بیعت دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان ایک سودے اور معاہدے کا نام ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جان اور مال قربان کرنے کا عہد کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے بدلے میں جنت دینے کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ قرآنِ مجید میں ایک جگہ بیعت کے اس مفہوم کو بڑے ہی خوبصورت اَنداز میں بیان کیاگیاہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَ‌ىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَ‌ٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْ‌ءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُ‌وا بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَ‌ٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴿١١١...سورة التوبہ
''بے شک اللہ تعالیٰ نے مؤمن بندوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں ۔ وہ مؤمن بندے اللہ کے رستے میں قتال کرتے ہیں ، پس وہ (کافروں کو) قتل کرتے بھی ہیں اور(خود بھی)شہید ہوتے ہیں ۔ سچا وعدہ ہے اللہ کے ذمے جو تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔ تم اپنے اس سودے(بیعت) پر خوشخبری حاصل کرو جو کہ تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔''

یہ آیت ِمبارکہ بیعت ِعقبہ ثانیہ (جسے بیعت ِکبریٰ بھی کہتے ہیں )کے بارے میں نازل ہوئی۔ چنانچہ امام قرطبی رحمة اللہ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :
''ونزلت الآیة في البیعة الثانیة وھي بیعة العقبة الکبرٰی''
''یہ آیت ِمبارکہ بیعت عقبہ ثانیہ (وہي بیعة کبری)کے بارے میں نازل ہوئی ۔''

اس آیت ِمبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں سے براہِ راست ایک معاہدہ کر رہے ہیں اور معاہدے کے وقت فریقین معاہدہ کا موجودہونا ضروری ہوتا ہے۔ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان اس معاہدے کے وقت اہل ایمان تو خودموجود ہوتے ہیں جبکہ اللہ کی طرف سے اس کا نمائندہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدے میں بالفعل شریک ہوتے ہیں ۔

اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں سے یہ معاہدہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ اس کے رستے میں اپنی جان اور مال خرچ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کوبدلے میں جنت دیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے جس میں اس کے مؤمن بندوں کواپنی جان اور مال کھپانا ہے ؟ظاہر بات ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت اس بات کا تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کرسکتے تھے، اس لیے کہ بیعت یوں تو بظاہر نبی کریمؐ سے ہوتی ہے لیکن معاہدئہ بیعت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فریق معاہدہ نہیں ہوتے بلکہ معاہدے کے فریقین اللہ تعالیٰ یا عام اہل ایمان ہوتے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے ایک نمائندہ بن کر یہ معاہدہ کرتے ہیں او ر ایک بندہ مؤمن کے لیے ا س مقام کومتعین کرتے ہیں جہاں اس نے اپنی جان اور مال و دولت کو کھپانا ہے۔اسی بات کو قرآن نے ایک اور انداز سے بیان کیاہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَـٰهَدَ عَلَيْهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿١٠...سورة الفتح
''بلا شبہ جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں ، وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ۔اللہ کا ہاتھ ا ن سب کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ پس جس نے (اپنا معاہدہ) توڑ دیا تو اس کے توڑنے کا وبال اسی پر ہو گا اور جوکوئی اللہ سے کیے گئے معا ہدے کو پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عنقریب اس کا بہت بڑا اجردیں گے۔ ''
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت در حقیقت اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔اور جو بیعت کو توڑتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے کیے گئے ایک معاہدے کو توڑتا ہے اور جو بیعت کو پورا کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ایک معاہدے کو پورا کرتا ہے ۔

بیعت اللہ ہی کی کیوں ہوتی ہے؟
اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں جو اوپر والی بحث کے نتیجے میں پیدا ہوتاہے کہ بیعت اللہ ہی کی کیوں ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں نہیں ہوتی ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ بیعت ایک قسم کا سودا ہے اور وہ یہ کہ اگرمؤمن اپنی جان اور مال اللہ کی راہ میں کھپا دیں تو اللہ تعالی ان کو بدلے میں جنت دے گا۔اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مرضی کے بغیراپنی طرف سے کسی اُمتی سے یہ وعدہ نہیں کر سکتے کہ تم اگر یہ کام کرو گے تو میں تمہیں جنت دوں گاکیونکہ کسی کو جنت دینا یا آخرت میں فوز و فلاح سے ہم کنار کرنا اللہ کے اختیار میں ہی ہے ۔جب بیعت جان و مال کے بدلے میں جنت کے سودے کا نام ہے تو یہ بیعت صرف اللہ کی ذات ہی سے ہو سکتی ہے جو کہ جنت کا مالک ہے۔ لیکن نبی چونکہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے وہ اللہ کی طرف سے بیعت لیتا ہے۔ خود اپنی طرف سے نبی جنت یا جہنم کا سواد نہیں کر سکتا، جیساکہ قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ‌ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـٰلِمُونَ ﴿١٢٨...سورة آل عمران
بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر اور فاسق کے فتویٰ کے باوجود وحی کی نص کے بغیر کسی متعین شخص کو جہنمی یا جنتی کہنے سے منع کیا ہے۔ مذکورہ بالا سورہ توبہ کی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان سے سودا کرتے وقت جان کا ذکر پہلے کیا ہے اور مال کا بعد میں ،حالانکہ قرآن کا عام اُسلوب یہ ہے کہ مال کا ذکرپہلے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سے کیے گئے اس معاہدے میں اصل معاہدہ اللہ کے رستے میں جان قربان کرنے کاہے ۔ اب بندوں نے اپنی جان کہاں کھپانی ہے یا اس سے بڑھ کر جان کہاں قربان کرنی ہے، اس کا تعین اللہ ہی کر سکتا ہے اور نبی چونکہ اللہ کا براہِ راست نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے جان و مال کو اللہ کے رستے میں کھپانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت کی بیعت ہوتی ہے۔

