ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اگست
2007
حسن مدنی
لال مسجد میں ہونے والی ظلم وبربریت پر پوری قوم یک آواز ہے۔ ایسے سنگین واقعات برسوں کیا، صدیوں میں رونما ہوتے ہیں۔ اس سانحہ پر تبصرے تجزیے اور تاثرات لکھنے والوں سے اخبارات ورسائل بھرے پڑے ہیں۔ ہرکوئی اس ملی المیہ کو اپنے انداز سے بیان کررہا ہے۔ جامعہ حفصہ کو دہشت وہلاکت کی یادگار بنانے والوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ سازش لال مسجد کو حیاتِ دوام عطا کردے گی۔
  • اگست
2007
محمد رفیق چودھری
غامدی صاحب نے اُمت کے جن متفقہ، مُسلّمہ اور اجماعی اُمور کا انکار کیا ہے، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی (سبعہ و عشرہ) قراء اتِ متواترہ کو نہیں مانتے۔ اُن کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت صحیح ہے جو اُن کے بقول ' قراء تِ عامہ' ہے اور جسے علما نے غلطی سے ' قراء تِ حفص' کا نام دے رکھا ہے۔
  • اگست
2007
عمرفاروق سعیدی
اللہ کے بندے محمد بن ابراہیم __ اللہ اس پر رحم فرمائے __کی طرف سے، اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے نام، جو اسے ملاحظہ فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اُسے راضی کرنے والے ہوں ، اور ہمیں ایسے اعمال و اسباب سے محفوظ رکھے جو اُس کی نافرمانی اور ناراضگی کا سبب ہوسکتے ہوں ۔
  • اگست
2007
ادارہ
پاکستان کے مسلمہ مسالک کے کوئی سے تین معتمد علماے کرام کی منصفی میں لاہور کےکسی بھی میڈیا فورم پر درج ذیل دس (10) مسائل پر مجادلۂ احسن کا چیلنج دیا جاتا ہے
  1. اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے یا نہیں؟
  • اگست
2007
محمد دین قاسمی
پاکستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو زیادہ تر دو شخصیات نے متاثر کیا ہے ۔ جن میں ایک جناب سیدابوالاعلیٰ مودودی ہیں اور دوسرے جناب غلام احمد پرویز۔ مؤخر الذکر کے نزدیک سید مودودی اور ان کی جماعت ہی 'مُلّا' ہیں، جو اگرچہ اقامت ِدین کا نام لیتے ہیں، لیکن ان کے پیش نظر مذہبی پیشوائیت کا نظام قائم کرنا ہے
  • اگست
2007
حسن مدنی
پاکستان میں حالات کچھ اس تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں کہ ہرلمحے صورتحال گھمبیر ترہوتی چلی جارہی ہے۔گذشتہ صرف ایک ماہ کے دوران چند ایسے غیرمعمولی واقعات پاکستان میں رونما ہوئے ہیں جن کے نتائج جہاں انتہائی دور رَس ہیں ، وہاں مستقبل پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
  • اگست
2007
ادارہ
مولانا محمد عبداللہ مرحوم اپنے چھوٹے صاحب زادے عبدالرشید غازی سے اکثر شاکی رہتے تھے۔ مولانا صاحب مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی کے سربراہ تھے اور ملک بھر کے علما میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید کو بھی عالم دین بنانے کا فیصلہ کیا۔