313- Aug 2007

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اللہ کے بندے محمد بن ابراہیم __ اللہ اس پر رحم فرمائے __کی طرف سے، اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے نام، جو اسے ملاحظہ فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اُسے راضی کرنے والے ہوں ، اور ہمیں ایسے اعمال و اسباب سے محفوظ رکھے جو اُس کی نافرمانی اور ناراضگی کا سبب ہوسکتے ہوں ۔ اما بعد!


اس دور میں حالات بہت حد تک بدل چکے ہیں ۔ عورتوں کی بڑی تعداد نے حیا کی چادر اُتار پھینکی ہے۔ دینی احکام کی پاسداری کے سلسلے میں یہ بڑی بے پرواہ اور بے فکر ہوتی جا رہی ہیں ، اور روز بروز اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس بات سے شدید خوف آتا ہے کہ مسلمان قوم اپنی عریانی، بے پردگی، بے راہ روی اور آزاد روش کی بنا پر اللہ کی طرف سے کسی بدترین سزا اور سابقہ قوموں جیسے خوفناک انجام سے دوچارنہ ہوجائے۔

فی زمانہ مسلمان عورتوں نے بالعموم ایسے لباس پہننا شروع کردیئے ہیں جو ان کے جسم کے نشیب و فراز اور اَنگ انگ کوظاہر کرتے ہیں ۔ ان ملبوسات سے بازو، چھاتیاں ، کمر اور کولہے سب نمایاں ہوتے ہیں ۔ مسلمان خواتین میں جو کپڑے روز بروز مقبول ہوتے جارہے ہیں وہ اس قدر باریک اور مہین ہوتے ہیں کہ ان سے ان کے جسم کی رنگت تک جھلکتی ہے۔ بازو بہت مختصر اور تنگ اور نیچے سے پنڈلیاں تک ننگی ہوتی ہیں ۔ یقینا یہ چیزیں فرنگیوں کی تقلید اور ان کے ساتھ والہانہ وارفتگی کاخوفناک نتیجہ ہیں ۔موجودہ صورتحال انتہائی بے حیائی کی غماز ہے اور عام لوگ اس صورتِ حال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ مسلم مردوں اور ذمہ داران کا یہ طرزِعمل اللہ کی حدود میں مداہنت، اللہ کی نافرمانی میں دلچسپی اور اُخروی انجام سے بے پروا لوگوں کی اطاعت کا نتیجہ ہے۔ یہ خاموشی کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ اور کسی بڑے فساد کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ ان حالات میں انتہائی ضروری ہے کہ ایسی عادات کا غلط اور حرام ہونا واضح کیا جائے۔ اُنہیں ان کے غلط اقدامات سے باز رکھنے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔

اختصار کے ساتھ ذیل میں اس مسئلہ کے بعض اہم پہلو پیش کئے جاتے ہیں :
یہ (بے پردگی اور عریانی) فرنگیوں اور غیرمسلموں کی تقلید ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اور احادیث میں غیرمسلموں کی مشابہت سے منع کیا گیاہے۔ جن سے واضح ہوتا ہے کہ کفار کی پیروی اور تقلید سے روکنا صاحب ِشریعت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تھا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے اپنی اہم تالیف اقتضاء الصراط المستقیم  في مخالفة أصحاب الجحیم میں ایسے تمام نقصانات کا تذکرہ کیا ہے جو عجمیوں اور کفار کی تقلید سے سامنے آتے ہیں ۔ شریعت ِمطہرہ نے کفار کے علاوہ عجمی، بدوی اور دیہاتی لوگوں کی مشابہت سے بھی منع کیا ہے اور اس ممانعت میں دورِ نبویؐ کے اعاجم و کفار کی طرح آج کے عجمی بھی شامل ہیں ، بلکہ اس میں مسلمان عجمی بھی شامل ہیں جن سے سابقین اوّلین محفوظ تھے اور ان لوگوں کے رسوم و رواج اور بہت سے معمولات اس 'جاہلیت ِاولیٰ' کے زُمرے میں آتے ہیں جن میں لوگ قبل از اسلام مبتلا تھے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اب تو عرب کی بھی ایک بڑی تعداد اپنی ان سابقہ جاہلیت والی عادات ورسوم کی طرف لوٹ رہی ہے۔

