جناب جاویداحمدغامدی صاحب نے دین اسلام کو 'موم کی ناک' بنا رکھا ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں دین میں تغیر و تبدل اور ترمیم و تنسیخ کرکے اس کاحلیہ بگاڑنے اور اس کی صورت مسخ کرنے کی مذموم اورناکام کوشش فرماتے رہتے ہیں ۔

مثال کے طور پر وہ 'داڑھی' کو کبھی سنت اور دین کہتے ہیں اور کبھی اسے سنت اور دین سے خارج سمجھتے ہیں ۔ اُن کے ہاں ایک وقت میں وضو اور تیمم سنت اور دین ہوتے ہںر اور دوسرے وقت وہ ان دونوں کو سنت اور دین کے دائرے سے نکال باہرکرتے ہیں ۔ وہ کبھی حرمین شریفین کی حرمت کو سنت اور دین قرار دیتے ہیں اور کبھی اسے سنت اوردین سے الگ کردیتے ہیں ۔ اُن کے ہاں کبھی أشہر حُرُم سنت اور دین ہوتے ہیں اور کبھی سنت اور دین نہیں ہوتے۔کبھی طلاق اُن کے نزدیک سنت اور دین ہے اور کبھی سنت اور دین نہیں ہے۔ کبھی سؤ ر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کئے گئے جانور کی حرمت سنت ہوتی ہے اور کبھی اُسے سنت کے اُمور سے خارج کردیا جاتا ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ہر بار اپنے اس تغیر و تبدل کو وہ پوری قطعیت کے ساتھ سنت اور دین کہتے پھرتے ہیں اور پھر بالکل قطعیت کے ساتھ اُسے سنت اور دین کے اعزاز سے محروم بھی کردیتے ہیں ۔ ع


جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی


غامدی صاحب جون1991ء میں داڑھی کوسنت مانتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے ایک خط بنام شیرمحمد اختر صاحب میں لکھتے ہیں کہ
''... رجم کا معاملہ چونکہ دوسری قسم ہی سے تعلق رکھتا ہے، اس وجہ سے میں نے اس پر بحث کی اور عام رائے کوماننے سے انکارکردیا ہے۔ ورنہ داڑھی، ختنہ اور اس طرح کی بے شمار دوسری چیزیں ،میں سنت کو مستقل بالذات شارع مان کر ہی دین میں شامل قرار دیتا ہوں ۔''1

اس کے بعد جب مئی 1998ء میں غامدی صاحب نے چالیس (40) اُمور پر مشتمل سنت اور دین کی ایک مکمل اورجامع فہرست مرتب فرمائی تو اس میں داڑھی کو شامل نہیں کیا اور اسے اس فہرست سے غائب کردیا، لیکن ختنہ کی سنت کوبرقرار رکھا اور اسے بیان کردیا۔چنانچہ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ
''سنت سے ہماری مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ، اپنے ماننے والوں میں ، دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ...

اس ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے، وہ یہ ہے:

  • اللہ کانام لے کر، اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا
  • ملاقات کے موقع پر' السلام علیکم' اور اس کا جواب
  • چھینک آنے پر' الحمد اﷲ' اور اس کے جواب میں 'یرحمک اﷲ'
  • نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت
  • جانوروں کاتذکیہ
  • نکاح
  • نکاح کاخطبہ
  • مونچھیں پست رکھنا
  • زیرناف کے بال مونڈنا
  • بغل کے بال صاف کرنا
  • لڑکوں کاختنہ کرنا
  • بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا
  • ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی
  • استنجا
  • غسل جنابت
  • میت کاغسل
  • تجہیز و تکفین
  • تدفین
  • وضو
  • تیمم
  • اذان
  • اقامت
  • نماز کے لئے مساجد کااہتمام
  • شب و روز کی پانچ لازمی نمازیں
  • نمازِ جمعہ
  • نمازِ عیدین ،نمازِ جنازہ، روزہ ه اعتکاف ‚عیدالفطر
  • صدقۂ عیدالفطر „زکوٰة ...ہدی
  • طواف ،حرمین شریفین کی حرمت
  • شہر حرم
  • حج و عمرہ ٹ عیدالاضحی ،عیدالاضحی کی قربانی
  • ایام تشریق میں نمازوں کے بعد تکبیریں

سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملاہے، یہ اسی طرح ان کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی، اور قرآن ہی کی طرح ہردور میں ، اُمت کے اِجماع سے ثابت قرار پائی ہے۔'' 2

اس کے بعد اپریل 2002ء میں غامدی صاحب نے چالیس (40) سنتوں کے اس دین کو صرف ستائیس (۲۷) سنتوں میں تبدیل کرکے اس دین کاایک نیاایڈیشن تیارکرلیا:


سنتیں جب گھٹ گئیں تو دین کامل ہوگیا
غامدی کو گوہر مقصود حاصل ہوگیا



چنانچہ سنتوں کی ایک اور فہرست جاری فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ
''سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد، اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ، اپنے ماننے والوں میں ، دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ...