اُمت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو پہلو نمایاں ہیں :ایک آپؐ کی زندگی بطورِ نبی ؑکے اور دوسرا آپؐ اُمت ِمسلمہ کے پہلے منتظم یعنی حکمران بھی ہیں ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت چونکہ عالمگیر اور تا قیامت دائمی تھی، اس لیے نبوت میں تو نیابت کا کوئی سلسلہ جاری نہ ہوا جبکہ آپ ؐ کی حکمرانی عارضی تھی،لہٰذا آپؐ کی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں میں حکمران کا خلا پیدا ہو گیا۔اسلئے مسلمانوں کے معتمد خلیفة الرسول ﷺ نے آپ ؐ کے حکمرانی میں نائب ِ رسولؐ کی حیثیت سے اُمت ِمسلمہ کے منتظم کی ذمہ داری سنبھالی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے۔ چنانچہ وہی بیعت جو اللہ تعالیٰ سے اس کے براہِ راست نمائندے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ہوتی تھی، اب اللہ کے نمائندے صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب(i) یعنی حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ذریعے سے ہونے لگی۔یہ نیابت یا خلافت حضرت ابو بکر صدیقؓ کی وفات کے بعدحضرت عمر ؓ کو منتقل ہو گئی۔ اب حضرت عمر ؓ، حضرت ابوبکر ؓ کے نائب یا خلیفہ کی حیثیت سے بیعت لینے لگ گئے۔حضرت عمرؓ کو ابتدا میں خلیفة خلیفة رسول اﷲکہاجاتا (ii) تھا، پھر بعد میں طوالت سے بچنے کے لیے اُنہوں نے أمیر المؤمنین کا لقب اختیار کر لیا۔ اسی طرح یہ خلافت چلتی رہی اور خلفاے اربعہ کے بعدبنو اُمیہ اور بنو عباس کے حکمرا ن اہل ایمان سے سمع و طاعت کی بیعت لیتے رہے ۔مسلمان حکمرانوں کی یہ بیعت بھی در حقیقت اللہ ہی سے ہوتی تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے حوالے سے ہوتی تھی کیونکہ مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی ہوتی ہے۔ اس لیے عام اہل ایمان اپنے حکمرانوں کی معروف میں سمع و طاعت کی بیعت کرتے ہیں اوراس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ سے اپنے سودے کے مطابق جنت کی اُمید رکھتے ہیں ۔

ایک سے زائد افراد کی بیعت کا مسئلہ
چونکہ کسی بھی ذات کا اصل نائب ایک ہی ہوتا ہے، اس لیے اگر ایک سے زائد افراد بیعت کا دعویٰ کر دیں تو گویاوہ سب نبی کریمؐ کے نائب ہونے کے داعی ہیں اور ا ن میں ہر ایک اس بات کا مدعی ہے کہ اس کی سمع و طاعت کے بدلے میں اللہ کی طرف سے جنت ملے گی۔ اس لیے اگر ایک ہی علاقے اور سرزمین میں ایک سے زائد افراد بیعت لینے کے مدعی ہوں گے تو جس کی بیعت پہلے ہو چکی ہوگی، اس کی بیعت کو برقرار رکھا جائے گا اور بعد میں دعویٰ کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گاکیونکہ جب مسلمانوں کے ایک ہی علاقے میں ایک سے زائد افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب یا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کریں گے تو اہل ایمان میں باہمی قتل وغارت گری کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔آپؐ کا ارشادہے :
(إذا بویع لخلیفتین فاقتلوا الآخر منھما)1
''جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو جو اُن میں سے متاخر ہے، اس کو قتل کر دو۔''

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت صرف اس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہو اور کسی علاقے(iii) میں اللہ کے رسول ؐ کانائب أمیر المؤمنین یا مسلمانوں کاحکمران ہوتاہے اور أمیر المؤمنین یاحکمران ایک علاقے میں صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔ اگر حکمران کے علاوہ کسی کی بیعت جائزہوتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے خلیفہ کے قتل کا حکم نہ دیتے۔کیونکہ اصلاً حکمران تو پہلا ہی خلیفہ ہے جبکہ دوسرے نے تو ابھی خلافت کا دعویٰ ہی کیا ہے اور اس کے لیے بیعت لینا شروع کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو قتل کر دو۔

ثابت ہوا کہ بیعت ِسمع و طاعت صرف حکمران کے لیے ہے،اگر تو یہ حکمران عام اہل ایمان کو اللہ کے رستے میں کسی جگہ اپنا جان و مال خرچ کرنے کا حکم دے تو اس کی سمع و طاعت اس معاملے میں واجب ہے اور اس کے بدلے میں اللہ کی طرف سے جنت کی اُمید رکھنی چاہیے۔ آپ کا فرمان ہے :
(وإذا رأیتم من ولاتکم شیئًا تکرھونه فاکرھوا عمله ولا تنزعوا یدًا من طاعة)2
''جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ناپسندیدہ اَعمال دیکھو تو ان کے ان اعمال کو ناپسندہی جانو لیکن ان کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو۔''

البتہ اگرمسلمانوں کاکوئی حکمران ان کو کسی ایسی جگہ جان و مال کھپانے کا حکم دے جہاں اللہ تعالی کی معصیت لازم آتی ہو تو اس معاملے میں حکمران کی سمع و طاعت نہیں ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(علی المرء المسلم السمع والطاعة فیما أَحَبَّ وکَرِہَ إلا أن یؤمر بمعصیة فإن أمر بمعصیة فلا سمع وطاعة) 3
''ایک مسلمان پر سمع و طاعت ہر معاملے میں لازمی ہے چاہے وہ اسے پسند ہو یا نہ ۔ الا یہ کہ اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے۔ پس اگر کسی مسلمان کو اللہ کی نافرمانی کاحکم دیا جائے تو پھراس پر (حکمران کی)سمع و طاعت واجب نہیں رہتی ۔''

معلوم ہوا کہ حکمران کے لیے سمع وطاعت کی بیعت مطلق نہیں ہوتی بلکہ یہ سمع و طاعت معروف (دین وشریعت) کی شرط کے ساتھ مقید ہے۔

اب تک کی بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ
معاہدہ بیعت اللہ اور اس کے بندوں کے مابین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے ہوتا ہے۔
بعد میں یہ معاہدئہ بیعت نبی کے بطورِ حکمران نائب کی حیثیت سے الجماعة کے امیر یعنی حکمران سے ہوتا ہے۔
ایک علاقے میں ایک ہی امیر کی بیعت کی جاسکتی ہے، بعد میں بیعت لینے والے دوسرے امیر کو قتل کردینا چاہئے۔
امیر اگر بعض کام غلط بھی کرے تو ان باتوں کو غلط سمجھنے کے باوجود اس کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنا جائز نہیں البتہ معصیت کے کاموں میں خود امیر کی اطاعت کرنا درست نہیں ۔
مذکورہ بالا احکام تو الجماعة کے حوالے سے ہیں ، البتہ کیا مسلمانوں میں اس کے علاوہ کوئی نظم قائم نہیں کیا جاسکتا اور الجماعة، ایک عام جماعت یا انجمن میں کیا فرق ہے؟ یہ موضوع ابھی وضاحت طلب ہے ۔

احادیث میں الجماعة سے مسلمانوں کا نظم اجتماعی ہی مراد ہے!
اَحادیث میں مسلمانوں کو التزامِ جماعت کا جو حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد کوئی محدود جماعت یا انجمن نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ملت ِاسلامیہ یا مسلمانوں کا اجتماعی سیاسی نظم ہے۔ کیونکہ جن احادیث میں بھی التزامِ جماعت کا حکم بیان ہوا ہے، ان میں الجماعة یا جماعة المسلمین کے الفاظ سے یہ حکم بیان ہوا ہے۔اور الجماعة ہو یا جماعة المسلمین دونوں ہی عربی گرامرکی رو سے معرفہ ہیں اور ان سے مراد اُمت ِمسلمہ (ملت اسلامیہ) یا مسلمانوں کا اجتماعی سیاسی نظم ہے نہ کہ مسلمانوں کی کوئی محدود جماعت یا انجمن۔مثلاً آپ کا ارشاد ہے :
(ید اﷲ علی الجماعة)4
''الجماعة پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔''

