313- Aug 2007

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حامدمیر       'قلم کمان '
مولانا محمد عبداللہ مرحوم اپنے چھوٹے صاحب زادے عبدالرشید غازی سے اکثر شاکی رہتے تھے۔ مولانا صاحب مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی کے سربراہ تھے اور ملک بھر کے علما میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید کو بھی عالم دین بنانے کا فیصلہ کیا۔ عبدالعزیز نے انتہائی رضا و رغبت سے دینی تعلیم حاصل کی، لیکن عبدالرشید کو تاریخ پڑھنے کا شوق تھا، والد کو ناراض کرکے اُنہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تاریخ میں ایم اے کیا۔

والد ان کی شادی خاندان میں کرنا چاہتے تھے لیکن عبدالرشید غازی نے بڑی منت سماجت کرکے اُنہیں اسلام آباد کی ایک ماڈریٹ فیملی میں شادی کے لئے راضی کیا۔ مولانا عبداللہ کے خاندان کی عورتیں گھر سے باہر نہ نکلتی تھیں لیکن عبدالرشید غازی کی اہلیہ اپنی سوزوکی آلٹو میں گھر سے نکلتیں تو اُنہیں گاڑی چلاتا دیکھ کر کچھ لوگ انگلیاں اُٹھایا کرتے لیکن عبدالرشید غازی کو کسی کی پروا نہ تھی۔

ان کی جدت پسندی کا یہ مطلب قطعاً نہ تھا کہ وہ اسلامی تعلیمات سے دور تھے۔ وہ زمانۂ طالب علمی سے ایک باریش نوجوان تھے لیکن ہمیشہ یہ کہتے کہ اسلام صرف داڑھی اور ڈھیلا ڈھالا لباس نہیں ہے بلکہ اسلام ہمارے اندر بھی ہونا چاہئے۔

1998ء میں مولانا محمد عبداللہ نے مولانا ظہور احمد علوی، قاری سعید الرحمن اور کچھ دیگر علما کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا۔ مولانا صاحب اپنے باغی صاحبزادے عبدالرشید غازی کو بطورِ خاص ساتھ لے گئے۔ اس وفد کی قندھار میں ملا عمر اور اُسامہ بن لادن کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ عبدالرشید غازی نے اُسامہ بن لادن سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی لہٰذا اُن کی ایک گھنٹہ تک علیحدہ ملاقات ہوئی۔ عبدالرشید غازی اپنے والد کی طرح عربی میں رواں نہ تھے لہٰذا اُنہوں نے اُسامہ بن لادن سے انگریزی میں گفتگو کی۔ آخر میں عبدالرشید غازی نے اسامہ بن لادن کے ساتھ پڑا گلاس اُٹھایا اور ان کا استعمال شدہ پانی پی لیا۔ اُسامہ نے حیرانگی ظاہر کی تو غازی نے جواب میں کہا میں نے آپ کا پانی اس لئے پیا تاکہ اللہ مجھے بھی مجاہد بنائے۔

قندھار سے واپسی کے کچھ عرصہ بعد مولانا محمد عبداللہ کو لال مسجد کے احاطے میں ایک نامعلوم شخص نے گولی مار کر شہیدکردیا۔والد کی شہادت نے عبدالرشید غازی کو تبدیل کردیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب وہ وفاقی وزارتِ تعلیم میں ملازمت کرتے تھے اور مسجد و مدرسے سے ان کا زیادہ تعلق نہ تھا۔ عبدالرشید غازی اپنے والد کے قاتلوں کے پیچھے پڑ گئے اور آخر کار ایک شخص گرفتار ہوگیا۔ اس شخص کو موقع واردات کے تمام عینی شاہدوں نے شناخت کرلیا لیکن پولیس نے پراسرار طور پر اُسے چھوڑ دیا۔ والد کاقاتل پولیس کے ہاتھوں نکلنے کے بعد عبدالرشید کے اندر ایک طوفان نے جنم لیا۔ اُنہوں نے دینی علوم کا مطالعہ شروع کیا اور چند سالوں میں لال مسجد کے نائب خطیب بن گئے۔

جنوری 2007ء میں اسلام آباد میں سات مساجد کو شہید کیا گیاتو لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ حفصہؓ کی طالبات نے ایک قریبی سرکاری لائبریری پر قبضہ کرلیا۔ لائبریری پر قبضہ مولانا عبدالعزیز اور ان کا اہلیہ اُمّ حسان کا تھا۔ عبدالرشیدغازی اس فیصلے کے خلاف تھے لیکن اُنہوں نے بڑے بھائی کے احترام میں سرعام اختلافِ رائے نہیں کیا۔ لائبریری کا قبضہ ختم کرانے کے لئے وفاقی وزیر اعجاز الحق اور وفاق المدارس نے کوششیں کیں ۔ کم از کم دو مرتبہ عبدالرشید غازی لائبریری کا قبضہ ختم کرانے کے قریب پہنچ گئے لیکن ہرمرتبہ حکومت نے ایک اور مسجد کو نوٹس جاری کرکے ان کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

ایک موقع ایسا بھی آیا جب عبدالرشید غازی نے مجھے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر یہ مسئلہ زندہ رکھنا چاہتی ہے تاکہ دینی مدارس کو بدنام کرسکے۔ طے ہوا کہ حکومت کی ہر طرح کی اشتعال انگیزی کے باوجود لائبریری کا قبضہ ختم کردیں گے۔ افسوس کہ مولانا عبدالعزیز اپنے چھوٹے بھائی کی بات نہ مانے کیونکہ اُنہیں کچھ ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی حاصل تھی جو کچھ حکومتی اداروں کی سرپرستی میں تھے۔ مجھے وہ لمحات بھی یاد ہیں جب عبدالرشید غازی اپنے بھائی کی ہٹ دھرمی کے خلاف بغاوت پر اتر آئے لیکن ان کی والدہ آڑے آگئیں ۔ والدہ نے غازی سے کہا کہ بڑے بھائی کا ساتھ کبھی نہ چھوڑنا۔ والدہ کے حکم پر غازی نے سرجھکا دیا، پھر آنٹی شمیم اغوا ہوئی، پولیس اہلکار اغوا ہوئے اور چینی باشندے اغوا ہوئے۔ کس کے حکم سے اغوا ہوئے؟ یہ تو عبدالرشید غازی کو معلوم نہ ہوتا تھا لیکن میڈیا میں لال مسجد کا دفاع بڑے بھائی کا حکم تھا اور وہ اس کی تعمیل کرتے رہے۔