عورت سر تا پا قابل ستر ہے، اور ازروئے شریعت اس امر کی پابند ہے کہ اپنے آپ کو چھپائے، پردہ کرے اور کسی صورت بھی اپنے حسن و جمال، زیب و زینت، سنگھار اور مردوں کو فتنہ میں ڈالنے والے جسم کی نمائش نہ کرے۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَ‌ٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ...﴿٥٩﴾...سورة الاحزاب
''اے نبی! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی چادریں اپنے اُوپر اوڑھے رکھا کریں ۔''

اور فرمایا:
وَلَا تَبَرَّ‌جْنَ تَبَرُّ‌جَ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ...﴿٣٣﴾...سورہ الاحزاب
''اور سابقہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت کا اظہار نہ کرتی پھریں ۔''

اس دور میں رواج پانے والا فرنگی لباس کفار کی مشابہت کے علاوہ عورت کے جسم کو کسی طرح بھی چھپانے کی صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے فتنہ ہائے جسم کو از حد نمایاں کرتا ہے۔ اس لباس کی یہ خصوصیت خود عورت اور اسے تاکنے والوں کو دھوکے اور فتنے میں مبتلا کردیتی ہے۔ ایسا لباس پہننے والی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مصداق ہے جو حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(صنفان من أمتي من أھل النار لم أرھما بعد: نساء کاسیات عاریات مائلات ممیلات علی رؤوسھن کأسنمة البخت المائلة لا یدخلن الجنة ولا یجدن ریحھا ورجال معھم سیاط مثل أذناب البقر یضربون بھا الناس)1
''میری اُمت میں سے دو طرح کے لوگ دوزخی ہوں گے، میں نے ابھی تک انہیں دیکھا نہیں ہے : ایسی عورتیں جو کپڑے پہنے ہوں گی مگر (حقیقت میں ) بے لباس اور ننگی ہوں گی، (بے حیائی کی طرف) مائل اور دوسروں کومائل کرنے والی ہوں گی۔ ان کے بالوں کی وضع ایسی ہو گی جیسے کہ بختی اونٹنیوں کے ڈھلکے ہوئے کوہان ہوں ، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گی بلکہ اس کی خوشبو تک نہ پاسکیں گی اور مرد ہوں گے، ان کے ہاتھوں میں کوڑے ہوں گے جیسے کہ بیلوں کی دُمیں ہوتی ہیں ، وہ ان سے لوگوں کو مارتے پھرتے ہوں گے۔''

اس حدیث کی شرح میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان عورتوں کے لباس اس قدر باریک اور مہین ہوں گے کہ ان کے جسم کی رنگت دکھاتے ہوں گے یا اس قدر تنگ اور چست ہوں گے کہ ان کے جسم کا انگ انگ ظاہر ہوتا ہوگا۔

عورت کالباس ایساہونا چاہئے جو اس کے جسم کو پوری طرح چھپالے۔ کپڑا موٹا اور کھلا ہو جس سے اعضا کی جسامت نمایاں نہ ہو۔ مسلمان عورت کو اسلام کی ہدایت ہے کہ وہ اپنے آپ کو چھپائے اور پردہ کرے، کیونکہ وہ سراسر عَوْرَة ہے یعنی ستر اور چھپانے کی چیز۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے حکم ہے کہ اللہ کے حضور نماز پڑھتے ہوئے بھی اپناسر ڈھانپے، خواہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو، اور کوئی اجنبی اسے نہ بھی دیکھ رہا ہو، فرمانِ نبویؐ ہے :
لا یقبل اﷲ صلاة حائض إلا بخمار2
''اللہ تعالیٰ کسی جوان بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا ۔''

اس فرمان کامفہوم اور تقاضا یہ ہے کہ شریعت نے جس تاکید سے عورت کوچھپنے کا حکم دیا ہے ، اس طرح مردوں کو یہ حکم نہیں دیا۔ اور یہ خالص اللہ کا حق ہے، خواہ اسے کوئی اجنبی نہ بھی دیکھ رہا ہو۔ عورة (چھپانے کی چیز اور شرمگاہ) کا چھپانا اللہ عزوجل کا حق ہے، خواہ بندہ نماز میں نہ بھی ہو، یا اندھیرے میں ہو یا اکیلا ہو تب بھی ستر عورة واجب ہے۔ اسے ایسا لباس پہننا چاہئے جو اسے کماحقہ چھپا دے، اور اس سے جلد کی رنگت ظاہر نہ ہوتی ہو۔ بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ
''میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ! اپنی شرم گاہوں کو کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں ؟ فرمایا:

''احفظ عورتك