اس حدیث میں الجماعة کا لفظ بیان ہوا ہے جس سے مراد ایک خاص جماعت یعنی اُمت ِمسلمہ یا مسلمانوں کا اجتماعی سیاسی نظم ہے، اسی طرح ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں :
(وأنا آمرکم بخمس، اﷲ أمرني بھن: السمع والطاعة والجھاد والھجرة والجماعة فإنه من فارق الجماعة قید شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن یراجع)5
''اور میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے: سمع و طاعت، جہاد وہجرت اور جماعت کا۔ بے شک جو الجماعةسے بالشت برابر بھی دور ہو گیا، اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اُتار دیا سوائے اس کے وہ دوبارہ اس کی طرف رجوع کرلے۔''

اس حدیث میں بھی الجماعة کا لفظ بیان ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس الجماعة سے علیحدگی کو اسلام سے علیحدگی کے مترادف قرار دیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں الجماعة سے مراد مسلمانوں کا اجتماعی سیاسی نظم ہے نہ کہ کوئی محدود جماعت یا انجمن۔

ایک اور حدیث میں الفاظ اس طرح ہیں :
(تلزم جماعة المسلمین وإمامھم)6
''تو لازم پکڑو مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو ۔''
اس حدیث سے بھی کوئی محدود؍ رجسٹرڈ 'جماعت المسلمین' یا اس کا امام مرادنہیں ہے بلکہ اس سے عام مسلمانوں کی جماعت یعنی اُمت ِمسلمہ اور ان کا امام مرادہے ۔

ایک اور روایت میں آپ کا ارشاد ہے :
(من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات میتة جاهلیة)7
اس حدیث میں من خرج من الطاعة اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں بھی الجماعة سے مراد مسلمانوں کا اجتماعی سیاسی نظم ہے اورالجماعة سے نکلنے سے مراد اس اجتماعی نظم کے خلاف بغاوت یا خروج کرنا ہے۔

الجماعة اورایک محدود تنظیم / انجمن کا نظم
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ احادیث ِمبارکہ میں جو نظم جماعت بیان ہوا ہے وہ الجماعة یا جماعة المسلمین کا نظم ہے اور اس نظم کو اگر ہم دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس کے لیے حدیث ہی کی اصطلاح 'سمع و طاعت' ہے یعنی عام مسلمان اپنے امیر کی بات سنیں گے اور پھراس کی اطاعت کریں گے۔مسلمانوں کے امیر کی یہ سمع و طاعت سواے اللہ کی معصیت یا نافرمانی کے کاموں کے ہر معاملے میں ہو گی، چاہے مامورین اسے پسند کریں یا ناپسند۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
(ولو استعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اﷲ فاسمعوا له وأطیعوا)
''اگر تمہارے اوپر کوئی غلام بھی حکمران بنا دیا جائے جو کتاب اللہ سے تمہاری رہنمائی کرے تو تم اس کی سمع و طاعت کرو۔''8

قرآن وسنت نے ہمیں الجماعة کے التزام کا حکم دیا ہے جس سے مراد اُمت ِمسلمہ ہے یا مسلمانوں کا سیاسی اجتماعی نظم ہے اور اسی الجماعة کے التزام کو ہر مسلمان پر واجب قرار دیا گیا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اس وقت مسلم معاشروں میں الجماعة کے علاوہ بھی بہت سی محدود مذہبی جماعتیں یا انجمنیں پائی جاتی ہیں ۔ جہاں تک ان محدود جماعتوں یا انجمنوں کے قائم کرنے کا مسئلہ ہے تو حالات کے تحت ان جماعتوں کے بنانے اور ان کے التزام کا حکم بھی مختلف ہوگا۔

الجماعةکے امام کی نااہلی کی صورتیں
اس وقت مسلمانوں کی الجماعة تو موجود ہے لیکن اس الجماعة کامطلوب امام موجود نہیں ہے کیونکہ جو اس وقت مسلمانوں کے نام نہادعام حکمران موجود ہیں وہ امامت کی بنیادی اہلیت پر پورا نہیں اُترتے ۔آپ کا ارشاد ہے :
(خیار أئمتکم الذین تحبونھم ویحبونکم ویصلون علیکم ویصلون علیهم  وشرار أئمتکم الذین تبغضونھم ویبغضونکم وتلعنونھم ویلعنونکم)۔قیل یا رسول اﷲ! أفلا ننابذھم بالسیف؟ فقال: (لا۔ ما أقاموا فیکم الصلاة)9
''تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے، تم ان کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے۔ اور تمہارے بدترین حکمرن وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں ،تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم پر۔کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم ان کو تلوار سے ہٹا نہ دیں تو آپ نے فرمایا:تمہیں ایسا کرنے کی اس وقت تک اجازت نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کا نظم قائم کرتے رہیں ۔''

یہ حدیث اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ اگر حکمران خود نماز کا پابند نہ ہویا مسلمانوں میں نماز کا نظم قائم نہ کرے تو مسلمانوں کی امامت کا اہل نہیں ہے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس امام کو معزول کردیں ۔ قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
أجمع العلماء علی أن الإمامة لاتنعقد للکافر وعلی أنہ طرأ علیه الکفر انعزل قال وکذا لو ترک إقامة الصلوات و الدعاء الیه 10
''مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر کبھی مسلمانوں کا امام (حکمران) نہیں بن سکتا اور اگر کوئی مسلمان امام کافر ہو جائے تو وہ امامت سے معزول ہو جائے گااور اسی طرح اگر وہ نماز قائم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا چھوڑ دے تو پھر بھی معزول ہو جائے گا۔''

ایک دوسری روایت میں ایسے امام کے لیے جو امامت کا اہل نہیں ہے، 'کفر بواح' کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں :
فیما أخذ علینا أن بایعنا علی السمع والطاعة في منشطنا ومکرھنا وعسرنا ویسرنا وأثرة علینا وأن لا ننازع الأمر أھله (إلا أن تروا کفرا بواحا عندکم من اﷲ فیه برھان)11
''ہم سے جو معاہدۂ بیعت لیا گیا، ان اُمور میں ایک یہ تھا کہ ہم نے ہر حال مں سمع و طاعت کی بیعت کرنا ہے ہم پسند کریں یا ناپسند، تنگی میں رہیں یا آسانی میں ۔ چاہے ہمارے اوپر کسی دوسرے کو ترجیح دی جائے۔ اور ہم نے اس بات پربھی بیعت کی کہ ہم اپنے امرا سے جھگڑا نہیں کریں گے، سوائے اس کے کوئی امیر صریح کفر کا مرتکب ہو، اس کے کفر پر کوئی واضح دلیل ہمارے پاس موجود ہو جسے ہم اللہ کے ہاں پیش کر سکیں ۔ ''

