہے کہ اگر ایک کی رؤیت دوسرے کے لئے لازمی کردی جائے تو ایک کا مہینہ 30 دن کا اور دوسرے کا 28 دن کا رہ جائے گا، تو وہاں اختلافِ مطلع معتبر ہے مثلاً مصر وحجاز کا مطلع ہند وپاک سے یقینا مختلف ہے۔

بعض ماہرین کے نزدیک ایسے شہر جوایک ہی طول بلدپر واقع ہیں ، ان کا مطلع ایک ہی ہوگا چاہے ان میں زمینی بعد کتنا ہی کیوں نہ ہو مثلاًریاض اور ماسکو ایک ہی طول بلد پر ہیں تو ان کا مطلع بھی ایک ہی ہے۔

بعض لوگوں نے اختلافِ مطالع کو صوبوں اور ملکوں کی حدود میں اور بعض لوگوں نے ایک حاکم کی ماتحت رعایا کی بنا پر بھی اسے تقسیم کرنے کا موقف اختیار کیا ہے۔

بعض لوگوں نے اسے مسافت ِقصر، بعض نے ایک رات کی مسافت، بعض نے ایک نماز کے وقت میں دوسری نماز کے وقت داخل ہو جانے پر، مثلاً ایک شہر میں ظہر کا وقت ہو تو دوسرے شہر میں اسی وقت عصر پڑھی جاتی ہو، اختلافِ مطالع کو محمول کیا ہے۔

اہل مشرق کی رؤیت تو اہل مغرب کے لئے معتبر ہے لیکن اس کے برعکس نہیں ۔

مجلس تحقیقاتِ شرعیہ لکھنؤ نے اس سلسلے میں 1967ء میں ایک ایسے چارٹ کی سفارش کی تھی جس میں اختلافِ مطالع والے ممالک کی تفصیلات درج ہوں ۔ بالفرض اگر اختلافِ مطالع ایک مستقل اور غیرمتبدل حد بندی ہے تو پھر اس سلسلے میں سائنس سے ضرور استفادہ کرنا چاہئے۔ اور ایسے چارٹ پر شرعی تقاضوں کے مطابق ضروری تفصیلات کااضافہ بھی کردینا چاہئے تاکہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے رؤیت ِہلال کے عمل میں آسانی حاصل ہو۔

الغرض اختلافِ مطالع کی جو بھی تفصیل ہو، یہ امر ایک مسلمہ زمینی حقیقت رکھتا ہے۔ اس بنا پر بالفرض اگر پشاور کے گرد ونواح کا مطلع فی الواقع ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ہے تو مشاہدہ کی بنیاد پر ان کو علیحدہ عید یا روزہ کی اجازت بھی دی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ مسئلہ کافی تفصیل طلب ہے جس کی بنیاد بہرحال مشاہدہ ہی ہوگا۔

صوبہ سرحد میں خودساختہ کمیٹیوں کا وجود بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس کی بنا پر اختلاف واقع ہوتا ہے۔ جب کسی ملک میں اجتماعی طورپر ایک مرکزی نظم کے تحت رؤیت ِہلال کاباقاعدہ نظام موجود ہو، اور اس کو شرعی تقاضوں کے مطابق چلانے کی کوشش بھی کی جاتی ہو تو ایسی صورت میں پرائیویٹ کمیٹیوں کا وجود درست نہیں ۔ یاد رہے کہ عید اور رمضان میں صرف چاند دیکھ لینا کافی نہیں بلکہ اس کی شہادت کے بعد قاضی کا فیصلہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ جیسا کہ احادیث ِنبویہؐ میں گواہوں کا آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکرکرنا اور آپ کے حکم دینے کا تذکرہ بھی موجود ہے، تب ہی دیگر مسلمانوں پر اس روزہ یا عید کا انعقاد لازمی قرار پاتا ہے۔

ایسا شخص جس نے خود چاند دیکھا لیکن اس کی شہادت کو قبول نہیں کیا گیا، تو اس بارے میں علما میں اختلاف ہے۔ اکثر کے نزدیک اگر تو وہ رمضان کا ہلال ہے تو اس کو خود روزہ رکھنا چاہئے، البتہ دیگر لوگ اسی صورت میں روزہ رکھنے کے پابند نہ ہوں گے جب تک قاضی اس شہادت کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ چند علماکے ہاں خود وہ شخص بھی روزہ رکھنے کا پابند نہیں ہے۔ جہاں تک عید کے چاند کا تعلق ہے تو چونکہ اس کے لئے ایک کی شہادت کافی نہیں ہے، اس لئے اس صورت میں ایسے شخص کوروزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔

علاوہ ازیں عید اور روزے کے بارے میں مسلمانوں کی اجتماعیت کا بھی گہرا عمل دخل ہے۔ فرمانِ نبویؐ ہے :
(الصوم یوم تصومون والفطر یوم تُفطرون والأضحی یوم تضحون)
''روزہ اس دن رکھا جائے جس دن لوگ روزہ رکھتے ہیں ، عید الفطراور عیدالاضحی بھی اس دن منائی جائے جب لوگ عید مناتے ہیں ۔''19

اس فرمان سے معلوم ہوا ہے کہ ان چیزوں میں اجتماعیت کو خاص دخل حاصل ہے، کوئی شخص اکیلے عید نہیں کرسکتا۔اس بنا پر بعض علما نے ملک بھر میں ایک ہی روز عید یا ایک ہی دن روزہ کی جو توجیہ پیش کی ہے تو ان کے پیش نظر یہی اجتماعیت ہے۔ وگرنہ اجتماعیت کے ماسوا شریعت کی نظر میں ان ملکی سرحدوں کی کیا حیثیت ہے، اللہ تعالیٰ نے تو مسلمانوں کو رؤیت ِہلال کا ہی پابند بنایا ہے، اور چاند کی رؤیت میں مطالع کا اختلاف ان ملکی سرحدوں سے بالاتر ہے، یہی بات بعض ممتاز حنفی علما نے بھی کہی ہے، کہ ملک بھر میں اختلافِ مطالع کے باوجود ایک عید کو گوارا کیا جاسکتا ہے، مولانا مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :
''اگر چہ شرعی حیثیت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ پورے ملک میں عید ایک ہی دن منانے کا کوئی اہتمام نہیں ہوا اور ملک کے وسیع وعریض ہونے کی صورت میں شدید اختلافاتِ مطالع کی مشکلات بھی اس میں پیش آسکتی ہیں ۔ لیکن پاکستان کے عوام او رحکومت کی اگر یہی خواہش ہے کہ عید پورے پاکستان میں ایک ہی دن ہو تو شرعی اعتبار سے اس کی بھی گنجائش ہے۔ شرط یہ ہے کہ عید کا اعلان پوری طرح شرعی ضابطہ شہادت کے تحت ہو۔'' 20

اس فتویٰ یا موقف پر مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی رشید احمد رحمہم اللہ کے بھی دستخط ہیں اور یہ تحریر ۱۳۸۶ھ (۱۹۶۶ء)کی ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ رؤیت ِہلال کمیٹی کو بنانے کا مقصد کیا ہے، ان میں اکثر لوگ ضعف ِبصارت کا شکار ہوتے ہیں اور خود اُنہیں چاند بھی نظر نہیں آتا۔ تو یہ واضح رہنا چاہئے کہ ایسی کمیٹیوں کا بنیادی وظیفہ رؤیت نہیں گو کہ وہ اس کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کا اصل وظیفہ تو مختلف علاقوں سے گواہیاں حاصل کرکے ان کو جانچ پرکھ کررؤیت ِہلال کا فیصلہ دینا ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی اجتماعیت کو ملحوظ رکھنا بھی ایسی مشترکہ کمیٹی یا نظم کی بنا پر ہی ممکن ہے جیسا کہ سعودی عرب میں 'مجلس القضاء الأعلیٰ' (سپریم جوڈیشل کونسل) کی چھ رکنی 'رؤیت ِہلال کمیٹی' اس امر کا فیصلہ کرتی ہے۔

آخر میں رؤیت ِہلال کی عملی تفصیل اور طریقہ کار کو مضمون کی طوالت کے پیش نظر حذف کیا جاتا ہے۔ اس موضوع کے خواہش مند راقم کے نانا مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمة اللہ علیہ کی اس موضوع پر مشہور کتاب الشمس والقمر بحسبان (ص 45 تا 48) کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

مزید برآں اسی سلسلے کے جدید مسائل پر فتاویٰ کے لئے راقم کے دادا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمة اللہ علیہ کے 'فتاویٰ اہل حدیث'(جلد دوم 5145 تا 552 ) کا مطالعہ بھی مفید ہوگا۔