عبدالرشید غازی اور ان کے بھائی پر بہت سے الزامات لگے۔ اہم ترین الزام یہ تھا کہ اُنہوں نے حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے ایک ڈرامہ رچا رکھا ہے تاکہ عوام کی توجہ عدالتی بحران سے ہٹی رہے۔ خود بے چارے غازی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس الزام کو غلط کیسے ثابت کریں ۔

جنوری 2007ء کے آخری ہفتے میں جنرل پرویز مشرف پر بھی یہ الزامات لگنے لگے کہ وہ جان بوجھ کر لال مسجد کے ذریعہ گڑبڑ پھیلا رہے ہیں ۔ وجہ یہ تھی کہ چودھری شجاعت حسین کے لال مسجد والوں کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے لیکن اُنہیں کہا گیا کہ آپ مذاکرات کو لمبا کریں ۔ چودھری صاحب سے رہا نہ گیا اور اُنہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کردی۔ آخری ملاقات میں عبدالرشید غازی نے چودھری صاحب سے کہا کہ آپ مخلص انسان ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو کچھ مزید لمبا کرے گی اور مناسب وقت پر ہمیں ختم کرکے امریکہ کے سامنے سرخرو ہوجائے گی۔ ایک دن عبدالرشید غازی نے بھی کہا کہ اگر ہم واقعی قصوروار ہیں تو کیا حکومت ہماری بجلی پانی بند نہیں کرسکتی؟ ہم پھر بھی باز نہ آئیں تو اعصاب شکن گیس پھینک کر ہم سب کو گرفتار نہیں کرسکتی؟

۷ جولائی کو چودھری شجاعت حسین نے مجھے بلایا اور کہا کہ وہ آخری مرتبہ عبدالرشید غازی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن جو فون نمبر ان کے پاس تھے وہ سب بند ہوچکے ہیں ۔ چودھری صاحب دوبارہ رابطہ چاہتے تھے، میں نے کوشش کرکے عبدالرشید غازی سے رابطہ کیا اور اُنہیں چودھری صاحب کی خواہش سے آگاہ کیا۔ عبدالرشید غازی ہنسے اور بولے کہ چودھری صاحب معصوم ہیں ، وہ نہیں جانتے کہ ہمیں مارنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

میرے اصرار پر انہوں نے چودھری صاحب سے دوبارہ رابطہ کیا اور یوں پھر سے مذاکرات شروع ہوگئے۔ ان مذاکرات میں عبدالرشید غازی نے بار بار کہا کہ میر ے بڑے بھائی عبدالعزیز کو دھوکے سے باہر بلا کر گرفتار کرلیاگیا اور مجھے باہر بلاکر مار دیا جائے گا، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ذلت کی موت کی بجائے لڑتے ہوئے مارا جاؤں ۔ آخر کار وہی ہوا اور عبدالرشید غازی نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے لڑتے ہوئے جان دینے کو ترجیح دی۔

آخری رابطوں کے دوران میں نے غازی صاحب سے کہا کہ دونوں طرف مسلمان ہیں ، کوئی راستہ نکالیں کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں ۔ غازی صاحب نے کہا کہ میں نے بہت کوشش کی لیکن حکومت ہمیں رسوا کرنا چاہتی ہے، یہ سارا معاملہ حکومت کا کھڑا کیا ہوا ہے، حکومت نے اس معاملے میں بہت سے سیاسی مقاصد حاصل کئے اور آخر میں ہمیں رسوا کرکے مزید کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ غازی صاحب کو یقین تھا کہ ان کی موت ہی ان کی فتح اور حکومت کی ناکامی ہوگی۔ وہ کہتے تھے کہ ہماری موت ہماری بے گناہی ثابت کرے گی اور ہمارا بدلہ اس ملک کے غیرت مند مسلمان لیں گے۔

اُنہوں نے اپنی غلطیوں سے کبھی انکار نہ کیا لیکن باربار کہا کہ ہماری غلطی اتنی بڑی نہ تھی۔ ہم نے مساجد کی شہادت پر احتجاج کرتے ہوئے ایک لائبریری پر قبضہ کرلیا، ہم پر گولیاں اور بم برسائے جارہے ہیں جب کہ مساجد شہید کرنے والوں کو کسی نے نہیں پوچھا، غازی نے جان کی قربانی دے کر وہ داغ دھو ڈالا جو ان کے بھائی کی برقعے میں گرفتاری سے ان کے خاندان کی عزت پر لگا تھا۔

میں نے لال مسجد انتظامیہ کے اقدامات کی کبھی حمایت نہیں کی لیکن جس انداز میں لال مسجد کے خلاف طاقت استعمال کی گئی، وہ قابل مذمت ہے۔

حکومت چاہتی تو یہ مسئلہ ایک گولی چلائے بغیر بھی حل ہوسکتا تھا لیکن کچھ عناصر نے دانستہ خونریزی کا راستہ اختیار کیا۔ عبدالرشید غازی مرنے کے بعد پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگئے ہیں ۔ اسی لئے اُنہیں اسلام آباد میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کرنے کی بجائے روجھان مزاری میں دفن کیا گیا۔ غازی کو اپنے والد کے قتل پر انصاف مل جاتا تو وہ شاید آج بھی وزارتِ تعلیم میں ایک افسر ہوتے۔ اُنہوں نے ناانصافی کے ردِعمل میں بغاوت کی۔ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، اس کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ اس دنیا کی عدالت میں نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہوگا۔ 1