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرکوئی حکمران دین اسلام کی بنیادی تعلیمات (جنہیں ضروریاتِ دین کہتے ہیں )میں سے قرآن و سنت میں موجود کسی ایسی صریح یا واضح تعلیم کا انکار کر دے کہ جس میں مناسب تاویل کی گنجائش موجود نہ ہو تو وہ مسلمانوں کی امامت کا اہل نہیں رہتا۔ قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
فلو طرأ علیه الکفر وتغیر الشرع أو بدعة خرج عن حکم الولایة وسقطت طاعته ووجب علی المسلمین القیام علیه وخلعه  ونصب إمام عادل إن أمکنھم ذلک12
''پس اگرحکمران کافر ہو جائے یا شریعت کو تبدیل کر دے یا کسی بدعت کا مرتکب ہو تو وہ مسلمانوں کی حکمرانی سے محروم ہو جاتا ہے او ر مسلمانوں کے لیے اس کی اطاعت باقی نہیں رہتی بلکہ مسلمانوں پر یہ واجب ہوجاتا ہے کہ وہ اس حکمران کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور اس کومعزول کر کے اس کی جگہ ایک عادل امام (حکمران) کو لے کر آئیں بشرطیکہ وہ ایسا کرنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔''

شرعاً موزوں امام کے حصو ل کے لئے جدوجہد
لہٰذا مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنا کوئی ایسا امام مقرر کریں جو امامت کی بنیادی شرائط پر پورا اُترتا ہو۔ اگر اس امام کے تقرر کے لیے کسی اجتماعی جدو جہد کی ضرورت ہے توتنظیم بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اس غرض سے تنظیم بنانے اور اس میں شمولیت کا حکم فرضِ کفایہ کا ہو گا کیونکہ اگر امام کی تقرری کسی اجتماعی جدوجہد کے بغیر ممکن ہی نہ ہو تو پھر اس جماعت کا بنانا فقہی اُصول مالا یتم الواجب إلا بہ فھو واجب کے تحت فرضِ کفایہ ہو گا اور ایسی جماعت سے تعاون کا حکم بھی وجوبِ کفایہ کے درجے میں ہو گاتاکہ اس محدود وعارضی تنظیم کی جدوجہد کے نتیجے میں جماعت المسلمین کا ایسا امام مقرر ہو سکے جو امامت کی شرائط پر پورا اُترتا ہواورجب اُمت ِمسلمہ اس کی قیادت پر مطمئن ہو جائے تو یہ امامت ِکبریٰ کا مقام حاصل کر لے گی۔ تب اس امام کی بیعت ِسمع وطاعت بھی ہو گی تاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان تلزم جماعة المسلمین وإمامھم پر عمل ہو سکے۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ تمدنی ارتقا کے نتیجہ میں جدیدمعاشروں میں کچھ ایسی سیاسی اور معاشرتی تبدیلیاں ظہور پذیر ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں عصر حاضر میں امام کا مقام انفرادی کی بجائے ایک سیاسی اجتماعیت کو دے دیا گیا ہے جسے 'ریاست' کہتے ہیں ۔اس عرف کی شرعی حیثیت سے قطع نظر ریاست کے نظم ونسق کی اساس آئین ودستور کو حاصل ہوتی ہے، کیونکہ صدارتی نظام ہو یا پارلیمانی کسی ملک کا صدریا وزیراعظم عارضی ہوتا ہے اور وہ نظم ونسق کے لیے ریاست کے آئین ہی کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کسی ریاست کا آئین یا دستور دین وشریعت سے آزاد ہو گا تو فرد کی بجائے ریاست غیر اسلامی ہو گی اور اس کے خلاف خروج جائز ہو گا۔ البتہ اگر کسی ریاست کا آئین و دستور اسلامی ہو گا تو وہ ریاست اسلامی کہلائے گی اور اس کے خلاف خروج یا مسلح بغاوت جائز نہیں ہوگی۔

ایک تیسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی ریاست کا دستور و آئین تو اسلامی ہو لیکن اس کے حکمران کافر کی بجائے فاسق و فاجر ہوں توایسی صورت میں ان حکمرانوں کو ہٹانے کی جدوجہد آئینی طریقہ سے کی جائے گی تاکہ عادل و منصف حکمران بر سر اقتدار آئیں اور اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق بنائے گئے آئین کی روشنی میں ریاست کے داخلی و خارجی معاملات کو چلائیں ۔

ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امامت ِکبریٰ کے قیام کی غرض سے یا کسی چھوٹی سطح پر سماجی بہبود یا فکری اصلاح کے مقاصد سے جو ادارے،انجمنیں یا اسی طرح کی دیگر تنظیمیں محدود مقاصد کے لیے بنائی جاتی ہیں ، ان کا نظم ونسق کیا اُسی انداز کا ہو گا جو احادیث میں الجماعةکا نظم بیان ہوا ہے۔اس مسئلے کی کافی تفصیل ہے اور علمائے اسلام کی آرا بھی مختلف ہیں ۔جو لوگ امامت ِکبریٰ ہو یا صغریٰ کے لیے شرع میں اُصولی تعلیمات اور طریق کار کی پابندی کے قائل ہیں ، وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر نظم کااساسی نظام شریعت نے ایک ہی رکھا ہے لہٰذاان اُصولوں اور مناہج کو نہیں چھوڑناچاہیے ۔البتہ جہاں امامت ِصغریٰ یا کبریٰ کا معاملہ نہ ہو بلکہ فکری،علمی اور رفاہی قسم کی سماجی انجمنیں تشکیل دیتے ہوئے اگر بعض جدید تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے معاملات کو وقتی طور پر انجام دینے کے لیے جدید نظاموں سے کچھ طریقے لے لیے جائیں تو ہماری رائے میں اس پر زیادہ سخت رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے۔ در اصل یہ بحث 'مصالح مرسلہ' کی ہے۔اس ضمن میں 'مصالح مرسلہ' کے بارے میں فقہاے اسلام کے ا ختلافی نقطہ ہاے نظر کے مطابق کسی وقت مناسب بحث پیش کی جا سکتی ہے ـ۔اِن شاء اللہ... تا ہم امامت ِکبریٰ میں تلزم جماعة المسلمین وإمامہم کے تحت شرعی نظم کے وجوب پر علماے اسلام متفق ہیں ۔