اس ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے، وہ یہ ہے:

  • اللہ کانام لے کر، اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا
  • ملاقات کے موقع پر' السلام علیکم' اور اس کا جواب
  • چھینک آنے پر' الحمد ﷲ' اور اس کے جواب میں 'یرحمک اﷲ
  • نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت
  • مونچھیں پست رکھنا
  • زیرناف کے بال مونڈنا
  • بغل کے بال صاف کرنا
  • لڑکوں کاختنہ کرنا
  • بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا
  • ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی
  • استنجا
  • حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب
  • حیض ونفاس کے بعد غسل
  • غسل جنابت
  • میت کاغسل
  • تجہیز و تکفین
  • تدفین
  • عیدالفطر
  • عیدالاضحی
  • اللہ کا نام لے کرجانوروں کاتذکیہ
  • نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات
  • زکوٰة اور اس کے متعلقات
  • نماز اور اس کے متعلقات
  • روزہ اور صدقۂ فطر
  • اعتکاف
  • قربانیم حج و عمرہ اور ان کے متعلقات

سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی(i) ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔'' 3
سنت کی اس ترمیم شدہ فہرست پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے داڑھی تو حسب ِمعمول غائب ہے۔اس کے علاوہ دیگر تیرہ (13) اُمور کو سنت سے خارج کردیا گیاہے جن میں وضو، تیمم، حرمین شریفین کی حرمت، ہدی، طلاق، اشہر حرم، نمازِ عیدین، نمازِ جنازہ، نمازِ جمعہ، نماز کے لئے مساجد کااہتمام وغیرہ شامل ہیں ۔

پھر اس کے بعد زمانے نے ایک اور کروٹ لی تو غامدی صاحب نے بھی فروری2005ء میں سنت کی مزید ترمیم شدہ نئی فہرست جاری کرتے ہوئے لکھا :
''سنت سے ہماری مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد، اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ، اپنے ماننے والوں میں ، دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ...

اس ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے، وہ یہ ہے :
عبادات

  • نماز
  • زکوٰة اور صدقہ فطر
  • روزہ و اعتکاف
  • حج و عمرہ
  • قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں

معاشرت

  • نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات
  • حیض و نفاس میں زن وشو کے تعلق سے اجتناب

خورد و نوش

  • سؤ ر، خون، مردار اور خداکے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کئے گئے جانور کی حرمت
  • اللہ کا نام لے کرجانوروں کاتذکیہ

رسوم و آداب

  • اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا
  • ملاقات کے موقع پر 'السلام علیکم' اور اس کاجواب
  • چھینک آنے پر 'الحمدﷲ' اور اس کے جواب میں 'یرحمک اﷲ'
  • نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت
  • مونچھیں پست رکھنا
  • زیرناف کے بال کاٹنا
  • بغل کے بال صاف کرنا
  • بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا
  • لڑکوں کاختنہ کرنا
  • ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی
  • استنجا
  • حیض و نفاس کے بعد غسل
  • غسل جنابت
  • میت کاغسل
  • تجہیز و تکفین
  • تدفین
  • عیدالفطر
  • عیدالاضحی

سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔''4

اب ہم سنت کی اس نئی ترمیم شدہ تیسری فہرست پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں
خورد و نوش کے تحت 'سؤ ر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کئے گئے جانور کی حرمت' کے عنوان سے ایک نئی سنت کااضافہ کردیاگیا ہے،لیکن سنت کی ستائیس (27) کی تعداد کو برقرار رکھنے کے لئے یہ ترکیب کی گئی ہے کہ 'اعتکاف' کی الگ سنت کو روزے کی سنت کے ساتھ ملا دیاگیا تاکہ گنتی کامیزانیہ (ٹوٹل) پورا رہے اور کسی ممکنہ اعتراض سے بچاجاسکے ...


ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا


دوسری ترمیم شدہ فہرست میں تو 'روزہ اور صدقۂ فطر' ایک سنت تھی۔ اب تیسری ترمیم شدہ فہرست میں 'روزہ و اعتکاف' ایک سنت قرار پائی۔ دوسری ترمیم شدہ فہرست میں زکوٰة کی سنت کے ساتھ صدقۂ فطر کی سنت شامل نہ تھی بلکہ وہ اس سے الگ ایک سنت تھی، مگر تیسری ترمیم شدہ فہرست میں زکوٰة کی سنت کے ساتھ صدقۂ فطر کی سنت کو ملا کر دو سنتوں کی ایک سنت بن گئی۔

دوسری ترمیم شدہ سنت میں نماز کی سنت کے ساتھ اس کے متعلقات بھی شامل تھے، مگر تیسری ترمیم شدہ فہرست میں نماز کی سنت سے اس کے متعلقات غائب کردیئے گئے۔

دوسری ترمیم شدہ سنت میں حج و عمرہ کی سنت کے ساتھ ان کے متعلقات بھی شامل تھے، مگر تیسری ترمیم شدہ فہرست میں حج و عمرہ کے متعلقات حذف کردیئے گئے۔

دوسری ترمیم شدہ فہرست میں 'اعتکاف' ایک مستقل سنت تھی جسے تیسری ترمیم شدہ فہرست میں روزے کے ساتھ شامل کرکے 'روزہ و اعتکاف' کی ایک ہی سنت بنالی گئی اس طرح گویااعتکاف نصف سنت قرارپائی۔

دوسری ترمیم شدہ فہرست میں قربانی ایک مستقل اور الگ سنت تھی۔مگر تیسری ترمیم شدہ فہرست میں اس کے ساتھ ایامِ تشریق کی تکبیریں نامی سنت شامل کرکے اُسے ایک ہی سنت بنالیاگیا۔

یاد رہے کہ 'ایام تشریق کی تکبیروں ' والی سنت مئی 1998ء کی پہلی فہرست میں موجود تھی جو اپریل 2002ء کی فہرست سے خارج کردی گئی اور پھر 2005ء کی فہرست میں اُسے دوبارہ شامل کرلیا گیا ...

خداوندا ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ سلطانی بھی عیاری ہے، درویشی بھی عیاری


کبھی وضو،تیمم،حرمین شریفین کی حرمت،ہدی،طلاق،نمازِ عیدین،نمازِ جنازہ،نمازِ جمعہ اور نماز کے لیے مساجد کا اہتمام سنن ہیں اورکبھی سنن کی فہرست سے خارج قرار پاتے ہیں ۔یہ تلعب بالدین کہاں تک جائز ہے، اس کے لیے قرآنِ حکیم کی یہ آیت پیش نظر رہے:
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ ٱلْكِتَـٰبِ وَتَكْفُرُ‌ونَ بِبَعْضٍ...﴿٨٥﴾...سورة البقرة
'' کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہواور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو۔''

اس تفصیل سے ظاہرہوتا ہے کہ غامدی صاحب نے سنت اور دین کوبازیچۂ اطفال سمجھ رکھا ہے جس میں وہ اپنے من مانے طریقے سے حسب ِخواہش ردّ وبدل کرلیتے ہیں ۔ ویسے بھی جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور 'دروغ گو رَا حافظ نباشد' بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔


حوالہ جات
1. جاویدغامدی صاحب کاخط بنام جناب شیرمحمد اختر بحوالہ ماہنامہ اشراق: شمارہ جون 1991ء، ص 32
2. ماہنامہ اشراق:شمارہ مئی 1998ء، ص 35
3. میزان : ص10،طبع دوم، اپریل 2002ء
4. اُصول و مبادی: ص10،11، طبع فروری2005ء

 


 

i. ایک طرف غامدی صاحب کے پیش کردہ دین کے بنیادی تصورِ دین میں ترمیم وتحریف کا یہ عالم ہے کہ ہر نئے دور کے ساتھ اس میں تبدیلی دَر آتی ہے جس سے ان کا بنیادی تصورِ دین (تصورِ سنت ) بھی محفوظ نہیں ، لیکن دوسری طرف ہر ترمیم پر ان کا دعواے قطعیت بھی قابل داد ہے کہ وہ کس استقامت کے ساتھ تینوں بار باہم متضاد دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن قطعیت کا لازمہ ہر شکل کے ساتھ برقرار رہتا ہے۔ زیر نظر مضمون کے عنوان میں 'قطعی' کا اضافہ اسی مخصوص اُسلوب کی نشاندہی کے لیے کیا گیا ہے۔ ایک دور میں ایک چیز مثلاً نمازِ جمعہ بالکل قطعی اور ثبوت میں مثل قرآن اور دوسرے دور میں اس کی قطعیت اور ثبوت میں مثل قرآن ہونا موقوف!