میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

پنجاب قرآن بورڈ کے اجلاس سے امامِ کعبہ شیخ عبد الرحمن سدیس حفظہ اللہ کا خطاب
تمام تعریفیں اس اللہ ربّ العالمین کے لئے جس نے اپنے بندے پر قرآنِ مجید نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے بنی نوع انسان میں اللہ کا تقویٰ پیدا کرے۔ درود وسلام ہو اس ذاتِ اقدسؐ پر جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت، خوشخبر ی اور اس کے حکم سے اسکی طرف بلانے والااور روشن چراغ بنا کر بھیجا،نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے فرمانبردار ساتھیوں پر کروڑوں رحمتیں اور سلام ہو۔اما بعد

محترم جناب وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی (نگرانِ اعلیٰ قرآن بورڈ )، قاری محمد حنیف جالندھری (چیئرمین قرآن بورڈ) اور معزز حاضرین مجلس ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

قرآنِ کریم کی مناسبت سے آج کی بابرکت صبح میں منعقد کی جانے والی اس مبارک مجلس میں آپ سے ملاقات کو میں اپنے لئے باعث ِسعادت سمجھتاہوں ۔قرآن بورڈ کے اس اجلاس میں آپ حضرات کی شرکت قرآنِ کریم سے آپ کے والہانہ تعلق اور دلی لگائو کا بین ثبوت ہے۔قرآنِ کریم کے موضوع پر گفتگو عظیم خوش بختی سے کم نہیں کیونکہ قرآن ہی درحقیقت ہماری سعادت اور عزت و شرف کا مرکزومحور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ‌ۭ لَّكَ  وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ ﴿٤٤...سورة الزخرف
''بلاشبہ یہ قرآن آپ اور آپ کی قوم کے لئے پیامِ نصیحت ہے، عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔''

لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـٰبًا فِيهِ ذِكْرُ‌كُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿١٠...سورة الانبیاء
''ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی تذکرہ ہے، پھر تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟''

اپنے عظیم متکلم عزوجل کی طرح یہ قرآنِ مجید حجت قائم کرنے میں بہت پختہ او رلوگوں کی پیروی سے مستغنی ہے۔ یہ کتاب اس اُمت کی عظمت کا نشان ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُمت ِاسلامیہ کو یہ عظیم کتاب نازل فرما کر عزت وناموری بخشی ہے، فرمانِ نبویؐ ہے :
(إن اﷲ یرفع بهذا الکتاب أقوامًا ویضع به آخرین)1
''اس کتاب کے ذریعے اللہ تعالیٰ قوموں کو رِفعتیں عطا فرماتا اور بعضوں کو پست کر دیتا ہے۔''

ملت ِاسلامیہ کا فرض ہے کہ کھوئی عظمتوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اس کتابِ عظیم سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائے۔ مجھ سے پہلے جناب قاری محمد حنیف جالندھری نے اپنے خطاب میں قرآن بورڈ کے اَہداف کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے ۱۰ مقاصد پیش کیے۔ میں بھی آپ کے سامنے قرآنِ کریم سے تعلق واستفادہ کے 10؍ اہداف و مقاصد پیش کرنا چاہتا ہوں ، گو کہ یہ اَہداف ان سے کافی مختلف ہیں جن کا تذکرہ قاری صاحب نے اپنے خطاب میں کیاہے۔ قرآنِ کریم کے سلسلے میں یہ 10 ؍ اہداف ہمارے پیش نظر رہنے چاہئیں :

کتاب اللہ پر ایمان لانا: اس کی تصدیق کرنا اوراللہ کی سچی کتاب ہونے کا پختہ اعتقاد رکھنا۔

اس کلامِ مقدس کی فضیلت کو جاننا:جیسا کہ فرمانِ نبویؐ ہے :
''کلام اللہ کی فضیلت دیگر کلاموں پر ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو اپنی تمام مخلوقات پر بے پناہ فضیلت حاصل ہے۔'' 2

قرآنِ کریم کی تلاوت سے اپنے دلوں کو سیراب کرنا: جیسا کہ قرآنِ کریم میں مؤمنوں کی صفات میں یہ بیان ہوا ہے :
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَـٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَو‌ٰةَ...﴿٢٩﴾...سورہ فاطر
''وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور نماز کو قائم کرتے ہیں ...''