ہم اس وقت امارتِ صغریٰ کے اختلافی شرعی نظام کی بحث چھوڑتے ہوئے صرف ایک مسئلہ پر کچھ کہنا چاہتے ہیں کہ نظام کچھ بھی ہو، پہلی بات یہ ہے کہ محدود جماعت یاانجمن کے امیر کی سمع و طاعت تو ہو گی جیسا کہ نماز کے امام کی اقتدا ہوتی ہے جو محدود جماعت کا امام بھی ہوتا ہے اور اس کی سمع واطاعت بھی ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کوئی عارضی جماعت یا انجمن اپنی رکنیت کے لیے بیعت کے بغیر حلف نامہ یا معاہدہ کے ذریعے اپنے ارکان کو پابند بنا سکتی ہے کہ وہ اس جماعت یاانجمن کے امیر کی سمع و طاعت ہر صورت کریں گے۔کسی بھی نظم کی پابندی ہر تنظیم میں ہوتی ہی ہے اور شریعت کی رو سے کسی بھی جماعت یا ادارہ سے ایسا معاہدہ اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ اس سے کسی معاملے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی لازم نہ آتی ہو۔البتہ یہ چیز ملحوظ رکھی جائے کہ سمع وطاعت کامعاہدہ افراد کے لیے الگ ہوتا ہے اور اداروں کے لیے الگ۔ اداروں کی انجمنیں دستور وضوابط وضع کر کے اپنے ارکان اور عہدہ داران کے لیے ضوابط بنا لیتی ہیں پھر افراد کے بجائے سب کے لیے ان ضوابط کی پابندی ہوتی ہے ۔

بیعت اور نظم جماعت میں فرق
نظم جماعت اور بیعت میں فرق ہے مثلاً الجماعة کا نظم جماعت تو امیر کی'سمع وطاعت'ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کا نائب(خلیفہ) اس نظم جماعت کی پابندی کروانے کے لیے اپنے مامورین سے ایک خاص طریقے سے جو وعدہ لیتاہے، وہ بیعت کہلاتا ہے ۔یہ بات ذہن میں رہے کہ مسلمانوں کے باہمی معاہدات اور بیعت میں بھی فرق ہے، ایک عام معاہدہ تو کوئی مسلمان کسی سے کسی وقت بھی کر سکتا ہے جب تک کہ وہ قرآن و سنت کے منافی نہ ہویا اس سے مسلمانوں کے اما م سے کیے گئے وعدے یعنی بیعت کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو،لیکن معاہدئہ بیعت ذاتی قسم کے تمام باہمی معاہدات سے بلند تر جان ومال کے سودے کی صورت ہوتی ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓسے روایت ہے :
فیما أخذ علینا أن بایعنا علی السمع والطاعة في منشطنا ومکرھنا وعُسرنا ویُسرنا وأثرة علینا وأن لا ننازع الأمر أھله إلا أن تروا کفرًا بواحا عندکم من اﷲ فیه برھان 13
''ہم سے جو معاہدے لیے گئے، ان میں ایک یہ تھا کہ ہم نے ہر حال میں سمع و طاعت کی بیعت کی، چاہے ہم پسند کریں یا ناپسند؛ تنگی میں ہوں یا آسانی میں ، چاہے ہمارے اوپر کسی دوسرے کو ترجیح دی جائے، اور ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اپنے اُمرا سے جھگڑا نہیں کریں گے سواے اس کے کوئی امیر صریح کفر کا مرتکب ہواور اس کے کفر پر کوئی واضح دلیل ہمارے پاس موجود ہو جسے ہم اللہ کے ہاں پیش کر سکیں ۔ ''

اس روایت میں الجماعة کا جو نظم بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ خوشی ہو یا ناراضگی'تنگی ہو یا آسانی 'ہر حال میں امیر کی اطاعت کی جائے گی اور اس سے کسی معاملے میں بھی جھگڑا نہیں کیاجائے گا۔یہ نظم جماعت جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں الجماعة کے علاوہ کسی محدود جماعت یا انجمن کے لیے بھی اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن اس نظم پر عمل پیرا ہونے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کے خلفا نے جو بیعت لی ہے، وہ بیعت کسی محدود جماعت کا امیر یا انجمن کا صدر نہیں لے سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیعت صرف الجماعة کے امام کے لیے خاص ہے یاوہ شخص لے سکتا ہے جو کسی خاص علاقے میں الجماعة کے امام ہونے کا دعویٰ کرے جیسا کہ حضر ت حسینؓ، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ،سید احمد شہید بریلوی رحمة اللہ علیہ اور ملا محمدعمرنے بیعت لی تھی ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ امامت ِصغریٰ مثلاًنماز کا امام یا کسی عارضی و محدود جماعت مثلاً سفری جماعت کے امیر کے لیے احادیث میں سمع و طاعت کا ذکر تو ملتا ہے لیکن ایسے امام یا امیر کے لیے بیعت ثابت نہیں ہے۔مثلاً سفر کی حالت میں جو جماعت بنتی ہے، اس کے امیر کی سمع و طاعت تو ہوتی ہے لیکن بیعت نہیں ہوتی۔ اسی طرح نماز کا جو امام ہوتا ہے، اس کی اقتدا تو ہوتی ہے لیکن بیعت نہیں ہے ۔علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ عصر حاضر میں کسی بھی ادارے میں ملازمت کرنے والا فرد ایک معاہدئہ ملازمت پر عمل در آمد کرتے ہوئے اپنے افسر(Boss) کی سمع و طاعت تو کرتا ہے، لیکن اس کی بیعت نہیں کرتا۔لہٰذا اگر محدود مقاصد کے لیے بننے والی جماعتوں اور انجمنوں کے اُمرا بھی بیعت لینا شروع کر دیں گے تو پھر اسلامی معاشرے میں بہت سی ایسی جماعتیں وجود پذیر ہوں گی کہ جن کے اراکین اپنے امرا سے بذریعہ بیعت یہ معاہدہ کر رہے ہو ں گے کہ وقت آنے پر وہ اپنے امیر کے حکم پر اپنی جان اور مال قربان کریں گے اور ان کے اُمرا جواباً ان کو سورة توبہ کی آیات سنا کر جنت کے ٹکٹ بانٹ رہے ہوں گے اور یہ جماعتیں آپس میں ایک دوسرے سے بھی لڑ رہی ہوں گی۔

اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک علاقے میں ایک سے زائد افراد کی بیعت سے منع کیاہے اور یہ حکم دیا کہ پہلے کی بیعت کوبرقرار رکھاجائے اور بیعت کے دوسرے مدعی کو قتل کردیا جائے۔لیکن اس کے برعکس آپ نے ایک ہی علاقے میں الجماعةکے علاوہ ایک سے زائد محدود یا عارضی جماعتوں کے وجوداور ان کے نظم امارت سے منع نہیں کیا (iv)جیسا کہ ایک حدیث کے الفاظ ہیں :
من أطاعني فقد أطاع اﷲ ومن عصاني فقد عصی اﷲ ومن أطاع أمیري فقد أطاعني ومن عصٰی أمیري فقد عصاني14
''جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔''