اس سلسلے میں حکومت کو کونسے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں ؟

مسلم حکومت کو اسلامی تقویم کو رواج دینا چاہئے کیونکہ یہ اسلام کا اہم تقاضا ہے۔

حکومت کو اس دینی مقصد کے لئے سائنسدانوں کی مدد بھی حاصل کرنا چاہئے کہ وہ معاونتی تفصیلات اور درکار آلات مہیا کریں ، اور رؤیت کے عمل میں مدد کریں ۔

عوام الناس کو میڈیا کے ذریعے رؤیت ِہلال کی فضیلت، سنت ِرسولؐ ہونے، رؤیت کا طریقہ اور شہادت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری سے آگاہ کرنا چاہئے۔

حکومت اس سلسلے میں بعض ایسے اقدامات کرے جن سے شہادت کا حصول فوری اور یقینی ہوجائے۔ مثلاً ملک بھر میں میڈیا کے ذریعے ایک یونیورسل فون نمبرمشتہر کرنااور اس کی بنا پر ملنے والی شہادت کو ضروری شرعی تقاضوں کے مطابق پرکھتے ہوئے فوری فیصلہ کرنا۔

وہ مسائل جو اختلاف اور پیچیدگی کا سبب بنتے ہیں ، ان کے بارے میں کتاب وسنت کی حدود میں رہتے ہوئے ایک واضح اور قابل عمل موقف اپنانا مثلاً نصابِ رؤیت یا اختلافِ مطالع وغیرہ اور اراکین کو ضروری سائنسی معلومات اور شرعی تصورات سے کما حقہ آگاہ کرنا۔
ذرائع ابلاغ میں بلاوجہ رائے زنی، افواہوں اور عدم اعتماد کی روک تھام کی کوشش کرنا۔
سائنسی نظام اور معلومات کو اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے سائنسی تحقیق کو مناسب رُخ دینے کے اقدامات کئے جائیں ، مثلاً ہرسال چاند کے قابل رؤیت ہونے کی تفصیل اور اختلافِ مطالع وغیرہ کے امدادی چارٹ وغیرہ بنوائے جائیں ۔ کم ازکم مسلم سائنسی ماہرین پریہ فرض بطور خاص عائد ہوتا ہے کہ چاندپرتحقیق کے عمل کو اسلامی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائیں ۔


حوالہ جات
1. صحیح بخاری:4662
2. مجلة مجمع الفقه الإسلامي: عدد2؍جز2، ص 1030
3. صحیح بخاری:1909
4. صحیح بخاری:1900
5. بخاری:1906
6. سنن ابو داود:2325
7. حاکم:1؍587
8. مجموع فتاویٰ : 25؍132، 133
9. فتح الباری: 4؍157، 158، أبحاث هیئة کبار العلماء: 3؍30، فقه النوازل:2؍189
10. مزیدتفصیل کے لئے دیکھیں : 'رؤیت ِہلال' از مقصود الحسن فیضی:27 تا 56
11. سنن ابو داود:2340
12. سنن ابی داود:2341
13. مصنف عبدالرزاق:4؍168،سنن دار قطنی:2؍ 170
14. جامع ترمذی، زیرحدیث627
15. عون المعبود: 2؍274
16. مسلم:1819
17. ابن ابی شیبہ:78
18. جدید فقہی مسائل: 1؍ 89 تا94
19. جامع ترمذی:697
20. جواہر الفقہ: 1؍397

 


 