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ...﴿١٢١﴾...سورہ البقرة
''وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا کی ہے، وہ اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں ۔ یہی لوگ اس پر (حقیقی) ایمان لانے والے ہیں ۔''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے :
(من قرأ حرفًا من کتاب اﷲ فله به حسنة والحسنة بعشر أمثالها،لا أقول ألم حرف ولکن ألف حرف ولام حرف ومیم حرف)3
''جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف تلاوت کیا، اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ' الف' ایک حرف، 'ل' ایک حرف اور 'م' ایک حرف ہے۔''

اس کتاب میں غور وفکر کرنا: قرآنِ کریم کو نازل کرنے کا مقصد اس میں فکر وتدبر کرنا ہے۔ اسے الماریوں میں سجانے اور عمارتوں کی زینت بڑھانے کے لئے نازل نہیں کیا گیا، لہٰذا عوام وخواص کا یہ فرض ہے کہ اس میں غورو فکر کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں ۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے :
كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ مُبَـٰرَ‌كٌ لِّيَدَّبَّرُ‌وا ءَايَتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ‌ أُولُوا الْأَلْبَاب﴿٢٩...سورة ص
''ہم نے آپؐ پر یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس میں غور و فکر سے کام لیں اور عقل وشعور والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔''

نزولِ قرآن کا ہدف محض تلاوت نہیں بلکہ تلاوت کے ذریعے اس میں تدبر وتفکر کرنا ہے۔
قرآنِ کریم کے فرامین پر عمل بجا لانا: قرآنِ کریم کی تلاوت کامطلب اللہ سے ہم کلام ہونا ہے۔ اور اللہ کے ہم سے کلام کرنے کا مقصد ہمیں رہنمائی اور ہدایت دینا ہے۔ واضح رہے کہ قرآنِ کریم عمل واعتقاد اور توحید کی کتاب ہے جس پر عمل کرنا سنت ِمطہرہ کی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ تعلیم وتعلّم کے ہر میدان میں ہمیں کتاب وسنت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔ قرآن صحیفۂ ہدایت ہے، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْ‌ءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ...﴿٩﴾...سورة الاسراء
''بے شک یہ قرآنِ اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھی ہے۔''

قرآن ہمیں عبادات، معاملات، فضائل واخلاق، غرض ہر معاملے میں رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن خواہشاتِ نفسانی کا خاتمہ کرتا اور ہدایاتِ ربانی سے دلوں کو معمور کرتا ہے۔

قرآنِ کریم میں بیان کردہ اخلاقِ حسنہ کو اختیار کرنا: جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ
(کان خُلُقه القرآن)4
''وہ قرآن کا خلقِ مجسم تھے۔''

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآنِ کریم کے حلال کردہ اُمور کو حلال جانتے، حرام کردہ باتوں سے اجتناب کرتے، قرآنِ کریم کے صریح احکامات کی پیروی بجا لاتے اور مشتبہ اَحکام پر ایمان رکھتے او رقرآنِ کریم کی تلاوت کا حق ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زندگی بھر معمول یہ تھا کہ کسی بھی معاملے کا فیصلہ قرآنِ کریم کی ہدایت یا اللہ کی طرف سے احادیث کی صورت میں ملنے والی وحی پر موقوف ٹھہراتے۔