ڈاکٹر شاہد مسعود   'میرے مطابق'
کون تھیں ؟ ...کہاں چلی گئیں ؟
جُرم تو صرف اتنا تھاکہ وہ معاشرے سے بدکاری کے خاتمے کا عزم لئے باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہناکر ... توبہ کروا کے چھوڑ دیا... !! پھر ایک مالش کے مرکز پر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لاکر خوب جھاڑ پلائی... اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کردیا۔ ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا، اس وطن عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔ وہ مسجد شہید ہونے کے بعد پڑوس کی ایک لائبریری پرجا دھمکیں ۔ روشن خیال، خوشحال، خوش پوش دار الحکومت کی عظیم الشان کوٹھیوں کے درمیان، جن کی اکثریت رات گئے شراب و شباب کی محفلیں اپنے عروج پر دیکھا کرتی ہے ... ایک کونے میں یہ معصوم، سادہ، حجاب میں ملبوس، پاکیزہ روحیں ... تلاوتِ قرآن پاک میں مگن رہتیں ۔
کون تھیں ؟ ...کہاں چلی گئیں ؟

میں جب اُن سے ملا تو ان کے لہجے میں عجب اُکتاہٹ اور محرومیت کا احساس ہوا۔ آنکھوں میں اُداسی، معاشرے سے شکایت اور بیزاری، سونے کے کنگنوں سے محروم کلائیوں اور نیل پالش سے محروم ہاتھوں میں ڈنڈے اُس بے کسی کا اظہار تھے ... جو غریب سادہ لوح گھرانوں کی اس شریف اور باکردار بچیوں کی آنکھوں سے بھی کراہ رہی تھی۔

ان کے طرزِ عمل سے ذرا سا اختلاف کرنے کی گستاخی ہوئی تو سب اُلجھ پڑیں ۔ شاہد بھائی! آپ کو کیا پتہ؟ ڈاکٹر صاحب! آپ نںید جانتے۔ کسی آیت کا حوالہ... کسی حدیث کی دلیل... سب ایک ساتھ پل پڑیں ۔ آپ کو پتہ ہے امریکہ میں کیاہورہا ہے؟ یہ یہودیوں کی سازش ہے۔ ہمارے دشمنوں کی چال ہے... صلیبی جنگ ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں بڑی مشکل سے اُنہیں اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد ... چپ کروانے میں کامیاب ہو سکا۔ اُن کی نگران اُمّ حسان نے اسی دوران بتایا کہ ''یہ طالبات ایک عرصے سے یہاں آئے مرد مہمانوں سے گفتگو نہیں کرتیں لیکن آپ سے ملنے کے لئے ان کی ضد تھی۔ میں نے خاموشی مناسب تصور کرتے ہوئے اُن کی گفتگو سننے میں عافیت تصور کی۔ یہ میرے لئے ایک مختلف دنیا تھی۔ شاید یہ فیشن زدہ، جدیدیت کی دلدل میں ڈوبی ٹی شرٹ جینز میں ملبوس خوش شکل لڑکیوں کو ... ہرروز اپنے چھوٹے کمروں کے روشن دانوں سے جھانک کر ... باہر سڑکوں پر ڈرائیونگ کرتا دیکھتی ہوں ۔ ممکن ہے ... قریبی بازار تک آتے جاتے ان کے کانوں تک بھی دلفریب نغموں کی تھاپ پہنچتی ہوگی۔ کچی عمروں میں یقینا ان کی آنکھیں بھی خواب دیکھتی ہوں گی۔ ان کا دل بھی کبھی اچھے رشتوں کی آس میں دھڑکتا ہوگا۔ ان کا بھی عید پر نئے کپڑے سلوانے، ہاتھوں میں حنا سجانے اور چوڑیاں پہننے کو جی للچاتا ہوگا۔ لیکن آرزوئیں ، خواہشات اور تمنائیں ناکام ہوکر منوں مٹی کے نیچے اس طرح جاچھپیں کہ پھر نہ چہرے رہے ... نہ شناخت۔ صرف آوازیں تھیں جو اَب تک میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔

انہی میں ایک چھوٹی بچی ... یہی کوئی آٹھ دس برس کی... حجاب میں اس طرح ملبوس کہ چہرہ کھلا تھا ... گفتگو سے مکمل ناواقفیت کے باوجود مسلسل ہنسے جاتی تھی کہ شاید یہی مباحثہ... اس کی تفریح کا سبب بن گیا تھا۔ بیٹی آپ کا نام کیا ہے...؟ میرے سوال پر پٹ سے بولی ''اسمائ... انکل'' پیچھے کھڑی اس کی بڑی بہن نے سر پر چپت لگائی۔ انکل نہیں ... بھائی بولو! ''خدا جانے اس میں ہنسنے کی کیابات تھی کہ چھوٹے قد کے فرشتے نے اس پر بھی قہقہہ لگا کر دہرایا 'جی بھائی جان!' آپ کیا کرتی ہیں ؟ میں نے ننھی اسماء سے پوچھا۔ ''پڑھتی ہوں ؟'' کیا پڑھتی ہو بیٹا؟ جواب عقب میں کھڑی بہن نے دیا: ''حفظ کررہی ہے بھائی'' اور بھی کچھ پڑھ رہی ہیں ؟ میں نے پوچھا۔ ''جی ہاں ! کہتی ہے بڑی ہوکر ڈاکٹر بنے گی۔ بہن نے جو کہ یہی کچھ پندرہ سولہ برس کی مکمل حجاب میں ملبوس تھی، جواب دیا'' آپ دو بہنیں ہیں ؟ میں نے سوال کیا۔ ''جی ہاں بھائی! '' بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں لیتے ہوئے کہا۔ تین بھائی گاؤں میں ہیں ... ہم بٹہ گرام سے ہیں نا۔ کھیتی باڑی ہے ہماری۔

میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں موجود تھا... طالبات اور عبدالرشیدغازی صاحب سے گفتگو کے بعد میں نے بچیوں کوخدا حافظ کہہ کر غازی صاحب کے ساتھ اُن کے حجرے کی طرف قدم بڑھایا تو ننھی اسماء پیچھے بھاگتی ہوئی آئی۔ بھائی جان! آٹوگراف دے دیں ، ہانپ رہی تھی۔ میرا نام اسماء اور باجی کا نام عائشہ ہے۔ میں نے حسب ِعادت دونوں کے لئے طویل العمری کی دعا لکھ دی۔ آگے بڑھا تو ایک اور فرمائش ہوئی۔ بھائی جان! اپنا موبائل نمبر دے دیں ۔ آپ کو تنگ نہیں کروں گی۔ نہ جانے کیوں میں نے خلافِ معمول اُس بچی کو اپنا موبائل نمبر دے دیا۔ اس کی آنکھیں جیسے چمک اٹھیں ... اسی دوران غازی صاحب نے میرا ہاتھ کھینچا... ڈاکٹر صاحب یہ تو ایسے ہی تنگ کرتی رہے گی ... کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے اور عبدالعزیز صاحب ... آپ کا انتظار کررہے ہیں ۔''بچی واپس بھاگ گئی اور میں مدرسے کے اندر تنگ گلیوں سے گزرتا... عقب میں غازی صاحب کے حجرے تک جا پہنچا... جہاں اُنہوں نے کہا کہ ''ڈاکٹر صاحب ایک زحمت ، والدہ بھی آپ کو د عا دینا چاہتی ہیں ...!!'' کھانا ہم نے فرش پر دسترخوان بچھا کر کھایا اور اس دوران عبدالعزیز صاحب بھی ساتھ شامل ہوگئے... بات چیت ہوتی رہی اور جب میں نے رخصت چاہی تو اُنہوں نے اپنی کتابوں کا ایک سیٹ عطیہ دیتے ہوئے دوبارہ آنے کا وعدہ لیا اور پھر دونوں بھائی... جامعہ کے دروازے تک چھوڑنے، اس وعدے کے ساتھ آئے کہ میں دوبارہ جلد واپس آؤں گا۔

حقیقت یہ کہ میں دونوں علماء کا استدلال سمجھنے سے مکمل قاصر رہا۔ چند مسلح نوجوان اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے ... مصافحہ تو کیا لیکن گفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ لیکن دروازے سے باہر قدم رکھتے وہی شیطان کی خالہ اسماء اُچھل کر پھر سامنے آگئی۔ بھائی جان! میں آپ کو فون نہیں کروں گی ... وہ کارڈ باجی کے پاس ختم ہوجاتا ہے نا ... ایس ایم ایس کروں گی۔ جواب دیتے رہئے گا... پلیز بھائی جان! اس کی آنکھوں میں معصومیت اور انداز میں شرارت کا امتزاج تھا ... اچھا بیٹا!! ضرور... اللہ حافظ۔ جاتے جاتے پلٹ کر دیکھا تو بڑی بہن بھی روشندان سے جھانک رہی تھی کہ یہی دونوں بہنوں کی کل دنیا تھی۔

کون تھیں ؟ کہاں چلی گئیں ؟ جو احباب میری ذاتی زندگی تک رسائی رکھتے ہیں وہ واقف ہیں کہ میں خبروں کے جنگل میں رہتا ہوں ۔ دن کا بیشتر حصہ اخبارات، جرائد اور کتابوں کے اَوراق میں دفن گزارتا ہوں ۔ چنانچہ گزرے تین ماہ کے دوران بھی جہاں چیف جسٹس کا معاملہ پیچیدہ موڑ اختیار کرتا... اُن میں الجھائے رہنے کا سبب بنا، وہیں یہ مصروفیات بھی اپنی جگہ جاری رہیں لیکن اس تمام عرصے، وقفے وقفے سے مجھے ایک گمنام نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتے رہے۔ عموماً قرآن شریف کی کسی آیت کا ترجمہ یا کوئی حدیث ِمبارکہ ... یا پھر کوئی دعا... رومن اُردو میں ... اور آخر میں بھیجنے والے کا نام ... ''آپ کی چھوٹی بہن: اسما''

یہ سچ ہے کہ ابتدا میں تو مجھے یاد ہی نہیں آیا کہ بھیجنے والی شخصیت کون ہے؟ لیکن پھر ایک روز پیغام میں یہ لکھا آیا کہ'' آپ د وبارہ جامعہ کب آئیں گے؟'' تو مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی چھوٹی نٹ کھٹ ... حجاب میں ملبوس بچی ہے۔ جس سے میں جواب بھیجنے کا و عدہ کرآیا تھا۔ میں نے فوراً جواب بھیجا۔ بہت جلد...!! جواب آیا'' شکریہ بھائی جان۔

میں اپنے موبائل فون سے پیغام مٹاتا چلا گیا تھا چنانچہ چند روز قبل جب لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کاروائی کا اعلان ہوا تو میں نے بے تابی سے اپنے فون پر اس بچی کے بھیجے پیغامات تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے میں سب مٹا چکا تھا۔ اُمید تھی کہ اسماء بڑی بہن کے ساتھ نکل گئی ہوگی، لیکن پھر بھی بے چینی سی تھی۔ کوئی آیت، حدیث، دعا بھی نہیں آرہی تھی۔ اس تصور کے ساتھ خود کو تسلی دی کہ ان حالات میں ، جب گھر والے دور گاؤں سے آکر ... دونوں کولے گئے ہوں گے تو افراتفری میں پیغام بھیجنے کا موقع کہاں ؟

جب بھی اعلان ہوتا کہ ''آج رات کو عسکری کارروائی کا آغاز ہوجائے گا۔ فائرنگ، گولہ باری کا سلسلہ شروع، مزید طالبات نے خود کو حکام کے حوالے کردیا۔ ابھی اندر بہت سی خواتین اور بچے ہیں ۔ یرغمال بنالیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ... تو میری نظر اپنے موبائل فون پراس خواہش کے ساتھ ... لپک جاتی کہ کاش!! وہ پیغام صرف ایک بار پھر آجائے ... میں نے جسے کبھی محفوظ نہ کیا۔