غور طلب بات ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے میں دعوت و تبلیغ یا جہاد و قتال کے لیے مختلف لشکر بھیجتے یا کسی علاقے کی طرف کسی صحابی کو گورنر بناکر بھیجتے تھے توان لشکروں کے اُمرا یا علاقوں کے گورنروں کی سمع و طاعت تو ہوتی تھی لیکن ان کی بیعت نہ ہوتی تھی کیونکہ بیعت تو صرف امام کی ہے اور اما م ایک علاقے میں ایک ہی ہوتا ہے ۔ اگر ان گورنروں نے بیعت لینی بھی ہوتی تھی تواپنے امام یا امیر المؤمنین کی بیعت لیتے تھے، جیساکہ تاریخی آثار وکتب سے واضح ہوتا ہے۔ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں :
إذا خرج ثلثة في سفر فلیؤمروا أحدھم15
''جب بھی تین افراد کسی سفر میں نکلیں تو اُنہیں چاہیے کہ وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں ۔''

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہر حال میں جماعتی زندگی کو پسند کرتا ہے، اگر کسی جگہ مسلمانوں کا بڑا نظم امارت خود کنٹرول نہ کر رہا ہو مثلاًسفر کی حالت تو وہاں مسلمانوں کو عارضی نظم امارت قائم کر لینا چاہیے ۔اسی طرح کسی ذیلی مخصوص مقصد کے حصول کے لیے بھی جماعت بنائی جا سکتی ہے لیکن سفری یا کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے بنائی جانے والی عارضی جماعت کے امیر کی بیعت نہیں ہوگی،بیعت صرف الجماعة کے امیر کی ہوگی ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت سے جتنی بھی بیعتیں لیں ، وہ دو طرح کی ہیں : ایک بیعت ِنبوت جس کے مغالطے میں بیعت ِتوبہ یابیعت ِتزکیہ وارشاد کو ہمارے صوفیا نے پیری مریدی کی بیعت کا نام دے رکھا ہے اور دوسری بیعت ِامارت جس کے تابع بعض عسکری تنظیمیں بیعت ِجہاد کو داخل کرتی ہیں ۔چونکہ بیعت ِجہاد بیعت ِامارت کا حصہ ہے، اس لیے یہ امیر المؤمنین کی اجازت سے مشروط ہے۔(v) اور بیعت ِتوبہ اور بیعت ِاسلام تو بیعت ِنبوت کا حصہ ہیں ۔جب نبوت دائمی ہے تو بیعت ِتوبہ یا بیعت ِاسلام کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کیونکہ بیعت ِنبوت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ اس بیعت میں آپ کسی سے یہ وعدہ لیتے ہیں کہ وہ اسلام قبول کر کے منکرات کو ترک کرتے ہوئے اپنا تزکیہ اور اصلاح کرے گا جیسا کہ قرآن میں عورتوں کے حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُؤْمِنَـٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰٓ أَن لَّا يُشْرِ‌كْنَ بِٱللَّهِ شَيْـًٔا وَلَا يَسْرِ‌قْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَـٰدَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَـٰنٍ يَفْتَرِ‌ينَهُۥ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْ‌جُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِى مَعْرُ‌وفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَٱسْتَغْفِرْ‌ لَهُنَّ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٢...سورہ الممتحنہ
''اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں اس لیے آئیں تاکہ وہ آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے کوئی بہتان نہیں گھڑ لائیں گی اور معروف میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیں اور ان کے اللہ سے بخشش طلب کریں بلا شبہ اللہ تعالی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ ''

چونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معصوم عن الخطاء ہیں ، اس لیے آپ تو اپنے کسی اُمتی سے یہ وعدہ لے سکتے تھے کہ تم فلاں گناہ نہیں کرو گے، فلاں منکر کے قریب بھی نہیں پھٹکوگے او ر میری اطاعت کرو گے لیکن ایک عام اُمتی مثلاً کوئی صوفی یا پیر صاحب معصوم نہیں ہوتے، ان سے گناہ کا صدور ممکن بھی ہے اور بہت دفعہ ہوتا بھی ہے تو جو خود گناہ گار ہو، اس کو یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ وہ دوسرے گناہ گارسے یہ وعدہ لے کہ تم گناہ نہیں کرو گے؟اگر تو کوئی گنا ہ گار کسی دوسرے گناہ گارسے،گناہ کے چھوڑنے پر بیعت لے سکتا ہے توپھر ہر مرید کو بھی پہلے ا پنے پیر صاحب سے گناہ نہ کرنے کی بیعت لینی چاہیے جس پر کوئی بھی پیر صاحب کبھی بھی راضی نہ ہوں گے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جو شخص بھی مسلمانوں سے یہ بیعت لیتا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں نیابت کا داعی ہے اور ایسا دعویٰ جائز نہیں ہے ۔جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ آپؐ نے لوگوں سے دو بیعتیں لی تھیں : ایک بیعت ِامارت اور دوسری بیعت ِنبوت،پہلی بیعت تو صرف مسلمانوں کا خلیفہ ہی عام مسلمانوں سے لے سکتا ہے کیونکہ وہ آپؐ کی وفات کے بعدنظم امارت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوتا ہے اور آپؐ کے نائب یعنی خلیفہ کے علاوہ کسی کے لیے بھی بیعت ِامارت لینا جائز نہیں ہے جبکہ دوسری بیعت لینا جس کو صوفیا نے بیعت ِتوبہ یا ارشاد کا نام دے رکھا ہے، صرف اسی کے لیے جائز ہے جو خود اللہ کا نبی ؑہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں آپؐ کا نائب ہو۔چونکہ آپؐ کی نبوت دائمی ہے لہٰذا امارت کی طرح نبوت میں آپ ؐ کی نیابت آگے اُمت میں منتقل نہ ہوئی۔ اس لیے بیعت ِتوبہ یا بیعت ِارشاد لینا کسی بھی اُمتی کے لیے جائز نہیں ہے۔خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بیعت:بیعت ِنبوت اور امارت دونوں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں البتہ بیعت ِامارت نبیؐ کا خلیفہ(نائب)بھی لے سکتا ہے۔

بیعت لینے والوں کے دلائل کاجائزہ
اب ہم ان احادیث کی طرف آتے ہیں جن کو عام طور پر بعض حضرات بیعت ِامارت کی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں او ر ان روایات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب(خلیفہ )کے علاوہ کسی عارضی جماعت کے امیر کی بیعت بھی جائز ہے۔خواہ وہ بیعت توبہ وارشاد ہو یا بیعت امارت۔