قرآنِ کریم کو حَکَماورفیصل ماننا: مسلمانوں کو چاہئے کہ قرآنِ کریم کے ساتھ ہی اپنے ہر مسئلے اور تنازعے کا فیصلہ کریں ، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے :
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥...سورہ النساء
''آپ کے ربّ کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصلہ کن حیثیت نہ دے دیں ، پھر آپؐ کے فیصلوں پر ان کے دلوں میں معمولی سی خلش بھی محسوس نہ کریں اور دل وجان سے اس کو تسلیم کرلیں ۔''

قرآنِ کریم سے جملہ نوعیت کے امراض کی شفا حاصل کرنا:کیونکہ قرآنِ کریم کا ایک وصف 'شفا' بھی ہے جس میں بدنی، ذہنی اورعقلی ہر قسم کے اَمراض کی شفا شامل ہے ۔ چنانچہ ہر قسم کی کوتاہیوں کی تلافی کے لئے قرآنِ کریم سے رہنمائی حاصل کرنا ازبس ضروری ہے۔ قرآن کریم معنوی اور مادّی ہر قسم کی شفا کا منبع ومرکز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلْقُرْ‌ءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَ‌حْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارً‌ا ﴿٨٢...سورة الاسراء
''ہم نے قرآن کو مؤمنوں کے لئے شفا اور رحمت بنا کر نازل فرمایا ہے۔ اورظالموں کو نقصان وخسارہ میں اضافہ کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔''

ہمارا یہ دِلی اعتقاد ہونا چاہئے کہ زمان ومکان کے تغیرات اور بدلتے تقاضوں میں قرآنِ کریم ہی وہ واحد کتابِ ہدایت ہے جو ہمارے باہمی اختلافات کے حل میں کسوٹی بن سکتا ہے، جیسا کہ فرمانِ نبویؐ ہے:
(ترکتُ فیکم أمْرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما: کتاب اﷲ وسنة رسوله)
''میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں : اگر اِنہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ''5

ہمیں چاہئے کہ قرآنِ کریم کو اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کا مرکز ومحور بنائیں اور ا س کی تعلیم کے زیادہ سے زیادہ امکانات پیدا کریں ۔ اپنی اولاد، معاشرہ اور ملت ِاسلامیہ کی اصلاح کے لئے قرآنِ کریم کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کریں ۔ تعصبات، گروہ بندی اور اختلافات کے خاتمہ کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں ۔ قرآنِ کریم کا مسلمانوں کو تو یہ حکم ہے:
وَلَا تَنَـٰزَعُوافَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِ‌يحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُ‌وا...﴿٤٦﴾...سورة الانفال
'' اور آپس میں تنازعہ نہ کرو، تم پھسل جائو گے، تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی، صبر سے کام لو۔''

میں پوچھتا ہوں کہ آج قرآن پر ایمان کہاں ہے ؟ جو قوم بھی قرآنِ کریم کے احکامات پر عمل پیرا ہوگی، اس کے حالات کی ضرور اصلاح ہوجائے گی۔قرآنِ کریم محض اِنذار وتبشیر کے لئے نازل نہیں ہوا، بلکہ درحقیقت اس کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں نزولِ قرآن کے اس اصل ہدف کو پورا کرنے کی بھرپورجستجو کرنی چاہئے۔اُمت کے حالات کی اس وقت تک اصلاح نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ بحیثیت ِ مجموعی قرآن کی طرف رجوع نہ کرلے۔

اس وقت پوری اُمت ِمسلمہ میں رجوع الیٰ القرآن کی قوی تحریک پیدا ہونی چاہئے۔
پاکستان، سعودی عرب اور پوری مسلم اُمہ میں قرآن کی تعلیم کے مراکز قائم ہونے چاہئیں ۔

قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کو معاشرے میں مؤثر مقام دیا جانا چاہئے۔
کیونکہ قرآن میں ہی وہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم ہردو ر کے ہمہ نوعیت چیلنجوں سے بخوبی عہدہ برا ہوسکتے ہیں ۔اُمت ِ مسلمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دوسرے مذاہب وادیان کی کتب کے مقابلہ میں ان کے پاس ایسا دینی ورثہ موجود ہے جو لفظاً ومعنی تحریف وتبدل سے پاک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ﴿٩...سورة الحجر