i. 1882ء میں واشنگٹن میں منعقدہ ایک کانفرنس میں 25 اقوام نے لندن کے علاقے 'گرینچ' کو دنیا کا مرکز وقت مان کر اس مقام کو مشرق ومغرب کے لئے حد ِفاصل قرار دیا تھا۔ اس بنا پر طول بلد و عرض بلد مقرر کئے گئے اور اس قصبے کے نصف النہار یعنی 12 بجے کے وقت کو بنیادی معیار تسلیم کیا گیا۔ گرینچ کے بالمقابل زمین کی بالکل دوسری سمت کھینچے جانیوالے فرضی خط کو 'خط ِ تاریخ' قرار دیا گیا، یعنی یہ رات کے 12 بجے کا معیاری وقت قرار پایا۔ چنانچہ اس خط کو جو بھی دن کے کسی حصے میں بھی عبور کرے تووہ فرضی طورپر تاریخ میں تبدیلی کرلیتا ہے اس طرح عیسوی کیلنڈر میں مصنوعی طورپر اوقات کی تقسیم کے علاوہ تاریخ کا مصنوعی اشتراک بھی پیدا کیا گیا ہے۔ قمری کیلنڈر میں بعض ممالک میں دو روز کا فرق پڑنے کی ایک وجہ یہ مصنوعی اُصولِ تاریخ بھی ہے۔
ii. سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 'کنگ عبد العزیز سٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی' KACST قائم ہے جس میں علومِ فلکیات کے لئے ایک مستقل 'ریسرچ انسٹیٹیوٹ' قائم ہے۔ یہی ریسرچ انسٹیٹیوٹ مکہ کی اسلامی یونیورسٹی جامعہ اُمّ القری کو تقویم کے لئے جملہ تکنیکی معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔ تقویم اُمّ القری KACSTکی ویب سائٹ www.ceri.kacst.edu.sa سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔
iii. گذشتہ سال 21ستمبر 2006ء بمطابق 28 شعبان 1427ھ کو سعودی اخبار 'الریاض' میں شائع شدہ اعلان سے سعودی عرب میں مروّج پورا طریقہ رؤیت ِہلال واضح ہوجاتا ہے:
سرخی : سعودی سپریم جوڈیشل کونسل کا لوگوں سے ہلالِ رمضان دیکھنے کا مطالبہ
فإن مجلس القضاء الأعلی في المملکة یرغب من عموم المسلمین في  هذہ البلاد تحري رؤیة هلال رمضان المبارك مساء یوم الخمیس الموافق 1427828ھ ولیلة الجمعة الموافق1427829ھ حسب تقویم أمّ القرٰی، فإن لم یر فلیلة السبت الموافق830 1427ھ. ویرجو  المجلس ممن یراہ  إبلاغ أقرب محکمة  إليه  وتسجیل شهادتها لديها  أو إبلاغ الجهة التابعة لإمارة المنطقة في  بلدہ إذا  لم یکن في البلد قاض لتسهل له مهمة الوصول لأقرب محکمة کما یرجو المجلس الاهتمام بترائي الهلال والإحتساب في  ذلك.
''مملکت ِسعودی عرب کی سپریم جوڈیشل کونسل سعودی سرزمین کے جملہ مسلمانوں کو تقویم اُمّ القری کے مطابق جمعرات 28شعبان اور جمعہ 29 شعبان کی شام رمضان المبارک کا ہلال دیکھنے کی رغبت دلاتی ہے۔ اگر ان راتوں کو ہلال نظر نہ آئے تو 30 شعبان کی رات ہلال دیکھنے کی اپیل کرتی ہے۔ کونسل یہ بھی اُمید کرتی ہے کہ جو بھی ہلال دیکھ لے تو قریب ترین عدالت میں اس کی اطلاع پہنچائے اور وہاں اپنی شہادت ریکارڈ کرائے۔ اگر اس کے علاقے میں شرعی قاضی موجود نہیں تو پھر اس منطقہ کی زیرنگرانی اس مقصد کے لئے قائم نظم میں اطلاع دے تاکہ وہ نظم اسے قریب ترین عدالت تک پہنچاسکے۔ مزید برآں کونسل لوگوں سے خصوصی اہتمام کے ساتھ ہلال دیکھنے اور اس سلسلے میں اللہ سے اجروثواب کی توقع رکھنے کا اظہار کرتی ہے۔'' اس اعلان میں سائنسی ہجری کیلنڈرکے مطابق تو 28 اور 29 شعبان کی شام ہلال دیکھنے کامطالبہ کیا گیا ہے جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ سائنسی کیلنڈر پر کلی اعتماد ہو تو پھر ہلال دیکھنے کی ضرورت کیسی، نہ ہی لوگوں سے مطالبہ کرنے کوئی مطلب ، پھران تواریخ پر اگر اعتماد ہو تو 30 شعبان کی شام ہلال دیکھنا چہ معنی دارد ؟
iv. مجموعہ رسائل وفتاوی شیخ محمد بن صالح عثیمین : ج 19ص36، 37 ... فتاوىاللجنة الدائمة: 9910
v. اس موضوع پر حنفی فقہا کی مکمل آرا کے مطالعے کے لئے دیکھئے 'محدث' کا شمارئہ اپریل 1999ء، ص17 تا 21