بعض اہل علم نے بیعت ِعقبہvi اُولیٰ اوربیعت ِعقبہ ثانیہ اور ان سے قبل چھ افراد کی بیعت سے اس بات کی دلیل پکڑی ہے کہ ایک ایسی جماعت کے امیرکے لیے بھی عام مسلمانوں سے بیعت لینا جائز ہے جو کسی اسلامی ریاست میں خلافت یا امامت کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہو جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں اپنی امامت یا حکومت کے قیام سے پہلے مکہ مکرمہ میں عام مسلمانوں سے بیعت لیتے رہے یا پہلی مرتبہ یثرب (مدینہ منورہ) کے چھ افراد نے عقبہ کے مقام پر بیعت کی تھی جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بیعت ِاسلام تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ منورہ کے ان چھ افراد کی اس بیعت کو بیعت عقبہ اُولی شمار نہیں کرتے بلکہ اگلے سال ۱۲؍افراد کی بیعت کو بیعت ِعقبہ اولیٰ کہتے ہیں جس کے بعد ۷۳؍افراد کی بیعت کو عقبہ ثانیہ سے موسوم کرتے ہیں ،کیونکہ یہ دونوں بیعتیں نبیؐ کے مدینہ منورہ کی سیادت کی تمہید تھیں ۔اس لیے گویا ان دونوں بیعتوں کی بنا پر آپ کو إمام بِالْقُوَّة تسلیم کر لیا گیا۔

بیعت ِعقبہ اولیٰ اور ثانیہ جس کا تذکرہ اکثر احادیث میں ملتا ہے، وہ نبوت کے ساتھ امارت کی بیعت بھی ہے۔ بیعت ِعقبہ اولیٰ و ثانیہ امارت ہی کی بیعت تھیں جو کہ آپ نے مسلمانوں کے امام ہونے کی حیثیت سے لی تھی اور ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے امیر یا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کرے اور امارت ِشرعیہ کے قیام کے لیے کوشاں ہوتو وہ اپنی جماعت کے اراکین سے بیعت لے سکتا ہے۔ اس لیے بیعت صرف ایسے فرد کی کی جائے گی جس کا سیاسی اقتدار کسی محدود یا غیر محدود علاقے میں بالفعل یا بالقوة قائم ہو جائے اور بالقوة اقتدار قائم ہونے کی مثال ہجرت سے قبل آپؐ کی بیعت ِعقبہ اولی یا عقبہ ثانیہ ہے۔

بعض اہل علم کو بیعت ِعقبہ اولی اور بیعت ِعقبہ ثانیہ سے یہ مغالطہ لگا کہ کسی ایسی محدود اور عارضی جماعت کا امیر بھی مسلمانوں سے بیعت لے سکتاہے جو امارت ِشرعیہ یا امامت ِکبریٰ کے قیام کے لیے بنائی گئی ہو۔حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ بعض روایات میں الفاظ ہیں :
فرحل إلیه منا سبعون رجلا فوعدناہ بیعة العقبة فقلنا: علی ما نبایعك؟ فقال: علی السمع و الطاعة في النشاط و الکسل وعلی النفقة في العسر و الیسر وعلی الأمر بالمعروف والنھي عن المنکر وعلی أ ن تنصروني إذا قدمت علیکم یثرب فتمنعوني مما تمنعون منه أنفسکم وأزواجکم وأبنائکم ولکم الجنة 16
''پس(مدینہ سے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تقریباً ستر افراد نے سفر کیا پس ہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت ِعقبہ کی۔ہم نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا ہم کس چیز پر آپ سے بیعت کریں تو آپ نے فرمایا : ہر حال میں سمع و طاعت پر،چاہے دل آمادہ ہو یا نہ ہواور اللہ کے رستے میں خرچ کرنے پر بیعت کرو چاہے آسانی ہو یا تنگی ہواور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر بیعت کرو اور اس بات پر کہ جب میں یثرب آؤں گا تو تم میری مدد کرو گے اور تم میرا اس طرح دفاع کرو گے جس طرح تم اپنی جانوں یا بیوی بچوں کا دفاع کرتے ہواور تمہارے لیے اس کے بدلے میں جنت ہے ۔

یہ روایت اس مسئلے میں صریح ہے کہ بیعت ِعقبہ ثانیہ مدینہ میں قائم ہونے والی ریاست کے امیر کی حیثیت سے تھی۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی خطہ ارضی میں اپنی امارت میں ا سلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہو اور اس کے لیے لوگوں سے تعاون حاصل کر رہا ہوتو وہ اپنے متعاونین سے بیعت بھی لے سکتا ہے ۔

خلاصۂ کلام
خلاصہ کلام یہ ہے کہ الجماعة سے مراد اُمت ِمسلمہ ہے یا کسی خاص علاقے میں مسلمانوں کا اجتماعی سیاسی نظم؟ احادیث میں ہر مسلمان پر الجماعة کے التزام کو لازم قرار دیا گیا ہے اور ایک خاص علاقے میں ایک الجماعة کے ہوتے ہوئے کوئی دوسری الجماعة بنانا شرعاً جائزنہیں ہے، بالفرض اگر محدود مقاصد کے حصول کی خاطر کوئی محدود جماعت یا انجمن بنائی جاسکتی ہے اور اس محدود جماعت یا انجمن کا نظم الجماعة کے نظم کی مانند بھی ہو سکتا ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی ایسا نظم اختیار کیاجا سکتا ہے جو اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہولیکن بیعت جو اللہ تعالیٰ سے ایک سودے یا جان ومال کے معاہدے کا نام ہے وہ الجماعة کے امیر کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں الجماعة کے امیر آپ بذاتِ خودتھے لہٰذا بیعت بھی آپ کی تھی۔ آپ کی وفات کے بعد الجماعة کا امیر مسلمانوں کا خلیفہ ہوتا تھا، لہٰذا بیعت اس خلیفہ کی ہوتی ہے اور اگریہ خلفا مختلف علاقوں میں ایک سے زائد ہوں جیساکہ بنو عباس کے دور میں اَندلس میں بنو اُمیہ کی حکومت تھی توہر خلیفہ کی اس علاقے کے لوگوں پر بیعت واجب ہے۔اور اگر ایک ہی علاقے میں ایک سے زائد افراد خلیفہ ہونے کا دعویٰ کریں تو پہلے کی خلافت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے بیعت کی جائے اورمتا خرخلیفہ کو جو مسلمانوں سے اپنی خلافت پر بیعت لے رہا ہو،قتل کر دیا جائے گا۔