اے اُمت ِقرآن! قرآن کی طر ف لوٹ آئو، زندگی کے ہر مسئلے میں قرآن کی ہدایت کو لازم پکڑو۔ قرآن کی خدمت ہر مسلمان کے لئے سرمایۂ افتخار ہے۔قرآن کی خدمت کے لئے قائم شدہ 'قرآن بورڈ' کے اس اجلاس میں ، میری شرکت اور آپ لوگوں سے ملاقات میرے لئے انتہائی مسرت اور دلی سرور کا باعث ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میری دعا ہے کہ وہ آپ کی مخلصانہ خدمات کو قبو ل فرمائے، آپ کو اس سے زیادہ قرآن کی خدمتکرنے اور اس پر عمل بجا لانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آپ کی کاوشوں کو ثمر آور بنائے۔ بالخصو ص اس مجلس کے منتظمین اور قرآن بورڈ کے ذمہ داران کا میں خصوصاً شکرگزار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے آپ سے چند باتیں کہنے کا موقع عنایت فرمایا۔

میں آخر میں آپ حضرات کو یہ توجہ بھی دلانا چاہوں گا کہ آپ کو قرآن بورڈ کے زیر اہتمام احادیث ِنبویہؐ کی خدمت اور اس میں موجود پیغام کو پھیلانے کے لئے بھی ایک خصوصی شعبہ قائم کرنا چاہئے کیونکہ فرامینِ نبویہؐ کو نظرانداز کرکے قرآنِ کریم سے کماحقہ استفادہ ممکن نہیں ۔ اس طرح یہ سنٹر 'مرکز ِقرآن وحدیث' یا 'مرکز ِقرآن وسنت 'کی شکل میں اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔اگر ایسا ہوجائے تو یہ 'خیر پر مستزاد خیر' اور 'نور علیٰ نور' کے مترادف ہوگا۔

یہ حکومت ِپنجاب کا ایسا قابلِ رشک منصوبہ ہوگا جس کے بارے میں قرآنِ کریم کے الفاظ میں وَفِى ذَ‌ٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَـٰفِسُونَ ﴿٢٦...سورة المطففین}کہ یہ ہیں ایسے قابل رشک اقدامات جن کے بارے حکومتوں کو آپس میں ایک دوسرے سے مسابقہ و مقابلہ کرنا چاہئے۔

بلکہ میں اس پر ایک مزید منصوبے کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ حکومت ِپنجاب کو چاہئے کہ قرآنِ کریم سے تعلق کو مضبوط کرنے اور اس کی معاشرتی تاثیر کو فروغ دینے کے لئے پنجاب بلکہ پاکستان بھر کی سطح پر'مقابلہ قرآنِ کریم' کے انعقاد کا آغاز کیا جائے جسے بعد ازاں 'عالمی مسابقۂ قرآنِ کریم' کی شکل بھی دی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ اس نوعیت کے مقابلوں کو سرکاری سطح پرمنعقد کرنے کی روایت دنیا بھر کے متعدد اسلامی ممالک میں کافی مستحکم ہوچکی ہے۔ آخر میں ایک بار پھر آپ حضرات سے اس ملاقات پر آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کے لئے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور آپ کے عمل کو صراطِ مستقیم پر استقرار واستقلال نصیب فرمائے اور ہم سب کو قرآنِ کریم کے حقوق کماحقہ ادا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

(خطاب بمقام: وزیر اعلیٰ ہاؤس، 7 کلب روڈ، مؤرخہ 31 مئی 2007ء، 11 بجے صبح )


حوالہ جات
1. صحیح مسلم: 1353
2. سنن دارمی
3. سنن ترمذی: 3110
4. مسند احمد: 23460،صحیح
5. مؤطا: 1395