کون تھیں ؟ کہاں چلی گئیں ؟

8 جولائی کی شب اچانک ایک مختصر ایس ایم ایس موصول ہوا۔ بھائی جان! کارڈ ختم ہوگیا ہے... پلیز فون کریں ۔ ''میں نے اگلے لمحے رابطہ کیا تو میری چھوٹی... پیاری اسماء زار و قطار رو رہی تھی۔ بھائی جان، ڈر لگ رہا ہے۔ گولیاں چل رہی ہیں ! میں مرجاؤں گی؟ میں نے چلا کر جواب دیا۔ اپنی بہن سے بات کراؤ... بہن نے فون سنبھال لیا، آپ دونوں فوراً باہر نکلیں ... معاملہ خراب ہورہا ہے... کہیں تو میں کسی سے بات کرتا ہوں کہ آپ دونوں کو حفاظت سے باہر نکالیں ۔... دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ مجھے احساس ہوا کہ بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں چھپا رکھا ہے لیکن چھوٹی پھر بھی بلک رہی ہے ... رو رہی ہے... ! ''بھائی وہ ہمیں کیوں ماریں گے؟؟ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں !! وہ بھی کلمہ گو ہیں ۔ اور پھر ہمارا جرم ہی کیاہے؟ آپ تو جانتے ہیں بھائی! ہم نے تو صر ف باجی شمیم کو سمجھا کر چھوڑ دیا تھا... چینی بہنوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا... بھائی!! یہ سب ان کی سیاست ہے۔ ہمیں ڈرا رہے ہیں ۔بہن پُراعتماد لہجے میں بولی... دیکھیں ! حالات بُرے ہیں ۔ میں بتا رہا ہوں ... آپ فوراً نکل جائیں ... خدا کے لئے۔ مجھے احساس ہوا کہ میں گویا... اُنہیں حکم دے رہا ہوں ۔

''بھائی! آپ یونہی گھبرا رہے ہیں ۔ غازی صاحب بتارہے تھے کہ یہ ہمیں جھکانا چاہ رہے ہیں ... باہر کچھ بھائی پہرہ بھی دے رہے ہیں ۔ کچھ بھی نہیں ہوگا، آپ دیکھئے گا... اب فوج آگئی ہے۔ نا!! یہ بدمعاش پولیس والوں کو یہاں سے بھگا دے گی۔ آپ کو پتہ ہے... فوجی تو کٹر مسلمان ہوتے ہیں ...وہ ہمیں کیوں ماریں گے... ہم کوئی مجرم ہیں ... کوئی ہندوستانی ہیں ... کافر ہیں ... کیوں ماریں گے وہ ہمیں ...!!'' بہن کالہجہ پراعتماد تھا ... اور وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہ تھی۔ ڈاکٹر بھائی مجھے تو ہنسی آرہی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں ۔
''آپ کو تو پتہ ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے، یہ اسماء تو یونہی زیادہ ڈر گئی ہے اور ہاں آپ کہیں ہم بہنوں کانام نہ لیجئے گا۔'' ایجنسی والے بٹہ گرام میں ہمارے والد، والدہ اور بھائیوں کو پکڑ لیں گے۔ سب ٹھیک ہوجائے گا بھائی۔ وہ ہمیں کبھی نہیں ماریں گے۔''

میں نے دونوں کو دعاؤں کے ساتھ فون بند کیا اور نمبر محفوظ کرلیا۔ اگلے روز گزرے کئی گھنٹوں سے مذاکرات کی خبریں آرہی تھیں اور میں حقیقتاً گزرے ایک ہفتے سے جاری اس قصے کے خاتمے کی توقع کرتا، ٹی وی پر مذاکرات کو حتمی مراحل میں داخل ہوتا دیکھ رہا تھا کہ احساس ہونے لگا کہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہے۔ میں نے چند شخصیات کو اسلام آباد فون کرکے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ معاملہ بگڑنے کو ہے تو جواباً ان خدشات کو بلا جواز قرار دیا گیا لیکن وہ درست ثابت ہوئے اور علما کے وفد کی ناکامی اور چوہدری شجاعت کی پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی وہ عسکری کارروائی شروع ہوگئی جس کی قوت کے بارے میں موقع پر موجود ایک سرکاری افسر کا بیان تھا۔ لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کردی ہے۔ فائرنگ... دھماکے... گولہ باری ... شیلنگ ... جاسوسی طیارے... گن شپ ہیلی کاپٹرز...خدا جانے کیا کچھ!! اور پھر باقاعدہ آپریشن شروع کردینے کا اعلان۔ اس دوران عبدالرشید غازی سے بھی ایک بار ٹی وی پر گفتگو کا موقع ملا۔ اور پھر پتہ چلا کہ ان کی والدہ آخری سانسیں لے رہی ہیں ۔ اور تبھی صبح صادق فون پر ایس ایم ایس موصول ہوا۔ ''پلیز کال!'' یہ اسماء تھی!!
میں نے فوراً رابطہ کیا تو دوسری طرف چیخیں ... شور شرابہ... لڑکیوں کی آوازیں ''ہیلو ... اسماء بیٹی! ہیلو ''خدا جانے وہاں کیا ہورہا تھا ''ہیلو بیٹی آواز سن رہی ہو۔'' میں پوری قوت سے چیخ رہا تھا۔ ''بات کرو، کیاہوا ہے۔''

وہ جملہ ... آخری سانسوں تک میری سماعتوں میں زندہ رہے گا۔ ایک بلک بلک کر روتی ہوئی بچی کی رُک رُک کر آتی آواز ''باجی مرگئی ہے۔ مرگئی ہے باجی ... ''اور فون منقطع ہوگیا۔ اسٹوڈیوز سے کال آرہی تھی کہ میں صورتِ حال پر تبصرہ کروں لیکن میں بار بار منقطع کال ملانے کی ناکام کوشش کررہاتھا۔ کچھ کہنے یا سننے کی ہمت نہ تھی۔ کسی کمانڈو جیسی طاقت، اعجاز الحق جیسی دیانت اور طارق عظیم جیسی صداقت نہ ہونے کے باعث مجھے ٹی وی پر گونجتے ہر دھماکے میں بہت سی چیخیں ... فائرنگ کے پیچھے بہت سی آہیں اور گولہ باری کے شور میں ''بھائی جان! یہ ہمیں کیوں ماریں گے؟'' کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں ۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں دھواں بھر گیا ہوگا اور باہر فائرنگ ہورہی ہوگی۔ بہت سی بچیاں تھیں ... فون نہیں مل رہا تھا ... پھر عمارت میں آگ لگ گئی اور میں اسماء کو صرف اس کی لا تعداد دعاؤں کے جواب میں صرف ایک الوداعی دعا دیناچاہتا تھا... ناکام رہا۔