اگر صورتِ حال یہ ہو کہ کسی علاقے میں مسلمانوں پر کفار کی حکومت ہو تو اگر کوئی مسلمان کافر کی حکومت کو ختم کر نے اور اپنی امارت قائم کرنے کے لیے جماعت بنائے تو ایسی جماعت کا امیر بھی اپنی جماعت کے اراکین سے بیعت لے سکتا ہے جیسا کہ سید احمدبریلوی شہید رحمة اللہ علیہ نے بیعت لی تھی۔اسی طرح مسلمانوں کا کوئی حکمران' کفر بواح' کا مرتکب ہو یا تارک ِصلاة ہو تو کوئی مسلمان اگر ایسے حکمران کی امامت ختم کرنے اور اپنی امامت قائم کرنے کے لیے کوشاں ہو تو ایساشخص بھی اپنی جماعت کے افراد سے بیعت لے سکتا ہے ۔اس انفرادی امامت پر اس اجتماعی امامت (ریاست) کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے جس کا آئین ودستور اسلامی ہو، لیکن اگر کوئی شخص امارتِ شرعیہ کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہا ہو اور اس کے لیے اس نے کوئی جماعت بنائی ہو اور وہ خود امامت کا مدعی نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے عام مسلمانوں سے بیعت لینا جائزنہیں ہے کیونکہ بیعت ِامارت و جہادیا تو الجماعة کے امام کے لیے ہے یا اس کے لیے جو الجماعة کی امامت کے حقدار ہونے کا مدعی ہو جیساکہ حضرت حسین ؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا معاملہ تھا۔ واﷲ أعلم بالصواب


حوالہ جات
1. صحیح مسلم،کتاب الامارة، باب إذا بویع لخلیفتین، ح 1853
2. صحیح مسلم : ح 1855
3. صحیح مسلم: ح1839
4. صحیح الجامع الصغیر:8065
5. سنن ترمذی: ح2863
6. صحیح بخاری: ح3338
7. مسلم:1848
8. صحیح مسلم: ح 1837
9. صحیح مسلم: ح1855
10. شرح نووی : 6؍314
11. صحیح مسلم:ح 1709
12. شرح نووی صحیح مسلم:6؍314
13. صحیح مسلم :1709
14. صحیح مسلم:1835
15. سنن ابو داؤد:2609
16. فتح الباری مع صحیح بخاری:11؍ 222

 


 

i. ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفة اﷲ کہہ کر پکارا تو آپ نے اپنے خلیفة اﷲ (اللہ کا خلیفہ) ہونے کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: لست خلیفة اﷲ بل أنا خلیفة رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم (تفسیر قرطبی، طبقات ابن سعد، کنزالعمال: ح 14048)
ii. تفسیر آلوسی: 17 334 ... زیر آیت سورة ص:26
iii. کیا مسلمانوں کی الجماعة ایک سے زیادہ اور مختلف علاقوں میں ایک سے زیادہ خلیفے ہوسکتے ہیں یا رسول اللہ کے انتظامی نائب ہونے کی حیثیت سے خلیفہ تو ایک ہی ہوتا ہے اور باقی اس سے منسلک ہوتے ہیں ؟ یہ مسئلہ مستقل طور پر تفصیل طلب ہے جس پر کتب ِفقہ میں تفصیلی بحث موجود ہے۔
iv. الجماعةکے تحت محدود تنظیموں کا مسئلہ کئی پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر وہ تابع امیر یا گروہ ہو تو وہ الجماعة کے نظم کا ہی حصہ ہو گا اور اگر وہ محدود فکری اور رفاہی انجمنوں (NGOs)کی شکل ہو گی کہ اس کے لیے بنیادی اجازت اور نظم کی تشکیل بھی الجماعةکے نظم کے تابع ہو گی تو پھر بھی معاملہ وہی ہے ۔مذکورہ بالا حدیث میں أمیر کے الفاظ خلیفہ کے تابع امیر کا مفہوم پیش کر رہے ہیں ۔ البتہ تمدنی ارتقا نے جو مختلف نظاموں کو دنیا کے سامنے رکھا ہے، اس میں سیاسی جماعتوں کا وجود شرعی طور پر غور طلب ہے جس کے لیے ایک مستقل مقالے کی ضرورت ہے۔ (محدث)
v. امیر المؤمنین کے بغیر مختلف ٹولیوں کاجہاد کرنا ایک تفصیل طلب مسئلہ ہے جس کیلئے مستقل مضمون درکار ہے
vi. عَقَبَة پہاڑ کی گھاٹی یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ کو کہتے ہیں ۔مکہ سے منیٰ آتے جاتے ہوئے منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا تھا۔یہی گزرگاہ عَقَبَہ کے نام سے مشہور ہے۔ذو الحجہ کی دسویں تاریخ کو جس جمرہ کو کنکری ماری جاتی ہے، وہ اسی گزرگاہ کے سرے پر واقع ہے، اس لیے اسے جمرہ عقبہ کہتے ہیں ۔ اس جمرہ کادوسرا نام 'جمرئہ کبریٰ' بھی ہے۔باقی دو جمرے اس سے مشرق میں تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں ۔چونکہ منیٰ کا پورا میدان جہاں حجاج قیام کرتے ہیں ، ان تینوں جمرات کے مشرق میں ہے۔اس لیے ساری چہل پہل ادھر ہی رہتی تھی اور کنکریاں مارنے کے بعد اس طرف لوگوں کی آمد ورفت کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا۔اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے لیے اس گھاٹی کو منتخب کیا اور اسی مناسبت سے اس کو بیعت عقبہ کہتے ہیں ۔ اب پہاڑ کاٹ کر یہاں کشادہ سڑکیں نکال لی گئی ہیں ۔ تا ہم ابھی تک ایک ذرّہ نشانی کے طور پر موجود ہے جہاں سے سیڑھیاں نیچے اُترتی ہیں اور منی سے 'شارٹ کٹ' لیتے ہوئے لوگ عزیزیہ شمالی اور جنوبی میں اُتر آتے ہیں ۔
vii. عَقَبَة پہاڑ کی گھاٹی یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ کو کہتے ہیں ۔مکہ سے منیٰ آتے جاتے ہوئے منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا تھا۔یہی گزرگاہ عَقَبَہ کے نام سے مشہور ہے۔ذو الحجہ کی دسویں تاریخ کو جس جمرہ کو کنکری ماری جاتی ہے، وہ اسی گزرگاہ کے سرے پر واقع ہے، اس لیے اسے جمرہ عقبہ کہتے ہیں ۔ اس جمرہ کادوسرا نام 'جمرئہ کبریٰ' بھی ہے۔باقی دو جمرے اس سے مشرق میں تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں ۔چونکہ منیٰ کا پورا میدان جہاں حجاج قیام کرتے ہیں ، ان تینوں جمرات کے مشرق میں ہے۔اس لیے ساری چہل پہل ادھر ہی رہتی تھی اور کنکریاں مارنے کے بعد اس طرف لوگوں کی آمد ورفت کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا۔اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے لیے اس گھاٹی کو منتخب کیا اور اسی مناسبت سے اس کو بیعت عقبہ کہتے ہیں ۔ اب پہاڑ کاٹ کر یہاں کشادہ سڑکیں نکال لی گئی ہیں ۔ تا ہم ابھی تک ایک ذرّہ نشانی کے طور پر موجود ہے جہاں سے سیڑھیاں نیچے اُترتی ہیں اور منی سے 'شارٹ کٹ' لیتے ہوئے لوگ عزیزیہ شمالی اور جنوبی میں اُتر آتے ہیں ۔