فجر کی اذانیں گونجنے لگیں تو وضو کرتے ہوئے میں نے تصور کیا کہ وہ جو سیاہ لباس میں ملبوس مجھ سے خواہ مخواہ بحث کررہی تھیں ، اب سفید کفن میں مزید خوبصورت لگتی ہوں گی! جیسے پریاں ۔

قحبہ خانوں کے سر پرستوں کو نوید ہو کہ اب اسلام آباد پُرسکون تو ہوچکا ہے لیکن شاید اُداس بھی اور یہ سوال بہت سوں کی طرح ساری عمر میرا بھی پیچھا کرے گاکہ
وہ کون تھیں ؟کہاں چلی گئیں ؟
[دونوں مرحوم بچیوں سے وعدے کے مطابق اُن کے فرضی نام تحریر کررہا ہوں ]2

عرفان صدیقی     'نقشِ خیال'

تازہ لہو کے تازہ جام
تازہ لہو کے تازہ جام پینے کے بعد 'عہد ِ خون رنگ' کا چہرہ کچھ اور ہی نکھر آیا ہے۔ جوانانِ قوم کے خونِ گرم کی حدت سے اس کے رخسار تمتمانے لگے ہیں ۔ بلا شبہ یہ تاریخ ساز کامیابی ہے، لال قلعہ تو ناآسودہ خواہشوں کی دھند میں کھو گیا لیکن لال مسجد کے میناروں پر کامرانی کے پرچم لہرا دیئے گئے۔ لاریب یہ ایک 'تاریخ ساز فتح' ہے، کوئی بھی سپاہ اس پر ناز کرسکتی ہے۔ یہاں ایک سو سال تک سات سمندر پار سے آئے سامراج کی حکمرانی رہی لیکن وہ بھی اپنے غلاموں پر ایسی عظیم فتح نہ پاسکا۔ شاید دنیا کی تاریخ میں ایسی کامرانی کی کوئی نظیرنہ ملے، شاید ہی کسی ریاست نے کسی تعلیمی ادارے کو اس انداز سے فتح کیا ہو۔ شاید ہی کسی حکومت نے کسی درس گاہ پر حملہ کرکے اتنے لوگوں کا خون بہایا ہو۔

میں منگل کے دن، پاکستانی وقت کے مطابق کوئی سات بجے شام بوسٹن کے ریلوے اسٹیشن سے مانچسٹر جانے والی ٹرین پر سوار ہوا۔ بہ مشکل اپنی نشست سنبھالی تھی کہ لندن سے ایک دوست نے اطلاع دی ''مولانا عبدالرشید غازی شہید ہوگئے ہیں ۔'' ایک تیز دھار خنجر میرے دل میں دور تک اُتر گیا۔ ذرا دیر بعد فون کی گھنٹی پھر بجی، اسلام آباد سے کسی نے خبر کی تصدیق کی ۔ میرے اعصاب میری گرفت میں نہ رہے۔ سر آپ ہی آپ نشست سے جالگا۔ آنکھوں میں چنگاریاں سی بھر گئیں ۔

مں نے ضبط کی تمام ترقوت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آنسوؤں پر قابو رکھالیکن اندر ہی اندر ایسا ساون برسا کہ میری روح تک جل تھل ہوگئی۔ تیز رفتار ٹرین فراٹے بھر رہی تھی۔ میں ٹیک لگائے شیشے سے باہر جھانک رہا تھا۔ بادلوں سے ڈھکا آسمان، سرسبز میدان، ہرے بھرے کھیت، شاداب چراگاہیں ، آزادانہ گھومتے مال مویشی، کسانوں کے روایتی گھر۔ میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور جامعہ حفصہ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں عبدالرشید غازی میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ بڑی محبت سے چائے بنا رہا تھا۔ اصرار کے ساتھ مجھے بسکٹ پیش کررہا تھا۔ مولانا عبدالعزیز مجھے اپنا نقطۂ نظر سمجھا رہے تھے۔ میں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے غازی سے کہا: ''آپ بھی تو کچھ بولیں !'' اُس نے مسکراتے ہوئے ادب و احترام کے گندھے لہجے میں کہا تھا: ''دو بڑوں کے سامنے میں کیا بولوں ؟''

مجھے دُکھ ہوا کہ میری بات نہیں مانی گئی۔ پھر میں اس قضیے سے الگ ہوگیا۔ میں نے اس پر بہت کچھ لکھنے سے بھی گریز کیا۔ میرے دل کے کسی دور دراز گوشے میں یہ خدشہ کانٹے کی طرح کھٹکتا رہتا تھا کہ کوئی اَنہونی بھائیوں کے سروں پر منڈ لا رہی ہے۔ میں نے ملاقات والے چھوٹے سے کمرے میں خونِ شہدا کی خوشبو جیسی مہک بھی محسوس کی تھی۔ شایدعبدالرشید غازی کا خیال ہو کہ اسلام آباد کا شہرِ خوش جمال باجوڑ اور ڈمہ ڈولہ جیسی بے آب و رنگ بستیوں سے بہت مختلف ہے۔یہاں دارالحکومت کے عین قلب ِشہر میں خون کی ہولی کھیلنا آسان نہیں ہوگا۔ شاید وہ بھول گیا تھا کہ سفاکی، تہذیب کے کسی قرینے کو نہیں مانتی، رعونت اپنے ضابطے خودبناتی ہے، طاقت کا نشہ، آئین و قانون کے تقاضوں سے ماورا ہوتا ہے۔ درندگی، اخلاقیات کا کوئی پیمانہ نہیں رکھتی اور فتح و کامرانی کا جنوں ، انسانیت کے آداب سے بیگانہ ہوتا ہے۔ خناس، احساس سے عاری ہوتا ہے۔

مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے بعد اُنہیں ایک بار پھر برقع پہنا کر پی ٹی وی نے جو ڈرامہ تخلیق کیا، اس کے تصور سے بھی گھن آتی ہے۔ اس ڈرامے کا ہدایت کارجو بھی تھا، کم از کم یہ واضح ہوگیا کہ حکمران، حکمت سے عاری ہی نہیں ، ایک عالم دین کو تضحیک و توہین کا نشانہ بنا کر لطف اُٹھا رہے ہیں ۔

مجھے تھوڑی دیر پہلے مولانا فضل الرحمن خلیل کا فون آیا، عبدالرشیدغازی کی خواہش پر اُنہیں شریک مذاکرات کیا گیاتھا۔ وہ گھنٹوں معاملہ سلجھانے کے لئے کوشاں رہے۔ فضل الرحمن خلیل نے بتایا: ''منگل کو عبدالرشید غازی سے میری آخری بات ہوئی، وہ کہہ رہے تھے... اس وقت میری والدہ کا سر میری گود میں رکھا ہے۔ وہ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے آخری ہچکیاں لے رہی ہیں ۔ ان کی روح پرواز کرنے کو ہے۔ مجھے بھی شہادت صاف دکھائی دے رہی ہے۔ میری وصیت ہے کہ مجھے میرے شہید والد کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ میری والدہ...''پھر غازی کی سسکیوں کی آواز سنائی دی اور فون بند ہوگیا۔

شہید شوہر کی شہید اہلیہ نے چند لمحوں بعد شہید ہونے والے بیٹے کے زانو پر سررکھے رکھے آخری ہچکی لی۔ معلوم نہیں غازی کا سینہ کس وقت چھلنی ہوا۔ معلوم نہیں آخری ہچکی لیتے ہوئے اس کا سرکس کے زانو پر دھرا تھا۔

مولانا فضل الرحمن خلیل مجھ سے کہہ رہے تھے ''اعجاز الحق تمہارا دوست ہے۔ خدا کے لئے اسے کہو کہ غازی کی میت ہمارے حوالے کردیں ۔ یہ لوگ اسے زبردستی روجھان مزاری لے جاناچاہتے ہیں ۔ اس کی بیوی، اس کی بہنیں دہائی دے رہی ہیں ، شہید کی آخری وصیت تو پوری ہونے دیں ۔'' میں نے اعجاز الحق کے تمام معلوم نمبروں پر رابطے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ بات ہو بھی جاتی تو وہ کیاکرلیتا؟ یہاں تو 342 ؍ارکان کی پارلیمنٹ اور 80 وزرا کی جہازی کابینہ ہوتے ہوئے بھی فیصلے فردِ واحد کے کنجِ لب سے پھوٹ رہے ہیں ۔

سرنڈر پوائنٹ بنانے، ہتھیار ڈلوانے، ہاتھ اُٹھا کر مارچ کرانے کی خواہش بیمار آسودہ ہوگئی۔ بے چہرہ بندوبست کے سیاہ کارناموں کی کتابِ سیاہ میں سب سے شرمناک باب کا اضافہ ہوگیا۔ فتح مندی کا جنوں بپھر نہ جاتا تو اس قتلِ عام کو روکا جاسکتا تھا۔ پرلے درجے کی بے حکمتی اور خودسری معاملات کو ایسے موڑ پر لے آئی جہاں تناؤ بڑھتا ہی چلا گیا۔ صدر مشرف اور ان کے رفقا ابتدا ہی سے لال مسجد والوں کو نمونۂ عبرت بنانے پر بضد تھے۔ کابینہ کے دو وزرا، ان کی خوشنودی کے لئے ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ جس کسی نے صلح صفائی کی بات کی، اسے نکو بنا دیا گیا۔ سلجھاؤ کی کوششوں کو مخلصانہ ریاستی سرپرستی حاصل ہی نہ ہوسکی۔ صدر بلوچستان کے سیلاب زدگان کو تسلی دینے گئے اور کمانڈو کی وردی پہن کر اعلان کیا: ''یہ مارے جائیں گے ... یہ مارے جائیں گے۔'' اُنہوں نے ایسا ہی ایک اعلان نواب اکبر بگٹی کے بارے میں کیا تھا: ''یہ لوگ اس طرح مارے جائیں گے کہ اُنہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کس شے نے ہٹ کیا۔'' پھر بگٹی پہاڑ کے ایک غار میں بھسم ہوگیا۔ چودھری شجاعت نہ بگٹی کو بچا سکے نہ غازی کو۔ کوئی نواب ہو کہ مولوی، غار نشین ہو کہ حجرہ نشین، رعونت کی طاقت آزمائی کسی کو معاف نہیں کرتی۔ یہ وہی حکمت ِعملی ہے جسے ٹکا خان نے مشرقی پاکستان میں آزمایا تھا اور جو اندھی، گونگی اور بہری قوتیں اپنی رعایا سے روا رکھتی ہیں !!

کہا گیا ''غازی آئین اور قانون کامجرم تھا، اسے کس طرح راستہ دیتے؟'' کون سا آئین اور کیسا قانون؟ جہاں آئین کے سب سے جابر اور کڑے ضابطے کو روندنے والے ریاست کے سب سے بڑے منصب کے حق دار بھی ٹھہریں ، وہاں بھی کوئی آئین، کوئی قانون ہوتا ہے؟ اور پھر مولانا فضل الرحمن خلیل اور دیگر علما کی مساعی سے جب ایک مفاہمت طے پاگئی تھی، وزرا کی مذاکراتی ٹیم اور وزیراعظم نے اس کی توثیق کردی تھی تو صدر نے اسے کیوں ویٹو کردیا؟

مجھے فضل الرحمن خلیل صاحب ہی نے بتایا کہ سب کچھ طے پاگیا تھا لیکن پنڈی کیمپ آفس جانے والوں نے تین گھنٹے لگا دیئے اور پھر واپس آئے تو ان کی جیبیں بارود سے بھری ہوئی تھیں ۔

ضیاء الحق کے دور میں 'الذوالفقار' نے پاکستانی طیارہ اغوا کرکے کابل پہنچا دیا۔ اغوا کاروں نے ایک سابق فوجی افسر کو قتل بھی کردیا۔ اُنہوں نے سو کے لگ بھگ دہشت گردوں کو رہا کرنے کامطالبہ کیا جو قتل و غارت گری اور غداری جیسے سنگین مقدمات میں ملوث تھے۔ ضیاء الحق نے مسافروں کی جانیں بچانے کے لئے ان سب کو رہا کرکے ، ہائی جیکرز کے مطالبے کے مطابق دمشق پہنچا دیا۔ بھارت کا طیارہ اغوا کرکے قندھار پہنچا دیا گیا۔ ہائی جیکرز نے بھارتی جیلوں میں بند کچھ ایسے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جو بھارت کے مطابق سنگین 'جرائم' میں ملوث تھے۔ آخر ہمارے حکمران سینکڑوں افراد کی جانیں بچانے کے لئے عبدالرشید غازی کومحفوظ راستہ دینے پر کیوں آمادہ نہ تھے...؟

اس خونخواری و خونریزی سے گریز ممکن تھا۔ بجا کہ ریاست نے اپنی رِٹ قائم کرلی، درست کہ عبدالرشید غازی کے بعد پاکستان زیادہ محفوظ و مامون ہوگیا، برحق کہ فوج نے اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا، لیکن کیا 'روشن خیالی' اسی کا نام ہے؟ کیا مہذب ریاستیں ، یہی کچھ کیاکرتی ہیں ؟ اگرامریکہ کویہ پیغام دینا مقصود تھا کہ 'دہشت گردی' کا خاتمہ صرف میری قوتِ بازو ہی سے ممکن ہے اور اس قوتِ بازو کا انحصار میری وردی پر ہے تو یہ پیغام صاف اور بلند آہنگ میں پہنچ گیا۔ اس کی تصدیق بھی ہوگئی اور تائید بھی۔ داد بھی مل گئی لیکن جابروں کے قبیلے میں کوئی ہے جو بتا سکے کہ اس سے پاکستان کے سینے پر کتنا گہرا گھاؤ آیا ہے؟ کس کو خبر ہے کہ جب بوڑھی ماؤں کی لاشیں اپنے بیٹوں کی گود میں گرتی ہیں تو اللہ کا عرش بھی لرز جاتا ہے۔کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ بپھری ہوئی رعونت اور اندھی طاقت آزمائی، نفرتوں کو ہوا دیتی اور ہرموجِ خوں وطن کی سرزمین میں ایک گہری دراڑ ڈال جاتی ہے؟

کسی دشمن سرزمین پر فاتحانہ آپریشن کے سے انداز میں لشکر کشی کی فنی جزئیات پر روشنی ڈالنے کے باوجود کوئی ترجمان یہ بتانے پر تیار نہیں کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے صحن، برآمدوں ، کمروں ، راہداریوں میں کتنی لاشیں بکھری پڑی ہیں ؟ان میں کتنے بچے ہیں اور کتنی خواتین؟ سب کے ماتھوں پر 'دہشت گردوں ' کے لیبل سجا دیئے گئے ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا کہ کس کا خون کس کے خون میں تحلیل ہوگیا؟کوئی نہیں جانتا کہ مقتولین کے ماں ، باپ، بھائی بہن کہاں ہیں اور کس کرب کی آگ میں جل رہے ہیں ؟ کوئی نہیں جانتاکہ 'آپریشن سائلنس' کی کوکھ سے کتنی قباحتیں جنم لیں گی؟

بسی اتنی خبر ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عینی شاہد کی طرح تمام تر ذمہ داری مسجد انتظامیہ پر ڈال دی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس قتل عام کی ستائش کی ہے اور لندن میں بیٹھے الطاف حسین نے اس کارنامے کو سراہا ہے۔ نائن الیون کا آسیب بھی کتنا بڑا 'دیوتا' بن گیا ہے۔

پانچ چھ دن قبل مجھے اسلام آباد سے بیگم کا فون آیا۔ وہ بتانے لگیں ''غازی صاحب کی بہن کا فون آیا ہے۔ وہ رو رہی تھی اور آپ کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ ان سے کہیں کچھ کریں ۔'' میں اس رات سو نہیں پایا تھا۔ میں پاکستان میں ہوتا بھی تو کیا کرلیتا؟ فتح و کامرانی کے پھریرے لہراتا لشکر ِبے اماں ، کیڑے مکوڑوں کو خاطر میں نہیں لایا کرتا۔

شہید باپ اور شہید ماں کا شہید بیٹا، ہمارے لفظوں کی میناکاری سے بے نیاز ہوچکا ہے۔ اللہ اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ اس کی خطائیں معاف کردے۔ اس کے درجات بلند کرے اور ان سب کے بھی جواس عہد ِخون رنگ کی خون آشامی کا لقمہ ہوگئے!

مولانا فضل الرحمن خلیل شایداب تک نہیں جان پائے کہ ان کا سابقہ کن بے رحم موسموں سے آپڑا ہے۔ اپنی پسند کے نشانے تلاش کرنے، اپنی مرضی کے سینے چھلنی کرنے، اپنے دل پسند تابوتوں میں بند کرنے، اپنی پسند کی قبروں میں پھینکنے اور اپنی مرضی کے جنازے پڑھوانے والوں کے سینے میں دل نہیں ہوا کرتے!!3


حوالہ جات
1. روزنامہ جنگ:12؍جولائی 2007ء
2. روزنامہ جنگ: 13 جولائی 2007ء
3. نوائے وقت: 12؍جولائی 2007ء